خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ فرمودہ 26؍اپریل 2019ء

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 26؍ اپریل2019ء بمطابق 26؍شہادت1398 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

گذشتہ خطبےمیں مَیں نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کے متعلق بیان کرتے ہوئے اس بات پر اپنی بات ختم کی تھی کہ آپؓ جنت البقیع میں مدفون ہونے والے پہلے شخص تھے۔

(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 591 عثمان بن مظعون مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

جنت البقیع کی بنیاد اور ابتدا کے بارے میں جو تفصیل ملی ہے وہ اس طرح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں وُرود کے بعد وہاں بہت سے قبرستان تھے۔ یہودیوں کے اپنے قبرستان ہوا کرتے تھے جبکہ عربوں کے مختلف قبائل کے اپنے اپنے قبرستان تھے۔ مدینہ طیبہ چونکہ اس وقت مختلف علاقوں میں بٹا ہوا تھا۔ اس لیے ہر قبیلہ اپنے ہی علاقے میں کھلی جگہ پر اپنی میتوں کو دفنا دیتا تھا۔ قبا کا الگ قبرستان تھا جو زیادہ مشہور تھا گو کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کئی اَور قبرستان بھی تھے۔ قبیلہ بنو ظفر کا اپنا قبرستان تھا اور بنو سلمہ کا اپنا الگ قبرستان تھا۔ دیگر قبرستانوں میں بنو ساعِدہ کا قبرستان تھا جس کی جگہ بعد میں سوق النبیؐ قائم ہوا۔ جس جگہ پر مسجد نبویؐ تعمیر ہوئی وہاں بھی کھجوروں کے جھنڈ میں چند مشرکین کی قبریں تھیں۔ ان تمام قبرستانوں میں بَقِیْعُ الْغَرْقَد سب سے پرانا اور مشہور قبرستان تھا۔ اور پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمانوں کے قبرستان کے لیے منتخب کر لیا تو اس کے بعد سے آج تک اسے ایک منفرد اور ممتاز حیثیت حاصل رہی ہے جو ہمیشہ رہے گی۔

حضرت عبیداللہ بن ابی رافعؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں صرف مسلمانوں کی قبریں ہوں اور اس غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف جگہوں کو ملاحظہ بھی فرمایا۔ جا کےدیکھا۔ یہ فخر بَقِیْعُ الْغَرْقَد کے حصے میں لکھا تھا۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں اس جگہ کو یعنی بقیع الغرقد کو منتخب کر لوں۔ اسے اس دَور میں بَقِیْعُ الْخَبْخَبَہ کہا جاتا تھا۔ اس میں بے شمار غرقد کے درخت اور خود رَو جھاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ مچھروں اور دیگر حشرات الارض کی اس جگہ پہ بھرمار تھی اور مچھر جب اس جگہ گند کی وجہ سے یا جنگل کی وجہ سے اڑتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ دھوئیں کے بادل چھا گئے ہوں۔

وہاں سب سے پہلے جن کو دفن کیا گیا اور جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے وہ حضرت عثمانؓ بن مظعون تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قبر کے سرھانے ایک پتھر نشانی کے طور پر رکھ دیا اور فرمایا یہ ہمارے پیش رَو ہیں۔ ان کے بعد جب بھی کسی کی فوتیدگی ہوتی تو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ ہمارے پیش رَو عثمانؓ بن مظعون کے قریب۔ بقیع عربی میں ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں درختوں کی بہتات ہو، بہت زیادہ درخت ہوں۔ مدینہ طیبہ میں اس مقام کو بقیع الغرقد کے نام سے جانا جانے لگا کیونکہ وہاں غرقد کے درختوں کی بہتات تھی۔ اس کے علاوہ وہاں دیگر خود رَو صحرائی جھاڑیاں بھی بہت زیادہ تعداد میں تھیں۔ اسے جنت البقیع بھی کہا جاتا ہے۔ جنت کے لفظ کا عربی میں ایک مطلب ہے باغ یا فردَوس۔ اس لیے یہ جگہ زیادہ تر عجمی زائرین میں جنت البقیع کے نام سے جانی جاتی ہے۔ عبد الحمید قادری صاحب ہیں انہوں نے یہ تفصیل لکھی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عرب عموماً اپنے مقابر اور قبرستانوں کو جنت ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کا ایک نام مَقَابِرُ البَقِیْع بھی ہے جو اعرابیوں میں زیادہ مشہور ہے۔

(ماخوذ از جستجوئے مدینہ از عبد الحمید قادری صاحب صفحہ 598 مطبوعہ اورینٹل پبلی کیشنز لاہور پاکستان2007ء)

جو صحراکے رہنے والے تھے، گاؤں کے رہنے والے تھے ان میں یہ زیادہ مشہور ہے۔ حضرت سالم بن عبداللہؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی فوت ہو جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اس کو آگے ہمارے گئے ہوئے بندوں کے پاس بھیج دو۔ عثمانؓ بن مظعون میری امت کا کیا ہی اچھا پیش رَو تھا۔
(المعجم الکبیر للطبرانی جلد 12صفحہ228 حدیث نمبر 13160 دار احیاء التراث العربی بیروت 2002ء)
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمانؓ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نعش کے پاس آئے۔ آپؐ ان پر تین بار جھکے اور سر اٹھایا اور بلند آواز سے فرمایا اے ابو سائب! اللہ تم سے درگذر کرے۔ تم دنیا سے اس حال میں گئے کہ دنیا کی کسی چیز سے آلودہ نہیں ہوئے۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کی نعش کو بوسہ دیا جبکہ آپؐ رو رہے تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے اور آپؐ کی دونوں آنکھیں اشک بار تھیں۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضورؐ نے حضرت عثمانؓ کی وفات کے بعد آپؐ کو بوسہ دیا۔ کہتی ہیں کہ مَیں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو حضرت عثمانؓ کے رخسار پر بہ رہے تھے، اتنے زیادہ تھے کہ پھر وہ آنسو بہ کر حضرت عثمانؓ کے رخساروں پر بھی گرنے لگے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم نے وفات پائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اَلْحِقْ بِالسَّلَفِ الصَّالِحِ عُثْمَانَ ابْنَ مَظْعُوْنیعنی سلف صالح عثمانؓ بن مظعون سے جا کر مل جاؤ۔

(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 591 عثمان بن مظعون مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء)
(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 303 ‘‘عثمان بن مظعون’’ دارالکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس پر چار تکبیرات کہیں۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ما جاء فی التکبیرعلی الجنازۃ اربعاً حدیث نمبر1502)

بعض لوگ بعض دفعہ کہتے ہیں کہ تین سے زیادہ نہیں ہو سکتیں۔ چار تکبیرات بھی ہو سکتی ہیں۔ مُطَّلِبْ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمانؓ بن مظعون کی وفات ہوئی۔ ان کا جنازہ نکالا گیا پھر ان کو دفن کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ ایک پتھر لائے۔ وہ پتھر نہ اٹھا سکا، بڑا بھاری پتھر تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف کھڑے ہوئے، ادھر گئے ۔آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ،دونوں بازوؤں سے کپڑااوپر کیا، اپنے بازو کی آستینیں چڑھائیں، قمیض کی آستینیں چڑھائیں۔ مُطَّلِبْ نے کہا، جس نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اس نے کہا کہ گویا مَیں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بازوؤں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ ابھی بھی مجھے وہ واقعہ بڑی اچھی طرح یاد ہے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو خوبصورت تھے۔ اُن کی سفیدی مجھے نظر آ رہی ہے جب آپؐ نے ان سے کپڑا ہٹایا تھا، آستینیں چڑھائی تھیں۔ پھر آپؐ نے وہ پتھر اٹھایا اور اسے حضرت عثمانؓ بن مظعون کے سرھانے رکھ دیا اور فرمایا مَیں اس نشانی کے ذریعے اپنے بھائی کی قبر پہچان لوں گا اور میرے اہل میں سے جو وفات پائے گا اسے میں اس کے پاس دفن کروں گا۔ سنن ابی داؤد کا یہ حوالہ ہے۔

(سنن ابی داؤد کتاب الجنائزبَاب فی جمع الموتی فی قبر والقبر یعلم حدیث 3206 )

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے حضرت عثمانؓ بن مظعون کی وفات سے متعلق جو تفصیل بیان کی ہے اس میں سے چند باتیں پیش کرتا ہوں۔ آپؓ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ 2ہجری کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

‘‘اسی سال کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے لیے مدینے میں ایک مقبرہ تجویز فرمایاجسے جنت البقیع کہتے تھے۔ اس کے بعد صحابہ عموماً اس مقبرے میں دفن ہوتے تھے۔ سب سے پہلے صحابی جو اس مقبرے میں دفن ہوئے وہ عثمانؓ بن مظعون تھے۔ عثمان بہت ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے اور نہایت نیک اورعابد اورصوفی منش آدمی تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد ایک دفعہ انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حضور مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تومیں چاہتا ہوں کہ بالکل تارک الدنیا ہوکر اور بیوی بچوں سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی زندگی خالصتاً عبادت الٰہی کے لیے وقف کردوں مگرآپؐ نے اس کی اجازت نہیں دی۔’’ اس کی تفصیل بھی میں گذشتہ خطبے میں بیان کر چکا ہوں۔ بہرحال پھر یہ مرزا بشیر احمد صاحب ہی آگے لکھتے ہیں کہ ‘‘……عثمان ؓبن مظعون کی وفات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت صدمہ ہوا اورروایت آتی ہے کہ وفات کے بعد آپؐ نے ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اوراس وقت آپؐ کی آنکھیں پُرنم تھیں۔ ان کے دفنائے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قبر کے سرھانے ایک پتھر بطورعلامت کے نصب کروا دیا اورپھرآپؐ کبھی کبھی جنت البقیع میں جاکر ان کے لیے دعافرمایا کرتے تھے۔ عثمانؓ پہلے مہاجر تھے جومدینہ میں فوت ہوئے۔’’

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ462-463)

حضرت عثمانؓ بن مظعون کی وفات پر آپؓ کی بیوی نے مرثیہ میں لکھا اور وہ یہ تھا کہ

یَا عَیْنُ جُوْدِیْ بِدَمْعٍ غَیْرِ مَمْنُوْنِ
عَلٰی رَزِیَّۃِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنِ
عَلَی امْرِیءٍ بَاتَ فِیْ رِضْوَانِ خَالِقِہٖ
طُوْبٰی لَہُ مِنْ فَقِیْدِ الشَّخْصِ مَدْفُوْنِ
طَابَ الْبَقِیْعُ لَہٗ سُکْنٰی وَغَرْقَدُہٗ
وَأَشْرَقَتْ اَرْضُہٗ مِنْ بَعْدِ نَعْیَیْنِ
وَأَوْرَثَ الْقَلْبَ حُزْنًا لَا انْقِطَاعَ لَہٗ
حَتَّی الْمَمَات فَمَا تَرْقٰی لَہٗ شُوْنِیْ

(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 591 عثمان بن مظعون مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اے آنکھ! عثمان کے سانحے پر تُو نہ رکنے والے آنسو بہا۔ اس شخص کے سانحے پر جو اپنے خالق کی رضا مندی میں شب بسر کرتا تھا ۔اس کے لیے خوشخبری ہو کہ ایک فقید المثال شخص مدفون ہو چکا ہے۔ بقیع اور غرقد اپنے اس مکین سے پاکیزہ ہو گیا اور اس کی زمین آپؓ کی تدفین کے بعد روشن ہو گئی۔ آپؓ کی وفات سے دل کو ایسا صدمہ پہنچا ہے جو موت تک کبھی ختم نہ ہونے والا ہے اور میری یہ حالت نہ بدلنے والی ہے۔ (اسد الغابہ۔ جلد 3 صفحہ495۔ دار الفکر بیروت) یہ ان کی اہلیہ نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

حضرت اُمِّ عَلَاء جوانصاری عورتوں میں سے ایک خاتون تھیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر چکی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب انصار نے مہاجرین کے رہنے کے لیے قرعے ڈالے تو حضرت عثمانؓ بن مظعون کا قرعہ ٔسکونت یعنی ٹھہرنے کی جگہ ہمارے نام نکلا کہ ہم اپنے گھر ٹھہرائیں۔ حضرت اُمِّ عَلَاء کہتی تھیں کہ حضرت عثمانؓ بن مظعون ہمارے پاس رہے۔ وہ بیمار ہوئے تو ہم نے ان کی خدمت کی اور جب وہ فوت ہو گئے اور ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں ہی کفنایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ میں نے کہا یعنی حضرت ام علاء کہتی ہیں کہ مَیں نے کہا کہ اللہ کی رحمت ہو تم پر ابو سائب! یہ ان کی، حضرت عثمانؓ بن مظعون کی کنیت تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انہوں نے، حضرت ام عَلَاء نے یہ الفاظ دہرائے کہ اللہ کی رحمت ہو تم پر ابو سائب! میری شہادت تو تمہارے متعلق یہی ہے کہ اللہ نے تجھے ضرور عزت بخشی ہے۔ یہ الفاظ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دہرائے کہ میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے تمہیں ضرور عزت بخشی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات سنی تو اُن سے پوچھا، کہتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ضرور عزت بخشی ہے۔ تو کہتی ہیں میں نے کہا کہ یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ مَیں نہیں جانتی، مجھے یہ تو نہیں پتا لیکن بہرحال میرے جذبات تھے میں نے اظہار کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک عثمانؓ کا تعلق ہے تو وہ اب فوت ہو گئے اورمَیں ان کے لیے بہتری کی ہی امید رکھتا ہوں۔ یہی امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ان کو عزت بخشے گا لیکن اللہ کی قسم! آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں بھی نہیں جانتا کہ عثمانؓ کے ساتھ کیا ہو گا۔ دعا تو ضرور ہے لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہیں ضرور عزت بخشی ہے حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر حضرت ام عَلَاء نے کہا بخدا اس کے بعد میں کسی کو بھی یوں پاک نہیں ٹھہراؤں گی۔ اس طرح کے الفاظ نہیں دہراؤں گی کہ ضرور بخشا گیا اور مجھے اس بات نے غمگین کر دیا۔ کہتی تھیں کہ میں سو گئی۔ اسی غم میں مَیں سو گئی، ایک خاص تعلق تھا۔ جذبات بھی تھے۔ تو بہرحال کہتی ہیں جب میں رات کو سوئی تو مجھے خواب میں حضرت عثمانؓ کا ایک چشمہ دکھایا گیا جو بہ رہا تھا۔ پانی کا ایک چشمہ تھا وہ بہ رہا تھا اور یہ دکھایا گیا کہ یہ حضرت عثمانؓ کا چشمہ ہے۔ اس خواب کے دیکھنے کے بعد کہتی ہیں مَیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے آپؐ کو یہ بتایا کہ میں نے اس طرح خواب دیکھی ہے تو آپؐ نے فرمایا یہ اس کے عمل ہیں۔

(صحیح البخاری کتاب الشھادات باب القرعة فی المشکلات حدیث 2687)

یہ چشمہ جو بہ رہا تھا تو اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں دکھا دیا کہ وہ جنت میں ہے اور یہ اس کے عمل ہیں جس کے چشمے اب وہاں بہ رہے ہیں ۔ پس یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ایک طریق تھا کہ یوں ہی اتنے وثوق سے اللہ تعالیٰ کی بخشش کے بارے میں شہادت نہ دے دیا کرو۔ ہاں جب خواب میں حضرت عثمانؓ بن مظعون کے اعلیٰ اعمال ایک چشمے کی صورت میں حضرت ام عَلَاء کو دکھائے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو جانتے تھے کہ ان بدری صحابہ سے خدا تعالیٰ راضی ہوا ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں اور آپؓ کے متعلق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جذبات کا اظہار فرمایا وہ واضح کرتا ہے کہ آپؐ کو ان کے بارے میںیقین تھا کہ اللہ تعالیٰ وہ دعائیں سنے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے لیکن پھر بھی آپؐ نے کہا تم کسی کے بارے میں شہادت نہیں دے سکتے۔

مسند احمد بن حنبل میں یہ مضمون کچھ اس طرح بیان ہے کہ خَارِجَہ بن زَید اپنی والد ہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت عثمانؓ بن مظعون کی جب وفات ہوئی تو خارجہ بن زید کی والدہ نے کہا ابوسائب! تم پاک ہو۔ تمہارے اچھے دن بہت اچھے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سن لیا اور فرمایا یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا چیز بتاتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!عثمانؓ بن مظعون یعنی ان کے عمل اور ان کی عبادتیں ایسی تھیں۔ یہی چیزیں مجھے ظاہر کرتی ہیں کہ ضرور اللہ تعالیٰ نے ان سے مغفرت کا سلوک کر دیا، بخش دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم نے عثمانؓ بن مظعون میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ یقیناً عثمانؓ بن مظعون ایسا شخص تھا کہ بھلائی کے سوا میں نے اس میں کچھ نہیں دیکھا لیکن ساتھ ہی آپؐ نے فرمایا کہ اور یہ بھی یاد رکھو کہ مَیں اللہ کا رسول ہوں لیکن بخدا میں بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کِیا جائےگا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ872 حدیث ام العلاء الانصاریہ، حدیث نمبر 28006عالم الکتب بیروت 1998ء )

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تو خدا تعالیٰ کا کوئی محبوب نہیں۔ آپؐ حبیبِ خدا ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اور اس کے خوف اور خشیئت کا یہ عالم ہے کہ اپنے بارے میں بھی فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں پتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ پس ہمارے لیے کس قدر خوف کا مقام ہے اور کس قدر ہمیں فکر ہونی چاہیے کہ نیک اعمال کریں۔ خدا تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ کریں اور اس کے باوجود اس بات پر فخر نہیں بلکہ عاجزی میں بڑھتے چلے جائیں اور اس سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا رحم اور اس کے فضل کی بھیک مانگتے رہیں کہ وہ اپنے رحم اور فضل سے ہمیں بخش دے۔

مسند احمد بن حنبل کی ایک اَور روایت میں درج ہے کہ حضرت ام علاء کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں عثمانؓ بن مظعون بیمار ہو گئے۔ ہم نے ان کی تیمار داری کی یہاں تک کہ جب فوت ہو گئے تو ہم نے ان کو ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں نے کہا اے ابو سائب! اللہ کی رحمت آپ پر ہو۔ یہ میری آپؓ پر گواہی ہے کہ اللہ نے آپؓ کا اکرام کیا ہے، بہت عزت احترام کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیاپتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اکرام کیا ہے؟ کہتی ہیں مجھے نہیں پتا میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاں تک اس کا تعلق ہے اس کو وہ یقینی بلاوا یعنی موت اس کے رب کی طرف سے آ گیا ہے اور مَیں اس کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ خیر کا معاملہ کرے گا لیکن اللہ کی قسم!مَیں بھی نہیں جانتا ، مَیں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا میں اس کے بعد کسی کو پاک نہیں قرار دوں گی لیکن اس کے بعد اس بات نے مجھے غمگین کیا پھر اسی خواب کا ذکر کیا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب سنائی۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 871-872 حدیث ام العلاء الانصاریہ، حدیث نمبر 28004عالم الکتب بیروت 1998ء)

تو پہلی دو مختلف کتابوں میں، حدیثوں میں اس واقعے کو لکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات تو بلند کیے ہی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں بھی تھیں اور ہمیشہ بلند فرماتا چلا جائے اور وہ نیک نمونے ہم لوگ بھی اپنے اندر قائم کرنیوالے ہوں۔

اگلے صحابی جو ہیں جن کا ذکر ہو گا وہ حضرت وَہْب بن سَعْد بن ابی سَرْحؓ۔ حضرت وہبؓ کے والد کا نام سعد تھا۔ ان کا تعلق قبیلہ بنو عامر بن لؤی سے تھا۔ آپ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے بھائی تھے۔ آپ کی والدہ کا نام مُھَانَہ بنتِ جابِر تھا جو اشعری قبیلہ سے تھیں۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ217،وھب بن سعد، دار احیاء التراث العربی بیروت1996ء)

حضرت وَہْبؓ کا بھائی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح وہی کاتب وحی تھا جس نے ارتداد اختیار کر لیا تھا۔ ان کے بھائی کے بارے میں اس واقعے کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کاتبِ وحی تھا جس کا نام عبداللہ بن ابی سرح تھا اور سیرۃ الحلبیۃ میں لکھا ہے کہ یہ حضرت عثمان بن عفانؓ کا رضاعی بھائی تھا۔ بہرحال پھر آپؓ لکھتے ہیں کہ آپؐ پر جب کوئی وحی نازل ہوتی تو اسے بلوا کر لکھو ادیتے تھے۔ ایک دن آپ سورۃ المومنون کی آیت 14 اور 15 لکھوا رہے تھے۔ جب آپ ؐیہاں پہنچے کہ ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ تو یہ جو کاتب وحی تھا اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ سورۃ المؤمنون کی آیت 15میں اس کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی وحی ہے اس کو لکھ لو ۔ اس بدبخت کو یہ خیال نہ آیا کہ پچھلی آیتوں کے نتیجے میں یہ آیت طبعی طور پر آپ ہی بن جاتی ہے۔ اس نے سمجھا کہ جس طرح میرے منہ سے یہ آیت نکلی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وحی قرار دے دیا ہے اسی طرح آپؐ نعوذ باللہ خود سارا قرآن بنا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ مرتد ہو گیا اور مکّے چلا گیا۔ فتح مکہ کے موقع پر جن لوگوں کو قتل کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ان میں ایک عبداللہ بن ابی سرح بھی تھا مگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے پناہ دے دی۔ اور اس پناہ کی تفصیل یہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر جب عبداللہ بن ابی سرح کو معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل کا حکم دیا ہے تو یہ اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان بن عفانؓ کے پاس ان کی پناہ لینے چلا گیا اور ان سے کہنے لگا کہ اے بھائی اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گردن ماریں مجھے ان سے امان دلوا دو۔ سیرۃ الحلبیۃ میں یہ لکھا ہے۔ بہرحال حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ وہ آپؓ کے گھر میں تین چار دن چھپا رہا۔ ایک دن جبکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکّے کے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن ابی سرح کو بھی آپ کی خدمت میں لے گئے اور اس کی بیعت قبول کرنے کی درخواست کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے تو کچھ دیر تامل فرمایا مگر پھر آپؐ نے اس کی بیعت لے لی اور اس طرح دوبارہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد6صفحہ139) (السیرة الحلبیہ جلد 3 صفحہ130 باب ذکر مغازیہ/فتح مکہ، دارالکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

اَور بھی اس کی بہت ساری باتیں تھیں جس کی وجہ سے، فتنہ اور فساد کی وجہ سے اور بھڑکانے کی وجہ سے بھی یہ حکم دیاگیا تھا ۔صرف ایک ہی وجہ نہیں تھی کہ یہ مرتد ہو گیا تھا اس لیے قتل کا حکم دے دیا۔
عاصم بن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت وَہْبؓ نے مکّے سے مدینے کی طرف ہجرت کی تو آپؓ نے حضرت کلثوم بن ھِدم کے ہاں قیام کیا۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت وَہْبؓ اور حضرت سُوَیْد بن عَمروؓ کے درمیان عقد ِمؤاخات قائم فرمایا یعنی یہ دونوں بھائی بنے تھے۔ آپ دونوں جنگ مؤتہ کے دن شہید ہوئے۔ حضرت وَہْبؓ غزوۂ بدر، احد، خندق اور حدیبیہ اور خیبر میں شریک ہوئے اور آپؓ جمادی الاولیٰ 8ہجری میں جنگ مؤتہ میں شہید ہوئے۔ شہادت کے روز آپؓ کی عمر 40 سال تھی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ217،وھب بن سعد، دار احیاء التراث العربی بیروت1996ء)

جنگ مؤتہ کیا تھی یا اس کے اسباب کیا تھے؟ اس کا طبقات الکبریٰ میں کچھ ذکر ہے۔ یہ جنگ جمادی الاولیٰ سنہ 8ہجری میں ہوئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حَارِث بن عُمَیرؓ کو قاصد بنا کر شاہ بُصْریٰ کے پاس خط دے کر بھیجا۔ جب وہ مُؤْتَہ کے مقام پر اترے تو انہیں شُرَحْبِیْل بن عَمْرو غَسَّانِی، (شرحبیل جو تھا وہ سیرۃ الحلبیۃ کے مطابق قیصر کے شام پر مقرر کردہ امراء میں سے ایک تھا،اس)نے روکا اور ان کو شہید کر دیا۔ حضرت حارِث بن عمیرؓ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور کوئی قاصد شہید نہیں کیا گیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سانحےکی اطلاع پہنچی تو آپؐ پر یہ بہت گراں گزرا۔ اس کا بہت افسوس ہوا۔ آپؐ نے لوگوں کو جنگ کے لیے بلایا۔ لوگ جمع ہو گئے۔ ان کی تعداد تین ہزار تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سب کے امیر حضرت زَید بن حارِثہؓ ہیں اور ایک سفید جھنڈا تیار کر کے حضرت زیدؓ کو دیتے ہوئے یہ نصیحت کی کہ حضرت حارِث بن عمیرؓ جہاں شہید کیے گئے ہیں وہاں پہنچ کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ہے۔ نہیں تو ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور ان سے جنگ کریں۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ 314 سریہ مؤتہ دار احیاء التراث العربی1996ء)(السیرة الحلبیہ جلد 3 صفحہ 96 باب ذکر مغازیہ /غزوہ مؤتہ، مطبوعہ دار الکتب اللعلمیۃ بیروت 2002ء)

حضرت وَہْبؓ بھی اس جنگ میں شامل تھے۔اس جنگ کی تفصیل مزید بیان کر دیتا ہوں ۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ مؤتہ کے لیے حضرت زید بن حارثہؓ کو امیر مقرر فرمایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر زیدؓ شہید ہو جائیں تو جعفرؓ امیر ہوں گے اور اگر جعفرؓ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رَوَاحہؓ تمہارے امیر ہوں گے۔ اس لشکر کو جَیْشِ امراء بھی کہتے تھے۔

(صحیح البخاری کتاب المغازی باب غزوۃ مؤتۃ من أرض الشام حدیث 4261)(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 505 حدیث 22918 مسند ابو قتادہ انصاری مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء)

اس کی تفصیل میں حضرت مصلح موعودؓ نے اتنا ہی لکھا ہے کہ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس وقت وہاں قریب ایک یہودی بھی بیٹھا تھا۔ اس نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی تو حضرت زیدؓ کے پاس آ یا اور آ کر کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو تم تینوں میں سے کوئی بھی زندہ بچ کے واپس نہیں آئے گا۔ اس پر حضرت زیدؓ نے کہا کہ مَیں زندہ بچ کے آؤں یا نہ آؤں لیکن یہ بہرحال سچ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول اور نبی ہیں۔(ماخوذ از فریضۂ تبلیغ اور احمدی خواتین، انوار العلوم جلد 18 صفحہ 405-406)

اس جنگ کے حالات کی،شہداکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی۔ اس بارے میں ا یک روایت ہے حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیدؓ نے جھنڈا لیا اور وہ شہید ہوئے۔ پھر جعفرؓ نے اسے پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہؓ نے جھنڈے کو پکڑا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ یہ خبر دیتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ پھر جھنڈے کو خالدؓبن ولید نے بغیر سردار ہونے کے پکڑا اور انہیں فتح حاصل ہوئی۔

(صحیح البخاری کتاب الجنائز باب الرجل ینعی الیٰ اھل المیت بنفسہ حدیث 1246)

اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند سے بلند تر فرماتا چلا جائے۔

ان کے ذکر کے بعد اب میں بعض مرحومین کا ذکر کروں گا جن کے آج جنازے بھی پڑھاؤں گا۔

پہلا ذکر تو مکرم ملک محمد اکرم صاحب کا ہے جو مربی سلسلہ تھے اور کل 25؍اپریل کو مانچسٹر میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کا جنازہ یہاں حاضر ہے اور نماز کے بعد میں انشاء اللہ تعالیٰ باہر جا کے ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔

2؍فروی 1947ء کو یہ ملکوال ضلع گجرات میں پیدا ہوئے تھے اور 1961ء میں انہوں نے خود بیعت کی۔جماعت میں شامل ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی ماسٹر اعظم صاحب پہلے احمدی تھے۔ انہوں نے بھی خود بیعت کی تھی۔ ان کے ذریعے سے انہوں نے بھی بیعت کر لی۔ انہوں نے ایک مضمون لکھا تھا۔ مجھے یاد ہے اس میں یہی لکھا تھا کہ میں ربوہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آیا اور ربوہ کے ماحول سے متاثر ہوا اور پھر اس کے بعد بیعت بھی کر لی۔ بہرحال 1962ء میں انہوں نے اپنے آپ کو بیعت کے بعد جماعت کے لیے وقف کیا۔ بی۔اے کرنے کے بعد شاہد اور عربی فاضل کی ڈگری انہوں نے حاصل کی۔ ان کا تقرر 1971ء میں بطور مربی سلسلہ ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ان کا نکاح 1970ء میں امۃ الکریم صاحبہ جو مولوی ابو البشارت عبدالغفور صاحب کی بیٹی ہیں ان سے پڑھایا۔ یہ پاکستان میں مختلف علاقوں میں اور پھر بیرونی ممالک میں بھی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ یو۔کے میں آکسفورڈ (Oxford)،مانچسٹر (Manchester)، گلاسگو (Glasgow) اور کارڈف (Cardiff) کی جماعتوں میں تیس سال تک خدمت کی توفیق ملی۔ ان کا کل عرصہ خدمت 48 سال بنتا ہے۔ یو۔کے میں کئی سال یہ نائب افسر جلسہ گاہ بھی رہے۔ 71ءسے 73ءتک پاکستان میں یہ مختلف جگہوں پر رہے۔ پھر 73ءسے 77ءتک گیمبیا میں رہے۔ پھر دوبارہ 77ءسے 79ءتک کراچی پاکستان میں رہے۔ پھر 79ء سے 80ء تک ربوہ مرکز میں وکالت تبشیر میں رہے۔ 80ءسے 83ءتک نائیجیریا مشنری کالج اِلارو کے پرنسپل رہے۔ پھر یہ واپس ربوہ آئے اور 89ء تک (eighty nine ) تک یہ ربوہ میں رہے۔ پھر یہ 89ء سے 2018ء تک یو۔کے میں خدمت کی توفیق پاتے رہے ۔ پہلے تویہ اپنی عمر کے لحاظ سے فروری 2007ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ ری ایمپلائی ہوئے اور 2018ء تک ان کو خدمت کی توفیق ملتی رہی ۔ وقفِ زندگی تو وقف ہی رہتا ہے لیکن بہرحال گذشتہ دنوں بیماری کی وجہ سے پھر ایکٹو (active)خدمت سرانجام نہیں دے سکے اور اس طرح ان کی ریٹائرمنٹ ہوئی تھی لیکن ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح چند مہینے ہی بغیر باقاعدہ خدمت کے گزارے اور ایک لحاظ سے خدمت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی جان دی۔

امیر صاحب یو۔کے لکھتے ہیں کہ بڑے محنتی اور اطاعت گزار تھے۔ مزاج بہت متحمل تھا۔ جو بھی جماعتی خدمت ان کے سپرد کی جاتی بڑی محنت اور دیانت داری کے ساتھ سرانجام دیتے اور ان کو فوری طور پر رپورٹ بھی کرنے کی عادت تھی، پھر رپورٹ کرتے۔ مانچسٹر میں تعینات تھے تو مسجد دارالامان کی تعمیر ہوئی ہے ۔ ملک صاحب نے اس مسجد کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے میں بہت فعال کردار ادا کیا ہے۔

عطاء المجیب راشد صاحب کہتے ہیں کہ اکرم صاحب بہت اچھے اخلاق اور خوبیوں کے مالک تھے۔ بہت نیک، دیانتدار، نہایت مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ پرجوش مبلغ، ذمہ داری سے کام کرنے والے، خلافت کی اطاعت میں بہت اعلیٰ مقام رکھنے والے خادم ِسلسلہ تھے۔ مجید سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں کہ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ سب سے نمایاں یہ کہ وہ خلافت کے وفا شعار خادم تھے۔ تبلیغ کا ان کو بہت زیادہ شوق تھا اور سیالکوٹی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے طالب علمی کے زمانے میں جب پڑھتے تھے تو اس وقت بھی چھٹیوں میں ہمارے گاؤں ایک دفعہ آئے پھر وہاں بھی انہوں نے کہا تبلیغ کریں اور پھر تبلیغ میں مصروف ہو گئے اور خدام و انصار کے تحت خدمت کرنے کے لیے اپنی چھٹیاں، رخصتیں جو تھیں ان کو وقف کیا ہوا تھا اور ہمیشہ بڑی اطاعت سے انہوں نے زندگی گزاری۔ اسلم خالد صاحب جو پرائیویٹ سیکرٹری لندن میں خدمت انجام دے رہے ہیں وہ کہتے ہیں میرے یہ عزیز رشتہ دار بھی بعد میں بن گئے۔ ان کی شادی کی وجہ سے سسرالی رشتہ دار تھے۔ پھر یہ لکھتے ہیں کہ جہاں جہاں آپ کی تقرری ہوئی بڑے پیار سے احباب جماعت کے دل جیتے اور بیماری میں بھی جہاں جہاں انہوں نے خدمت کی خاص طور پر مانچسٹر کے احباب کا بڑی محبت سے ذکر کیا کرتے تھے۔ جماعت کے بچوں سے، نوجوانوں سے بھی بڑا شفقت کا تعلق تھا۔ اس کی ایک مثال دیتے ہوئے اسلم خالد صاحب کہتے ہیں کہ مجھے بتایا کہ وہ بچے جو اَب جوان ہو چکے ہیں اور ان کی شادیاں ہو چکی ہیں ان میںسے ایک بچے نے اپنی شادی کے بعد جب پہلا بچہ پیدا ہوا تو رات کو اڑھائی تین بجے مجھے فون کر کے بتایا کہ مربی صاحب میرے ہاں بیٹا پیدا ہو اہے۔ اکرم صاحب کہتے ہیں پہلے مجھے دل میں خیال آیا کہ رات کو اطلاع دینے کا یہ کون سا وقت ہے ۔ صبح بھی بتا سکتا تھا لیکن اس بچے کی اپنے مشنری سے، مبلغ سے، تربیت کرنے والے سے جو محبت تھی کہتے ہیں کہ اگلے فقرے میں اس نے میرا منہ بند کروا دیا اور اس لڑکے نے کہا کہ مربی صاحب میں نے یہ عہد کیا تھا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ مجھے بچہ دے گا تو سب سے پہلے آپ کو بتاؤں گا۔ اب آپ کو بتا دیا ہے ۔ اب اپنے والد کو اطلاع کروں گا۔ تو لوگوں کا ان کے ساتھ اور ان کا بھی جماعت کے لوگوں کے ساتھ یہ پیار تھا محبت تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ مغفرت فرمائے۔ ان کے لواحقین کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ یہ تو اِن کا تو جنازہ حاضر ہے جیسا کہ میں نے کہا ابھی نماز کے بعد میں باہر جا کے پڑھاؤں گا۔
دوسرا جنازہ غائب ہے جو چوہدری عبدالشکور صاحب مبلغ ِسلسلہ کا ہے۔ یہ چوہدری عبدالعزیز صاحب سیالکوٹی کے بیٹے تھے۔ 12؍اپریل کو ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ 10؍نومبر 1935ء کو پیدا ہوئے تھے۔ پیدائشی احمدی تھے۔ ان کے دادا نے 1901ء میں بیعت کی تھی۔ مکرم عبدالشکور صاحب نے ایف۔اے کیا۔ پھر شاہد کیا۔ مولوی فاضل کیا اور جون 1956ء میں زندگی وقف کی۔ اس سے قبل ریلوے ڈویژن میں بطور ٹائپسٹ کلرک کام کر رہے تھے۔ 1962ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور 1963ء میں جامعہ احمدیہ سے شاہد کا امتحان پاس کیا۔ جولائی 1963ء سے آپ کا تقرر وکالت مال ثانی میں ہوا پھر ربوہ کے مختلف دفاتر میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ 64ء میں تبلیغ ِاسلام کی غرض سے سیرالیون بھجوایا گیا۔ نومبر 68ء تک وہاں خدمت کی توفیق پائی۔ دسمبر 70ء سے دسمبر 73ء تک گھانا میں رہے۔ 75ء سے 1978ء تک گیمبیا میں رہے۔ فروری 1980ء سے اپریل 1986ء تک لائبیریا میں خدمت کی توفیق پائی۔ ان ممالک میں موصوف نے بطور امیر اور مشنری انچارج خدمت کی توفیق پائی۔ 1990ء میں آپ کا تقرر نائب وکیل التبشیر کے طور پر ہوا۔ نائب وکیل المال ثالث، سیکرٹری کمیٹی آبادی، نائب وکیل المال ثانی کے طورپر بھی خدمت بجا لاتے رہے اور 1995ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد 2004ء تک بطور ری ایمپلائی خدمت کی توفیق پائی۔ آنکھوں میں تکلیف کی وجہ سے، کالے موتیے کی وجہ سے پھر 2004ء میں یہ ریٹائرڈ ہوئے تھے۔

ان کے بیٹے ڈاکٹر عبدالصبور صاحب جو امریکہ میں رہتے ہیں کہتے ہیں کہ میرے والد نہایت سادہ اور محنتی تھے۔ ہمیں لائبیریا میں بطور امیر مشنری انچارج ان کو تبلیغی اور تربیتی کاموں میں مصروف عمل دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمیشہ بہت محنت سے خطبات کی تیاری کرتے۔ قرآن کریم، حدیث ،کتبِ سلسلہ اور بائبل وغیرہ سے حوالے نکال کر بہت اعلیٰ خطبہ دیتے۔ عیسائیت اور مسلمانوں کو دلائل کے ساتھ تبلیغ کرتے تھے اور بڑے پیار سے بات کرتے تھے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ ہم سب بہن بھائیوں کی تعلیم کے تمام اخراجات اپنے محدود وسائل میں پورے کیے اور ہم سب کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا۔

محمود طاہر صاحب جو پاکستان میں انصار اللہ کے قائد عمومی ہیں۔ کہتے ہیں بڑے خاموش خدمت کرنے والے تھے۔ کام سے کام رکھتے تھے اور بہت صائب الرائے تھے۔ نائب وکیل التبشیر شیخ حارث صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ بڑے منکسر المزاج تھے۔ شریف النفس تھے۔ نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ خلافت اور سلسلہ کے نہایت وفادار اور فدائی تھے۔ حیدر علی ظفر صاحب جو آجکل جرمنی کے نائب امیر ہیں وہ کہتے ہیں کہ عبدالشکور صاحب بہت خوبیوں کے مالک تھے۔ بڑے مخلص، سادہ، منکسر المزاج، محنتی، جماعتی اموال کو بڑی احتیاط سے خرچ کرتے تھے۔ ایک متقی اور بااصول آدمی تھے۔ جماعت کی بُک شاپ کو جو لائبیریا میں تھی بہت عمدگی سے اس کو چلایا اور اس سے جو آمد ہوئی اس سے مسجد اور مربی ہاؤس از سر نو تعمیر کیا۔ تھوڑی سی جگہ میں ایک چھوٹا سا کمپلکس بنا دیا جس میں لائبریری بھی تھی۔ مہمان خانہ بھی تھا۔ مردوں اور عورتوں کے لیے مسجد میں علیحدہ علیحدہ حصے تھے۔ مربی ہاؤس بھی تھا اور مسجد کی تعمیر کے وقت خود اپنے ہاتھ سے مزدوروں کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ ایک تو خود آمد پیدا کر کے مسجد بنائی،کمپلکس بنایا۔ پھر مزدوری بھی خود کرتے رہے۔ یہ حیدر علی صاحب کہتے ہیں کہ 1986ء میں جب مَیںنے ان سے چارج لیا تو وہاں ان کو الوداعیہ دیا گیا اور مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر کا جب ذکر کیا گیا کہ انہوں نے بڑی محنت سے یہ سب کام کیا ہے اور بڑا سراہا گیا تو انہوں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ مجھ سے پہلے ایک مبلغ نے یہ جگہ خریدنے کی توفیق پائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میرے وقت میں یہ مکمل ہو گئی۔ اب آپ لوگ اس میں تبلیغی ایکٹویٹیز (activities)کر سکتے ہیں اور اصل میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو اس نے توفیق دی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

تیسرا جنازہ جو غائب ہے وہ مکرم ملک صالح محمد صاحب معلم وقف جدید کا ہے۔ یہ 21؍ اپریل 2019ء کو بقضائے الٰہی وفات پا گئے تھے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے پڑنانا ملک اللہ بخش صاحبؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جنہوں نے چاند سورج گرہن کا نشان دیکھ کر لودھراں سے پیدل قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ ان کے والد مکرم غلام محمد صاحب سلسلہ کے ابتدائی معلمین میں سے تھے۔ ان کے والد بھی معلم تھے۔ 1959ء میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ 76ء میں انہوں نے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لینے کی کوشش کی لیکن عمر زیادہ ہو گئی تھی۔ داخلہ نہیں مل سکا ۔چنانچہ کوٹری میں ایک مِل میں ملازمت اختیار کر لی تو ان کے بیٹے لکھتے ہیں کہ میرے دادا ملک غلام محمد صاحب جو معلم تھے وہ ان سے ملنے کوٹری گئے تو وہاں کا ماحول اچھا نہیں لگا۔ انہوں نے ان کو ہدایت کی کہ فوراً نوکری چھوڑ دیں اور وقف جدید کے تحت معلم بن کے اپنی زندگی وقف کریں۔ چنانچہ یہ نوکری چھوڑ کر آ گئے۔ اس وقت ان کی شادی بھی ہو چکی تھی۔ وہاں نوکری میں ان کو اس زمانے میں ساڑھے چار سو روپے تنخواہ ملتی تھی اور معلم کلاس میں آ کر شامل ہوئے۔ اس کے بعد معلم بنے جہاں جماعت کی طرف سے 135 روپے گزارہ الاؤنس ہوتا تھا لیکن اس پر بھی ان کو یہ تھا کہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے جو مجھے اللہ تعالیٰ خدمتِ دین کی توفیق دے رہا ہے۔ تقریباً 4/1 یا 3/1 آمد پہ سمجھ لیں کہ آ کے وقف شروع کیا۔ پہلے دنیا کما رہے تھے۔ نگر پارکر میں ان کی تقرری 1989ء میں ہوئی۔ بڑے مشکل حالات تھے۔ ان کے بیٹے وہ خود مربی سلسلہ ہیں لکھتے ہیں کہ خاکسار کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ جب ان کا نگر پارکر کے گاؤں حَبَاسر سینٹر میں تبادلہ ہوا تو وہاں ایک لمبے عرصے سے معلم ہاؤس بند پڑا تھا۔ گھر گِر چکا تھا۔ چنانچہ والد صاحب کافی دُور سے دن کو پانی لے کر آتے، ا ور مٹی اکٹھے کرتے اور رات کو دونوں میاں بیوی مل کر کچی اینٹیں بناتے۔ اور جب اینٹیں بن گئیں تو دونوں نے اپنی مدد آپ کے تحت رہائش کا انتظام کر لیا۔ اس جگہ رہنے کی کوئی جگہ نہیں تھی تو یہ جو سندھ میں بھی ابتدائی معلمین تھے انہوں نے بڑی قربانی کر کے وہاں گزارہ کیا ہے۔ خود ہی پانی ڈھویا ہے دور دور سے پانی لے کر آتے تھے مٹی اکٹھی کی۔ پھر اینٹیں بنائیں اور پھر خود ہی اپنا رہائش کا کمرہ بنایا ۔ کوئی مطالبہ جماعت سےنہیں کیا۔ یہ ان کے بیٹے ہی لکھتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ نگر پارکر میں ان کے پاس سہولیات نہیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ جب میٹنگ پر آتے تو اپنے لیے مہینے کا سارا راشن اور ہومیو پیتھی دوائیاں اور دیگر سامان لے کے آتے کیونکہ ریموٹ ایریا میں رہتے تھے۔ ایک دفعہ اسی طرح میٹنگ پر آئے ہوئے تھے تو واپسی پر راستہ بھول گئے۔ وہاں کا بڑا علاقہ بالکل صحرائی علاقہ ہے اور ریت پر چلنے کے نشانات دیکھ کر آدمی رستہ کی نشان دہی کرتا تھا تو یہ صحیح نشانوں کو پہچان نہیں سکے۔رستہ بھول گئے اور اس دوران میں ان کا پانی بھی ختم ہو گیا۔ سندھ میں بڑی گرمی ہوتی ہے۔ پیاس اور تھکاوٹ کی وجہ سے آخر بیہوش ہو کر گر پڑے اور وہیں گرے ہوئے تھے کہ اس دوران میں دو آدمیوں کا وہاں سے اونٹ کے اوپر گزر ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ کوئی آدمی ریت پر گرا ہوا ہے اور جب ان کے پاس آئے تو پتا چلا کہ یہ تو ڈاکٹر صاحب ہیں ۔کیونکہ نگر پارکر میں ہومیو پیتھک کی دوائیاں دیا کرتے تھے اس لیے ڈاکٹر صاحب کے نام سے مشہور ہو گئے تھے اور یہ جو دو آدمی تھے وہ ان کے مریض تھے۔ انہوں نے انہیں پہچان لیا، پانی پلایا اور پھر اپنے گاؤں لے کے آئے۔ وہاں رات گزاری۔ اگلے دن ان کو سینٹر پہ چھوڑ کے آئے۔ یہ لکھتے ہیں کہ اپنی اولاد کو نماز کی تلقین کیا کرتے تھے۔ بڑی باقاعدگی سے تہجد پڑھنے والے تھے۔ جس دن فوت ہوئے اس دن بھی تہجد ادا کی اور والدہ کو بھی اٹھایا۔ نہایت خوش اخلاق اور لوگوں سے محبت کرنے والے تھے۔ کوئی برا سلوک بھی کرتا تو ہمیشہ صبر کرتے اور کبھی جواب نہیںدیتے تھے۔ اور لوگوں سے تعلقات بڑھانے میںبھی بڑے اچھے تھے اور کافی مشہور تھے۔ لوگ ایمان داری کی وجہ سے ان کے پاس امانتیں بھی رکھوا دیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کوئی بھی خاندان میں رنجش ہوتی تو ہمیشہ صلح کروانے والے تھے۔

مرحوم موصی بھی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مبارک احمد منیر صاحب برکینا فاسو میں مربی سلسلہ کے طور پر خدمت کی توفیق پا رہے ہیں اور اس وجہ سے اپنے والد کی وفات پر پاکستان بھی نہیں جا سکے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی اس جذبے اور قربانی سے خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔

چوتھا جنازہ غائب مکرم مویشیحے (Mwishehe) جمعہ صاحب کا ہے۔ یہ تنزانیہ کے تھے۔ یہ 13؍مارچ کو وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ 34-1933ءمیں تنزانیہ کے ریجن موروگورو (Morogoro)میں ان کی پیدائش ہوئی۔ 1967ء میں یہ جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے اور ان کے جماعت میں شامل ہونے کا واقعہ اس طرح ہے کہ سنی علماء میں وہاں رواج تھا کہ فوت شدگان کا ختم دلوانے اور فوت شدہ بچے کا عقیقہ ایک ہی جگہ کرنے پر ان کو اختلاف تھا کہ یہ کیا ختم ہے اور فوت شدہ بچے کا یہ کیسا عقیقہ ہے۔ اس پر کہتے ہیں کیونکہ بعض سنی علما اس بچے کا عقیقہ کرنے کے قائل تھے جو جلد فوت ہو گیا ہو نہ کہ اس بچے کا جو زندہ ہو تاکہ ختم دلوا کر اور عقیقہ کر کے بار بار کھانے کے سامان پیدا ہو سکیں۔ انہوں نے اسلامی تعلیم میں تو کوئی ایسی تعلیم نہیں دیکھی تھی جس پر مولویوں کا عمل ہو رہا تھا ۔ تو اس پہ ان کو بہت رنج ہوا اور مسلمانوں کی حالتِ زار پر بڑے افسردہ رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرما ، تا کہ وہ آ کر اسلام کو دوبارہ زندہ کریں۔ تو مشنری انچارج صاحب لکھتے ہیں کہ ان کے اپنے بیان کے مطابق جب ان کی ملاقات جمیل الرحمٰن رفیق صاحب سے ہوئی جو اس وقت وہاں مبلغِ سلسلہ تھے اور آج کل پاکستان میں وکیل التصنیف ہیں تو انہوں نے ان کو کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ جس شخص نے اپنے وقت کے امام کو نہیں پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اس پر کہتے ہیں انہوں نے گمان کیا کہ میں نے امامِ وقت کو نہیں مانا اس لیے حقیقی مسلمان نہیں ہوں۔ فوراً خیال آیا اور پھر بغیر وقت ضائع کیے، فوراً انہوں نے بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد اپنے گاؤں میںگئے، اپنے بہن بھائیوں کو تبلیغ کی، خاندان والوں کو تبلیغ کی، دوستوں کو تبلیغ کی اور سب کو جمع کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچایا اور اسی سال کے دوران ان کے بھائی عیدی سلمان صاحب اور محمد جمعہ صاحب جو فوت ہو چکے ہیں اور جمعہ صاحب کی اہلیہ نے فوری طور پر ان کی تبلیغ سے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ مرحوم کو سخت مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن آہستہ آہستہ لوگ جماعت میں شامل ہونے لگے اور ان کے گاؤں مکویونی(Mkuyuni) کے ساتھ ساتھ اطراف کے جتنے بھی دیہات ہیں ان میں جماعت کا بڑا اچھا نفوذ ہو گیا۔ مشنری انچارج لکھتے ہیں کہ اب مکویونی جماعت جو ہے موروگورو (Morogoro)ریجن کی ایک مثالی جماعت ہے اور وہ ان کی محنت سے قائم ہوئی ،ہوئی جماعت ہے۔

جماعت میں شامل ہونے کے بعد وفات تک ان کے ہر عمل سے یہ اظہار ہوتا تھا کہ خلافت کے انتہائی شیدائی ہیں اور مبلغین ِکرام اور جماعتی عہدیداران کا بھی بڑا عزت اور احترام کیا کرتے تھے۔ جماعتی نظام کی بڑی پابندی کیا کرتے تھے۔ تبلیغ کا بڑا شوق اور جذبہ تھا اور ہمیشہ تبلیغ کرتے رہتے ،کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ چندہ جات کی ادائیگی کرنے والوں میں صفِ اوّل میں شمار ہوتے تھے بلکہ ہر وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ کوئی بھی آمد ہو تو چندہ دوں اور یہ کہا کرتے تھے کہ اس عارضی دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آپ موصی بھی تھے اور لوگوں کو اس بابرکت نظام میں شامل ہونے کی تحریک کیا کرتے تھے۔ قیام نماز میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ پنجگانہ نماز کا التزام خود کرتے۔ اپنے بچوں اور پوتوں پوتیوں اور نواسے نواسیوں کو بھی اس کا التزام کروانے کی نصیحت کی۔ تہجد بڑے شوق سے ادا کیا کرتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں آپ کو بہت یاد تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کا بھی بڑا شوق تھا۔ ان کے بیٹے شمعون جمعہ صاحب جو جامعہ احمدیہ تنزانیہ میں استاد ہیں کہتے ہیں کہ 1987ء سے 1990ء کے دوران ہم تین بھائی جامعہ تنزانیہ میں پڑھتے تھے۔ (مبشر کا کورس وہاں ہوتا ہے) اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دفعہ چھٹیوں کے دوران ہم بھائیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ہم میں سے ایک بھائی جامعہ کی پڑھائی چھوڑ کر گھر واپس آ جائے اور والدین کا روزمرہ کے کاموں میں ہاتھ بٹائے اور ہم نے اس بات کا ذکر اپنے والد صاحب سے کیا تو انہوں نے اسے سخت برا منایا، ان کے بیٹے شمعون جمعہ صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے وہ دن نہیں بھولتا کہ والد صاحب بڑے جلال میں تھے اور انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ اللہ پر توکل کرو اور جامعہ کی پڑھائی جاری رکھو اور پڑھائی بالکل نہیں چھوڑنی۔ انہوں نے اپنے تینوں بچوں میں جماعت کی خدمت کی ایک روح پھونکی۔

اللہ تعالیٰ ان سے رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کی نسل کو بھی سچا خادمِ دین اور خادم ِاسلام بنائے۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے نماز کے بعد میں ان سب کے جنازے ادا کروں گا۔ ایک جنازہ حاضر ملک اکرم صاحب کا ہے وہ مَیں باہر جا کے ادا کروں گا اور احباب یہیں مسجد کے اندر ہی نماز میں شامل ہوں۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button