خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ فرمودہ 29؍مارچ 2019ء

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 29؍ مارچ2019ء بمطابق 29؍تبلیغ1398 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن، یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

آج جن بدری صحابہ کا ذکرکروں گا ان میں سے پہلا ذکر حضرت طُلَیْب بن عُمَیْرؓ کا ہے۔ ان کی کنیت ابو عَدِی تھی۔ ان کی والدہ کا نام اَرْوٰی تھا جو عبدالمطلب کی بیٹی تھیں، جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ آپؓ کی کنیت ابو عدی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا اور آپؓ ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھے۔ آپؓ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دارِارقم میں تھے۔

(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 93 ‘‘طُلَیْب بن عُمَیْر’’ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2003ء )

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرت طُلَیْب بن عُمَیْر دارِارقم میں ایمان لائے تھے۔ پھر آپؓ وہاں سے نکل کر اپنی والدہ کے پاس گئے اور انہیں کہا کہ مَیں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اختیارکر لی ہے اور اللہ ربُّ العالمین پر ایمان لے آیا ہوں۔ آپؓ کی والدہ نے کہا کہ تمہاری مدد اور تعاون کے زیادہ حقدار تمہارے ماموں کے بیٹے ہی ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ انہوں نے تائید کی۔ بڑا اچھا کیا تم ایمان لے آئے۔ پھر کہنے لگیں کہ خدا کی قسم! اگر ہم عورتوں میں بھی مردوں جیسی طاقت ہوتی تو ہم بھی ان کی پیروی ضرورکرتیں اور ان کی حمایت اور دفاع کرتیں۔ حضرت طُلَیْب نے اپنی والدہ سے کہا پھر آپ اسلام قبول کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کیوں نہیں کر لیتیں؟ اب یہ جذبات ہیں آپ کے تو انہوں نے کہا کہ آپ کے بھائی حمزہؓ بھی تو مسلمان ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی بہنوں کا رویہ دیکھ لوں پھر میں بھی ان میں شامل ہو جاؤں گی۔ حضرت طُلَیْب کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے کہتا ہوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جائیں اور انہیں سلام کہیں اور ان کی تصدیق کریں اور گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر آپ کی والدہ کہنے لگیں کہ میں بھی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی زبان کے ساتھ بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتی تھیں اور اپنے بیٹے کو بھی آپؐ کی مدد اور اطاعت کا کہا کرتی تھیں۔

(المستدرک علی الصحیحین جلد 3 صفحہ 266 کتاب معرفة الصحابہ ذکر مناقب طُلَیْب بن عُمَیْرؓ حدیث 5047 دارالکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

ان کے بارے میں آتا ہے کہ آپؓ وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام میں سب سے پہلے کسی مشرک کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی وجہ سے زخمی کیا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ عَوف بن صَبْرَۃ سَہْمِی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہہ رہا تھا ۔ حضرت طُلَیْب نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی اور اسے مار کر زخمی کر دیا۔ کسی نے ان کی ماں اَرْویٰکو شکایت کی کہ آپ دیکھتی نہیں کہ آپ کے بیٹے نے کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ

اِنَّ طُلَیْبًا نَصَرَ ابْنَ خَالِہٖ
وَاسَاہُ فِی ذِی دَمِہٖ وَمَالِہٖ

یعنی طُلَیْب نے اپنے ماموں کے بیٹے کی مدد کی ہے۔ اس نے اپنے خون اور اپنے مال کے ذریعہ اس کی غم خواری کی۔بعض کے مطابق آپؓ نے جس شخص کو مارا تھا اس کا نام اَبُو اِھَاب بن عَزِیْز دَارمی تھا اور بعض روایات کے مطابق وہ شخص جس کو حضرت طُلَیْبؓنے زخمی کیا تھا وہ ابولہب یا ابوجہل تھا۔ ایک روایت کے مطابق جب آپؓ کے حملہ کرنے کے متعلق آپؓ کی والدہ سے شکایت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ طُلَیْبؓ کی زندگی کا سب سے بہترین دن وہی ہے جس دن وہ اپنے ماموں کے بیٹے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرے جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے ساتھ آیا ہے۔

(الاصابہ جلد 3 صفحہ 439 طُلَیْب بن عُمَیْر،دارالکتب العلمیہ بیروت 1995ء) (المستدرک علی الصحیحین للحاکم جلد 4 صفحہ 57 کتاب معرفة الصحابہ ذکر ارویٰ بنت عبدالمطلب حدیث 6868 دارالکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

حضرت طُلَیْبؓ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں میں شامل تھے لیکن جب حبشہ میں قریش کے مسلمان ہونے کی افواہ پہنچی تو حبشہ سے کچھ مسلمان واپس مکہ تشریف لے آئے۔ حضرت طُلَیْبؓ بھی ان میں شامل تھے۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 169 ذکر ما لقی رسول اللہ ﷺ من قومہ من الاذی، دار ابن حزم بیروت 2009ء)

جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے خیال میں تو بعض مؤرخین ہیں،سب نہیں (جنہوں نے یہ بیان کیا ہے) کہ ابھی ان مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اڑتی ہوئی افواہ پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں اور مکہ بالکل امن میں آ گیا ہے۔ چنانچہ بعض لوگ بغیر سوچے سمجھے واپس آ گئے اور پھر پتا لگا کہ خبر جھوٹی ہے۔ اس کی تفصیل مَیں چند ہفتوں پہلے خطبوں میں بیان کر چکا ہوں۔ بہرحال واپس آئے، تو پتا لگا ۔ جب حقیقت پتا لگی تو کچھ نے وہاں مکہ کے رئیسوں کی پناہ لی، سرداروں کی پناہ لی اور کچھ واپس چلے گئے کیونکہ وہ تو بالکل جھوٹ تھا اور کیوں یہ افواہ ہوئی تھی اس کا بیان میں پہلے بھی کر چکا ہوں اس لیے یہاں بیان کی ضرورت نہیں ہے۔

بہرحال جب وہ صحابہ اس وجہ سے واپس چلے گئے تھے کہ قریش کے ظلم اور ایذا رسانی جو تھی وہ روز بروز بڑھ رہی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اَور مسلمان بھی خفیہ طور پر آہستہ آہستہ ہجرت کر رہے تھے۔کہا جاتا ہے کہ مہاجرین حبشہ کی تعداد 101 تک پہنچ گئی تھی جن میں اٹھارہ خواتین بھی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت تھوڑے مسلمان رہ گئے تھے۔ اس واپس آنے کے بعد جو دوبارہ ہجرت کی اور اس کے بعد بھی جو مسلمان ہجرت کر کے گئے اسی ہجرت کو مؤرخین ہجرت حبشہ ثانیہ کہتے ہیں۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اےصفحہ 147، 149)

حضرت طُلَیْبؓ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپؓ نے حضرت عَبدُاللّٰہ بن سَلَمَہ عَجْلَانِی کے ہاں قیام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طُلَیْبؓ اور حضرت مُنْذِر بِن عَمْروؓکے درمیان عقد ِمؤاخات قائم فرمایا ۔ حضرت طُلَیْبؓ نے غزوۂ بدر میں شرکت کی اور آپؓ کا شمار کبار صحابہ میں ہوتا ہے۔ آپؓ جنگ اَجْنَادَیْن میں شامل ہوئے جو جمادی الاولیٰ 13 ہجری میں ہوئی اور اسی جنگ کے دوران 35 سال کی عمر میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اَجْنَادَیْن شام میں واقع ایک علاقے کا نام ہے جہاں 13؍ ہجری میں مسلمانوں اور اہلِ روم کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔ لیکن بعض کے مطابق آپؓ جنگ یرموک میں شہید ہوئے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 91 طُلَیْب بن عُمَیْر، دارالکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
(اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 94 ‘‘طُلَیْب بن عُمَیْر’’ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2003ء )
(معجم البلدان جلد 1 صفحہ 129 ‘‘اجنادین’’ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہؓ ہے۔ ان کی کنیت ابوعبداللّٰہ تھی اور والد کا نام مَعْقِل تھا۔ حضرت سالمؓکے والد کا نام مَعْقِل تھا جیسا کہ میں نے کہا۔ ایران کے علاقے اِصْطَخَرْ کے رہنے والے تھے۔ ان کا شمار کبار صحابہ میں ہوتا ہے اور آپؓ مہاجرین میں بھی شامل ہیں۔ آپؓ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سَالِمؓ اور مُعَاذ بِن مَاعِض ؓ کے درمیان مؤاخات کا رشتہ قائم فرمایا۔

(اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 382-383 سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

حضرتسَالِم ثُبَیْتَہ بنت یَعَارْ کے غلام تھے جو حضرتابوحُذَیْفَہ کی بیوی تھیں۔ حضرت ثُبَیْتَہ نے حضرت سالمؓ کو سَائِبَہ کرتے ہوئے آزاد کیا تھا۔ اس زمانے میں غلاموں کا عام قانون یہ ہوتا تھا کہ اگر کسی کو آزاد کر دیا جائے اور یہ آزاد شدہ غلام اگر مر جائے تو اس کے مال کا حصہ دار،جو وارث ہوتا تھا وہ آزاد کرنے والا شخص ہوا کرتا تھا اورسَائِبَہ کرتے ہوئے لکھا ہے یعنی آزاد کیا۔سائبہ اس غلام کو کہتے ہیں جس کا مالک اسے آزاد کر دے اور اس کو فی سبیل اللہ چھوڑ دے۔ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اب اس غلام کے مرنے کے بعد اس کے مال پر آزاد کرنے والے کا کوئی حق نہیں ہے۔ حضرت سالمؓ کو حضرت اَبُوحُذَیْفَہ نے اپنا مُتَبَنّٰی بنا لیا تھا ۔ اس کے بعد آپؓ کو سَالِم بن اَبِی حُذَیْفَہ بھی کہا جانے لگا۔ حضرت ابوحُذَیْفَہ نے اپنی بھتیجی فَاطِمَہ بنتِ وَلِید سے ان کی شادی بھی کروا دی تھی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 63 ‘‘سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ’’ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
(ماخوذ از المستدرک علی الصحیحین (مترجم) جلد 4 صفحہ 434 (حاشیہ )اشتیاق اے مشتاق پرنٹرز لاہور 2012ء)

کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اُدۡعُوۡہُمۡ لِاٰبَآئِہِمۡ ہُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰہِۚ فَاِنۡ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ فَاِخۡوَانُکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ مَوَالِیۡکُمۡ ؕ وَ لَیۡسَ عَلَیۡکُمۡ جُنَاحٌ فِیۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِہٖ ۙ وَ لٰکِنۡ مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا۔ (الاحزاب:6) ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ چاہیے کہ ان لے پالکوں کو ان کے باپوں کا بیٹا کہہ کر پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ فعل ہے اور اگر تم کو معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو (بہرحال) وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دینی دوست ہیں اور جو تم غلطی سے پہلے کر چکے ہو اس کے متعلق تم پر کوئی گناہ نہیں لیکن جس بات پر تمہارے دل پختہ ارادہ کربیٹھے ہوں (وہ قابل سزا ہے) اور اللہ(ہر توبہ کرنے والے کے لیے) بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس کے بعد حضرت سَالِم مَولیٰ اَبُوحُذَیْفَہؓ کہلانے لگے۔ پہلے ابوحُذَیْفَہؓ کے بیٹے کہلاتے تھے لیکن بعد میں جب ان کو آزاد کر دیا تو پھر یہ آزاد کردہ غلام یا دوست بن گئے۔ محمد بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوحُذَیْفَہؓ اور حضرت سَالِم مَولیٰ ابی حُذَیْفَہؓ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو دونوں نے حضرت عَبَّاد بن بِشرؓ کے گھر قیام کیا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 62 ‘‘ابو حُذَیْفَہ بن عتبہ’’ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت ابن عمر ؓسے مروی ہے کہ جب اوّلین مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تو انہوں نے قبا کے قریب عُصْبَہ کے مقام پر قیام کیا۔ حضرت سالِمؓ ان کی امامت کروایا کرتے تھے کیونکہ وہ ان سب سے زیادہ قرآن کریم جانتے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 64 ‘‘سَالِم مولیٰ ابو حُذَیْفَہ’’دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

مسعود بن ھُنَیْدَہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب قبا میں قیام کیا ۔وہاں ایک مسجد دیکھی جس میں صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے اور حضرت سَالِم مولیٰ ابوحُذَیْفَہؓ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 4 صفحہ 233 دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت سَالِم ؓقرآن کریم کے قاری تھے ۔ آپؓ ان چار صحابہ میں شامل تھے جن کے بارے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرو۔

(اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 382 ‘‘سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ’’دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان 2003ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ‘‘علم و فضل میں بھی بعض آزاد شدہ غلاموں نے بہت بڑا رتبہ حاصل کیا۔ چنانچہ سَالِم بن مَعْقِلْ، مَوْلیٰ اَبِی حُذَیْفَہؓ خاص الخاص علماء صحابہ میں سے سمجھے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کی تعلیم کے لیے جن چار صحابیوں کو مقرر فرمایا تھا ان میں سے ایک سالمؓبھی تھے۔’’(سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزاد ہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 399)

پھر اس بارے میں تاریخ کے مطابق مزید بیان کرتے ہیں کہ ‘‘سَالِم بن مَعْقِلؓ …… جو ابوحُذَیْفَہؓ بن عُتْبَہ کے معمولی آزاد کردہ غلام تھے مگر وہ اپنے علم و فضل میں اتنی ترقی کر گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چار صحابیوں کو قرآن شریف کی تعلیم کے لیے مسلمانوں میں مقرر فرمایا تھا اور اس معاملہ میں گویا انہیں اپنا نائب بننے کے قابل سمجھا تھا ان میں ایک سَالِمؓ بھی تھے۔’’

(سیرت خاتم النبیین از حضرت صاحبزاد ہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 403)

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان چار صحابہ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرو۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ نمبر ایک، پھر حضرت سَالِم مَولیٰ اَبُو حُذَیْفَہؓ ،نمبر تین حضرت اُبَیّ بن کَعْبؓ اور نمبر چار حضرت مُعَاذ بِن جَبَلؓ۔
(صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبی باب مناقب سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ حدیث 3758)

ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓکو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیر سے آنے کا سبب دریافت فرمایا تو کہنے لگیں کہ ایک قاری نہایت ہی خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کر رہا ہے اس کی تلاوت سننے لگ گئی تھی جس وجہ سے دیر ہو گئی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اوڑھی اور باہر نکل کر دیکھا تو حضرت سالمؓتلاوت کر رہے تھے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ جس نے تم جیسے قاری کو میری امت میں سے بنایا۔

(اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 383 سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

غزوہ اُحد کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو زخمی ہوئے تو آپؐ کے زخم دھونے کی سعادت بھی حضرت سَالِمؓ کو نصیب ہوئی۔ قَتَادَہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اور دانت (جو کچلی اور سامنے کے دانتوں کے درمیان تھے) زخمی ہو گئے تھے۔ حضرت سَالِم مولیٰ ابو حُذَیْفَہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم دھو رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمۡرِ شَیۡءٌ اَوۡ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ اَوۡ یُعَذِّبَہُمۡ فَاِنَّہُمۡ ظٰلِمُوۡنَ۔ (اٰلِ عمران:129)یعنی تیرے پاس کچھ اختیار نہیں خواہ ان پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جائے یا انہیں عذاب دے۔ وہ بہرحال ظالم لوگ ہیں۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 2 صفحہ 35 ‘‘من قتل من المسلمین یوم احد’’دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت سالمؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک ایسی قوم لائی جائے گی۔ یہ بڑے غور سے سننے والی بات ہے کہ قیامت کے دن ایک ایسی قوم لائی جائے گی جن کے پاس نیکیاں تہامہ کے پہاڑوں (تہامہ جو تھا ساحل عرب کے ساتھ ایک نشیبی علاقہ ہے جو سیناء سے شروع ہو کر عرب کے مغربی اور جنوبی جانب واقع ہے۔ تِہَامہ کے پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو خلیج قُلْزَم سے شروع ہوتا ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ ان کی نیکیاں تہامہ کے پہاڑوں) کی مانند ہوں گی لیکن جب انہیں پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال ضائع کر دے گا اور پھر انہیں آگ میں ڈال دے گا۔ اس پر حضرت سالمؓنے عرض کی کہ یا رسولؐ اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ ہمیں ایسے لوگوں کی نشاندہی فرما دیں تا کہ ہم انہیں پہچان سکیں۔ قَسم ہے اُس ذات کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں اپنے بارے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں بھی ان میں شامل نہ ہو جاؤں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسے لوگ ہوں گے ، (غور سے سننے والی بات ہے کہ ایسے لوگ ہوں گے) جو روزے رکھتے ہوں گے، نمازیں پڑھتے ہوں گے اور رات کو بہت تھوڑا سوتے بھی ہوں گے، نفل بھی پڑھتے ہوں گے لیکن جب کبھی ان کے سامنے حرام پیش کیا جائے گا وہ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اس کے باوجود دنیاوی لالچوں میں پڑ جائیں گے اور یہ نہیں دیکھیں گے حرام کیا ہے،حلال کیا ہے۔ اس وجہ سے اللہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔

(اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 6 صفحہ 851 زیر لفظ تہامہ، دانش گاہ پنجاب لاہور 2005ء)
(معرفة الصحابہ لابی نعیم جلد 2 صفحہ 483‘‘سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ’’حدیث نمبر 3456 ۔ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2002ء)

حضرت ثَوْبَانؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَیں اپنی امت میں کچھ ایسے لوگوں کے متعلق جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جتنی چمکتی ہوئی نیکیوں کے ساتھ آئیں گے لیکن اللہ عزّوجل ان کو بے وقعت قرار دے کر ہوا میں بکھیر دے گا ۔ اس پر مزید ایک راوی کا ایک بیان ہے۔ ثَوْبَانؓ نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہمارے لیے ان کی کوئی نشانی بتا دیں۔ ہمیں ان کے متعلق وضاحت سے بتادیں تا کہ ہم ان میں سے نہ ہوجائیں اور ہمیں علم ہی نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہی بھائی ہیں، تمہاری ہی جلدوں کے سے ہیں یعنی تمہاری جنس کے لوگ ہیں، ایسے ہی رنگ ہیں ۔وہ رات کے وقت میں سے عبادت وغیرہ کے لیے بھی ایسے ہی وقت لیتے ہوں گے جیسے تم لیتے ہو، عبادت گزار بھی ہوں گے لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب اللہ کے محارم کی طرف جاتے ہیں تو اس کی بے حرمتی اور پامالی کرتے ہیں۔

(سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکرالذنوب حدیث نمبر4245)

جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، حرام فرمایا ہے ان کو پھر احساس ہی نہیں ہوتا کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ہے اور پھر دنیا ان پر غالب آ جاتی ہے۔ پس یہ ا یک مستقل سوچنے والا اور بڑے خوف کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہمیشہ اپنا جائزہ لینے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔

حضرت عَبْدُاللّٰہ بِن عُمَرؓ کے بیٹوں کا نام سَالِم، وَاقِد اور عَبْدُاللّٰہ تھا۔ جو انہوں نے بعض کبار صحابہ کے نام پر رکھے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام سَالِم بھی تھا جو سَالِم مولیٰ ابوحُذَیْفَہؓ کے نام پر رکھا گیا۔ سعید بن المُسَیَّبْ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللّٰہِ بن عُمَرؓ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو میں نے اپنے بیٹے کا نام سَالِم کیوں رکھا ہے؟ کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ میں نہیں جانتا۔ اس پر فرمانے لگے کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام حضرت سَالِم مولیٰ ابوحُذَیْفَہؓ کے نام پر سَالِم رکھا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام وَاقِد کیوں رکھا ہے؟میں نے کہا نہیں۔ نہیں جانتا تو کہنے لگے حضرت وَاقِدْ بن عبداللّٰہ یَرْبُوْعِیؓ کے نام پر رکھا ہے۔ پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام عبداللہ کیوں رکھا ہے۔ جب میں نے کہا کہ نہیں جانتا تو کہنے لگے کہ حضرت عبداللہ بن رَوَاحَہؓ کے نام پر عبداللہ رکھا ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 4 صفحہ 119 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

تو صحابہ جو بڑے کبار صحابہ تھے ان کی بڑی قدر کیا کرتے تھے اور اپنے بچوں کے نام کسی خاص مقصد سے پرانےبزرگوں کے ناموں پر رکھا کرتے تھے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عَمروؓسے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ کچھ لوگ گھبرا گئے تھے۔ جنگ کی بڑی شدت ہوئی تو کچھ لوگ گھبرا گئے۔ کہتے ہیں کہ میں اپنا ہتھیار لے کر نکلا تو میری نظر حضرت سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہؓ پر پڑی۔ ان کے پاس بھی اپنے ہتھیار تھے۔ چہرے پُروقار اور سکینت تھی۔ کوئی گھبراہٹ نہیں تھی اور وہ پیش قدمی کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ میں اس نیک آدمی کے پیچھے چلوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور آپؐ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی کی حالت میں نکلے اور فرمانے لگے کہ لوگو ! یہ کیسی گھبراہٹ اور کیسا خوف ہے !کیا تم اس بات سے عاجز آ گئے کہ جیسی ہمت ان دونوں مومنوں نے دکھائی ہے تم بھی دکھاؤ۔(التاریخ الکبیر جلد 6 صفحہ 127 باب العین حدیث 8538 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ء)کوئی گھبراہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ جس طرح کہ حضرت سَالِم اور ساتھ ان کے یہ تھے جنہوں نے عہد کیا اور بغیر کسی گھبراہٹ کے اس کڑے وقت میں بھی باقاعدہ ڈٹے رہے۔

ابنِ اسحاق بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے ارد گرد علاقوں میں چھوٹے چھوٹے لشکر بھیجے تا کہ وہ ان قبائل کو اسلام کی طرف بلائیں لیکن ان لشکروں کو جنگ کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ تبلیغ کرنے کے لیے بھیجا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ جنگ نہیں کرنی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالدؓ بن ولید کو قبیلہ بَنُو جَذِیْمَہ کی طرف دعوت اسلام کے لیے بھیجا۔ جب انہوں نے حضرت خالدکو دیکھا تو ہتھیار اٹھا لیے۔ حضرت خالدؓ نے ان سے کہا لوگ مسلمان ہو چکے ہیں، اب ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں سے ایک شخص جَحْدَمنے کہا کہ میں ہرگز ہتھیار نہیں ڈالوں گا ۔یہ خالد ہے۔ مجھے اعتبار نہیں۔ اللہ کی قَسم! ہتھیار ڈالنے کے بعد قید ہونا ہے اور قید ہونے کے بعد گردن اڑایا جانا ہے۔ اس کی قوم کے بعض افراد نے اسے پکڑ لیا اور کہا اے جَحْدَم! کیا تُو چاہتا ہے کہ ہمارا خون بہایا جائے۔ یقیناً لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور جنگ ختم ہو چکی ہے۔ پھر انہوں نے اس سے ہتھیار چھین لیے اور خود بھی ہتھیار ڈال دیے۔ جب انہوں نے ہتھیار رکھ دیے تو اس کے بعد پھر حضرت خالدؓ نے ان میں سے بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو قیدی بنا لیا اور ہم میں سے ہر آدمی کو اس کا قیدی سپرد کر دیا اور پھر اگلے دن یہ حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ حضرت سالِم مولیٰ ابو حُذَیْفَہؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے کہا خدا کی قَسم! میں اپنے قیدیوں کو قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی ایسا کرے گا۔

ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ان میں سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور تمام واقعہ بیان کر دیا۔ آپؐ نے دریافت فرمایا کہ کیا کسی نے خالدؓ کے اس طرزِ عمل کو ناپسند بھی کیا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آیا کہ اس طرح ہو۔ انہوں نے پوچھا ناپسند کیا تھا؟ انہوں نے عرض کی ۔جی ہاں سفید رنگ کے ایک میانہ قد شخص نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ خالد نے انہیں ڈانٹا تو وہ خاموش ہو گئے۔ ایک دوسرے آدمی نے جن کا قد طویل تھا اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو خالد نے ان سے بھی جھگڑا کیا۔ دونوں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اس پر حضرت عمر بن خطابؓ نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں ان دونوں کو جانتا ہوں۔ ایک میرا بیٹا عبداللہ ہے اور دوسرے سَالِم مُولیٰ اَبُوحُذَیْفَہؓ ہیں۔ ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو بلا کر فرمایا کہ ان لوگوں کی طرف جاؤ اور معاملہ دیکھو کہ کیا معاملہ ہوا ہے ؟کیوں ایسا ہوا ہے؟ اور جاہلیت والے معاملے کو اپنے قدموں تلے مسل دو۔ یہ بالکل جہالت کی باتیں ہوئی ہیں۔ اس کو بالکل ختم کر دو۔ چنانچہ حضرت علیؓ اس مال کو لے کر گئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیا تھا۔ حضرت علیؓ کو صرف بھیجا نہیں بلکہ بہت سا مال ساتھ دے کر بھیجا تھا اور آپؐ نے ان لوگوں کا جو بھی جانی اور مالی نقصان ہوا تھا اس کی دیت ادا کی۔ مال اس لیے بھیجا تھا کہ غلط طریقے سے جو جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اس کی دیت ادا کی جائے۔ اس کے بعد بھی حضرت علیؓ کے پاس کچھ مال بچ رہا تو آپؓ نے ان لوگوں سے پوچھا کیا کسی جانی اور مالی نقصان کی دیت ادا ہونا رہ گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ بڑے انصاف سے سب کچھ ہو گیا۔ کچھ نہیں رہا۔ اس پر حضرت علیؓ نے کہا کہ میں پھر بھی اس احتیاط کے ماتحت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رہتی ہے یہ مال تمہیں دے دیتا ہوں کیونکہ جو وہ جانتے ہیں وہ تم لوگ نہیں جانتے۔ چنانچہ آپؓ ان کو یہ مال دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹے اور آپؐ کو اس کی اطلاع دے دی کہ اس طرح میں کر آیا ہوں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے بخوبی اس کام کو انجام دیا ہے۔ پھر آپؐ نے قبلہ رخ ہو کر دونوں ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ یہ دعا کی کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَبْرَأُ اِلَیْکَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدُ ابْنُ الْوَلِیْد۔ کہ اے اللہ! میں اس سے جو خالد بن ولید نے کیا ہے تیرے حضور براء ت کا اظہار کرتا ہوں۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 557-558 باب مسیر خالد بن الولید بعد الفتح الیٰ بنی جذیمہ۔۔۔الخ ۔ دار ابن حزم بیروت 2009ء)(صحیح البخاری کتاب المغازی باب بعث النبی ﷺ خالد بن ولید الیٰ بنی جذیمہ حدیث 4339)

یہ بڑا غلط کام ہوا ہے۔ پس اپنوں نے بھی اگر کوئی ظلم کیا ہے یا غلطی کی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور روکا بلکہ اس کا مداوا بھی کیا۔ ان کو دیت بھی ادا کی اور مظلوم کی تسکین کے سامان بہم پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ باوجود اس کے کہ وہ لوگ دشمن بھی تھے جنہوں نے ہتھیار اٹھائے تھے لیکن آپؐ نے پسند نہیں کیا کہ اس طرح ہو۔ یہ تھا آپؐ کے انصاف کا معیار۔
ابراہیم بن حَنْظَلَہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے روز حضرت سالِم مولیٰ ابو حُذَیْفَہؓ سے کہا گیا کہ آپؓ جھنڈے کی حفاظت کریں جبکہ بعض نے کہا کہ ہمیں آپؓ کی جان کا ڈر ہے۔ اس لیے ہم آپؓ کے علاوہ کسی اَور کے سپرد جھنڈا کرتے ہیں۔ اس پر حضرت سالمؓنے کہا تب تو میں بہت بُرا حاملِ قرآن ہوں۔ یعنی مجھے تو قرآن کریم کا بڑا علم ہے اور اس علم رکھنے کے باوجود اگر میں اس پر عمل کرنے والا نہیں تو پھر یہ بہت بُری بات ہے یا یہ کہ اگر جان کے خوف سے ایک اہم فریضہ جو ہے اور قرآن کریم کا جو حکم ہے اس سے میں بچنے والا بنوں تو ایسے علمِ قرآن کا پھر کیا فائدہ؟ بہرحال لڑائی کے دوران جب آپؓ کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو آپؓ نے اپنے بائیں ہاتھ میں جھنڈا تھامے رکھا اور جب بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا تو جھنڈے کو گردن میں دبا لیا اور یہ پڑھنے لگے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۔ (ال عمران:145)۔وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ۔ (ال عمران:147)۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم محض اللہ کے ایک رسولؐ ہیں اور کتنے ہی نبی تھے جن کے ساتھ مل کر بہت سے رَبَّانی لوگوں نے قِتال کیا۔ جب حضرت سالِمؓ گر گئے تو ساتھیوں سے پوچھا کہ ابوحُذَیْفَہؓ کا کیا حال ہے۔ لوگوں نے جواب دیا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں۔ پھر ایک اور آدمی کا نام لے کر پوچھا کہ اس نے کیا کیا تو جواب ملا کہ وہ بھی شہید ہو گئے ہیں ۔اس پر حضرت سالمؓ نے کہا کہ مجھے ان دونوں کے درمیان میں لٹا دو۔ جب آپؓ شہید ہو گئے تو بعد میں حضرت عمرؓ نے ان کی میراث ثُبَیْتَہ بِنت یَعَارْ کے پاس بھیجی۔ انہوں نے حضرت سالِمؓ کو آزاد کیا تھا لیکن انہوں نے اس میراث کو قبول نہ کیا اور ساتھ یہ کہا کہ میں نے ان کو سَائِبَہ بنا کر یعنی محض خدا کی راہ میں آزاد کیا تھا۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کی میراث کو بیت المال میں جمع کروا دیا۔

(اسد الغابہ جلد 2 صفحہ 384 سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

محمد بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں جب مسلمان منتشر ہو گئے تو حضرت سالمؓ نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح نہیں کیا کرتے تھے یعنی بھاگ نہیں جایا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے لیے ایک گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہو گئے ۔ اس دن آپؓ کے پاس مہاجرین کا جھنڈا تھا ۔اس کے بعد آپؓ بہادری سے لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔ آپؓ جنگِ یمامہ جو 12؍ہجری میں ہوئی تھی اس میں شہید ہوئے اور یہ واقعہ حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ طبقات الکبریٰ کا یہ حوالہ ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 64-65 سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت زید بن ثابتؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت سَالِمؓ شہید ہوئے تو لوگ کہتے تھے کہ گویا قرآن کا ایک چوتھائی حصہ چلا گیا۔(المستدرک علی الصحیحین جلد 3صفحہ 251-252 کتاب معرفة الصحابہ باب ذکر مناقب سَالِم مولیٰ ابی حُذَیْفَہ حدیث 5004، دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)یعنی جن چار علماء کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا کہ ان سے قرآن سیکھو، ان میں سے ایک چلا گیا۔

اگلے جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت عِتْبَان بن مالِکؓ۔ حضرت عِتْبَان بن مالِکؓکا تعلق خزرج کی شاخ بنو سالِم بن عَوف سے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کے اور حضرت عمرؓ کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی۔ آپؓ غزوۂ بدر، احد اور خندق میں شامل ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں آپؓ کی بینائی جاتی رہی تھی۔ آپؓ کی وفات حضرت معاویہؓ کے دورِ حکومت میں ہوئی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3 صفحہ 415-416 عِتْبَان بن مالک مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں نزول فرمایا تو حضرت عِتْبَان بِن مالِکؓنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ کر آپؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ اُن کے یہاں قیام کریں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو کہ یہ اس وقت مامور ہے یعنی جہاں خدا کا منشا ہو گا وہاں یہ خود بیٹھ جائے گی۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 228-229 اعتراض القبائل لہ تبغی نزولہ عندھا مطبوعہ دار ابن حزم بیروت 2009ء)(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 267-268)

حضرت عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ مَیں اور انصار میں سے میرا ایک پڑوسی بنو اُمَیَّہ بن زَید، (بنو اُمَیَّہ بن زید بستی کا نام ہے) میں رہتے تھے اور یہ مدینہ کے ان گاؤں میں سے ہے جو آس پاس اونچی جگہ پر واقع تھے اور ہم باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے تھے۔ ایک دن وہ جاتا تھا اور ایک دن میں جاتا تھا اور جب میں جاتا تھا تو میں اس دن کی وحی وغیرہ کی خبریں اس کے پاس لاتا اورجب وہ جاتا تھا تو وہ ایسے ہی کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن گیا اور آ کر میرے دروازے کو زور سے کھٹکھٹایا اور میرے بارے میں پوچھا کیا وہ یہیں ہیں؟ اس پر میں گھبرایا اور باہر نکلا تو اس نے کہا بہت ہی بڑا حادثہ ہوا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا۔ یہ سن کر مَیں حفصہؓ کے پاس گیا تو دیکھتا ہوں کہ وہ رو رہی ہیں۔ میں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟ کہنے لگیں کہ مَیں نہیں جانتی۔ پھر مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور میں نے کھڑے کھڑے پوچھا کیا آپؐ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ فرمایا نہیں۔ اس پر میں نے کہا اللہ اکبر۔

(صحیح بخاری کتاب العلم باب التناوب فی العلم حدیث 89)

روایات کے مطابق بعض جگہ تفصیل بھی ملتی ہے۔ لمبا واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک مہینے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا تھا اور نہ صرف بیویوں سے بلکہ صحابہ سے بھی علیحدہ ہو گئے تھے۔ اس وجہ سے یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ طلاق دے دی ہے۔ کسی وجہ سے ناراضگی ہے۔ بہرحال جو بھی وجوہات تھیں وہ اَور تھیں لیکن یہ وجہ نہیں تھی۔

حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے بخاری کی حدیث کی شرح میں اس بات سے کہ حضرت عمرؓ نے بیان فرمایا کہ ایک دن میں جاتا تھا اور ایک دن میرے دوسرے ساتھی جاتے تھے لکھا ہے کہ ‘‘اگر کسی کو علم سیکھنے کے لیے پوری فراغت نہ ملتی ہو تو وہ کسی کے ساتھ باری مقرر کر سکتا ہے جیسا کہ حضرت عمرؓ نے حضرت عِتْبَانؓ بن مالِک انصاری کے ساتھ باری مقرر کی تھی۔ صحابہؓ کے شوق کا اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ کام کاج چھوڑ کر تین چار میل سے آ کر سارا دن اسی کام میں صرف کر دیتے۔’’

(صحیح بخاری کتاب العلم باب التناوب فی العلم حدیث 89۔ جلد 1 صفحہ 165 از نظارت اشاعت ربوہ)

لیکن علامہ عینی بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں تحریر کرتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ پڑوسی حضرت عِتْبَان بن مالکؓتھے لیکن صحیح یہ ہے کہ حضرت عمر کے پڑوسی اَوْس بن خَوَلِی تھے۔

(ماخوذاز عمدۃ القاری جلد 20صفحہ256 کتاب النکاح باب موعظۃ الرجل ابنتہ بحال زوجھا۔ حدیث 5191۔دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ء)

بہرحال حضرت عمرؓ نے تو اس کی روایت میں جو بیان فرمایا وہی بیان ہوتا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عِتْبَان بن مالِکؓنے جب ان کی بینائی چلی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز باجماعت سے تَخَلُّف کی اجازت چاہی کہ آ نہیں سکتا،مسجد میں نہیں آ سکتا مجھے اجازت دی جائے۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم اذان کی آوازسنتے ہو؟ حضرت عِتْبَانؓ نے کہا جی ۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس کی اجازت نہیں دی۔ یہ مشہور حدیث ہے۔ اکثر پیش کی جاتی ہے۔ لیکن اس کی کچھ تفصیل بھی ہے۔ صحیح بخاری کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عِتْبَانؓ کو گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ شروع میں منع کیا پھر اجازت دے دی۔ چنانچہ بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عِتْبَان بن مَالِکؓ اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے اور وہ نابینا تھے اور یہ کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسولؐ اللہ! اندھیرا اور سیلاب ہوتا ہے۔ بارش زیادہ ہو جاتی ہے۔ اندھیرا ہوتا ہے۔ نیچے وادی میں پانی بہ رہا ہوتا ہے۔میں نابینا ہوں۔ اس لیے یا رسولؐ اللہ! میرے گھر میں نماز پڑھیے جسے میں نمازگاہ بناؤں۔ ایک دن حاضر ہوئے اور یہ کہا میرا یہاں آنا مشکل ہو جاتا ہے آپؐ میرے گھر آئیں اور میرے گھر میں مَیں نے ایک جگہ بنائی ہے وہاں نماز پڑھ لیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا تم کہاں پسند کرتے ہو کہ مَیں نماز پڑھوں؟ انہوں نے گھر میں ایک طرف اشارہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ نماز پڑھی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد3 صفحہ 415 عِتْبَان بن مالک، دارالکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
(صحیح بخاری کتاب الاذان باب الرخصۃ فی المطر و العلۃ ان یصلی فی رحلہ حدیث 667)

پس اگر خاص حالات میں گھر میں نماز کی اجازت دی تو وہاں بھی باقی روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؓ لوگوں کو جمع کر کے وہاں نماز پڑھایا کرتے تھے کیونکہ موسم کی سختی کی وجہ سے ، راستے کی روک کی وجہ سے لوگ مسجد میں جا نہیں سکتے تھے ۔تو عذر کوئی نہیں۔اگر بعد میں اجازت دی بھی تھی تو اس لیے کہ وہاں ان کے گھر کے ایک حصہ میںباجماعت نماز ہو۔ چنانچہ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب صحیح بخاری کی کتاب الاذان کے بَابٌ الرُّخْصَۃُ فِیْ الْمَطَرِ وَالْعِلَّۃِ اَنْ یُّصَلِّیَ فِی رَحْلِہٖ یعنی بارش یا کسی اور سبب سے اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھنے کی اجازت کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں کہ امام موصوف (یعنی امام بخاری )معذوری کے وہ حالات پیش کر رہے ہیں جن میں باجماعت نماز پڑھنے سے مستثنیٰ کیا جانا چاہیے تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی گھر میں تنہا پڑھنے کی اجازت نہیںدی، (یہ اِذن نہیں دیا کہ گھر میں اکیلے پڑھ لیا کرو )حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ حتی الامکان احکام کے نفاذ میں سہولت مدّنظر رکھتے تھے۔ یہی ہوتا تھا کہ دین کے معاملے میں جہاں آسانی پیدا ہو سکتی تھی وہاں آسانی پیدا کی جائے لیکن آپؐ نے ان کو علیحدہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی ۔اجازت دی بھی تو اس صورت میں کہ باجماعت پڑھنی ہے۔

پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عِتْبَانؓ نابینا تھے۔ راستے میں نالہ بہتا تھا اور بعض روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مانگی تو آپؐ نے انہیں اجازت دی مگر باجماعت نماز پڑھنے کی صورت میں۔یہ فرمایا کہ باجماعت نماز پڑھو گے تو اجازت ہے۔ پھر آپؓ لکھتے ہیں کہ اگر نماز فریضہ تنہا پڑھی جا سکتی تھی تو آپؐ حضرت عِتْبَانؓ کو معذور سمجھ کر گھر میں تنہا نماز پڑھنے کی ضرور اجازت دیتے۔

(ماخوذ از صحیح بخاری جلد2 صفحہ 66 کتاب الاذان باب الرخصۃ فی المطر و العلۃ ان یصلی فی رحلہ حدیث 667۔ از نظارت اشاعت ربوہ)

پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں بھی اگر فاصلے زیادہ ہیں ،سواری نہیں ہے، وقت نہیں ہوتا تو جس طرح کہ کئی دفعہ کہہ چکا ہوں احمدیوں کو بھی چاہیے کہ اپنے گھروں میں نماز سینٹر بنائیں اور ہمسائے اکٹھے ہو کر وہاں باجماعت نماز پڑھا کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ان احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

اب میں بعض فوت شدگان کے بارے میں بتاؤں گا جن کا ابھی جنازہ پڑھا جائے گا ۔ ان میں سے ایک ربوہ کے مکرم غلام مصطفی اعوان صاحب ہیں۔ 16؍مارچ کو 78؍ سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنّٰا لِلّٰہِ وَاِنّٰا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیدائشی احمدی تھے۔ ان کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا دیوان بخش صاحب کے ذریعہ سے آئی۔ مرحوم پنجوقتہ نمازوں کے پابند، تہجد گزار، تقویٰ شعار، ہمدرد، خیر خواہ، خلیق، ملنسار، سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ بڑے دعا گو تھے۔ مہمان نواز تھے۔ غریب پرور تھے۔ صلہ رحمی کرنے والے تھے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے، نیک، مخلص انسان تھے۔ نظامِ جماعت اور خلافت سے گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔ ملازمت کے سلسلے میں یہ سعودی عرب میں بھی رہے اور سعودی عرب میں رہنے کے دوران ان کو نو مرتبہ حج بیت اللہ کی توفیق ملی اور بے شمار مرتبہ عمرے کرنے کی توفیق ملی۔ آپ کو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں تعمیراتی کام کرنے کی بھی توفیق ملی۔ اللہ کے فضل سے موصی تھے اور ایک دن اچانک جب آپ کی طبیعت خراب ہو گئی تو ان کو پہلی فکر یہی تھی کہ میں نے حصہ جائیداد ادا کرنا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے صحت دی تو فوری طور پر اپنی کچھ جائیداد بیچ کر اپنا حصہ جائیداد ادا کیا۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا احمد مرتضیٰ ہے جو جرمنی میں ہے۔ چار بیٹیاں ہیں۔دو داماد محمد جاوید صاحب مبلغ سلسلہ زیمبیا ہیں اور جمیل احمد صاحب تبسم مبلغ رشیا ہیں اور بطور واقف زندگی وہاں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ مرحوم کی بیٹیاں جو ان مبلغین سے بیاہی ہوئی ہیں اور اپنے واقف زندگی خاوندوں کے ساتھ بیرونِ ملک ہیں اور بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے والد کی وفات کے وقت وہاں جا نہیں سکیں اور یہ صدمہ بھی ان کو پردیس میں برداشت کرنا پڑا ۔ اللہ تعالیٰ ان کو صبر اور حوصلے سے برداشت کی توفیق دے اور مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔

دوسرا جنازہ مکرمہ امۃ الحئی صاحبہ اہلیہ محمد نواز صاحب کاٹھگڑھی کا ہے جن کی 15؍مارچ کو وفات ہوئی۔ اِنّٰا لِلّٰہِ وَاِنّٰا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کا تعلق قادیان کے نواحی گاؤں بگول سے تھا۔ ابھی دو سال کی تھیں کہ آپ کے والد کا انتقال ہو گیا اور آپ کے تایا محمد ابراہیم نے ان کی پرورش کی۔ مرحومہ پیدائشی احمدی تھیں۔ ان کے خاندان میں احمدیت 1903ء میں آئی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد اپنے تایا کے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے جڑانوالہ آ کر رہائش اختیار کی اور پھر وہاں سے 1981ء میں انہوں نے بچوں کی تعلیم وغیرہ کے لیے ربوہ ہجرت کی اور آخر دم تک ربوہ میں ہی قیام کیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا۔ ایک بیٹی ان کی چھوٹی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔ اپنی اولاد میں سے بچوں کو وقف کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور پھر اولاد دراولاد یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بڑے بیٹے رانا فاروق احمد صاحب نظارت دعوت الی اللہ میں مربی سلسلہ ہیں۔ چھوٹے حافظ محمود احمد طاہر جامعہ احمدیہ تنزانیہ میں بطور استاد خدمت بجا لا رہے ہیں۔ والدہ کے جنازے کے لیے پاکستان نہیں جا سکے تھے۔ اسی طرح ایک پوتا مربی سلسلہ ہے۔ ایک نواسہ مربی سلسلہ گھانا میں ہے۔ایک پوتا اور ایک پوتی حافظ قرآن ہیں اور بہت ساری پوتیوں اور نواسیوں کی شادیاں انہوں نے مربیان میں، واقفین زندگی میں کی ہیں۔

ان کے بیٹے حافظ محمود بیان کرتے ہیں کہ ہمارے والدین ساری زندگی خدمتِ سلسلہ کو ترجیح دیتے رہے اور ہمیں نظام جماعت اور خلافت احمدیہ سے وابستہ رکھنے اور نماز باجماعت کے پابند بنانے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہتے تھے۔ تبلیغ ِاحمدیت کا شوق بھی بہت تھا۔ والدہ کی طرف سے ان کی والدہ کے تمام بھائی اور بہنیں غیر احمدی تھے۔ ان کو حتی الوسع تبلیغ کیا کرتی تھیں۔ اسی تبلیغ کے نتیجہ میں ان کے ایک بھائی عبدالحمید صاحب کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی اور ان کی اولاد بھی اللہ کے فضل سے خادمِ سلسلہ ہے۔ شور کوٹ میں جب یہ تھیں تو 53ء اور 74ء کے حالات جماعت پر بڑے سخت تھے۔ انہوں نے یہ وقت بڑی جرأت اور دلیری سے گزارا اور کسی قسم کا کوئی خوف سامنے نہیں آنے دیا۔ یہ لکھتے ہیں کہ 74ء کی شورش کے دوران ہی، ایک دن گاؤں کے نمبر دار کی بیوی ہمارے گھر میں آئی اور نمبر دار کا پیغام دیا کہ احمدیوں کے گھروں پر حملہ کرنے کے لیے جلوس آ رہا ہے۔ اس لیے مرد باہر کھیتوں میں چھپ جائیں اور عورتیں ہمارے گھر آ جائیں مگر ہماری والدہ صاحبہ نے جواب دیا کہ ہم گھر میں ہی رہیں گی خواہ مریں یا جئیں۔ اور انہی دنوں ایک دفعہ ان کے گھر پہ جلوس آ گیا تو گھر میں مرد کوئی نہیں تھا ۔ صرف بہنیں تھیں اور ان کی والدہ تھیں ۔یہ کہتے ہیں کہ جلوس باہر تھا۔ ہاتھ میں ایک کلہاڑی لے کر گھر کے صحن میں ٹہلتی رہیں اور باہر سے کسی نے آواز دی کہ ان کے گھر پر حملہ کرو تو انہوں نے اندر سے آواز دی کہ اگر کوئی بھی دیوار پھلانگ کے اندر آیا تو میں تمہارا سر تمہارے جسم سے علیحدہ کر دوں گی اور اسی طرح کروں گی جس طرح حضرت صفیہؓ نے سر اٹھا کے باہر پھینک دیا تھا۔ بہرحال یہ جرأت دیکھ کے مخالفین وہاں سے چلے گئے۔ 71ء میں ان کے ایک بیٹے جو فوج میں تھے جنگی قیدی تھے ،فوج میں تھے یا ویسے سرکاری ملازم تھے بہرحال جنگی قیدی تھے۔ تین سال کا عرصہ وہ جنگی قیدی رہے ۔بڑے صبر سے انہوں نے وہ وقت گزارا اور ان کے واپس آتے ہی پہلے انہیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کیا۔ کہتے ہیں ہماری والدہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا اور ہمیشہ گھر میں باتیں ہوتی تھیں۔ یہی کہا کرتی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات سناؤ۔ آخری وقت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی باتیں کرتی تھیں کہ وہ آ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ۔مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی اور نسلوںکو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button