متفرق شعراء

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

کُل جہانوں کے مالک یگانہ خدا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

یہ گناہوں سے اب ہو گئی ہے سیاہ

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

ہر طرف ظلم ہی ظلم رقصاں ہے آج

امن کی فاختہ چور زخماں ہے آج

ہیں زمیں تا فلک سسکیاں جا بجا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

تیرے بندے بہت آج مجبور ہیں

غمزدہ بے سہارا ہیں رنجور ہیں

المدد المدد المدد اے خدا!

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

تیری مخلوق کا اب برا حال ہے

اس کے پیچھے پڑا آج دجّال ہے

اپنی قدرت دکھا خَلق کو خود بچا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

پوری دنیا میں اسلام بدنام ہے

ہر جہت سے مسلمان ناکام ہے

اپنے اعجاز سے ان کی بگڑی بنا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

ظلم میں وہ جو حد سے ہیں آگے بڑھے

اپنی قدرت سے ہاتھ انکے اب روک دے

اُن کو عبرت بنا یا انہیں رَہ دکھا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

ایک مردِ خدا جو ہے پیارا ترا

جس کو سونپی ہے تُو نے ہی سیفِ دعا

اس کی خاطر ہی تُو اپنا جلوہ دکھا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

امن اور پریم کی رَو اب ایسی چلے

نفرت و ظلم کی آگ پھر نہ جلے

تو دلوں میں محبت کا پودا لگا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

تیری توحید کو دنیا سب مان لے

اپنے رہبر کو مولا کو پہچان لے

اپنے سچے تُو ہم سب کو عاشق بنا

اب زمیں پر تُو آ اپنا چہرہ دکھا

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button