سیرت حضرت مسیح موعود ؑ

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی سیرت وسوانح کے مأخذ

لفظ سیرت کے معانی اور وسیع ترمفاہیم

قبل اس کے کہ ہم اس لفظ کی لغت میں اس کے معانی اورمفاہیم تلاش کریں مناسب ہے کہ اصولی رہنمائی اور برکت کے طورپردیکھیں کہ قرآن وحدیث میں یہ لفظ اگرآیاہے تو کہاں اورکن معانی میں۔

1۔ قرآن کریم میں سیرت کے ماخذ root یعنی سَارَ یَسِیْرُ سے کم وبیش 26آیات مذکور ہیں البتہ لفظ سیرت صرف ایک بار استعمال ہواہے۔اور وہ سورۃ طٰہآیت نمبر22 میں، جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا: قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الْأُوْلٰىگوکہ یہاں لفظ “سیرت” شکل وصورت اورہیئت کے معنوں میں استعمال ہواہے۔

2۔ احادیث کی کتب میں بھی یہ لفظ استعمال ہواہے اور دیگردوسرے معانی کے علاوہ سیرت کے ان معنوں میں بھی استعمال ہواہے جو بعد میں ان اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوا جو سیرت کے لیے خاص ہوتاچلاگیا یعنی اسوہ،نمونہ اور طریق وغیرہ

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ قَامَ عَلِىٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ فَقَالَ : قُبِضَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَ اسْتَخْلَفَ أَبُوْبَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهٖ وَ سَارَ بِسِيْرَتِهٖ حَتّٰی قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلٰى ذٰلِكَ ثُمَّ اسْتَخْلَفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلٰى ذٰلِكَ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَ سَارَ بِسِيْرَتِهِمَا حَتّٰى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلٰى ذٰلِكَ

(مسند احمد بن حنبلؒ مسند علی بن ابی طالبؓ جلد 1ص 363،364 حدیث 1055)

ترجمہ: راوی عبدالملک بیان کرتے ہیں کہ( ایک روز)حضرت علی ؓ منبرپر کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کا ذکرکرتے ہوئے فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ ان کے جانشین خلیفہ ہوئے اور آپ کے طریق کے مطابق کام کیااور آپﷺ کی سیرت اوراسوہ کے مطابق چلے یہاں تک کہ اسی حالت میں اللہ عزوجل نے ان کی روح قبض فرمالی پھرحضرت عمرؓ اسی طرح خلیفہ ہوئے اور ان دونوں بزرگوں کے نقش قدم پر چلے اور ان کی سیرت اورروش کے مطابق کام کیایہاں تک کہ اسی پران کی روح بھی اللہ عزوجل نے قبض کرلی۔

عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيْ وَائِلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ : كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مَا ذَنْبِیْ قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ فَقُلْتُ أُبَايِعُكَ عَلٰى كِتَابِ اللهِ وَ سُنَّۃِ رَسُوْلِهٖ وَ سِيْرَۃِ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ فَقَالَ فِيْمَا اسْتَطَعْتَ قَالَ ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلٰى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَبِلَهَا۔

(مسند احمد بن حنبلؒ مسند عثمان بن عفان جلد 1 ص 238،حدیث نمبر557)

ترجمہ: عاصم بن وائل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے عرض کیا کہ تم لوگوں نے کیسے حضرت عثمانؓ کی بیعت کرلی اور حضرت علیؓ کو چھوڑدیااس پر انہوں نے کہا کہ اس میں میراکوئی قصورنہیں میں علی ؓ کے پاس پہلے گیا تھااورمیں نے عرض کیا أُبَايِعُكَ عَلٰى كِتَابِ اللهِ وَ سُنَّۃِ رَسُوْلِهٖ وَ سِيْرَۃِ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت اور ابوبکرؓ اور عمرؓ کے نمونے اورطریق پر آپ کی بیعت کرتاہوں وہ کہتے ہیں اس پر علی ؓ نے کہا کہ جس حدتک تجھ میں استطاعت ہے۔وہ کہتے ہیں پھرمیں نے یہ بیعت حضرت عثمان ؓ پر پیش کی توانہوں نے اس کو قبول کرلیا۔

وَفِيْ رِوَايَۃٍ أَنَّ الْحَسَنَ قَالَ فِيْ خُطْبَتِهٖ يَا مُعَاوِيَۃُ إِنَّ الْخَلِيْفَۃَ مَنْ سَارَ سِيْرَۃَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَعَمِلَ بِطَاعَتِهٖ وَلَيْسَ الْخَلِيْفَۃُ مَنْ دَانَ بِالْجَوْرِ وَعَطَّلَ السُّنَنَ وَاتَّخَذَ الدُّنْيَا أُمَّا وَّ أَبًا۔

(مرقاۃ شرح مشکاۃ کتاب المناقب باب مناقب اہل بیت النبی ﷺ و رضی اللہ عنہم حدیث:6144 جلد 11ص 300)

ترجمہ : ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسن ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں کہا اے معاویہ !خلیفہ وہ ہوتاہے جو رسول اللہﷺ کی سیرت اوراسوہ پر چلے اور جہاں تک اس کی استطاعت ہو اس کے مطابق عمل کرے خلیفہ وہ نہیں ہوتا جو ظلم وجورسے لوگوں کواپنا مطیع بنالے اور سنت کو چھوڑدے اور دنیاکوہی اپنا ماں باپ بنالے۔

لفظ سیرت کے لغوی معانی

عربی زبان کی جامع اورضخیم لغات لسان العرب اور تاج العروس میں لفظ سیرت کے درج ذیل معانی ملتے ہیں جو اس کے جامع اور وسیع ترمفاہیم کواپنے اندرسموئے ہوئے ہیں۔ان لغات کے مطابق لفظ سیرت کے درج ذیل معانی مذکور ہیں:

چلنا،عمل کرنا،کام کرنا، ابتدائی زمانے کے واقعات، کسی کے نقش قدم پرچلنا، کسی بھی چیز کا تمام اورساراحصہ، ہیئت،شکل،صورت، سنت، مذہب، راستہ،طریق، کسی شخص کا کردار، کیریکٹر، کسی کالوگوں کے ساتھ رویہ اورسلوک، قصہ،واقعہ،کہانی،پرانے لوگوں کے قصے۔

اسی طرح اردولغات میں لفظ سیرت کےدرج ذیل معانی ملتے ہیں:

سوانح، سوانح عمری (جامع اللغات)، علم تاریخ (فیروزاللغات)، ذاتی جوہر(نور اللغات)

ایک رائے میں: “سیرت کامفہوم طریقہ ومذہب، سنت،ہیئت،حالت اورکردار تک محدود نہیں بلکہ اس سے مرادداخلی شخصیت،اہم کارنامے اوراکابرکے حالات زندگی بھی ہیں۔”

(ڈاکٹرسیدعبداللہ: فن سیرت نگاری پرایک نظر،مجلہ فکرونظر،شمارہ اپریل 1976ء ص 826 بحوالہ اردونثرمیں سیرت رسولﷺ از ڈاکٹر انورمحمودخالد،ص2)

ایک اور رائے کے مطابق سیرت کامفہوم ومضمون یہ آیت قرآنیہ معین کرتی ہے : قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (النمل:70) اے نبیﷺ لوگوں سے کہوکہ زمین پرچل پھرکردیکھوکہ جھٹلانے والوں کاکیاانجام ہوا؟

یوں “سیرکالفظ غورسے مثبت وٹھوس حقائق کی تلاش میں چلنا،غوروخوض کرنا،عاقبت اندیشی سے کام لینا اورنیک افعال واعمال سے کردارکی تعمیر کرنا وغیرہ سے عبارت ہے۔………”

(فن سیرت نگاری :پروفیسرعثمان خالدیورش،ص 8-9،بحوالہ اردونثرمیں سیرت رسولﷺ از ڈاکٹر انورمحمودخالد، ص3)

لفظ سیرت کے لغوی مفہوم ومطلب سے آگے چلتے ہوئے اس کے اصطلاحی مفہوم پربھی ایک نظر ڈالنا ضروری معلوم ہوتاہے تاکہ ہم یہ جان سکیں سیرت کالفظ اپنے سفرکی کون کون سی منازل طے کرتاہوااپنے اس مفہوم تک پہنچاجو بالعموم آج کل لیاجاتاہے۔

سیرت کا اصطلاحی مفہوم

مندرجہ بالا سطورمیں ہم سیرت کالغوی مفہوم جان چکے ہیں کہ سیرت سے مرادکسی بھی شخص کے کردار،چال چلن،دوسروں کے ساتھ لین دین، میل جول،مزاج،زندگی بسرکرنے کے رنگ ڈھنگ اور اس کی سوانح عمری کاذکرواظہارہے۔

لیکن اصطلاح میں اس سے مراد آنحضرتﷺ کے حالات زندگی اوراخلاق وعادات کابیان ہے۔ خواہ وہ اجمالی رنگ میں ہوں یا تفصیلی،کسی ایک پہلوسے متعلق ہوں یا زیادہ سے زیادہ پہلوؤں کااحاطہ کیے ہوئے ہوں۔

سیرت کا وسیع تر مفہوم

اس میں کوئی شک نہیں کہ لفظ سیرت عمومی اصطلاح میں رسول اکرم ﷺ کے سوانح اور اخلاق وعادات کے بیان کے لیے ہی خاص رہا۔لیکن یہ لفظ اس عمومی اصطلاح کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کے حالات وکردار اور سوانح کے بیان کے لیے بھی استعمال ہوتارہا،ابتدائی دورمیں ذرا کم اور آج کل کے زمانہ میں قدرے زیادہ اور وسیع تراستعمال کے ساتھ۔

ابتدائی زمانے کی مثال کے طورپرتوہم دیکھتے ہیں کہ “سیرت عنترہ”،‘‘سیرت سیف بن ذی یزن”،‘‘سیرت صلاح الدین” وغیرہ اورپھر “سیرت معاویہ” “سیرالملوک” اور آج کل تو “سیرت عائشہ ؓ’’،‘‘سیرت حضرت ابوبکرؓ ’’،‘‘سیرت حضرت عمربن عبدالعزیز”،‘‘سیرالصحابہ ؓ ’’، “سیرالصحابیاتؓ” وغیرہ کے نام سے تو سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اورلکھی جارہی ہیں۔اوریوں اب یہ لفظ کسی کی بھی سوانح اوراخلاق وعادات کے بیان کے متعلق بولااورلکھاجاتاہے لیکن کسی نیک،صالح اوربزرگ شخص کی سیرت واخلاق کے بیان کے لیے اب بھی خاص ہے۔

یہ وسعت تولفظی استعمال کی ہے اوردوسری وسعت اس کے مضمون میں بھی ہے اوروہ یہ کہ سیرت کی کتب میں وہ تمام باتیں اور تفصیلات درج کی جاتی ہیں یاکردی جاتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح اس شخص سے تعلق رکھتی ہوں جس کی سیرت لکھی جارہی ہوتی ہے۔شہر،ملک، مقامات، ماحول،تاریخ اورجغرافیہ تک کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں مذہبی،معاشرتی،سیاسی اوراقتصادی ماحول کی تفصیلات کاذکرکیاجاتاہے۔سیرت النبیﷺ پرلکھی جانے والی بنیادی کتابیں مثلاً سیرت ابن ہشام، سیرت حلبیہ، شرح زرقانی مواہب اللدنیہ،شرف مصطفیٰ،النبی الاعظم،سبل الہدیٰ وغیرہ دیکھی جاسکتی ہیں۔ان میں سے بعض کتب تو بیس،تیس،پچاس پچاس جلدوں میں ہیں۔

اس اصولی تمہیدکے بعد عنوان مضمون کی طرف آتے ہوئے حضرت بانئ سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت وسوانح کے بعض بنیادی مآخذکاذکرکرتے ہیں۔

سیرت احمدؑ کےبعض بنیادی ماخذ

سوانح یاسیرت لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں یا کون سے واسطے ہیں جن سے کچھ موادمل سکتاہے جس کوجمع کرتے ہوئے یاجس کی روشنی میں سیرت وسوانح کواحاطۂ تحریرمیں لایاجاسکتاہے۔ یہ تمام ذرائع اور وسائل ووسائط اس کے مأخذ سمجھے جاسکتے ہیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت وسوانح کولکھنے اورجمع کرنے کے لیے کیاکیامأخذہوسکتے ہیں۔ان میں سے کچھ ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔

1۔قرآن کریم

اوّلین و اصل رہنما کے طورپرقرآن کریم کوسب سے پہلاماخذ قرار دیا جا سکتا ہے۔

قرآن کریم جوبے انتہامضامین کاماخذ ومنبع ہے وہ انبیاء کی سوانح اورسیرت کاثقہ ترین ماخذ بھی ہے ۔حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی سوانح بھی ایک نبی کی سوانح اور سیرت ہے۔ اس سیرت وسوانح کوبھی ہم قرآن کی بیان فرمودہ تاریخ وواقعات کے آئینہ میں دیکھ اور پرکھ سکتے ہیں ۔

جب ہم قرآن میں یہ دیکھتے ہیں کہ قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ……(الاحقاف:10) ترجمہ: تُو کہہ دے میں رسولوں میں سے پہلاتونہیں ہوں …… توحسب آیت قرآنیہ یہ ایک ضروری اورسب سے اولین ماخذ قرار پاتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ جونبی ہوتاہے وہ کیساہوتاہے ،ا سکاقول وفعل،کردار کیساہوتاہے ۔اس کے دعاوی اور اسکے دلائل اور ان کاطریق عمل اور اس کی قوم کاردعمل اس کی لائف ہسٹری یعنی سوانح اور اس پرہونے والے اعتراضات اور ان کی معقولیت اور ان اعتراضات کاجواب اور نبی کے دعاوی اوردلائل کی جانچ پرکھ اور اگروہ نبی ہے تو اس کے تائیدی نشانات اورمعجزات اور خداتعالیٰ کی طرف سے مدد ونصرت کس طور پر اس کے شامل حال ہوتی ہے ۔ اور وہ کس طرح غلبہ حاصل کرتاہے وغیرہ وغیرہ یہ سب کچھ قرآن ہمیں بتاتا ہے ۔

مثلا ًقرآن کریم میں آتاہے کہ نبی اپنی قوم کومخاطب کرکے کہتاہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (یونس:17) ترجمہ: میں تم میں اس سے قبل عمر کاایک حصہ گزارچکاہوں توکیاتم عقل سے کام نہیں لیتے؟ یہ آیت قرآنی بھی آپؑ کی سوانح اور سیرت بلکہ یوں کہناچاہیے کہ اس پاکیزہ اورمقدس اورمطہرسوانح کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود ایک جگہ ذکرکرتے ہوئے فرمایاہے :

“تم کوئی عیب افتراء یاجھوٹ یا دغاکامیری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تاتم یہ خیال کرو کہ جوشخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کاعادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولاہوگا۔کون تم میں ہے جومیری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کرسکتاہے۔پس یہ خداکافضل ہے کہ جواس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پرقائم رکھا اورسوچنے والوں کے لیے یہ ایک دلیل ہے۔”

(تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد20 ص 64)

تو ایک عارفانہ نگاہ قرآن کریم پر ڈالی جائے تو سورۃ فاتحہ کی رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے لے کر سورۃ الناس تک ہم جگہ جگہ خداکے اس بھیجے ہوئے کی سیرت کے نشان بڑے جلی حروف میں موجودپاتے ہیں۔ اور اپنے آقاؐ کی غلامی میں کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ کی ایک جھلک بجلی کے کوندے کی طرح دل کی آنکھوں کے سامنے سے گزرجاتی ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :

“اگر کوئی ہم سے سیکھے تو سارا قرآن ہمارے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔”(ملفوظات جلد دوم ص 583)

2۔سنت ِ رسول ﷺ

سیرت ِ احمدؑ کاایک دوسرااہم ترین ماخذجو ایک لکھنے والے کو اپنے پیش نظررکھناہوگاوہ ہمارے آقاومولیٰ خاتم الانبیاء رحمۃٌ للعالمین حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی سنت اورسیرت کاآئینہ ہے۔ خاتم الانبیاء حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ دراصل آئینہ ہیں تمام انبیاء کاچہرہ دکھانے کے لیے۔ ہرایک نبی کے خواص اور شمائل اور حالات اور سوانح جمع تھے آپ ﷺ کی ذات بابرکات میں ، ہرایک نبی نے اسی حسن ِمحمدیؐ سے کچھ کچھ حسن لیا۔آپ وہ سراجًا منیرًاتھے کہ دوسرے تمام نبیوں نے سیرت وشمائل کی روشنی اس سے اخذومستعارلی ۔اور سب سے زیادہ یہ روشنی آپ ؐ کے عاشق صادق حضرت احمدقادیانی علیہ السلام نے لی ۔ گویااحمدؑ کو محمدﷺ سےجداکرہی نہیں سکتے ۔حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران:33)کے قرآنی حکم کے تحت اپنے آپ کو اپنے آقاومطاع حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی اتباع میں فنا کر دیا تھا۔ایسافناکہ فطرت محمدیہؐ کاعکس ہم آپؑ کی سیرت وسوانح میں پاتے ہیں۔ قدم قدم پرہم حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سوانح کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ آپؑ کاہرفعل سنت رسولﷺ کے تابع ہے۔ اور سنت رسولﷺ دل ودماغ پریوں حاوی تھی کہ ایسے ایسے مواقع کہ جہاں دھیان بھی نہیں جاتا وہاں یہ جان سنت رسولﷺ کی خوشبو سے معطرنظرآتی ہے۔

حضرت صاحبزادہ مرزابشیراحمدصاحبؓ ایک روایت بیان فرماتےہوئے لکھتے ہیں :

“ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ؓنے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ حدیث میں بغیر منڈیر کے کوٹھے پر سونے کی ممانعت ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحبؑ عملاً بھی اس حدیث کے سختی کے ساتھ پابند تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ غالباً سیالکوٹ میں آپ کی چارپائی ایک بے منڈیر کی چھت پر بچھائی گئی۔ تو آپ نے اصرار کے ساتھ اس کی جگہ کو بدلوادیا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ گورداسپور میں بھی ہوا تھا۔” (سیرت المہدی حصہ سوم جلد اول ص744روایت نمبر820)

ہم کہہ سکتے ہیں کہ جتنی نظرہماری سنت رسول ﷺ پر ہوگی۔ہمیں سیرت احمدؑ کو سمجھنا اور بیان کرنا اتناہی آسان ہوگا۔سیرت محمدؐیہ کے آئینے میں ہم سیرت احمدؑ کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر حضرت عائشہ ؓ نے آنحضرتﷺ کے اخلاق وسیرت کے متعلق فرمایاتھا کہ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنُ (آپ ﷺ کے اخلاق تو قرآن ہی ہیں یعنی جوکچھ قرآن ہے وہی آپ کے اخلاق ہیں) توحضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق وسیرت کے متعلق بلاشبہ یہ کہاجاسکتاہے کَانَ خُلُقُہٗ اِتِّبَاعُ مُحَمَّدٍ ﷺ۔(آپ علیہ السلام کے اخلاق حضرت محمدﷺ کی اتباع وفرمانبرداری ہی ہے )

اورآخرایساہوتابھی کیوںنہ!یہ غلام صادق جس آقاو مطاع کا عاشق تھا اس نے اسی عشق و وارفتگی کی نشاندہی کرتے ہوئے پہلے سے فرمادیا تھا کہ يُوَاطِىُٔ اِسْمُهٗ اِسْمِيْ وَاسْمُ أَبِيْهِ اِسْمُ أَبِيْ (المعجم الکبیر باب العین جلد 10 ص 133 حدیث 10213،سنن ابو داؤد کتاب ا لمہدی حدیث 4282)کہ وہ جو آخری زمانے میں ایک شخص پیداہوگا وہ ہمارے عشق میں اس قدرفناہوگاکہ اس کانام گویامیرانام اوراس کے باپ کانام گویا میرے باپ کانام ہوگا۔یعنی اس نے عشق محمد عربی ﷺ میں سب کچھ فناکردیاہوگا اس کاخمیراسی عشق سے اٹھایاگیاہوگااوراس کی زندگی کاایک ایک پل اُسی کے عشق سے تعبیرہوگا اور یہ عشق اسکے مرنے کے بعد بھی ختم نہ ہوگا بلکہ اسی ذات بابرکات محمدعربیﷺنےفرمادیاتھا یُدْفَنُ مَعِیَ فِیْ قَبْرِیْ وہ میرے ساتھ میری قبرمیں ہی دفن ہوگا۔

( وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: يَنْزِلُ عِيْسَى بْنُ مَرْيَمَ فَيَتَزَوَّجُ وَ يُوْلَدُ لَهُ وَلَدٌ وَ يَمْكُثُ خَمْسًا وَ أَرْبَعِيْنَ سَنَۃ وَ يُدْفَنُ مَعِيَ فِيْ قَبْرِیْ، فَأَقُوْمُ أَنا وَ عِيْسٰى مِنْ قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ: التذكرة في أحوال الموتى وأمور الآخرة تصنیف امام قرطبی،جزء2 ص 352،مشکوٰۃ المصابیح کتاب الرقاق باب نزول عیسیٰ علیہ السلام ،الفصل الثالث حدیث نمبر 5508)

گویااس احمدعلیہ السلام کااٹھنابیٹھنا،سوناجاگنا ،جینامرنا اسی ایک پیارے نام کاعکس تھا۔ ظل کامل تھااسی مبارک نام کا۔ایسا ظل کامل کہ ؎

تا کَس نہ گوید بعدازیں من دیگرم تُو دیگری

اللہ اللہ !کیساعشق تھا اس عاشق صادق میں،شایدہی کوئی سوانح نگاراس کے اس عشق کی گہرائی کوپہنچ سکے۔عشق کی یہ وہ معراج ہے کہ ان چودہ سوسالوں میں کسی کوحاصل نہ ہوئی اورنہ آئندہ کبھی ہوسکے گی کہ جس کے عشق کی خوشبوکو چودہ سوسال پہلے ہی اس کے حبیبؐ نے پالیا اور اس کے عشق وصدق پر اپنے قول مبارک خِتَامُہٗ مِسْکٌ کی مہر اس خاتَم النبیین ؐ نے اپنے ہاتھوں سے ثبت فرمادی۔

خداکی قسم!وہ اسی عشقِ محمدی ﷺ کے ساتھ جیااور اسی عشق میں مخموراس نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپردکی اور اگرسینے میں دل رکھنے والا کوئی اس کی قبرکے پاس کھڑاہوگا تواسی عشق محمدﷺ کی خوشبواس مٹی سے بھی اٹھ رہی ہوگی جس میں وہ دفن ہے اور اسی عشق ومحبت کی صدائیں اندرسے بلندہوتی ہوئی سنائی دیں گی۔ ؂

اِنِّیْ اَمُوْتُ وَلَایَمُوْتُ مَحَبَّتِیْ

یُدْرٰی بِذِکْرِکَ فِی التُّرَابِ نِدَائِیْ

(منن الرحمٰن روحانی خزائن جلد9 ص 169)

میں تو مرجاؤں گا لیکن میری یہ محبت کبھی مرنہ سکے گی اورمیری اس محبت میں ڈوبی ہوئی تیرے نام کی صدائیں اس مٹی سے بھی بلندہوتی رہیں گی۔

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍؐ وَعَلٰی عَبْدِکَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِؑ

؂

یا صدق محمدِ عربیؐ ہے یا احمد ہندیؑ کی ہے وفا

باقی تو پرانے قصے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو

3۔تحریرات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام

مندرجہ بالادومآخذ کے بعدایک اور سب سے اہم ماخذ حضرت اقدسؑ کی اپنی تحریرات ہیں۔آپ ؑ کی سوانح اور سیرت کی ایک کائنات ہے جو چاندستاروں کی طرح ان صفحات قرطاس پر پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔براہین احمدیہ سے لے کرپیغام صلح تک،منشورمحمدی میں شائع ہونے والے اوّلین مضمون سے لے کر26مئی 1908ء کے اخبارعام میں شائع ہونے والے مکتوب تک،آپؑ کے مکتوبات خواہ وہ اپنے مخلص رفیق وحبیب منشی رستم علی صاحب ؓ کے نام ہوں خواہ مولوی حکیم نورالدین صاحب ؓ کے نام ہوں ، ہنری مارٹن کلارک یابشپ لیفرائے کے نام ہوں یاپنڈت دیانندسرسوتی کے نام،محمدحسین بٹالوی صاحب کے نام ہوں یا پیرمہرعلی شاہ گولڑوی صاحب کے نام ہوں ۔

مناظرات ومباحثات کامیدان ہویا لدھیانہ ودہلی اور لاہورسیالکوٹ کے مقامات پر دیے گئے لیکچر یاقادیان کے جلسوں سے خطابات ہوں یامسجدمبارک کی مجالس عرفان ہوں یا سیرکے دوران بیان فرمودہ ملفوظات ……ہم ان تمام مقدس تحریرات وملفوظات میں سوانح اورسیرت کاایک جہان آباددیکھتے ہیں ہیروں اورمونگوں سے بھراہواایک وسیع سمندرہے۔جو جتنی گہرائی میں جاسکے اورجتنا لاسکے ان ہیروں کولے آئے۔جی چاہتا ہے کہ کوئی ایساصاحب دل ہوجو صرف اورصرف حضورعلیہ السلام کی تحریرات سے ہی آپ ؑکی سوانح اور سیرت کولکھے۔تویہ ایک اور منفرداور خوبصورت تالیف ہوگی۔

4۔روایات صحابہ رضی اللہ عنہم

حضرت اقدسؑ کی سیرت وسوانح کاچوتھا ماخذ ایک بہت ہی وسیع ماخذ ان خوش نصیب لوگوں کے بیانات اورروایات ہیں جنہوں نے خود اپنی آنکھوں سے خداکے اس مامورومرسل کودیکھا۔اس کے بابرکت ہاتھوں کوچھوا،اس کی مجلس میں بیٹھے،اس کی باتیں سنیں،اور پھراس کے دہن مبارک سے جھڑنے والےموتیوں کواپنے حافظے کی جھولی میں محفوظ کرلیا۔اور گاہے گاہے وہ روایات پھرسلسلہ کے لٹریچرمیں بیان ہوتی رہیں۔ ہرسوانح نگاردوسری مستندروایات اورتاریخی حقائق کی روشنی میں اوران کی سان پرچڑھاتے ہوئے، صحابہ ؓکی بیان فرمودہ ان روایات میں حضرت اقدسؑ کی سوانح اور پاکیزہ سیرت کے وسیع ترمضامین پرگوہربے بہاموجود پائے گا۔

روایات صحابہ ؓہمارے لیے ایک بہت قیمتی سرمایہ ہیں۔بہت سارے علمی اورفقہی اور دیگر دینی مسائل کے ساتھ ساتھ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت اور سوانح کی ایک تاریخ اس میں موجودہے ۔اہل بیت کے علاوہ دیگر بڑے بڑے اکابرصحابہ ؓکی چشمدید روایات اور حالات وواقعات کابیان ہے ۔ وہ صحابہ جواکثر وبیشترآپ ؑ کے ساتھ سفروں میں ہوتے ۔ یاکوشش کرتے کہ ہرمجلس میں موجودہوں ۔ سیر میں ساتھ ہوتے ۔ڈیوڑھی کے دربان بنے موجودرہتے ۔کچھ تو ایسے بھی خوش نصیب تھے کہ الدارمیں بھی قربت کی سعادت میسر رہتی ۔کچھ تو وہ قدیم صحابہ ؓ تھے جوتب حضورؑ کی رفاقت میں تھے جب شاذ شاذ ہی کوئی آپ ؑکی صحبت میں رہتا اوراسی قدیم رفاقت کی بنا پر “نواں نودن پرانا سودن” کی خوبصورت مثل کے مصداق ٹھہرے۔

روایات صحابہؓ کاایک حصہ وہ ہے جوحضرت اقدسؑ کے زمانہ میں ہی تقریروں اور خطبوں اور خطابات میں بیان ہوناشروع ہوگیا۔سلسلہ کے اخبارات الحکم اور البدرمیں حضورعلیہ السلام کی حیات مبارکہ میں یہ روایات و واقعات شائع ہوتے رہے اوریہ روایات ثقاہت کی اعلیٰ منازل کوپہنچتی رہیں۔

اسی طرح ان روایات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ باقاعدہ تحریری ریکارڈ کی صورت میں بھی محفوظ ہے جس میں سے ایک عظیم الشان ذخیرہ تو “سیرت المہدی”کی شکل میں ہمارے سامنےہے۔ان کومرتب کرنے والا کوئی معمولی مضمون نگارنہیں بلکہ علم وفراست کے نورسے منورقمرالانبیاءحضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ ہیں۔آپؓ کاایک بہت بڑا احسان ہے کہ خداکے مامورومرسل کی نسبت روایات کاایک ذخیرہ ہمارے لیے بڑی محنت اوردعاؤں کے ساتھ جمع فرما دیا۔ ان تین جلدوں کے علاوہ دومزیدجلدوں کاموادبھی آپ کے پاس تھا جس کااعلان آپؓ نے الفضل اخبارمیں بھی فرمادیاتھا۔اس اعلان میں آپؓ نے یہ لکھاکہ

“جیسا کہ میں لکھ چکاہوں اس کتاب کے تین حصے شائع ہوچکے ہیں اوران کے علاوہ میرے پاس دومزید حصوں کامواد موجودتھا اوران بقیہ حصوں کے مسودوں میں بھی خداکے فضل سے کئی قیمتی روایات درج ہیں … چونکہ اب میری صحت خراب رہتی ہے اورزندگی کااعتبار نہیں اس لیے میں نے ان دونوں حصوں کے مسودے میرمسعود احمد فاضل پسرمیرمحمداسحاق صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کے سپرد کردیے ہیں…’’

(روزنامہ الفضل 18جون 1958ء جلد 47/12نمبر141ص5کالم3-4)

یہ دونوں حصے محترم سیدمیرمسعوداحمدصاحبؒ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکے ارشادپر خلافت لائبریری ربوہ میں دے دیے۔اور بعدازاں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے 2008ء میں منعقدہونے والی صدسالہ خلافت جوبلی کے مبارک موقعہ پر ان دونوں حصوں کوشائع کردیاگیا۔ یہ تمام حصے اب دوخوبصورت جلدوں میں کمپیوٹر کی ٹائپ سیٹنگ میں اس طرح شائع ہوئے ہیں کہ پرانی تین جلدیں ایک جلد اور غیرمطبوعہ دونوں حصے سیرت المہدی جلددوم کی صورت میں کل 1596قیمتی روایات کاذخیرہ ہمارے سامنے ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت صاحبزادہ مرزابشیراحمدصاحبؓ کوکروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ان کی روح پر ان کی نسلوں پرابدالآباد تک رحمتیں اوربرکتیں نازل فرماتارہے کہ اتنی محنت سے یہ روایات ہم تک پہنچانے کی سعی فرمائی۔

اسی طرح روایات کاایک دوسرا قیمتی ذخیرہ وہ ہے جو “رجسٹرروایات صحابہ ؓ’’کے نام سے غیرمطبوعہ مسودات کی شکل میں موجودہے۔قریباً چارہزارصفحات پرمشتمل یہ کل 15رجسٹرہیں جن میں قریباً 822 صحابہ ؓکی روایات درج ہیں۔

یہ رجسٹربھی دراصل خزانہ ہیں ۔ ایک صندوق ہے جو سیرت وشمائل کی مشک وکستوری سے بھراہواہے ۔ جوسلسلہ کے اہم تاریخی واقعات کواپنے اندرسموئے ہوئے ہے۔ صحابہؓ کی روایات جمع کرنے کایہ کام بھی بہت اہتمام کے ساتھ کیاگیا۔جب حضرت مصلح موعودؓ نے 19؍نومبر1937ء کے خطبہ جمعہ میں صحابہ ؓکی روایات جمع کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔توحضورؓ کے اس فرمان مبارک پر حضرت صاحبزادہ مرزاشریف احمدصاحبؓ ناظر تالیف وتصنیف نے روایات صحابہ جمع کرنے کاکام عارضی طور پر ملک محمدعبداللہ صاحب مولوی فاضل کے سپرد فرمایا ۔یہ روایات ساتھ کے ساتھ الفضل میں بھی شائع ہونے لگیں۔ حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانی ؓ نے قادیان کے تمام محلہ جات کامتعدد باردورہ کرکے صحابہ ؓ کی ایک فہرست مرتب فرمائی۔اس وقت صرف قادیان میں 393 صحابہؓ کرام موجودتھے ۔ستمبر1938ء سے یہ اہم کام محترم شیخ عبدالقادرصاحب [سابق سوداگرمل] کے سپردہوااورانہوں نے انتہائی جانفشانی اور محنت سے دن رات ایک کرکے اس کام کومکمل کرنے کی کوشش کی ۔آپ نے بذریعہ ڈاک بھی روایات منگوائیں ۔ خودبھی مختلف اضلاع کادورہ کرکے صحابہؓ سے روایات لے کر رجسٹروں کی صورت میں ان کومرتب کیا اور اخبارالفضل میں بھی شائع کرواتے رہے ۔4جون 1940ء کویہ کام پھر محترم ملک عبداللہ صاحب نے سنبھالا۔ اور 15؍ اگست 1940ءکومہاشہ ملک فضل حسین صاحب کے سپرد یہ کام کیاگیا۔مہاشہ صاحب نے پہلی جمع شدہ روایات پرنظرثانی اورمناسب تحقیق کے بعد ان کومحفوظ کرنے کاکام شروع کیا۔(تاریخ احمدیت جلد7 ص 476-478)اور اب اللہ کے فضل سے حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے ارشاد پراورآپ کی رہنمائی میں ریسرچ سیل ربوہ میں یہ رجسٹرکتابی شکل میں مرتب ہورہے ہیں تاکہ ان کی اشاعت ہوسکے ۔

‘‘دارالمسیح’’
(قادیان دارلامان)

جیساکہ عرض کیا گیا ہے کہ صحابہ ؓکی یہ روایات کافی چھان پھٹک اورمحنت سے جمع کی گئیں۔ اور خاص طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اور اب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے اپنے خطبات وخطابات میں ان روایات کاپیشترحصہ بیان فرمادیاجس سے ان کی ثقاہت واسناد پر مہرتصدیق ثبت ہوگئی۔

اس کے علاوہ اخبارات ورسائل اور ان صحابہ ؓکی طرف سے لکھی جانے والی اپنی کتب یا ان کی نسلوں کی طرف سے شائع ہونے والی سوانح اوردیگر کتب میں بھی بکثرت روایات موجودہیں۔البتہ ان سب روایات کو لیتے ہوئے ہمیں بہت محتاط طریق اختیارکرناپڑے گا۔ جرح وتعدیل کے متوازن معیار کومدنظررکھناہوگا اور زمانۂ سلف میں اس معیارکواختیارنہ کرنے کی بنا پر جو نقصانات علم و عمل کی دنیامیں اٹھانے پڑے اس کوبھی مدنظررکھناہوگا۔اس لیے روایت،درایت،عقل ودانش اور نورِفراست کے ساتھ ان روایات سے استدلال کے میدان میں قدم رکھناہوگا۔

5۔ارشادات خلفائے سلسلہ عالیہ احمدیہ

یہ بھی ایک مأخذہے اوربہت ہی ضروری اوربنیادی ماخذ۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نعمت سے امت محمدیہ کواس آخری زمانہ میں نوازاتو اس کے ساتھ ہی نبی اکرمﷺ کے ارشاد مبارک ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَـۃٌ عَلٰی مِنْہَاجِ النُّبُوَّۃِ (مسنداحمدبن حنبل جلد6 ص 285 حدیث نمبر18596)کے مطابق خلافت کی نعمت بھی عطاکی۔ جس طرح آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے راکٹ ہوتے ہیں کہ اس کا ایک حصہ پوری طاقت صرف کرتے ہوئے ایک منزل طے کرتاہے اور اس کے بعد دوسرا طاقتور حصہ پوری قوت کے ساتھ اس سفر کو جاری رکھتاہے۔ اس سے تیزتراور محفوظ ترین طریق کے ساتھ احمدیت کایہ سفرجاری وساری ہے۔پہلے دوخلفاء توایسے تھے جو صحابی ؓ بھی تھے اوردونوں کوایک ایسی نسبت تھی جو اورکسی کوحاصل نہ تھی۔ حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ جوکہ حضرت اقدسؑ کے قدیم ترین رفقاء میں سے تھے اوردوسرے فرزند دلبند گرامی ارجمند حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ مصلح موعود،جو خدائے علیم وخبیرکی طرف سے علوم ظاہری وباطنی سے پُرکیے گئے تھے بہت سی روایات کے چشم دید شاہدبھی تھے۔ اور کچھ روایات کے تو شاید واحد راوی بھی یہی وجودباجودہوں۔ اوراس کے سوا ان کاایک مقام خلافت کامقام بھی تھاجوایک بنیادی ماخذکے طورپریہاں بیان کرنا ضروری ہے۔ وہ اس طرح کہ سب سے پہلے ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ کسی بھی متنازعہ معاملہ میں یا ایسے معاملات میں جس میں فہم و فراست کے ساتھ استدلال واستنباط کامعاملہ ہو خدا اور رسول کو قرآن نے ایک فیصلہ کن اتھارٹی اور حیثیت ومقام عطا فرمایا ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:60)

اے وہ لوگوجوایمان لائے ہواللہ کی اطاعت کرواور رسول کی اطاعت کرو اوراپنے حکام کی بھی۔ اوراگرتم کسی معاملہ میں (اولواالامرسے ) اختلاف کروتوایسے معاملے اللہ اوررسول کی طرف لوٹادیاکرو اگر(فی الحقیقت) تم اللہ پراوریوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔یہ بہت بہترطریق ہے اورانجام کے لحاظ سے بہت اچھاہے۔

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ وَ لَوْ رَدُّوْہُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِي الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ وَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا (النساء:84)

اورجب بھی ان کے پاس کوئی امن یاخوف کی بات آئے تووہ اسے مشتہرکردیتے ہیں۔ اوراگروہ اسے (پھیلانے کی بجائے) رسول کی طرف یااپنے میں سے کسی صاحب امرکے سامنے پیش کردیتے توان میں سے جواس سے استنباط کرتے وہ ضروراس (کی حقیقت)کوجان لیتے۔ اوراگرتم پراللہ کافضل اور اس کی رحمت نہ ہوتے توتم چندایک کے سواضرور شیطان کی پیروی کرنے لگتے۔

ایسے وجودوں کو کسی بھی روایت یا معاملہ پرفائنل اتھارٹی ان آیات میں دی گئی ہے،سو ابھی توروایات جمع کرنے کی طرف بھی اتناکام نہیں ہواجتناکہ انشاءا للہ آئندہ زمانوں میں ہوگااور پھران روایات سے استنباط واستدلال کرتے ہوئے بڑے بڑے مقالے اورکتابیں لکھنے کارجحان بھی ہوگا۔لیکن کبھی بھی ہمیں یہ نہیں بھولناہوگا کہ اگرکسی روایت کی کوئی تشریح کسی بھی خلیفۃ المسیح کی بیان فرمودہ ہوگی تو وہ سب آراء سے مقدم اورافضل وبرترسمجھی جائے گی اوریوں ایک سوانح نگار یاسیرت نگار جب قلم اٹھائے گا تواسے خلفائے سلسلہ کے ارشادات سے صرفِ نظرکرناناممکن بھی ہوگا اوربے برکت بھی ۔اس لیے خاکسار کی نظرمیں سیرت وسوانح حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کاایک ماخذ خلفائے سلسلہ کے وہ ارشادات ہیں جو اس موضوع کے متعلق بالواسطہ یابلاواسطہ ہماری رہنمائی کرتے ہیں اورکرتے رہیں گے۔انشاء اللہ

6۔کتب سیرت ازاحمدی مصنفین

ایک ماخذوہ کتب بھی ہیں جو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت وسوانح پرلکھی گئی ہیں۔ ان کے لکھنے والے بعض تووہ خوش نصیب مصنفین بھی ہیں جنہوں نے خداکے اس فرستادے کواپنی آنکھوں سے دیکھااس کے ہاتھوں میں ہاتھ دیااس کی صحبت میں رہے اورسالوں تک رہے۔اور علم وعمل کے عرفان وایمان کے لعل وجواہر سے اپنی جھولیاں بھرتے رہے۔گوکہ بھرپورلکھنے والوں میں سے ایسے مصنفین کی تعداد گو اتنی زیادہ نہیں لیکن بہت اہم ہے۔ ان میں سے نمایاں ترین نام حضرت صاحبزادہ مرزابشیرالدین محموداحمدصاحب خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کاہے جن کی اس عنوان پرباقاعدہ تصنیف کے ساتھ ساتھ دوسری تحریرات وخطابات اور مضامین میں بہت سا مواد موجود ہے۔پھرحضرت صاحبزادہ مرزابشیراحمدصاحب ؓ ہیں جن کی سیرت المہدی ؑ اور دیگر تصنیفات ہیں، حضرت صاحبزادہ مرزاشریف احمدصاحبؓ،حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کی تقاریر،حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓاور پھرباقاعدہ تصنیف میں حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ ہیں جن کی کتب سیرت وسوانح سے کوئی بھی مؤرخ اورمصنف بے نیازی کامظاہرہ نہیں کر سکتا۔ الغرض ایک طویل فہرست ہے جس کاقدرے تفصیلی ذکر کسی دوسرے مضمون میں ہوگا،انشاء اللہ۔

7۔مخالفین کی کتب وروایات واخبارات ورسائل

خداتعالیٰ جن لوگوں کوماموریت کی خلعت سے سرفرازکرتاہے وہ حسن واحسان اور تہذیب واخلاق کے روشن میناروں کی طرح ہواکرتے ہیں۔اپنی قوم اورمعاشرے کی آنکھوں کاتاراہواکرتے ہیں۔ ان کی امید ہوا کرتے ہیں۔قوم کے ہرفردکی زبان پر قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا کا ورد ہوا کرتا ہے۔

(قَالُوْا يٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا ،ھود: 63)

اوریہ بھی تاریخ مذاہب کی ایک اٹل اورناقابل تردید تلخ حقیقت ہے کہ ایسے ہی وجودوں نے جب یہ اعلان کیاکہ خداایک ہے اور میں اس کی طرف سے بھیجاگیاہوں آؤ میری بات سنو اور میری بات مانو! توسب سے پہلے ایسے ہی رطب اللسان لوگوں نے کہا تَبًّا لَّكَ! أَلِهٰذَا جَمَعْتَنَا؟ (صحیح البخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ سبا باب قولہ ان ہو الا نذیر…… حدیث:4801) یہی لوگ تھے جنہوں نے تمسخرکیا،جھٹلایا،جادوگرکہا، مجنون کہا، بیمار کہا، رشوت خورکہا،دوسروں کا ایجنٹ کہااور کافرکافرکہہ کر اپنے دین کے حلقہ سے باہرنکال دیا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ باوجودان تمام مظالم کے ان کے دل مانتے تھے کہ یہ شخص سچاہے، سُچاہے، خوبصورت توہے ہی خوبصورت اخلاق کامالک بھی ہے۔اورکبھی کبھی دل کی یہ سچائی ان کی زبان سے بھی بے اختیارباہرآجایاکرتی ہے۔مکہ کاشدیدترین اورغلیظ ترین دشمن ابوجہل بھی ایک روزآپؑ کودیکھ کرکہہ دینے پر مجبور ہو جاتاہے “إِنَّا لَا نُكَذِّبُكَ، وَلٰـكِنْ نُكَذِّبُ بِمَا جِئْتَ بِهٖ” (سنن الترمذی کتاب تفسیر القرآن باب و من سورۃ الانعام حدیث:3064)کہ ہم تجھے جھوٹا نہیں کہتے تجھے جھٹلاتے نہیں بلکہ ان دعاوی کوجھٹلاتے ہیں جو تم کرتے ہو۔اپنی مجالس میں جب وہ منصوبے کرتے ہیں تو بے اختیاروہ کہتے ہیں کہ خداکی قسم نہ تووہ جھوٹاہے،نہ وہ جادوگرہے،نہ وہ کاہن ہے۔لوگوں کے سامنے وہ بے شک اس کے مونہہ پرتھوکنے کو تیار ہوں، اس کو مذمم کہتے ہوں لیکن ان کے دل اقرارکرتے ہیں کہ اگرکوئی چہرہ خوبصورت ہے تویہی ہے،خوبصورتی اس کے چہرے سے شروع ہوتی ہے اور اسی پرختم ہوجاتی ہے،خودحسن اس کے چہرے سے خوبصورتی مستعار لیتا ہے۔ انہیں کی مخالفانہ زبانیں کبھی بے اختیاری میں یہ سب رازکھول دیتی ہیں۔انہیں کی تحریروں کے دلدل سے کبھی کبھی ایسے کِھلتے ہوئے کنول مل جایاکرتے ہیں۔ اس لیے ایسے ہی مخالفین کی لکھی ہوئی کتب وروایات کو ایک محقق یکسر نظراندازنہیں کرسکتا۔ قرآن کریم میں ارشادہے اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا (الحجرات:7) کہ اگرکوئی فاسق فاجربھی کوئی بات یاروایت بیان کرے تو غور کر لیا کرو……

پھربہت سے[غیرازجماعت]راوی ایسے ہوں گے کہ جن سے ہمارارابطہ نہ ہوسکا،نہ ہم ان کوسن سکے نہ وہ ہمیں بتاسکے۔ کوئی اتفاق ہوتوہواوروہ کوئی بات ہمیں بتاسکیں۔ مثال کے طورپرمجھے یاد آرہاہے کہ سلسلہ احمدیہ کے ایک بزرگ، انگریزی اورفلسفہ کے پروفیسر محترم چوہدری محمدعلی صاحب،ہم نے جامعہ احمدیہ میں ان سے انگریزی پڑھی،صدرشعبہ انگریزی اور ہائیکنگ کے انچارج بھی ہوا کرتے تھے ایک روزبیان کرنے لگے کہ ایک دفعہ میں بس میں بیٹھا سفرکررہاتھامیرے ساتھ والی سیٹ پرایک معمرباریش شخص بیٹھا ہواتھا۔مجھے کہنے لگاتم مرزائی ہو،(یعنی احمدی ہو)؟میں نے کہاہاں میں اللہ کے فضل سےاحمدی ہوں مجھے وہ شخص کہنے لگا کہ میں مرزائی نہیں ہوں۔لیکن میں نے “تہاڈے مرزے نوں ویکھیاہویااے۔ او رَج کے سوہناسی”کہ میں نے تمہارے مرزاصاحب یعنی حضرت مسیح موعودؑکو دیکھاہواہے وہ بہت ہی حسین تھا۔

اسی طرح ایک اور کٹرمخالف جس نے ایک کتاب لکھی، تقی الدین صاحب ہیں۔کتاب کانام ہے “پاکستان کی سیاسی جماعتیں اورتحریکیں” اس کتاب میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ اورجماعت کے خلاف جتناخلاف واقعہ لکھاجا سکتاتھا لکھا۔لیکن ان سطروں کے درمیان میں سے ایک سطر اگر لی جائے تو وہ حضرت اقدسؑ کے شمائل کااقرارنہیں تواورکیاہے۔وہ لکھتاہے “ان کی شخصیت پُرکشش تھی ان میں ذہین لوگوں کواپنے پیچھے لگانے کی صلاحیت موجودتھی۔جب انہوں نے نبوت کادعویٰ کیاتواچھے خاصے ذہین لوگوں کواپنے پیچھے لگالیا……”(پاکستان کی سیاسی جماعتیں اورتحریکیں’’ ص334-335،ازحافظ تقی الدین)
ابھی چند سال ہوئے محترم صاحبزادہ مرزاغلام احمد صاحب نے مجلس انصاراللہ پاکستان کی ایک تقریب میں ‘‘کچھ یادیں کچھ باتیں ’’کے عنوان سے ایک خطاب فرمایا۔ یہ قیمتی روایات ماہنامہ انصاراللہ ربوہ اکتوبر 2009ء میں اورالفضل انٹرنیشنل 25-31مئی 2012ء شمارہ 21جلد19 ص13کالم 1،2میں بھی شائع شدہ ہیں۔اس میں ایک واقعہ انہوں نے بیان فرمایا:

“میرےوالدمرزاعزیزاحمدصاحبؓ اپنی سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں سیالکوٹ میں تعینات رہے ۔ان سے قبل میرے دادا حضرت مرزاسلطان احمدصاحب بھی وہاں سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں سیالکوٹ میں مقیم رہے ۔میرے والدصاحب بتاتے تھے کہ جب سیالکوٹ سے ان کی تبدیلی ہوئی تووہاں سے روانگی کے وقت ایک آدمی جومیرا واقف بھی نہ تھا میرے پاس آیا ۔ا س نے مٹی کے بنے ہوئے دوگلدان مجھے دیے اورکہنے لگا کہ یہ میں اپنی خوشنودی کے سرٹیفیکیٹ کے طورپردے رہاہوں ۔میں نے آپ کے داداکوکچہری میں کام کرتے دیکھا اورپھرآپ کے والدکواور اب آپ کو۔اور مجھے خوشی ہے کہ جس دیانت اورمحنت سے بڑے مرزاصاحب نے اپنے فرائض سرانجام دیے تھے اُسی محنت اوردیانت سے آپ کے والد اورآپ نے کام کیاہے۔”

( الفضل انٹرنیشنل 25-31مئی 2012ء شمارہ 21جلد19 ص13)

ایک اور کتاب اس وقت خاکسار کے سامنے ہے۔یہ مصنف بھی اپنی قلم کاسارازور مخالفت اورتکذیب میں صرف کرتاہوانظرآتاہے لیکن ایک جگہ اس میں وہ حضرت مسیح موعودؑ کی بابت لکھتاہے :

“وہ اپنا وقت عبادت اور علوم دینی میں دسترس حاصل کرنے میں صرف کرتے تھے۔چنانچہ ایسی آراء موجودہیں جن سے مرزاصاحب کی علوم دین میں دسترس ثابت ہوتی ہے اورایک زمانے میں ایک عالم مرزاصاحب کے تبحرعلمی کانہ صرف قائل تھا بلکہ اس سے متاثربھی تھا۔”

(‘‘پنجاب کی سیاسی تحریکیں’’ ازعبداللہ ملک،ص222،ناشر تخلیقات،علی پلازا 3مزنگ روڈ لاہور،پرنٹرز حاجی حنیف پرنٹرزلاہورایڈیشن پنجم 2003ء)

ایک اورمصنف ہیں، انگریزاور پادری ،سخت مخالف، اورہوتے بھی کیوں ناں! ان کاتومصنوعی خدااس کاسرصلیب کے ہاتھوں ماراگیاتھا۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی جوساری کی ساری تعصب اور مخالفت سے بھری ہوئی ہے یہ صاحب خود حضرت مسیح موعودؑ سے ملے بھی تھے۔اپنی اسی کتاب میں لکھتے ہیں :

The Mirza Sahib is honest, but self-deceived. So far as I am able to judge, his writings everywhere have the ring of sincerity.
(Mirza Ghulam Ahmad The Mehdi Messiah of Qadian, by The Rev.H.D.Griswold,PH.D. Page: 27)

مرزا صاحب ایماندار لیکن دھوکہ خوردہ ہیں۔ جہاں تک میں انہیں جانچ سکا ہوں ان کی تحریرات میں ہر جگہ اخلاص کی جھلک نظر آتی ہے۔

اس زمانے میں شائع ہونے والے اخبارات ورسائل سے بھی آپ کی سیرت وسوانح کے لیے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ان اخبارات میں بنگلورریاست میسورسے شائع ہونےوالا اخبار منشور محمدی،امرتسرسے نکلنے والا اخبارسفیرہند،اسی طرح اخبار وکیل ہندوستان،آفتاب پنجاب، برادر ہند لاہور،آریہ درپن،اشاعۃ السنۃ، اخباراہلحدیث، اخبارعام، اخبارریاض ہند، پیسہ اخبار، نورافشاں لدھیانہ، اخباروکیل امرتسر،زمیندار، البشیراٹاوہ، علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ، صادق الاخبار،کرزن گزٹ، آریہ پتریکا،اورسول اینڈملٹری گزٹ لاہور وغیرہ

قصہ مختصرکہ مخالفین کی کتب ورسائل ہرچندکہ مخالفت اورتکذیب کے زہرسے بھری ہوئی ہیں، تعصب نے فہم وفراست اورعقل وشعورکی راہیں بھی مسدودکررکھی ہیں،بعض مصنفین توتمسخراوراستہزاء میں اس قدربڑھ جاتے ہیں کہ شرافت بھی کانوں کوہاتھ لگاتی ہے۔ ان کی کتابیں گنداورغلاظت کا ٹوکرا لگتی ہیں دل نہیں کرتاکہ ان کوپڑھاجائے لیکن پھربھی کبھی کبھی،کہیں کہیں حق اورسچ زبان پر آہی جاتاہے نہ کہتے ہوئے اورنہ چاہتے ہوئے۔اس لیے اگرکوئی ان کتابوں کامطالعہ کرناچاہےتو حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام کے اسلام کے دفاع میں کارہائے نمایاں آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کاعشق قرآن ورسول ﷺ اورعبادت وریاضت اور حسن وجمال کنول کے پھولوں کی طرح ان جگہوں پر بھی نظرآجاتاہے۔

قمرالانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزابشیراحمدصاحب ؓ جوکہ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے صاحبزادے تھے ۔بہت سے خدائی الہامات کے مصداق،سلسلہ احمدیہ کے ایک مستند اورنامورمحقق ،ایک صاحب اسلوب سیرت نگار ،اپنی تصنیف سیرت المہدی میں اس وقت تک حضرت مسیح موعودؑ کی سیرت وسوانح پر لکھی جانے والی کتب پراجمالی تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

“ان کے علاوہ دو عیسائی امریکن پادریوں نے بھی انگریزی میں حضرت مسیح موعود کے حالات لکھے ہیں ۔یعنی ڈاکٹر گرسوولڈ پروفیسر مشن کالج لاہور اور مسٹر والٹر سیکرٹری ینگ مین کرسچین ایسوسی ایشن لاہور ۔ا ن میں سے ڈاکٹر گرسوولڈ خود حضرت مسیح موعود ؑ سے ملا تھا ۔لیکن مسٹر والٹر نہیں ملا۔ مؤخر الذکر کی تصنیف کچھ مفصل ہے اور مقدم الذکر کی مختصر ہے ۔گو معلومات عموماً احمدیہ لٹریچر سے حاصل کیے گئے ہیں مگر یہ کتابیں واقعات کی غلطی سے خالی نہیں مگر غلطی بالعموم غلط فہمی سے واقع ہوئی ہے۔ باقی استدلال و استنباط کا وہی حال ہے جو ایک عیسائی پادری سے متوقع ہوسکتا ہے یعنی کچھ تو سمجھے نہیں اور کچھ سمجھے تو اس کا اظہار مناسب نہیں سمجھا۔ تعصب بھی آگ کی ایک چنگاری کی طرح ہے کہ معلومات کے خرمن کو جلا کر خاک کر دیتا ہے ۔مگر خاکسار کی رائے میں تعصب کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جو واقعات کو سمجھنے اور صحیح نتائج پر پہنچنے کے رستے میں ایک بہت بڑی روک ہوتی ہے اور وہ اجنبیت اور غیر مذہب اور غیر قوم سے متعلق ہو نا ہے جس کی وجہ سے آدمی بات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔

ان کے علاوہ سلسلہ کے اخبارات اور رسالہ جات ہیں۔ یعنی الحکم ، البدر ۔ ریویو (انگریزی و اردو) و تشحیذ الاذہان ۔جن میں وقتاً فوقتاً حضرت مسیح موعود ؑ کے حالات اور ڈائریاں چھپتی رہی ہیں ،ان میں بھی معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ ہے ۔

پھر خود حضر ت مسیح موعود ؑکی اپنی تصنیفات ہیں یعنی 80کے قریب کتب و رسالہ جات ہیں ۔اور دوسو کے قریب اشتہارات ہیں ان میں بھی حضرت صاحب کی سیرت و سوانح کے متعلق ایک بہت بڑا حصہ آگیا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ حصہ سب سے زیادہ معتبر اور یقینی ہے اور درحقیقت حضرت مسیح موعود ؑ کے سوانح کے متعلق جتنی کتب شائع ہوئی ہیں وہ سب سوائے حیات النبی کے زیادہ تر صرف حضرت صاحب کے خود اپنے بیان کردہ حالات پر ہی مشتمل ہیں۔ مگر ایک بات یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ کو بعض اوقات واقعات کی تاریخ معیّن صورت میں یاد نہیں رہتی تھی۔درحقیقت حافظہ کی مختلف اقسام ہیں ۔بعض لوگوں کا حافظہ عموماً پختہ ہوتا ہے مگر ایک خاص محدود میدان میں اچھا کام نہیں کرتا اور دراصل تاریخوں کو یاد رکھنا خصوصاً جب وہ ایسے واقعات کے متعلق ہوں جو منفرد ہیں اور سلسلہ واقعات کی کسی کڑی میں منسلک نہیں ۔ایک ایسے شخص کے لیے خصوصاً مشکل ہوتا ہے جس کا دماغ کسی نہایت اعلیٰ کام کے لیے بنایا گیا ہو۔ دراصل واقعات کی تاریخوں کو یاد رکھنے کے متعلق جو حافظہ کی طاقت ہے وہ انسانی دماغ کی دوسری طاقتوں کے مقابلہ میں ایک ادنیٰ طاقت ہے بلکہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کی یہ طاقت تیز ہوتی ہے وہ بالعموم دماغ کی اعلیٰ طاقتوں میں فروتر ہوتے ہیں ۔واللہ اعلم ’’

(سیرت المہدی جلد اول حصہ اول روایت نمبر181 صفحہ195-196)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button