خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ 08؍ مارچ 2019ء

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 08؍ مارچ2019ء بمطابق 08؍امان1398 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

حضرت قَیْس بِن مِحْصَنْ انصاری صحابی تھے۔ بعض روایات میں ان کا نام قیس بن حِصْن بھی بیان ہوا ہے۔ ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو زُرَیْق سے تھا۔ ان کی والدہ کا نام اَنِیْسَہ بنت قیس تھا اور والد مِحْصَن بن خالد تھے۔ آپؓ غزوۂ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔ آپؓ کی ایک بیٹی اُم سَعْد بِنْت قَیْس تھیں ۔ جب آپؓ فوت ہوئے تو آپ کی اولاد مدینہ میں تھی۔

(اسد الغابہ جلد 04 صفحہ422 قَيْس بن مِحْصَن ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2003ء)
(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 443 قَيْس بن مِحْصَن ، دارالکتب العلمیۃ بیروت1990ء)

دوسرے صحابی ہیں حضرت جُبَیْر بن اِیَاس۔ اِیَاس بن خَالِد ان کے والد کا نام تھا ۔یہ غزوۂ بدر میں شامل ہوئے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بَنُو زُرَیْق سے تھا۔ حضرت عبداللہ بن محمدنے کہا کہ آپؓ کا نام جُبَیر بن اِلْیَاس تھا اور ایک دوسری روایت میں آپ کا نام جَبَر بن اِیَاس بھی بیان ہوا ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 444 جبیر بن ایاس ، دارالکتب العلمیۃ بیروت1990ء)

احادیث میںآتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نعوذ باللہ کسی یہودی نے جادو کر دیا تھا جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اثر ہو گیا تھا اور روایات میں آتا ہے کہ کنگھی اور بالوں پر وہ جادو کر کے ذروانکنویں میںڈال دیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ان کو وہاں سے جا کر نکالا۔ صحیح بخاری کی شرح فتح الباریمیں ہے کہ وہ کنگھی اور بال حضرت جُبَیْر بن اِیَاس نے ذروانکنویں سے نکالے تھے اور ایک اَور روایت کے مطابق حضرت قَیْس بن مِحْصَن نےنکالے تھے ۔

(فتح الباری ازامام ابن حجر کتاب الطب باب السحر حدیث 5763جلد 10 صفحہ 282 قدیمی کتب خانہ کراچی)

اس لیے ان دونوں صحابہ کا ذکر میں نے اکٹھا کیا ہے۔ ان میں سے جس نے بھی یہ چیزیں نکالی تھیں یہ بات اتنی اہم نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی جادو کا اثر ہوا تھا؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس بات پر ہمارا نقطۂ نظر کیا ہے؟ اور یہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جس بات سے بھی اعتراض پیدا ہو سکتا ہے یا لوگ اعتراض کرتے ہیں ہم نے جواب دینا ہے۔ اس لیے مَیں اس کی کچھ تفصیل بیان کرتا ہوں جو جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ ان دونوں صحابہؓ کے حوالہ سے آج اس بات کی وضاحت ہو گی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ فلق کی تفسیر کے تعارف میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے بیان فرمایا۔ آپ سورۃکے بارے میں بیان فرما رہے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورۃ الفلق اورالناس یہ آخری دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں۔ بعض ان کو مدنی سورتیں کہتے ہیں یعنی مدینہ میں نازل ہوئیں۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ ‘‘جو لوگ اس بات کے حق میں ہیں کہ یہ سورۃ مدنی ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سورۃ اور اس کے بعد کی سورۃ کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے ساتھ ہے جس میں یہ سمجھا گیا تھا کہ یہود کی طرف سے آپؐ پر جادو کیا گیا ہے۔ اس وقت یہ دو سورتیں نازل ہوئیں اور آپؐ نے ان کو پڑھ کر پھونکا۔ یہ آپؓ بیان فرما رہے ہیں کہ یہ کہا جاتا ہے اورمفسرین کہتے ہیں کہ چونکہ یہ واقعہ مدینہ میں ہوا تھا اس لیے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس مدنی ہیں۔ بہرحال ترجیح اسی کو دی گئی ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں یعنی مدینہ میں نازل ہوئیں۔ حضرت مصلح موعودؓ یہ لکھتے ہیں کہ یہ مفسرین کا ایک استدلال ہے۔ تاریخی شہادت نہیں۔ گو ہمارے پاس بھی ایسی کوئی یقینی شہادت نہیں کہ جس کی بناء پر ہم کہہ سکیں کہ یہ مکی سورۃ ہے۔ مگر جو استدلال کیا گیا ہے وہ بھی بودا ہے فضول قسم کا یہ استدلال ہےکیونکہ خواہ یہ سورۃمکہ میں نازل ہوتی تب بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے موقع پر اس کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک سکتے تھے۔ پس محض پھونکنے سے یہ سمجھنا کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی تھی یہ استدلال درست نہیں۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیمار ہونا اور لوگوں کا یہ سمجھنا کہ آپ پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا ہے یہ واقعہ جن الفاظ میں روایت کیا گیا ہے وہ الفاظ یہ ہیں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ الفاظ اسی سورۃ کے تعارف میں بیان کرتے ہوئے لکھے ۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ چونکہ مفسرین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ترجیح دی ہے اس لیے ہم صرف اسی روایت کا ترجمہ کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا اور اس کا اثر یہاں تک ہوا کہ آپؐ بعض اوقات یہ سمجھتے تھے کہ آپؐ نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ ایک دن یا ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ پھر دعا کی اور پھر دعا کی۔ پھر فرمایا: اے عائشہ! اللہ تعالیٰ سے جو کچھ میں نے مانگا تھا وہ اس نے مجھے دے دیا۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ وہ کیا ہے جو آپؐ نے مانگا تھا؟ کیا دیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ میرے پاس دو آدمی آئے۔ ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔ پھر وہ شخص جو میرے سر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر کے کہا یا غالباً یہ فرمایا (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں یا یہ کہا) کہ پاؤں کے پاس بیٹھنے والے نے سر کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ اس شخص (یعنی محمد رسول اللہﷺ )کو کیا تکلیف ہے؟تو دوسرے نے جواب دیا کہ جادو کیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ لَبِیْد بن الْاَعْصَمْ یہودی نے۔ تب پہلے نے کہا کہ کس چیز میں جادو کیا گیا ہے؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ کنگھی اور سر کے بالوں پر جو کھجورکے خوشہ کے اندر ہیں۔ پہلے نے پوچھایہ چیزیں کہاں ہیں؟ تو دوسرے نے کہا یہ ذی اروان کے کنویں میں ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اپنے صحابہؓ سمیت اس کنویں کے پاس تشریف لے گئے۔پھر واپس آئے توپھر فرمایا اے عائشہ! اللہ کی قسم! کنویں کا پانی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہوتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آگے اس کی وضاحت لکھی ہے کہ (معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں یہ رواج تھا کہ جب وہ کسی پر جادو ٹونہ کرتے تھے تو مہندی یا اسی قسم کی کوئی اور چیز پانی میں ڈال دیتے تھے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ جادو کے زور سے پانی کو سرخ کیا گیا ہے)ایک ظاہری تدبیر وہ کیا کرتے تھے سادہ لوگوں کو بہکانے کے لیے اور وہاں پھر آپؓ نے فرمایا اور وہاں کی کھجوریں ایسی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جیسے شیاطین یعنی سانپوں کے سر( اس میں کھجورکے گابھوں کو سانپوں کے سر وں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے یعنی کھجوریں گابھوں والی تھیں) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے اس چیز کو جس پر جادو کیا گیا تھا جلا کیوں نہ دیا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے جب اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی تو میں نے ناپسند کیا کہ کوئی ایسی بات کروں جس سے شر کھڑا ہو اس لیے میں نے حکم دیا کہ ان اشیاء کو دفن کر دیا جائے۔ چنانچہ ان کو دبا دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میںحضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ جن دو مردوں کا ذکر آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو فرشتے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے۔ اگر وہ انسان ہوتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نظر آ جاتے۔ آپؓ فرماتے ہیں روایت جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی گئی ہے اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ سے خبر دی کہ یہودیوں نے آپؐ پر جادو کیا ہوا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح جادو کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہو بھی گیا تھا۔ پھر آپؓ کہتے ہیں کہ بہرحال جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جادو ٹونے کی چیزیں نکال کر زمین میں دفن کر دیں تو یہودیوں کو خیال ہو گیا کہ انہوں نے جو جادو کیا تھا وہ باطل ہو گیا ہےختم ہو گیا۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو صحت بھی عطا فرما دی۔ خلاصہ کلام یہ کہ یہودی یہ یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ہے۔ اس وجہ سے طبعی طور پر ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہو ئی کہ آپؐ بیمار ہو جائیں۔آپؓ لکھتے ہیں کہ اس روایت سے جہاں یہودیوں کے اس عناد کا پتہ چلتا ہے جو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا وہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو ان تمام باتوں کا علم دے دیا گیا جو یہودی آپؐ کے خلاف کر رہے تھے۔ پس آپؐ کو غیب کی باتوں کا معلوم ہو جانا اور یہودیوں کا اپنے مقصد میں ناکام رہنا آپؐ کے سچا رسول ہونے کی واضح اور بیّن دلیل ہے۔ (تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 539 تا 542)

بہرحال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس طرح نتیجہ نکالا ہے وہی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں نے اپنے زعم میں جادو کیا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بیماری جو بھولنے کی بیماری تھی یا جو بھی بیماری تھی اس کی کچھ اَور وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی اس کارروائی سے آگاہ فرما کر ظاہری طور پر بھی ان کا جو خیال تھا کہ انہوں نے جادو کیا ہے اس کو بھی ناکام کر دیا اور یہودی جو آپؐ کی بیماری کو دیکھ کر اپنے زعم میں خوش ہو رہے تھے یایہ مشہور کر دیاتھا، یہ باتیں کرتے تھے کہ ہمارے جادو کا اثر ہے جو یہ بیماری چل رہی ہے اس کی حقیقت ظاہر ہو گئی۔

پھر ہمارے لٹریچر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کا ایک مضمون ہے،جس میں اس واقعہ پر تفصیل سے تاریخی اور علمی بحث ہوئی ہے اور جو اس واقعہ کی مزید وضاحت کرتا ہے ۔ آپؓ لکھتے ہیں کہ

تاریخ بلکہ حدیثوں تک میں بیان ہوا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نعوذ باللہ ایک دفعہ ایک یہودی نسل منافق نے جس کا نام لَبِیْد بن الاَعْصَم تھا سحر کر دیا تھا (یا جادو کر دیا تھا) اور یہ سحر اس طرح کیا گیا کہ ایک کنگھی میں بالوں کی گرہیں باندھ کر اور اس پر کچھ پڑھ کر اسے ایک کنویں میں دبا دیا گیا۔ اور کہا جاتا ہے (آپؓ فرما رہے ہیں کہ کہا جاتا ہے) کہ آپؐ نعوذ باللہ اس سحر میں کافی عرصہ تک مبتلا رہے۔ (یہ مشہور کیا ہوا تھا انہوں نے۔) اس عرصے میں آپؐ اکثر اوقات اداس اور افسردہ رہتے تھے اور گھبراہٹ میں بار بار دعا فرماتے تھے اور اس حالت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپؐ کو ان ایام میں بہت زیادہ نسیان رہنے لگا تھا۔ (بھول جاتے تھے بعض باتیں)۔ حتٰی کہ بسا اوقات آپؐ خیال کرتے تھے کہ میں یہ کام کر چکا ہوں مگر دراصل آپؐ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ یا بعض اوقات آپؐ یہ خیال فرماتے تھے کہ میں اپنی فلاں بیوی کے گھر ہو آیا ہوں مگر درحقیقت آپؐ اس کے گھر نہیں گئے ہوتے تھے۔ (اور اس کی تشریح فرماتے ہیں کہ) اس تعلق میں یاد رکھنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ اسلامی احکام کے مطابق آپؐ نے اپنی بیویوں کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ہر روز شام کو ہر بیوی کے گھر جا کر خیریت دریافت فرماتے تھے اور بالآخر اس بیوی کے گھر پہنچ جاتے تھے جس کی اس دن باری ہوتی تھی۔ اوپر والی روایت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (بہرحال یہ روایت آگے چلتی ہے) بالآخر خدا تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعہ سے آپؐ پر اس فتنہ کی حقیقت کھول دی وغیرہ وغیرہ۔

یہ خلاصہ ہے جو پہلے بھی حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے ۔ یہ بخاری کی روایت ہے جس کا خلاصہ آپؓ نے بیان کیا پھر آپؓ لکھتے ہیں کہ یہ اس روایت کا خلاصہ ہے جو تاریخ اور حدیث کی بعض کتابوں میں بیان ہوئی ہے۔ اس روایت کے گرد ایسے قصوں کا جال بُن دیا گیا ہے کہ اصل حقیقت کا پتہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ (ایسی کہانیاں بنا دی گئی ہیں اس روایت پہکہ بہت مشکل ہو گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے) آپؓ لکھتے ہیں اگر سب روایتوں کو قبول کیا جائے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اور مقدّس وجود ایسا ثابت ہوتا ہے کہ گویا (خاکم بدہن) آپؐ ایک بہت کمزور طبیعت کے انسان تھے جسے کم از کم دنیا کے معاملات میں آپؐ کے بدباطن دشمن اپنی سحر کاری سے جس قالب میں چاہتے تھے ڈھال سکتے تھے۔ اور یہ کہ وہ آپؐ کو اپنی ناپاک توجہ کا نشانہ بنا کر آپؐ کے دل و دماغ پر اس طرح تصرف جمانا شروع کر دیتے تھے کہ آپؐ نعوذ باللہ اس سحر کے مقابل پر اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔ (اگر روایت کو اس طرح بیان کیا جائے جس طرح حدیثوں میں، تاریخ میں بیان ہوئی ہے تو پھر تو یہ نتیجہ نکلتا ہے جو بالکل غلط نتیجہ ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا) لیکن اگر ان روایات کے متعلق معقولی اور منقولی طور پر غور کیا جائے اور روایات کی محققانہ چھان بین کی جائے، (تحقیق کی جائے، باقاعدہ ریسرچ کی جائے) تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک مرضِ نسیان کا عارضہ تھا جو بعض وقتی تفکرات اور پیش آمدہ جسمانی ضُعف کے نتیجہ میں آپؐ کو کچھ وقت کے لیے لاحق ہوا تھا جس سے بعض بدخواہ دشمنوں نے فائدہ اٹھا کر یہ مشہور کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت جلد صحت دے کر دشمنوں کے منہ کالے کر دیے اور منافقوں کا جھوٹا پراپیگنڈہ خاک میں مل گیا۔
دنیا بھر میں شیطانی طاقتوں کا فاتح اعظم اور افضل الرسلؐ جس سے بڑھ کر طاغوتی قوتوں کا سر کچلنے والا نہ آج تک پیدا ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ ایک ذلیل یہودی زادے کے شیطانی سحر کا نشانہ بن گیا تھا عقل انسانی کا بدترین استعمال ہے۔ (یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا) اور یہ صرف ہمارا دعویٰ ہی نہیں بلکہ خود سرور کائناتؐ (فداہ نفسی) نے اس کی تردید فرمائی ہے۔

اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ (حضرت عائشہؓ نے اپنے متعلق پوچھا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔) مَیں نے پوچھا کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان لگا ہوا ہے تو آپؐ نے فرمایا ہاں۔ حضرت عائشہؓ نے حیران ہو کر عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! کیا آپؐ کے ساتھ بھی کوئی شیطان لگا ہوا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ مگر خدا نے مجھے شیطان پر غلبہ عطا فرمایا ہے حتٰی کہ میرا شیطان بھی مسلمان ہو چکا ہے۔ (صحیح مسلم کتاب صفۃ القیامۃ والجنّۃ والنار باب تحریش الشیطان)

کیا اس واضح اور صریح ارشاد کے ہوتے ہوئے یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کسی یہودی منافق نے جو قرآن کی رو سے ایک مغضوب علیہ قوم بھی ہے اپنے شیطان کی مدد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بلند مرتبہ انسان پر جادو کر دیا ہوگا۔ اور آپؐ اس شیطانی جادو سے متاثر ہو کر مدتوں پریشان اور مغموم اور بیمار رہے؟

جھوٹے لوگ حق کے مقابل پر ہر زمانہ میں ایسے باطل اور جھوٹے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ مگر خدائے قدیر و عزیز ایسے تمام جھوٹوں کے پول کھولتا رہا ہے۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے : کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ (المجادلۃ:23) یعنی خدا نے یہ بات لکھ رکھی ہے اور مقدر کر رکھی ہے کہ ہر رسول کے زمانہ میں مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے اور کوئی شیطانی حربہ ہمارے مقابلہ پر کامیاب نہیں ہو سکتا۔
آپؓ لکھتے ہیں کہ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے جو صحیح بخاری تک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان ہوا ہے۔ سو اگر واقعہ کے سیاق و سباق اور یہودیوں اور منافقوں کے طور طریقوں کو مدّ نظر رکھ کر غور کیا جائے تو اس واقعہ کی حقیقت کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہیے کہ اس مزعومہ سحر کا واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے۔ طبقات ابن سعد میں یہ لکھا ہے۔ جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رؤیا کی بنا پر عمرہ کی غرض سے مکہ تشریف لے جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں تشریف لے گئے تھے مگر رستہ میں قریش کے روکنے کی وجہ سے بظاہر ناکام لوٹنا پڑا۔ یہ ظاہری ناکامی ایک ایسا بھاری صدمہ تھی کہ کافروں اور منافقوں نے تو مذاق اور طعن و تشنیع سے کام لینا ہی تھا لیکن بعض مخلص مسلمان حتٰی کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے بلند پایہ بزرگ بھی اس ظاہری ناکامی کی وجہ سے وقتی طور پر متزلزل ہو گئے تھے۔ بخاری میں یہ بھی لکھا ہےحضرت عمر ؓکی یہ روایت بخاری کی حدیث ہے ۔ اِن حالات کا کمزور طبیعت کے لوگوں کے ابتلا کے خوف کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر طبعاً کافی اثر تھا اور آپؐ کچھ عرصے تک بہت فکر مند رہے اور لازماً اس فکر کا اثر آپؐ کی صحت پر بھی پڑا اور آپؐ اس گھبراہٹ میں خدا کے حضور کثرت سے دعائیں بھی فرماتے تھے جیسا کہ حدیث کے الفاظ دَعَا وَ دَعَا وغیرہ میں اشارہ ہے تا کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ کی وجہ سے اسلام کی ترقی میں کوئی وقتی روک پیدا نہ ہو۔ یہ اسی قسم کی دعا تھی جیسا کہ آپؐ نے بدر کے میدان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کامیابی کا وعدہ ہونے کے باوجود دشمن کی ظاہری طاقت کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ اَللّٰھُمَّ اِنْ تَھْلِکَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ لَا تُعْبَدُ فِی الْاَرْضِ۔

ان وجوہات سے آپؐ کے اعصاب اور آپؐ کی قوت حافظہ پر کافی اثر پڑا ہوا تھا اور آپؐ کچھ عرصہ کے لیے مرض نسیان میں مبتلا ہو گئے تھے۔ (کچھ روایتوں میں تو دو چار دن ہی ہیں یا دو دن ہیں یا ایک دن اور ایک رات ہے لیکن بہرحال جو بھی جتنے بھی دن تھے۔ کچھ اثر پڑا جو ایک لازمہ ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے تھا اور یہ اس وجہ سے تھا جو آپؐ کو تفکرات تھے اور مسلمانوں کے ایمان میں کمزوری کی وجہ سے بھی آپؐ کو فکر تھی۔) یہ ایک لازمہ بشری ہے جس سے خدا کے نبی تک مستثنیٰ نہیں۔ جب یہودیوں اور منافقوں نے یہ دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آجکل بیمار ہیں اور ضعفِ اعصاب اور ضعفِ دماغ کی وجہ سے آپؐ کو نسیان کا مرض لاحق ہے تو انہوں نے حسب عادت فتنہکی غرض سے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے اور یہ کہ آپؐ کا یہ نسیان وغیرہ (اسی جادو کا نتیجہ ہے) اسی سحر کا نتیجہ ہے۔ اور انہوں نے اپنے قدیم طریق کے مطابق ظاہری علامت کے طور پر ایک کنویں کے اندر کسی کنگھی میں بالوں کی گرہیں وغیرہ باندھ کر اسے بھی دبا دیا۔

جب ان کے اس مزعومہ سحر کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپؐ نے اس فتنہ کے سدّ ِباب کے لیے خدا کے حضور مزید دعا فرمائی (اور جیسا کہ حضرت عائشہؓ نے کہا ہے کہ اس خبر کے پہنچنے کے بعد پھر آپؐ نے ایک دن یا ایک رات بہت شدت سے دعا کی) اور اپنے آسمانی آقا سے استدعا کی کہ وہ اس فتنہ کے بانی مبانی کے نام اور اس کے مزعومہ سحر کے طریق سے آپؐ کو مطلع فرمائے تا آپؐ اس باطل سحر کا تار پود بکھیر سکیں۔ چنانچہ خدا نے آپؐ کی مضطربانہ دعاؤں کو سنا اور رؤیا کے ذریعہ سے آپؐ پر اصل حقیقت کھول دی۔

قرآن کے اصولی ارشاد کہ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی(طٰہٰ:70) (یعنی نبیوں کے مقابل پر کوئی ساحر کسی صورت میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتا خواہ وہ کسی رنگ میں اور کسی جہت سے حملہ آور ہو) پھر قرآن کے اس قطعی فیصلے کی روشنی میں کہ یَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا(بنی اسرائیل:48)کہ ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔ قرآن کریم میں لکھا ہے کافروں نے یہی کہا تھا۔ پھر خود اس حدیث کے الفاظ اور انداز بیان اور محاورہ عرب پر غور کرنے کے نتیجہ میں بخاری کی یہ روایت یقیناً حکایت عن الغیر کے رنگ میں سمجھی جائے گی۔ حکایت عن الغیر کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر کلام کرنے والا اپنی طرف سے کلام کرتا ہے مگر حقیقتاً مراد یہ ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں۔ دوسرے کی بات بیان کی جاتی ہے۔ اس طرح اس روایت کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کیا گیا(یعنی دشمنوں نے مشہور کر دیا کہ آپؐ کو سحر کر دیا گیا ہے) حضرت عائشہؓ نے خود نہیں کہا۔ اس کا ترجمہ اس طرح بنے گا کہ دشمنوں نے ہی مشہور کر دیا کہ آپؐ کو سحر کر دیا گیا ہے حتی کہ ان ایام میں آپؐ بعض اوقات خیال فرماتے تھے کہ آپؐ نےفلاں کام کیا ہے حالانکہ درحقیقت نہیں کیا ہوتا تھا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپؐ بعض اوقات خیال کرتے تھے کہ اپنی فلاں بیوی کے گھر ہو آیا ہوں حالانکہ آپؐ ان کے گھر میں نہیں گئے ہوتے تھے۔ انہی ایام میں حضرت عائشہؓ کی وضاحت کے مطابق آپؐ ایک دن میرے مکان میں تھے اور آپؐ گھبراہٹ میں بار بار خدا کے حضور دعا فرماتے تھے۔ اس دعا کے بعد آپؐ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عائشہ! کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی؟ مَیں نے عرض کیایا رسولؐ اللہ !وہ کیا بات ہے؟ آپؐ نے فرمایا (خواب میں) میرے پاس دو آدمی آئے (یا کشفی رنگ میں۔) ان میں سے ایک میرے سر کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف بیٹھ گیا۔پھر ان میں سے ایک نے دوسرے کو پوچھا کہ اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ انداز گفتگو بھی حکایت عن الغیر کا ہے، دوسرے کے حوالے سے بات کرنے کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور پھر وہی لمبی بات جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ اس کو تکلیف یہ ہے کہ فلاں یہودی نے جادو کیا ہے اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کا اثر ہے۔ پھر حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ اس خواب کے بعد یا اس کشف کے بعد آپؐ اپنے بعض صحابہؓ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اس کا معائنہ فرمایا۔ اس پر کھجوروں کے کچھ درخت اُگے ہوئے تھے (یعنی وہ اندھا سا کنواں تھا)۔پھر آپؐ حضرت عائشہؓ کے پاس واپس تشریف لائے اور ان سے فرمایا عائشہ !میں اسے دیکھ آیا ہوں۔ اس کنویں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح سرخی مائل ہو رہا ہے (یہودیوں کا طریق تھا کہ لوگوں کی نظروں کو دھوکا دینے کے لیے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے ایسے کنویں کے پانی کو رنگ دیتے تھے) اور اس کے کھجور کے درخت، تھوہر کے درختوں کی طرح مکروہ نظر آتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپؐ نے اس کنگھی وغیرہ کو باہر نکال کر پھینک کیوں نہیں دیا؟ بعض میں آتا ہے کہ جلا کیوں نہیں دیا؟ آپؐ نے فرمایا خدا نے مجھے محفوظ رکھا اور مجھے شفا دے دی تو پھر میں اسے باہر پھینک کر لوگوں میں ایک بری بات کا چرچا کیوں کرتا؟ (جس سے کمزور طبیعت کے لوگوں میں سحر کی طرف خواہ نخواہ توجہ پیدا ہونے کا اندیشہ تھا) پس اس کنویں کو دفن کر کے بند کروا دیا گیا۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ یاد رکھنا چاہیے کہ حکایت عن الغیر (یعنی دوسروں کے حوالے سے جب بات کی جاتی ہے یا دوسروں کی بات کو آگے بیان کیا جاتا ہے) اس کا طریق کلام عربوں میں رائج تھا بلکہ خود قرآن کریم نے بھی بعض جگہ اس طرز کلام کو اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ دوزخیوں کو مخاطب کر کے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ذُقْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْکَرِیْمُ (الدخان:50) کہ یعنی اے جہنم میں ڈالے جانیو الے شخص!تو خدا کے اس عذاب کو چکھ ۔بے شک تُو بہت عزت والا اور بڑا شریف انسان ہے۔

اس جگہ یہ مراد ہرگز نہیں کہ نعوذ باللہ خدا دوزخیوں کو معزز اور شریف خیال کرتا ہے بلکہ حکایت عن الغیر کے رنگ میں مراد یہ ہے کہ اے وہ انسان جسے اس کے ساتھی اور وہ خود معزز اور شریف خیال کرتے تھے (دنیا میں غلط کام کرنے کے بعد سمجھتے تھے ہم بہت معزز ہیں) تو اب خدا کے آگ کے عذاب کا مزاچکھ۔ بعینہ ٖیہی رنگ اس رؤیا میں ان دو آدمیوں یا دو فرشتوں نے اختیار کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رؤیا میں نظر آئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے جب یہ کہا کہ اس شخص کو سحر کیا گیا ہے تو ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ ہمارے خیال میں سحر کیا گیا ہے مگر مراد یہ تھی کہ لوگ کہتے ہیں کہ اسے سحر کیا گیا ہے۔ (جادو کیا گیا ہے) اور خواب کی اصل غرض و غایت اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ جو چیز ان خبیثوں نے چھپا کر اس کنویں میں رکھی ہوئی تھی اور اس کے ذریعہ وہ اپنے ہم مشرب لوگوں کو دھوکا دیتے تھے۔ (اپنے جیسے لوگوں کو دھوکا دیتے تھے، مشہور کر رہے تھے، منافقوں میں باتیں پھیلا رہے تھے) ،اسے خدا اپنے رسولؐ پر ظاہر کر دے تا ان کے مزعومہ سحر کو ملیا میٹ کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے سحر کا آلہ سپرد خاک کر دیا گیا اور کنویں کو پاٹ دیا گیا اور بالواسطہ طور پر اس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کا یہ فکر بھی کہ یہ لوگ اس قسم کی شرارتیں کر کے سادہ مزاج لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں زائل ہو گیا اور یہ خدائی وعدہ بڑی آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا کہ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی(طٰہٰ:70) یعنی ایک ساحر خواہ کوئی سا طریق اختیار کرے وہ خدا کے ایک نبی کے مقابلے پر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔

بہرحال اوپر والی حدیث سے ذیل کی باتیں ثابت ہوتی ہیں:

یہ کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ کے بعد جس کی وجہ سے طبعاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کی لغزش کے خیال سے کافی فکر مند تھے اور آپؐ کئی دنیوی باتیں جو گھریلو معاملات سے تعلق رکھتی تھیں بھول جاتے تھے۔

دوسرے آپؐ کی اس حالت کو دیکھ کر یہودیوں اور منافقوں نے جو ہمیشہ ایسی باتوں کی آڑ لے کر اسلام اور مقدّس بانیٔ اسلام کو بدنام کرنا چاہتے تھے یہ مخفی چرچا شروع کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے۔ ان کا یہ چرچا ایسا ہی تھا جیسا کہ انہوں نے غزوۂ بنی مصطلق میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے حضرت عائشہؓ کو بدنام کرنا شروع کر دیا تھا اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تلخ کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔

تیسرےیہ کہ اس مزعومہ سحر کی ظاہری علامت کے طور پر تا کہ سادہ طبع لوگوں کو زیادہ آسانی سے دھوکا دیا جا سکے ان خبیث فطرت لوگوں نے ایک یہودی نسل منافق لبید بن الاعصم کے ذریعہ اپنے طریق کے مطابق ایک کنگھی میں کچھ بالوں کی گرہیں باندھ کر اسے کنویں میں دبا دیا اور مخفی گپ شپ شروع ہو گئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید پریشانی کا موجب ہوئی۔

چوتھی بات یہ کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حضور اضطراب کے ساتھ دعائیں کیں کہ خدایا تو اپنے فضل سے اس فتنہ کا سدّباب فرما اور مجھ پر اس کی حقیقت کو کھول دے تا کہ میں اس فتنہ کا ازالہ کر کے سادہ مزاج لوگوں کو ٹھوکر سے بچا سکوں۔ چنانچہ وہ بہ قبولیتِ دعا ظاہر ہو گیا۔

پانچویں یہکہ خدا تعالیٰ نے آپؐ کی ان دعاؤں کو سنا اور لَبِید بن الاعصَم کی شرارت کا پول کھول دیا جس پر آپؐ چند گواہوں کی معیت میں اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اس کنگھی کو سپرد خاک کر دیا بلکہ کنویں تک کو پاٹ دیا تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

بالآخریہ سوال رہ جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خدا تعالیٰ کے ایک عالی شان نبی بلکہ افضل الرسلؐ اور خاتم النبیینؐ تھے آپؐ کو نسیان کا عارضہ کیوں لاحق ہوا جو بظاہر فرائض نبوت کی ادائیگی میں رخنہ انداز ہو سکتا ہے؟ تو اس کے جواب میں اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ ہر نبی کی دوہری حیثیت ہوتی ہے۔ ایک پہلو کے لحاظ سے خدا کا نبی اور رسول ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کلام سے مشرف ہوتا ہے اور دینی امور میں اپنے متبعین کا استاد قرار پاتا ہے اور ان کے لیے اسوہ بنتا ہے اور دوسرے پہلو کے لحاظ سے وہ انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے اور تمام ان بشری لوازمات اور طبعی خطرات کے تابع ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے قُلْ اِنّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ(الکہف:111) یعنی اے رسول !تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں (اور تمام ان قوانین کے تابع ہوں جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں )ہاں میں یقیناً خدا کا ایک رسول بھی ہوں اور خدا کی طرف سے مخلوق خدا کی ہدایت کے لیے وحی و الہام سے نوازا گیا ہوں۔ یہ اس کا تفسیری ترجمہ ہے۔

اس لطیف آیت میں انبیاء کی دُہری حیثیت کو نہایت عمدہ طریق پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی انہیں ایک جہت سے دوسرے انسانوں سے ممتاز کیا گیا ہے اور دوسری جہت سے ان کو دوسرے انسانوں کی صف سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔ پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انبیاء بشری لوازمات اور انسان کے طبعی خطرات سے بالا ہوتے ہیں وہ جھوٹا ہے۔ یقیناً انبیاء بھی اسی طرح بیمار ہوتے ہیں جس طرح کہ دوسرے انسان بیمار ہوتے ہیں۔ حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ وہ ملیریا بخار ،ٹائیفائیڈ، (ضمناً یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ظاہری علامات جو درج ہیں۔ حدیث اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرض ٹائیفائیڈ سے فوت ہوئے تھے) سِل،دق، دمہ، نزلہ، کھانسی، نقرس، دورانِ سر،اعصابی تکلیف، ذکاوت حس، گھبراہٹ،بے چینی ،دماغی کوفت، نسیان، حوادث کے نتیجہ میں چوٹیں اور زخم، لڑائی کی ضربات وغیرہ وغیرہ سب کی زَد میں نبی آ سکتے ہیں اور آتے رہے ہیں۔ سوائے اس کے کہ کسی خاص نبی کو خدا کی طرف سے استثنائی طور پر کسی خاص بیماری سے حفاظت کا وعدہ دیا گیا ہو۔ اگر اس جگہ کسی کو یہ خیال گزرے کہ قرآن تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی(الاعلیٰ:7)۔ (یعنی ہم تجھے ایک ایسی تعلیم دیں گے جسے تُو نہیں بھولے گا) تو اس کے جواب میں اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وعدہ صرف قرآنی وحی کے متعلق ہے نہ کہ عام۔ اور مراد یہ ہے کہ اے رسولؐ! ہم اپنی جو وحی تجھ پر امت کی ہدایت کے لیے نازل کریں گے اسے تُو نہیں بھولے گا اور ہم قیامت تک اس کی حفاظت کریں گے۔ عام روز مرہ کی باتوں اور دنیوی امور یا دینی اعمال کے ظاہری مراسم کے متعلق یہ وعدہ ہرگز نہیں ہے۔ چنانچہ حدیث سے ثابت ہے کہ آپؐ کئی موقعوں پر بشری لوازمات کے ماتحت بھول جاتے تھے بلکہ حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ آپؐ بعض اوقات نماز پڑھاتے ہوئے رکعتوں کی تعداد کے متعلق بھی بھول گئے اور لوگوں کے یاد کرانے پر یاد آیا۔ بخاری اور مسلم دونوں میں یہ حدیث موجود ہے۔ اسی طرح اَور کئی موقعوں پر آپؐ بھول جاتے تھے۔

بلکہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے متعلق فرمایا ہے کہ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ فَاِذَا نَسِیْتُ فَذَکِّرُوْنِیْ (ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب اذَا صلّٰی خمسًا)یعنی مَیں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور جس طرح تم کبھی بھول جاتے ہو میں بھی بھول سکتا ہوں۔ پس اگر میں کسی معاملہ میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلا دیا کرو۔

پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کبھی عام اور وقتی نسیان ہو جاتا تھا اسی طرح صلح حدیبیہ کے بعد کچھ عرصہ کے لیے بیماری کے رنگ میں نسیان ہو گیا تھا۔ چنانچہ یہی وہ تشریح ہے جو سحر والی روایت کے مطابق روایت کے تعلق میں بعض گزشتہ علماء نے کی ہے۔ مثلاً علامہ مَازَرِیّ فرماتے ہیں کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر بیشمار پختہ دلائل موجود ہیں اور آپؐ کے معجزات بھی آپؐ کی سچائی پر گواہ ہیں۔ باقی عام دنیا کے امور جن کے لیے آپؐ مبعوث نہیں کیے گئے تھے سو اس تعلق میں یہ ایک بیماری کا عارضہ سمجھا جائے گا جیسا کہ انسان کو دوسری بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔

اور علّامہ اِبنُ القَصَّار فرماتے ہیں کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو یہ عارضہ نسیان کا پیش آیا تو یہ بیماریوں میں سے ایک بیماری تھی جیسا کہ حدیث کے ان آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ اللہ نے مجھے شفا دے دی ہے۔ (اس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔)

خلاصہ کلام یہ کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حالت جسے دشمنوں کے سحر کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے وہ ہرگز کسی سحر، جادو وغیرہ کا نتیجہ نہیں تھی۔ بلکہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت محض بھولنے کی تکلیف تھی۔ نسیان کی بیماری تھی جسے بعض فتنہ پرداز لوگوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف پراپیگنڈے کا ذریعہ بنا لیا۔ قرآن مجیدنبیوں پر سحر کے قصہ کو دور سے ہی دھکے دیتا ہے، ردّ کر دیتا ہے۔ عقل انسانی اسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔ حدیث کے الفاظ اس تشریح کو جھٹلاتے ہیں جو اس پر مڑھی جا رہی ہے۔ اور خود سرور کائنات افضل الرسلؐ کا ارفع مقام سحر والے قصہ کے تار پود بکھیر رہا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ جیسا کہ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (اس وقت اُن کی زندگی کی بات کر رہے ہیں) کی روایت ہے۔ اس روایت کے مطابق سیرۃ المہدی کے حصہ اول کی روایت نمبر 75 میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ ایک متعصّب ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھا قادیان آیا تھا۔ اور وہ علم توجہ یعنی ہپناٹزم کے سحر کا بڑا ماہر تھا۔ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ہو کر آپؑ پر خاموشی کے ساتھ توجہ ڈالنا شروع کی تا کہ آپؑ سے بعض نازیبا حرکات کر اکے آپؑ کو لوگوں کی ہنسی کا نشانہ بنائے مگر جب آپؑ نے اس پر توجہ ڈالی تو وہ چیخ مار کر بھاگا۔ اور جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں یہ کیا ہوا تھا تو اس نے جواب دیا کہ جب میں نے مرزا صاحبؑ پر توجہ ڈالی تو مجھے یوں نظر آیا کہ میرے سامنے ایک خوفناک شیر کھڑا ہے جو مجھ پر حملہ کرنے والا ہے اور مَیں اس سے ڈر کر بھاگ نکلا ہوں۔ تو آپؓ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں، جب خادم کا یہ مقام ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ہپناٹزم کا اثر نہیں ہونے دیا تو آقا کے متعلق یہ خیال کرنا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ خیال کرنا کہ آپؐ نعوذ باللہ ایک یہودی کے ہپناٹزم کا نشانہ بن گئے تھے یہ کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے۔

(ماخوذ ازمضامین بشیر جلد 3 صفحہ 642 تا 653 مضامین 1959ء)

آخر میں زمانے کے حکم اور عدل کے اس بارے میں ارشادات پڑھ دیتا ہوں جو سب وضاحتوں اور تشریحوں پر حاوی ہیں۔

ایک شخص نے آپؑ کی مجلس میں سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں نے جو جادو کیا تھا اس کی نسبت آپؑ کا کیا خیال ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ‘‘جادو بھی شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ رسولوں اور نبیوں کی یہ شان نہیں ہوتی کہ ان پر جادو کا کچھ اثر ہو سکے۔ بلکہ ان کو دیکھ کر جادو بھاگ جاتا ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی(طٰہٰ:70) دیکھو حضرت موسیٰؑ کے مقابل پر جادو تھا آخر موسیٰؑ غالب ہوا کہ نہیں؟ یہ بات بالکل غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر جادو غالب آ گیا۔ ہم اس کو کبھی نہیں مان سکتے۔ آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے برخلاف ہے۔ یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے عالی شان نبی پر جادو اثر کر گیا ہو۔ ایسی باتیں کہ اس جادو کی تاثیر سے (معاذ اللہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظہ جاتا رہا ،یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا کسی صورت میں صحیح نہیں ہو سکتیں۔’’

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ‘‘معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملا دی ہیں۔ گو ہم نظر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کے برخلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔ اس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا۔ گو انہوں نے (یعنی جو حدیثیں جمع کرنے والوں نے) سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے۔ (باوجود بڑی احتیاطیں کرنے کے) وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے۔’’ دیکھو اور غور کرو۔ کوئی حدیث قرآن کریم یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت اور تقدّس سے ٹکراتی ہے تو وہ ردّ کرنے کے لائق ہے یا اس کی کچھ اَور تشریح ہے جس طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے کی یا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘‘آثارِ نبیؐ جمع کرنا بڑے ثواب کا کام ہے۔ (نبیوں کی زندگی کے حالات جمع کرنا ثواب کا کام ہے۔ ان کی باتیں جمع کرنا ثواب کا کام ہے) لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے۔ اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے۔ جو ماننے والی ہووہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے۔ ایسی بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ) جادو کا اثر ہو گیا تھا اس سے تو ایمان اٹھ جاتا ہے۔ ’’آپؑ فرماتے ہیں کہ ‘‘خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ یَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا(بنی اسرائیل:48) (کہ جب ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔ جس پر جادو ہوا ہوا ہے۔ جادو کے زیر اثر ہے۔) ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ مسلمان۔ یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر (معاذ اللہ) سحر اور جادو کا اثر ہو گیا تھا۔ اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے تو پھر امت کا کیا ٹھکانہ؟ وہ تو پھر غرق ہو گئی۔ معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاءمسّ شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں یہ ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں۔’’

(ملفوظات جلد 9 صفحہ 471-472)

الحمد للہ کہ ہم زمانے کے امامؑ کو مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو بھی سمجھنے والے ہیں، پہچاننے والے ہیں۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button