خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ فرمودہ یکم مارچ 2019ء

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ یکم؍ مارچ2019ء بمطابق یکم؍امان1398 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

بدری صحابہ کے واقعات کا یا ان کی زندگی کے پہلوؤں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ آج بھی اس سلسلہ میں چند صحابہ کا ذکر کروں گا۔ حضرت خَوْلِیْ بِنْ اَبِیْ خَوْلِیْؓ۔ حضرت خَوْلِیؓغزوۂ بدر اور احد اور تمام غزوات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ اَبُو مَعْشَر اور محمد بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت خَوْلِیؓ غزوۂ بدر میں اپنے بیٹے کے ساتھ شریک ہوئے مگر انہوں نے بیٹے کا نام ذکر نہیں کیا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں (یہ سارےتاریخ دان ہیں) کہ حضرت خَوْلِیؓ اپنے بھائی مالک بن اَبِی خَوْلِیؓ کے ساتھ بدر میں شریک تھے۔ ایک قول کے مطابق غزوۂ بدر میں حضرت خَوْلِیؓ اور آپ کے دو بھائی حضرت ہِلال بن ابی خَوْلِیؓ اور حضرت عبدُاللّٰہ بن اَبِی خَوْلِیؓ بھی شامل تھے۔ حضرت خَوْلِیؓ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 299 خَوْلِی بن ابی خَوْلِی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

دوسرے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رَافِع بِن الْمُعَلّٰیؓ۔ حضرت رَافِع بِن الْمُعَلّٰیؓکا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بَنُوحَبِیْب سے تھا۔ آپ کی والدہ کا نام اِدَامْ بنتِ عَوْف تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رَافِعؓاور حضرت صَفْوَان بن بَیْضَاءؓکے درمیان عقدِ مؤاخات قائم فرمایا۔ یہ دونوں اصحاب غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔ بعض روایات کے مطابق دونوں ہی غزوۂ بدر میں شہید ہوئے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت صَفْوَان بن بَیْضَاءؓ غزوۂ بدر میں شہید نہیں ہوئے تھے۔ مُوْسیٰ بن عُقْبَہکی روایت ہے کہ حضرت رَافِعؓ اور آپؓ کے بھائی ہِلَال بن مُعَلَّیؓدونوں غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ حضرت رَافِعکو عِکْرِمَہ بن ابوجہل نے غزوۂ بدر میں شہید کیا تھا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 450 رافع بن المعلیٰ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
(الاستیعاب جلد 2صفحہ 484-485 رافع بن المعلیٰ مطبوعہ دار الجیل بیروت 1992ء)

اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ذُوالشِّمَالَیْنِ عُمَیْر بن عَبْدِ عَمْروؓ۔ ان کا اصل نام عمیرؓ تھا، اور کنیت ابو محمد۔ حضرت عمیر کی کنیت ابو محمد تھی جیسا کہ بتایا۔ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ آپؓ کو ذُوالشِّمَالَیْنِ کہا جاتا تھا۔ یہ نام نہیں تھا بلکہ یہ ان کو ایک لقب مل گیا تھا کیونکہ آپؓ بائیں ہاتھ سے زیادہ کام لیتے تھے۔ دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپؓ اپنے دونوں ہاتھوں سے کام کر لیتے تھے۔ ایک طرح استعمال کر لیتے تھے۔ اس لیے آپؓ کو ذُوالْیَدَیْنِ بھی کہتے تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنو خُزَاعَہ سے تھا۔ آپ بنو زُہْرَہ کے حلیف تھے۔ حضرت عمیرؓمکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو حضرت سَعْدِ بن خَیْثَمَہ ؓکے ہاں قیام کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کی یزید بن حارث ؓکے ساتھ مؤاخات قائم فرمائی۔ یہ دونوں صحابہ غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے۔ آپؓ غزوۂ بدر میں شہید ہوئے جیسا کہ ذکر ہو گیا ہے اور آپؓ کو اُسَامہ جُشَمِی نے شہید کیا تھا۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 30 سال سے زائد تھی۔ طبقات الکبریٰ میں ابو اُسَامہ جُشَمِی نام آیا ہے کہ اس نے قتل کیا تھا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 124-125 ذوالیدین و یقال ذو الشمالین مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء) (سیرت ابن ہشام صفحہ 327 باب من حضر بدرا من بنی زھرۃ و حلفائھم مطبوعہ دار ابن حزم بیروت 2009ء) (اسد الغابہ جلد 2صفحہ 217ذو الشمالین مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رَافِع بن یَزِیدؓ۔ ایک روایت میں آپؓ کا نام رافع بن زیدؓ بھی بیان کیا گیا ہے۔ حضرت رافع بن یزید کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بَنُو زَعُوْرَاءبن عبدِالْاَشْہَلسے تھا ۔ حضرت رافعؓ کی والدہ عَقْرَب بنتِ مُعَاذمشہور صحابی حضرت سعد بن مُعاذؓ کی بہن تھیں۔ حضرت رافعؓ کے دو بیٹے اُسَیْد اور عبدالرحمٰن تھے۔ ان دونوں کی والدہ کا نام عَقْرَب بنتِ سَلَامَہ تھا۔ حضرت رافع غزوۂ بدر و اُحد میں شریک ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق آپ غزوۂ بدر کے دن سعید بن زیدؓ کے اونٹ پر سوار تھے۔ آپؓ غزوۂ اُحد میں شہید ہوئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 337 رافع بن یزیدمطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)
(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 235 رافع بن زیدمطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ذَکْوَان بِن عَبْد قَیْسؓ۔ ان کی کنیت ابوالسَّبُع تھی۔ حضرت ذَکْوَان ؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زُرَیْقسے تھا۔ آپؓ کی کنیت ابو السَّبُع ہے۔ آپؓ بیعتِ عقبہ اولیٰ اور ثانیہ میں بھی شریک رہے۔ آپؓ کی ایک نمایاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپؓ مدینہ سے ہجرت کر کے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ گئے۔ اس وقت تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہی تھے۔ آپؓ کو انصاری مہاجر کہا جاتا تھا۔ آپؓ وہاں مکہ جا کے کچھ عرصہ رہے۔ یا سمجھنا چاہیے کہ ہجرت کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے ۔ آپؓ غزوۂ بدر اور احد میں شریک تھے اور غزوۂ احد میں شہادت کا رتبہ پایا۔ آپؓ کو ابوحَکَمْ بِن اَخْنَسنے شہید کیا تھا۔ حضرت ذَکْوَان بِن عَبْد قَیْسکو انصاری مہاجر کہا جاتا ہے۔

(اسد الغابہ جلد2صفحہ 210 ذکوان بن عبد قیس مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

علامہ ابن سعد طبقاتِ کبریٰ میں لکھتے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے وقت جب مسلمان مدینہ روانہ ہوئے تو قریش سخت ناراض تھے اور جو نوجوان ہجرت کر کے جا چکے تھے ان پر انہیں بہت غصہ آیا۔ انصار کے ایک گروہ نے عَقَبہ ثانیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور اس کے بعد واپس مدینہ چلے گئے تھے۔ جب ابتدائی مہاجرین قبُاَ پہنچ گئے تو یہ انصار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ گئے اور آپؐ کے اصحاب کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ اسی مناسبت سے انہیں انصار مہاجرین کہا جاتا ہے۔ ان اصحاب میں حضرت ذَکْوَان بِن عَبْدِ قَیْسحضرت عُقْبَہ بن وَہَب ؓحضرت عباس بن عُبَادۃؓ اور اور حضرت زِیَاد بن لَبِیدؓ شامل تھے۔ اس کے بعد تمام مسلمان مدینہ چلے گئے تھے سوائے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت علیؓ کے یا وہ جو فتنہ میں تھے، قید میں تھے، مریض تھے یا وہ ضعیف اور کمزور تھے۔
(الطبقات الکبریٰ جلد 1صفحہ 175 ذکر اذن رسول اللہؐ للمسلمین فی الھجرۃ الی المدینۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

سُہَیل بن ابی صالح سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحُد کے لیے نکلے۔ آپؐ نے ایک مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس طرف کون جائے گا؟ بَنِی زُرَیْق میں سے ایک صحابی حضرت ذَکْوَان بِن عَبْد قَیْساَبُوالسَّبْعکھڑے ہوئے ۔کہنے لگے یا رسولؐ اللہ! میں جاؤں گا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم کون ہو؟ حضرت ذَکْوَان نے کہا کہ میں ذَکْوَان بن عَبْدِ قَیْس ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ جانے کا ارشاد فرمایا۔ آپؐ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ فلاں فلاں جگہ پر چلے جاؤ۔ اس پر حضرت ذَکْوَان بِن عَبْدِ قَیْس نے عرض کی یا رسول ؐاللہ! یقیناً میں ہی ان جگہوں پر جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہتا ہے جو کل جنت کے سبزے پر چل رہا ہو گا تو اس شخص کی طرف دیکھ لے۔ اس کے بعد حضرت ذکوان اپنے اہل خانہ کو الوداع کہنے گئے۔ آپؓ کی ازواج اور بیٹیاں آپؓ سے کہنے لگیں کہ آپؓ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں! انہوں نے اپنا دامن ان سے چھڑایا اور تھوڑا دُور ہٹ کر ان کی طرف رخ کر کے مخاطب ہوئے کہ اب بروز قیامت ہی ملاقات ہو گی۔ اس کے بعد غزوۂ احد میں ہی آپؓ نے شہادت کا رتبہ پایا ۔

(معرفۃ الصحابہ لابی نعیم جلد 2 صفحہ 248 ذکوان بن عبد قیس بن خالد حدیث 2621 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

غزوۂ اُحُد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ کسی کو ذَکْوَان بن عَبْدِ قَیسکا علم ہے؟ حضرت علیؓ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے ایک گھڑ سوار دیکھا جو ذَکْوَانکا پیچھا کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ ان کے قریب پہنچ گیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا کہ اگر آج تم زندہ بچ گئے تو میں نہیں بچ سکوں گا۔ اس نے حضرت ذَکْوَان ؓجو کہ پیادہ پا تھے پر حملہ کر کے آپؓ کو شہید کر دیا اور انہوں نے عرض کیا کہ یہ کہتے ہوئے آپؓ پر وار کر رہا تھا کہ دیکھو میں ابنِ عِلَاجْ ہوں۔ حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کی ٹانگ پر اپنی تلوار مار کر نصف ران سے کاٹ ڈالا۔ پھر اسے گھوڑے سے اتارا اور اسے قتل کر دیا۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں۔ میں نے دیکھا تھا کہ وہ اَبُو الْحَکَم بن اَخْنَستھا۔

(کتاب المغازی للواقدی جلد 1 صفحہ 245 باب غزوہ احد مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2013ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت خَوَّاتُ بْنُ جُبَیْر انصاری۔ ان کی کنیت ابو عبداللہ اور ابو صالح بھی تھی۔ حضرت خَوَّات ؓ کا تعلق بنو ثَعْلَبَہ سے تھا اور حضرت خَوَّات بن جُبَیْرحضرت عبداللّٰہ بْن جُبَیْر کے بھائی تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد میں درّے کی حفاظت کے لیے پچاس تیر اندازوں کے ساتھ مقرر فرمایا تھا،یعنی ان کے بھائی کو (مقرر فرمایا)۔ حضرت خَوَّاتؓدرمیانے قد کے تھے۔ آپؓ نے چالیس ہجری میں 74برس کی عمر میں مدینہ میں وفات پائی۔ ایک روایت کے مطابق وفات کے وقت آپؓ کی عمر 94 سال تھی۔ آپؓ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگایا کرتے تھے۔ حضرت خَوَّات ؓبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر کے لیے روانہ ہوئے لیکن راستے میں ایک پتھر کی نوک لگنے سے آپؓ زخمی ہو گئے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو واپس مدینہ بھجوا دیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو غزوۂ بدر کے مالِ غنیمت اور اجر میں شامل فرمایا۔ گویا آپؓ ان لوگوں کی طرح ہی تھے جو غزوۂ بدر میں شامل ہوئے۔ آپؓ غزوۂ احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔

حضرت خَوَّات ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام مَرَّ الظَّھْرَان میں پڑاؤ کیا۔ کہتے ہیں کہ میں اپنے خیمے سے نکلا تو کچھ عورتیں باتیں کر رہی تھیں۔ مجھے یہ دیکھ کر دلچسپی پیدا ہوئی۔ پس میں واپس گیا اور ایک جُبَّہ پہن کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اپنے آپ کو چھپا لیا اور عورتوں کی باتیں سننے کے لیے وہاں بیٹھ گیا۔ اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر تشریف لائے۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ڈر گیا اور آپؐ سے کہا کہ میرا اونٹ بھاگ نکلا ہے میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں کھڑا ہو گیا اور فوری طور پہ عرض کیا۔ آپؐ چل پڑے۔ آگے چلے گئے۔ میں بھی آپؐ کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔ آپؐ نے اپنی چادر مجھے پکڑائی جو اوڑھی ہوئی تھی اور جھاڑیوں میں چلے گئے اور رفع حاجت کے بعد آپؐ نے وضو کیا اور واپس آئے۔ آپؐ کی داڑھی سے پانی کے قطرے آپؐ کے سینے پر گر رہے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہِ مزاح مجھ سے پوچھا کہ اے ابوعبداللہ!اس اونٹ نے کیا کیا؟ اب اونٹ تو کوئی نہیں گُما تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس ہو گیا تھا کہ ویسے ہی یہ باتیں سننے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ چیز اچھی نہیں ہے۔ بہرحال کہتے ہیں۔ پھر ہم روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد جب بھی آپؐ مجھے ملتے ،سلام کرتے اور پوچھتے کہ ابوعبداللہ اس اونٹ نے کیا کیا؟ جب اس طرح بار بار ہونا شروع ہوا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے مزاح کے طور پہ مجھے چھیڑتے تھے تو میں مدینہ میں چھپ کر رہنے لگا اور مسجد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے الگ رہنے لگا۔ جب اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا تو مسجد گیا اور نماز کے لیے کھڑا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے حجرے سے باہر تشریف لے آئے۔ آپؐ نے دو رکعت نماز ادا کی۔ میں اس امید پر نماز لمبی کرتا گیا کہ آپؐ تشریف لے جائیں اور مجھے چھوڑ دیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوعبداللہ! جتنی مرضی نماز لمبی کر لو۔ مَیں یہیں ہوں۔ مَیں نے اپنے دل میں کہا کہ اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت کر کے آپؐ کا دل اپنے بارے میں صاف کر دوں گا۔ جب مَیں نے سلام پھیرا تو آپؐ نے فرمایا کہ ابو عبداللہ ! تم پر سلامتی ہو۔ اس اونٹ کے بھاگ جانے کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کیا۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے وہ اونٹ نہیں بھاگا۔ آپؐ نے تین بار فرمایا کہ اللہ تم پر رحم کرے۔ پھر اس کے بعد آپؐ نے کبھی مجھے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 362 تا 364 عبد اللہ بن جبیر،خوات بن جبیر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 190 خوات بن جبیر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء) گویا ایک تو اس بات سے کہ مجھ سے نہ چھپاؤ مجھے پتہ ہے اصل قصہ کیا ہے۔ دوسرے اس طرح بیٹھ کے بلا وجہ لوگوں کی مجلس میں ان کی باتیں سننا جو ہے وہ غلط چیز ہے۔

حضرت خَوَّات ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت فرمائی۔ جب میں شفا یاب ہو گیا تو آپؐ نے فرمایا۔ اے خَوَّات! تمہارا جسم تندرست ہو گیا ہے۔ پس جو تم نے اللہ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کرو۔ میں نے عرض کیا۔ میں نے اللہ سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ کوئی بھی مریض ایسا نہیں کہ جب وہ بیمار ہوتا ہے تو کوئی نذر نہیں مانتا یا نیت نہیں کرتا۔ ضرور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے تندرست کر دے تو میں یہ کروں گا، وہ کروں گا۔ پس اللہ سے کیا ہوا وعدہ وفا کرو۔ جو بھی تم نے بات کہی ہے اسے پورا کرو۔(مستدرک علی الصحیحین جلد 3صفحہ 467کتاب معرفۃ الصحابہ باب ذکر مناقب خوات بن جبیر الانصاری حدیث5750 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2002ء)پس یہ ایسی بات ہے جو ہم سب کے لیے قابل غور اور قابل توجہ ہے۔

غزوۂ خندق کے موقع پر جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع ملی تو آپؐ نے ایک وفد ان کی طرف بھیجا۔ اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے وہ واقعہ اس طرح ہے کہ

‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بنو قریظہ کی اس خطرناک غداری کا علم ہوا تو آپؐ نے پہلے تو دو تین دفعہ خفیہ خفیہ زُبیر بن العوامؓ کو دریافت حالات کے لیے بھیجا اور پھر باضابطہ طور پر قبیلہ اوس و خزرج کے رئیس سعد بن مُعَاذؓ اور سعد بن عُبَادہؓ اور بعض دوسرے بااثر صحابہ کو ایک وفد کے طور پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو یہ تاکید فرمائی کہ اگر کوئی تشویشناک خبر ہو تو واپس آ کر اس کا برملا اظہار نہ کریں بلکہ اشارہ کنایہ سے کام لیں تاکہ لوگوں میں تشویش نہ پیدا ہو۔ جب یہ لوگ بنوقریظہ کے مساکن میں پہنچے۔’’جہاں ان کی رہائش تھی، گھر تھے ‘‘اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے پاس گئے تو وہ بدبخت ان کو نہایت مغرورانہ انداز سے ملا اور سعدَیْن’’ یعنی سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ ‘‘کی طرف سے معاہدہ کا ذکر ہونے پر وہ اور اس کے قبیلہ کے لوگ بگڑ کر بولے کہ ‘‘جاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔’’ یہ الفاظ سن کر صحابہ کا یہ وفد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مناسب طریق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالات سے اطلاع دی۔’’

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 584-585)

یہ بھی ہے کہ صحابہ کی اس صحبت میں حضرت خَوَّاتُ بن جبیر ؓبھی شامل تھے۔

(سیرت ابن ہشام صفحہ 456 باب غزوۃ الخندق فی سنۃ خمس مطبوعہ دار ابن حزم 2009ء)

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خَوَّاتؓ کو اپنے گھوڑے پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور اس گھوڑے کا نام جَنَاح تھا۔

(مستدرک علی الصحیحین جلد 3صفحہ 466 کتاب معرفۃ الصحابہ باب ذکر مناقب خوات بن جبیر الانصاری حدیث 5747 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2002ء)

حضرت خواتؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئے۔ اس قافلے میں ہمارے ساتھ حضرت ابو عُبَیدہ بن جَرَّاحؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بھی تھے۔ لوگوں نے کہا کہ ہمیں ضِرَار، (ضِرَار بن خَطَّاب قریش کا ایک شاعر تھا جو فتح مکہ پر ایمان لائے تھے) کے اشعار سناؤ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ابوعبداللہ یعنی خَوَّات کو اپنے اشعار سنانے دو۔ اس پر میں انہیں اشعار سنانے لگا یہاں تک کہ سحر ہو گئی۔ تب حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ بس کر دو کہ اب وقت سحر ہے۔

(الاصابہ جلد 2صفحہ 292 خوات بن جبیرؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1995ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 6صفحہ 10 ضرار بن الخطابؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رَبِیْعَہ بن اَکْثَم ؓ۔ان کی کنیت ابو یَزِید تھی۔ حضرت ربیعہؓ چھوٹے قد اور موٹے جسم کے مالک تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ اَسَد بن خُزَیْمَہ سے تھا۔ حضرت ربیعہؓ کا شمار مہاجر صحابہ میں ہوتا ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد آپؓ نے چند دیگر صحابہ کے ہمراہ حضرت مُبَشَّرْ بن عبدُالْمُنْذِر ؓکے گھر میں قیام کیا۔ غزوۂ بدر میں شمولیت کے وقت آپؓ کی عمر تیس برس تھی۔ غزوۂ بدر کے علاوہ آپؓ نے غزوۂ احد، غزوۂ خندق، صلح حدیبیہ اور غزوۂ خیبر میں بھی شرکت کی اور غزوۂ خیبر میں ہی شہادت کا رتبہ بھی پایا۔ آپ کو حارث نامی یہودی نے نَطَاۃْ کے مقام پر شہید کیا۔ نَطَاۃْ خیبر میں موجود ایک قلعہ کا نام ہے۔ شہادت کے وقت آپؓ کی عمر 37 سال تھی۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 257 ربیعہ بن اکثم مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد3صفحہ 66,70 عبد اللّٰہ بن جحش، ربیعہ بن اکثم مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رِفَاعَہ بِن عَمْرو الْجُہَنِیؓ۔ ان کا نام وَدِیْعَہ بن عَمْرو بھی بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت رِفَاعَہؓ غزوۂ بدر اور اُحُد میں شریک ہوئے۔ آپؓ انصار کے قبیلہ بنو نجار کے حلیف تھے۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 287رفاعۃ بن عمرو الجہنی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت زَیْد بِن وَدِیْعَہؓ۔ حضرت زید ؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔ آپؓ نے بیعتِ عقبہ، غزوۂ بدر اور اُحُد میں بھی شرکت کی اور غزوۂ احد میں ہی شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 377 زید بن ودیعۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

حضرت زیدؓ کی والدہ اُمِّ زَیْد بنتِ حَارِث تھیں۔ آپؓ کی اہلیہ کا نام زینب بنت سہل تھا۔ جس سے آپؓ کے تین بچے سَعد بن زَید۔ اُمَامَہ اور اُمِّ کَلْثُوم شامل ہیں۔ آپؓ کے بیٹے سعد حضرت عمرؓ کے دَورِ خلافت میں عراق آ گئے تھے اور وہاں عَقَرْقُوْفْ کے مقام پر آباد ہو گئے تھے۔ عَقَرْقُوْف عراق کے شہر بغداد کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 410 زید بن ودیعۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(معجم البلدان جلد 4 صفحہ 155 زیر لفظ عقرقوف مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2001ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رِبْعِی بِن رَافِع اَنْصَاریؓ۔ آپؓ کے دادا کے نام میں اختلاف ہے۔ ایک قول کے مطابق نام حَارِث تھا جبکہ دوسرے کے مطابق زید تھا۔ حضرت رِبعی بن رَافِع کا تعلق بنوعَجْلَان سے تھا اور آپؓ غزوۂ بدر اور اُحُد میں شامل ہوئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد3صفحہ 356-357 ربعی بن ودیعۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء) (اسد الغابہ جلد2صفحہ252 ربعی بن ودیعۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت زَیْد بِن مُزَیْنؓ۔ مُزَینِ بنِ قَیْس ان کے والد کا نام تھا۔ حضرت زیدؓ کا نام یزید بن الْمُزَیْن بھی بیان ہوا ہے۔ آپؓ کا تعلق خزرج قبیلہ سے تھا۔ حضرت زیدؓ غزوۂ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔ ہجرت مدینہ کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ اور حضرت مِسْطَح بن اُثَاثَہ کے درمیان عقدِ مؤاخات قائم فرمایا۔ آپؓ کی اولاد میں بیٹا عمرو اور بیٹی رَمْلَہ تھیں۔

(اسد الغابہ جلد2صفحہ375زید بن المزین مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ407 یزید بن المزین مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عِیَاض بِن زُہَیْرؓ ہے ۔ ان کی کنیت ابو سعد تھی۔ حضرت عِیاض ؓکی والدہ کا نام سَلْمیٰ بنتِ عَامِر تھا۔ آپؓ کا تعلق فِہْر قبیلہ سے تھا۔ آپؓ حبشہ کی طرف دوسری ہجرت میں شامل ہوئے۔ وہاں سے واپس آ کر مدینہ ہجرت کی اور حضرت کُلْثُوم بن الہِدْم ؓکے ہاں قیام کیا۔ آپؓ نے غزوۂ بدر، غزوۂ احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں شرکت کی۔ حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں تیس ہجری میں مدینہ میں آپؓ نے وفات پائی اور ایک روایت میں ہے کہ آپؓ کی وفات شام میں ہوئی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 318-319 عیاض بن زھیر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت1990ء)(اسد الغابہ جلد 4صفحہ 311 عیاض بن زھیر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر اگلے صحابی ہیں حضرت رِفَاعَہ بن عَمْرو اَنْصاریؓ۔ ان کی کنیت ابوولیدتھی۔ حضرت رِفاعہکا تعلق قبیلہ بنو عوف بن خزرج سے تھا۔ آپؓ کی والدہ کا نام ام رِفاعہتھا۔ آپؓ ستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔ آپؓ نے غزوۂ بدر اور احد میں شرکت کی اور غزوۂ احد میں جام شہادت نوش کیا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 410-411 رفاعہ بن عمرو مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

اگلے صحابی ہیں حضرت زِیْاد بِن عَمْروؓ۔حضرت زیادکو ابن بِشْربھی کہا جاتا تھا۔ آپؓ انصار کے حلیف تھے۔ حضرت زِیَادغزوۂ بدر میں شریک تھے۔ آپؓ کے بھائی حضرت ضَمْرَہ بھی غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بَنُو سَاعِدَہ بن کَعْب سے تھا۔ ایک دوسرے قول کے مطابق آپؓ بنو سَاعِدَہ بن کعب بن الخَزْرَجْ کے آزاد کردہ غلام تھے۔

(اسدالغابہ جلد 2صفحہ 338 زیاد بن عمرو مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الاصابہ جلد2 صفحہ 483 زیاد بن عمرومطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت1995ء)

اگلے صحابی جن کا ذکر ہو گا ان کا نام حضرت سَالِم بِن عُمَیْر بِن ثابتؓ ہے ۔ حضرت سالم کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ آپؓ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔ حضرت سالم ؓغزوۂ بدر اور احد اور خندق اور تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ387 سالم بن عمیرمطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

غزوۂ تبوک کے موقع پر جو غریب اصحاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ غزوۂ تبوک کے لیے جانا چاہتے تھے اور سواری نہ ہونے کی وجہ سے روتے تھے، حضرت سالم ؓبھی ان اصحاب میں شامل تھے۔ یہ سات غریب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت آپؐ تبوک کے لیے جانا چاہتے تھے۔ ان اصحاب نے عرض کیا کہ ہمیں سواری دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میرے پاس کوئی سواری نہیں جس پر میں تم لوگوں کو سوار کروں۔ وہ لوگ واپس گئے۔ آنکھوں میں اس غم کی وجہ سے آنسو جاری تھے کہ خرچ کرنے کو کچھ نہ پایا۔ ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ آیتوَ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ(التوبۃ:92) یعنی اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے جو تیرے پاس اس وقت آئے جب جنگ کا اعلان کیا گیا تھا اس لیے کہ تو ان کو کوئی سواری مہیا کر دے تو تُو نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر مَیں تمہیں سوار کراؤں اور یہ جواب سن کر وہ چلے گئے اور اس غم سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے کہ افسوس ان کے پاس کچھ نہیں جسے خدا کی راہ میں خرچ کریں۔ تو ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان میں یہ سالم بن عمیرؓ اور ثعلبہ بن زید ؓشامل تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 366 سالم بن عمیر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 387سالم بن عمیر مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سورت توبہ کی اس آیت کی یعنی یہ آیت جو ہے وَ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
‘‘یہ آیت اپنے اطلاق کے لحاظ سے عام ہی ہے مگر جن اشخاص کی طرف اشارہ ہے وہ سات غریب مسلمان تھے جو جہاد پر جانے کے لیے بیتاب تھے مگر اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے سامان نہیں رکھتے تھے۔ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس ہے مَیںکوئی انتظام نہیں کر سکتا تو ان کو بڑی تکلیف ہوئی ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ واپس چلے گئے۔کہتے ہیں کہ ان کے چلے جانے کے بعد (یہ روایت آتی ہے کہ ان کے چلے جانے کے بعد) ‘‘حضرت عثمانؓ نے تین اونٹ دیے اور چار دوسرے مسلمانوں نے دیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک آدمی کو ایک ایک اونٹ دے دیا۔’’حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ‘‘قرآن نے یہ واقعہ اس لیے بیان کیا ہے تا کہ ان غریب مسلمانوں کے اخلاص کا مقابلہ کر کے دکھائے جو تھے تو مالدار اور سفر پر جانے کے ذرائع بھی رکھتے تھے مگر جھوٹے عذر تلاش کرتے تھے۔’’(کچھ لوگ ایسے تھے جو عذر تلاش کر رہے تھے اور نہیں گئے۔ لیکن جو غریب تھے ان کا جذبہ بالکل اَور تھا تا کہ مقابلہ ہو جائے) پھر آگے فرماتے ہیں کہ ‘‘اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مدینے میں پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ سب منافق نہ تھے بلکہ ان میں مخلص مسلمان بھی تھے مگر وہ اس لیے نہیں جا سکے کہ ان کے پاس جانے کے سامان نہ تھے۔’’

(دروس حضرت مصلح موعودؓ (غیر مطبوعہ ) تفسیر سورۃ التوبہ زیر آیت 92 )

اس کی تفسیر میں بیان کرتے ہوئے مزید آپؓ نے فرمایا ہے کہ ‘‘ابوموسیٰ ان لوگوں کے سردار تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپؓ نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا مانگا تھا؟ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم! ہم نے اونٹ نہیں مانگے۔ ہم نے گھوڑے نہیں مانگے۔ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ ہم ننگے پاؤں ہیں۔’’جوتی بھی نہیں تھی پاؤں میں ‘‘اور اتنا لمبا سفر پیدل نہیں چل سکتے۔’’پاؤں ز خمی ہو جائیں گے تو پھر جنگ لڑ نہیں سکتے۔ ‘‘اگر ہم کو صرف جوتیوں کے جوڑے مل جائیں تو ہم جوتیاں پہن کر ہی بھاگتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پہنچ جائیں گے۔’’(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20صفحہ 361)

یہ غربت کا حال تھا۔ یہ جذبہ تھا۔ حضرت سالِم بن عُمَیر ؓحضرت معاویہؓ کے زمانہ تک زندہ رہے۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 387 سالم بن عمیرؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر اگلے صحابی حضرت سُرَاقَہ بِن کَعْبؓ ہیں ۔ حضرت سُرَاقہ کا تعلق قبیلہ بنو نَجَّار سے تھا۔ آپؓ کی والدہ کا نام عُمَیْرَۃ بنت نعمان تھا۔ حضرت سُرَاقَہ غزوۂ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ حضرت سُرَاقَہ بن کعبؓ حضرت معاویہؓ کے زمانے میں فوت ہوئے اور کلبی کی روایت کے مطابق حضرت سُرَاقَہجنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 371 سراقہ بن کعب مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 412سراقہ بن کعب مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت سَائب بِن مَظْعُوْنؓ ہے ۔ حضرت سائب بن مظعونؓ ، حضرت عُثْمَان بن مَظْعُونؓ کے سگے بھائی تھے۔ آپؓ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے اولین مہاجروں میں سے تھے۔ حضرت سائبکو غزوۂ بدر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔

(اسد الغابہ جلد2صفحہ 399 سائب بن مظعون مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ بُوَاطکے لیے روانہ ہوئے تو بعض روایات کے مطابق آپؐ نے حضرت سعد بن معاذؓ کو اور بعض کے مطابق حضرت سَائب بن عثمانؓ کو اپنے پیچھے امیر مقرر فرمایا اور ایک روایت میں حضرت سائب بن مَظْعُون ؓ کا نام بھی ملتا ہے۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد 2صفحہ 174 باب ذکر مغازیہؐ غزوہ بواط مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

حضرت سائب ؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تجارت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ چنانچہ سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ حضرت سائب ؓبیان کرتے ہیں کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ نے آپؐ کے سامنے میرا ذکر اور تعریف کرنی شروع کر دی۔ اس پر آپؐ نے فرمایا۔ میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ میں نے عرض کیا ۔ صَدَقْتَ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ ۔کُنْتَ شَرِیْکِیْ فَنِعْمَ الشَرِیْکُ۔ کُنْتَ لَا تُدَارِیْ وَلَا تُمَارِیْ۔ کہ میرے ماں باپ آپؐ پر فداہوں! آپؐ نے سچ فرمایا۔ آپؐ تجارت میں میرے شریک تھے اور کیا ہی بہترین شراکت دار تھے۔ آپؐ نہ ہی مخالفت کرتے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔

(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی کراھیۃ المراء حدیث 4836)

سیرت خاتم النبیینؐ میں اس واقعہ کو اس طرح درج کیا گیا ہے کہ ‘‘مکہ سے تجارت کے قافلے مختلف علاقوں کی طرف جاتے تھے۔ جنوب میں یمن کی طرف اور شمال میں شام کی طرف تو باقاعدہ تجارت کا سلسلہ جاری تھا۔ اس کے علاوہ بحرین وغیرہ کے ساتھ بھی تجارت تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً ان سب ملکوں میں تجارت کی غرض سے گئے اور ہر دفعہ نہایت دیانت و امانت اور خوش اسلوبی اور ہنرمندی کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کیا۔ مکّہ میں بھی جن لوگوں کے ساتھ آپؐ کا معاملہ پڑا وہ سب آپؐ کی تعریف میں رطب اللسان تھے؛ چنانچہ سائبؓ ایک صحابی تھے۔’’(جن کا ذکر ہو رہا ہے) ‘‘وہ جب اسلام لائے تو بعض لوگو ں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی تعریف کی۔ آپؐ نے فرمایا ‘‘میں ان کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔’’ سائب ؓنے عرض کی۔ ‘‘ہاں یا رسولؐ اللہ! آپؐ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ آپؐ ایک دفعہ تجارت میں میرے شریک تھے اور آپؐ نے ہمیشہ نہایت صاف معاملہ رکھا۔’’

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 106)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت عَاصِم بِن قَیْسؓ۔ حضرت عاصم بن قیسؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ ثَعْلَبہ بن عمرو سے تھا۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوئے۔

(اسد الغابہ جلد3صفحہ 112-113 عاصم بن قیس مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

اگلے صحابی ہیں حضرت طُفَیْل بن مَالِک بن خَنْسَاءؓ۔ حضرت طُفَیلؓ کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عُبَید بن عَدِی سے تھا۔ حضرت طُفَیل ؓکی والدہ کا نام اَسْمَاء بنت القَیْن تھا۔ حضرت طفیلؓ بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شامل ہوئے۔ آپ کی شادی اِدَامْ بنت قُرْطسے ہوئی جن سے آپؓ کے دو بیٹے عبداللہ اور رَبِیع پیدا ہوئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 430-431طفیل بن مالکمطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد 3صفحہ 79 طفیل بن مالک بن خنساء مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت طُفَیْل بن نُعْمَانؓ۔ حضرت طُفَیْل کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔ آپؓ کی والدہ خَنْسَاء بنت رِئَاب تھیں جو کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ کی پھوپھی تھیں۔ حضرت طفیلؓ کی ایک بیٹی تھیں جن کا نام رُبَیِّع تھا۔ آپؓ بیعتِ عَقَبہ اور غزوۂ بدر میں شامل ہوئے۔ حضرت طفیلؓ نے غزوۂ احد میں بھی شرکت کی اور اس روز آپؓ کو تیرہ زخم آئے تھے۔ حضرت طفیل بن نعمانؓ غزوۂ خندق میں بھی شامل ہوئے اور اسی غزوہ میں شہادت کا رتبہ بھی حاصل کیا۔ وَحْشِی بن حَرْب نے آپؓ کو شہید کیا تھا۔ بعد میں وحشی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا تھا۔ وحشی کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حمزہؓ کو اور حضرت طفیل بن نعمانؓ کو میرے ہاتھوں سے عزت بخشی لیکن مجھے ان کے ہاتھوں سے ذلیل نہیں کیا یعنی میں کفر کی حالت میں قتل نہیں کیا گیا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد3صفحہ431 الطفیل بن النعمان مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد3صفحہ79-80 طفیل بن مالک، طفیل بن النعمان مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

اگلے صحابی حضرت ضَحَّاک بِن عَبْدِعَمْروؓ ہیں ۔ ان کا تعلق بنو دِیْنار بن نَجَّار سے تھا۔ آپؓ کے والد کا نام عبدِعَمرو اور آپؓ کی والدہ کا نام سُمَیْرَاء بنتِ قَیْس تھا۔ آپؓ اور آپؓ کے بھائی حضرت نعمان بن عبد ِعمروؓ غزوۂ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔ حضرت نعمانؓ نے غزوۂ احد میں شہادت پائی۔ آپ کے تیسرے بھائی قُطْبَہ بن عَبدِ عمرو واقعہ بئر معونہ کے روز شہید ہوئے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 394 ضحاک بن عبد عمرو ، نعمان بن عبد عمرو مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر اگلے صحابی ہیں ضَحَّاک بن حَارِثَہؓ۔ حضرت ضَحَّاکؓ انصار کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کے والد کا نام حَارِثَہ اور والدہ کا نام ہِنْد بنت مالِک تھا۔ حضرت ضَحَّاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ستّر انصار کے ساتھ بیعتِ عقبہ میں شامل ہوئے۔ آپؓ نے غزوۂ بدر میں بھی شرکت کی۔ آپؓ کے بیٹے کا نام یزید تھا جو کہ آپ کی اہلیہ اُمَامَہ بنت مُحَرِّث کے بطن سے پیدا ہوئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد3صفحہ433 ضحاک بن حارثہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد3صفحہ46 ضحاک بن حارثہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر اگلے صحابی ہیں حضرت خَلَّاد بن سُوَیْد ؓ۔یہ انصاری تھے۔ حضرت خلّادؓ کا تعلق خزرج کی شاخ بنو حارث سے تھا۔ آپؓ کی والدہ کا نام عَمْرَہ بنتِ سعد تھا۔ آپؓ کے ایک بیٹے حضرت سائبکو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور بعد میں حضرت عمرؓ نے انہیں یمن کا عامل بھی مقرر فرمایا۔ دوسرے بیٹے کا نام حَکَمْ بن خَلَّاد تھا۔ ان دونوں کی والدہ کا نام لَیْلیٰ بنتِ عُبَادہ تھا۔ حضرت خَلَّاد ؓبیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔ آپؓ نے غزوۂ بدر اور احد اور خندق میں شرکت کی۔ غزوۂ بنو قریظہ میں ایک یہودی عورت نے جس کا نام بُنَانَہ تھا اوپر سے آپؓ پر بھاری پتھر پھینکا جس سے آپؓ کا سر پھٹ گیا اور آپؓ شہید ہو گئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلّاد کے لیے دو شہیدوں کے برابر اجر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بھی بطور قصاص پھر بعد میں قتل کروا دیا تھا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد3صفحہ 401-402 خلاد بن سوید مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

سیرت خاتم النبیینؐ میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح لکھا ہے کہ ‘‘چند مسلمان جو اُن کے قلعہ کی دیوار کے پاس ہو کر ذرا آرام کرنے بیٹھے تھے ان پر ایک یہودی عورت بُنَانَہ نامی نے قلعہ کے اوپر سے ایک بھاری پتھر پھینک کر ان میں سے ایک آدمی خَلَّاد نامی کو شہید کر دیا اور باقی مسلمان بچ گئے۔’’

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 598)

پھر آتا ہے کہ حضرت خَلَّاد ؓ کی والدہ کو جب آپؓ کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ نقاب کر کے تشریف لائیں۔ ان سے کہا گیا کہ خَلَّاد شہید کر دیے گئے ہیں اور آپ نقاب کر کے آئی ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ خَلَّاد ؓ تو مجھ سے جدا ہو گیا ہے لیکن میں اپنی حیا کو خود سے جدا نہیں ہونے دوں گی۔ یہ بَین جو رواج تھا وہ اس طرح نہیں ہو گا اور پردہ حیاہے وہ تو قائم رہے گی۔

حضرت خَلَّاد ؓ کی شہادت پر یہ تفصیل آگے اس طرح بھی آتی ہے کہ حضرت خَلَّاد ؓ کی شہادت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ لیکن زائد اس میں یہ ہے۔ جب پوچھا گیا کہ یا رسولؐ اللہ ایسا کیوں ہے؟ دو شہیدوں کا اجر کس لیے؟ تو آپؐ نے فرمایا کیونکہ انہیں اہل کتاب نے شہید کیا ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 402 خلاد بن سوید مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

اگلے صحابی ہیں حضرت اَوْس بن خَوْلِی انصاریؓ۔ ان کی کنیت ابو لَیْلٰیتھی ۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سالِم بن غَنَم بن عَوف سے تھا۔ آپؓ کی والدہ کا نام جمیلہ بنت اُبَیّ تھا جو عبداللّٰہ بن اُبَیّ بن سَلُولکی بہن تھیں۔ آپؓ کی ایک بیٹی تھیں جن کا نام فُسْحُم تھا۔ آپ غزوۂ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کی مؤاخات حضرت شُجَاع بن وَہْب اَلْاَسَدِی ؓسے کروائی۔ حضرت اَوْس بن خَوْلِی کا شمار ‘کاملین’میں ہوتا تھا۔ جاہلیت اور ابتدائے اسلام میں ‘کامل’ اس شخص کو کہا جاتا تھا جو عربی لکھنا جانتا ہو۔ تیر اندازی کرنا اچھی طرح جانتا ہو اور تیراکی جانتا ہو۔ اچھی طرح تیرنا جانتا ہو۔ یہ تین باتیں اس میں ہوں تو اس کو کاملکہتے تھے اور یہ سب باتیں حضرت اَوْس بن خَوْلِی میں موجود تھیں۔

(اسد الغابہ جلد1صفحہ 320 اوس بن خَوْلِی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد3صفحہ 409-410 اوس بن خَوْلِی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت نَاجِیَہ بن اَعْجَمؓ روایت کرتے ہیں کہ جب حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کی قلت کی شکایت کی گئی تو انہوں نے مجھے بلایا اور اپنی ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور مجھے دیا۔ پھر کنویں کا پانی ایک ڈول میں منگوایا۔ میں اس کو لے کر آیا۔ آپؐ نے وضو فرمایا اور کلّی کر کے ڈول میں انڈیل دیا جبکہ لوگ سخت گرمی کی حالت میں تھے۔ مسلمانوں کے پاس ایک ہی کنواں تھا کیونکہ مشرکین بَلْدَح کے مقام پر جلدی پہنچ کر اس کے پانی کے ذخیروں پر قبضہ کر چکے تھے۔ پھر آپؐ نے مجھے فرمایا کہ اس ڈول کو کنویںمیں انڈیل دو جس کا پانی خشک ہو گیاہے اور اس کے پانی میں تیر گاڑ دو تو میں نے ایسا ہی کیا۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے مَیں بہت مشکل سے باہر نکلا یعنی فوری طور پہ وہاں پانی ابلنے لگ گیا ،پھوٹنے لگ گیا۔ مجھے پانی نے ہر طرف سے گھیر لیا تھا اور پانی ایسے ابل رہا تھا جیسے دیگچی ابلتی ہے یہاں تک کہ پانی بلند ہوا اور کناروں تک برابر ہو گیا۔ لوگ اس کے کنارے سے پانی بھرتے تھے یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص نے بھی پیاس بجھا لی۔ اس دن منافقوں کا ایک گروہ وہاں پانی پر تھا جن میں عبداللّٰہ بن اُبَیّ بھی تھا جوحضرت اَوْس بن خَوْلِیؓ کا ماموں تھا۔ حضرت اَوْس بن خَوْلِیؓ نے اسے کہا کہ اے اَبُو الْحُبَاب! ہلاکت ہو تجھ پر۔ اب تو تُو اس معجزے کو مان لے جس پر تُو خود موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کو مان لے۔ کیا اس کے بعد کوئی گنجائش رہ گئی ہے؟ تو اس نے جواب دیا میں اس جیسی بہت سی چیزیں دیکھ چکا ہوں تو اس کو حضرت اَوْس بن خَوْلِی ؓنے کہا کہ اللہ تیرا بُرا کرے اور تیری رائے کو بُرا ثابت کر دے۔ عبداللّٰہ بن اُبَیّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اَبُو الْحُبَاب! آج جو تُو نے دیکھا ہے اس جیسا پہلے کب دیکھا تھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپؐ نے پوچھا۔ اس نے کہا کہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ بات تم نے کیوں کہی یعنی جو اپنے بھانجے کو کہی تھی۔ عبداللّٰہ بن اُبَیّ نے کہا کہ استغفراللہ۔ عبداللّٰہ بن اُبَیّ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغفرت کی دعا کی۔(سبل الھدیٰ جلد 5 صفحہ 41 باب فی غزوہء الحدیبیۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1993ء)(امتاع الاسماع جلد 1 صفحہ 284 باب مقالۃ المنافقین فی دلیل النبوۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1999ء)
حضرت علی بن عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ کے لیے مکہ جانے کا ارادہ فرمایا تو آپؐ نے اَوْس بن خَوْلِی ؓاور ابورَافِع ؓ کو حضرت عباسؓ کی طرف پیغام دے کر بھیجا کہ وہ حضرت میمونہؓ کی شادی آپ سے کروا دیں۔ راستے میں ان دونوں کے اونٹ کھو گئے۔ وہ کچھ دن بطنِ رَابِغْ یعنی رَابِغْ جو جُحْفَہ سے دس میل کے فاصلے پر واقع ہے وہاں رکے رہے ۔یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ پھر ان دونوں کو ان کے اونٹ مل گئے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی مکہ گئے۔ آپؐ نے حضرت عباسؓ کے پاس پیغام بھیجا۔ حضرت میمونہؓ نے اپنا معاملہ حضرت عباسؓ کے سپرد کر دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباسؓ کے ہاں تشریف لے گئے اور حضرت عباسؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت میمونہؓ کی شادی کرا دی۔

(شرح علامہ زرقانی جلد 4 صفحہ 423 میمونۃ ام المومنین مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1996ء)(معجم البلدان جلد 3 صفحہ 12 زیر لفظ رابغ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت اَوْس بن خَوْلِیؓ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے کہا کہ میں آپؓ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شریک کر لیں۔ چنانچہ حضرت علیؓ نے آپ کو اجازت دی۔

اس کی ایک دوسری روایت اس طرح ملتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپؐ کو غسل دینے کا ارادہ کیا گیا تو انصار آئے اور انہوں نے یہ کہا کہ اللہ اللہ !ہم لوگ آپؐ کے ننھیالی ہیں۔ لہٰذا ہم میں سے بھی کسی کو آپؐ کے پاس حاضر ہونا چاہیے، یعنی کہ انصار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیالی ہیں۔ انصار سے کہا گیا کہ تم لوگ اپنے میں سے کسی ایک شخص پر اتفاق کر لو۔ کوئی ایک شخص مقرر کر دو ۔ تو انہوں نے حضرت اَوْس بن خَوْلِیؓ پر اتفاق کیا۔ وہ اندر آئے اور آپؐ کے غسل اور تدفین میں شریک رہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل اور تدفین میں شریک رہے۔ حضرت اوسؓؓ مضبوط آدمی تھے اس لیے پانی کا گھڑا اپنے ہاتھ میں اٹھا کر لاتے تھے اور اس طرح پانی مہیا کرتے رہے۔

(اسد الغابہ جلد 1صفحہ320 اوس بن خَوْلِی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(اصابہ جلد 1 صفحہ299 اوس بن خَوْلِی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت1995ء)

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ، حضرت فضل بن عباسؓ ،ان کے بھائی قُثَمْ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام شُقْرَان اور حضرت اَوْس بن خَوْلِیؓرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے۔(سنن ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ذکر وفاتہ و دفنہؐ حدیث 1628)یعنی نعش لحد کے اندر رکھنے کے لیے۔

حضرت اوس بن خَوْلِی ؓسے مروی ہے کہ آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا اے اوسؓ! جو اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بڑھاتا ہے اور جو تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرتا ہے۔

(معرفۃ الصحابہ لابی نعیم جلد 1 صفحہ 279 من اسمہ اوس حدیث 975 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

پس یہ بہت ضروری سبق ہے جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔

آپؓ کی وفات مدینہ میں حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔

(اسد الغابہ جلد 1صفحہ 321 اوس بن خَوْلِی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

اللہ تعالیٰ ان سب بزرگ صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button