خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍ جنوری 2019ء

فرمودہ مورخہ 25؍ جنوری 2019ء بمطابق25؍صلح 1398 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ ۔

آج جن بدری صحابہ کا میں ذکر کروں گا ان میں سے پہلا نام حضرت طُفَیل بن حارث کا ہے۔ حضرت طُفَیل بن حارث کا تعلق قریش سے تھا اور آپ کی والدہ کا نام سُخَیْلَۃ بنت خُزَاعِی تھا۔ ہجرت مدینہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طُفَیل بن حارث اور حضرت مُنْذِر بن محمد کے ساتھ یا بعض دیگر روایات کے مطابق حضرت سُفیان بن نَسْر سے آپ کی مؤاخات قائم فرمائی تھی۔ حضرت طُفَیل بن حارث اپنے بھائی حضرت عُبَیدہ اور حُصَیْن کے ساتھ غزوۂ بدر میں شامل ہوئے۔ اسی طرح آپ نے غزوۂ احد اور غزوۂ خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہونے کی توفیق پائی۔ ان کی وفات بتیس ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی۔

(اسد الغابہ جلد 3صفحہ 74 طُفَیل بن الحارث مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء) (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 38 الطفیل بن الحارث مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

دوسرے صحابی ہیں حضرت سُلَیْم بن عَمْرو اَنْصَارِی۔ ان کی والدہ کا نام اُمّ سُلَیْم بنت عَمْرو تھا اور آپ کا تعلق خَزرج کے خاندان بنو سَلَمَہ سے تھا اور بعض روایات میں آپ کا نام سُلَیمان بن عَمْرو بھی ملتا ہے۔ انہوں نے عَقَبَہ میں ستر آدمیوں کے ساتھ بیعت کی اور غزوۂ بدر اور احد میں شامل ہوئے اور غزوۂ احد کے موقع پر ان کی شہادت ہوئی اور آپ کے ساتھ آپ کے غلام عَنْتَرَہ بھی تھے۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 545 سُلَیْم بن عَمْروؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 435 سُلَیْم بن عَمْروؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت سُلَیْم بن حارث اَنْصَارِی ہے۔ ان کا تعلق بھی قبیلہ خَزرج کے خاندان بنو دِینار سے ہے اور ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ خاندان بنو دِینار کے غلام تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت ضَحَّاکْ بن حارِث کے بھائی ہیں۔ بہرحال جو معلومات ہیں اس کے مطابق یہ دونوں باتیں ہیں۔ غزوۂ بدر میں شامل ہوئے اور غزوۂ اُحُد میں شہادت کا رتبہ پایا۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 543 سُلَیْم بن الحارثؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)


پھر حضرت سُلَیْم بن مِلْحَان اَنْصَارِی ہیں۔ ان کی والدہ مُلَیْکَہ بنتِ مَالِک تھیں۔ حضرت انس بن مالک کے ماموں جبکہ حضرت اُمِّ حَرَام اور حضرت اُمِّ سُلَیْم کے بھائی تھے۔ حضرت اُمِّ حَرَام حضرت عُبَادۃ بن صامِت کی اہلیہ تھیں جبکہ حضرت اُمّ سُلَیْم حضرت ابوطلحہ انصاری کی اہلیہ تھیں اور ان کے صاحبزادے حضرت انس بن مالک خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ انہوں نے غزوۂ بدر اور احد میں اپنے بھائی حضرت حَرَام بن مِلْحَان کے ساتھ شرکت کی تھی اور آپ دونوں ہی واقعہ بئرِ معونہ میں شہید ہوئے۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 546 سُلَیْم بن مِلْحَانؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 391 سُلَیْم بن مِلْحَانؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے چھتیسویں مہینے صَفَر میں یعنی صَفَر کا جو مہینہ ہے اس میں بِئْرِ مَعُونہ کی طرف حضرت مُنْذِر بن عَمْرو السَّاعِدِی کا سریہ ہوا۔ عَامِر بن جعفررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ کو ہدیہ دینا چاہا جسے آپؐ نے لینے سے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے اسلام قبول نہ کیا اور نہ ہی اسلام سے دور ہوا۔ عَامِر نے درخواست کی کہ اگر آپؐ اپنے اصحاب میں سے چند آدمی میرے ہمراہ میری قوم کے پاس بھیج دیں تو امید ہے کہ وہ آپ کی دعوت کو قبول کر لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ اہلِ نجد اِن کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچائیں تو اس نے کہا کہ اگر کوئی ان کے سامنے آیا تو مَیں ان کو پناہ دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ستّر نوجوان جو قرآن کریم کے قاری کہلاتے تھے اس کے ساتھ بھجوائے اور حضرت مُنْذِر بن عَمْرو السَّاعِدِی کو ان پر امیر مقرر کیا۔ پہلے بھی یہ واقعہ بیان ہو چکا ہے۔ جب یہ لوگ بئرِ معونہ کے مقام پر پہنچے جو بنی سُلَیْم کا گھاٹ تھا اور بنی عَامِر اور بنی سُلَیْم کی زمین کے درمیان تھا یہ لوگ وہیں اترے، پڑاؤ کیا اور اپنے اونٹ وہیں چھوڑ دئے۔ انہوں نے پہلے حضرت حَرَام بن مِلْحَان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دے کر عَامِر بن طُفَیل کے پاس بھیجا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پڑھا ہی نہیں اور حضرت حَرَام بن مِلْحَان پر حملہ کر کے شہید کر دیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف اس نے بنی عَامِر کو بلایا مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر اس نے قبائل سُلَیْم میں عُصَیَّہ اور ذَکْوَان اور رِعْل کو پکارا۔ وہ لوگ اس کے ساتھ روانہ ہو گئے اور اسے اپنا رئیس بنا لیا۔ جب حضرت حَرَام کے آنے میں دیر ہوئی تو مسلمان ان کے پیچھے آئے۔ کچھ دور جا کر ان کا سامنا اس جتھے سے ہوا جو حملہ کرنے کے لئے آ رہا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا۔ دشمن تعداد میں بھی زیادہ تھے۔ جنگ ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب شہید کر دئے گئے۔ مسلمانوںمیں حضرت سُلَیْم بن مِلْحَان اور حَکَم بن کَیْسَانکو جب گھیر لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ! ہمیں سوائے تیرے کوئی ایسا نہیں ملتا جو ہمارا سلام تیرے رسول کو پہنچا دے۔ لہٰذا تُو ہی ہمارا سلام پہنچا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبرئیل نے اس کی خبر دی تو آپ نے فرمایا وَعَلَیْھِمُ السَّلَام۔ ان پر سلامتی ہو۔ مُنْذِر بن عَمْرو سے ان لوگوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں امن دے دیں گے مگر انہوں نے انکار کیا۔ وہ حضرت حَرَام کی جائے شہادت پر آئے۔ ان لوگوں سے جنگ کی یہاں تک کہ شہید کر دئے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ آگے بڑھ گئے تا کہ مر جائیں یعنی موت کے سامنے چلے گئے حالانکہ وہ اسے جانتے تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 2صفحہ 39-40 سریۃ المنذر بن عَمْروؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

باوجود جنگ کا سامان پورا نہ ہونے کے بڑی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور جنگ کی نیت سے گئے بھی نہیں تھے۔

پھر ذکر ہے حضرت سُلَیْم بن قَیْس اَنْصَارِی کا۔ ان کی والدہ کا نام اُمّ سُلَیْم بنت خالد تھا۔ حضرت خولہ بنت قَیْس کے بھائی تھے جو حضرت حمزہؓکی بیوی تھیں۔ آپ نے غزوۂ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ ان کی وفات حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں ہوئی۔

(اسدالغابہ جلد 2صفحہ 545-546 سُلَیْم بن قَیْس اَنْصَارِیؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 372 سُلَیْم بن قَیْسؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر ایک صحابی حضرت ثابت بن ثَعْلَبہ تھے۔ ان کا نام حضرت ثابت بن ثَعْلَبہ تھا اور ان کی والدہ کا نام اُمّ اُنَاس بنت سَعْد تھا جن کا تعلق قبیلہ بنو عُذْرَہ سے تھا۔ آپ کے والد ثَعْلَبہ بن زید کو اَلْجِذْع کہا جاتا تھا۔ ان کا یہ نام ان کی بہادری اور مضبوط عزم و ہمت ہونے کی وجہ سے رکھا گیا تھا۔ اسی مناسبت سے حضرت ثابت کو ابن الْجِذْع کہا جاتا ہے۔ حضرت ثابت بن ثَعْلَبہ کی اولاد میں عبداللہ اور حارِث شامل ہیں۔ ان سب کی والدہ اُمَامَہ بنت عثمان تھیں۔ حضرت ثابت ستر انصار صحابہ کے ہمراہ بیعت عَقَبَہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد اور غزوۂ خندق اور صلح حدیبیہ اور غزوۂ خیبر اور فتح مکہ اور غزوۂ طائف میں بھی شامل تھے۔ آپ نے غزوۂ طائف کے روز ہی جام شہادت نوش کیا۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 428-429مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر ایک صحابی حضرت سِمَاک بن سعد ہیں۔ ان کے والد سعد بن ثَعْلَبہ تھے۔ آپ حضرت نعمان بن بشیر کے والد حضرت بشیر بن سعد کے بھائی تھے۔ بدر میں اپنے بھائی حضرت بشیر کے ساتھ شریک ہوئے اور احد میں بھی شریک ہوئے تھے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔

(اسد الغابہ جلد 2صفحہ 552 سِمَاک بن سعدؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر ایک صحابی ہیں ان کا نام جابر بن عبداللہ بن رِئَاب ہے۔ حضرت جابر کا شمار ان چھ انصار میں کیا جاتا ہے جو سب سے پہلے مکہ میں اسلام لائے۔ حضرت جابر بدر اور احد اور خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 431 جابر بن عبد اللہؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

بیعت عقبہ اولیٰ سے قبل انصار کے چند لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ میں ملاقات ہوئی جن کی تعداد چھ تھی۔ وہ چھ اصحاب یہ تھے اَسْعَد بن زُرَارَہ۔ عوف بن حارث۔ رَافِع بن مالِک بن عَجْلَان اور قُطْبَہ بن عَامِر بن حَدِیْدَۃ اور عُقْبَہ بن عَامِر نَابی اور جابر بن عبداللہ بن رِئَاب۔ یہ سب لوگ مسلمان ہو گئے۔ جب یہ لوگ مدینہ آئے تو انہوں نے مدینہ والوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا۔

(اسد الغابہ جلد 1صفحہ 492 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

اس کا تفصیلی ذکر پہلے عُقْبَہ بن عَامِر نَابی کے ذکر میں ہو چکا ہے۔ مختصر ذکر میں یہاں کر دیتا ہوں۔ یہ لوگ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوئے تو جاتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں خانہ جنگیوں نے بہت کمزور کر دیا ہے۔ ہمارے اندر آپس میں بہت نااتفاقیاں ہیں اور ہم یثرب میں جا کر اپنے بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کریں گے اور کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کے پیغام کے ذریعہ سے، ہماری تبلیغ کے ذریعہ سے ہمیں پھر جمع کر دے اور ہم جب اکٹھے ہو جائیں گے تو پھر ہر طرح آپؐ کی مدد کے لئے تیار ہوں گے۔ چنانچہ یہ لوگ گئے اور ان کی وجہ سے یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ یہ سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں یثرب والوں کی طرف سے ظاہری حالات اور اسباب کے لحاظ سے اس طرح گزارا جس میں خوف بھی تھا اور امید بھی تھی کہ دیکھیں یہ چھ مصدقین جو گئے ہیں، جنہوں نے بیعت کی ہے ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ آیا یثرب میں بھی کوئی کامیابی ملتی ہے، کوئی امید بنتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ باقی جگہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ صرف بڑا انکار تھا بلکہ مخالفت بھی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ مکہ اور رؤسائے طائف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو سختی سے ردّ کر چکے تھے اور دیگر قبائل بھی ان کے زیر اثر ایک ایک کر کے ردّ کر رہے تھے۔ تو ان کی بیعت کی وجہ سے مدینہ میں ایک امید کی کرن پیدا ہوئی تھی لیکن اس کی بھی کوئی تسلی نہیں تھی۔ کون کہہ سکتا تھا کہ یہ چھ ماننے والے جن سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے اگر ان کے خلاف بھی دشمن کھڑا ہوا تو یہ مصیبتوں اور مشکلات کا مقابلہ کر سکیں گے۔

بہرحال یہ گئے، انہوں نے تبلیغ کی، لیکن اس دوران میں مکہ والوں کی طرف سے بھی دشمنی اور مخالفت روز بروز بڑھ رہی تھی اور وہ لوگ اس بات پہ پُر یقین تھے کہ اسلام کو مٹانے کا اب یہی وقت ہے کیونکہ اگر مکہ سے باہر نکلنا شروع ہو گیا اور پھیلنا شروع ہو گیا تو پھر اسلام کو مٹانا مشکل ہو گا۔ اس لئے مکہ والوں نے بھی مخالفت اپنے پورے زوروں پر کی ہوئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے مخلص صحابہ جو تھے جنہوں نے بیعت کی تھی، مسلمان ہوئے تھے ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی بات پر قائم تھے۔ کوئی بات ان کو اسلام کی تعلیم سے اور اسلام سے ہٹا نہیں سکتی تھی، توحید سے ہٹا نہیں سکتی تھی۔ بہرحال اسلام کے لئے ایک بہت نازک وقت تھا اور امید بھی تھی، خوف بھی تھا کہ مدینہ میں یہ لوگ گئے ہیں تو دیکھیں ان کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔

پھر اگلے سال مدینہ سے ایک وفد پھر حج کے موقع پر آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑے شوق کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور منیٰ کی جانب عقبہ کے پاس پہنچ کر اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو اچانک آپؐ کی نظر یثرب کی ایک چھوٹی سی جماعت پر پڑی جنہوں نے آپؐ کو دیکھ کر فورًا پہچان لیا اور نہایت محبت اور اخلاص سے آگے بڑھ کر آپؐ کو ملے۔ ان میں سے پانچ تو وہی تھے جو پہلے بیعت کر کے گئے تھے اور سات نئے تھے اور یہ لوگ اوس اور خزرج دونوں قبیلوں میں سے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر لوگوں سے الگ ہو کر ایک گھاٹی میں، ایک وادی میںا ن کو ایک طرف لے گئے اور وہاں سے جو یہ بارہ افراد کا وفد آیا تھا انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یثرب کے حالات کی اطلاع دی اور ان سب نے باقاعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور یہی بیعت جو تھی یثرب میں اسلام کے قیام کا بنیادی پتھر تھا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جن الفاظ میں بیعت لی وہ یہ تھے کہ ہم خدا کو ایک جانیں گے۔ شرک نہیں کریں گے۔ چوری نہیں کریں گے۔ زنا کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ قتل سے باز رہیں گے۔ کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے اور ہر نیک کام میں آپؐ کی اطاعت کریں گے۔ بیعت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ دیکھو اگر تم صدق و ثبات کے ساتھ، سچائی کے ساتھ، مضبوطی کے ساتھ اس عہد پر قائم رہے تو تمہیں جنت نصیب ہو گی اور اگر کمزوری دکھائی تو پھر تمہارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ وہ جس طرح چاہے گا پھر تمہارے سے سلوک کرے گا۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 222 تا 224)

بہرحال پھر ان لوگوں نے اپنے عہد بیعت کو ثابت کر کے دکھایا۔ نہ صرف ثابت کر کے دکھایا بلکہ اعلیٰ ترین معیار تک پہنچایا اور پھر ہم بعد کے حالات دیکھتے ہیں کہ کس طرح پھر مدینہ میں اسلام پھیلا۔
حضرت مُنْذِر بن عَمْرو بن خُنَیْس ایک صحابی ہیں جن کا ذکر ہو گا۔ ان کا لقب تھا مُعْنِقْ لِیَمُوْتَ یا مُعْنِقُ لِلْمَوْتِ یعنی آگے بڑھ کر موت کو گلے لگانے والا۔ ان کا نام مُنْذِر اور والد کا نام عَمْرو تھا۔ انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو سَاعِدہ سے تھے۔ بیعتِ عَقَبہ میں شریک ہوئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُنْذِر بن عَمْرو کو اور حضرت سعد بن عُبَادۃ کو ان کے قبیلہ بنو ساعدہ کا نقیب مقرر فرمایا تھا یعنی سردار مقرر کیا تھا یا نگران مقرر کیا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی حضرت مُنْذِر پڑھنا لکھنا جانتے تھے ۔ ہجرت مدینہ کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُنْذِر اور حضرت طُلَیْب بن عُمَیْرکے درمیان مؤاخات قائم فرمائی۔ آپ غزوۂ بدر میں یعنی حضرت مُنْذِر غزوہ بدر میں اور احد میں بھی شریک ہوئے۔

(اسد الغابہ جلد 5صفحہ 258 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

حضرت مُنْذِر بن عَمْرو کے بارے میں سیرت خاتم النبیینؐ میں مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ:۔ ’’قبیلہ خزرج کے خاندان بنو ساعِدہ سے تھے اور ایک صوفی مزاج آدمی تھے۔ بئرِ معونہ میں شہید ہوئے۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 232)

بئرِ معونہ کی تفصیل پہلے صحابہ کے ذکر میں بھی آ چکی ہے۔ کچھ حصہ حضرت مُنْذِر بن عَمْرو کے حوالے سے بھی خلاصۃً یہاں بیان کر دیتا ہوں جو سیرت خاتم النبیینؐ میں سے ہی ہے۔

قبائل سُلَیْم اور غَطْفَان یہ قبائل عرب کے وسط میں سطح مرتفع نجد پر آباد تھے اور مسلمانوںکے خلاف قریش مکہ کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے۔ آپس میں ان کی مکہ کے قریش کے ساتھ ساز باز تھی کہ کس طرح اسلام کو ختم کیا جائے اور آہستہ آہستہ ان شریر قبائل کی شرارت بڑھتی جاتی تھی اور سارا سطح مرتفع نجد اسلام کی عداوت کے زہر کی لپیٹ میں آتا چلا جا رہا تھا اورا س کا اثر ہو رہا تھا۔ چنانچہ ان ایام میں ایک شخص ابوبَرَاء عَامِرِی جو وسط عرب کے قبائل بنو عَامِر کا ایک رئیس تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا، پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے۔ بڑی نرمی سے آپؐ نے اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی۔ اس نے بھی بظاہر بڑے شوق سے تبلیغ سنی مگر مسلمان نہیں ہوا۔ پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے ساتھ آپؐ چند اصحاب نجد کی طرف روانہ کریں جو وہاں جا کر اہل نجد میں اسلام کی تبلیغ کریں اور پھر ساتھ یہ بھی کہنے لگا کہ مجھے امید ہے کہ نجدی لوگ آپ کی دعوت کو ردّ نہیں کریں گے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تو اہل نجد پر اعتماد نہیں ہے۔ اَبُوبَرَاء کہنے لگا کہ آپؐ ہرگز فکر نہ کریں۔ جو لوگ میرے ساتھ جائیں گے مَیںان کی حفاظت کا ضامن ہوں۔ چونکہ ابوبَرَاء ایک قبیلے کا رئیس اور صاحبِ اثر آدمی تھا آپؐ نے اس کے اطمینان دلانے پر یقین کر لیا اور صحابہ کی ایک جماعت نجد کی طرف روانہ فرما دی۔

حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ کی روایت ہے لیکن بخاری کی روایت میں آتا ہے کہ قبائل رِعْل اور ذَکْوَان وغیرہ جو مشہور قبیلہ بنو سُلَیْم کی شاخ تھے ان کے چند لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کر کے درخواست کی کہ ہماری قوم میں سے جو لوگ اسلام کے دشمن ہیں ان کے خلاف ہماری امداد کریں۔ یہ تشریح نہیں تھی کہ کس قسم کی امداد ہے آیا فوجی ہے یا تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے درخواست کی کہ چند آدمی اس کے لئے روانہ کئے جائیں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دستہ روانہ فرمایا جس کا ذکر ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ بدقسمتی سے بئرِ معونہ کی تفصیلات میں بخاری کی روایات میں بھی کچھ خلط واقع ہو گیا۔ دو واقعات کی کچھ روایتیں آپس میں اکٹھی مل گئی ہیں۔ اس لئے تاریخ سے اور بخاری کی روایات سے صحیح طرح پتہ نہیں لگتا کہ حقیقت کیا ہے؟ جس کی وجہ سے حقیقت پوری طرح متعین نہیں ہو سکتی؟ لیکن بہرحال انہوں نے اس کا حل بھی نکالا ہے فرماتے ہیں کہ بہرحال اس قدر یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر قبائل رِعْل اور ذَکْوَان وغیرہ کے لوگ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تھے اور انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ چند صحابہ ان کے ساتھ بھجوائے جائیں۔ آپؓ نے یہ لکھا ہے کہ اگر ایک دو روایتیں مختلف ہیں اور اگر ان کی آپس میں مطابقت کرنی ہے کہ ایک دوسرے سے ان کا کیا تعلق ہے یا کس طرح اس کی تطبیق کی جاسکتی ہے تو فرماتے ہیں کہ ان دونوں روایتوں کی مطابقت کی یہ صورت اس طرح ہو سکتی ہے کہ رِعل اور ذکوان کے لوگوں کے ساتھ ابوبَرَاء عَامِری رئیس قبیلہ عَامِر بھی آیا ہو۔ اس نے ان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کی ہو۔ چنانچہ تاریخی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مجھے اہل نجد کی طرف سے اطمینان نہیں ہے اور پھر اس کا یہ جواب دینا کہ آپؐ کوئی فکر نہ کریں۔ مَیں اس کا ضامن ہوتا ہوں کہ آپؐ کے صحابہ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابوبَرَاء کے ساتھ رِعل اور ذکوان کے لوگ بھی آئے تھے جن کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فکرمندتھے۔

بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صَفر 4ہجری میں مُنْذِر بن عَمْرو اَنْصَارِی کی امارت میں صحابہ کی ایک پارٹی روانہ فرمائی۔ یہ لوگ عموماً انصار میں سے تھے، تعداد میں ستر تھے۔ قریباً سارے کے سارے قاری اور قرآن خواں تھے۔ جب یہ لوگ اس مقام پر پہنچے جو ایک کنوئیںکی وجہ سے بئرِ معونہ کے نام سے مشہور تھا تو ان میں سے ایک شخص حَرَام بن مِلْحَانجو انس بن مالکؓ کے ماموں تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دعوت اسلام کا پیغام لے کر قبیلہ عَامِرکے رئیس اور ابوبَرَاء عامری جس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کے بھتیجے عامربن طُفَیل کے پاس گئے اور باقی صحابہ پیچھے رہے۔ جب حَرَام بن مِلْحَانآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کے طور پر عَامِر بن طُفَیل اور اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے شروع میں تو منافقانہ طور پر آؤ بھگت کی لیکن پھر جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگ گئے تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے بعض شریروں نے کسی آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے پیچھے سے حملہ کر کے ان کو نیزہ مار کر وہیں شہید کر دیا۔ اس وقت حَرَام بن مِلْحَان کی زبان پر یہ الفاظ تھے کہ اَللہُ اَکْبَرُ! فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ۔ یعنی اللہ اکبر! کعبہ کے رب کی قسم میں تو اپنی مراد کو پہنچا۔ عَمْرو بن طُفَیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کے قتل پر ہی اکتفا نہیںکیا بلکہ اس کے بعد اپنے قبیلہ بنو عَامِر کے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں کی بقیہ جماعت پر حملہ آور ہو جائیں مگر انہوں نے جیسا کہ ذکر ہوا اس کا انکار کیا لیکن جو زائد بات ہے اور یہاں ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ کہا کہ ہم ابوبَراء کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پہ حملہ نہیںکریں گے۔ کیونکہ ابوبَرَاء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ میں ان کا ضامن ہوں۔ تو اس قبیلے نے کہا کہ جب وہ ضامن ہو گیا تو ہم حملہ نہیں کریں گے۔

اس پر عَامِر نے سُلَیْم میں سے بنو رِعْل اور ذَکْوَان اور عُصَیَّہ وغیرہ کو جو دوسرا قبیلہ تھا اور جو بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کر آئے تھے، اپنے ساتھ لیا اور یہ سب لوگ مسلمانوں کی اس قلیل اور بے بس جماعت پر حملہ آور ہو گئے۔ مسلمانوں نے جب ان وحشی درندوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ان سے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی تعرض نہیں۔ ہم لڑنے تو آئے نہیں ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک کام کے لئے آئے ہیں اور تم سے بالکل لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور سب کو شہید کر دیا۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 517 تا 519)

تاریخ میں آتا ہے کہ جب جبرئیل علیہ السلام نے بئرِ معونہ کے شہداء کے بارے میں خبر دی تو آپؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے مُنْذِر بن عَمْرو کے بارے میں فرمایا جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے کہ اَعْنَقَ لِیَمُوْتَ یعنی حضرت مُنْذِر بن عَمْرو نے یہ جانتے ہوئے کہ اب شہادت ہی مقدر ہے اپنے ساتھیوں کی طرح اسی جگہ لڑتے ہوئے شہادت کو قبول کر لیا اس وجہ سے آپ مُعْنِق لِیَمُوْتَ یا مُعْنِقُ لِلْمَوْتِ کے لقب سے مشہور تھے۔ (اسدالغابہ جلد 5صفحہ 258 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 2صفحہ 40 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء) حضرت مُنْذِر بن عَمْرو سے ان لوگوں نے کہا تھا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں امن دے دیں گے لیکن حضرت مُنْذِر نے ان کی امان لینے سے انکار کر دیا۔

(اسدالغابہ۔ جلد 5 صفحہ 259-258۔ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1996ء)


حضرت سہلؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت اَبُواُسَیْد کے ہاں ان کے بیٹے مُنْذِر بن اَبی اُسَیْد پیدا ہوئے تو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنی ران پر بٹھا لیا۔ اس وقت حضرت اَبُواُسَیْد بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول ہوگئے۔ حضرت اَبُواُسَیْد نے اشارہ کیا تو لوگ مُنْذِر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر سے اٹھا کر لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کام سے فراغت ہوئی تو دریافت فرمایا کہ بچہ کہاں گیا؟ حضرت اَبُواُسَیْد نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم نے اس کو گھر بھیج دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کا نام کیا رکھا ہے؟ اَبُواُسَیْد نے عرض کیا کہ فلاں نام رکھا ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ اس کا نام مُنْذِرہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اس بچے کا نام مُنْذِر رکھا۔ یہ وہ مُنْذِر نہیں ہے جن کا ذکر ہو رہا ہے۔ شارحین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بچے کانام مُنْذِر رکھنے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضرت ابواُسَید کے چچا کا نام مُنْذِر بن عَمْرو تھا، وہی صحابی جن کا ذکر ہوا جو بئرِ معونہ میں شہید ہوئے۔ ابواُسَیدکے چچا کا نام تھا مُنْذِر بن عَمْرو۔یہ ابواُسَید کے چچا تھے جو بئرِ معونہ میں شہید ہوئے تھے۔ پس یہ نام تفاؤل کی وجہ سے رکھا گیا تھا کہ یہ بھی ان کے اچھے جانشین ثابت ہوں۔(صحیح البخاری کتاب الادب باب تحویل الاسم الی اسم احسن منہ حدیث 6191)(فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب المغازی جلد 7 صفحہ 452 مطبوعہ دارالریان للتراث القاھرہ 1986ء) یہ بھی وجہ ہو گی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یقیناًاپنے پیاروں کے ناموں کو زندہ رکھنے کے لئے بھی ان کے قریبیوں کے نام ان کے نام پر رکھتے ہوں گے ۔

حضرت مَعْبَد بن عَبَّاد ایک صحابی تھے جن کی کنیت ابو حُمَیْضَہ تھی۔ والد تھے عَبَّاد بن قُشَیْر۔ حضرت مَعْبَد بن عَبَّاد کا نام مَعْبَد بن عُبَادَۃ اور مَعْبَد بن عُمَارہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنوسالم بن غَنَم بن عوف سے تھا ان کی کنیت ابو حُمَیْضَہ ہے۔ بعض کے نزدیک آپ کی کنیت ابوخُمَیْصَہ اور ابو عُصَیْمَہ بھی بیان کی گئی ہے۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں یہ شریک ہوئے تھے۔

(اسد الغابہ جلد 5صفحہ 211-212 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 408، 411مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر ایک صحابی ہیں حضرت عَدِی بن اَبی زَغْبَاءاَنْصَارِی۔ ان کی ولدیت سِنان بن سُبَیْع تھی۔ آپ نے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ حضرت عَدِی کے والد ابی زَغْبَاء کا نام سِنان بن سُبَیْع بن ثَعْلَبہ تھا۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ جُھَیْنَہ سے تھا۔ غزوۂ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔

(اسد الغابہ جلد 4صفحہ 11مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء) (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 377مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو حضرت بَسْبَسْ بن عَمْرو کے ساتھ معلومات لانے کی غرض سے غزوۂ بدر کے موقع پر ابوسفیان کے قافلے کی طرف بھیجا تھا۔ یہ خبر لینے گئے یہاں تک چلتے گئے کہ سمندر کے ساحل کے قریب پہنچ گئے۔ حضرت بَسْبَسْ بن عَمْرو اور حضرت عَدِی بن ابی زَغْبَاءنے بدر کے مقام پر ایک ٹیلے کے پاس اپنے اونٹ بٹھائے جو ایک گھاٹ کے قریب تھا۔ پھر انہوں نے اپنی مشکیں لیں اور گھاٹ پر پانی لینے آئے۔ ایک شخص مَجْدِی بن عَمْرو جُہَنِی گھاٹ کے پاس کھڑا تھا۔ ان دونوں اصحاب نے دو عورتوں سے سنا کہ ایک عورت نے دوسری سے کہا کہ کل یا پرسوں قافلہ آئے گا تو میں ان کی مزدوری کر کے تیرا قرض اتار دوں گی۔ اب یہ باتیں دو عورتیں کر رہی ہیں لیکن اس میں معلومات تھیں۔ مجدی نے کہا تُو ٹھیک کہتی ہے۔ پھر وہ ان دو عورتوں کے پاس سے چلا گیا، وہاں سے ہٹ کے چلا گیا۔ حضرت عَدِی اور حضرت بَسْبَسْ نے یہ باتیں سنیں۔ یہ دونوں جب گئے تو ان دونوں نے عورتوں کی یہ باتیں سن لی تھیں انہوں نے آ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ (کتاب المغازی جلد اوّل صفحہ 40 باب بدر القتال مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1984ء)یعنی کہ یہ بات ہم نے سنی ہے کہ دو عورتیں باتیں کر رہی تھیں کہ ایک قافلہ آئے گا اور یہ کفّار کے قافلے کی خبر تھی تو اس طرح یہ لوگ معلومات پہنچایا کرتے تھے۔ بظاہر دیکھنے میں تو دو عورتیں ہی باتیںکر رہی ہیں لیکن اس کی اہمیت کا ان کو اندازہ نہ تھا اور یہ بڑی اہم خبر تھی، قافلے کی آمد کی اطلاع مل رہی تھی۔ حضرت عَدِی بن ابی زَغْبَاءنے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں وفات پائی۔ (اصابہ جلد 4صفحہ 391-392مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1995ء)
پھر ایک صحابی ہیں حضرت رَبِیْع بن اِیَاس۔ ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو لَوْذَانْ سے تھا۔ غزوۂ بدر میں اپنے بھائی وَرَقَہ بن اِیَاس اور عَمْرو بن اِیَاس کے ساتھ شامل ہوئے اور غزوۂ احد میں بھی آپ شامل ہوئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 416-417مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(کتاب المغازی جلد اوّل صفحہ 167 باب تسمیۃ من شھد بدرا من قریش والانصار مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1984ء)

پھر ایک صحابی ہیں جن کا نام حضرت عُمَیر بن عَامِر اَنْصَارِی ہے۔ ان کی کنیت ابوداؤد تھی اور ان کے والد عَامِر بن مالک تھے۔ حضرت عُمَیر کے والد کا نام عَامِر بن مالک تھا۔ آپ کی والدہ کا نام نائلہ بنت ابی عاصم تھا۔ حضرت عُمَیر کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔ حضرت عُمَیر اپنی کنیت ابوداؤد سے زیادہ مشہور ہیں۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔ (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 393مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اصابہ جلد 4صفحہ 598مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1995ء)

حضرت اُمّ عمارہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوداؤد مَأزنِی یعنی حضرت عُمَیر اور حضرت سُلَیْط بن عَمْرو دونوں بیعت عقبہ میں حاضر ہونے کے لئے نکلے تو انہیں معلوم ہوا کہ لوگ بیعت کر چکے ہیں۔ اس پر انہوں نے بعد میں حضرت اَسْعَد بن ضُرَارَۃکے ذریعہ سے بیعت کی جو عقبہ کی رات نُقَبَاءمیں سے تھے۔ (اصابہ جلد 7صفحہ 99 ابو داؤد الانصاری المازنیؓ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1995ء) ایک نقیب مقرر کئے گئے تھے۔ سردار مقرر کئے گئے تھے۔ ان کے ذریعہ سے پھر انہوں نے بیعت کی۔ ایک روایت کے مطابق غزوۂ بدر میں اَبُوالْبَخْتَرِی کو قتل کرنے والے حضرت عُمَیر بن عَامِرتھے۔ (اسد الغابہ جلد 6صفحہ 92مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

پھر ایک صحابی ہیں حضرت سعدمولیٰ حضرت حاطِب بن ابی بَلْتَعہ۔ ان کا تعلق بنوکَلْب کے قبیلے سے تھا۔ حضرت سعد بن خَوْلِیْ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ حضرت سعد بن خَوْلِی کا تعلق قبیلہ بنو کلب سے ہے لیکن ابو معشر کے نزدیک ان کا تعلق قبیلہ بَنُو مَذْحِجْ سے تھا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ اہل فارس میں سے تھے ۔ حضرت سعد بن خَوْلِی، حضرت حاطِب بن ابی بَلْتَعہ کے پاس غلام ہو کر پہنچے۔ حضرت حاطِب بن ابی بَلْتَعہ آپ کے ساتھ نہایت شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ حضرت سَعْد حضرت حاطب بن ابی بَلْتَعہ کے ساتھ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد میں شریک ہوئے اور غزوۂ احد میں آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے حضرت سعد کے بیٹے عبداللہ بن سعد کا انصار کے ساتھ وظیفہ مقرر فرمایا۔ (اسد الغابہ جلد 2صفحہ 428 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء) (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 85مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(سیر الصحابہ جلد 4 حصہ 7 صفحہ 318 حضرت سعد بن خولیؓ مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء)

پھر ایک صحابی ہیں حضرت اَبُو سِنَان بن مِحْصَن۔ ان کے والد مِحْصَن بِن حُرْثَانتھے۔ ان کی کنیت اَبُوسِنَان تھی۔ ان کا نام وَہْب بن عبداللہ تھا اور عبداللہ بن وہب بھی بیان کیا جاتا ہے اور کنیت تھی اَبُو سِنَان۔ جبکہ صحیح ترین قول کے مطابق جو تاریخ میں ملتا ہے آپ کا نام وَہْب بن مِحْصَن تھا۔ حضرت اَبُو سِنَان بن مِحْصَن حضرت عُکَاشَہ بن مِحْصَن کے بھائی تھے۔ (اسد الغابہ جلد 6صفحہ 153 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)آپ حضرت عُکَاشَہ بن مِحْصَن سے بڑے تھے۔ اس کے بارے میں بھی یہ روایت ہے کہ حضرت عُکَاشَہ سے تقریباً دو سال بڑے تھے اور مختلف روایتیں بھی ہیں۔ بعض نے دس سال کہا۔ بعض نے بیس سال کہا۔ (اسد الغابہ جلد6 صفحہ 153مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2003ء) (الروض الانف جلد 4 صفحہ 62 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 69 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)۔ ان کے بیٹے کا نام سِنَان بن اَبُو سِنَان تھا۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد اور غزوۂ خندق میں شریک تھے۔ یہ بعض روایات میں ملتا ہے کہ بیعت رضوان میں سب سے پہلے بیعت کرنے والے حضرت اَبُو سِنَان بن مِحْصَن اَسَدی تھے مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت اَبُوسِنَان محاصرہ بنو قریظہ کے وقت 5ہجری کو بعمر 40سال وفات پا چکے تھے اور بیعتِ رضوان کے موقع پر بیعت کرنے والے ان کے بیٹے حضرت سِنَان بن اَبُو سِنَان تھے۔ حضرت اَبُو سِنَان بن مِحْصَن کی وفات اس وقت ہوئی جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قریظہ کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 69 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

پھر ایک صحابی ہیں حضرت قَیْس بن السَّکَنْ اَنْصَارِی۔ ان کی کنیت ابوزید تھی۔ حضرت قَیْس کے والد کا نام سکن بن زَعُوْرَاء تھا۔ آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عَدِی بن نجار سے تھا۔ حضرت قَیْس اپنی کنیت ابوزید سے زیادہ مشہور تھے۔ آپ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد اور غزوہ خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔ آپ کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن مجید جمع کیا۔ (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 389 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ جلد 4صفحہ 406 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)(اصابہ جلد صفحہ 5مطبوعہ 362دار الکتب العلمیہ بیروت 1995ء)

حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انصار میں سے چار اصحاب نے قرآن کریم جمع کیا اور وہ چار اصحاب زید بن ثابت، مُعَاذ بن جبل، اُبَی بن کَعْب اور ابو زَید تھے یعنی قَیْس بن سکن اور ابوزید کے متعلق حضرت انس کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا تھے۔ (صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب مناقب زید بن ثابتؓ حدیث 3810)

8ہجری میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوزید اَنْصَارِی اور حضرت عَمْرو بن عاص السَّہْمِی کو جُلَنْدِی کے دو بیٹوں عُبَیْد اور جَیْفَرکے پاس ایک خط دے کر روانہ کیا جس میں ان کو اسلام کی دعوت دی تھی اور دونوں سے فرمایا کہ اگر وہ لوگ حق کی گواہی دیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں تو عَمْرو ان کے امیر ہوں گے اور اَبُوزَید اُن کے امام الصلوٰۃ ہوں گے۔ یعنی کہ ان کی دینی حالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں زیادہ اچھی ہو گی یا قرآن کریم کا علم زیادہ تھا۔ فرمایا وہ امام الصلوٰۃ ہوں گے اور ان میں اسلام کی اشاعت کریں گے اور انہیں قرآن اور سنن کی تعلیم دیں گے۔ یہ دونوں عمان گئے اور عُبَیْد اور جَیْفَرسے سمندر کے کنارے صُحَارْمیں ملے۔ ان کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دیا انہوں نے اسلام قبول کیا، دونوں نے اسلام قبول کر لیا پھر انہوں نے وہاں کے عربوں کو اسلام کی دعوت دی وہ بھی اسلام لے آئے۔ اب یہ تبلیغ کے ذریعہ سے اسلام پھیل رہا ہے۔ وہاں کوئی جنگ، قتل و غارت اور تلوار تو نہیں گئی تھی اور بہرحال ان عربوں نے بھی اسلام کو قبول کیا۔ عَمْرو اور ابوزید عمان ہی میں رہے یہاں تک کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ بعض کے نزدیک ابوزید اس سے پہلے مدینہ آ گئے تھے۔ (فتوح البلدان صفحہ 53’’عمان‘‘ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2000ء) حضرت قَیْس کی شہادت یوم جِسْرکے موقع پر ہوئی۔ (الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 389 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء) حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ایرانیوں کے ساتھ جنگ میں دریائے فرات پر جو پل تیار کیا گیا تھا اسی مناسبت سے اس معرکے کو یوم جِسْر کہا جاتا ہے۔ (معجم البلدان جلد 2 صفحہ 162-163 ’’جسر‘‘ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے اَبُوالْیَسَرکَعْب بن عَمْرو۔ ان کی کنیت اَبُوالْیَسَر تھی اور اَبُوالْیَسَرکا تعلق قبیلہ بنو سلَمہ سے تھا۔ والد ان کے عَمْرو بن عَبَّاد تھے۔ والدہ کا نام نَسِیْبَہ بنتِ اَزْہَرتھا وہ قبیلہ سَلَمہ سے ہی تھیں۔ آپ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے اور غزوۂ بدر میں بھی شرکت کی۔ غزوۂ بدر کے روز آپ نے حضرت عباس کو گرفتار کیا تھا۔ آپ ہی وہ صحابی ہیں جنہوں نے غزوۂ بدر میں مشرکین کا جھنڈا ابوعَزِیْز بِن عُمَیر کے ہاتھ سے چھین لیا تھا۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیگر غزوات میں بھی شامل رہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جنگ صِفّین میں بھی حضرت علیؓ کے ساتھ شامل ہوئے۔

اسد الغابہ جلد 6صفحہ 326-327مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)ایک روایت میںیہ ہے کہ حضرت عباس کو غزوہ بدر میں قیدی بنانے والے حضرت عُبَید بِن اَوْس تھے۔ (اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 528-529 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

بہرحال حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے، حضرت ابن عباس یہ کہتے ہیں کہ غزوۂ بدر کے روز جس شخص نے حضرت عباسؓکو گرفتار کیا تھا اس کا نام اَبُوالْیَسَر تھا۔ اَبُوالْیَسَراس وقت دبلے پتلے آدمی تھے۔ غزوۂ بدر کے وقت آپ بیس برس کے جواں سال تھے جبکہ حضرت عباس بھاری بھرکم جسم کے مالک تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اَبُوالْیَسَرسے دریافت کیا کہ تم نے عباس کو کس طرح اسیر کر لیا، کس طرح قیدی بنا لیا؟ تم تو بالکل دبلے پتلے اور وہ بڑے لمبے چوڑے قد کے ہیں اور جسیم ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص نے میری مدد کی تھی جس کو مَیں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی بعد میں دیکھا ہے اور اس کا حلیہ ایسا ایسا تھا۔ اس کا حلیہ بیان کیا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لَقَدْ اَعَانَکَ عَلَیْہِ مَلَکٌ کَرِیْمٌ۔ یقیناً اس میں تیری ایک معزز فرشتے نے مدد کی ہے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 4صفحہ 8 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ بدر کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دشمن کو قتل کیا اس کے لئے فلاں فلاں کچھ ہوگا۔ پس مسلمانوں نے ستر مشرکین کو قتل کیا اور ستر مشرکین کو قید بھی کیا۔ حضرت اَبُوالْیَسَر دو اسیروں کو لائے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپؐ نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ جو کوئی قتل کرے گا اس کے لئے فلاں فلاں کچھ ہو گا اور اسی طرح جو کوئی اسیر بنائے گا اس کے لئے فلاں فلاں ہو گا۔ میں دو قیدی لے کر آیا ہوں۔(المصنف لعبد الرزاق جلد 5 صفحہ 239 کتاب الجہاد باب ذکر الخمس … الخ حدیث 9483 المکتب الاسلامی 1983ء)ایک روایت کے مطابق غزوہ بدر میں ابُوالْبَخْتَرِی کو قتل کرنے والے حضرت اَبُوالْیَسَر تھے۔

(اسد الغابہ جلد 6صفحہ 92 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)

حضرت سَلَامَۃ بنت مَعْقَل بیان کرتی ہیں کہ میں حُبَاب بن عَمْرو کی غلامی میں تھی اور ان سے میرے ہاں ایک لڑکا بھی پیدا ہو اتھا۔ ان کی وفات پر ان کی بیوی نے مجھے بتایا کہ اب تمہیں حُبَاب کے قرضوں کے بدلے بیچ دیا جائے گا۔ تمہاری حیثیت لونڈی کی تھی اس لئے تم بیچ دی جاؤ گی۔ کہتی ہیں کہ مَیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ساری صورتحال بتائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ حُبَاب بن عَمْرو کے ترکے کا ذمہ دار کون ہے؟ توبتایا گیا کہ ان کے بھائی اَبُوالْیَسَر ان کے ذمہ دار ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ اسے مت بیچنا۔ یہ لونڈی ہے۔ اسے مت بیچنا بلکہ اسے آزاد کر دو۔ اور جب تمہیں پتہ لگے کہ میرے پاس کوئی غلام آیا ہے تو تم میرے پاس آ جانا۔ میں اس کے عوض میں تمہیں دوسرا غلام دے دوں گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 726 حدیث 27569 مسند سلامہ بنت معقل مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا اور اُن کو ایک غلام مہیا فرما دیا۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سیرت خاتم النبیین میں ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ عُبَادَۃ بن ولید روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اَبُوالْیَسَرکو ملے۔ اس وقت ان کے ساتھ ایک غلام بھی تھا اور ہم نے دیکھا کہ ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے بدن پر تھی اور اسی طرح ایک دھاری دار چادر اور ایک یمنی چادر ان کے غلام کے بدن پر تھی۔ میں نے انہیں کہا کہ چچا تم نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اپنے غلام کی دھاری دار چادر خود لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے یا اس کی یمنی چادر خود لے لیتے اور اپنی دھاری دار چادر اسے دے دیتے تا کہ تم دونوں کے بدن پر ایک ایک طرح کا جوڑا ہو جاتا۔ حضرت اَبُوالْیَسَرنے میرے سر پر، روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعا کی اور پھر مجھے کہنے لگے کہ بھتیجے میری ان آنکھوں نے دیکھا ہے اور میرے ان کانوں نے سنا ہے اور میرے اس دل نے اسے اپنے اندر جگہ دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اپنے غلاموں کو وہی کھانا کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور وہی لباس پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔ پس میں اس بات کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں دنیا کے اموال میں سے اپنے غلام کو برابر کا حصہ دے دوں بہ نسبت اس کے کہ قیامت کے دن میرے ثواب میں کوئی کمی آوے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 383)

تو یہ تھے وہ لوگ جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو اس باریکی سے دیکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہر وقت بے چین رہتے تھے بلکہ اس کے بھوکے تھے۔

حضرت اَبُوالْیَسَر روایت کرتے ہیں کہ بنوحرام کے فلاں بن فلاں کے ذمہ میرا مال تھا۔ میںنے کچھ پیسے اسے دئے تھے۔اس نے مجھے قرض دینا تھا ۔ اس کے ذمہ قرضہ تھا۔ میں اس کے ہاں گیا۔ میں نے سلام کیا اور پوچھا کہ وہ کہاں ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہاں گھر میں ہے؟ گھر سے جواب ملا کہ نہیں۔ کہتے ہیں کہ پھر اس کا بیٹا جو بلوغت کے قریب تھا۔ ابھی بالغ نہیں ہوا تھا۔ وہ بیٹا میرے پاس آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارا باپ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ اس نے آپ کی آواز سنی اور میری ماں کے چھپر کھٹ میں گھس گیا، وہ آپ کی آواز سن کر پلنگ کے پیچھے چھپ گیا۔ تو میں نے کہا میرے پاس باہر آؤ۔ پھر میں نے آواز دی کیونکہ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ تو کہاں ہے، اس گھر والے مقروض کو کہا کہ باہر آ جاؤ مجھے پتہ ہے تم کہاں ہو۔ اَبُوالْیَسَر کہتے ہیں کہ چنانچہ وہ باہر آیا۔ میں نے کہا کہ تم کیوں مجھ سے چھپے تھے؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم! مَیں تمہیں بتاتا ہوں اور تم سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ اللہ کی قَسم! میں ڈرا کہ تمہیں بتاؤںا ور تم سے جھوٹ بولوں اور تم سے وعدہ کروں اور پھر وعدہ خلافی کروں کہ پھر مَیں آؤں، جھوٹ بول کے کہوں کہ اچھا میں فلاں دن تمہاری یا فلاں وقت تمہاری رقم دے دوں گا لیکن وعدہ پورا نہ کر سکوں اور جھوٹ بولوں۔ پھر کہنے لگا کہ آپؓتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں محتاج ہوں۔ اَبُوالْیَسَر کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم؟ یعنی سوال کیا اس سے کہ تم اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہو حقیقی طور پر؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔ میں نے کہا اللہ کی قسم؟ پھر میں نے اس سے پوچھا کہ تم اللہ کی قسم کھا کر مجھے یہ بات کہہ رہے ہو کہ تم محتاج ہو؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔ میں نے پھر کہا، تیسری دفعہ کہ اللہ کی قسم؟ اس نے کہا ہاں اللہ کی قسم۔ کہتے ہیں کہ حضرت اَبُوالْیَسَر اس وقت اپنی تحریر لے کر آئے اور اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا جو لکھی ہوئی تھی۔ قرضہ واپس دینے کی تحریر تھی اسے مٹا دیا اور کہا کہ اگر تمہیں ادائیگی کی توفیق ملے تو مجھے ادا کر دینا ورنہ تم آزاد ہو۔ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں میری ان دو آنکھوں کی بصارت یعنی اپنی دونوں انگلیاں اپنی آنکھوں پر رکھیں اور میرے ان دو کانوں کی شنوائی اور میرے دل نے اس بات کو یاد رکھا ہے اور انہوں نے دل کی جگہ کی طرف اشارہ کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب یہ تحریر مٹائی اور آزاد کیا تو کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں اپنی آنکھوں سے، اپنے کانوں سے، اپنے دل سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں اور آپؐ فرما رہے تھے کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس کا تمام مالی بوجھ اتار دیا اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔ (صحیح مسلم کتاب الزھد والرقائق باب حدیث جابر الطویل و قصۃ ابی الیسر حدیث 7512 ) تو میں نے تمہارا بوجھ اتار دیا کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ کے سائے کی تلاش ہے۔ یہ ایک اور مثال ہے اللہ تعالیٰ کے خوف اور خشیت کی۔ خواہش تھی تو بس یہی کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو نہ کہ دنیاوی منفعت۔

حضرت اَبُوالْیَسَرکَعْب بن عَمْرو احادیث کے بیان کرنے میں نہایت احتیاط سے کام لیتے تھے۔ ایک مرتبہ عبادۃ بن ولید سے دو حدیثیں بیان کیں اور حالت یہ تھی کہ آنکھ اور کان پر انگلی رکھ کر کہتے کہ ان آنکھوں نے یہ واقعہ دیکھا اور ان کانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان فرماتے سنا۔

(صحیح مسلم کتاب الزھد والرقائق باب حدیث جابر الطویل و قصۃ ابی الیسر حدیث 7512 ،7513)

حضرت اَبُوالْیَسَرکے ایک بیٹے کا نام عُمَیر تھا جو اُمِّ عَمْرو کے بطن سے تھے۔ حضرت اُمّ عَمْرو حضرت جابر بن عبداللہ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کے ایک بیٹے یزید بن ابی یسر تھے جو کہ لبابۃ بنت حارث کے بطن سے پیدا ہوئے۔ ایک بیٹے کا نام حبیب تھا جن کی والدہ اُمّ ولد تھیں۔ ایک بیٹی عائشہ تھیں جن کی والدہ کا نام اُمُّ الرَّیَاع تھا آپ غزوۂ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے۔ اس وقت آپ کی عمر بیس برس تھی۔ آپ کی وفات حضرت امیر معاویہ کے زمانے میں پچپن ہجری میں ہوئی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 3صفحہ 436مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

یہ لوگ تھے، عجیب شان تھی ان کی جنہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے وفا کے طریقے بھی سکھائے۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت کے طریقے بھی سکھائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرتے ہوئے کامل اطاعت کرنے کے طریقے بھی سکھائے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درجات بلند کرے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button