متفرق شعراء

ہم جو اِک داستان رکھتے ہیں

سایۂ آسمان رکھتے ہیں
بس اسی کی امان رکھتے ہیں
بخدا کچھ کمی نہیں ہے ہمیں
مالکِ کُل جہان رکھتے ہیں
موت سے جو ڈرا نہیں کرتے
وہ ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں
اک صدی پر محیط ہے اپنی
ہم جو اِک داستان رکھتے ہیں
یہ الگ بات ہے رہیں خاموش
ورنہ ہم بھی زبان رکھتے ہیں
خود خودی خاک میں ملا کر ہم
اپنی اِک آن بان رکھتے ہیں
دل کی ہم بات غیب سے کر کے
غیب کو رازدان رکھتے ہیں
گھوڑے سرحد پہ باندھ کر رکھیں
اور اونچی مچان رکھتے ہیں
ہم مسافر ہیں اگلی منزل کے
پختہ عزمِ اڑان رکھتے ہیں
ہم ہی ٹھہریں گے بامراد کہ ہم
منزلوں پر دھیان رکھتے ہیں
زعم لے ڈوبا ان کو کثرت کا
ہم دلِ اطمنان رکھتے ہیں
ہم غریبوں کی زندگی ہے الگ
ہم فقیری میں شان رکھتے ہیں
پیر و مرشد کی ہم دعاؤں کو
اپنے بچوں پہ تان رکھتے ہیں
یہ انہی کی ہی شانِ شاہی ہے
ہم حقیروں کا مان رکھتے ہیں
دنیا دیکھی مگر بہت دل میں
چاہتِ قادیان رکھتے ہیں
یہ زمانہ ہے اب انہی کا ظفرؔ
جو امامِ زمان رکھتے ہیں

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button