خطاب حضور انور

جلسہ سالانہ جرمنی 2018ء کے موقع پر امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا اختتامی خطاب (حصہ دوم)

فرمودہ09؍ستمبر 2018ء بروز اتوار بمقام کالسروئے جرمنی(حصہ دوم)

(گزشتہ سے پیوستہ)صرف افریقہ کے رہنے والوں کی رہنمائی ہی نہیں ہو رہی بلکہ یورپ میں رہنے والوں کی بھی خدا تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے۔ چنانچہ بوسنیا کے مبلغ ایک دوست الویدن صاحب کی بیعت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ الویدن صاحب جماعت کے ساتھ رابطہ سے قبل مغربی طرز پر آزادانہ زندگی گزار رہے تھے لیکن انہیں بعض خوابوں کی بنا پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے اشارے ملے کہ انہوں نے آہستہ آہستہ ان بدیوں سے خود کو دور رکھنے کے لئے کوشش شروع کر دی۔ اس عرصہ میں یہ بعض خطرناک جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے اور حلقہ احباب میں تمسخر کا شکار بن گئے۔ غرضیکہ ان پر ایسا وقت بھی آیا کہ قریب تھا کہ ذہنی مریض بن جاتے۔ بہرحال انہوں نے پابندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی شروع کر دی۔ پہلے سے ہی مسلمان تھے اور دعاؤں میں لگ گئے۔ ایک روز سجدے کے دوران انہیں یہ آواز سنائی دی جیسے کوئی فرشتہ شیطان سے کہہ رہا ہے کہ بس کر اب اسے چھوڑ دے۔ اس پر شیطان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ابھی ایک اَور آزمائش باقی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس قسم کا روحانی تجربہ ان کے لئے بہت حیرت کا باعث ہوا۔ اس کے بعد ان پر ایک آزمائش آئی لیکن ساتھ ہی انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے گا کیونکہ خواب میں دیکھا تھا کہ ایک آزمائش ہے۔ انہوں نے سمجھا کہ بس یہ آخری آزمائش ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ہی انہیں جماعت کے بارے میں پیغام ملا۔ انہیں اپنا روحانی تجربہ یاد آگیا اور چند تبلیغی نشستوں کے بعد موصوف نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔

پھر اردن کے ایک عرب دوست احمد صاحب ہیں۔ کہتے ہیں کہ دینی مسائل کے بارے میں جاننے کی کوشش کے دوران ایک روز میں نے دجال کے بارے میں انٹرنیٹ پر ایک آرٹیکل پڑھا جو کسی احمدی نے لکھا تھا۔ یہ مضمون میرے دل کو لگا اور میں نے احمدیت کے بارے میں تحقیق شروع کر دی۔ جب جماعتی علوم اور کتب کا مطالعہ کیا تو میرے دل میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کے نقوش ابھرنے لگے لیکن میرے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ ان عقائد اور مفاہیم کا کیا جائے جو آباؤ اجداد اور معاشرے کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں، رائج الوقت ہیں۔ مولوی یہ کہتے ہیں بڑوں سے ہم نے یہی سنا ہے کہ امام مہدی کے متعلق مختلف قسم کی کہانیاں ہیں تو کیا میںاس امام کی بیعت کر لوں جس کی صداقت میرے لئے روشن ہو چکی ہے اور جس کی بیعت کرنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم مسلمانوںکو وصیت فرمائی ہے۔(سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی حدیث 4084)۔ یا پھر دوسری بات وہی ہے کہ آنکھیں بند کر کے مولویوں کے پیچھے چلتا رہوں اور اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے عقائد کو ہی منافقانہ طور پر درست تسلیم کرتا رہوں۔ کہتے ہیں کہ اس سوال کے جواب میں میرے سامنے سوائے اس کے اَور کوئی راستہ نہ تھا کہ عالم الغیب خدا کی طرف رجوع کرتا۔ ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک غیر معمولی رؤیا سے نوازا میں نے خواب میں سورۃ نساء کی اس آیت کو جلی حروف میں دیکھا کہ وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍ مِّنْہُ۔ مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ (النساء158:)کہتے ہیں خواب میں مجھے اس آیت کا آخری حصہ یعنی وَمَا قَتَلُوْہُ یقیناً بہت زیادہ روشن اور موٹا اور واضح نظر آ رہا تھا۔ تو کہتے ہیں کہ گو میں ایم ٹی اے سے وفات مسیح کا مسئلہ تو سمجھ چکا تھا لیکن اس آیت کی مکمل تفسیر کبھی نہیں سنی تھی۔ ابھی میں اس بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک روز ایم ٹی اے پر لقاء مع العرب میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کو اسی آیت کی مفصّل تفسیر کرتے ہوئے سنا تو میں حیران تھا کہ یہ اتفاق کیسے ہو سکتا ہے کہ وہی آیت جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا اور جس کی تفسیر جاننے کی خواہش میرے دل میں پیدا ہوئی اسی آیت کی تفسیر انہی ایام میں مجھے ایم ٹی اے پر مل گئی یقیناً یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میری ہدایت کا سامان تھا۔ بہرحال اس نشان کو دیکھ کر میں نے کہا کہ ابھی شاید مجھے مزید واضح نشان کی ضرورت ہے۔ اس دوران میں نے سوچا کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بتائے ہوئے طریق پر استخارہ بھی کر کے دیکھ لوں۔ چنانچہ مَیں نے آپ کی کتاب اتمام الحجۃ میں بیان ہونے والے طریق کے مطابق استخارہ کیا تو خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر فجر کی اذان دے رہا ہے۔ اس نے اذان مکمل کرنے کے بعد کچھ اس طرح کہا حَیَّ عَلَی الْاَحْمَدِیَّہ حَیَّ عَلَی الْاَحْمَدِیَّہ۔ یعنی احمدیت کی طرف آؤ۔ احمدیت کی طرف آؤ۔ مؤذن نے رؤیا میں اور بھی جملے کہے لیکن مجھے صرف یہی یاد رہے۔ کہتے ہیں کہ عجیب بات یہ ہے کہ جب میں جاگا تو محلے کی مسجد میں مؤذن فجر کی اذان دے رہا تھا اور اس واضح رؤیا کے بعد میں نے بیعت کا فیصلہ کر لیا۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ غیر احمدی علماء کی طرف سے احمدیوں کو ان کے ایمان سے ہٹانے کی کوشش کتنی ہوتی ہے اور اس کے بعد کس طرح وہ ثابت قدم رہتے ہیں۔ بینن کا ایک گاؤں اگیلو ہے۔ وہاں کے ایک احمدی ہیں لادیلے حسن صاحب۔ کہتے ہیں کہ میں اپنی فیملی کے پچیس افراد کے ساتھ احمدیت میں داخل ہوا۔ احمدی ہونے کے بعد غیراحمدی مولویوں کا ایک وفد جو کہ سعودی عرب سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے ہمارے پاس آیا اور کہا کہ احمدی کافر ہیں اور وہ آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ہم اصل اسلام سعودی عرب سے سیکھ کر آئے ہیں اس لئے آپ احمدیوں کی باتوں میں نہ آئیں۔ چنانچہ کہتے ہیں میں نے ان سے اصل اسلام کے بارے میں چند سوالات کئے کہ ایک مسلمان کس طرح نماز پڑھتا ہے اور احمدیوں اور غیر احمدیوں کے قرآن میں کیا فرق ہے وغیرہ۔ اس پر میں نے مولویوں سے کہا کہ احمدیت کا اسلام بھی یہی ہے۔ لیکن ایک بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ جب احمدیوں نے تبلیغ کی تھی تو کسی فرقے یا مذہب کو برا نہیں کہا تھا مگر آپ لوگوں کا انداز ہی بتا رہا ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں اس لئے آپ یہاں سے چلے جائیں۔

ا ب بعض لوگ یہ بھی احمدیوں پر الزام لگاتے ہیں کہ جی آپ بھی تو ہمارے مولویوں کو برا کہتے ہیں اس لئے ہم کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ کبھی ہم نے اس طرح نہیں کہا۔ ہاں جو لوگ گالیاں دیتے ہیں ان کو یہی کہا جاتا ہے کہ اگر تم ہمیں کافر کہتے ہو تو یہی کفر تمہارے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کے مطابق لَوٹ کر پڑتا ہے۔

(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان حال ایمان من قال لاخیہ المسلم یا کافر حدیث 216)

اس کے بعد کہتے ہیں تقریباً تین سال تک مولوی وفود کی صورت میں آ کر ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے ایمانوں کو ضائع نہیں کیا اور ہم نے اپنے گھر کے ایک چھوٹے کمرے کو نماز اور جمعہ کے لئے مخصوص کر لیا۔ اس کے بعد مزید لوگوں کو بھی احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی تعمیر کی توفیق بھی ان کو مل گئی ہے۔

پھر تنزانیہ کے ایک علاقہ میں بیعتوں کا ذکر کرتے ہوئے وہاں کے موانزا ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں ایک مغربی افریقہ ایک مشرقی افریقہ ہے، ہزاروں میل کا بیچ میں فاصلہ ہے اور ایک جیسے حالات مختلف جگہوں پر ظاہر ہو رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس سال شیانگا کے ایک علاقہ وگیہے میں مسجد کی تعمیر ہوئی۔ یہاں گزشتہ سال کچھ فیملیز نے بیعت کی تھی لیکن ان کی تربیت کے لئے باقاعدہ کوئی سینٹر نہیں تھا۔ ہمارے ایک پرانے پیدائشی احمدی یوسف مگلیکا صاحب نے اپنی زمین میں سے کچھ حصہ جماعت کو دیا تا کہ وہاں ایک چھوٹی مسجد بنا دی جائے اور مسجد کی تعمیر کے لئے اینٹیں بھی مہیا کر دیں۔ چنانچہ وہاں مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا گیا اور ایک معلم کو بھی اس جماعت میں بھجوایا گیا۔ جب مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو لوگوں کے پوچھنے پر انہیں بتایا گیا کہ یہ مسجد جماعت احمدیہ تعمیر کر رہی ہے۔ کہتے ہیں پہلے ہمیں لگا کہ شاید یہ لوگ مخالفت کریں گے اور نماز کے لئے نہیں آئیں گے لیکن ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوا گاؤں کے کئی غیر احمدی لوگ مسجد میں نماز کے لئے آنے لگ گئے اور جماعت احمدیہ کے متعلق مزید سوالات بھی پوچھنے شروع کر دئیے۔ چنانچہ اسی رمضان کے مہینہ میں وہاں بیعتیں بھی ہوئیں اور جماعت کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں پہلے ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید مسجد کی تعمیر سے مخالفت شروع ہو جائے گی لیکن مسجد کی تعمیر نے تبلیغ کے دروازے کھول دئیے اور گاؤں کے کئی لوگ بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ کس کس طرح لوگوں کی رہنمائی فرماتا ہے اس کے عجیب نظارے نظر آتے ہیں۔ نائیجیریا کی جماعت میٹوگن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ چند سال قبل ہم تبلیغی غرض سے ایک گھر گئے تو انہوں نے کافی سختی سے ہمیں گھر سے نکال دیا۔ کہتے ہیں اس سال ہم دوبارہ اسی گھر گئے تو ہمیں یہی توقع تھی کہ اس دفعہ بھی نکال دیں گے لیکن ڈرتے ڈرتے چلے گئے۔ بہرحال جب ہم وہاں پہنچے تو گھر کی خاتون بجائے ہمیں دھکے دے کر نکالنے کے کہنے لگی کہ مجھے چھ بیعت فارم دے دیں ہم ساری فیملی بیعت کریں گے۔ اس نے بتایا کہ مَیں کہیں باہر گئی ہوئی تھی اور جب واپس گھر آ رہی تھی تو راستے میں مجھے آواز سنائی دی کہ کچھ لوگ تمہارے گھر تبلیغ کے لئے آئیں گے ان کی بات ماننا تمہارے خاندان کے لئے فائدہ مند ہو گا۔ اب جب میں گھر پہنچی ہوں تو آپ لوگ پہلے سے یہاں موجود ہیں۔ چنانچہ یہ ساری فیملی بیعت کر کے نہ صرف جماعت میں شامل ہو گئی بلکہ بہت فعّال احمدی بن گئے ہیں۔

تاتارستان روس کا ایک علاقہ ہے ۔ اس میں کازان سے 380 کلو میٹر دور ایک قصبہ ہے وہاں ایک احمدی خاندان کے ذریعہ ایک دوست ایرک صاحب کو جماعت کا پیغام ملا تو انہوں نے جماعت کے متعلق مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ پھر انہوں نے جماعتی وفد کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ کہتے ہیں جب ہمارا وفد وہاں پہنچا تو انہیں تفصیل کے ساتھ جماعت کا تعارف کروایا گیا اور انہیں شرائط بیعت کے متعلق بھی بتایا گیا۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ میں تو ہر روز دس شرائط بیعت کا مطالعہ کرتا ہوں۔ میں نے شرائط بیعت لکڑی کی چھوٹی تختی پر کندہ کر کے ان کا ایک فریم تیار کر کے گھر کے دروازے پر لٹکایا ہوا ہے۔ (ابھی احمدی نہیں ہوئے اور شرائط بیعت کو اپنے گھر کے دروازے پر لٹکایا ہوا ہے)۔ اور روزانہ صبح اٹھ کر ان دس شرائط بیعت کو پڑھتا ہوں اور اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ کون کون سی شرط پر عمل نہیں کر رہا۔ ابھی بیعت کرنے سے پہلے یہ حال ہے۔ اس کے بعد موصوف باقاعدہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔ اور انہوں نے میرے نام اپنا ایک خط بھی لکھا کہ مجھے نام نہاد مسلمانوں میں رہ کر علماء کی پھیلائی ہوئی اسلامی تعلیم کی سمجھ نہیں آتی تھی اور نہ ہی عبادت کی حقیقت اور مقصد سمجھ آتا تھا۔ یہی وقت تھا جب یہ باتیںمجھے گمراہی کے گڑھے میں غرق کر سکتی تھیں مگر الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے گمراہ ہونے سے بچا لیا اور حق کی طرف میری رہنمائی فرمائی۔ جماعتی لٹریچر میں اسلام کی حقیقی تعلیم بہت ہی اچھے اور آسان انداز میں بیان تھی اور جماعت کا نعرہ ’محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں‘ مجھے بہت پسند آیا۔

پھر بہت سے واقعات ایسے ہوتے ہیں جہاں یہ بہت ساری چیزیں تبلیغ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

محمد احمد راشد صاحب سوئٹزرلینڈ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ترکی کے ایک کردی شہری اور عالم دین موسیٰ صاحب کا چند سال قبل ایم ٹی اے عربی کے ذریعہ احمدیت سے تعارف ہوا تھا۔ ترکی سے دو سال قبل انہوں نے رابطہ کیا۔ اب ایم ٹی اے کی ترکی زبان میں لائیو نشریات کو بھی دیکھتے رہتے ہیں اور وقتًا فوقتًا نشریات کے متعلق تبصرہ بھی بھجواتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں گزشتہ مہینہ خاکسار کے دورہ ترکی کے دوران انہی کی تبلیغ سے ان کے ایک 23سالہ بھانجے نے جو کہ مذہبی مدارس کے پڑھے ہیں اور ترکی، کُردی اور عربی زبان جانتے ہیں انہوں نے بیعت کی اور خود کو وقف کرنے کے لئے پیش بھی کیا۔ یہ عالم دین اور ان کے ساتھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعاوی اور خلافت احمدیہ پر ایمان رکھتے تھے اور ایم ٹی اے کی عربی اور ترکی نشریات دیکھتے تھے۔ جماعتی لٹریچر کا مطالعہ بھی باقاعدہ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود بیعت نہیں کرتے تھے۔ لیکن آخر ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کھولے اور موسیٰ صاحب نے اپنے دو ساتھیوں رمضان صاحب اور حاجی محمود صاحب کے سمیت بیعت کی سعادت حاصل کی اور تینوں کے افراد خانہ کی کل تعداد 23 ہے۔ اور انہوں نے مجھے خط بھی لکھا جس میں انہوں نے بڑے اخلاص اور وفا کا اظہار کیا۔ تو نیک فطرت علماء کی بھی کمی نہیں ہے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو نیک فطرت ہیں وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی فرماتا رہتا ہے۔

پھر امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ پمفلٹ کی تقسیم کے دوران ایک مسلمان دوست نے جب ہمارا پمفلٹ پڑھا تو کہنے لگا کہ میں بہت دیر سے آپ کا انتظار کر رہا تھا۔ اسلام کے اس پیغام کی آج سخت ضرورت ہے۔ مَیں کچھ سالوں سے فرانس میں ہوں اور میری فیملی جو کہ آئیوری کوسٹ میں مقیم ہے باقاعدگی کے ساتھ آپ کے سینٹر میں جاتی ہے اور ہمیںآپ کی جماعت میں بہت دلچسپی ہے۔ پھر یہ دوست یُوٹیوب پر جماعت کے فرنچ پروگرام دیکھنے لگے اور جماعت کے بارہ میں دو سال تک معلومات حاصل کرنے کے بعد آخر کار بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔ یہ آئیوری کوسٹ میں رہتے ہیں۔ جماعت وہاں بھی بڑی فعّال ہے۔ ہر سال بیعتیں بھی ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا سامان کیا تو یہاں فرانس آ کر۔

پھر غیر مسلموں پر بھی اسلام کی تعلیم کا اثر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نور ان کے دلوں کو بھی روشن کرتا ہے۔ چنانچہ ایک شخص کی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے بینن الاڈا ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ الاڈا شہر کے شمال مشرق میں زے کا علاقہ ہے جہاں ایک دوست عیسیٰ صاحب کو جماعتی پمفلٹس دئیے گئے۔ بعد میں انہوں نے ریڈیو بھی سننا شروع کر دیا انہوں نے بتایا کہ آپ لوگوں کے پمفلٹس پڑھ کر مجھے تسلی ہوئی ہے اور میں پیدائشی طور پر کیتھولک ہوں۔ لیکن میں جب بھی چرچ جاتا تھا تو پادری بائبل کی آیات کی جو تفسیر کرتے تھے ان سے دل کو تسلی نہیں ہوتی تھی مگر جب سے جماعت احمدیہ کی تبلیغ ریڈیو پر سننی شروع کی ہے تو آپ لوگ بائبل کی آیات کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ حقائق اور عقل کی رُو سے بالکل صحیح لگتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔

بعض جگہوں پہ مسلمان بھی انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب کوئی جماعت کا نمائندہ آئے اور ہماری بیعت لے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ سے جب سے کہ ایم ٹی اے افریقہ شروع ہوا ہے اور مختلف ممالک میں ریڈیو ہیں۔ ان سے جماعت کا تعارف افریقہ میں تو خاص طور پر وسیع پیمانے پر ہو گیا ہے۔

بینن سے مبلغ سلسلہ کوتونو لکھتے ہیں کہ ہم ایک دور دراز گاؤں اگونجی میں تبلیغ کے لئے گئے۔ انہیں جب تبلیغ کی گئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم تو ایک عرصہ سے جماعت کے ریڈیو پر پروگرام سنتے ہیں اور جماعت احمدیہ کے عقائد سے واقف ہیں۔ ہم تو انتظار کر رہے تھے کہ احمدیوں کا کوئی نمائندہ ہمارے گاؤں میں آئے اور ہمارے بچوں کو اسلام اور دینی تعلیم سے آگاہ کرے۔ چنانچہ اس گاؤں سے 125 افراد نے بیعت کی توفیق پائی۔

برکینا فاسو سے بانفورہ ریجن کے لوکل مبلغ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک گاؤں موس بدوگو میں تبلیغ کی تھی۔ اس کے بعد ایک شخص کہنے لگا کہ میں آپ کے ریڈیو چینل پر سارے پروگرام سنتا ہوں۔ میرے پاس دو ریڈیو ہیں۔ دور دراز گاؤں ہیں بجلی نہیں ہوتی۔ ایک کی بیٹری چارج ہو رہی ہوتی ہے تو دوسرے ریڈیو پر پروگرام سنتا ہوں تا کہ میرا کوئی بھی پروگرام ضائع نہ ہو جائے۔ اس شوق میں اس نے دو دو ریڈیو رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے کہا کہ احمدیت ایک روشنی ہے کوئی اس سے استفادہ کرے یا نہ کرے لیکن فتح احمدیت کو ہی ہونی ہے۔ آج میں باقاعدہ بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہوتا ہوں اور دوسروںکو بھی کہتا ہوں کہ اس جماعت میں شامل ہوجائیں۔ تو یہ روشنی ان دور دراز علاقوں میں لوگوں کو نظر آ رہی ہے۔

مالی سے سکاسو ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ دو ماہ قبل ایک نوجوان نوح ویدراغو صاحب ہمارے ریڈیو سٹیشن پر آئے اور کہنے لگے کہ جماعت احمدیہ کا واحد ریڈیو سٹیشن ہے جو ہم نوجوان بغیر میوزک کے سننا پسند کرتے ہیں۔ اس لئے میں بھی آپ کے ریڈیو پر نوجوانوں کے لئے پروگرام کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ اس نوجوان کو معلم صاحب کے ساتھ مل کر ریڈیو پروگرام کرنے کا موقع دیا گیا جس کی وجہ سے ان کے اندر احمدیت سے دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے مطالعہ کر کے بیعت کی توفیق پائی۔ بیعت کرنے کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے نمازیں شروع کر دیں اور اس سال رمضان میں انہوں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے ایک روشنی نکلی ہے جو زمین کی طرف آ رہی ہے اور آہستہ آہستہ ان کے قریب آ گئی اور قریب آنے پر اس میں سے آواز آئی کہ جو راہ تم نے چنی ہے وہی حق کی راہ ہے اس کو کبھی نہ چھوڑنا۔ خوش قسمت لوگ ہیں جو اس راہ کو اپناتے ہیں اور پھر اس راہ کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔ چنانچہ اس خواب کے بعد موصوف کے ایمان میں بے پناہ اضافہ ہوا اور وہ بڑی دلچسپی سے اب جماعتی کاموں میں اور تبلیغ میں حصہ لینے لگ گئے ہیں۔

کانگو کنشاسا کے متادی ریجن کے معلم لکھتے ہیں کہ ایک دوست شعبان صاحب کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میرا تعلق اہل سنّت سے تھا اور جب یہاں جماعت احمدیہ کا مشن کھلا تو ہمارے اساتذہ نے بتایا کہ احمدی تو کافر ہیں۔ اس کے بعد میں نے مقامی ریڈیو پر اسلام کے متعلق ایک پروگرام سنا تو بہت خوشی ہوئی اور بڑے خوبصورت انداز میں اسلامی تعلیمات بیان کی گئیں۔ مگر جب پروگرام کے درمیان احمدیت کا نام سنا تو میری ساری خوشی جاتی رہی۔ مولویوںنے تو کہا تھا کہ یہ کافر لوگ ہیں ’یہ کیا ہو گیا‘ یہ تو کافر ہیں۔ بہرحال اس پروگرام کا مجھ پر اثر ہوا اور اگلے دن میں نے دوبارہ اپنے استاد سے احمدیت کا ذکر کیا تو اس نے وہی بات دہرا دی کہ احمدی کافر ہیں اور گمراہ ہیں۔ کہتے ہیںکہ چند دن بعد دوبارہ ریڈیو پروگرام سنا تو تمام باتیں دل کو لگیں اور دل کو بہت اثر ہوا۔ بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ احمدیوں کی مسجد میں جانے میں کیا حرج ہے۔ جا کے دیکھا تو جائے۔ عقل کا تقاضا تو یہی ہے صرف اندھوں کی طرح مولویوں کی باتوں کے پیچھے تو نہیں چلنا۔ کہتے ہیں میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں جمعہ کو وہاں جاؤں گا اور ان کی مزید باتیں اور عمل دیکھوں گا۔ اس کے بعد میں نے مسلسل کئی جمعے احمدیہ مسجد میں ادا کئے اور قریب سے جماعت کو دیکھتا رہا۔ مجھے کوئی چیز ایسی نظر نہ آئی جس سے میں جماعت احمدیہ کو کافر کہہ سکتا۔ چنانچہ میں نے بیعت کر لی اور جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔

کیمرون کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ چند سال قبل بائیکوم شہر کے کچھ لوگوں نے جماعت میں شمولیت اختیار کی اور وہاںکی مسجد کے امام جیکام صاحب نے بھی احمدیت قبول کی۔ گزشتہ سال ان کے ایک بیٹے امام زکریاصاحب نے بھی احمدیت قبول کی اور ان کے ساتھ سو سے زائد لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔ اور اس وقت زکریا صاحب مساسی علاقہ میں اپنے قبیلہ باعوں کی مسجد کے امام ہیں۔ اسی طرح امام جیکام کے دوسرے بیٹے امام حسینی صاحب ہیں وہ بھی احمدی ہیں۔ اکتوبر 2017ء میں امام جیکام صاحب کی وفات ہو گئی۔ انہوں نے وفات سے قبل اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور نصیحت کی کہ آپ لوگوں نے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی ہے اور لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ علماء آپ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ میں نے حدیثوں اور کتابوں میں امام مہدی کے متعلق بہت پڑھا ہے اور اس وقت وہ نشانات پورے ہو گئے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام اور جماعت احمدیہ سچی ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور جماعت کی خدمت جاری رکھنا۔ اس وقت دونوں بھائی جماعت میں فعّال ہیں۔ بڑا بھائی امام زکریا اپنی مسجد میں جماعت کی تبلیغ کرتے ہیں اور یہی مسجد ہمارا سینٹر بھی ہے۔ یہاں کی جماعت مالی قربانی میں بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ امام مرحوم کے چھوٹے بیٹے امام حسینی بھی اپنی مسجد کے امام ہیں اور جماعت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ امام مرحوم نے ایک پلاٹ بھی نئی مسجد کے لئے دیا ہوا ہے جس پر مستقبل میں انشاء اللہ تعالیٰ نئی مسجد بنائی جائے گی۔ پس جو عقل رکھتے ہیں ان کو پتہ ہے کہ یہ مخالفتیں جو ہورہی ہیں مولویوں کی طرف سے یہ تو وہ پھونکیں ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا نور کبھی بجھ نہیںسکتا اور بڑی ثابت قدمی سے یہ لوگ احمدیت پر اور حقیقی اسلام پر قائم ہیں اور یہی لوگ ہیں جو حقیقی علماء کہلانے کے مستحق بھی ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ احمدیت قبول کرنے کے بعد ایمان کو کس طرح طاقت بخشتا ہے اور فراست عطا فرماتا ہے اور دلائل بھی سکھا دیتا ہے اس کی ایک مثال دیکھیں۔ تنزانیہ موانزے ریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ شیانگا ریجن میں جماعت کا قیام 2015ء میں ہوا تھا۔ وہاں کافی لوگوںکو اسلام احمدیت میں شمولیت کی توفیق ملی۔ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک نو مبائع جمعہ ماسانجا صاحب ہیں۔ یہ چھوٹی موٹی چیزیں فروخت کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ یہ نومبائع بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں ٹنڈے جو کہ زیادہ تر عمانی عربوں کا علاقہ ہے وہاں گیا اور باتوں باتوں میں ان کو بتایاکہ میں احمدی ہو گیا ہوں اور اب ہماری مسجد بھی ہے جہاں ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ عرب لوگ آگ بگولہ ہو گئے اور مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تم مسلمان نہیں ہوئے بلکہ تم تو قادیانیوںکے پیچھے چل کے گمراہ ہو گئے ہو۔ پہلے تم لامذہب تھے یا غیر مسلم تھے تو زیادہ اچھے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ وہ جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں وہ تو مسلمان ہی نہیں ہیں بلکہ کافر ہیں۔ کہنے لگے کہ اگر تم نے اپنے آپ کو احمدیوں سے الگ نہ کیا تو ہمارے پاس پھر اپنی چیزیں بیچنے کے لئے مت لانا۔ بڑا ابتلا تھا۔ معاشی لحاظ سے غریب لوگ ہیں۔ یہ دوست بیان کرتے ہیںکہ میرے پاس اتنا علم تو نہیں تھا کہ میں ان کو علمی دلائل سے قائل کر سکوں لیکن میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنے عرصہ سے یہاں آباد ہیں۔ وہ عمانی عرب کہنے لگا کہ ہم گزشتہ 80 سال سے یہاں آباد ہیں۔ اس پر میں نے کہا کہ ان 80 سالوں میں تم لوگوں نے اس دین کو جس کو تم سچا کہتے ہو اسلام کو ایک ایسے گاؤں تک نہیں پہنچا سکے جو تم سے صرف 15کلو میٹر کے فاصلے پہ ہے۔ اور اب اگر کسی نے ہم تک وہ اسلام کا پیغام پہنچایا ہے تو آپ لوگ ہمیں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کافر ہیں اور تم کافر ہو گئے ہو۔ تو عربوں نے جواب دیا کہ ہمارا یہ خیال تھا کہ تم لوگ ابھی اس قابل نہیں ہو کہ اسلام قبول کر سکو۔ یہ ان عربوں کے تکبر کی حالت ہے جو اپنے آپ کو بڑا عالم سمجھتے ہیں۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی اصول پر چلنے والے ہوتے، نعوذ باللہ، تو یہ عرب کے جو بدّو ہیں وہ تو کبھی بھی مسلمان نہ ہوتے۔ وہ تو اس قابل ہی نہیں تھے کہ ان کو مسلمان کیا جاتا۔ آپ ہی تھے جنہوں نے ان جنگل میں رہنے والوں کو، جانوروں کی طرح رہنے والوں کو انسان بنایا۔ پھر تعلیم یافتہ انسان بنایا۔ پھر باخدا انسان بنایا۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم ابھی اس قابل نہیں ہو جو اس موجودہ دور میں رہ رہے ہو کہ تم تک ابھی اسلام کی تبلیغ کی جائے اور اس کے بعد یہ اسلام کے ٹھیکیدار ہیں۔ اس لئے اس نے کہا کہ پہلے تم اس قابل ہو جاؤ تو ہم نے کہا ہم تبلیغ کریں گے۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ تم لوگوں نے اسّی سال اس بات کا اندازہ کرنے میں لگا دئیے کہ یہ لوگ اسلام سیکھ سکتے ہیں یا نہیں جبکہ جماعت احمدیہ نے ہمیںاس قابل سمجھا کہ ہم دین سیکھ سکتے ہیں اور وہ ہمیں مسلمان بنا کر دین سکھا رہے ہیں اور انہوں نے ہمیں لا دینیت سے نجات دلائی ہے۔ ہم تو Pagan تھے۔ لادین تھے۔ اب اگر تم چاہتے ہو کہ میں اور میرے ساتھی جماعت احمدیہ کو چھوڑ دیں تو ہمیں بھی 80 سال کا عرصہ دو تا ہم تم لوگوں کے بارے میں اندازہ لگاسکیں کہ تم اصل مسلمان ہو بھی کہ نہیں۔ یہ میری دلیل ہے۔

تو اس طرح اللہ تعالیٰ بالکل بے دین جو لوگ تھے ان کو بھی احمدیت قبول کرنے کے بعد بعض عجیب قسم کے دلائل سکھا دیتا ہے جو مخالفین کا منہ بند کر دیتے ہیں اور ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی جواب نہیںہوتا کہ تم کافر ہو، بس اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

سینیگال سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ اس سال کولک ریجن کے ایک گاؤں ریبو ایسکلے میں دورہ کیا گیا تو وہاں گاؤں کے ایک سابق امام عثمان باہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے منور احمد خورشید صاحب سابق امیر جماعت سینیگال کے دور میں بیعت کی تھی اور اس وقت جماعت میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنائی تھی۔ بعد میں ملکی حالات کی وجہ سے ان لوگوں سے رابطہ نہیں رہا۔ حالات وہاں خراب ہوتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد گاؤں کی مسجد کو ایک عرب تنظیم الفلاح نے از سر نو تعمیر کیا اور مسجد میں توسیع بھی کی اور جب مسجد کی تعمیر ہو گئی تو اس تنظیم کے لوگوں نے عثمان باہ صاحب سے کہا کہ اگر آپ اس مسجد کے امام رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو احمدیت چھوڑنی پڑے گی ورنہ آپ اس مسجد کی امامت جاری نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ عثمان باہ صاحب نے کہا کہ احمدیت تو میںنہیں چھوڑ سکتا۔ امامت چھوڑ دی اور اپنے گھر میں ہی اپنے اہل خانہ کے ساتھ علیحدہ نمازیں پڑھنے لگ گئے۔ چنانچہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے امامت چھوڑ کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے گھر میں نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کس طرح اکیلے ثابت قدم رہے ہیں اور آپ کا اتنا عرصہ جماعت سے رابطہ بھی نہیں تھا اس پر روتے ہوئے کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے علم عطا کیا ہے۔ جب میں نے نور دیکھ لیا تو اب اندھیرے میں واپس کیسے چلاجاؤں۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایسے لوگ عطا فرمائے ہیں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم احمدیت کا خاتمہ کر دیں گے یہ تو ان دور دراز گاؤں میں رہنے والوںکو بھی ان کے ایمان سے ہٹا نہیں سکتے۔ ہلا نہیں سکتے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اصل میں حقیقی مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہیں۔

امیر صاحب گھانا لکھتے ہیں کہ ایک کانفرنس میں ہم نے بعض اماموں کو دعوت دی جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے بیعت کی تھی۔ ان اماموں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ساری دنیا کے مولوی اکٹھے ہو کر بھی احمدیت کے خلاف ہمارے پاس آ جائیں تو ہم مضبوط چٹان کی طرح کھڑے ہو کر ان کا مقابلہ کریں گے کیونکہ ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں احمدیت ہی سچا اسلام ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’میرے پاس وہی آتا ہے جس کی فطرت میں حق سے محبت اور اہل حق کی عظمت ہوتی ہے۔ جس کی فطرت سلیم ہے وہ دور سے اس خوشبو کو جو سچائی کی میرے ساتھ ہے سونگھتا ہے اور اسی کشش کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ اپنے ماموروں کو عطا کرتا ہے میری طرف اس طرح کھنچے چلے آتے ہیں جیسے لوہا مقناطیس کی طرف جاتا ہے۔ لیکن جس کی فطرت میں سلامت روی نہیں ہے اور جو مردہ طبیعت کے ہیں ان کو میری باتیں سود مند نہیں معلوم ہوتی ہیں۔ وہ ابتلا میں پڑتے ہیں اور انکار پر انکار اور تکذیب پر تکذیب کر کے اپنی عاقبت کو خراب کرتے ہیں اور اس بات کی ذرا بھی پروا نہیں کرتے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔

میری مخالفت کرنے والے کیا نفع اٹھائیں گے؟ کیا مجھ سے پہلے آنے والے صادقوں کی مخالفت کرنے والوں نے کوئی فائدہ کبھی اٹھایا ہے؟ اگر وہ نامراد اور خاسر رہ کر اس دنیا سے اٹھے ہیں تو میرا مخالف اپنے ایسے ہی انجام سے ڈر جاوے کیونکہ مَیں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں صادق ہوں۔ میرا انکار اچھے ثمرات نہیں پیدا کرے گا۔ مبارک وہی ہیں جو انکار کی لعنت سے بچتے ہیں اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہیں۔ جو حسن ظنی سے کام لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ماموروں کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اُن کا ایمان ان کو ضائع نہیں کرتا بلکہ برومند کرتا ہے۔ مَیں کہتا ہوںکہ صادق کی شناخت کے لئے بہت مشکلات نہیں ہیں۔ ہر ایک آدمی اگر انصاف اور عقل کو ہاتھ سے نہ دے اور خدا کا خوف مدّنظر رکھ کر صادق کو پرکھے تو وہ غلطی سے بچا لیا جاتا ہے۔ لیکن جو تکبر کرتا ہے اور آیات اللہ کی تکذیب اور ہنسی کرتا ہے اس کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی۔‘‘ (ملفوظات جلد 5 صفحہ12-13)

پس مخالفین جتنا بھی زور لگا لیں اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا نہیں سکتے۔ اس جماعت نے پھیلنا ہے اور پھلنا ہے اور پھولنا ہے انشاء اللہ۔

اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اپنی تائیدات کے لاکھوں نمونے ہمیںہر سال دکھاتا ہے۔ پھر بھی یہ مخالفین کہتے ہیں کہ تم لوگ بیوقوف ہو اس شخص کو چھوڑ دو جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ بیوقوف تو یہ نام نہاد مولوی اور وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے خوف کی بجائے ان مولویوں سے جنہوں نے دین کو بگاڑ دیا ہے خوف کھاتے ہیں۔ لیکن ہم نے اپنا کام نہیں چھوڑنا۔ دنیاکو صحیح راستے دکھانے کے لئے ہر احمدی نے اپنا کردار ادا کرنا ہے اور کرتے چلے جانا ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ اس کے لئے کوشش بھی کریں اور دعا بھی کریں اور سب سے بڑھ کر اپنے عملی نمونوں سے اسلام کی خوبیاں دنیا پر ظاہر کریں جس طرح بہت سے نئے آنے والے یہ کوشش کر رہے ہیں جس کی چند مثالیں میں نے دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو جلسہ کی برکات سے حصہ لینے کی ہمیشہ توفیق عطا فرماتا رہے اور خیریت سے آپ لوگ اپنے گھروں کو جائیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ جلسہ میں بھی شامل ہوں۔ آپ کے گھروں میں بھی امن اور سکون ہو۔ آپ کے بچوں کی طرف سے بھی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ ہر تکلیف اور پریشانی سے اللہ تعالیٰ آپ کو بچائے۔ آمین۔

اب دعا کر لیں۔ (دعا کے بعد حضورایدہ اللہ نے فرمایا)

یہ حاضری کی رپورٹ بھی سن لیں۔ مستورات کی حاضری جو ہے انیس ہزار پانچ سو اڑسٹھ (19568) اور مَردوں کی ہے انیس ہزار تیرہ(19013)۔ حاضری تبلیغی مہمان گیارہ سو انتیس(1129)۔ عورتوں کی تعداد جو شامل ہوئیں آپ لوگوں سے زیادہ ہے۔ کُل حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتالیس ہزار سات سو دس (39710) ہے اور گزشتہ سال سے کمی ہے۔ لیکن سکول کھل گئے ہیں اس وجہ سے بھی کمی ہے۔ اور ننانوے (99) ممالک کی نمائندگی ہوئی۔ بیرون جرمنی سے تین ہزار آٹھ سو تینتیس (3833) احباب شامل ہوئے۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

٭٭٭٭٭٭٭٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button