تاریخ احمدیت

جلسہ سالانہ جرمنی۔ قدم بقدم

(محمد الیاس منیر۔ مربی سلسلہ انچارج شعبہ تاریخ، جرمنی)

مختصر تاریخ جلسہ سالانہ جرمنی

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے قیام کے جلد بعد احباب جماعت کے تقویٰ کا معیار بڑھانے، آخرت پر یقین میں اضافہ کرنے، باہمی محبت و اخوت اور مودت کا رشتہ مضبوط کرنے، ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینےوالےحقائق و معارف اورربانی باتوں کے سننے کے لئے جلسہ سالانہ کا آغاز فرمایا تھا۔ اس جلسہ کے شاندارمستقبل کے بارہ میں آپ نےفرمایا تھا:

’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی کیونکہ یہ اُس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ341)

مسیح پاک کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ خدائی الفاظ یوں تو ابتدا سے ہی اپنی شان دکھانے لگے تھے تاہم جب اس جلسہ کی شاخیں قادیان سے نکل کر پہلے ربوہ، امریکہ ، انگلستان، غانا، نائیجیریا، انڈونیشیا ،جرمنی اور پھر دنیا کے بہت سے ممالک پر سایہ فگن ہونے لگیں تو ان الفاظ کے پورا ہونے کی الگ ہی شان نظر آنے لگی۔ ان جلسوں میں دور دراز کے ممالک سے مختلف اقوام کے احباب جماعت کےشامل ہونے کا منظر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اِن الفاظ سے عیاں ہوتا ہے:

’’ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آ ملیں گی‘‘

جلسہ سالانہ کی انہی شاخوں میں سے ایک شاخ یورپ کے ایک اہم ملک جرمنی پر بھی سایہ فگن ہے۔ یہاں جلسہ کا آغاز1975ء میں ہوا جس میں شاملین کی تعداد قریباً 70تھی اور گزشتہ سال2017ء میں منعقد ہونے والے 42ویں جلسہ سالانہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کاروان کی تعدادچالیس ہزارسے تجاوز کر چکی تھی، الحمدللہ۔صرف70 افراد سے شروع ہوکر40ہزار تک پہنچنے والے اس جلسے کی قدم بہ قدم، مرحلہ در مرحلہ ترقی کی مختصر کہانی اس مضمون میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

جلسہ سالانہ جرمنی کا آغاز اور ہمبرگ میں انعقاد

جماعت جرمنی کا سب سے پہلا جلسہ سالانہ مسجد فضل عمر ہمبرگ میں 28؍دسمبر1975ء کو بروز اتوار صبح دس بجے سے شام چھ بجے تک منعقد ہوا ۔ اس کا افتتاح اور اختتام مکرم مولانا فضل الٰہی انوری صاحب امیر و مبلغ انچارج جرمنی نے کیا۔ اس میں شامل ہونے والے احباب جماعت کی ایک فہرست ملی ہے جس میں ڈنمارک، فرانکفورٹ اور بعض دیگر شہروں سے شامل ہونے والے 63 احباب و خواتین کے نام لکھے ہیں جبکہ چند منتظمین کے نام اس کے علاوہ ہیں، اس طرح اس کی مجموعی حاضری 70 کے قریب تھی۔ اس اوّلین جلسہ سالانہ میں کل چھ تقاریر ہوئیں جن میں سے ایک تقریر ڈنمارک سے تشریف لائے ہوئے مکرم الحاج نوح سوین ہینسن صاحب (Mr. Svend Hansen) نے بھی کی۔

اس جلسہ میں حاضرین کے مابین تلاوت قرآن کریم، نظم خوانی، تقریر اور عام دینی معلومات کے مقابلے بھی ہوئے۔ اس جلسہ کی انتظامی کمیٹی امام مسجد فضل عمر ہمبرگ محترم حیدر علی ظفر صاحب کی زیر نگرانی مندرجہ ذیل تین کارکنان پر مشتمل تھی:

1۔ مکرم نصیر الدین بٹ صاحب،2۔ مکرم مختار احمدصاحب، 3 ۔ مکرم چوہدری رفیق احمد جاوید صاحب

(غیر مطبوعہ ریکارڈ تاریخ کمیٹی جرمنی)

جماعت احمدیہ جرمنی کا دوسرا جلسہ سالانہ8 جنوری 1977ء کو مسجد فضل عمر ہمبرگ میں ہی منعقد ہوا۔ یہ جلسہ دراصل گزشتہ سال 1976ء کا تھا جو بعض مجبوریوں کی وجہ سے دسمبر میں منعقد نہ کیا جا سکاتھا۔اس جلسہ کی انتظامی کمیٹی مندرجہ ذیل پانچ منتظمین پر مشتمل تھی:

1۔ مکرم سید منصور احمد صاحب،

2۔ مکرم عبدالجلیل بٹ صاحب،

3۔ مکرم رفیق احمد جاوید صاحب،

4۔ مکرم خورشید احمد صاحب،

5۔ مکرم عبدالرشید خالد صاحب

اس جلسہ میں ہمبرگ سے باہر کی14 جماعتوں کے 29 اور ہمبرگ سے قریباً120 نمائندگان نے شرکت کی۔ اس کا اِفتتاح اور اِختتام امیر و مبلغ انچارج جرمنی محترم حیدر علی صاحب ظفر نے کیا۔ آپ کے علاوہ مبلغ فرانکفورٹ محترم نواب منصور احمد خان صاحب اور دو نواحمدی جرمن دوستوں مکرم F. S. Kretschmar صاحب اور مکرم Herbert Gehrtsصاحب نے بھی تقاریر کیں۔ اس ایک روزہ جلسہ کے چار اجلاسات ہوئے اور بعض علمی مقابلہ جات بھی ہوئے جن میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے احباب میں ڈنمارک سے تشریف لائے ہوئے نواحمدی ڈینش دوست مکرم کمال کرو صاحب نے انعامات تقسیم کئے۔

(اخبار احمدیہ جرمنی جنوری1977ء)

تیسراجلسہ سالانہ بھی اسی سال مسجد فضل عمر ہمبرگ میں منعقد ہوا۔ اس مرتبہ جلسہ کا دورانیہ بڑھادیا گیا اور24،25 دسمبر1977ء کو دو روز تک جاری رہا۔ اب تک ہونے والے دونوں جلسے جماعت ہمبرگ کی طرف منسوب تھے اور اس تیسرے جلسے کو جلسہ سالانہ مغربی جرمنی کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔ اس میں انگلستان، ناروے اور جرمنی کے42 شہروں سے مجموعی طور پر250 احباب جماعت شریک ہوئے جن میں قریباً 30 غیر از جماعت دوست بھی تھے، الحمدللہ۔

اس جلسہ کے لئے پہلی مرتبہ مرکز ربوہ سے وکیل التبشیرصاحب کا پیغام موصول ہوا جسے مکرم چوہدری عبداللطیف صاحب سابق مبلغ جرمنی نے پڑھ کر سنایا۔ اس کی افتتاحی اور اختتامی تقاریر امیر و مبلغ انچارج محترم حیدر علی صاحب ظفر نے کیں۔ ان کے علاوہ محترم نواب منصور احمدخان صاحب مبلغ فرانکفورٹ اور مکرم نور احمد بولستاد صاحب امیر جماعت ناروے اور بعض مقامی مقررین نے بھی تقاریر کیں۔

(اخبار احمدیہ جرمنی جنوری 1978ء)

اس جلسہ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کے دوسرے روز 25 دسمبر کو لجنہ اماء اللہ کا بھی ایک علیحدہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں لجنہ کی حاضری 20 تھی۔

(اخبار احمدیہ جرمنی فروری1978ء)

چوتھا جلسہ سالانہ جرمنی24 اور25 دسمبر1978ء کو مسجد فضل عمر ہمبرگ میں ہی منعقد ہوا۔ اس کے انتظامات مبلغ ہمبرگ مکرم لئیق احمد منیر صاحب کے زیر نگرانی ایک کمیٹی نے کئے۔اس کا افتتاح امیر و مبلغ انچارج جرمنی مکرم نواب منصور احمد خان صاحب نے کیا۔ اس جلسہ کے مہمان خصوصی سویڈن سے مکرم عزت اولیوچ صاحب تھے۔اس جلسہ میں ایک مجلس سوال و جواب بھی ہوئی جو جملہ شرکاء کے لئے خاص دلچسپی کا باعث بنی۔ علاوہ ازیں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے دورۂ جرمنی و لندن کی متحرک فلم بھی دکھائی گئی۔اس جلسہ کی حاضری 160 تک گئی۔

(غیرمطبوعہ ریکارڈ دفتر تاریخ جرمنی، فائل جلسہ)

1980ءمیں منعقد ہونےو الا دو روزہ جلسہ بھی 5اور 6 اپریل کو مسجد فضل ہمبرگ میں منعقد ہوا۔ گزشتہ سال 1979ء میں بعض مجبوریوں کی وجہ سے جلسہ منعقد نہ ہوسکا تھا لہٰذا یہ جلسہ گنتی کے اعتبار سے پانچواں جلسہ سالانہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمبرگ میں ہونے والا آخری جلسہ بھی تھا کیونکہ گزشتہ سالوں کے دوران بہت سے احمدی ہجرت کرکے جرمنی آچکے تھے اور ان میں سے بیشتر احباب کو فرانکفورٹ کے گرد و نواح یا جرمنی کے وسطی و جنوبی علاقوں میں آباد کیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے زیادہ تر احباب جماعت کا فرانکفورٹ پہنچنا نسبتاً آسان تھا، اس لئے انتظامی سہولت کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے جلسہ سالانہ فرانکفورٹ میں ہو اکرے گا۔

پانچویں جلسہ سالانہ کا افتتاح اور اختتام امیر و مبلغ انچارج مکرم نواب منصور احمد خان صاحب نے کیا جب کہ لندن سے مکرم منیر الدین شمس صاحب نے بطور مہمان مقرر شرکت کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان’’انگلستان میں تبلیغ اسلام اور احمدیت کا مستقبل‘‘ تھا۔ اس جلسہ کے لئے ربوہ سے وکیل التبشیر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا پیغام بھی موصول ہوا۔ مقامی مقررین میں سے نو احمدی مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب کی تقریر بعنوان’’جلسہ سالانہ ربوہ اور قادیان کے دوران میرے تجربات‘‘اور مکرم ہدایت اللہ ہیوبش صاحب کی تقریر بعنوان’’مغربی معاشرہ میں اسلامی طرز عمل کیسے اپنایا جاسکتا ہے‘‘خاص طور پر دلچسپی کے ساتھ سنی گئیں۔ اس جلسہ میں بھی دوسرے روز لجنہ اماءاللہ کا ایک الگ سیشن ہوا۔ جلسہ کے آخری اِجلاس کی حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے700 تک جا پہنچی جو مسجد فضل عمر کی گنجائش سے کئی گنا زیادہ تھی۔(غیر مطبوعہ رپورٹ جلسہ1980ءریکارڈتاریخ احمدیت جرمنی) چنانچہ اس کے لئے مسجد کے عقبی لان اور سامنے والےباغیچہ میں مارکیاں لگا کر انتظامات میں وسعت پیدا کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں احباب جماعت کوسڑک کے علاوہ ہمسایوں کے باغیچوں میں بھی بیٹھنا پڑا۔

(از یاد داشت محترم لئیق احمد منیر صاحب، منتظم اعلیٰ جلسہ)

جلسہ سالانہ جرمنی فرانکفورٹ میں

1981ء میں جلسہ سالانہ جرمنی کی تاریخ میں ایک نیا موڑ آیا اور اس جلسہ نے ہمبرگ سے سفرکرکے فرانکفورٹ میں آبسیرا کیا اور جماعت احمدیہ جرمنی کا چھٹا جلسہ سالانہ 18،19اپریل1981ءکو فرینکفرٹ کے ایک ہال (Haus Gallus, Frankfurterallee 111) میں منعقد ہوا۔

اس جلسہ کو انتظامی لحاظ سے پہلی دفعہ دس مختلف شعبوں میں تقسیم کرکے مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب کی سربراہی میں ایک وسیع انتظامی کمیٹی مقررکی گئی۔ اس جلسہ کے مہمان خصوصی جرمنی میں غانا کے سفیر مکرم عمانویل مہمایعقوبو صاحب (EMANUEL MAHMA YAKUBU) تھے۔ اسی طرح مکرم میر مسعود احمد صاحب ڈنمارک اور مکرم عبدالحمید فرحاخن صاحب ہالینڈ سے اس جلسہ میں شامل ہوئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ازراہِ شفقت تین صفحات پر مشتمل اپناخصوصی پیغام بزبان انگریزی جلسہ کے لئے ارسال فرمایا۔ علاوہ ازیں وکیل التبشیر صاحب کا بھی پیغام موصول ہوا۔ یہ پیغامات امیر و مبلغ انچارج مکرم نواب منصور احمد خان صاحب نے پڑھ کر سنائے۔ اس جلسہ کی حاضری 750 رہی جو ایک نیا ریکارڈ تھا ۔

(اخبار احمدیہ جرمنی مئی1981ء)

اگلے سال مؤرخہ10 اور11 /اپریل 1982ء کو ساتواں جلسہ بھی گزشتہ سال کی طرح فرانکفورٹ کے اسی ہال میں منعقد ہوا۔ اس کے لئے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور وکیل التبشیر صاحب کے پیغامات موصول ہوئے۔ اس جلسہ میں مرکز لندن سے محترم مبارک احمد ساقی صاحب مبلغ سلسلہ بطور مہمان مقرر شامل ہوئے۔ اس جلسہ کی حاضری627 تھی۔

(رسالہ "تحریک جدید جون1982ءصفحہ10)

مؤرخہ2 اور3/اپریل1983ء کومنعقد ہونے والے آٹھویں جلسہ سالانہ جرمنی میں مہمان خصوصی مبلغ سپین مکرم کرم الٰہی ظفر صاحب تھے۔ علاوہ ازیں مبلغ انگلستان مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب نے بھی بطور مہمان مقرر شرکت فرمائی۔ اس کی حاضری630 تھی۔یہ جلسہ فرانکفورٹ شہر کے وسط میں واقع ایک ہال Volksbildungsheim, Eschenheimer Anlage 40 میں منعقد ہوا۔ اس ہال کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس سے قبل یہاں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ساتھ احباب جماعت کی اجتماعی ملاقات بھی ہوئی تھی۔ ( اخبار احمدیہ جرمنی مارچ 1983ء صفحہ4) مہمانوں کی رہائش کا انتظام فرانکفورٹ شہر اور مضافاتی بستیوں میں رہنے والے احمدیوں کے ہاں کیا گیا تھا جبکہ ضیافت کے لئے مسجد نور کے عقبی باغیچہ میں خیمہ لگا کر انتظام کیا گیا تھا۔ کھانا تیار بھی یہاں کیا جاتا تھا اور کھلایا بھی اسی جگہ جاتا تھا۔ جلسہ کے دوسرے روز خواتین نے جلسہ گاہ والے ہال کی دوسری منزل کے ایک کمرے میں اپنا الگ جلسہ منعقد کیا۔

(از ریکارڈ وکالت تبشیر ربوہ ، فائل جرمنی جنرل 1983ء صفحہ101)

ربوہ کی طرز پر انتظامی ڈھانچہ

1983ء کے جلسہ سالانہ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کے انتظامات کے لئے جلسہ سالانہ ربوہ کی طرز پر پہلی مرتبہ ایک وسیع انتظامی ڈھانچہ بنایا گیا جس کے لئے مکرم عبدالباسط طارق صاحب مبلغ سلسلہ کو افسر جلسہ سالانہ مقرر کیا گیاجبکہ افسر جلسہ گاہ کے طور پر مکرم ناز احمد ناصر صاحب کو خدمت کی توفیق ملی۔ ان ہر دو افسران کی زیر نگرانی مختلف شعبوں کے منتظمین نے جلسہ کے انتظامات بڑی خوبی کے ساتھ سرانجام دئیے۔ (غیر مطبوعہ ریکارڈ دفتر تاریخ جرمنی، فائل جلسہ سالانہ) اس کے بعد ہر سال اسی طرز پر انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جانے لگا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

فرانکفورٹ کے مذکورہ بالا ہال میں آخری مرتبہ جلسہ سالانہ کا انعقاد21 اور22/اپریل 1984ء کو ہوا۔ اس کے لئے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا خصوصی ولولہ انگیز پیغام موصول ہوا۔ مبلغ انچارج ہالینڈ محترم عبدالحکیم اکمل صاحب اور ڈینش نو احمدی دوست مکرم سیون ہانسن صاحب بھی شریک ہوئے۔اس جلسہ میں جرمنی کی 58 میں سے50 جماعتوں کی نمائندگی ہوئی اور اس طرح سے حاضری ایک ہزار سے تجاوز کر گئی جس میں300 جرمن اور پاکستانی مہمان بھی شامل تھے۔ایک شبینہ اجلاس بھی ہوا جس میں غیر از جماعت دوستوں کے ساتھ مجلس سوال و جواب بھی ہوئی۔

(از ریکارڈ وکالت تبشیر ربوہ ، فائل جرمنی جنرل1984ء صفحہ221)

جلسہ جرمنی کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل

جلسہ کی حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی رہی اور1984ء کے جلسہ میں اس قدر بڑھ گئی کہ بڑی اور کھلی جگہ کی ضرورت پڑگئی چنانچہ جماعت جرمنی نے وَسِّعْ مَکَانَکَ کا نظارہ یوں دیکھا کہ اسی سال اللہ تعالیٰ نے جماعت جرمنی کو فرینکفرٹ کے جنوب میں 40 کلومیٹر دور گروس گیراؤ(Gross Gerau) نامی شہر کے نواح میں کئی ایکڑ پر مشتمل ایک وسیع قطعہ اراضی عطا فرمایا جس کا نام ناصرباغ رکھا گیا تھا، چنانچہ 1985ء کا جلسہ سالانہ جماعت کی اپنی خریدکردہ اسی جگہ پر منعقدہوا جس کی الگ ہی شان تھی۔ ناصر باغ کے کھلے اور وسیع میدانوں میں کہیں جلسہ گاہ کے لئے مارکیاں لگائی گئیں تو کہیں لنگر خانہ کے لئے۔ مختلف دفاتر بھی چھوٹے چھوٹے ٹینٹ لگا کر بنائے گئے۔ایک میدان کو کار پاکنگ کے لئے مخصوص کیا گیا۔ گویا ایک چھوٹا سا شہر، چھوٹا ربوہ بنا دیا گیا۔ لاؤڈا سپیکر پر اذان، ذکر الٰہی، درود شریف کے ورد کے ساتھ ساتھ پاکیزہ نظموں،اعلانات اور نعرہ ہائے تکبیر نے قادیان اور ربوہ کے جلسوں کی یاد تازہ کر دی۔احباب جماعت دور دراز سے قافلوں کی صورت میں بسوں اور کاروں میں پہنچتے تو ان کا روایتی انداز میں پر جوش استقبال کیا جاتا۔ ریلوے اسٹیشن سے بھی مہمانوں کو جلسہ گاہ لانے کا منظم انتظام کیا گیا تھا۔ غرضیکہ اپنی جگہ پر اور اتنی کھلی جگہ پر جلسہ کا اپنا ہی لطف تھا جس سے تمام شاملین جلسہ اپنے اپنے انداز اور ظرف کے مطابق محظوظ ہوتے اور جلسہ کی برکات سمیٹتے رہے، الحمدللہ۔اسی سال حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جرمن نژاد احمدی محترم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب کو جماعت جرمنی کا نیشنل امیر مقرر فرمایا تھا اور یہ جلسہ انہی کی نگرانی میں انعقاد پذیر ہوا تھا ۔

یہ جلسہ 22 اور 23 جون 1985ء کو منعقد ہوا۔ اس کی حاضری اللہ کے فضل سے بارہ سو سے تجاوز کرگئی جس میں آٹھ ممالک کی نمائندگی تھی جبکہ جرمن نژاد احمدی احباب کی تعداد 25 تھی۔ مکرم سید کمال یوسف صاحب اور مکرم مصطفی ثابت صاحب بطور مہمان خصوصی اس جلسہ میں شریک ہوئے۔ اس جلسہ میں پہلی دفعہ اردو اور انگریزی تقاریر کا ترجمہ جرمن اور عربی زبان میں بھی کیا گیا۔

(از ریکارڈ وکالت تبشیر ربوہ ، فائل جرمنی جنرل 1986ء صفحہ 107)

اس کے بعد 1994ء تک تسلسل سے تمام جلسے ناصر باغ میں ہی منعقد ہوتے رہے اور ہر سال گزشتہ سال کے تجربات کی روشنی میں انتظامات میں وسعت اور بہتری لانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ان میں سے 1986ء کے جلسہ میں پہلی دفعہ دونوں دن خواتین کا جلسہ بھی منعقد ہوا۔

(غیر مطبوعہ ریکارڈ دفترتاریخ احمدیت جرمنی، فائل جلسہ سالانہ)

حضرت خلیفۃ المسیح کی جلسہ سالانہ جرمنی میں پہلی مرتبہ تشریف آوری

اب تک ہونے والے سالانہ جلسوں کے لئے خلفائے وقت کے محبت بھرے پیغامات تو موصول ہوتے رہے تھے لیکن خلیفہ وقت کا بنفس نفیس کسی جلسہ میں ورود نہ ہوا تھا۔ جماعت جرمنی کو یہ سعادت اور برکت پہلی مرتبہ 1987ء میں اُس وقت ملی جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنےدورۂ ہالینڈ کے دوران اچانک پروگرام بنا کر اس جلسہ کو چند گھنٹوں کے لئے رونق بخشی۔

حضورانور نےجلسہ کے پہلے روز ناصر باغ کے میدان میں بنائے گئے جلسہ گاہ میں خطبہ جمعہ ارشادفرمایا اور نمازیں پڑھائیں۔ حضورؒ کی آمد پر نعرے لگائے تو حضورانورؒ نے خطبہ جمعہ اِرشاد فرمانے سے قبل فرمایا کہ خطبہ جمعہ کے لئے جب امام آتا ہے تو اس وقت نعرے نہیں لگائے جاتے اور نہ ہی خطبہ جمعہ کے دوران۔ حضورؒ نے خطبہ جمعہ میں جماعت احمدیہ جرمنی کو پہلی صدی کے ختم ہونےتک ایک ہزار جرمن خدا کے حضور پیش کرنے کا ٹارگٹ دیا۔ نماز جمعہ کے فوراً بعدجلسہ کے افتتاحی اجلاس کی کارروائی حضور ؒ کی ہی صدارت میں شروع ہوئی۔ تلاوت اور نظم کے بعد فضانعروں سے گونج اُٹھی تو حضورؒ نےفرمایاکہ نعرے ’’کسی ترتیب سے لگائیں‘‘۔پھر حضورانورؒ نے خود نعرے لگوائے اور اسیران راہِ مولیٰ کا نعرہ لگاتے ہوئے حضورؒ کی آواز بھرّا گئی۔ نعروں کے بعد حضورؒنے فرمایا کہ آئیں اب دعا کرلیں۔ دعا کے بعد حضورؒنے جلسہ کی کارروائی کوجاری رکھنے کا ارشاد فرمایا اور خود السلام علیکم کہہ کر تشریف لےگئے۔ اس جلسہ کے موقع پر پہلے روز حضور کے ساتھ جرمن تبلیغی نشست شام پانچ بجے ہوئی جس کے بعد بیعت کی تقریب بھی ہوئی جس میں پانچ جرمن اور عرب احباب نے حضورؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس جلسہ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ جلسہ پہلی مرتبہ تین دن جاری رہا۔

(اخبار احمدیہ جرمنی مئی و جون 1987ء صفحہ 9،10)

جماعت احمدیہ جرمنی کو یہ غیر معمولی اعزاز اور خوش نصیبی حاصل ہے کہ1987ء سے لے کراب تک کےتمام جلسہ ہائےسالانہ میں (1999ء ،2002ء اور 2006ء کے علاوہ) حضرت خلیفۃ المسیح بنفس نفیس رونق افرروز ہوتے رہےہیں، الحمدللہ۔

ناصر باغ میں ہونے والے جماعت جرمنی کے تیرھویں جلسہ سالانہ1988ء کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے بابرکت وجود سے فیضیاب کیا اور ولولہ انگیز افتتاحی و اختتامی خطابات کے علاوہ ایک روح پرور مجلس عرفان میں احباب جماعت کے سوالات کے جوابات بھی عطا فرمائے۔ سوئٹزرلینڈ سے مکرم مسعود احمد جہلمی صاحب نے بطور مہمان مقرر شرکت فرمائی اور اس جلسہ کی حاضری پانچ ہزار سے زائد رہی۔

صد سالہ جشن تشکر کے سال کا عظیم الشان جلسہ سالانہ

جماعت احمدیہ کے قیام پر سو سال پورے ہونے پر سارے عالم احمدیت میں 1989ء کےسال جشن تشکر منایا گیا۔ اس سال 12 تا14 مئی کو جرمنی میں ہونے والا جلسہ سالانہ کئی اعتبار سےایک خاص شان کا حامل تھا۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے حاضرین جلسہ کو تین بصیرت افروز خطابات سے نوازا۔ تیسرا خطاب حضور نے خواتین کے پنڈال میں تشریف لے جا کر فرمایا اور جلسہ جرمنی میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا۔ جرمن مہمانوں کے ساتھ مجلس سوال و جواب بھی منعقد ہوئی جس میں350 مہمان شامل ہوئے۔ مجموعی حاضری7000 سے زائد رہی جس میں 15 ممالک کے165 نمائندگان بھی شامل تھے۔ علاوہ ازیں مقامی شہر کی انتظامیہ کے دو ارکان اور مغربی جرمنی میں کینیا کے سفیر نے بھی شرکت کی۔اس سال تمام تقاریر کا جرمن اور انگریزی زبانوں میں رواں ترجمہ پیش کیا گیا۔

اس جلسہ میں ایک خصوصی سیشن سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے بھی ہوا جس میں لندن سے تشریف لائے ہوئے مہمانوں مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب ، مکرم بشیر احمد خان رفیق صاحب ، مولانا مبارک احمد ساقی صاحب اور سپین سے تشریف لائے ہوئےمکرم مولانا کرم الٰہی ظفر صاحب نے خطاب کیا۔
اس جلسہ کے اختتامی اجلاس میں جشن تشکر کے موقع پر تیار کی گئی ایک خصوصی یادگار پلیٹ امیر صاحب جرمنی نے حضور رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کی، اسی طرح مکرم عبدالسمیع عارف صاحب نے منارۃ المسیح کا ایک خوبصورت ماڈل حضور کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت پائی۔ موصوف نے جلسہ کے سٹیج کے لئے بھی لکڑی سے منارۃ المسیح تیار کیا تھا جس میں مقررین نے کھڑے ہو کر تقاریر کی تھیں۔ اسی جلسہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے جماعت جرمنی سے اپنے غیر معمولی پیارے کا اظہار فرماتے ہوئے سومساجد سکیم عطا فرمائی تھی۔

(اخبار احمدیہ جرمنی جو جولائی1989ء صفحہ23 تا26)

1990ء کے جلسہ سالانہ میں تاریخ میں ایک نیا سنگ میل آیا جب جلسہ کی حاضری دس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ یہ جلسہ یکم تا تین جون 1990ء کو ناصر باغ گروس گیراؤ میں منعقد ہوا۔ اب ناصر باغ کے اندر کار پارکنگ کی گنجائش نہ رہی تھی چنانچہ اس کے لئے اس کے جنوبی طرف واقع ایک بہت بڑے زرعی کھیت کو کرائے پر حاصل کیا گیا۔ جلسہ کی حاضری ہر سال تیزی سے بڑھتی چلی جا رہی تھی حتی کہ26تا28 اگست 1994ء کو ناصرباغ میں منعقد ہونے والے جلسہ کی حاضری 23ہزار تک پہنچ گئی اور اس کے لئے ناصرباغ جیسی وسیع وعریض کھلی زمین بھی ناکافی ہوگئی۔ اور 3500 گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے ہمسایہ کا کھیت بھی ناکافی ہوگیا۔ (الفضل انٹرنیشنل9 ستمبر 1994ء صفحہ اول) گاڑیوں کی کثرت کے پیش نظر اس جگہ ٹریفک کے مسائل بھی پیدا ہوگئے جس کی وجہ سے1994ء کے بعد مقامی شہری انتظامیہ نے ناصر باغ میں جلسہ منعقد نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔

……………………

(باقی آئندہ)

اگلی قسط کے لیے…

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button