عالمی خبریں

مختصر عالمی جماعتی خبریں

(فرخ راحیل۔مربی سلسلہ، الفضل انٹرنیشنل،لندن)

اس کالم میں الفضل انٹرنیشنل کو موصول ہونے والی جماعت احمدیہ عالمگیر کی تبلیغی و تربیتی مساعی پر مشتمل رپورٹس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔


﴿بینن (مغربی افریقہ)﴾

نکی ریجن کے گاؤں Gneldemo میں احمدیہ مسجد کا کامیاب اور بارکت افتتاح

(خلاصہ رپورٹ:مکرم میاں قمر احمد صاحب۔مبلغ سلسلہ بینن )

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ بینن کو Nikiریجن کے ایک نومبایع گاؤںجنیل دیمو (Gneldemo) میںنئی مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔ مسجد کی افتتاحی تقریب 7 اپریل 2017بروز ہفتہ منعقد ہوئی۔

Gneldemo گاؤںپاراکو شہر سے 158 کلومیڑ دُور شمال مشرق کی طرف کچے راستے سے ہوتے ہوئے 7کلومیٹر جنوب کی طرف بالکل جنگل میںواقع ہے۔قومی اعتبار سے گاؤں والے فولانی قوم سے تعلق رکھتےہیں۔اس قوم کے بارہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نائجیریا ،بورکینا فاسو اور نائیجر سے ہجرت کر کے آئے اور یہاں آباد ہوگئے۔ یہ لوگ اپنا سارا دن جنگلوں میں گائے چرانے میں گزار دیتے ہیں ۔ان کی اکثریت مسلمان ہے اوریہ’’ فل فل دے‘‘ زبان بولتے ہیں ۔ مگر اپنے بچوں کوشاذ ہی تعلیم دلواتے ہیں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کی لاکھوں نعمتوں کو بے حقیقت جانتے ہوئے اپنے جانوروں کے ساتھ ساری زندگی جنگلوں میں گزار دیتے ہیں۔2016ءمیں یہ جماعت مقامی مشنری مکرم Goye Jode Razak صاحب اور مکرم میاں قمراحمد ، مبلغ سلسلہ ریجن پاراکو کی تبلیغ سے احمدیت کی آغوش میں آئی ۔

اس مسجد کی تقریب سنگِ بنیاد14جولائی 2017 ء کو عمل میں آئی اور 16جنوری 2018ءکو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔

اس مسجد کی لمبائی قبلہ رُخ 13میٹر اور چوڑائی 6میٹر ہے جس میں تقریبًا 150نمازیوں کی گنجائش ہے۔ مسجد کے اندر لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ کے الفاظ نہایت خوبصورت انداز میں لکھے ہیں۔مسجد کے تین دروازے ہیں۔ مستورات کے لئے الگ سے ایک حصہ مختص ہے۔ مقامی جماعت نے مسجد کے لئے روشنی کے انتظام کے لئے سولر انرجی سے چلنے والا بلب لگوایا ہے۔مقامی صدر جماعت نے ایک بچھڑا مسجد کی تقریبِ افتتاح پر ذبح کرنے کا اعلان کیا۔

مسجد کی افتتاحی تقریب کا آغاز 7؍اپریل 2018ء بروز ہفتہ تلاوت قرآن مجید مع پل زبان میں ترجمہ سے ہوا۔ مقامی صدر جماعت نے پل زبان میں تمام آنے والوں کو خوش آمدید کہا۔ اس تقریب میں مرکزسے4رکنی وفد بھی شامل تھا۔

بعد از اں چیف ویلج،علاقے کے بااثر افراد و دیگر مقررین نے جماعت کی نیک کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے اِن کاموں کو جاری رکھنے کی درخواست کی۔ اس تقریب میں علاقے کے 14بڑے غیر احمدی امام تشریف لائے جن میں امام Margitta،امام Darassiاور امامKalaleبھی شامل تھے۔ان ائمہ نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی تعریف کی اور کہاکہ جماعت احمدیہ کے بارہ میںبہت سی غلط باتیں جو ہم سوچتے تھے وہ آج ہمارے دلوں سے نکل گئی ہیں۔ایک امام نے کہا کہ مسجد کو آباد رکھیں خدا آپ کو آباد رکھے گا۔سینڑل مبلغ آدم ناصر صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسجد کی رونق کو نمازیوں سے بھر دینے کی تلقین کی۔الحاجی محمود صاحب جو لوکل مشنری ہیں اور مکرم رانا فاروق احمد صاحب امیرجماعت بینن کی نمائندگی میں اس مسجد کی افتتاحی تقریب میں شامل ہوئے۔انہوں نے احمدیت کے عقائد کھول کربیان کئے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی محبت بھری تعلیم سے حاضرین کو آگاہ گیا۔اس پر ایک غیر از جماعت امام نے اجازت لے کر سٹیج پر آکر کہا کہ’’ مَیں تو احمدیت کے عقائد کو اسلام سے ہٹ کر سمجھتا تھا۔ اب اس تقریر کے بعد میرادل صاف ہے‘‘۔

اس کے بعد مکرم میاں قمر احمد صاحب مبلغ سلسلہ نے سب شاملین مردوزن کے ساتھ دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے مسجد کے دروازے کھولے اور دعا کروائی۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعدسب کو کھانا پیش کیا گیا۔اس تقریب میں 379؍افراد شامل ہوئے۔

اللہ تعالیٰ اس مسجد کی تعمیر اس علاقہ کے لئے ہدایت کا مرکز بنائے۔آمین

﴿پولینڈ (مشرقی یورپ)﴾

ؕجماعت احمدیہ پولینڈ کی عالمی بُک فیئر میں کامیاب شرکت

(خلاصہ رپورٹ :مکرم منیب احمد چٹھہ صاحب۔ صدر جماعت و مربی سلسلہ پولینڈ)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ پولینڈ کو 17 تا 20 مئی 2018ء پولینڈ کے دارالحکومت وارسا کے دو منزلہ مشہور نیشنل اسٹیڈیم میں منعقدہ سالانہ عالمی بُک فیئر میں حصّہ لینے کی توفیق ملی۔ متعدد ملکوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں اور تنظیموں نے اس بُک فیئر میں اپنے اپنے سٹال لگائے ہوئے تھے جن سے استفادہ کرنے کے لئے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی آمد و رفت رہی۔

جماعتی بک سٹال کی کامیابی کے لئے لجنہ، ناصرات، انصار و خدام نے مدد کی۔

جماعت کی22 مختلف کتب، پمفلٹ اور بروشرز کو پولش زبان میں رکھا گیا تھا۔ قرآنِ کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم کے ذریعہ سےبھی اس نمائش کی زینت کو خاص طور پر بڑھایا گیا۔ علاوہ ازیں جماعتی تعارف پر مشتمل roll-ups بینرزبھی کھڑے کئے گئے۔

بُک فیئر سے دو ماہ قبل پانچ نئے brochures پولش زبان میں تیار کئے گئے جو قرآن کریم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے امن سے متعلق اقتباسات اور حضرت عیسیٰ ؑپر مشتمل تھے۔

سب سے زیادہ قرآنِ کریم کا پولش ترجمہ لوگوں نے خریدا ۔ 126قرآن کریم کے نسخے فروخت ہوئے اور تقریباً پانچ ہزار کی تعداد میں کتب ا و ررسائل تقسیم کئے گئے۔

درج ذیل کتب سب سے زیادہ فروخت ہونے والی تھیں:

1۔مسیح ہندوستان میں

2۔ اسلامی اصول کی فلاسفی

3۔ Woman in Islam by Hazrat Ch. Zafrullah Khan sb.

4۔ Christianity, a journey from facts to fiction

5۔ Life of Mohammad(peace be upon him)

دورانِ نمائش مختلف طبیعتوں کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ بعض ایسے احباب تھے جو بڑی توجہ سے جماعت کے لٹریچر کو دیکھتے مگر کوئی بات نہ کرتے۔ بعض دُور سے ہی سر ہلا کر چلے جاتے۔ بعض کوئی چیز دیکھ کر یا پڑھ کر اپنی مسکراہٹ سے بتا جاتے کہ اُن کو کوئی عنوان پسند آیا ہے۔ مگر کثیر تعداد جو جماعت کے بک سٹال پر رُکتی بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کرتی۔ بعض افراد خوشی کا اظہار بھی کرتے تھے کہ ہم اس طرح سامنے آکر ان کے سوالوں کے جوابات دے رہے ہیں۔

ایک سکول کی کلاس بھی ہمارے سٹال پر آئی اور دس سے پندرہ منٹ تک سوال و جواب ہوتے رہے۔ ان کے سامنے اسلام کے پُر امن ہونے، پردہ، عورتوں کے مقام اور حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق اسلامی نظریہ پیش کرنے کا موقع ملا۔بک فیئر کے دوران بہت سے نئے رابطے قائم ہوئے۔مختلف مذاہب اور تنظیموں سے تعلق رکھنے والے احباب نے جماعت احمدیہ کو اُن کے پروگراموں میں شامل ہونے کی دعوت دی اور اسلام کی تعلیمات پیش کرنے کو کہا۔یاد رہے کہ پولینڈ میں 26 جنوری یومِ اسلام کے نام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کے لئے ایک چرچ نے جماعت احمدیہ کو دعوت دی ہے۔

ہفتہ کے روز ایک لوکل اخبار نےسٹال پر آکر ریکارڈنگ کی اور انٹرویو بھی لیا۔ جس میں مختصر جماعت کا تعارف پیش کیا گیا اور ان کے مختلف سوالوں کے جوابات دیئے گئے۔اخبار کے نمائندہ نے جماعت کے بارہ میں بہت دلچسپی لی اورپولش زبان میں تمام لٹریچر جو وہاں موجود تھا خریدا۔

اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ پولینڈ کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے اورجماعت احمدیہ یعنی حقیقی اسلام کا پیغام مزید پھیلانے کی توفیق دے۔آمین۔

٭…٭…٭

﴿جارجیا ﴾

(مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کے سنگم پر واقع ایک ملک)

جارجیا کے قومی کتاب میلے میں احمدیہ مسلم ایسوسی ایشن کی پہلی بار شرکت

(رپورٹ مرتبہ: طاہر احمد بھٹی، جرمنی)

جارجیا میں قومی کتب میلے کا انعقاد 1997 ءسے باقاعدگی سے ہوتا ہے اور یہ میلہ ملکی سطح پر اشاعتی اداروں، پبلشرز اور عوام میں یکساں طور پر مقبول ہے۔امسال اس میلے میں احمدیہ کتب اور لٹریچر کے سٹال کی اجازت کے لئے جب انتظامیہ سے جارجیا جماعت نے رابطہ کیا تو ان کا ابتدائی رد عمل اگرچہ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا تاہم مشنری انچارج جارجیا مکرم جواد احمد بٹ صاحب اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک دو میٹنگز کے بعد میلے کا انعقاد کرنے والی سرکاری انتظامیہ کے تحفظات میں کمی آئی اور اس طرح اکتیس مئی سے تین جون 2018 تک جاری رہنے والے اس عالمی کتب میلے میں جماعت جارجیا کا پہلی بار سٹال لگا۔اس کے انتظامات کے لئے لندن سے رشین ڈیسک کے مکرم نیورم ٹیبک صاحب نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ان کے علاوہ مقامی ٹیم میں لجنہ کی ایک ممبر ، جنرل سیکرٹری صاحب جماعت جرمنی اور مبلغ سلسلہ مکرم جواد احمد بٹ صاحب مستقل طور پر نگرانی اور معاونت کرتے رہے۔ حسب روایت خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کا تعاون بھی شامل رہا۔

کتب میلے میں جماعت جارجیا کے سٹال کو دس مربع میٹر کی جگہ الاٹ کی گئی تھی جس کو جماعت کے تعارفی لٹریچر، قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم اور سلسلہ احمدیہ کی کتب سے مزیّن کیا گیا تھا۔ جبکہ سٹال کی ایک دیوار کو بطور خاص، "ریویو آف ریلیجنز” کے مختلف شماروں کی نمائش کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔

سٹال پر رکھے گئے لٹریچر اور کتب کی نوعیت مندرجہ ذیل تھی:

٭…قرآن کریم

٭…اسلام سے متعلقہ تعارفی لٹریچر

٭…سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ کتب

٭…عالمی بحران اور امن کا راستہ

٭…مسیح ہندوستان میں

٭…عیسائیت

٭…قرآن کریم سے منتخب آیات

٭…احادیث سے انتخاب

٭…حضرت مسیح موعودؑ کی منتخب تحریرات

٭…الہام، عقل، علم اور سچائی

٭…جہاد کے موضوع پر لٹریچر اور

٭…عربی زبان سے متعلقہ لٹریچر

عوام کے لئے یہ اپنی نوعیت کا نیا اور منفرد سٹال تھا اور اس پر زائرین کی تعداد روزانہ بڑھتی رہی اور ان کی دلچسپی اس پر مستزاد تھی۔

ہر دن زائرین کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کی نوعیت میں بھی اضافہ ہوتا رہا اور بک سیلرز ، پبلشرز کے بعد طلباء، اساتذہ، صحافی اور عیسائی آرتھو ڈوکس پبلک کا رجحان بھی بڑھتا رہا۔ سٹال انتظامیہ میں روسی زبان بولنے والے احمدی مکرم نیورم ٹیبک صاحب کی وجہ سے روسی زبان بولنے والے زائرین سے مستقل گفتگو اور مکالمے کی فضا بھی سٹال کا حصہ رہی اور روابط بھی بنے اور آئندہ کے راستے بھی بنے بلکہ ایک سابق ممبر پارلیمنٹ نے اپنے ساتھی زائرین سے کہا کہ اگر آپ کو ان کتب کا پہلے پتہ ہو تا تو اسلام کی نظافت اور حفظان صحت کی تعلیم کی وجہ سے ہی آپ لوگوں نے اسلام قبول کر لینا تھا۔اس طرح کے ہلکے پھلکے جملوں اور مستقل دلچسپی سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ جارجیا کے سماجی حلقوں میں اس اقدام سے روابط بڑھیں گے اور اسلام احمدیت کے تعارف سے مزید برف پگھلنے میں مدد ملے گی۔اللہ تعالیٰ جماعت جارجیا کی جملہ مساعی میں برکت ڈالے اور روز افزوں ترقی سے نوازے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button