قرآن کریم

قرآن مجید کی پاک تاثیرات (تیسری قسط)

(عبدالرب انور محمود خان ۔ امریکہ)

(سعید فطرت لوگوں کی توحید اور اسلام کی طرف رہنمائی کے دلچسپ و ایمان افروز واقعات)

7
سورۃ البقرۃ آیت 256
مارگریٹ مارکس ( مریم جمیلہ ) اورڈاکٹر جیفری لینگ کا قبول اسلام


اَللّٰہُ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُہُ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوْمٌ۔ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ۔ مَنْ ذَاالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہُ اِلاَّبِاِذْنِہٖ۔ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ۔ وَلَایُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖ ٓ اِلَّا بِمَا شَآئَ۔ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔وَلَایَؤُوْدُہٗ حِفْظُھُمَا۔ وَہُوَ الْعَلِّی الْعَظِیْمُ o

ترجمہ : اللہ! اس کے سوا کوئی اور معبودنہیں۔ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم بالذات ہے۔ اسے نہ تو اونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کے کے لئے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور سفارش کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔ وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین پر ممتد ہے اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں اور وہ بہت بلند شان (اور ) بڑی عظمت والا ہے۔

قرآن کریم کی یہ آیت آیت الکرسی کے نام سے موسوم ہے۔اور دنیا میں کروڑوں انسانوں نے نہ صرف اس کو یاد کیا بلکہ وہ اکثر و بیشتر اس کا ورد کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کو بہت پیاری ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات کا اظہار ہے اور اس کا ایک خصوصی اثر سامعین پر پڑتا ہے۔ اسی طرح کا اثر ایک مشہور زمانہ حساب دان ڈاکٹر جیفری لینگ پر ہوا۔ان سے گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ خدا تعالیٰ کی ذات کا جو تصور ان کو ابتدائی زندگی میں دیاگیا تھا وہ انتہائی ناقص تھا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے کا ئنات کو چھ دنوں میں بنایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ آپ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے چرچ میں یہ سوال کیا کہ خدا نے آرام کیوں کیا ؟ ساتویں دن اگر مجھے اس خدا کی ضرورت ہو تو وہ آرام کر رہا ہوگا۔ جواب نہ ملنے کی وجہ سے میں نے کیتھلک مذہب چھوڑنے کا ارداہ کر لیا اور مختلف مذاہب میں راہ حق کی تلاش میں نکلا۔ اسی دوران مجھے قرآن کریم دستیاب ہوا۔ میں نے آیت الکرسی پڑھی تو مجھے ان تمام سوالوں کے جواب مل گئے جو میں نے چرچ سے کئے تھے۔وہ خدا قادر مطلق ہے نیند اور تھکان اس کے پاس نہیں پھٹکتی۔

انہوں نے اپنی کتاب "Even Angel Ask ” میں تحریر کیا کہ پہلی 39 آیات سورۃ بقرۃ میں تمام انسانیت کا لائحہ عمل شروع کریں تو آپ کے ذہن میں جو سوال ابھررہے ہوتے ہیں اگلی آیت میں جواب موجود ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ پڑھنے والے کے مکمل فہم اور ذہنی استعدادوں سے واقف ہے اور ہر سوال کا جواب انتہائی معقول اور مبسوط طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان کی کتب کے سرسری مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر لینگ قرآن کریم کے عاشق ہیں۔ انہوں نے تفصیل سے اس کا مطالعہ کیا ہے اور پھر سان فرانسسکو میں اسلام قبول کیا۔اگرچہ وحدانیت کا تصور یہود ا ور نصاریٰ دونوں میں ملتا ہے مگر جو تصور وحدانیت کا آیت الکرسی پیش کرتی ہے وہ بہت مبسوط اور مخصوص ہے۔ اور متعدد یہودی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

انہی میں ایک خاتون مارگریٹا مارکس ہیں جو نیویارک کی ایک یہودی فیملی میں1934ء میں پیدا ہوئیں۔ انیس سال کی عمر میں انہوں نے مذاہب کا مطالعہ شروع کیا۔ قرآن کریم پڑھنے کی تو فیق پائی۔ اور آیت الکرسی پر آکر ان کا دل و دماغ روشن ہو گیا اور اس آیت پر تفصیلی غور و فکر کے بعد انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ان کے قبول اسلام کی داستان ایک کتاب Testimonies Of Jewish Converts میں چھٹے نمبر پر درج ہے۔

ذیل میں اس انٹر ویو کی تلخیص پیش کی جاتی ہے۔

سائل کے عمومی سوال پر کہ انہوںنے اسلام کیسے قبول کیا؟ وہ لکھتی ہیں :

’’ نیو یارک میں ایک شام میں بہت بے چین تھی اور پریشانی کی حالت میں میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیاکہ میں لائبریری جارہی ہوں آپ کے لئے کچھ پڑھنے کو لے آئوں ؟ میں نے عرض کی کہ میرے لئے قرآن کریم کا ایک نسخہ لے آئیں۔

جونہی وہ واپس آئیں میں نے تیزی سے ان سے وہ نسخہ لیا اور ساری رات میں مکمل پڑھ لیا۔میں نے تیرہ سال سکول اور کالج میں تعلیم حاصل کی لیکن مجھے خدا کا صرف یہ تصور تھا کہ کوئی بوڑھا ایک اونچے تخت پر بیٹھا ہے اور وہاں سے اپنے فرمان جاری کرتا ہے۔ اس سے زیادہ کوئی علم نہیں تھا۔ جب مَیں نے قرآن کریم پڑھا اورسورۃ البقرۃ کی آیت 256 یعنی آیت الکرسی پر پہنچی تو ایک دم ساری پریشانی اور بوجھ دور ہو گیا اور اس پاک ہستی سے ملنے اور اس پر جان فدا کرنے کو دل چاہا۔جس میں خدا تعالیٰ کی متعدد خصو صیات بیان کی گئی ہیں۔ایک ایک لفظ ایسا لگتا ہے کہ دل میںا تر رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سورۃ النور کی آیت 40 کا حوالہ دیا جس کے معنی یہ ہیں :

’’ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے سراب کی طرح ہیں جو چٹیل میدان ہیں جسے سخت پیاسا پانی گمان کرے یہاں تک کہ جب وہ اس تک پہنچے اسے کچھ نہ پائے۔ پس وہ اس کو پورا پورا حساب دے اور اللہ حساب چکانے میں تیز ہے ‘‘۔

وہ لکھتی ہیں کہ ’’ سب سے پہلا خیال قرآن کریم پڑھنے کے بعد یہ آیا کہ اسلام ہی صرف سچا مذہب ہے جو بالکل سچ انتہائی مخلص اور ہر قسم کی چالاکیوں اور بہروپیے پن سے عاری ہے۔ جس میں سوائے صداقت کے کوئی دکھاوا نہیں‘‘۔

اس کے بعد مریم جمیلہ نے مشکوٰۃ کا مطالعہ شروع کیا اور باقاعدہ اسلام قبول کیا۔ قبول اسلام کے بعد وہ مولانا مودودی کی دعوت پرپاکستان آئیں۔ انہوں نے آکر قریب سے جماعت اسلامی کو دیکھا اور اپنے آپ کو اس سے دُور کرتی گئیں اور مولانا کے مغرب پرست ہونے پر متعدد اعتراض کئے اور خود کو ان سے علیحدہ کر لیا۔ مریم جمیلہ نے اپنے والدین کو نہایت پیار سے دعوت اسلام دی اور نہ قبول کرنے کے عواقب سے آگاہ کیا۔ 2012ء میں وہ وفات پا گئیں۔ اپنی زندگی میں اسلام کی بھرپور خدمت کی۔ان کے اس خط کا لنک اور اس کہانی کا لنک بھی درج ذیل ہے۔ ان سے پورا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

(http://www.islamicbulletin.org/freedownloads/newmuslim/testimoniesofjewishconverts.pdf )

8
سورۃ آل عمران آیت نمبر 4,5
یوسف گریفن کا قبول اسلام

نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّ قًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجیْلَ o
اس نے تجھ پر کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اس کی تصدیق کرتی ہوئی جو اس کے سامنے ہے اور اسی نے تورات اور انجیل کو اتارا۔

مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ o
اس سے پہلے لوگوں کے لئے ہدایت کے طور پر اسی نے فرقان نازل کیا۔یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اور ان کے لئے سخت عذاب (مقدر) ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) انتقام لینے بچوالا ہے۔

یہ کہانی یوسف گریفن نامی ایک سوئس نوجوان کی ہے جو تین سال کی عمر میں آسٹریلیا شفٹ ہو گیا تھا۔ اگرچہ اس کی ماں Protestant عیسائی تھی اور اس کو Sunday School بھیجتی تھی۔مگر وہ کلاس میں ہر بات پر سوال کرتا تھااور بائبل کے تمام احکامات کوعقل سے پرکھتا تھا۔ وہاں کے اساتذہ نے اسے نکال دیا۔تثلیث اور نجات کے مسائل پر اس کو سخت اعتراضات تھے اور وہ ہرگز ان کو قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔سکول کے بعد اس نے قانون کی تعلیم حاصل کی۔اس نے مختلف مذاہب پڑھے اور انڈیا میں بھی سفر کیا۔ جے پور میں کسی مسلمان نے اس کو قرآن کریم دیا۔اس نے قرآن کریم پڑھا اور مندرجہ بالا آیات سے بہت متاثر ہوا اور یہ سوال کیا کہ اب کیا کرنا ہے۔ اس کے مسلمان دوست نے کہا کہ مسجد کے امام سے ملو۔ اس وقت اس نے hippies کی طرح لمبے لمبے بال رکھے ہوئے تھے اور کان میں بالیاں پہنی ہوئی تھیں۔ امام نے اس کو grooming کے لئے نصیحت کی اور تشہد کا مطلب سمجھایا اور اس سے تشہد دہروایا۔

اس طرح یوسف گریفن مسلمان ہو گئے اور اب اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اپنی فیملی کومسلمان بنایا۔ قرآن کریم کی اس آیت نے ان کی زندگی کی کایا پلٹ دی۔الحمدللہ۔

ذیل کے لنک Voice of Islam پر ان کا 24منٹ کا انٹرویو ہے جو نہایت دلچسپ ہے۔

(http://www.tubeislam.com
/video/11835/My-Path-to Islam-Yusuf-Griffen-from-
VoiceofIslam-TV)

9
سورۃ النساء آیت 158
سائمن آلفریڈو کیرابالو (Simon Alfredo Caraballo)کا قبول اسلام

وَ قَوْ لِھَمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ۔ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ۔ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ۔ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّااتِّبَاعَ الظَّنِّ۔ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا o

ترجمہ :۔ اور ان کے اس قول کے سبب سے کہ یقیناً ہم نے مسیح ابن مریم کو جو اللہ کا رسول تھا قتل کردیا ہے۔ اور وہ یقیناً اسے قتل نہیں کرسکے اور نہ اسے صلیب دے (کر مار) سکے۔بلکہ ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا او ر یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے اس کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس کا کوئی علم نہیں سوائے ظن کی پیروی کرنے کے۔اور وہ یقینی طور پر اسے قتل نہ کر سکے۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مندرجہ بالا آیات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں متنازع امر کی وضاحت کے لئے کافی ہیں۔ متعدد عیسائی حضرات پر یہ حقیقت آشکار ہوئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انہی خوش نصیب افراد میں ملک Venezuelaکے یہ نو جوان جو عملی زندگی میں انجینئر ہیں۔انہوں نے ان آیات کا صحیح ادراک حاصل کیا اور بلا تردّد توحید کے علمبرادر ہو گئے۔انہوں نے ایک مختصر کتابچہ بھی رقم کیا جس کا عنوان ہے

"My Great Love For Jesus Led me to Islam”

یہ کتابچہ انٹر نیٹ پر مہیا ہے اور ان کے قبول اسلام کی داستان اسی سے اخذ کی گئی ہے۔

سائمن ایک طالب علم تھے اور کٹر کیتھولک عیسائی تھے۔ ہر روز دو مرتبہ مسیح کی عبادت کرتے تھے۔ اپنے جسم پر متعدد صلیبیں ساتھ رکھتے تھے۔بلکہ ان کا موقف یہ تھا کہ اگر ان صلیب کے ٹکڑوں سے جدائی ہو گئی تو وہ انتہائی خطرہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔جب ان کو طالب علمی کے دور میں ذرا مذہبی تصور اجاگر ہوا تو انہوںنے متعدد سوالات شروع کر دئیے اور عیسائیت کے ہر عقیدہ پر گہری تحقیق کے نتیجے میں کسی قدر بیزاری کا اظہار کیا۔ انہیں کسی مسلمان دوست نے قرآن کریم کا ایک نسخہ اور دیگر لٹریچر در بارہ اسلام دیا۔ انہوں نے اس سے قبل کبھی قرآن کریم کا نسخہ دیکھا تک نہ تھا۔ غور و فکر کے ان ایام میں انہو ںنے قرآن کریم کا مطالعہ شروع کیا اور سب سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی کیونکہ ان کو حضرت عیسیٰ سے شدید محبت تھی۔ اور وہ ہر و قت خدا سے اس سوالیہ نشان کی طرح بنے رہے کہ کیوں حضرت عیسیٰ کو جو ان کے مذہب کے مطابق خدا کے بیٹے تھے یہ اذیتناک سزا دی۔دوران مطالعہ جب وہ سورۃ نساء کی آیت 158 پرپہنچے جس میں لکھا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز مصلوب نہیں ہوئے اور نہ ہی اس طریق پر وفات پائی۔ یہاں آکر وہ رک گئے اور متعدد بار اس آیت کو پڑھا اور کہتے رہے : "They killed him not and not crucified him” ’ نہ انہوں نے اسے (یعنی حضرت عیسیٰ) کوقتل کیا اور نہ ہی وہ مصلوب ہوئے۔وہ لکھتے ہیں کہ ایسا لگا کہ اللہ تعالیٰ نے نہایت واضح طور پر میرے سارے شبہات کو دُور کردیا اور تمام سوالوں کے جواب دے دیئے۔

وہ کہتے ہیں کہSeattle: کے تعلیمی دور میں 1978میں مجھ پر یہ انکشاف ہوا۔ایسا لگتا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے Venezuela سے یہاں اسی لئے لایا تھا۔ مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ میرے عیسیٰ نے صلیب پر وفات نہیں پائی۔ایسا لگتا تھا کہ ایک بہت بڑا بوجھ جو ساری زندگی میرے سر پر تھا اٹھ گیا۔ صلیب بھی پارہ پارہ ہو گئی اور تثلیث کے بھی پرخچے اُڑگئے۔آسمان پر مسیح کا تصور اور دیگر رسومات کالعدم ہوگئیں۔
Oklahoma ریاست میں میں نے 1979ء میں کورسز لئے اور وہاں مسجد کے امام نے مجھ سے سوال کیا کہ اب تمہارے پاسپورٹ پر مسلمان لکھاجائے گا۔کیا تمہیں یہ منظور ہے ؟تو میں نے جواب دیا بالکل، مَیں بفضلہٖ تعالیٰ مسلمان ہوں اور شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میںنے شہادت انگریزی میں لی اور پھر عربی میں کلمہ شہادت دہرایا۔الحمدللہ

حوالہ کتاب: "My Great Love for Jesus Led Me to Islam”

یہ کتاب online حاصل کی جاسکتی ہے۔

(http://islamicbook.ws/english/english-034.pdfhttp://slideplayer.com/slide/
2432381/)

10
سورۃ المائدہ آیت نمبر 4
Ann Hayat Collins اور ڈاکٹر کوری برائون کے قبول اسلام کی داستان

اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْن ِ۔ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا o

ترجمہ :۔ جو لوگ کافر ہیں وہ آج تمہارے دین کو نقصان پہنچانے سے نا امید ہو گئے ہیں۔ اس لئے تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے (فائدہ) کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔

قرآن کریم کی یہ آیت بالکل منفرد مقام کی حامل ہے۔ اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اب شریعت کی تکمیل کر دی اور تمام ہدایات جو انسان کے لئے ضروری تھیں، وہ مکمل اور مفصل رنگ میں بیان کردیں۔

یہ آیت بروز جمعہ نماز عصر و مغرب کے درمیان میدان عرفات میں واقع جبل رحمت کے مقام پر حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی۔ آنحضور ﷺ اس آیت کے نزول کے بعد 81 د ن حیات رہے۔ صحیح بخاری کتاب نمبر 64 اور حدیث نمبر 64 میں یوں درج ہے :

طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ چند یہودیوں نے یہ تبصرہ کیا کہ اگر یہ آیت ہم پر پڑھی جاتی تو ہم اس دن کو عید مناتے۔حضرت عمر ؓ نے یہ دریافت کیا کہ کون سی آیت؟ تو انہوں نےجواب دیا ’’آج ہم تمہارے فائدے کے لئے تمہارا دین مکمل کردیا۔ اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے ‘‘۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب آنحضرت ﷺ میدان عرفات میں مقیم تھے۔

پہلی کہانی

اب اصل کہانی کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس خاتون (Ann Collins Osman) کا یہ جملہ ہرگز فراموش نہیں کیا جا سکتا جس میں انہوں نےلکھا کہ میں خدا سے براہ راست ہدایت کی طالب ہوں۔ان کی تحریر کردہ کہانی کا مفہوم ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

اپنی کہانی کا عنوان وہ یہ دیتی ہیں ’’ کیا میں براہ راست خدا کے پاس جاسکتی ہوں ؟‘‘

اگرچہ یہ عیسائی خاندان میں پیدا ہوئیں اور اپنے والدین کی طرح بہت مذہبی تھیں۔ کہتی ہیں کہ ’’میری سالگرہ پر میری خالہ نے مجھے بائبل بطور تحفہ دی۔ ایک دفعہ میں نے اپنے والدین سے دعا کی کتاب طلب کی ‘‘ ۔ جونیئر ہائی اسکول میں انہوں نے باقاعدہ بائبل کلاسز لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد مرتبہ فلسفہ تثلیث کے بارے میں سوالات اٹھائے جن کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔ کالج میں ایک مسلمان نے مجھ سے چرچ کی تفصیلات اور عبادات کی کُنہ معلوم کرنے کے لئے سوالات کئے اور مجھے ان کے جواب نہیں آتے تھے۔
اسی دوران مجھے قرآن کریم کا ایک نسخہ مل گیا۔میں نے سوچا کہ عیسائی مذہب میری تشفی نہیں کرسکا۔میں نے قرآن کریم کا مطالعہ جاری رکھا۔

میں ٹی وی پر مسلمانوں کو نماز ادا کرتے دیکھتی اور کوشش کرتی تھی کہ ان کی نقل کروں۔ بالا ٓ خر قرآن کریم کی سورۃ مائدہ کی یہ آیت سامنے آئی جس میں لکھا تھا :

’’ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔آج کے دن میں نے تمہا رے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔‘‘

وہ لکھتی ہیں کہ میری خوشی کے آنسو تھمتے ہی نہ تھے۔ مجھے یقین تھا کائنات کی تخلیق سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے میرے لئے قرآن کریم لکھ رکھا تھا۔اللہ کو علم تھاکہ Ann Collins in New York اس آیت کو پڑھے گی اور مئی 1986ء میں اس کوپڑھ کر نجات حاصل کرے گی۔ اس طور پر اس خاتون نے تشہد پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔

(https://wechooseislam.wordpress.com/2006/12/25/could-i-deal-with-god-directly-by-hayat-anne-collins-osman/)

دوسری کہانی

ڈاکٹرکوری براؤن کا قبول اسلام

قرآن کریم کی نازل شدہ یہ آخری آیت جس طرح Ann Hayat Collins کے داخل اسلام کا موجب بنی۔اسی طرح اس امریکن ڈاکٹر کوری برائون کی ہدایت کا موجب بنی جو زندگی کے متعدد مسائل میں گرفتار اپنے رب سے ہدایت کی التجا کر رہے تھے۔

اس مقصد کے لئے انہوں نے بطورCatholic پوری توجہ سے بائبل کا مطالعہ کیا اور ہدایت کے منتظر رہے۔انہیںبائبل کے اوراق میں سابقہ تاریخ اور دیرینہ قصوں سے زیادہ کچھ نہیں۔تا ہم انہوں نے اپنے خالق سے دعا جا ری رکھی۔بالآ خر انہیں قرآن کریم کا ایک نسخہ دستیاب ہوا۔ انہوں نے اسے کھو لا تو سورہ مائدہ کی آیت نمبر 4 ان کے سامنے تھی۔جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

’’آج میں نے تمہارے فائدہ کے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔‘‘

یہ پڑھ کر ان کو ایسا لگا کہ ان کی مراد بر آگئی اور وہ اپنے گھر کے تہ خانے میں گئے اور خاموشی اور علیحدگی میں اسلام قبول کر لیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد ان کا اتفاق قریب کی مسجد میں جانے کا ہوا۔وہاں ایک مسلمان نے ان کو بتایا کہ علیحدگی میں کی ہوئی شہادت کافی نہیں بلکہ انہیں سب کے سامنے امام کی موجودگی میں کلمہ شہادت دہرانا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے تقریباً سو افراد کی موجودگی میںکلمہ شہادت پڑھا اور اس طور پر اسلام میں داخل ہو گئے۔ان کی یہ داستانYoutube میں ریکارڈ ہے جس کا لنک درج ذیل ہے۔

(https://www.youtube.com/watch?v=TcL3m3oxe1w )

(باقی آئندہ)

اگلی قسط کے لیے…

گزشتہ قسط کے لیے…

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button