خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02؍ مارچ 2018ء بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے

اسلام میں اعلیٰ اخلاق اپنانے، اچھے اخلاق ہر موقع پر ظاہر کرنے، گھروں میں بھی اور معاشرے میں بھی اور ہر سطح پر اعلیٰ اخلاق دکھانے، اپنوں اور غیروں سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی جتنی تعلیم دی گئی ہے اور کسی چھوٹے سے چھوٹے پہلوکو بھی نہیں چھوڑا گیا، کسی اور مذہب میں اس طرح تفصیل سے ان کا بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان ہی ہیں جو اس لحاظ سے عموماً نچلے ترین درجہ پر سمجھے جاتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بھی اور مختلف مواقع پر بار بار اپنی اُمّت کو اخلاق کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ مسلمان عمومی طور پر رسول کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور سنّت پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسلمانوں کی اسی حالت کے پیش نظر جب یہ حالات ہونے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔ لیکن اس طرف بھی یہ لوگ توجہ دینے سے انکاری ہیں

ان کی یہ حالت ہم احمدیوں کو اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے کہ ہم اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کریں۔ تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کریں جو اسلام کی تعلیم ہے اور جس کا اُسوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم فرمایا یا کسی بھی رنگ میں ان باتوں کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات کے حوالہ سے بعض بنیادی اخلاق کی تعلیم اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ارفع و اعلیٰ اخلاق کے پاکیزہ نمونوں کا تذکرہ۔

اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے ارشادات کے حوالہ سے اخلاق کی تعریف اور مختلف اخلاق کو اپنانے کی نصائح

مکرم شیخ عبد المجید صاحب ابن مکرم شیخ عبد الحمید صاحب حلقہ ڈیفنس سوسائٹی کراچی کی وفات۔ مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب۔

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ ۔

اسلام میں اعلیٰ اخلاق اپنانے، اچھے اخلاق ہر موقع پر ظاہر کرنے، گھروں میں بھی اور معاشرے میں بھی اور ہر سطح پر اعلیٰ اخلاق دکھانے، اپنوں اور غیروں سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی جتنی تعلیم دی گئی ہے اور کسی چھوٹے سے چھوٹے پہلوکو بھی نہیں چھوڑا گیا، کسی اور مذہب میں اس طرح تفصیل سے ان کا بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان ہی ہیں جو اس لحاظ سے عموماً نچلے ترین درجہ پر سمجھے جاتے ہیں۔ غیر مسلم ان پر انگلی اٹھاتے ہیں کیونکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں ان کے عمل اس کے خلاف ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بھی اور مختلف مواقع پر بار بار اپنی اُمّت کو اخلاق کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔ مسلمان عمومی طور پر رسول کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور سنّت پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ مسلمانوں کی اسی حالت کے پیش نظر جب یہ حالات ہونے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔ لیکن اس طرف بھی یہ لوگ توجہ دینے سے انکاری ہیں بلکہ بعض لوگ مخالفت میں بعض جگہوں پر یا بعض ملکوں میں انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں اور معمولی اخلاق سے ہٹ کر، بلکہ ایک اخلاق سے نیچے گرے ہوئے شخص سے بھی گھٹیا بن کر، انتہائی گندی اور غلیظ زبان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے ماننے والوں کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ بھی یہ دنیا میں ہر جگہ بھگت رہے ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے کہا غیر مسلم ان پہ انگلی اٹھاتے ہیں۔ ان کی یہ حالت ہم احمدیوں کو اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے کہ ہم اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کریں۔ تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کریں جو اسلام کی تعلیم ہے اور جس کا اُسوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم فرمایا یا کسی بھی رنگ میں ان باتوں کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے۔ ورنہ پھر ہمیں احمدی ہونے اور کہلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو ہم دیکھیں تو حیرت انگیز معیار نظر آتے ہیں۔ آپ کے گھریلو حالات کو دیکھیں تو کہیں آپ اپنی بیوی کے دوسری بیوی کے چھوٹے قد کا مذاق اڑانے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے ہیں کہ کسی کو جذباتی تکلیف نہیں دینی چاہئے۔(سنن ابو داؤد کتاب الأدب باب فی الغیبۃ حدیث 4875) تو کہیں اس بات پر ایک بیوی کو سمجھا رہے ہیں کہ معمولی سی بھی ناپسندیدگی کا اظہار دوسری بیوی کے کسی کام پر نہیں ہونا چاہئے۔(سنن ابن ماجہ کتاب الاحکام باب الحکم فیمن کسر شیئا حدیث 2333) کہیں آپ بچوں کے اخلاق بلند کرنے کی نصیحت فرماتے ہیں کہ لوگوں کے پھلوں کے درختوں پر پتھر مار کر ان کا کچا پکا پھل جو ہے وہ ضائع نہ کرو۔ آپ نے ایک بچے کو فرمایا کہ اگر بہت بھوک لگی ہوئی ہے برداشت نہیں ہوتا تو درخت سے نیچے گری ہوئی پکی کھجوریں ہیں وہ اٹھا کر کھا لو۔ لیکن ساتھ ہی یہ نصیحت بھی فرمائی کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ مَیں تمہیں دعا دیتا ہوں کہ تمہیں ایسی حالت کی نوبت بھی نہ آئے کہ تمہیں نیچے سے اٹھا کے کھجوریں کھانی پڑیں۔ تم مجبور ہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے سامان فرماتا رہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب من قال انہ یاکل مما سقط حدیث 2622) اس دعا کے ساتھ بچے کو بھی توجہ دلا دی کہ اپنی ضروریات کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، نہ کہ غلط طریقے سے لوگوں کے مالوں کو اٹھاؤ۔ کیونکہ گو مجبوری میں بعض دفعہ اس طرح کی چیزیں جو نیچے زائد پڑی ہیں جائز بھی بن جاتی ہیں لیکن آپ نے فرمایا کہ اعلیٰ اخلاق اختیار کرو اور یہی نیکی ہے۔ پھر ایک بچے کوتیزی سے کھانے اور اپنا ہاتھ کھانے کی پلیٹ پر یا تھالی پر پھیرنے کی وجہ سے فرمایا کہ پہلے بسم اللہ پڑھو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔(صحیح البخاری کتاب الاطمۃ باب التسمیۃ علی الطعام … الخ حدیث 5376)پس بچوں کی تربیت بھی اس رنگ میں کرنی چاہئے تا کہ بڑے ہو کر ان میں اعلیٰ اخلاق پیدا ہوں۔

پھر جھوٹ ایک گناہ ہے اور سچائی ایک نیکی ہے اور خُلق ہے۔ اس کو بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے اس طرح نصیحت فرمائی کہ ایک صحابی اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور مَیں اپنے بچپن کی وجہ سے تھوڑی دیر بعد ہی گھر میںآپ کی موجودگی میں ہی کھیلنے کے لئے باہر جانے لگا تو میری ماں نے مجھے اس بابرکت ماحول سے دُور جانے سے روکنے کے لئے کہا کہ اِدھر آؤ۔ ابھی یہیں رہو۔ مَیں تمہیں ایک چیز دوں گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم اسے کچھ دینا چاہتی ہو؟ میری ماں نے کہا کہ ہاں میں اسے ایک کھجور دوں گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر تمہارا یہ ارادہ نہ ہوتا اور تم صرف بچے کو بلانے کے لئے یہ کہتی تو تم پھر جھوٹ بولنے کا گناہ کرنے والی ہوتی۔(سنن ابی داؤد کتاب الأدب باب فی التشدید فی الکذب حدیث 4991) اب اس بچے پر بھی اس چھوٹی عمر میں سچائی کی اہمیت اور جھوٹ سے نفرت واضح ہو گئی اور بڑے ہونے تک انہوں نےیہ بات یاد رکھی اور اس کے بعد بیان فرمائی کہ میرے دل میں یہ اہمیت تھی۔

ایک مرتبہ ایک شخص کو فرمایا کہ اگر تم ساری برائیاں نہیں چھوڑ سکتے تو جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ ایک برائی کم از کم چھوڑو۔(تفسیر کبیر امام رازی جلد 8 جزء 16 صفحہ 176 تفسیر سورۃ التوبۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء) اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا آجکل کے مسلمانوں کے یہ معیار ہیں کہ اس باریکی سے جھوٹ سے بچیں اور سچائی کو قائم کریں بلکہ ہمیں اپنے بھی جائزے لینے چاہئیں کہ کیا ہمارے یہ معیار ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کبیرہ کے بارے میں بتاتے ہوئے فرمایا کہ گناہ کبیرہ یہ ہے کہ اللہ کا شرک کرنا۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور پھر راوی کہتے ہیں کہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے یہ باتیں کر رہے تھے تو اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ غور سے سنو۔ جھوٹ اور جھوٹی گواہی۔ پھر آپ نے فرمایا جھوٹ اور جھوٹی گواہی۔ اور بار بار فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ یہ کہتے چلے گئے اور ہم نے خواہش کی کہ کاش حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جائیں۔

(صحیح البخاری کتاب الأدب باب عقوق الوالدین من الکبائر حدیث 5976)

پھر ہم اس رنگ میں بھی آپ کے اخلاق کا مظاہرہ دیکھتے ہیں۔ برداشت اور صبر کا کیا معیار ہے اور کس طرح آپ نصیحت فرماتے تھے۔ ایک بدّو مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کی طرف روکنے کے لئے دوڑے۔ آپ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں پیشاب کیا ہے وہاں پانی بہا دو۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں کی آسانی کے لئے پیدا کئے گئے ہو نہ کہ تنگی کے لئے۔ اس پر وہ بدّو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا ذکر کیا کرتا تھا۔

(سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی البول یصیب الارض حدیث 147)

آجکل تو لگتا ہے کہ مسلمان حکومتیں بھی، علماء بھی، گروہ بھی، دنیا میںتنگی پیدا کرنے کے لئے سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ نہ چھوٹی بات پہ آسانیاں پیدا کرنے والے ہیں نہ بڑی بات پہ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم برا کر رہے ہو یا اچھا کر رہے ہو تو پھر اپنے ہمسائے کی طرف دیکھو کہ وہ تمہارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الثناء الحسن حدیث 4222)پھر افسروں کو فرمایا کہ تمہارے اعلیٰ اخلاق کا تب پتا چلے گا جب تم اپنے آپ کو قوم کا خادم سمجھو گے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ عوام کی خدمت کرو گے۔(کنز العمال جلد 6 صفحہ 710 حدیث 17517 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت 1885ء)یہ معیار ہمارے لیڈروں میں اور افسروں میں کہاں نظر آتے ہیں۔ پس ہمارے جو جماعتی عہدیدار ہیں ان کو بھی اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

پھر جب تمام طاقتیں آپ کو مل گئیں اور عرب پر فتوحات ہو گئیں تو ہم آپ کے معیارکا یہ حال دیکھتے ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے کس طرح اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا کہ دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ ایسے دشمن جو جانی دشمن تھے جنہوں نے مسلسل تکلیفیں دی تھیں اور پھر یہی معافی جو ہے وہ بہت سوں کے اسلام لانے کا موجب بن گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ ترین معیار کا، اعلیٰ ترین اخلاق کے معیار کا، ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

’’اللہ جلّ شانہٗ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ(القلم5:) یعنی تُو ایک بزرگ خُلق پر قائم ہے۔ سو اسی تشریح کے مطابق اس کے معنی ہیں یعنی یہ کہ تمام قِسمیں اخلاق کی‘‘۔( کون سی قسمیں)’’ سخاوت( ہے)، شجاعت( ہے)، عدل( ہے)، رحم، احسان، صدق، حوصلہ وغیرہ‘‘( یعنی حوصلے سے کسی چیز کو برداشت کرنا)’’ تجھ میں جمع ہیں۔ غرض جس قدر انسان کے دل میں قوتیں پائی جاتی ہیں جیساکہ ادب، حیا، دیانت، مروّت، غیرت، استقامت، عفت، زہادت، اعتدال، مؤاسات یعنی ہمدردی۔ ایسا ہی شجاعت، سخاوت، عفو، صبر، احسان، صدق، وفا وغیرہ۔ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبّر کے مشورے سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہو گا۔ اور یہ تمام اخلاق درحقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے ہیں کہ جب محل اور موقع کے لحاظ سے بالارادہ ان کو استعمال کیا جائے‘‘۔(اسلامی اصول کی فلاسفی،روحانی خزائن جلد 10صفحہ 333) ایک عادتاً نہیں بلکہ ہر خلق جو ہے اس کو اس لحاظ سے استعمال کیا جائے کہ اس کے نیک نتیجے پیدا ہوں۔ بعض دفعہ سزا دینی پڑتی ہے تو سزا اس ارادے سے کہ نیک نتائج پیدا ہوں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اعلیٰ اخلاق دکھانے کی مختلف حالتوں کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ اعلیٰ اخلاق کا دو حالتوں میں پتا لگتا ہے۔ ابتلاؤں میں بھی اور تنگی کی حالت میں بھی، ابتلاؤں اور تنگی کی حالت میں اور انعام اور کشائش کی حالت میں۔ ابتلاء اور تنگی میں جو صبر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کا نمونہ دکھائے وہ اعلیٰ اخلاق کا مالک ہے اور انعام اور حکومت میں جو عاجزی اور انصاف قائم کرے وہ اعلیٰ اخلاق والا کہلا سکتا ہے اور یہ دونوں حالتیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں روشن ہو کر ظاہر ہوتی ہیں۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ کس طرح فتح مکہ کے موقع پر اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’ انسان کے اخلاق ہمیشہ دو رنگ میں ظاہر ہو سکتے ہیں یا ابتلا کی حالت میں اور یا انعام کی حالت میں۔ اگر ایک ہی پہلو ہو اور دوسرا نہ ہو تو پھر اخلاق کا پتا نہیں مل سکتا۔ چونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مکمل کرنے تھے اس لئے کچھ حصہ آپ کی زندگی کا مکی ہے اور کچھ مدنی۔ مکہ کے دشمنوں کی بڑی بڑی ایذا رسانی پر صبر کا نمونہ دکھایا اور باوجود ان لوگوں کے کمال سختی سے پیش آنے کے پھر بھی آپ ان سے حلم اور بردباری سے پیش آتے رہے اور جو پیغام خدا تعالیٰ کی طرف سے لائے تھے اس کی تبلیغ میں کوتاہی نہ کی۔ پھر مدینہ میں جب آپ کو عروج حاصل ہوا اور وہی دشمن گرفتار ہو کر پیش ہوئے تو ان میں سے اکثروں کو معاف کر دیا۔ باوجودقوتِ انتقام پانے کے پھر انتقام نہ لیا۔(ملفوظات جلد 6صفحہ 195-196۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا مزید ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیںکہ

’’ان باتوں کو نہایت توجہ سے سننا چاہئے۔ اکثر آدمیوں کو میں نے دیکھا اور غور سے مطالعہ کیا ہے کہ بعض سخاوت تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی غصہ وَر اور زُود رنج ہیں‘‘۔( بڑے سخی ہیں لوگوں کو دیتے بھی ہیں لیکن ساتھ غصہ بھی آ جاتا ہے اور ذرا ذرا سی بات پر ناراضگی بھی آ جاتی ہے۔ کسی کو دیا تو اس کے بعد پھر احسان بھی جتا دیا۔ ناراضگی ہوئی تو)۔ فرمایا کہ’’ بعض حلیم تو ہیں لیکن بخیل ہیں۔ بعض غضب اور طیش کی حالت میں ڈنڈے مار مار کر گھائل کر دیتے ہیںمگر تواضع اور انکسار نام کو نہیں۔ بعض کو دیکھا ہے کہ تواضع اور انکسار تو ان میں پرلے درجہ کا ہے مگر شجاعت نہیں ہے…۔‘‘( عاجزی ہے، انکساری ہے لیکن بہادری نہیں۔ ذرا سی کوئی بات موقع آئے تو فوراً بزدلی دکھانے لگ جاتے ہیں)۔ فرمایا کہ ہر انسان جامع صفات بھی نہیں ہوتا۔ یہ ٹھیک ہے۔ لیکن ساتھ یہ بھی ہے کہ ’’بالکل محروم بھی نہیں ہے۔‘‘ اور پھر آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان اخلاق کے بارے میںسب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے جو جمیع اخلاق میں کامل تھے اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 1صفحہ 132۔133۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس تکالیف کے زمانہ میں بھی آپ نے اخلاق دکھلائے اور صبر کا وہ مظاہرہ کیا کہ دنیا حیران ہو گئی اور تمام عرب کی حکومت ملی جیسا کہ فرمایا کہ میں نے تو تمام ظلم کرنے والوں کو معاف کر دیا۔ پس اخلاق کے اعلیٰ معیار ہیں جو ہر حالت میں ایک حقیقی مسلمان کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے کو ہمیشہ سامنے رکھنے چاہئیں اور دکھانے چاہئیں۔ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہماری کس طرح رہنمائی فرمائی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں فرماتے ہوئے یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ اعلیٰ اخلاق ایسے تھے جنہوں نے لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیا اور ایک اعجاز دکھایا۔ پھر آپ ہمیں فرماتے ہیں کہ اگر تم اس سنت پر چلتے ہوئے اپنے اخلاق اچھے کر لو اور ہر خُلق کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرو تو تم بھی اعجاز دکھانے والے بن سکتے ہو۔

آپ فرماتے ہیں ’’خوارق پر تو کسی نہ کسی رنگ میں لوگ عذرات پیش کر دیتے ہیں اور اس کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ لیکن اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا۔ جیسے فرمایا اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔‘‘ فرمایا کہ ’’یوں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اوّل ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی‘‘۔ فرمایا کہ ’’مَیں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیّئہ کو چھوڑ کر( برے اخلاق کو چھوڑ کر) عادات ذمیمہ کو ترک کر کے خصائل حسنہ کو لیتا ہے۔‘‘ (اچھی خصلتیں اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔)’’ اس کے لئے وہی کرامت ہے‘‘۔( تو یہ بہت بڑی کرامت ہے۔ اگر اس طرح کر لو کہ برے اخلاق کو چھوڑ دو اور نیکیاں اپنے اندر پیدا کر لو۔)’’ مثلاً اگر بہت ہی سخت تُند مزاج اور غصہ وَر ان عاداتِ بد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کواختیار کرتا ہے یا اِمساک کو چھوڑ کر سخاوت اور حسد کی بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے تو بیشک یہ کرامت ہے‘‘۔( سخت مزاج آدمی ہے۔ غصہ ور آدمی ہے۔ یہ بری عادتیں ہیں انکو چھوڑ کر نرمی اور معاف کرنے کی صفت اختیار کرتا ہے یا کنجوسی کو چھوڑ کر سخاوت کرتا ہے، اپنے ہاتھ کو روکے رکھنے کی بجائے اور حسد کے بجائے ہمدردی کرتا ہے تو اگر ایسی تبدیلی پیدا کر لو تو یہ ایک کرامت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نتیجے بھی دکھاتی ہے۔’’ اور ایسا ہی خودستائی اور خود پسندی کو چھوڑ کر جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے‘‘۔( اپنے آپ کی تعریف کرنا یا اپنے آپ کو اظہار کرنا یا تعریف کروانا ان باتوں کو چھوڑ کر عاجزی اختیار کرو تو یہ کرامت بن جائے گی۔)

فرمایا کہ ’’پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کراماتی بن جاوے۔ مَیں جانتا ہوں ہر ایک یہی چاہتا ہے۔ تو بس یہ ایک مدامی اور زندہ کرامت ہے۔ انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیونکہ یہ( ایک) ایسی کرامت ہے جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہوتا بلکہ نفع دُور تک پہنچتا ہے۔ مومن کو چاہئے کہ خَلْق اور خَالِق کے نزدیک اہلِ کرامت ہو جاوے۔ بہت سے رِند اور عیّاش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوئے لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا ہے اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی۔ بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامات ہی کو دیکھ کر دین حق کو قبول کر لیا۔‘‘(ملفوظات جلد 1صفحہ 141-142۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) بظاہر عموماً دنیادار بھی اخلاق دکھا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جس بات کو اخلاق کا نام دیا جاتا ہے وہ حقیقت میں عموماً ایک دکھاوا ہوتا ہے اور صرف اپنے آپ کو اچھا ثابت کرنے کے لئے یہ کر رہے ہوتے ہیں جہاں اپنے ذاتی مفادات بھی نہ ہوں وہاں اپنے آپ کو اچھا ثابت کرتے ہیں۔ دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ یا پھر بعض دفعہ کسی بڑے افسر کے سامنے یا بڑے امیر آدمی کے سامنے اس طرح اظہار کرتے ہیں کہ بڑے اچھے اخلاق ہیں حالانکہ وہ مداہنت ہے۔ ایسی چیز ہے جو کمزوری ہے اور خوف کے مارے یا بزدلی کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کیونکہ یہ اسلام کے سچے اخلاق نہیں ہیں۔ بلکہ اعلیٰ خُلق یہ ہے کہ دل سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہو۔ اگر ہمدردی ہے تو دل سے ہو۔ اگر دوسری باتوں کا اظہار ہے تو دل سے ہو۔

چنانچہ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ’’ اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو آجکل کے نو تعلیم یافتہ پیش کرتے ہیں کہ ملاقات وغیرہ میں زبان سے چاپلوسی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔ یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں۔

دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے۔ دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوسی اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے۔ جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِی الْقُرْبٰی(النحل91:)۔ تو یہ کامل طریق ہے‘‘۔( عدل کرو۔ انصاف سے کام کرو۔ جو حقیقت ہے اس کو بیان کرو۔ پھر ایسی صورتیں پیدا ہوتی ہیں جہاں احسان کرنے کی ضرورت ہے وہاں احسان کرو۔ پھر اس سے آگے بڑھو تو دوسروں سے اس طرح سلوک کرو ایسے اخلاق دکھاؤ جس طرح ایک ماں اپنے بچے سے کرتی ہے یا کوئی بہت قریبی رشتہ دار قریبی رشتے سے کرتا ہے۔) تو فرمایا کہ ’’یہ کامل طریق ہے اور ہر ایک کامل طریق اور ہدایت خدا کے کلام میں موجود ہے جو اس سے روگردانی کرتے ہیں وہ اور جگہ ہدایت نہیں پا سکتے۔ اچھی تعلیم اپنی اثر اندازی کے لئے دل کی پاکیزگی چاہتی ہے۔ جو لوگ اس سے دُور ہیں اگر عمیق نظر سے ان کو دیکھو گے تو ان میں ضرور گند نظر آئے گا۔ ‘‘(ملفوظات جلد 6صفحہ 200۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس اس کے لئے دل کی پاکیزگی کی ضرورت ہے۔ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکموں پر چلانے کی ضرورت ہے۔

فرمایا کہ ’’زندگی کا اعتبار نہیں ہے۔ نماز،(اور) صدق و صفا میں ترقی کرو۔‘‘(ملفوظات جلد 6صفحہ 200۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اپنی عبادتوں میں ترقی کرو۔ اپنے سچائی کے معیار کو بڑھاؤ۔ اپنی ہر بات میں سچائی پیدا کرو۔

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ نیکیاں کیا ہیں؟ بعض سمجھتے ہیں کہ صرف ظاہری نمازیں اور عبادت ہی نیکی ہے یا معمولی اخلاق دکھا دئیے تو بڑی نیکی ہو گی اور دوسرے بہت سارے بنیادی اخلاق کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس پر بڑے خوبصورت انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

’’اخلاق دوسری نیکیوں کی کلید ہے۔‘‘( ایک چابی ہے اس کی۔)’’ جو لوگ اخلاق کی اصلاح نہیں کرتے وہ رفتہ رفتہ بے خیر ہو جاتے ہیں‘‘۔( ان سے پھر کوئی خیر نہیں ہوتی فائدہ نہیں پہنچتا۔) فرمایا کہ’’ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دنیا میںہر ایک چیز کام آتی ہے۔ زہر اور نجاست بھی کام آتی ہے۔ اسٹرکنیا بھی کام آتا ہے۔ اعصاب پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔ مگر انسان جو اخلاقِ فاضلہ کو حاصل کر کے نفع رساں ہستی نہیں بنتا‘‘۔( یہ زہر بھی کام آ سکتے ہیں۔ گند بھی کام آ سکتا ہے لیکن اخلاق فاضلہ کو حاصل کرتا ہے۔ اگر انسان ایسا نہیں کرتا اور لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتا) تو فرمایا کہ’’ ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بھی کام نہیں آ سکتا۔‘‘(پس انسان تبھی کام آ سکتا ہے جب اس میں اعلیٰ اخلاق ہوں۔)

فرماتے ہیں کہ’’ مردار حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی تو کھال اور ہڈیاں بھی کام آ جاتی ہیں۔اس کی تو کھال بھی کام نہیں آتی اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان بَلْ ھُمْ اَضَلُّ(الاعراف180:) کا مصداق ہو جاتا ہے۔‘‘( انتہائی گری ہوئی چیز بن جاتا ہے۔)’’ پس یاد رکھو کہ اخلاق کی درستی بہت ضروری چیز ہے کیونکہ نیکیوں کی ماں اخلاق ہی ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 2صفحہ 76۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اگر اخلاق پیدا ہوں گے تو دوسری نیکیاں کرنے کی بھی توفیق ملے گی۔ روزمرہ معاملات میں یہ اخلاق کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ بعض آدمیوں کی عادت ہوتی ہے کہ سائل کو دیکھ کے چِڑ جاتے ہیں۔‘‘( کوئی سوالی آئے تو اس کو دیکھ کے چِڑ جاتے ہیں۔ کوئی ضرورت مند آئے تو اس کو دیکھ کر چڑ جاتے ہیں۔)’’ اور کچھ مولویت کی رگ ہو تو اس کو بجائے کچھ دینے کے سوال کے مسائل سمجھانا شروع کر دیتے ہیں‘‘۔( مسائل بیان کرنے شروع کر دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اس کو دیں۔ مانگنے والا آیا ہے تو وہ اس سے علمی باتیں شروع کر دیں گے یا سوال کرنے کی برائیاں اور اچھائیاں بیان کرنی شروع کر دیں گے۔) فرمایا ’’اور اس پر اپنی مولویت کا رعب بٹھا کر بعض اوقات سخت سست بھی کہہ بیٹھتے ہیں۔ افسوس ان لوگوں کو عقل نہیں اور سوچنے کا مادہ نہیں رکھتے جو ایک نیک دل اور سلیم الفطرت انسان کو ملتا ہے۔ اتنا نہیں سوچتے کہ سائل اگر باوجود صحت کے سوال کرتا ہے تو وہ خود گناہ کرتا ہے‘‘۔( اگر کوئی سوالی ایسا ہے جو صحت کے باوجود سوال کرنے آیا ہے تو اس کا گناہ اس کے سر ہے۔ تمہارے پاس کچھ ہے، مانگ رہا ہے تو اس کو دے دو۔) ’’اس کو کچھ دینے میں تو گناہ لازم نہیں آتا۔ بلکہ حدیث شریف میں لَوْ اَتَاکَ رَاکِبًاکے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی خواہ سائل سوار ہو کر بھی آوے تو بھی کچھ دے دینا چاہئے اور قرآن شریف میں وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْھَرْ(الضحیٰ11:) کا ارشادآیا ہے کہ سائل کو مت جھڑک۔‘‘ فرمایا کہ’’ اس میں یہ کوئی صراحت نہیں کی گئی کہ فلاں قسم کے سائل کو مت جھڑک اور فلاں قسم کے سائل کو جھڑک۔ پس یاد رکھو کہ سائل کو نہ جھڑکو‘‘۔ ( سوالی، سوال کرنے والے کو نہ جھڑکو)’’کیونکہ اس سے ایک قسم کی بداخلاقی کا بیج بویا جاتا ہے۔ اخلاق یہی چاہتا ہے کہ سائل پر جلد ہی ناراض نہ ہو۔ یہ شیطان کی خواہش ہے کہ وہ اس طریق سے تم کو نیکی سے محروم رکھے اور بدی کا وارث بنادے‘‘۔

پھر آپ فرماتے ہیں’’ غور کرو کہ ایک نیکی کرنے سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح پر ایک بدی دوسری بدی کا موجب ہو جاتی ہے۔ جیسے ایک چیز دوسری چیز کو جذب کرتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے یہ تجاذب کا مسئلہ‘‘۔( یہ جذب کرنے کا مسئلہ)’’ ہر فعل میں رکھا ہوا ہے۔ پس جب سائل سے نرمی کے ساتھ پیش آئے گا اور اس طرح پر اخلاقی صدقہ دے دے گا۔‘‘( سائل سے نرمی کے ساتھ جب تُو پیش آئے گااور اس طرح پر اخلاقی صدقہ دے دے گا)’’ تو قبض دُور ہو کر دوسری نیکی بھی کر لے گا۔‘‘( یعنی جو دل میں ایک روک پیدا ہوجاتی ہے وہ دُور ہو جائے گی اور پھر دوسری نیکیوں کی بھی توفیق ملے گی)’’ اور اس کو کچھ دے بھی دے گا۔‘‘(ملفوظات جلد 2صفحہ 75۔76۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ہمارے معاشرے میں عموماً والدین کے بارے میں یہ سوال ہوتا ہے۔ والدین اگر احمدی نہیں یا مخالفت کر رہے ہیں تو ان کا احترام کس طرح آپ نے قائم فرمایا۔ آپ نے شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی کو ان کے والد کے بارے میں دریافت فرماتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ ’’ان کے حق میں دعا کیا کرو۔ ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔‘‘( کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھے اس لئے ان کو اپنا نمونہ دکھاؤ تا کہ وہ اسلام کی سچائی کے قائل ہو جائیں۔)’’ اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے۔ سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیّز شخص ہوتا ہے۔ شاید خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔ اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔ دنیوی امور میں جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ دل و جان سے ان کی خدمت بجا لاؤ‘‘۔

(ملفوظات جلد 4 صفحہ 175۔حاشیہ نمبر 1۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اخلاق ہی ہیں جو انسان اور جانوروں میں فرق کرتے ہیں۔ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ

’’ اوّل چارپایہ کیفیت اور کمیت میں فرق نہیں کر سکتا اور جو کچھ آگے آتا ہے اور جس قدر آتا ہے کھاتا ہے۔ جیسے کتّا اس قدر کھاتا ہے کہ آخر قَے کرتا ہے‘‘۔( کیا کیفیت ہونی چاہئے۔ کس حالت میں ہونی چاہئے۔ کس طرح ہونی چاہئے اور اس میں کوئی فرق نہیںکرتے۔ کتّے کی مثال دی کہ اس کو یہ نہیں پتا کتنا کھانا ہے۔ وہ کھاتا ہے تو کھاتا چلا جاتا ہے اور آخر قَے کر دیتا ہے۔ یہاں ہم نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کا یہی حال ہے۔ لالچ ختم ہی نہیں ہوتی اور جائز اور ناجائز طریقے سے چاہے وہ کھانا ہو یا لوگوں کا مال ہو کھانے کی کوشش کرتے ہیں۔)

فرمایا کہ’’ دوسرا یہ کہ اَنعام حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتے‘‘۔( ایک تو یہ ہے کہ ان کو یہ فرق نہیں پتا کہ کیسی حالت رہنی چاہئے۔ کس طرح رہنی چاہئے۔ روحانیت کیا کہتی ہے اور کس حد تک تمہیں اپنے جائز ذرائع سے کھانے اور کمانے کی اجازت دیتی ہے۔ صرف یہی نہیں ہے کہ جیبیں بھرتے چلے جاؤ اور اپنے خزانے بھرتے چلے جاؤ بلکہ اس کا اندازہ ہونا چاہئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جانور حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ فرمایا کہ’’ ایک بیل( مثلاً بیل کی مثال ہے) کبھی یہ تمیز نہیں کرتا کہ یہ ہمسایہ کا کھیت ہے اس میں نہ جاؤں‘‘۔( کھلا بیل ہے، جانور ہے گھاس چر رہا ہے تو اپنے کھیت سے اگر باڑ نہیں لگی ہوئی تو دوسرے کھیت میں بھی چلا جائے گا۔ اس کو تمیز ہی نہیں ہے۔) تو فرمایا کہ’’ایسا ہی ہر ایک امر جو کھانے کے لحاظ سے ہو (وہ) نہیں کرتا…‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہ لوگ جو اخلاقی اصولوں کو توڑتے ہیں اور پرواہ نہیں کرتے کہ گویا انسان نہیں۔ پاک پلید کا تو یہ حال (ہے کہ) عرب میں مردےکتّے کھا لیتے تھے…‘‘۔( پھر آگے آپ نے مثال دی کہ اس زمانے میں بھی لوگ کھا لیتے ہیں۔ پھر فرماتے ہیں کہ) ’’یتیموں کا مال کھانے میں کوئی تردّد و تامّل نہیں۔ جیسے یتیم کا گھاس گائے کے سامنے رکھ دیا جاوے، بلا تردّد کھا لے گی‘‘( یعنی کہ گائے جو ہے اس کے سامنے گھاس رکھ دو، چاہے وہ جائز طریقے سے آیا ہے یا ناجائز طریقے سے، تو گائے نے تو کھا لینا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ یتیموں کا مال جائز اور ناجائز طریقے سے کھا لیتےہیں۔) فرمایا’’ ایسا ہی ان لوگوں کا حال ہے۔ یہی معنی ہیں وَالنَّارُ مَثْوًی لَّھُمْ (محمد13:)۔ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا‘‘۔ (جب ناجائز طریقے سے کھاتے ہیں تو پھر ایسے انسانوں کا ٹھکانہ دوزخ بن جاتا ہے۔) فرمایا کہ ’’غرض یاد رکھو کہ دو پہلو ہیں۔ ایک عظمتِ الٰہی کا۔ جو اس کے خلاف ہے وہ بھی اخلاق کے خلاف ہے۔ اور دوسرا شفقت علی خلق اللہ کا۔ پس جو نوع انسان کے خلاف ہو وہ بھی اخلاق کے برخلاف ہے‘‘۔(اللہ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ اس کی عظمت نہیں مانتے۔ اس کی عبادت نہیں کرتے۔ اس کی باتوں کو توجہ سے نہیں سنتے۔ اس کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو یہ بھی اخلاق نہیں۔ اور اگر لوگوں کے حق ادا نہیں کرتے۔ ناجائز طریقے سے ان کے مال کھاتے ہو۔ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہو یا اور طریقے سے بداخلاقی دکھاتے ہو تو یہ بھی اخلاق کے خلاف ہے۔) آپ فرماتے ہیں’’ آہ بہت تھوڑے لوگ ہیں جو ان باتوں پر جو انسان کی زندگی کا اصل مقصد اور غرض ہیں غور کرتے ہیں‘‘۔(ملفوظات جلد 2صفحہ 78۔79۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر ایک برائی تکبر کی ہے جو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنا دیتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں’’ صوفی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر اخلاقِ رذیلہ کے بہت سے جنّ ہیں‘‘۔( گھٹیا اخلاق کے بہت سے جنّ ہیں جو انسان کے اندر ہوتے ہیں۔)’’ اور جب یہ نکلنے لگتے ہیں تو نکلتے رہتے ہیں۔ مگر سب سے آخری جنّ تکبر کا ہوتا ہے جو اس میں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور انسان کے سچے مجاہدہ اور دعاؤں سے نکلتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ’’ بہت سے آدمی اپنے آپ کو خاکسار سمجھتے ہیں‘‘( بڑی عاجزی دکھاتےہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت عاجز ہیں)’’ لیکن ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کا تکبر ہوتا ہے۔ اس لئے تکبر کی باریک در باریک قِسموں سے بچنا چاہئے۔ بعض وقت یہ تکبر دولت سے پیدا ہوتا ہے۔ دولتمند متکبّر دوسروں کو کنگال سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کون ہے جو میرا مقابلہ کرے۔ بعض اوقات خاندان اور ذات کا تکبّر ہوتا ہے۔ سمجھتا ہے کہ میری ذات بڑی ہے اور یہ چھوٹی ذات کا ہے… بعض وقت تکبر علم سے بھی پیدا ہو تا ہے۔ ایک شخص غلط بولتا ہے تو یہ جھٹ اس کا عیب پکڑتا ہے اور شور مچاتا ہے کہ اس کو تو ایک لفظ بھی صحیح بولنا نہیں آتا۔ غرض مختلف قِسمیں تکبّر کی ہوتی ہیں اور یہ سب کی سب انسان کو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہیں اور لوگوں کو نفع پہنچانے سے روک دیتی ہیں۔ ان سب سے بچنا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 402۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ فرماتے ہیں’’ کسی کو اخلاق کی کوئی قوت نہیں دی گئی مگر اس کو بہت سی نیکیوں کی توفیق ملی۔ ترکِ اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے‘‘۔( فرمایا کہ نیکیوں کی انسان کو توفیق ملتی ہے اور فرمایا کہ ترک اخلاق ہی بدی اور گناہ ہے۔ جب اخلاق کو ترک کر دو گے تو یہ بدی اور گناہ بن جاتا ہے۔ اور پھر اس سے نیکیوں کی یہ توفیق بھی ختم ہو جاتی ہے۔) فرمایا’’ ایک شخص جو مثلاً زنا کرتا ہے اس کو خبر نہیں کہ اس عورت کے خاوند کو کس قدر صدمہ عظیم پہنچتا ہے۔‘‘( کسی عورت کے ساتھ اگر زنا کیا ہے، شادی شدہ تھی) ’’اب اگر یہ اُس تکلیف اور صدمے کو محسوس کر سکتا اور اس کو اخلاقی حصہ حاصل ہوتا تو ایسے فعلِ شنیع کا مرتکب نہ ہوتا۔ اگر ایسے نابکار انسان کو یہ معلوم ہو جاتا کہ اس فعل بد کے ارتکاب سے نوع انسان کے لئے کیسے کیسے خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں تو ہٹ جاتا‘‘۔ فرمایا کہ’’ ایک شخص جو چوری کرتا ہے کمبخت ظالم اتنا بھی تو نہیں کرتا کہ رات کے کھانے کے واسطے( کسی غریب آدمی کے گھر میں چوری کر لیتا ہے اس کے لئے کچھ)’’ ہی چھوڑجائے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک غریب کی کئی سالوں کی محنت کو ملیا میٹ کر دیتا ہے‘‘۔ پھر آپ فرماتے ہیں ’’اب اگر ان حالتوں کو محسوس کرتا اور اخلاقی حالت سے اندھا نہ ہوتا تو کیوں چوری کرتا۔ آئے دن اخبارات میں دردناک موتوں کی خبریں پڑھنے میں آتی ہیں کہ فلاں بچہ زیور کے لالچ سے مارا گیا۔ فلاں جگہ کسی عورت کو قتل کر ڈالا۔… اب سوچ کر دیکھو کہ اگر اخلاقی حالت درست ہو تو ایسی مصیبتیں کیوں آئیں؟ ممکن ہے کہ اپنے جیسے انسان پر مصیبت آئے اور یہ محسوس نہ کرے‘‘۔(ملفوظات جلد 2صفحہ 77۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اگر یہ اخلاق ہی نہ ہوں، احساس ہی نہ ہو، اللہ تعالیٰ کا خوف ہی نہ ہو تو تبھی یہ حالت پیدا ہوتی ہے۔ نہیں تو اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہو یا انسانیت انسان میں ہو تو کبھی اس قسم کی حرکتیں نہ کریں۔

اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔ اس کا اثر ہمسایہ پر بہت اعلیٰ درجہ کا پڑتا ہے۔ ہماری جماعت پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ترقی ہو گئی ہے‘‘۔( لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتا کہ جماعت میں کیا ترقی ہو گئی ہے)’’ اور تہمت لگاتے ہیں کہ افتراء غیظ و غضب میں مبتلا ہیں‘‘۔( یہ الزام بھی ہم پر لگاتے ہیں کہ غیظ و غضب میں بھی مبتلا ہیں اور افترا بھی کرتے ہیں۔)’’ کیا یہ ان کے لئے باعث ندامت نہیں ہے کہ انسان عمدہ سمجھ کر اس سلسلہ میں آیا تھا‘‘۔( ایسے لوگ جو اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں تو پھر ان کو شرمندہ ہونا چاہئے۔) فرمایا کہ’’ جیساکہ ایک رشید فرزند اپنے باپ کی نیک نامی ظاہر کرتا ہے کیونکہ بیعت کرنے والا فرزند کے حکم میں ہوتا ہے…‘‘۔( اس لئے تم لوگ بھی جو بیعت میں آئے ہو تو لوگ جو الزام لگاتے ہیں کہ یہ ہوا یہ ہوا۔وہ الزامات تمہارے پہ سچ ثابت نہیں ہونے چاہئیں۔) فرمایا ’’روحانی باپ آسمان پر لے جاتا ‘‘( جس طرح جسمانی باپ زمین پر لانے کا موجب ہوتا ہے اور ظاہری زندگی کا باعث بنتا ہے اسی طرح روحانی باپ آسمان پر لے جاتا ہے)’’ اور اس مرکز اصلی کی طرف رہنمائی کرتا ہے‘‘۔ فرمایا کہ’’ کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بدنام کرے؟ طوائف کے ہاں جاوے؟اور قمار بازی کرتا پھرے۔ شراب پیوے یا اور ایسے افعال قبیحہ کا مرتکب ہو جو باپ کی بدنامی کا موجب ہوں‘‘۔ فرمایا کہ’’ مَیں جانتا ہوں کوئی آدمی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس فعل کو پسند کرے۔ لیکن جب وہ ناخلف بیٹا ایسا کرتا ہے تو پھر زبانِ خَلق بند نہیں ہو سکتی۔ لوگ اس کے باپ کی طرف نسبت کر کے کہیں گے کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا فلاں بد کام کرتا ہے۔ پس وہ ناخلف بیٹا خود ہی باپ کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے۔ اسی طرح پر جب کوئی شخص ایک سلسلہ میں شامل ہوتا ہے اور اس سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال نہیں رکھتا اور اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوتا ہے۔‘‘ (اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ جائے گا)’’ کیونکہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا بلکہ دوسروں کے لئے ایک برا نمونہ ہو کر ان کو سعادت اور ہدایت کی راہ سے محروم رکھتا ہے‘‘۔( بدنمونہ جو لوگ دیکھیں گے تو ان کو پھر اس جماعت سے دُوری پیدا ہو جائے گی۔ وہ قریب نہیں آئیں گے۔ اور پھر اس سعادت سے، جماعت میں شامل ہونےکی جو برکات ہیں اس سے محروم رہ جائیں گے۔) ’’ پس جہاں تک آپ لوگوں کی طاقت ہے خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دُور کرنے کی کوشش کرو۔ جہاں عاجز آ جاؤ وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں خالی واپس نہیں ہوتے۔ ہم تجربہ سے کہتے ہیں کہ ہماری ہزارہا دعائیں قبول ہوئی ہیںا ور ہو رہی ہیں‘‘۔فرمایا کہ ’’یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں پاتا وہ بخیل ہے‘‘۔ (اگر دوسرے انسان کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں تو پھر وہ بخیل اور کنجوس ہے۔)’’ اگر میں ایک راہ دیکھوں جس میں بھلائی اور خیر ہے تو میرا فرض ہے کہ مَیں پکار پکار کر لوگوں کو بتلاؤں۔ اس امر کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں‘‘۔(ملفوظات جلد 1صفحہ 146-147۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان )

پھر آپ فرماتے ہیں کہ’’ جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا، دعا سے کام نہ لے گا، وہ غمرہ جو دل میں پڑجاتا ہے دُور نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ(الرعد12:)۔یعنی خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پرآتی ہے دُور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دُور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ہمت نہ کرے۔ شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک لا تبدیل سنّت ہے جیسے فرمایا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِیْلًا (الاحزاب63:)۔ پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔‘‘(ملفوظات جلد 1صفحہ 137۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اللہ تعالیٰ ہمیں اُسوہ رسول پر چلتے ہوئے اپنے اخلاق کو ہر لحاظ سے اور ہر موقع پہ اور ہر جگہ اور ہر صورت میں بہتر سے بہتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے اخلاق کے معیار اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہوں، نہ کہ دنیا دکھاوے کے لئے۔ مخلوق کی سچی ہمدردی ہمارے دلوں میں پیدا ہو۔ تقویٰ کے معیار بلند کرنے والے ہم ہوں۔ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے تو ہماری سوچ ہر وقت یہ رہے کہ ہمارا کوئی عمل اسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ السلام کی بدنامی کا باعث نہ بنے بلکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو ہم پھیلانے والے ہوں اور دنیا کو اس سے متاثر کرنے والے ہوں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنے اخلاق کے معیاروں کو بڑھانے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھک کر دعا سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اس کے حصول کے لئے مدد طلب کرنے والے ہوں۔

نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو مکرم شیخ عبدالمجید صاحب ابن شیخ عبدالحمید صاحب حلقہ ڈیفنس سوسائٹی کراچی کا ہے۔ 15؍فروری کو 88سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے خاندان میں احمدیت ان کے دادا حضرت شیخ نور احمد صاحب جالندھر کے ذریعہ سے آئی تھی جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں 313 صحابہ کی فہرست میں 242 نمبر پر شیخ نور احمد صاحب جالندھر حال ممباسہ کے نام سے کیا ہے۔(انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 328)یہ1929ء میں جالندھر میں پیدا ہوئے۔ تعلیم الاسلام کالج قادیان سے ایف ایس سی(FSC) کرنے کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیمیکل انجنیئرنگ میں ایم ایس سی(MSC) کی اور کالج میں ٹاپ بھی کیا۔ پھر 1951ء سے 1953ء تک یہاں یوکے کی سرے (Surrey) یونیورسٹی میں میٹالوجیکل انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اور اس کے بعد پھر آپ کو کراچی میں جماعتی خدمات انجام دینے کی توفیق ملی۔ سیکرٹری جائیداد، صدر امداد کمیٹی، حلقے کے صدر تھے۔ نائب امیر کراچی کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ مجلس تحریک جدید مرکزیہ کے ممبر تھے۔ آپ کی اولاد میں ایک بیٹی ہیں سلمیٰ طارق جو طارق سجاد صاحب کی اہلیہ ہیں اور دو نواسے اور ایک نواسی ہیں ۔

ان کے نواسے لکھتے ہیں کہ قادیان میں بزرگوں کی صحبت میں رہ کے بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ سے ایک خاص تعلق تھا۔ اور کہتے ہیں میٹرک کے امتحان میں انگریزی کا پرچہ اچھا نہیں ہوا تو یہ مسجد کی طرف آ رہے تھے تو راستے میں حضرت مولانا شیر علی صاحب ملے۔ وہ مسجد سے نکل رہے تھے۔ مولانا صاحب نے امتحان کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ پرچہ اچھا نہیں ہوا۔ مولانا شیر علی صاحب نے ہاتھ اٹھا کر وہیں دعا کی اور ان کو کہا کہ آپ پاس ہو جائیں گے۔ خوشخبری دی۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد دعا ایسی قبول ہوئی کہ ہر امتحان میں مَیں پاس ہی ہوتا چلا گیا۔ تنگی اور خوشی کے مختلف حالات ان پر آئے۔ یہاں سے جانے کے بعد مختلف نوکریاں بھی انہوں نے کیں اور جماعتی مخالفت کی وجہ سے بھی یا افسران کے آپس کےکچھ غلط رویّوں کی وجہ سے ان کو نوکریوں سے نکالا جاتا رہا۔ آخر انہوں نے کاروبار شروع کیا اور کاروبار میں یہ عہد کیا کہ اپنے خرچ کے لئے کچھ تھوڑا سا رکھوں گا۔ باقی جو کچھ ہو گا وہ جماعت کو پیش کر دیا کروںگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے تازندگی اس عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے کیا تھا نبھایا۔ انہوں نے بزنس کیا ہے۔ کارخانے لگائے۔ اس کا جو بھی منافع آتا اس سے بے انتہا انہوں نے جماعت پر خرچ کیا اور جماعت کو ہمیشہ چندہ دیتے رہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے جب ایم ٹی اے کا اجراء فرمایا تو اس وقت بھی انہوں نے فوری طور پر ایک کروڑ روپیہ وہاں ادا کر دیا۔ اسی طرح رشیا میں ایک دفعہ مسجد بنانے کا خیال پیدا ہوا تھا تو اس وقت تحریک سے پہلے احمدیوں کا ایک رشین وفدیہاں آ کے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہاں باتیں ہو رہی تھیں تو اسی دوران میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو پرائیویٹ سیکرٹری نے بتایا کہ شیخ صاحب نے بغیر کسی تحریک کے یہ خطیر رقم وہاں مسجد کے لئے دی ہے۔ اور پرائیویٹ سیکرٹری نے ان کو بتایا کہ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے بڑا خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ اسی طرح وہاں کے مربی صاحب لکھتے ہیں کہ 2010ء میں جب دارالذکر میں اور ماڈل ٹاؤن میں 28؍مئی کا واقعہ ہوا ہے تووہ کہتے ہیں کہ اسی دن شام کو میں دفتر گیاتو دیکھا کہ وہاں کے سیکرٹری مال ایک رسید کاٹ رہے تھے اور میں دیکھ رہا تھا کہ صفر پہ صفر ڈال رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ غلطی سے تو نہیں کر رہے۔ تو انہوں نے کہا نہیں بلکہ ابھی شیخ صاحب سیّدنا بلال فنڈ کے لئے ایک کروڑ روپے کی رقم دے کر گئے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کی اشاعت کے لئے انہوں نے بڑی خطیر رقمیں دیں۔جماعت کراچی کے بیشمار پراجیکٹ تھے ان کے لئے چندے دئیے اور انہوں نے ہمیشہ بڑی سادگی سے زندگی گزاری۔ ان کے ظاہری رکھ رکھاؤ سے لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ شخص دو فیکٹریوں کا مالک اور بڑا امیر آدمی ہے کیونکہ جو کمائی ہوتی تھی اپنے اخراجات کے لئے اور گھر کے اخراجات کے لئے رکھ کے باقی جماعت کو دے دیا کرتے تھے اور آخر میں بھی یہی وصیت کر کے گئے کہ یہ جو میری جائیداد ہے یہ جماعت کی ہو گی۔

اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے۔ درجات بلند فرمائے۔ اور ان کے نواسوں نواسی کو اور بچوں کو، بیٹی کو بھی صبر و حوصلہ بھی عطا فرمائے اور ان کے نیک نمونوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نمازوں کے بعد ان کا نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button