خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 23؍ فروری 2018ء بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے

آجکل ان دنوں میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں پیشگوئی مصلح موعود کی مناسبت سے یوم مصلح موعود کے جلسے منعقد کئے جارہے ہیں۔ 20؍فروری کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر ایک بیٹے کی پیدائش کی خبر دی تھی جس کی مختلف خصوصیات بیان کی گئی تھیں۔ اس بارے میں اشتہار شائع فرمایا تھا۔ یہ اشتہار 20؍فروری 1886ء کو شائع ہوا۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا اس مناسبت سے جہاں ممکن ہے وہاں 20؍فروری کو یوم مصلح موعود منایا جاتا ہے اور جہاں اس تاریخ کو سہولت میسر نہ ہو وہاں تاریخیں آگے پیچھے کر لی جاتی ہیں۔ یوم مصلح موعود کا منایا جانا اور اس کے حوالے سے جلسے منعقد کرنا اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک عظیم پیشگوئی کے پورا ہونے کی وجہ سے ہے نہ کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کی پیدائش کی وجہ سے۔

پیشگوئی مصلح موعود کا تذکرہ اور اس پیشگوئی کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام، حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ اور بعض دیگر بزرگان کی روایات کہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد ہی اس کے مصداق ہیں۔

خود حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اعلان فرمایا۔

اس پیشگوئی میں مصلح موعود کی جن علامات کا ذکر ہے وہ آپ کے وجود میں بڑی شان سے پوری ہوئیں۔ اس پہلو سے اپنوں اور غیروں کے بعض اعترافات کا بیان

ان جلسوں میں جو آجکل ہو رہے ہیں پیشگوئی کا ذکر اور آپ کے کارہائے نمایاں کی باتیں سن کر جہاں ہمیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے

درجات کے بڑھتے چلے جانے کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں وہاں اپنی حالتوں کے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ احمدیت کی ترقی کے لئے

ایک عزم کے ساتھ ہر فرد جماعت کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو نکھارنا اور استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم یہ کریں گے

تو ہم احمدیت کی ترقی کو اپنی زندگیوں میں پہلے سے بڑھ کر پورا ہوتے دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ ۔


آجکل ان دنوں میں جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں پیشگوئی مصلح موعود کی مناسبت سے یوم مصلح موعود کے جلسے منعقد کئے جا رہے ہیں۔ 20؍فروری کی تاریخ وہ تاریخ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر ایک بیٹے کی پیدائش کی خبر دی تھی جس کی مختلف خصوصیات بیان کی گئی تھیں۔ اس بارے میں اشتہار شائع فرمایا تھا۔ یہ اشتہار 20؍فروری 1886ء کو شائع ہوا۔ اور جیسا کہ مَیں نے کہا اس مناسبت سے جہاں ممکن ہے وہاں 20؍فروری کو یوم مصلح موعود منایا جاتا ہے اور جہاں اس تاریخ کو سہولت میسر نہ ہو وہاں تاریخیں آگے پیچھے کر لی جاتی ہیں۔

یوم مصلح موعود کا منایا جانا اور اس کے حوالے سے جلسے منعقد کرنا اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک عظیم پیشگوئی کے پورا ہونے کی وجہ سے ہے نہ کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کی پیدائش کی وجہ سے۔ یہ وضاحت مَیں نے اس لئے کی ہے کہ بعض لوگ اور یہاں کی نئی نسل، نوجوان یا کم علم یہ سوال کرتے ہیں کہ یوم مصلح موعود جب مناتے ہیں تو پھر باقی خلفاء کے یومِ پیدائش کیوں نہیں مناتے۔ ایک تو یہ بات واضح ہو کہ یہ دن حضرت مصلح موعود کی پیدائش کا دن نہیں ہے۔ آپ کی پیدائش تو 1889ء میں 12؍جنوری کو ہوئی تھی۔

پس اس وضاحت کے بعد آج مَیں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے بات کروں گا۔ سب سے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں اس پیشگوئی کے الفاظ پیش کروں گا اور پھر یہ بھی کہ آپ کی تحریروں سے یہ بات بھی ثابت ہے اور آپ کا یہ خیال تھا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت خلیفۃالمسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی تھے۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا بھی یہی خیال تھا۔ بعض دوسرے بزرگان کا بھی یہ خیال تھا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہی ہیں۔ اسی طرح جیسا کہ مَیں نے کہا اس کی مختلف خصوصیات تھیں، علامتیں تھیں اور یہ علامتیں جس طرح پوری ہوئیں اور اپنوں اور غیروں نے جس طرح ذکر کیا اور انہوں نے محسوس کیا اس کی بعض مثالیں مَیں پیش کروں گا۔

سب سے پہلے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ میں اس پیشگوئی کے الفاظ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں

’’پیشگوئی جو خود اس احقر سے متعلق ہے آج 20؍ فروری 1886ء میں جو مطابق پندرہ جمادی الاول ہے برعایت ایجاز و اختصار کلمات الہامیہ نمونہ کے طور پر لکھی جاتی ہے اور مفصّل رسالہ میں درج ہوگی۔‘‘ ( یعنی بعد میں۔)’’انشا ءاللہ تعالیٰ‘‘۔ فرمایا کہ ’’پہلی پیشگوئی بالہام اللہ تعالیٰ و اِعلامہٖ عزّوجلّ خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر یک چیز پر قادر ہے (جلّ شانہٗ و عزّاِسْمُہٗ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایاکہ مَیں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔ سو مَیں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیارپور اور لدھیانہ کا سفر ہے)تیرے لئے مبارک کر دیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام۔ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں۔ اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔ اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔ اور تا لوگ سمجھیں کہ مَیں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔‘‘ (یعنی اللہ تعالیٰ قادر ہے) ’’اور تا وہ یقین لائیں کہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کوانکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔ سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک( لڑکا) تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تُخم سے تیری ہی ذر یّت و نسل ہوگا‘‘۔ (یعنی آپ کی جسمانی اولاد ہو گی۔ اور آپ کی نہ صرف جسمانی اولاد ہو گی بلکہ آپ ہی کی اولاد ہو گی) فرمایا کہ’’ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے۔ اور وہ رِجس سے پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے۔ کیونکہ خدا کی رحمت و غیّوری نے اسے اپنے کلمۂ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ …… دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ۔ فرزند دلبند۔ گرامی ارجمند۔ مَظْہَرُ الْاَوَّلِ وَالْآخِرِ۔ مَظْہَرُ الْحَقِّ وَ الْعَلَا۔ کَاَنَّ اللہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اَسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وَ کَانَ اَمْرًا مَقْضِیًّا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 647)

تو یہ مصلح موعود کی پیشگوئی کے وہ الفاظ تھے۔

پھر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی کے بارے میں اس پیشگوئی کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں کہ ’’ایسا ہی جب میرا پہلا لڑکا فوت ہو گیا تو نادان مولویوں اور ان کے دوستوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں نے اس کے مرنے پر بہت خوشی ظاہر کی اور بار بار ان کو کہا گیا کہ 20؍فروری 1886ء میں یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے۔ پس ضرور تھا کہ کوئی لڑکا خورد سالی میں فوت ہو جاتا۔ تب بھی وہ لوگ اعتراض سے باز نہ آئے۔ تب خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے لڑکے کی مجھے بشارت دی۔ چنانچہ میرے سبز اشتہار کے ساتویں صفحہ میں اس دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کے بارے میں یہ بشارت ہے۔ دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا دوسرا نام محمود ہے۔‘‘ آپ فرماتے ہیں ’’وہ اگرچہ اب تک جو یکم ستمبر 1888ء ہے۔‘‘( اب یہ اعلانآپ ستمبر 1888ء میں فرما رہے ہیں کہ اگرچہ وہ اب تک جو یکم ستمبر 1888ء ہے)’’ پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا۔ زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہ ہے عبارت اشتہار سبز کے صفحہ سات کی جس کے مطابق جنوری 1889ء میں لڑکا پیدا ہوا جس کا نام محمود رکھا گیا اور اب تک بفضلہٖ تعالیٰ زندہ موجود ہے اور سترھویں سال میں ہے‘‘۔ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 373-374)

پہلے جو مَیں نے بتایا تھا وہ پہلے کی ایک تحریر ہے۔ پھر بعد میں آگے ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں آپ نے جو لکھا ہے وہ مَیں نے بیان کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس بارے میں اَور بھی حوالے ہیں۔ لیکن مزید حوالوں کی بجائے اب مَیں حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا آپ کے مقام کے بارے میں کیا خیال تھا، اس بارے میں ایک روایت پیش کرتا ہوں۔

پیر منظور محمد صاحب بیان کرتے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات سے چھ ماہ قبل حضرت پیر منظور محمد صاحب مصنف قاعدہ یسرناالقرآن نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے آج حضرت اقدس علیہ السلام کے اشتہارات پڑھ کر پتا مل گیا کہ پسر موعود میاں صاحب ہی ہیں۔ (یعنی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد۔) اس پر حضرت خلیفہ اوّل نے فرمایا۔ ہمیں تو پہلے ہی سے معلوم ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم میاں صاحب کے ساتھ کس خاص طرز سے ملا کرتے ہیں اور ان کا ادب کرتے ہیں‘‘۔ پیر صاحب موصوف نے یہی الفاظ لکھ کر تصدیق کے لئے پیش کئے تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس پر تحریر فرمایا۔’’ یہ لفظ مَیں نے برادرم پیر منظور محمد سے کہے ہیں‘‘۔ (اور پھر دستخط فرمائے۔) ’’نور الدین 10؍ستمبر 1913ء۔‘‘

آپ فرماتے ہیں کہ 11؍ستمبر 1913ء کی شام کے بعد (اوپر والے واقعہ کے اگلے روز جو بیان کیا گیا ہے) حضرت خلیفۃ المسیح گھر میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے مَیں پاؤں سہلانے لگ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد بغیر کسی گفتگو اور تذکرے کے خود بخود فرمایا۔‘‘ (یعنی حضرت خلیفہ اول نے کہ) ’’ابھی یہ مضمون شائع نہ کرنا۔‘‘ (یعنی یہ بات کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔) ’’جب مخالفت ہو اس وقت شائع کرنا۔‘‘ (پسرموعود صفحہ 27۔ماہنامہ خالد سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نمبر۔ جون، جولائی 2008ء صفحہ 75-76)

ایک بزرگ مکرم غلام حسین صاحب نمبر دار محلہ اراضی یعقوب شہر سیالکوٹ نے حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کو آپ کے مصلح موعود ہونے کے اعلان کے بعد لکھا کہ ’’میرے پیارے پیشوا، ہادی و رہنما حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز …….۔ اخبار الفضل 30؍ جنوری پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ الحمد للہ کہ میری رؤیا کو بھی خدا تعالیٰ نے سچا کر دکھایا ہے۔‘‘ لکھتے ہیں کہ ’’حضور کو معلوم ہو گا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی زندگی میں خاکسار نے دفتر الفضل میں بموجودگی شادی خان صاحب مرحوم سیالکوٹی حضور کو مبارکباد دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو رؤیا میں دکھلایا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کے بعد آپ خلیفہ ہوں گے اور کامیاب ہوں گے اور آپ پر وحی بھی نازل ہو گی۔ یہ رؤیا میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو بھی سنایا تھا اور حضور نے بہت ہی خوش ہو کر تصدیق کی تھی اور فرمایا تھا کہ اسی لئے اس کی سخت مخالفت شروع ہو گئی ہے ۔ سید حامد شاہ صاحب مرحوم کو بھی یہ رؤیا سنایا تھا۔ الحمدللہ کہ حضور نے خود بھی مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے ‘‘۔( کیونکہ حضرت مصلح موعود نے یہ اعلان 1944ء میں کیا تھا۔) کہتے ہیں کہ ’’ورنہ مجھ کو تو حضرت خلیفۃالمسیح اول کی زندگی میں ہی آپ کے خلیفۃاللہ اور مصلح موعود ہونے کا حق الیقین ہو گیا تھا۔‘‘ (الفضل قادیان جلد 32نمبر 44مورخہ 20 فروری 1944ء صفحہ 19)

اسی طرح ایک اور بزرگ مکرم صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی، حضرت مصلح موعود کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں۔(مصلح موعود کا جو اعلان ہوا تھا اس کے بعد یہ انہوں نے لکھا تھا) کہ ’’مَیں اپنا ایک خواب بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ یہ رؤیا میں نے تیس یا چوبیس سال پہلے دیکھا تھا۔ ایک دفعہ پہلے بھی حضور پُر نور کی خدمت میں لکھ چکا ہوں۔ اب حضور اقدس کے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کرنے پر مجھے اس بات پر یقین ہوگیا کہ یہ رؤیا اس پیشگوئی کے متعلق ہے۔ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ عید کا جلسہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک نہایت ہی بلند مقام پر کھڑے ہو کر سبز چوغہ زیب تن کئے خطبہ فرما رہے ہیں۔خطبہ ختم ہونے پر جب میں مصافحہ کے لئے بڑھا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہیں بلکہ حضور انور ہیں۔‘‘ ( یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ہیں۔) ’’یہ خواب مَیں نے اپنے مکرم کپتان ڈاکٹر بدرالدین صاحب اور اپنے بھائی جناب مولوی ظلّ الرحمن صاحب مبلغ بنگال کی خدمت میں بیان کیا۔ مولوی ظلّ الرحمن صاحب نے بتایا کہ تم کو حضرت امیر المؤمنین کے متعلق پیشگوئی کہ ’’حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا‘‘ دکھائی گئی۔‘‘ (الفضل قادیان جلد 32نمبر 199مورخہ 25 اگست 1944ء صفحہ 2)۔ ( پیشگوئی کے الفاظ یہ بھی ہیں کہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔ )

اسی طرح حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی کا بیان ہے کہ ’’ہم نے بارہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے۔ ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار سنا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ لڑکا جس کا پیشگوئی میں ذکر ہے وہ میاں محمود ہی ہیں۔ اور ہم نے آپ سے یہ بھی سنا کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ’’میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ مَیں بعض اوقات ان کے لئے خاص طور پر دعا کرتا ہوں۔‘‘ (الحکم 28دسمبر 1939ء۔ماہنامہ خالد سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نمبر۔ جون، جولائی 2008ء صفحہ 38)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب تک اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا آپ نے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور جب آپ کو واضح طور پر اعلان کرنے کا اِذن دیا گیا تب آپ نے اعلان کیا۔ اُس وقت آپ نے یہ فرمایا کہ ’’اس میں شبہ نہیں کہ اس موعود فرزند کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو علامات بیان فرمائی ہیں ان میں سے کئی ایک کے پورا ہونے کی وجہ سے ہماری جماعت کے بہت سے لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ پیشگوئی میرے ہی متعلق ہے مگر مَیں ہمیشہ یہی کہتا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ مجھے یہ حکم نہ دے کہ مَیں کوئی ایسا اعلان کروں، مَیں نہیں کروں گا۔ آخر وہ دن آ گیا جب خدا تعالیٰ نے میری زبان سے اس کا اعلان کرانا تھا۔‘‘(الفضل قادیان جلد 49/14نمبر 40مورخہ 19 فروری 1960ء صفحہ 7)

پھر آپ نے اعلان کے وقت جلسہ ہوشیار پور میں فرمایا کہ ’’مَیں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچانا ہے۔‘‘

(الفضل قادیان جلد 47/12نمبر 13مورخہ 15 جنوری 1958ء صفحہ 4)

پھر لاہور کے جلسہ میں آپ نے فرمایا ’’میں اس واحد اور قہار کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جس پر افترا کرنے والا اس کے عذاب سے بھی بچ نہیں سکتا کہ خدا نے مجھے اس شہر لاہور میں نمبر 13 ٹمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان میں یہ خبر دی کہ مَیں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔ اور مَیں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کے ذریعہ اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور توحید دنیا میں قائم ہو گی۔‘‘ (الفضل قادیان جلد 47/12نمبر 13مورخہ 15 جنوری 1958ء صفحہ 4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی مصلح موعود میں موعود بیٹے کی جو باون یا اٹھاون نشانیاں بتائی تھیں وہ مختلف ملتی ہیں۔ بہرحال پچاس سے زائد نشانیاں ہیں اور آپ کی یہ خصوصیات اپنوں اور غیروں نے کس طرح حضرت مصلح موعود میں دیکھیں ان کا ذکر کرتا ہوں۔

حضرت مصلح موعود کی وفات کے وقت دمشق کے حضرت سید ابوالفرج الحصنی بیان کرتے ہیں

کہ ’’حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سے ہمارے دلوں کو انتہائی تکلیف اور غم ہوا اور یہ وہ تکلیف ہے جس نے ہر احمدی پر المناک اثر کیا ہے۔ جماعت دمشق کو بالخصوص انتہائی حُزن و غم ہوا ہے کیونکہ جماعت دمشق حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا براہ راست لگایا ہوا پودا ہے جس کو آپ کے مبارک ہاتھوں نے ہی لگایا تھا اور اس کو آپ کی خاص توجہ اور روحانیت نے سیراب کیا تھا۔ چنانچہ یہ پودا پھلا اور پھولا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق سچ فرمایا تھا کہ ’’قومیں اس سے برکت پائیں گی‘‘۔ ہم نے آپ کی دعا کی برکت اور توجہ سے فیض الٰہی حاصل کیا‘‘۔ لکھتے ہیں کہ ’’مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ مَیں نے جب کبھی بھی حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دعا کی درخواست کی تو مَیں نے اس کی قبولیت کے آثار روحانی اور مادی لحاظ سے واضح طور پر محسوس کئے اور خدائی وحی آپ کے حق میں بالکل سچی ہے۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔‘‘

(الفضل قادیان جلد 55/20نمبر 10مورخہ 12 جنوری 1966ء صفحہ 5)

27؍جولائی 1944ء کے الفضل میں مکرم محمد موہیل صاحب کی ایک خواب کا یوں ذکر ملتا ہے کہ محمد موہیل صاحب احمدی نے کمال ڈیرہ سے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں اپنے ایک غیراحمدی رشتہ دار محمد اکرم صاحب کا حسب ذیل خواب تحریر کیا۔ یہ صاحب جو ابھی تک احمدی نہیں ہوئے تھے لکھتے ہیں کہ جب حضور 1936ء میں نوابشاہ تشریف فرما ہوئے۔ اس سے ایک رات قبل میں نے دیکھا کہ نوابشاہ کے چکرا( گول دائرے کا بازار ہے) اسٹیشن کی طرف سے مغرب کی طرف ایک شخص شیر پر سوار ہو کر آ رہا ہے۔ جب میرے قریب آیا تو دیکھا کہ اس کے جسم مبارک پر قرآن مجید کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔ میں نے آدمیوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ حضرت مرزا محمود احمد قادیانی ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہے؟ جواب دیا کہ دنیا میں سب سے بڑے ولی اللہ ہیں۔‘‘

(الفضل قادیان جلد 32نمبر 174مورخہ 27 جولائی 1944ء صفحہ4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کی صداقت کا اظہار اللہ تعالیٰ نے غیروں سے بھی کروایا۔ چنانچہ ایک معزز غیر احمدی عالم مولوی سمیع اللہ خان صاحب فاروقی نے قیام پاکستان سے قبل ’اظہارِ حق‘ کے عنوان سے ایک ٹریکٹ میں لکھا۔ آپ کو( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو) اطلاع ملتی ہے کہ ’’مَیں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریّت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی قبول کریں گے‘‘۔ لکھتے ہیں کہ ’’اس پیشگوئی کو پڑھو اور بار بار پڑھو اور پھر ایمان سے کہو کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی ہے اس وقت موجودہ خلیفہ ابھی بچے ہی تھے اور مرزا صاحب کی جانب سے انہیں خلیفہ مقرر کرنے کے لئے کسی قسم کی وصیت بھی نہ کی گئی تھی بلکہ خلافت کا انتخاب رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ چنانچہ اس وقت اکثریت نے حکیم نور الدین صاحب کو خلیفہ تسلیم کر لیا جس پر مخالفین نے محوّلہ صدر پیشگوئی کا مذاق بھی اڑایا‘‘۔ (حضرت خلیفہ اول بنے تو پیشگوئی کا مذاق اڑایا کہ دیکھو کہتے تھے بیٹا ہو گا۔ بیٹا تو بنا نہیں) ’’لیکن حکیم صاحب کی وفات کے بعد مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفہ مقرر ہوئے‘‘۔ (یہ غیر احمدی لکھ رہے ہیں۔ احمدی نہیں ہیں۔) ’’اور یہ حقیقت ہے کہ آپ کے زمانے میں احمدیت نے جس قدر ترقی کی وہ حیرت انگیز ہے۔ خود مرزا صاحب کے وقت میں احمدیوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ خلیفہ نور الدین صاحب کے وقت میں بھی خاص ترقی نہ ہوئی تھی۔ لیکن موجودہ خلیفہ کے وقت میں مرزائیت قریباً دنیا کے ہر خطے تک پہنچ گئی اور حالات یہ بتلاتے ہیں کہ آئندہ مردم شماری میں مرزائیوں کی تعداد 1931ء کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گی۔ بحالیکہ اس عہد میں مخالفین کی جانب سے مرزائیت کے استیصال کے لئے جس قدر منظّم کوششیں ہوئی ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھیں‘‘۔ لکھتے ہیں کہ’’الغرض آپ کی ذریّت میں سے ایک شخص پیشگوئی کے مطابق جماعت کے لئے قائم کیا گیا‘‘ (پیشگوئی کے مطابق وہ جماعت کے لئے قائم کیا گیا) ’’اور اس کے ذریعہ جماعت کو حیرت انگیز ترقی ہوئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی من و عن پوری ہوئی‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد اوّل۔ صفحہ 287-286۔ مطبوعہ قادیان 2007ء)

پھر ہندوستان کے ایک غیر مسلم سکھ صحافی اَرجن سنگھ ایڈیٹر ’’رنگین‘‘ (امرتسر) نے تسلیم کیا۔ کہتے ہیں ’’مرزا صاحب نے 1901ء میں جبکہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب موجودہ خلیفہ ابھی بچہ ہی تھے یہ پیشگوئی کی تھی کہ

بشارت دی کہ اِک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا

کروں گا دُور اس مَہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اِک عالَم کو پھیرا

بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فَسُبْحَانَ الَّذِیْ اَخْزَی الْاَعَادِیْ‘‘

لکھتے ہیں کہ ’’یہ پیشگوئی بیشک حیرت پیدا کرنے والی ہے۔ 1901ء میں نہ مرزا بشیر الدین محمود کوئی بڑے عالم و فاضل تھے اور نہ آپ کی سیاسی قابلیت کے جوہر کھلے تھے۔ اس وقت یہ کہنا کہ تیرا ایک بیٹا ایسا اور ایسا ہو گا، ضرور کسی روحانی قوت کی دلیل ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ مرزا صاحب نے ایک دعویٰ کر کے گدّی کی بنیاد رکھ دی تھی اس لئے آپ کو یہ گمان ہو سکتا تھا کہ میرے بعد میری جانشینی کا سہرا میرے لڑکے کے سر پر رہے گا۔ لیکن یہ خیال باطل ہے۔ اس لئے کہ میرزا صاحب نے خلافت کی یہ شرط نہیں رکھی کہ وہ ضرور مرزا صاحب کے خاندان سے اور آپ کی اولاد سے ہی ہو۔ چنانچہ خلیفہ اوّل ایک ایسے صاحب ہوئے جن کا میرزا صاحب کے خاندان سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ پھر بہت ممکن تھا کہ مولوی حکیم نورالدین صاحب خلیفہ اوّل کے بعد بھی کوئی اور صاحب خلیفہ ہو جاتے۔ چنانچہ اس موقع پر بھی مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور خلافت کے لئے امیدوار تھے۔ لیکن اکثریت نے مرزا بشیر الدین صاحب کا ساتھ دیا اور اس طرح آپ خلیفہ مقرر ہوگئے‘‘۔ لکھتے ہیں کہ ’’اب سوال یہ ہے کہ اگر بڑے میرزا صاحب کے اندر کوئی روحانی قوت کام نہ کر رہی تھی تو پھر آخر آپ یہ کس طرح جان گئے کہ میرا ایک بیٹا ایسا ہو گا۔ جس وقت مرزا صاحب نے مندرجہ بالا اعلان کیا ہے اس وقت آپ کے تین بیٹے تھے۔ آپ تینوں کے لئے دعائیں بھی کرتے تھے لیکن پیشگوئی صرف ایک کے متعلق ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک فی الواقعہ ایسا ثابت ہوا ہے کہ اس نے ایک عالم میں تغیّر پیدا کر دیا ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 286 تا 288مطبوعہ قادیان 2007ء)

اس وقت کے جو جماعتی حالات تھے اور اس وقت جو دنیا کے موجود ذرائع جماعت کے پاس تھے وہ آج کی طرح نہیں تھے۔ گو آج بھی ہمارے پاس ہر طرح کے وسائل نہیں لیکن پھر بھی ان حالات سے بہت بہتر ہیں۔ لیکن ان حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے دنیا میں تقریباً 50 سے زائد ممالک میں احمدیت کا پودا لگا۔ جماعتیں قائم ہوئیں۔ اور تقریباً ہر براعظم میں جماعت قائم ہوئی۔ یہ حضرت مصلح موعود کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کا پھیلنا اور آپ کی اولوالعزمی کا نتیجہ تھا۔

پھر پسر موعود کی آمد کا مقصود یہ تھا کہ ’’تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو‘‘۔ برصغیر پاک و ہند کے مشہور مسلم لیڈر اور ایک شعلہ نوا شاعر زمیندار رسالہ کے مولوی ظفر علی خان صاحب نے کھلے لفظوں میں اعتراف کرتے ہوئے اپنے لوگوں کو کہا کہ ’’کان کھول کر سن لو۔ تم اور تمہارے لگے بندھے مرزا محمود کا مقابلہ قیامت تک نہیں کر سکتے۔ مرزا محمود کے پاس قرآن ہے اور قرآن کا علم ہے۔ تمہارے پاس کیا دھرا ہے؟ ……تم نے کبھی خواب میں بھی قرآن نہیں پڑھا……۔ مرزا محمود کے پاس ایسی جماعت ہے جو تن من دھن اس کے اشارے پر اس کے پاؤں پر نچھاور کرنے کو تیار ہے…..۔ مرزا محمود کے پاس مبلغ ہیں۔ مختلف علوم کے ماہر ہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں اس نے جھنڈا گاڑ رکھا ہے۔‘‘

(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 288مطبوعہ قادیان 2007ء)

پسرِ موعود سے متعلق وعدہ الٰہی تھا کہ وہ ’’اولوالعزم‘‘ ہو گا۔ نیز یہ کہ ’’وہ علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا‘‘۔ چنانچہ ہندوستان کے نامور صوفی خواجہ حسن نظامی دہلوی نے آپ کی قلمی تصویر کھینچتے ہوئے حضرت مصلح موعود کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں ان کی عملی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔ انہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغلیٔ جوانمردی کو ثابت کر دیا اور یہ بھی کہ مغل ذات کارفرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے۔ سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل و فہم میں بھی قوی ہیں اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں۔ یعنی دماغی اور قلمی جنگ کے ماہر ہیں۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 288مطبوعہ قادیان 2007ء)

پسر موعود کے متعلق ایک اہم خبر یہ دی گئی تھی کہ ’’وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا‘‘۔ یہ پیشگوئی بھی مختلف رنگ میں پوری ہوتی رہی اور اس طرح بھی پوری ہوتی ہے کہ انسانی عقل کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ تحریک آزادیٔ کشمیر اس پر شاہد ہے کیونکہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کا سہرا آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سر ہے اور یہ مشہور کمیٹی حضرت مصلح موعود کی تحریک اور ہندو پاکستان کے بڑے بڑے مسلم زعماء مثلاً سر ذوالفقار علی خان، ڈاکٹر سر محمد اقبال، خواجہ حسن نظامی دہلوی، سید حبیب مدیر اخبار سیاست وغیرہ کے مشورے سے 25؍جولائی 1931ء کو شملہ میں قائم ہوئی۔ اور اس کی صدارت خود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو سونپی گئی۔ آپ کی کامیاب قیادت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانانِ کشمیر جو مدتوں سے انسانیت کے ادنیٰ حقوق سے بھی محروم ہو کر غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ایک نہایت قلیل عرصہ میں آزادی کی فضا میں سانس لینے لگے۔ ان کے سیاسی اور معاشی حقوق تسلیم کئے گئے۔ ریاست میں پہلی دفعہ اسمبلی قائم ہوئی اور تقریر و تحریر کی آزادی کے ساتھ انہیں اس میں مناسب نمائندگی ملی۔ جس پر مسلم پریس نے حضرت مصلح موعود کے شاندار کارناموں کا اقرار کرتے ہوئے آپ کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’جس زمانے میں کشمیر کی حالت نازک تھی اور اس زمانے میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجود مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا انہوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا۔ اس وقت اگر اختلاف عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو تحریک بالکل ناکام رہتی اور اُمّت مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا۔‘‘ (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 289 مطبوعہ قادیان 2007ء)

مولانا محمد علی جوہر صاحب نے (یہ بہت بڑے سیاستدان بھی تھے۔ عالم بھی تھے۔) اپنے اخبار ہمدرد 26؍ستمبر 1927ء میں لکھا کہ ’’نا شکری ہو گی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔ یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاست میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی تنظیم، تبلیغ و تجارت میں بھی انتہائی جدو جہد سے منہمک ہیں۔ اور وہ وقت دُور نہیں جبکہ اس منظم فرقے کا طرزِ عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمتِ اسلام کے بلند بانگ دور باطن ہیچ دعاوی کے خُوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہوگا‘‘۔ (ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعودؓ نمبر۔ جون،جولائی 2008ء صفحہ 320-321)

انہوں نے کہا تم مولوی صرف بیٹھے منبروں پر بیٹھے دعوے کرتے ہیں لیکن یہ لوگ کام کرتے ہیں۔

پھر ایک مشہور مفسّر قرآن علامہ عبدالماجد دریاآبادی مدیر ’صدق جدید‘ نے حضرت مصلح موعود کی وفات پر ایک شذرہ تحریر کیا جس میں حضرت مصلح موعود کی خدمت قرآن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’قرآن و علومِ قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سرگرمی اور اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں ان کا اللہ تعالیٰ انہیں صلہ دے ۔ علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح و تبیین و ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند و ممتاز مرتبہ ہے‘‘۔

(صدق جدید لکھنؤ 18نومبر 1965ء- سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 168)

ایک امریکن پادری ایک دفعہ قادیان آیا۔ یہ بھی علوم ظاہری و باطنی سے پُر کئے جانے کی ایک مثال ہے۔ 1914ء کی بات ہے۔ اس نے بعض احمدیوں کے سامنے چند مذہبی سوالات پیش کئے جو نہایت اہم تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مَیں امریکہ سے چل کر یہاں تک آیا ہوں اور مَیں نے کئی علماء کے سامنے یہ سوال کئے ہیں مگر ان سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں مل سکے۔ مَیں یہاں ان سوالوں کو آپ کے خلیفہ کے سامنے پیش کرنے کے لئے آیا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ مولوی عمر دین شملوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ سوالات اتنے پیچیدہ اور عجیب قسم کے تھے کہ انہیں سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت صاحب ابھی بالکل نوجوان ہیں اور الٰہیات کی کوئی باقاعدہ تعلیم بھی انہوں نے نہیں پائی۔ عمر بھی چھوٹی ہے اور واقفیت بھی بہت تھوڑی ہے۔ وہ ان سوالوں کا جواب ہرگز نہیں دے سکیں گے اور اس طرح سلسلہ احمدیہ کی بڑی بدنامی اور سُبکی ہو گی۔‘‘ (ساری دنیا میں سُبکی ہو جائے گی) ’’کیونکہ جب حضرت صاحب اس کے سوالوں کے جواب نہ دے سکے تو یہ امریکن پادری واپس جا کر ساری دنیا میں اس امر کا پراپیگنڈہ کرے گا کہ احمدیوں کا خلیفہ کچھ بھی نہیں جانتا اور عیسائیت کے مقابلے میں ہرگز نہیں ٹھہر سکتا۔ وہ صرف نام کا خلیفہ ہے۔ ورنہ علمیت خاک بھی نہیں رکھتا۔‘‘ (یہ مولوی صاحب کا خیال تھا تو کہتے ہیں) ’’اس صورت حال سے مَیں کافی پریشان ہوا اور مَیں نے اس بات کی کوشش کی کہ وہ امریکن پادری حضرت صاحب سے نہ ملے اور ویسے ہی واپس چلا جائے مگر مجھے اس کوشش میں ناکامی ہوئی۔وہ اس بات پر مصر تھا کہ مَیں نے ضرور مل کر جانا ہے۔ کہتے ہیں ناچار مَیں حضرت صاحب کے پاس گیا۔ بتایا کہ امریکن پادری آیا ہے اور کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہے۔ اب کیا کریں۔ اس پر حضرت صاحب نے بغیر توقّف کے فرمایا۔تو بلا لو اسے۔ کہتے ہیں بہرحال مَیں اس کو لے کر حاضر ہو گیا۔ ان دونوں کے درمیان ترجمان میں ہی تھا۔ کہتے ہیں امریکن پادری نے کچھ رسمی گفتگو کے بعد اپنے سوالات حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کئے جن کا ترجمہ میں نے آپ کو سنا دیا اور حضرت مصلح موعود نے نہایت سکون کے ساتھ ان سب سوالوں کو سنا اور پھر فوراً ان کے ایسے تسلی بخش جوابات دئیے کہ مَیں سن کر حیران ہو گیا۔ مجھے ہرگز بھی یقین نہ تھا کہ ان سوالوں کے حضرت صاحب پُرمعارف اور بے نظیر جواب دے سکیں گے۔ جب مَیں نے یہ جوابات انگریزی میں امریکن پادری کو سنائے تو وہ بھی حیران ہو گیا اور کہنے لگا کہ مَیں نے آج تک ایسی معقول گفتگو اور ایسی مدلّل تقریر کسی کے منہ سے نہیں سنی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا خلیفہ بہت بڑا سکالر ہے اور مذاہب عالم پر اس کی نظر بہت گہری ہے۔ یہ کہہ کر اس نے بڑے ادب سے حضرت صاحب کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور واپس چلاگیا۔ (ماخوذ از ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعودؓ نمبر۔ جون،جولائی 2008ء صفحہ 319-320)

فروری 1945ء میں حضرت مصلح موعود نے احمدیہ ہاسٹل لاہور میں ’اسلام کا اقتصادی نظام‘ کے نام پر ایک پُرشوکت لیکچر دیا۔ دنیاوی علوم کا بھی ان کو ایک خاص ملکہ تھا۔ لیکچر کے بعد صدر جلسہ جناب لالہ رام چند مچندہ صاحب نے ایک مختصر تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’’مَیں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی تقریر سننے کا موقع ملا اور مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احمدیت ترقی کر رہی ہے اور نمایاں ترقی کر رہی ہے۔ جو تقریر اس وقت آپ لوگوں نے سنی ہے اس کے اندر نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں حضور نے بیان فرمائی ہیں۔ مجھے اس تقریر سے بہت فائدہ ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے بھی ان قیمتی معلومات سے بہت فائدہ اٹھایا ہو گا۔ مجھے اس بات سے بھی بہت خوشی ہوئی ہے کہ اس جلسہ میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی شامل ہوئے ہیں۔ اور مجھے خوشی ہوئی ہے کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کے بہت سے معزز دوستوں سے مجھے تبادلہ خیالات کا موقع ملتا رہتا ہے۔ یہ جماعت اسلام کی وہ تفسیر کرتی ہے جو اس ملک کے لئے نہایت مفید ہے۔ پہلے تو مَیں سمجھتا تھا اور یہ میری غلطی تھی کہ اسلام صرف اپنے قوانین میں مسلمانوں کا ہی خیال رکھتا ہے۔ غیرمسلموں کا کوئی لحاظ نہیں رکھتا۔ مگر آج حضرت امام جماعت احمدیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام تمام انسانوں میں مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہے مَیں غیر مسلم دوستوں سے کہوں گا کہ اس قسم کے اسلام کی عزت اور احترام کرنے میں آپ لوگوں کو کیا عذر ہے؟ آپ لوگوں نے جس سنجیدگی اور سکون سے اڑھائی گھنٹے تک حضور کی تقریر سنی ہے اگر کوئی یورپین اس بات کو دیکھتا تو حیران ہوتا کہ ہندوستان نے اتنی ترقی کر لی ہے۔ جہاں مَیں آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں (اس بات پر) کہ آپ لوگوں نے سکون کے ساتھ تقریر کو سنا وہاں میں اپنی طرف سے اور آپ سب لوگوں کی طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ کا بار بار اور لاکھ لاکھ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی نہایت ہی قیمتی معلومات سے پُر تقریر سے ہمیں مستفید فرمایا۔ (ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ495-496 مطبوعہ قادیان 2007ء)

جناب اختر اورینوی صاحب (ایم۔اے صدر شعبہ اردو۔ پٹنہ یونیورسٹی)، پروفیسر عبدالمنان بیدل صاحب (سابق صدر شعبہ فارسی) کے تفسیر کبیر کے بارے میں اپنا ایک چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’’میں نے یکے بعد دیگرے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تفسیر کبیر کی چند جلدیں پروفیسر عبدالمنان بیدل سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج پٹنہ و حال پرنسپل شبینہ کالج پٹنہ کی خدمت میں پیش کیں اور وہ ان تفسیروں کو پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدرسہ عربیہ شمس الھدیٰ پٹنہ کے شیوخ کو بھی تفسیر کی بعض جلدیں پڑھنے کے لئے دیں اور ایک دن کئی شیوخ کو بلوا کر انہوںنے ان کے خیالات دریافت کئے۔ (ایک پیشگوئی تھی علوم قرآن سے بھی پُر کیا جانا) ایک شیخ نے کہا کہ فارسی تفسیروں میں ایسی تفسیر نہیں ملتی۔ پروفیسر عبدالمنان صاحب نے پوچھا کہ عربی تفسیروں کے متعلق کیا خیال ہے؟ شیوخ خاموش رہے۔ کچھ دیر کے بعد ان میں سے ایک نے کہا کہ پٹنہ میں ساری عربی تفسیریں ملتی نہیں ہیں۔ مصر اور شام کی ساری تفاسیر کے مطالعہ کے بعد ہی صحیح رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ پروفیسر صاحب نے قدیم عربی تفسیروں کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا کہ مرزا محمود کی تفسیر کے پائے کی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی۔ آپ جدید تفسیریں بھی مصر اور شام سے منگوا لیجئے اور چند ماہ بعد مجھ سے باتیں کیجئے۔ عربی اور فارسی کے علماء مبہوت رہ گئے۔‘‘ (ماخوذ ازتاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ158-159 مطبوعہ قادیان 2007ء)

قریشی عبدالرحمن صاحب سکھر حضور کی سحر انگیز علمی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ حضور کے سکھر کے قیام کے دوران سب دوست اپنے غیر از جماعت دوستوں کو ملانے لاتے تھے۔ میں ایک دوست کو جو اکثر اپنے علم کی ڈینگیں مارتے تھے، ملانے لایا۔ حضور مجلس میں تشریف فرما تھے۔ دوست بعض سوالات کرتے تھے حضور جواب دیتے تھے۔ مگر وہ شخص شروع سے آخر تک خاموش ہی رہا۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کوئی سوال نہیں پوچھا؟ اس نے بھی بے ساختہ کہا کہ یہاں بولنا گویا اپنی پردہ دری کرنے والی بات تھی۔ وہ ایک شدید مخالف تھا مگر حضور کی گفتگو اتنی مؤثر تھی کہ اس نے کہا کہ مَیں تو یہی سمجھتا رہا کہ مَیں یہاںسے اپنا ایمان سلامت لے جاؤں تو بڑی بات ہے۔‘‘ سوال کرنا تو دُور کی بات ہے۔ (ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 553)

ایک ہفتہ وار اخبار ’’پارس‘‘ کے ایڈیٹر لالہ کرم چند کچھ اخبار نویسوں کے ساتھ قادیان گئے اور حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت متاثر ہو کر واپس آئے اور اپنی اخبار میں اس کے متعلق مضمون بھی لکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو ظفر اللہ خان کو بڑا آدمی سمجھتے تھے۔( یعنی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ان دنوں وائسرائے کے ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بھی تھے) مگر بشیر الدین محمود احمد صاحب کے سامنے اس کی حیثیت ایک طفل مکتب کی ہے۔ وہ ہر معاملے میں ان سے بہتر رائے رکھتے ہیں( یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی تو حیثیت بہت بلند ہے اور بہت بہتر رائے رکھتے ہیں) اور بہترین دلائل پیش کرتے ہیں۔ اس میں بے پناہ تنظیمی قابلیت ہے۔ ایسا آدمی بآسانی کسی ریاست کو بامِ عروج تک لے جا سکتا ہے۔‘‘

(ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 558)

ایک علم دوست بزرگ جلسہ قادیان میں شامل ہوئے۔ انہوں نے حضرت مصلح موعود اور آپ کے پیروکاروں کے متعلق اپنے تاثرات بیان کئے۔ کہتے ہیں ’’مَیں نے ایک اور بات جسے غور کے ساتھ دیکھا وہ یہ تھی کہ سارا گروہ، سارا سلسلہ، سارا ہجوم، سارا انبوہ اس پاک نفس خلیفہ کی ایک چھوٹی انگلی کے اشارے پر چل رہا تھا۔ حضرت امام جماعت احمدیہ کے متعلق اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ شخص قلم کا دھنی بھی ہے۔ تقریر کا اعلیٰ درجہ کا مالک بھی ہے۔ اور تنظیم کا اعلیٰ درجہ کا گورنر بھی ہے‘‘۔ (ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 538)

علامہ نیاز فتح پوری صاحب تفسیر کبیر جلد سوم کے مطالعہ کے بعد لکھتے ہیں کہ تفسیر کبیر جلد سوئم آجکل میرے سامنے ہے اور میں اسے بڑی نگاہِ غائر سے دیکھ رہا ہوں اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویۂ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل اور نقل کو بڑے حُسن سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے۔ آپ کی تبحّر علمی، آپ کی وُسعتِ نظر، آپ کی غیرمعمولی فکر و فراست، آپ کا حُسنِ استدلال آپ کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے۔ اور مجھے افسوس ہے کہ مَیں کیوں اس وقت تک اس سے بے خبر رہا۔ کاش کہ مَیں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔ کل سورۃ ھود کی تفسیر حضرت لوط علیہ السلام پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی پھڑک گیا اور بے اختیار یہ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔ آپ نے ھٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِیْ کی تفسیر کرتے ہوئے عام مفسّرین سے جدا بحث کا جو پہلو اختیار کیا ہے اس کی داد دینا میرے امکان میں نہیں۔ خدا آپ کو تادیر سلامت رکھے۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 ۔ تعارف)

پس اپنوں اور غیروں کے حضرت مصلح موعود کے بارے میں جو تأثرات ہیں وہ آپ سے مل کر آپ کی شخصیت کا جو گہرا اثر اُن پر ہوتا تھا اور آپ کی خصوصیات کا جب علم ہوتا تھا وہ ہر ایک کو حیرت میں ڈال دیتا تھا۔ پیشگوئی کی صداقت کا یہ سب کھلا اظہار ہے۔ ان جلسوں میں جو آجکل ہو رہے ہیں پیشگوئی کا ذکر اور آپ کے کارہائے نمایاں کی باتیں سن کر جہاں ہمیں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درجات کے بڑھتے چلے جانے کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں وہاں اپنی حالتوں کے جائزے بھی لینے چاہئیں کہ احمدیت کی ترقی کے لئے ایک عزم کے ساتھ ہر فرد جماعت کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو نکھارنا اور استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم یہ کریں گے تو ہم احمدیت کی ترقی کو اپنی زندگیوں میں پہلے سے بڑھ کر پورا ہوتے دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button