حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزخطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ مورخہ 07اپریل 2017ء

(خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 07اپریل 2017ء بمطابق07؍شہادت 1396 ہجری شمسی بمقام مسجدبیت الفتوح،مورڈن،لندن، یوکے)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت تو اس وقت سے ہو رہی ہے جب ابھی باقاعدہ جماعت کا قیام بھی عمل میں نہیں آیا تھا اور آپ علیہ السلام نے بیعت بھی نہیں لی تھی۔ مسلمانوں نے بھی اور غیر مسلموں نے بھی اپنا پورا زور آپ کی مخالفت میں لگایا اور اب تک لگا رہے ہیں۔ آج تو زیادہ پیش پیش مسلمان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت کو بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت دنیا کے 209 ممالک میں قائم ہے۔ خاص طور پر مسلمان ممالک میں جیسا کہ مَیں نے کہا جہاں بھی لوگ جماعت کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں وہاں باقاعدہ منصوبہ بندی سے جماعت کی مخالفت شروع ہو جاتی ہے۔ بعض سیاستدان، علماء اور ان کے زیر اثر سرکاری کارندے بلکہ عدالتوں کے جج بھی اس مخالفت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

آجکل الجزائر کے احمدیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان معصوموں اور مظلوموں کو ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہئے اللہ تعالیٰ انہیں ثبات قدم بھی عطا فرمائے اور ان ظلموں سے بھی بچائے۔ اسی طرح پاکستان کے احمدیوں کو بھی اپنی دعاؤں میںیاد رکھیں وہاں بھی آجکل پنجاب میں خاص طور پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے ظلم کئے جا رہے ہیں۔

یہ مخالفتیں نہ پہلے کچھ بگاڑ سکیں اور نہ آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ کچھ بگاڑ سکیں گی ۔ اللہ تعالیٰ کی مدد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ
ہمیشہ رہی اور ہمیشہ ہم نے یہی دیکھا کہ دشمن خائب و خاسر ہوا اور ہو رہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ہوتا رہے گا۔ یہ ایک جگہ
مخالفت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سو جگہ تبلیغ کے نئے میدان کھول دیتا ہے۔ الجزائر میں ہی انہوں نے احمدیوں کو اپنے زعم میں ختم کرنے کی
کوشش کی اور اخباروں اور دوسرے میڈیا نے اس کا چرچا کیا، جماعت مخالف خبریں شائع کی گئیں، پھیلائی گئیں بلکہ اخباروں نے بھی
بھرپور مخالفت کرنے میں اپنے طور پر بھرپور کردار ادا کیا لیکن یہی باتیں جو ہیں جماعت کی تبلیغ کا ذریعہ بن گئیں۔

(نو احمدیوں کی استقامت، مخالفت کے نتیجہ میں لوگوں کی جماعت احمدیہ کی طرف توجہ اور تبلیغ کے نئے راستوں کے کھلنے، مخالفین کی اپنے بد ارادوں میں ناکامی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سعید فطرت لوگوں کی حق کی طرف رہنمائی اور مختلف ممالک میں الٰہی نصرت و تائید کے روشن نشانات پر مشتمل ایمان افروز واقعات کا تذکرہ)

ڈینش احمدی حاجی نوح سوین ہینسن (Haji Nuh Svend Hansen) صاحب کی وفات ۔ مرحوم کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ ۔


حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت تو اس وقت سے ہو رہی ہے جب ابھی باقاعدہ جماعت کا قیام بھی عمل میں نہیں آیا تھا اور آپ علیہ السلام نے بیعت بھی نہیں لی تھی۔ مسلمانوں نے بھی اور غیر مسلموں نے بھی اپنا پورا زور آپ کی مخالفت میں لگایا اور اب تک لگا رہے ہیں۔ آج تو زیادہ پیش پیش مسلمان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ آپ کی جماعت کو بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت دنیا کے 209 ممالک میں قائم ہے۔ خاص طور پر مسلمان ممالک میں جیسا کہ مَیں نے کہا جہاں بھی لوگ جماعت کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں وہاں باقاعدہ منصوبہ بندی سے جماعت کی مخالفت شروع ہو جاتی ہے۔ بعض سیاستدان علماء اور ان کے زیر اثر سرکاری کارندے بلکہ جیسا کہ پہلے بھی میں بتا چکا ہوں عدالتوں کے جج بھی اس مخالفت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

آجکل جیسا کہ مَیں نے گذشتہ کئی خطبوں میں ذکر کیا ہے الجزائر کے احمدیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جج صاحبان بھی یہی کہتے ہیں، حکومتی کارندے بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر تم اس بات کا اعلان کر دو کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہے اور وہ مسیح موعود نہیں ہیں بلکہ نعوذ باللہ اسلام مخالف طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور اسلام مخالف طاقتوں کی پشت پناہی اور مغربی ممالک کی پشت پناہی انہیں حاصل ہے اور انہی کی طرف سے یہ کھڑے کئے گئے تھے، خاص طور پر انگریزوں کی طرف سے تو ہم تمہیں بری کر دیتے ہیں ورنہ پھر جیل اور جرمانے کی سزا کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اور پھر ظالمانہ فیصلہ کر کے جو لوگ انکار کرتے ہیں، جو ایمانوں پر قائم ہیں ان کو پھر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور بڑے بڑے جرمانے بھی کئے جا رہے ہیں جن کی ادائیگی کی شاید ان غریب لوگوں میں استطاعت بھی نہ ہو کیونکہ اکثریت غریب لوگوں کی ہے۔ بہرحال ان معصوموں اور مظلوموں کو ہمیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا چاہئے اللہ تعالیٰ انہیں ثبات قدم بھی عطا فرمائے اور ان ظلموں سے بھی بچائے۔

اسی طرح پاکستان کے احمدیوں کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں وہاں بھی آجکل پنجاب میں خاص طور پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے ظلم کئے جا رہے ہیں۔ مسلمان ممالک کے اندر جو فساد کی حالت ہے اور ایک ملک کی دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات کی جو حالت ہے عقل رکھنے والوں کے لئے یہ حالت ہی اس بات کے سوچنے کے لئے کافی ہے اور ہونی چاہئے کہ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کی اصلاح کے لئے اپنے وعدے کے مطابق جس کو بھیجنا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جس غلامِ صادق کے آنے کی پیشگوئی فرمائی تھی اسے تلاش کریں جبکہ اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نشانیاں بھی پوری ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں جو مسیح موعود کی آمد کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اور یہی ایک راستہ ہے جو مسلمانوں کی عظمت کو دوبارہ قائم کرسکتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :

’’یقیناً یاد رکھو کہ خدا کے وعدے سچے ہیں۔ اس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔ دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا تعالیٰ اس کو ضرور قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی کو ظاہر کرے گا۔‘‘ فرماتے ہیں ’’مَیں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ مَیں خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق مسیح موعود ہو کر آیا ہوں چاہو تو قبول کرو، چاہو تو ردّ کرو۔ مگر تمہارے ردّ کرنے سے کچھ نہ ہو گا۔ خداتعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ ہو کر رہے گا۔‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ 206۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پھر آپ فرماتے ہیں ’’یہ صاف امر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعود کے نام سے دنیا میں بھیجا ہے۔ جو لوگ میری مخالفت کرنے والے ہیں وہ میری نہیں، خدا تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ‘‘ (ملفوظات جلد 1صفحہ 189-190۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

پس جماعت کے خلاف جو مخالفتیں ہو رہی ہیں یہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اس کے خلاف چلنے والے لوگ ہیں اور اس طرح یہ اللہ تعالیٰ کی مخالفت کر رہے ہیں اور یہ مخالفتیں نہ پہلے کچھ بگاڑ سکیں اور نہ آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ کچھ بگاڑ سکیں گی ۔ اللہ تعالیٰ کی مدد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہمیشہ رہی اور ہمیشہ ہم نے یہی دیکھا کہ دشمن خائب و خاسر ہوا اور ہو رہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ہوتا رہے گا۔ یہ ایک جگہ مخالفت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سو جگہ تبلیغ کے نئے میدان کھول دیتا ہے۔ الجزائر میں ہی انہوں نے احمدیوں کو اپنے زعم میں ختم کرنے کی کوشش کی اور اخباروں اور دوسرے میڈیا نے اس کا چرچا کیا، جماعت مخالف خبریں شائع کی گئیں، پھیلائی گئیں بلکہ اخباروں نے بھی بھرپور مخالفت کرنے میں اپنے طور پر بھرپور کردار ادا کیا لیکن یہی باتیں جو ہیں جماعت کی تبلیغ کا ذریعہ بن گئیں۔

اب الجزائر کی جماعت کوئی بہت پرانی جماعت نہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کو اس مخالفت کے ذریعہ سے ہی جہاں ایمان میں مضبوط کر رہا ہے وہاں ان کے لئے تبلیغ کے راستے بھی کھول رہا ہے۔ وہاں کے احمدی لکھتے ہیں کہ ہم پریشان تھے کہ ملک میں تبلیغ کس طرح ہو گی۔ ان میں یہ جوش اور جذبہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس مخالفت کے ذریعہ خود ہی انتظام کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر بعض لوگ منفی اثر لے رہے ہیں اور اس میں زیادہ تر نام نہاد علماء کے پیچھے چلنے والے لوگ ہیں تو ایسے بھی ہیں اور بہت سارے ایسے ہیں، بڑی تعداد میں ہیں جو جماعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے سے متعارف ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جماعت کے خلاف جو ہو رہا ہے وہ غلط ہو رہا ہے۔ اپنے طور پر اس بارے میں معلومات بھی لے رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مخالفت میں لکھا گیا لٹریچر اور ہمارے خلاف جو لکھا ہو لٹریچر ہے وہ ہماری کتابیں دیکھنے کی تحریک پیدا کرتا ہے اس طرف توجہ دلاتا ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 1صفحہ 398۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اسی طرح آپ نے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ آپ کے آنے کا یہی وقت تھا اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے موافق ہی آپ آئے ہیں تا کہ اسلام کی ڈولتی کشتی کو سنبھالا ملے آپ فرماتے ہیں کہ ’’سچے نبی و رسول و مجدّد کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ وقت پر آوے اور ضرورت کے وقت آوے‘‘۔ غیروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ’’لوگ قسم کھا کر کہیں کہ کیا یہ وقت نہیں کہ آسمان پر کوئی تیاری ہو۔‘‘

(ملفوظات جلد 1صفحہ 397۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

لیکن یہ ان کو بھی پتا ہے کہ مسلمانوں کی جو یہ حالت ہے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی مصلح آئے۔ خود ان کے بیان اخباروں میں بھی چھپتے ہیں، اپنی تقریروں میں بھی ذکر کرتے ہیں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مسلم اُمّہ کو سنبھالنے کے لئے کوئی آنا چاہئے لیکن یہ بھی ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے علاوہ کوئی ہو۔

بہرحال جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے اسے یہ نام نہاد علماء مانتے نہیں بلکہ انکار کر رہے ہیں اور دشمنی کر رہے ہیں اور ہر جگہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا مسلمان ممالک میں خاص طور پر کر رہے ہیں لیکن اس کے مقابلے پہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے پیغام کو پہنچانا چاہتا ہے اور قبول کروانا چاہتا ہے۔ اس کی تقدیر بھی کام کر رہی ہے اور لاکھوں لوگ جو ہر سال اس مخالفت کے باوجود احمدیت میں داخل ہوتے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہے۔ بہت سارے ایسے ہیں جو اپنے واقعات لکھتے ہیں کہ کس طرح احمدی ہوئے اور ان کے واقعات کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نیک فطرتوں کے لئے قبولیت کے انتظام فرما رہا ہے۔ اس بارہ میں بعض واقعات مَیں پیش کرتا ہوں۔

یہ پہلا واقعہ جو مَیں پیش کروں گا یہ الجزائر کا ہی ہے جہاں اِس وقت جیسا کہ مَیں نے کہا مخالفت زوروں پر ہے۔ یہ صاحب لکھنے والے کہتے ہیں کہ احمدیت سے تعارف سے بہت پہلے میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک بلند چھت والے وسیع و عریض ہال میں بہت سے لوگوں کے ہمراہ ایک لائن میں ہوں جس کے ایک سرے پر دو شخص کھڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہماری لائن میں سے ہر ایک اپنی باری پر ان دو اشخاص میں سے دائیں جانب والے شخص کے ساتھ بڑی گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کر کے ہال کے دروازے کی جانب چلا جاتا ہے۔ گویا یہ طویل لائن ان دو میں سے ایک شخص کے ساتھ مصافحہ کے لئے خاص طور پر بنائی گئی ہے۔ کہتے ہیں مَیں دور سے یہ منظر دیکھ کر کہتا ہوں کہ لوگ دونوں کی بجائے صرف ایک شخص سے اتنی گرمجوشی سے مصافحہ کیوں کرتے ہیں؟ دونوں سے کیوں نہیں کرتے؟ تو قریب پہنچنے پر میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے ایک شخص سفید داڑھی والا ہے جبکہ اس کے دائیں جانب والا ایک درمیانے قد اور گندمی رنگ کا شخص ہے جس کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ ہیں۔ کہتے ہیں جب میری باری آئی تو میں نے سفید داڑھی والے شخص کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے مجھے سیاہ داڑھی والے اور گندمی رنگ والے شخص کی طرف اشارہ کیا کہ ان سے سلام کرو تو میں نے نہایت گرمجوشی سے ان کے ساتھ مصافحہ کیا اور کہتے ہیں اس کے ساتھ ہی میرا دل اس شخص کی محبت میں ڈوب گیا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں ایک ایسا جادو تھا کہ میں آج تک اس مسکراہٹ کو بھلا نہیں سکتا۔ پھر کہتے ہیں جب احمدیت کا تعارف ہوا اور میں نے ایم ٹی اے دیکھنا شروع کیا تو انہی ابتدائی ایام میں ایک روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی پھر کچھ دیر کے بعد میرا خطبہ پیش ہو رہا تھا۔ میری تصویر سامنے آئی تو کہتے ہیں دونوں کو دیکھ کر مجھے اپنی خواب یاد آ گئی۔ خواب میں دکھایا جانے والا سفید داڑھی والا جو شخص تھا میرے بارے میں کہتے ہیں کہ تم تھے۔ جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیاہ داڑھی والے تھے جن کو سب لوگ مل رہے تھے اور میں بھی اشارہ کر رہا تھا کہ ان کو ملو۔ کہتے ہیں اس کے بعد احمدیوں سے انٹرنیٹ پر رابطہ کیا۔ مختلف سوالات کئے جن کے جواب پانے کے بعد مَیں نے بیعت کر لی۔

پھر ایک صاحب جن کے واقعہ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ گھیر کر انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی نیک بات پسند آئی۔ یہ مصر کے ہیں، عبدالہادی نام ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ احمدیت سے تعارف ایم۔ٹی۔اے العربیہ کے ذریعہ ہوا۔ پروگرام ان کو پسند آتا تھا لیکن کہتے ہیں کہ امام بانیٔ جماعت احمدیہ کی نبوت اور صاحب وحی اور الہام ہونا سمجھ نہیں آتا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں یہ بات مشکوک تھی۔ کہتے ہیں کہ میں نے بار بار پروگرام الحوار المباشر میں فون کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ رابطہ نہیں ہوتاتھا۔ اور فون کا مقصد کیا تھا؟ کہتے ہیں میرا مقصد صرف ایک سوال تھا اور اس کا ہاں یا نہ میں جواب لینا تھا اور سوال یہ تھا کہ کیا جماعت کے بانی دیگر انبیاء کی طرح معصوم ہیں اور کیا وہ صاحب وحی و الہام ہیں؟ کہتے ہیں اگر اس کا جواب مجھے ہاں میں دیا جاتا تو میں اسی روز اس چینل کو اپنی لسٹ سے حذف کر دیتا، کاٹ دیتا کیونکہ اس وقت میرا یہی عقیدہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی بند ہے اور اس کا دعویدار جھوٹا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی خاص قدرت سے ایسا ہوا کہ میں کبھی بھی پروگرام میں کال کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ایم ٹی اے دیکھتا رہا اور رفتہ رفتہ تمام امور کے ساتھ ختم نبوت کا مسئلہ بھی میری سمجھ میں آ گیا یہاں تک کہ میرے سامنے امام الزمان مسیح موعود اور امام مہدی کی بیعت کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا چنانچہ میں نے بیعت فارم پُر کر کے ارسال کر دیا۔ بیعت کے بعد میں چاہتا تھا کہ یہ خبر دوسروں تک بھی پہنچے۔ چنانچہ اس کے لئے میں نے اپنے ایک قریبی دوست کا انتخاب کیا جس کے بارے میں مجھے بہت حسن ظن تھا کہ وہ میری بات سنے گا۔ میں نے اسے احمدیت کا پیغام پہنچایا تو وہ خلاف توقع اچانک شدید غصہ میں آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگا۔ کہتے ہیں مجبوراً میں اسے چھوڑ کر نہایت دکھی دل کے ساتھ، بے چین روح کے ساتھ، بوجھل قدموں سے اپنے گھر لوٹ آیا اور حسب عادت جب ٹی وی آن کیا تو اس وقت ایم ٹی اے پر سورۃ آل عمران کی یہ آیت پڑھی جا رہی تھی۔ فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ جَآءُ وْ بِالْبَیِّنٰتِ وَالزُّبُرِ وَالْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ(آل عمران185:) کہ پس اگر انہوں نے تجھے جھٹلا دیا ہے تو تجھ سے پہلے بھی رسول جھٹلائے گئے تھے۔ وہ کھلے کھلے نشان اور الٰہی صحیفے اور روشن کتاب لائے تھے ۔ کہتے ہیں یہ آیت میرے دل کی حالت کے لئے درود و سلام بن گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے پیغام ہے کہ رسولوں کی تکذیب اور ان سے استہزاء تو ہوتا چلا آیا ہے پھر اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایسا ہوا تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن انبیاء کی اس حالت کے باوجود خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے ان کا غالب آنا دنیا کے لئے خدا تعالیٰ کی ہستی کا عظیم ثبوت اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی صداقت کی بیّن دلیل ہے۔ کہتے ہیں یہ سوچ کر میری پہلی حالت جاتی رہی اور خدا کی اس نعمت پر شکر کے جذبات پیدا ہو گئے کہ اس نے اپنے امام الزمان کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی اور اس کے منکرین میں سے نہیں بنایا۔

دیکھیں ایک نیک فطرت کو تو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا لیکن دوسرے کی پتا نہیں یہ حالت نہیں تھی اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں ہوا اور نہ صرف اثر نہیں ہوا بلکہ بدبختی کی وجہ سے گستاخ بھی ہوا اور جس نے بیعت کی تھی اس کی تسلی کے اللہ تعالیٰ نے فوری سامان بھی پیدا فرما دئیے، نہ صرف تسلی کے لئے بلکہ اس کو جو صدمہ پہنچا تھا اس کو دور بھی کر دیا۔

پھر ایک خاتون کا واقعہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی نیک فطرت کی وجہ سے بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے بارے میں جو عمومی دہشتگردی کا تصور ہے اس کی وجہ سے یہ ہمارے سے بھی خوفزدہ تھیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرمائے۔ افریقہ کی ایک گاؤں کی رہنے والی عورت ہیں جو گنی کے ایک بڑے شہر بوکے (Boke) کے قریبی گاؤں میں رہتی ہیں۔ حاجہ آمی فادیگا (Haja Amie Fadiga) ان کا نام ہے۔ کہتی ہیں کہ ایک روز ان کے پاس جماعت احمدیہ کا ایک معلم آیا اور جماعت کی تبلیغ کی اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی دعوت دی۔ ان دنوں وہاں جلسہ ہو رہا تھا۔ کہتی ہیں پیغام تو بظاہر اچھا تھا۔ پہلے میں جلسہ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوئی اور گاڑی میں پٹرول وغیرہ بھی ڈلوایا۔ اچھی کھاتی پیتی عورت تھیں لیکن رہتی گاؤں میں تھیں۔ کہتی ہیں ان دنوں اسلامی تنظیموں کے حوالے سے دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے میں نے سوچا کہ کہیں یہ جماعت بھی ایسی ہی نہ ہو اس لئے جلسہ میں جانے کا ارادہ ترک کر دیا کہ پتا نہیں کیا ہونا ہے وہاں۔ مگر دل میں یہ دعا کرنے لگی کہ اے خدا اگر تو یہ لوگ سچے ہیں تو یہ ہمارے گاؤں میں د وبارہ تبلیغ کے لئے آئیں۔ لکھنے والے کہتے ہیں کہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ عرصہ بعد ہماری تبلیغی ٹیم بغیر پروگرام کے ان کے گاؤں چلی گئی۔ جب اس خاتون نے ہمیں د یکھا تو خوشی سے ان کے آنسو نکل آئے اور کہنے لگی کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی ہے اور اس طرح ساری فیملی بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئی ۔

بعض لوگوں پر اللہ تعالیٰ مہربان ہوتا ہے تو انہیں مالی منفعت کے ذریعہ سے بھی ایمان میں ترقی اور اپنے فرستادے کی قبولیت کی توفیق عطا فرماتا ہے لیکن یہ کوئی شرط نہیں ہے۔ بعض لوگ لکھتے ہیں کہ فلاں کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ فائدہ ہو جائے، یہ میرا کام ہو جائے تو تب میں احمدیت قبول کروں گا۔ احمدیت قبول کرنا، نہ اللہ تعالیٰ پہ احسان ہے، نہ حضرت مسیح موعود پر کوئی احسان ہے۔ اپنی دنیا و عاقبت سنوارنی ہوتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سننا اور سمجھنا اور اسے قبول کرنا ضروری ہے۔ بہرحال ایک واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی پہ فضل کرنا چاہے تو اس شرط کو قبول بھی کر لیتا ہے، اس کا اظہار کرکے اس کو دکھا بھی دیتا ہے۔

گیمبیا کے امیر صاحب کہتے ہیں کہ نیامینی ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں میں ایک خاتون سنتو (Suntu) صاحبہ جماعت کی شدید مخالف تھیں۔ جب بھی ان کے سامنے جماعت کا نام لیا جاتا تو سخت غصہ میں آ جاتیں اور جماعت کے خلاف بڑی سخت زبان استعمال کرتیں اور کہتیں کہ احمدی لوگ کافر ہیں۔ یہ احمدی خود تو دوزخ میں جائیں گے لیکن جو شخص ان کے ساتھ رابطہ رکھے گا وہ بھی دوزخ میں جائے گا۔ موصوفہ کھیتی باڑی کرتی تھیں۔ ان کا زمیندارہ تھا لیکن گزشتہ دو سال سے ان کی فصل خراب ہو رہی تھی۔ کبھی کیڑا لگ جاتا، کبھی دوسرے جانور کھیت میں آ کر ان کی فصل کو خراب کر دیتے۔ بہر حال ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کی کیا وجہ ہے۔ کہتے ہیں ہماری ایک احمدی بہن نے ان کو کہا کہ دیکھو جب سے تم جماعت کی مخالفت کر رہی ہو اس وقت سے تمہاری فصل نہیں ہو رہی اس لئے تم جماعت کی مخالفت چھوڑ کر جماعت میں شامل ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔ چنانچہ موصوفہ کو اسی وقت ہی سمجھ آ گئی۔ انہوں نے کہا چلو تجربہ کرتی ہوں۔ وہ اپنی فیملی کے آٹھ افراد کے ساتھ جماعت میں شامل ہو گئیں۔ جماعت میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت فضل کئے۔ نہ صرف یہ کہ ان کی فصل بھرپور رنگ میں ہونے لگی بلکہ ان کا ایک جوان بیٹا تھا جو گزشتہ کئی سال سے لاپتہ تھا اس کے ساتھ رابطہ ہو گیا جو اٹلی میں تھا۔ اب یہ خاتون ہر کسی کو یہ کہتی ہیں کہ جماعت احمدیہ میں شامل ہو جاؤ کیونکہ اسی میں نجات ہے۔

مبلغ سلسلہ بینن لکھتے ہیں کہ اس سال بارش کے مہینے میں باسیلہؔ شہر میں شدید طوفانی بارش ہوئی جس کی وجہ سے مشن ہاؤس کی ایک دیوار گر گئی ۔ رات کو بھی بارش جاری رہی۔ خطرہ تھا کہ دوسری دیوار بھی گر جائے گی اور کہتے ہیں جماعتی نقصان مشن ہاؤس کا ہو رہا تھا مَیں بڑا پریشان تھا۔ تو مَیں نے دعا کی۔ مجھے خیال آیا (یہ خیال بھی ہمارے مبلغوں کو ہی آ سکتا ہے) کہ اے اللہ اس نقصان کو تُو بیعتوں کے ذریعہ پورا فرما دے اور جماعتی ترقی میں برکت دے۔ کہتے ہیں میں نے ابھی دعا ختم نہیں کی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ رات بارہ بجے کا وقت تھا۔ بارش اور بجلی کی شدید کڑک تھی۔ میں نے فون اٹھایا تو ایک شخص بولا جس کا نام محمد تھا۔ وہ گوچا (Gucha) نامی ایک گاؤں سے بات کر رہا تھا اور اس نے کہا کہ گاؤں والے بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ گاؤں مشن ہاؤس سے جہاں یہ تھے 110 کلومیٹر دور تھا۔ کہتے ہیں بہرحال مَیں ان کے پاس گاؤں میں اگلے دن یا کچھ دن بعد گیا تو وہاں 198 افراد بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے اور بڑی مخالفت بھی ہے وہاں لیکن ہر قسم کی مخالفت کے باوجود ان میں ثبات قدم ہے اور اپنے ایمان پر قائم ہیں۔

جرمنی سے مبلغ لکھتے ہیں کہ ان کا ایک سیرین فیملی سے تقریباً ایک سال سے رابطہ تھا۔ انہوں نے گزشتہ سال جرمنی جلسہ پر بھی شرکت کی، جلسہ کا ماحول دیکھا، بڑے متاثر ہوئے لیکن انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ وہ خود کہتے ہیں یعنی وہ سیرین فیملی کہتی ہے کہ ہم چونکہ اٹلی کے راستے سے جرمنی آئے تھے اس لئے ہمارے وکیل نے کہا تھا کہ آپ لوگوں کا کیس کمزور ہے اور ممکن ہے کہ آپ کو واپس اٹلی بھجوا دیا جائے۔ چنانچہ کہتے ہیں جلسہ کے بعد ہم اسی امید پہ تھے کہ ہمیں کورٹ کا یا حکومت کا خط آ جائے گا کہ واپس جاؤ لیکن گھر پہنچے تو کورٹ کی طرف سے خط آیا ہوا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ یہ ان کو علم ہے کہ ہم اٹلی کے راستے جرمنی آئے ہیں لیکن ساتھ ہی اس خط میں جج کی طرف سے ریمارکس بھی تھے کہ چونکہ آپ لوگ سیرین ہیں اس لئے جرمنی سے کہیں اور بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں میرے لئے یہ بات بڑا معجزہ تھی۔ فوراً دل میں خیال آیا کہ یہ جلسہ میں جانے کی برکت ہے اور مَیں نے اپنی بیوی کو بتایا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں جلسہ میں شامل ہونے پر یہ معجزہ دکھایا ہے۔ پس اس کے بعد ان کے دل میں بیٹھا کہ جماعت کی وجہ سے ہی ہوا ہے تو انہوں نے فوراً بیعت کا فیصلہ کیا اور جماعت میں شامل ہوگئے۔

تو اللہ تعالیٰ کے بھی ہدایت دینے کے عجیب طریق ہیں۔ گو کہ کئی واقعات ایسے ہیں جو مَیں نے بتائے بھی ہیں کہ افریقہ میں تبلیغ اتنی بھی آسان نہیں، کافی مشکل ہے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اَن پڑھ لوگ ہیں، غریب ہیں اس لئے آسانی سے احمدیت قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ بالکل غلط بات ہے۔ ان اَن پڑھوں کو بھی جو ان کے نام نہاد علماء ہیں انہوں نے اپنی روزی روٹی اور انفرادیت قائم کرنے کے لئے عجیب عجیب قسم کے رسم و رواج اور بدعات میں مبتلا کیا ہوا ہے اور ان علماء کے پیچھے چلنے والے ان سے علیحدہ ہونا بھی نہیں چاہتے اور انہی کی وجہ سے جماعت کی مخالفت بھی ہوتی ہے جیسا پہلے بھی ایک دو واقعات میں نے بیان کئے کہ وہاں افریقہ میں مخالفت کرنے والے لوگ بھی ہیں۔ تو بہرحال وہاں بھی احمدیت قبول کرنا اتنا آسان نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی لوگوں کے لئے رہنمائی کے سامان پیدا فرماتا رہتا ہے اور ہمارے مبلغین اور معلمین کے لئے بھی کہ کس طرح انہوں نے تبلیغ کرنی ہے۔

آئیوری کوسٹ کے مبلغ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سان پیدرو (San Pedro) ریجن کے لوکل معلم ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے جس کے نتیجہ میں اس گاؤں کے امام سمیت پندرہ افراد نے احمدیت قبول کر لی۔ بعد میں امام نیشنل جلسہ سالانہ آئیوری کوسٹ میں شامل ہوئے تا کہ جماعت کے افراد کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے۔ جلسہ دیکھ کر بڑے خوش ہوئے اور مسجد کے لئے اپنا ایک پلاٹ بھی پیش کیا۔ لیکن یہ سب لوگ شہر کے ایک بڑے امام کے تابع تھے۔ گاؤں میں پہلے جمعہ کی نماز نہیں ادا کی جاتی تھی باوجود اس کے کہ وہاں امام تھا اور وجہ یہ بتائی جاتی تھی کہ شہر سے بڑے امام کو بلا کر پھر کوئی گائے یا بکری ذبح کر کے اس کی دعوت کی جائے اور پھر جمعہ ہو سکتا ہے۔ نہیں تو جمعہ نہیں ہو سکتا۔ اجازت نہیں ہے۔ تو یہ عجیب و غریب قسم کی بدعات انہوں نے وہاں رائج کی ہوئی ہیں اور بڑے مولوی صاحب جو ہیں جب ان کو فرصت ملتی مختلف جگہوں سے دعوتیں کھانے کے بعد جب ان کا نمبر آتا تبھی کسی گاؤں میں جا کے جمعہ پڑھاتے تھے اور اس وجہ سے جمعہ پڑھنا جو ایک بنیادی فرض ہے ایک مومن کے لئے اس سے ان کو محروم کیا ہوا تھا۔ حدیث میں تو آتا ہے کہ تین جمعے جس نے لگاتار چھوڑے اس کے دل پہ داغ لگ گیا۔ (سنن ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلوات باب فی من ترک الجمعۃ من غیر عذر حدیث 1125)۔ تو بہرحال ان مولوی صاحبان کی یہ اپنی شریعت تھی۔ تو گاؤں کے اس چھوٹے مولوی کو جب یہ بتایا گیا کہ نماز جمعہ کے لئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر اس نے واپس گاؤں جا کر لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم نماز جمعہ ادا کر سکتے ہیں اور اس میں کوئی روک نہیں ہے۔ ضروری نہیں ہے بڑے مولوی کی دعوت ہو تو پھر جمعہ ادا ہو گا۔ اس پر گاؤں کے دوسرے لوگوں نے جو احمدی نہیں ہوئے تھے انہوں نے مخالفت کی اور امام کو اپنی مسجد میں جمعہ پڑھانے کی اجازت نہیں دی۔ اس پر امام نے ایک عارضی چھپر بنا کر چند احمدیوں کے ساتھ مل کر نماز جمعہ ادا کی جس پر پھر ان شرارتی لوگوں نے اس چھپر کو توڑ دیا، گرا دیا۔ تو پھر یہ کہتے ہیں کہ اس پہ مَیں لوکل معلم اور چند احمدی احباب کو ساتھ لے کر گاؤں کے چیف کے پاس گیا اور ساری بات بیان کی۔ چیف نے فیصلہ کیا کہ اگر مسجد والے آپ کو مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے تو آپ کسی دوسری جگہ نماز پڑھ لیں۔ جب دو جگہ نماز ہو گی تو لوگ خود ہی فیصلہ کر لیں گے کس مسجد میں جا کر نماز پڑھیں۔ بہرحال کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس گاؤں میں اب احمدیت کی بدولت باقاعدہ جمعہ کا آغاز ہو گیا ہے اور باوجود مخالفت کے احباب جماعت بڑی ثابت قدمی سے اپنے ایمان پر بھی قائم ہیں اور جمعہ بھی ادا کر رہے ہیں۔

خوابوں کے ذریعہ سے بہت سوں کو اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے۔ دنیا میں ہر جگہ اس طرح رہنمائی ہوتی ہے۔ کنور کیرالہ ہندوستان کے مبلغ انچارج ایک نومبائع کی قبول احمدیت کا واقعہ لکھتے ہیں کہ بیعت سے پہلے وہ نومبائع کافی پریشان رہتے تھے۔ جس پر انہیں کسی نے بتایا کہ آپ کی پریشانی کا حل کثرت سے درود پڑھنا ہے۔ آپ بہت زیادہ درود پڑھا کریں۔ چنانچہ موصوف نے درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دن انہوں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ دیکھا اور ایک خالی قبر کو بھی دیکھا۔ وہاں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عنقریب آپ سے ملاقات ہو گی۔ جب انہوں نے یہ خواب غیر احمدی مولوی کو سنائی تو اس نے کہا یہ مبارک خواب ہے آپ ایک اعلیٰ مقام پر پہنچنے والے ہیں۔ اس خواب کے چند دنوں بعد ایک سفر کے دوران ان کی کسی احمدی سے ملاقات ہوئی جس پر اس احمدی نے کہا کہ آپ کے شہر میں جو مسجد نور ہے وہاں ضرور جائیں۔ چنانچہ اس کے مطابق وہ ایک دن جماعت کی نور مسجد میں آئے اور جمعہ کی نماز میں شامل ہوئے۔ وہاں ان کا جماعت کے ساتھ تعارف ہوا اور باقاعدہ جماعتی کتب کا مطالعہ کرنے لگے۔ پھر بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔ تو کہتے ہیں اس طرح پر واضح ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عنقریب ملاقات کرنے کا مطلب جماعت احمدیہ میں شمولیت تھا ۔

پھر بینن کے مبلغ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے معلم حمدی جبریل صاحب ایک مقامی ریڈیو پر تبلیغ کا پروگرام کیا کرتے ہیں۔ ایک دن ان کے پروگرام میں ایک عورت کی کال موصول ہوئی۔ کہنے لگیں کہ میرے لئے حیرت کی بات ہے کہ مسیح کی آمد ثانی ہو گئی ہے اور ہمیں پتا ہی نہیں۔ میں مسلمان ہوں اور میری فیملی عیسائی ہے اور وہ مجھے اس بات پر لاجواب کر دیتے ہیں کہ مسلمان تو خود کہتے ہیں کہ ان کی ہدایت کے لئے مسیح کی آمد ہو گی تب ان کو ہدایت ملے گی۔ تو وہ کہتی ہے کہ آپ میرے گاؤں آئیں اور ان کو تبلیغ کریں ۔ چنانچہ اس گاؤں میں چند تبلیغی نشستوںسے اس گاؤں کے 227 افراد نے بیعت کر کے احمدیت قبول کر لی۔

جہاں مولوی کا زور چلتا ہے وہاں وہ ڈرا دھمکا کر احمدیت سے دور کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مولویوں کے اس فعل کی وجہ سے لوگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ بہت سے ایسے واقعات ہیں۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں۔ زیمبیا کے شمالی صوبہ کا ایک شہر مپوروکوسو (Mporokoso) ہے اس کے بارے میں وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ اس جگہ پہ گذشتہ سال جماعت کا قیام ہوا۔ وہاں پر مولویوں نے ایک میٹنگ بلائی(۔ وہاں پرانے مسلمان ہیں۔) جس میں مختلف لوگوں کو مدعو کیا گیا جس میں ایک محمد سعید صاحب بھی تھے جن کا ہماری جماعت سے رابطہ تھا لیکن احمدی نہیں ہوئے تھے۔ میٹنگ کے دوران مولوی کہنے لگے کہ ہم قادیانیوں کو کسی قیمت پر ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں بھی یہ لوگ جائیں گے ہم ان کا پیچھا کریں گے اور ان کو ڈرائیں گے دھمکائیں گے اور اگر لوگ جماعت سے پیچھے نہ ہٹے تو ہمیں انہیں جان سے بھی مارنا پڑا تو وہ بھی کر دیں گے۔ ان مولویوں نے سعید صاحب سے کہا کہ تم بھی احمدیوں سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھو۔ (ان کو پتا تھا کہ آنا جانا ہے۔) ان کو دھمکی دی کہ اگر تم نے جماعت احمدیہ کے ساتھ اپنا تعلق نہ کاٹا تو ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ نتیجہ کیا ہوا کہ محمد سعید صاحب مولویوں کی اس میٹنگ کے بعد اپنی فیملی سمیت جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے آ کے کہا اچھا تم مجھے دھمکاؤ مَیں بیعت کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ بھی اس میٹنگ کے بعد شہر کے کوئی 25 افراد نے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ ڈرانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر حق کھل گیا اور جو پہلے احمدی تھے ان سے بھی جماعت کی تعداد مزید بڑھ گئی اور جماعت کی آغوش میں آ گئے۔ یہی حال الجزائر میں ہو رہا ہے جیسا کہ مَیں نے کہا ہے۔ احمدیت کا تعارف بڑھ رہا ہے اور وہاں کے رہنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ ایک وقت آئے گا جب وسیع پیمانے پر لوگ احمدیت میں یہاں بھی شامل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ

پھر ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے امیر صاحب تنزانیہ لکھتے ہیں کہ نیانگا مارا (Nyangamara) میں ایک لمبے عرصے سے جماعت قائم تھی مگر وہاں صرف ایک دو گھرانے احمدی تھے۔ اس سال (یعنی 2016ء میں) مقامی جماعت کے افراد کے تعاون سے وہاں باقاعدہ تبلیغی پروگرام کیا گیا جس میں حاضرین کو خلافت کی اہمیت کے حوالے سے بتایا گیا۔ چنانچہ لوگوں کو خلیفہ وقت کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ان لوگوں نے ایک غیر از جماعت جس کے پاس ڈش اور ٹی وی تھا اس سے درخواست کی کہ وہ اپنے ٹی وی پر ایم ٹی اے لگائے۔ چنانچہ اس نے ایم ٹی اے لگایا اور لوگوں کو ٹی وی پر خلیفۃ المسیح کو دیکھنے کا موقع ملا۔ اس طرح جماعت کے لئے تبلیغ کا نیا رستہ کھل گیا ۔ کہتے ہیں اس سال (اسی سال جس سال کا ذکر ہو رہا ہے یعنی 2016ء میں) ہمارا وفد اگلے مہینہ دوبارہ ان کے ہاں تبلیغ کے لئے گیا تو ایک مولوی نے پروگرام کے دوران فتنہ ڈالنے کی کوشش کی اور ہمیں لگا کہ شاید یہ پروگرام کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ لیکن خدا کی نصرت ایسی ہوئی کہ تبلیغی پروگرام اور سوال و جواب کے بعد مقامی لوگوں میں سے بعض جنہوں نے ابھی تک بیعت نہیں کی تھی ان مولوی صاحب کو کہنے لگے کہ اگر احمدی کافر ہیں تو ہم بھی احمدی ہیں۔ تم اس گاؤں سے نکل جاؤ، احمدی نہیں نکلیں گے۔ چنانچہ مولوی کی اس مخالفت کی وجہ سے لوگوں کا جماعت کی طرف زیادہ رجحان ہوا اور کُل 38 افراد نے احمدیت کو قبول کرنے کی سعادت پائی اور نئی بیعت کرنے والوں میں سے ایک نے اپنا ایک پلاٹ بھی مسجد کے لئے وقف کیا اور ایک نو مبائع نے کہا کہ چونکہ میرا گھر بڑا ہے نیز دوسرے دوستوں کے گھروں کے قریب بھی ہے اس لئے مسجد بننے تک نماز باجماعت میرے گھر میں ادا کی جائے چنانچہ اب روزانہ اس جگہ جماعت کے دوست اکٹھے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔

تو اس قسم کے بہت سے واقعات ہیں جہاں مخالفت کی وجہ سے یا لالچ دے کر بھی احمدیت سے دور ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے یہ کام ہیں جیسا کہ پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔ خود لوگ بعض جگہ تعارف حاصل کر کے آتے ہیں ا ور ہم ان چیزوں کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بات کو بھی پورا ہوتا دیکھتے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں کہ ’’یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ آپ ہی کیا کرتا ہے‘‘۔ پھر فرماتے ہیں کہ ’’ٹھنڈی ہوا چل پڑی (ہے)۔ اللہ تعالیٰ کے کام آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں‘‘۔ ہوں گے اور ضرور ہوں گے لیکن آہستہ آہستہ ہو رہے ہیں اور ہوتے چلے جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ تو مسلمانوں کو بجائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کرنے کے اس بات پر غور کرنا چاہئے جو آپ نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یاد رکھو کہ ’’اگر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہ ہوتی تاہم زمانہ کے حالات پر نظر کر کے مسلمانوں پر واجب تھا کہ وہ دیوانہ وار پھرتے اور تلاش کرتے کہ مسیح اب تک کیوں نہیں کسر صلیب کے لئے آیا۔‘‘ اب بجائے اس کے کہ مخالفت کرتے تلاش کرنا چاہئے تھا۔ زمانہ اس بات کا تقاضا کر رہا تھا کہ تلاش کیا جائے۔ فرمایا کہ’’ اگر مُلّانوں کو بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہبودی مدّنظر ہوتی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے جیسا ہم سے کر رہے ہیں۔ ان کو سوچنا چاہئے تھا کہ انہوں نے ہمارے خلاف فتویٰ لکھ کر کیا بنا لیا ہے۔ جسے خدا تعالیٰ نے کہا کہ ہو جائے اسے کون کہہ سکتا ہے کہ نہ ہو‘‘۔ فرمایا کہ ’’یہ لوگ جو ہمارے مخالف ہیں یہ بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں‘‘۔ مخالفین بھی ہمارے نوکر چاکر ہیں ’’کہ کسی نہ کسی رنگ میں ہماری بات مشرق و مغرب تک پہنچا دیتے ہیں‘‘۔

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 397-398۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

بعض واقعات جو میں نے بیان کئے اور الجزائر اور پاکستان میں بھی لوگ یہی ظاہر کرتے ہیں کہ مخالفت کی وجہ سے احمدیت کا تعارف مزید بڑھ رہا ہے۔ پس ہمیں مخالفت سے کوئی فکر نہیں۔ چاہے الجزائر ہو یا پاکستان یا کوئی اور مسلمان ملک۔ ہماری تبلیغ ان مخالفین کے ذریعہ پہلے سے بڑھ کر ہو رہی ہے اور احمدیت کا تعارف حاصل ہو رہا ہے۔

مخالفین کو اور علماء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس بات پر غور کرنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’یاد رکھو کہ اگر مجھے قبول نہ کرو گے تو پھر تم کبھی بھی آنے والے موعود کو نہیں پاؤ گے‘‘۔ پھر فرمایا ’’میری نصیحت ہے کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دو اور خدا ترسی سے ان باتوں پر غور کرو اور تنہائی میں سوچو اور آخر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ وہ دعاؤں کو سنتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 176۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

اگر نیک نیتی سے دعائیں کرو گے تو وہ دعاؤں کو سنے گا اور رہنمائی کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ لوگ اس قابل ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ ان کے سینے کھولے۔

نماز کے بعد مَیں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرم حاجی نوح سوین ہینسن (Naji Nuh Svend Hasen) صاحب کا ہے۔ یہ ڈینش احمدی تھے۔ پرسوں ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّالِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ 28ء جون 1929ء کو کوپن ہیگن میں پیدا ہوئے۔ مذہبی لحاظ سے ان کا تعلق لوتھرن چرچ سے تھا۔ ڈنمارک کے ایک مشہور فلاسفر اور ڈینش ریفارمر گرونڈوِگ (Grundtvig) سے بہت متاثر تھے اور زمیندارہ خاندان سے ان کا تعلق تھا۔ ہینسن صاحب نے 1951ء میں ٹیکنیکل یونیورسٹی ڈنمارک میں کیمیکل انجنیئرنگ میں ایم۔ایس۔ سی کی پھر ملائیشیا میں ملازمت کے لئے چلے گئے۔ 26؍جنوری 1956ء میں اسلام قبول کیا اور اسلام قبول کرنے کی ابتدائی وجہ ایک مسلمان خاتون سے شادی کرنا تھی۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے خود ہی اسلام کا بڑا گہرا مطالعہ کیا اور پھر دل و جان سے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کیا۔ 1964ء میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ پہلا حج کرنے کی توفیق پائی اور وہاں انہوں نے نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی کہ حج کی ادائیگی میں جو خامیاں اور کمزوریاں رہ گئی ہیں اے خدا تو انہیں معاف فرما دے اور جب میں روحانی لحاظ سے بہتر ہو جاؤں تو مجھے ایک بار پھر حج کی توفیق عطا فرما۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا اس رنگ میں قبول فرمائی کہ انہیں احمدیت کے قبول کرنے کی توفیق ملی اور پھر احمدیت قبول کرنے کے بعد ایک بار پھر انہوں نے حج کیا اور متعدد عمرے کئے۔ 1965ء میں آپ کا تعلق جماعت سے قائم ہوا۔ حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ 1968ء میں جب وقف عارضی کے لئے ڈنمارک تشریف لے گئے تو موصوف چوہدری صاحب کے ساتھ کافی رہے۔ اس وقت تک بیعت نہیں کی تھی لیکن احمدیت کی تعلیم سے متاثر ہو رہے تھے۔ کچھ سوالات ان کے ذہن میں تھے ۔ 1969ء میں پاکستان کا سفر کیا۔ حضرت چوہدری صاحب کے ہاں قیام کیا اور سفر کے دوران ربوہ بھی گئے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف ملا۔ اس وقت تک آپ احمدیت کا بڑا گہرا مطالعہ کر چکے تھے لیکن پوری طرح تسلی نہیں ہوئی تھی تو حضور رحمہ اللہ سے ملاقات کرنے کے دوران آپ نے ان سے چند سوالات بھی پوچھے اور اس وجہ سے پھر کہتے ہیں کہ وہیں احمدیت کی حقیقت مجھ پر آشکار ہو گئی۔ چنانچہ واپس آ کر 7؍اپریل 1969ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت میں اپنی بیعت کا خط بھجوایا اور احمدیت میں شامل ہوئے۔ پھر قادیان بھی ان کو جانے کا شرف حاصل ہوا اور وہاں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر کھڑے ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچایا۔ 74ء سے 88ء تک نیشنل سیکرٹری مال ڈنمارک کے عہدے پر خدمت کی توفیق پائی اور اس نظام کو بہتر کیا۔ 85ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو امیر جماعت ڈنمارک مقرر فرمایا۔ اس سے پہلے آپ 27؍ اپریل 83ء کو نائب امیر مقرر ہوئے تھے۔ حضرت چوہدری ظفراللہ خان صاحب سوین ہینسن صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی بیوی ملایاؔ کی مسلمان ہیں۔ میاں بیوی محض رسمی مسلمان نہیں بلکہ مخلص اور پابند صوم و صلوٰۃ ہیں۔ چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار نے کم کسی مغربی مسلمان کو اسلام کی اقدار میں اس قدر رچا ہوا دیکھا ہے۔

ان کو قرآن کریم کی اشاعتِ نَو اور ٹرانسلیشن کی بھی توفیق ملی۔ 1989ء میں ڈینش قرآن کریم کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن کمپیوٹرائزڈ کمپوزنگ کے ساتھ شائع ہوا۔ اس میں سوین ہینسن صاحب نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ میڈسن صاحب کے ساتھ مل کر ان کی بہت مدد کی۔ 1986ء سے لے کر دو سال پہلے تک جب تک ان کی صحت رہی تقریباً ہر سال یہاں یوکے میں جلسے پر آتے تھے اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کے زمانے میں جو انٹرنیشنل شوریٰ ہوتی تھی وہاں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی معاونت کا بھی ان کو اعزاز ملا۔یہ سکینڈے نیوین ممالک کے مشترکہ رسالہ "Aktive Islam” کے ایڈیٹر بھی رہے ۔ 1981ء کو پہلے زعیم اعلیٰ انصار اللہ ڈنمارک کا انتخاب ہوا تو سوین ہینسن صاحب بطور زعیم منتخب ہوئے اور 1986ء تک رہے۔ سوین ہینسن صاحب کی اہلیہ احمدی نہیں تھیں بلکہ بہت زیادہ مخالف تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے ان سے ہمدردی اور شفقت کا سلوک رکھا لیکن جماعتی خدمات میں بھی کوئی کمی نہیں آنے دی۔ چندہ میں بڑے باقاعدہ تھے۔ مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے اور اگر مزید گنجائش نکلتی تو جماعتی ضروریات کے لئے ایک الگ اکاؤنٹ میں رقم ڈال دیتے تھے۔ جب ڈنمارک سے ریٹائرڈ ہو کر جانے لگے تو اپنی کار بھی مشن کو دے دی۔ ان کی مالی قربانیوں کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ایک خط میں تحریر فرمایا تھا کہ سوین ہینسن صاحب کی قربانی قابل تقلید ہے۔ یہ ماشاء اللہ شروع سے ہی اخلاص و ایثار کا مرقع ہیں اور مالی قربانی کے لحاظ سے نمونہ ہیں۔ کبھی ان کو یاددہانی کی ضرورت نہیں پڑی۔ آگے لکھتے ہیں کہ خدا کرے کہ باقی جماعت کے دوست بھی انہی کی طرح ہوجائیں تو پھر سیکرٹری مال کا کام صرف ریکارڈ رکھنا ہو جائے اور یاددہانیوں پر اسے وقت صَرف نہ کرنا پڑے۔ اور خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔

اب نماز کے بعد مَیں جنازہ پڑھاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی بیوی اور بچوں کو بھی احمدیت قبول کرنے اور احمدیت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button