خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 19؍دسمبر 2025ء
’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے، اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تامّ کا نمونہ علماً و عملاًو صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا۔ … وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخرالنبییّؐن جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
نمونے تو وہی بنا کرتے ہیں جو کسی چیز کے اعلیٰ مقام پر ہوں۔ جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے چاہے یہاں خدا تعالیٰ کے حقوق کا سوال ہو یا بندوں کے حقوق کا آپؐ ان دونوں میں وہ اعلیٰ مقام رکھتے تھے جس کی اللہ تعالیٰ نے گواہی دی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا کہ یہ رسول تمہارے لیے اسوہ ہے۔ صرف اس کی باتیں نہ سنو بلکہ اس پر عمل بھی کرو۔ ایمان لے آنا کافی نہیں ہے۔ اور جب تم عمل کرو گے تو یقیناً تم وہ مقام حاصل کر سکو گے جس کے لیے میں نے یہ رسول بھیجا ہے
یہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ آپؐ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔ اس لیے ہمیں آپؐ کی زندگی کو اپنے لیے وہ مقام دینا چاہیے کہ ہم آپؐ کی ہر بات پر عمل کریں اورآپؐ کی ہر بات قرآن کریم کے احکامات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس ہر جو اخلاق کی صفت ہے جو کسی انسان میں ہو سکتی ہے یا ہونی چاہیے یا جو اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں ان کا اصل نمونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
آپؐ اللہ تعالیٰ کا جو حق تھا یعنی عبادت کا حق اسے کبھی نہیں بھولے۔ یہ بہت بڑی اور اہم بات ہے۔ اس دوران آپؐ کو مشکلات بھی پیش آئیں۔ جنگوں کے لیے بھی جانا پڑا۔ دشمن نے حملے بھی کیے لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے میں آپؐ نے کبھی کمی نہیں کی
آپؐ نے فرمایا کہ اخلاقِ فاضلہ نام ہے طبعی قویٰ کے صحیح استعمال کا۔ اور طبعی قویٰ کو مار دینا حماقت ہے۔ ان کو ناجائز کاموں میں لگا دینا بدکاری ہے اور ان کا اصل اور صحیح استعمال نیکی ہے۔ یہ خلاصہ ہے آپؐ کی تعلیم کا اور یہی خلاصہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی کا۔ اور یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم اسوہ کے طور پر اسے اپناؤ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا موقع پیش نہیں آیاکہ آپؐ کے سامنے دو راستے کھلے ہوں اور آپؐ نے ان دونوں راستوں میں سے آسان راستہ اختیار نہ کیا ہو بشرطیکہ آسان راستہ اختیار کرنے میں کوئی گناہ کا شائبہ نہ پایا جائے
جب آپؐ کو خدا تعالیٰ نے بادشاہت عطا فرما دی تب بھی آپؐ ہر ایک کی بات سنتے تھے۔ اگر کوئی سختی بھی کرتا تو آپؐ خاموش ہو جاتے تھے اور کبھی سختی کرنے والے کا جواب سختی سے نہیں دیتے تھے
تحمّل کی یہ حالت تھی کہ بعض دفعہ آپؐ کسی کام کے لیے باہر نکلتے تو بعض لوگ آپؐ کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیتے۔ اُس وقت تک آپ کھڑے رہتے جب تک وہ اپنی بات ختم نہیں کر لیتے تھے۔ پھر آپؐ آگے چل پڑتے
عبادات اوراخلاقِ فاضلہ کے تناظر میں سیرتِ نبوی ﷺ کا پاکیزہ اور دلنشین تذکرہ
مکرم لئیق احمد طاہر صاحب (مربی سلسلہ یوکے )اورمکرم سیگا جالو صاحب (نائب صدر ریجن سیگو۔ مالی) کا ذکرخیر اور ان کی نماز جنازہ حاضر و غائب
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 19؍دسمبر 2025ء بمطابق 19؍فتح 1404 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰہَ كَثِيْرًا (الاحزاب:22)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ یقیناًً تمہارے لیے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ اور آپؐ کے اسوہ کے بارے میں کچھ بتائیں تو حضرت عائشہ نے جواب دیا: کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا؟ اس میں تو اللہ تعالیٰ نے خود آپؐ کے اسوہ کے بارے میں گواہی دے دی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۔ (القلم : 5) کہ اے رسول!تُو یقیناً اخلاق کے اعلیٰ ترین مقام پر ہے۔
(مسند احمد بن حنبل جلد8 صفحہ 144-145، مسند عائشہؓ، عالم الکتب بیروت)
پس
نمونے تو وہی بنا کرتے ہیں جو کسی چیز کے اعلیٰ مقام پر ہوں۔ جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے چاہے یہاں خدا تعالیٰ کے حقوق کا سوال ہو یا بندوں کے حقوق کا۔ آپؐ ان دونوں میں وہ اعلیٰ مقام رکھتے تھے جس کی اللہ تعالیٰ نے گواہی دی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فرمایا کہ یہ رسول تمہارے لیے اسوہ ہے۔ صرف اس کی باتیں نہ سنو بلکہ اس پر عمل بھی کرو۔ ایمان لے آنا کافی نہیں ہے۔ اور جب تم عمل کروگے تو یقیناً تم وہ مقام حاصل کر سکوگے جس کے لیے میں نے یہ رسول بھیجاہے۔
پس یہ ذمہ داری ہے ہر مسلمان کی، مومن کی۔ دنیا میں لوگ ایسے ہیں جو چند ایک، تھوڑی سی اچھی باتیں کرلیتے ہیں یا کوئی ایسا کام کر لیتے ہیں جس کی مشہوری ہو جاتی ہے اور ان کے نام بڑے روشن ہوتے ہیں۔ بڑے انعام اور ان کو reward دیے جاتے ہیں۔ کسی کو نوبیل انعام مل رہا ہے، کسی کو کچھ انعام مل رہا ہے، لیکن یہ انعام کسی کمیٹی یا حکومت کی طرف سے ہوتا ہے جو اس کام کےلیے مقرر کی گئی ہوتی ہے مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ پوری قوم نے کوئی ایسی بات کی ہو جو متفقہ ہو۔
اصل انعام تو وہ ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے پہلے جوانی ہی میں لوگوں نے صادق اور امین کہہ کر دیا تھا۔
(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام صفحہ 155، حدیث بنیان الکعبۃ و حکم رسول اللّٰہ ﷺ بین قریش…، دار الکتب العلمیۃ بیروت)
( صحیح البخاری کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ (تبت یدا ابی لھبٍ)، باب : قولہ: و تب… الخ، حدیث 4972)
یعنی
آپؐ کو انعام کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن لوگوں کی نظر میں آپؐ اس مقام پر پہنچے ہوئے تھے جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے اور پوری قوم نے آپ کویہ خطاب دیا تھا۔ پس یہ وہ مقام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی فرمایا ہے کہ تم لوگ میری سنت کی پیروی کرو، میرے عملوں پر چلو۔
(سنن ابی داؤدکتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ حدیث 4607 )
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری اصلاح کے لیے بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ
اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی جزء 10 صفحہ 318، کتاب الشھادات /جماع ابواب من تجوز شھادتہ و من لا تجوز، باب بیان مکارم الاخلاق و معالیھا … حدیث 21379، مکتبۃ الرشد۔ الریاض)
پس
اخلاق کی تکمیل وہی کرتا ہے جو ان سب صفات کا حامل ہواور اس میں ساری صفات پائی جاتی ہوں۔
جیسا کہ میں نے کہا
یہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ آپؐ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہیں۔ اس لیے ہمیں آپؐ کی زندگی کو اپنے لیے وہ مقام دینا چاہیے کہ ہم آپؐ کی ہر بات پر عمل کریں اورآپؐ کی ہر بات قرآن کریم کے احکامات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ پس ہر جو اخلاق کی صفت ہے جو کسی انسان میں ہو سکتی ہے یا ہونی چاہیے یا جو اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں ان کا اصل نمونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓنے بھی دیباچہ تفسیر القرآن میں آپؐ کے اخلاق کے بارے میں، آپؐ کی سیرت کے بارے میں بعض باتیں پیش کی ہیں اور ہماری سیرت کی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ کچھ میں آج مختصر بیان کرتا ہوں۔ آئندہ جب بھی موقع ملے گا ان کی تفصیل بھی بیان کرتا جاؤں گا۔
پہلی بات تو اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کاحق۔
اس میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اسوہ نظر آتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی عشقِ الٰہی میں
ڈوبی ہوئی ہے
باوجود اس کے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داریاں تھیں۔ نئی شریعت کو جاری کرنا تھا اور لوگوں کی تربیت کرنی تھی جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ جاہلوں کو انسان بنایا، تعلیم یافتہ انسان بنایا، باخدا انسان بنایا۔
(ماخوذازلیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد20صفحہ 206)
یہ بہت بڑا کام تھا لیکن
آپؐ اللہ تعالیٰ کا جو حق تھا یعنی عبادت کا حق اسے کبھی نہیں بھولے۔ یہ بہت بڑی اور اہم بات ہے۔ اس دوران آپؐ کو مشکلات بھی پیش آئیں۔ جنگوں کے لیے بھی جانا پڑا۔ دشمن نے حملے بھی کیے لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے میں آپ نے کبھی کمی نہیں کی۔
پس
یہ وہ اسوہ ہے جو ہمارے سامنے بھی ہے کہ ہم ہرحال میں اللہ تعالیٰ کو سامنے رکھیں اور جب ہم اللہ تعالیٰ کو سامنے رکھیں گے تو ہمارے مختلف مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔
لوگ پوچھتے ہیں ہمارے یہ مسائل ہیں، وہ مسائل ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم نے اِس طرح دعا کی، اُس طرح دعا کی، اپنے مسائل کے لیے دعا کرتے ہیں لیکن ہم اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کرتے اس لیے پھر انسان محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرا بھی تو حق ادا کرو۔
آپؐ کے عبادتوں کے معیار کیا تھے ؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات گزرنے پر خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے اور اس کی اللہ تعالیٰ نے بھی گواہی دی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ میں نے ایک دفعہ ایسے موقع پر جب آپؐ عبادت کے لیے کھڑے تھے آپؐ کو کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! خدا تعالیٰ کے تو آپ پہلے ہی مقرب ہیں پھر آپؐ اپنے نفس کو اتنی تکلیف میں کیوں ڈالتے ہیں کہ رات کو زیادہ حصہ عبادت میں گزار دیتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا رہے ہوتے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا :
اے عائشہ! اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا۔
(ماخوذازدیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوم جلد20صفحہ 382)
یہ سچی بات ہے کہ میں خدا تعالیٰ کا مقرب ہوں اور خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کرکے مجھے یہ قرب عطا فرمایا ہے۔تو کیا میرا فرض نہیں کہ جتنا ہو سکے میں اس کا شکر ادا کروں کیونکہ آخر شکر احسان کے مقابلے پر ہی ہوا کرتا ہے۔
یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر جو فضل فرمایا تھا کہ آپؐ کو آخری شرعی نبی بنایا۔ آپؐ پر آخری کتاب مکمل کی۔ شریعت مکمل کی۔ اس پر آپؐ نے یہ بات کی ہے کہ میں شکر نہ ادا کروں اور اپنی حالت کے مطابق ہر انسان پر اللہ تعالیٰ نے بہت فضل فرمائے ہوئے ہیں اور اس شکر گزاری کا حق ہے کہ ہم اپنی عبادتوں کا معیار اونچا کریں۔ لوگ سوال کر دیتے ہیں، نوجوان بھی آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کس طرح کریں؟ اللہ تعالیٰ کو ہماری عبادتوں کی کیا ضرورت ہے؟ یہ بھی سوال اٹھتا رہتا ہے۔ آج کل کی دنیا سے متاثر ہو کر بچے بھی یہ سوال کر رہے ہیں تو یہی جواب ہے کہ
اللہ تعالیٰ کو تمہاری عبادتوں کی ضرورت نہیں ہے لیکن جو اللہ تعالیٰ کے تم پر دینی اور دنیاوی احسانات ہیں، کیا یہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتے کہ تم اس کے احسانوں کا شکریہ ادا کرو اور عبد شکور بنو۔
اسی طرح آپؐ کی سیرت میں یہ واقعہ بھی ملتا ہے کہ
جب آپؐ خدا تعالیٰ کا کلام سنتے تو بے اختیار ہو کر آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے خصوصاً وہ آیات جن میں آپؐ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا کہ مجھے قرآن شریف پڑھ کے سناؤ۔ وہ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! قرآن کریم تو آپؐ پر نازل ہوا ہے میں آپؐ کو کیا سناؤں؟ آپؐ نے فرمایا :مَیں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے لوگوں سے بھی قرآن کریم پڑھوا کر سنوں۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ اس پر میں نے سورہ نساء پڑھ کر سنانی شروع کی۔ جب میں پڑھتے پڑھتے اس آیت پر پہنچا کہفَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّجِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا۔ (النساء:42) یعنی اس وقت کیا حال ہو گا جب ہم ہر قوم میں سے اس کے نبی کو اس کی قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس قوم کا حساب لیں گے اور تجھ کو بھی تیری قوم کے سامنے کھڑا کر کے اس کا حساب لیں گے تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :بس کرو، بس کرو۔ صحابی ؓکہتے ہیں میں نے آپؐ کی طرف دیکھا تو آپؐ کی دونوں آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہ رہے تھے۔اتنی خشیت آپؐ پر طاری ہو گئی اور اس وقت آپؐ کو یقیناً قوم کی بھی فکر ہو گی کہ میری قوم کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنے اور پھر مجھے ان کے خلاف گواہی دینی پڑے۔ پس
اس میں سے ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ جہاں آپؐ کی گواہی کے لیے اَور بہت ساری باتیں ہیں وہاں ہمیں ڈرنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کہیں ہمارے خلاف نہ ہو۔
ہماری حقیقت ایسی ظاہر نہ ہو جائے جو ہمارے گناہوں کو ظاہرکر دے اور ہم اللہ تعالیٰ کی سزا کا مورد بن جائیں۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔ ہمیں بھی ان عبادتوں کے حق ادا کرنے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ سے وہ محبت کرنی چاہیے جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تلقین فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں اس کا حکم دیا ہے۔
نماز کی پابندی دیکھ لیں۔
اس کا آپؐ کو اتنا خیال تھا کہ آخری دنوں میں سخت بیماری کی حالت میں بھی جب نماز لیٹ کے پڑھ لینے کی اجازت ہوتی ہے تاریخ میں آتا ہے کہ آپؐ لوگوں کا سہارا لے کر مسجد کی طرف گئے اور ایک دن آپؐ نہیں آ سکے تو آپؐ نے حضرت ابوبکر ؓکو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ اس دوران
آپؐ نے دیکھا کہ آپؐ کی طبیعت میں کچھ بہتری ہے تو فوراً دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد کی طرف چل پڑے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس حالت میں بھی یہ حال تھا کہ آپؐ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔
(ماخوذازدیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوم جلد20صفحہ383)
لیکن نماز باجماعت کی اہمیت آپؐ کے پیش نظر تھی، امت کو دکھانا چاہتے تھے۔ اس لیے آپؐ نے وہ تکلیف برداشت کی۔ پاؤں گھسیٹتے ہوئے وہاں مسجد چلے گئے، اپنی بیماری کی پرواہ نہیں کی۔ تو یہ ہے آپؐ کا اللہ تعالیٰ کی محبت کا حال۔ اور اس حوالے سے لوگوں کی تربیت بھی کس طرح فرماتے تھے۔ ایک تو نمازوں کی پابندی کی طرف توجہ ہے۔ پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی، اس کا مقام لوگوں کو کس طرح باور کرانا ہے، کس طرح تربیت کرتے تھے۔
عربوں میں یہ رواج تھا کہ توجہ دلانے کے لیے تالیاں پیٹی جاتی تھیں اور یہ رواج اس زمانے میں تو عام تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رواج کو ختم کرکے فرمایا کہ اس کی جگہ ذکر الٰہی ہونا چاہیے۔
اس بارے میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام میں مشغول تھے نماز کا وقت ہو گیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ابوبکر کو کہیں کہ نماز پڑھا دیں۔ اتنے میں آپؐ وہاں سے فارغ ہو گئے اور فوراً مسجد کی طرف چل پڑے۔ جب آپؐ مسجد پہنچے تو حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپؐ مسجد میں آ گئے ہیں تو نماز پڑھنے والوں نے بیتاب ہو کر تالیاں پیٹنی شروع کر دیں۔ اس سے ایک طرف تو یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ان کے دل بےانتہا خوش ہو گئے ہیں اور دوسری طرف حضرت ابو بکر ؓکو توجہ دلانا مقصود تھا کہ اب آپ کی امامت ختم ہوگئی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓپیچھے ہٹ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے امام کی جگہ چھوڑ دی۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر !جب میں نے تمہیں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو پیچھے کیوں ہٹ گئے تھے؟ حضرت ابو بکرنے عرض کیا۔ کیا اخلاص ہے۔
یا رسول اللہؐ !اللہ کے رسول کی موجودگی میں ابوقحافہ کا بیٹا کیا حیثیت رکھتا تھا کہ نماز پڑھائے؟
پھر آپؐ صحابہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تالیاں پیٹنے سے تمہاری کیا غرض تھی؟ خدا کے ذکر میں تالیوں کو پیٹنا مناسب نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے جب نماز کے وقت کوئی ایسی بات ہو کہ اس کی طرف توجہ دلانی ضروری ہو تو بجائے تالیاں پیٹنے کے خدا کا نام بلند آواز سے لیا کرو۔ سبحان اللہ کہنا چاہیے۔ جب تم ایسا کرو گے تو خود بخود دوسروں کی توجہ اس واقعہ کی طرف پھر جائے گی۔
اسی طرح
آپؐ تکلّف کی عبادت بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
باوجود اتنی عبادتوں کی طرف توجہ دلانے کے، آپؐ کہتے تھے تکلّف نہیں ہونا چاہیے۔ ایک دفعہ آپؐ گھر میں گئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹکی ہوئی ہے۔ آپؐ نے پوچھا یہ رسی کیوں باندھی ہوئی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت زینبؓ کی رسی ہے۔ جب وہ عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو اِس رسی کو پکڑ کر سہارا لے لیتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسانہیں کرنا چاہیے۔ یہ رسی کھول دو۔ ہر شخص کو چاہیے کہ اتنی دیر عبادت کیا کرے جب تک اس کے دل میں بشاشت رہے۔ جب وہ تھک جائے تو بیٹھ جائے۔اس قسم کی تکلّف والی عبادت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
(ماخوذازدیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوم جلد 20صفحہ 384)
اس سے ایک تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کی تربیت کے زیر اثر صحابیاتؓ اور آپؐ کے اہل خانہ اور گھر والے بھی عبادت کا شوق رکھتے تھے اور اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتے تھے۔ دوسری طرف آپؐ نے یہ بھی فرما دیا کہ تکلیف میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آرام سے عبادت کرو۔لیکن آجکل کے لوگوں کے لیے یہ بھی بتا دوں
اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے جوبعض دفعہ آجکل کےلوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ تکلیف میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے جلدی جلدی نماز پڑھو اور ایک فرض ہے ادا کرو، گلے سے اتارو اور اس بات کا یہ بالکل الٹ مطلب لینا شروع کر دیا ہے کہ اپنی سہولت پیدا کرو۔
آجکل بعض نماز پڑھنے والے عبادت کے لیے آتے ہیں اور چند منٹوں میں نماز پڑھی اور فارغ ہو گئے۔ یا گھروں میں نماز پڑھتے ہیں تو چند منٹوں میں فارغ ہو گئے۔ کئی دفعہ مجھے یہاں بھی لوگ سوال پوچھ لیتے ہیں کہ نماز کس طرح پڑھنی چاہیے ؟تو
نماز اسی طرح پڑھنی چاہیے کہ اسے سنوار کے پڑھو۔
اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے کہ ایک صحابی ؓکو آپؐ نے تین چار دفعہ نماز پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ وہ آپؐ کی مجلس میں لیٹ آیا تھا۔ آپؐ مجلس میں نماز پڑھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ نماز باجماعت ہو چکی تھی اور مجلس لگی ہوئی تھی۔ ہر دفعہ وہ صحابیؓ نماز پڑھتے اور آپؐ کے پاس آتے تو آپؐ فرماتے: دوبارہ جاؤ اور نماز پڑھو۔ پھر وہ نماز پڑھ کے آتے تو آپؐ پھر فرماتے :دوبارہ جاؤ نماز پڑھو۔ اس طرح تین چار دفعہ آپؐ نے ان کو نماز پڑھنے کی تلقین کی۔ جب انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اس سے بہتر نماز پڑھنے کا طریق نہیں آتا، آپؐ فرمائیں کس طرح پڑھنی ہے تو آپؐ نے فرمایا :
نماز آرام آرام سے پڑھو۔ اللہ کا ذکر کرو۔ درود پڑھو۔ توحید اورتحمیدکا ذکر ہو۔ رکوع اور سجدے بھی صحیح طرح ہونے چاہئیں۔
(صحیح البخاری کتاب الاذان باب امرالنبیﷺ الذی لا یتم رکوعہ بالاعادۃ…حدیث نمبر793)
پس اس بات کو بھی یاد رکھیں۔ یہ بات نہیں ہےکہ سہولت سے نماز پڑھ لی کا مطلب یہ ہے کہ جلدی جلدی پڑھ لی کیونکہ ایک روایت میں آ گیا ہے کہ آسانی سے نماز پڑھو۔ ہمیں نیند آ رہی تھی تو ہم نے جلدی جلدی دو منٹ میں نماز پڑھ لی۔ سُکاریٰکی حالت میں نماز پڑھنا تو ویسے ہی منع ہے۔ یہ جائز نہیں ہے بلکہ جب نماز پڑھنی ہے تو اس کا بھی حق ادا کرنا ہے۔ اس کی بھی آپ نے تلقین فرمائی ہے۔
شرک سے آپؐ کو اس قدر نفرت تھی
کہ وفات کے وقت جب آپؐ آخری وقت کی تکلیف میں مبتلا تھے تو آپؐ کبھی دائیں کروٹ لیٹتے اور کبھی بائیں کروٹ لیٹتے اور یہ فرماتے جاتے تھے کہ خدا ان یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیاہے۔
(ماخوذازدیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوم جلد20صفحہ 385)
یعنی وہ نبیوں کی قبروں پر سجدے کرتے ہیں اور ان سے دعائیں کرتے ہیں۔ آپؐ کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم اگر میرے بعد ایسا فعل کرے گی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ میری دعاؤں کی مستحق ہو گی بلکہ میں اس سے کُلّی طورپر بیزار ہوں گا۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے اللہ تعالیٰ گواہی مانگے گا۔
اب دیکھ لیں مدینہ میں تو آپؐ کے مزار مبارک پر حکومت نے اسی وجہ سے بڑی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔کسی کو بھی سجدہ کرنے نہیں دیتے۔ قریب بھی نہیں آنے دیتے۔ لیکن بہت سارے مسلمان ملکوں میں پیروں فقیروں کے درباروں پر سجدے کیے جاتے ہیں اور بزرگوں سے منتیں مانگی جاتی ہیں۔ یہ جو طریقہ ہے یہ شرک ہے۔ جس چیز سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہےاور اپنے لیے منع فرمایا ہے تو پھر کسی اَور پیر فقیر یا بزرگ کا کیا حق بنتا ہے کہ اس کی قبر پر سجدہ کیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو مان کر ان چیزوں سے تو اپنے آپ کو بچا لیا ہے لیکن عبادتوں کے معیار بہرحال ہم نے حاصل کرنے ہیں لیکن غیروں میں جو دوسرے مسلمان ہیں ان میں یہ بہت رواج ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر بھی رحم کرے اور ان کو عقل اور سمجھ دے کہ وہ اس شرک سے باز آ جائیں۔
خدا تعالیٰ کے حضور انکساری
کی یہ حد تھی کہ جب لوگوں نے آپؐ سے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپؐ تو اپنے عمل کے زور سے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کر لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو سند عطا فرما دی ہے اور آپؐ کے اخلاق کی تعریف کی ہے اور آپؐ کے اسوہ کو مسلمانوں کے لیے عمل کا ایک معیار قرار دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپؐ کے اعمال ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو بخش دے گا یا بخش دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں نہیں! مَیں بھی خدا کے احسان سے ہی بخشا جاؤں گا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرما رہے تھے کہ
کوئی شخص اپنے عملوں سے جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ!کیا آپ بھی اپنے عملوں سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے ؟آپؐ نے فرمایا: مَیں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ہاں! خداتعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت مجھے ڈھانک لے تو یہی ایک صورت ہے۔
(ماخوذازدیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوم جلد20صفحہ 386-387)
(صحیح البخاری کتاب المرضیٰ باب تمنی المریض الموت حدیث نمبر5673)
بخاری کی یہ روایت ہے۔
پھر آپؐ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنے کاموں میں نیکی اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہیں تلاش کرو اور فرمایا :
تم میں سے کوئی شخص اپنی موت کی خواہش نہ کیا کرے۔ اگر وہ نیک ہے تو زندہ رہ کر اپنی نیکیوں میں اَور بھی بڑھ جائے گا اور اگر بد ہے تو زندہ رہ کر اسے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی توفیق ملے گی، خیال پیدا ہو جائے گا۔
(صحیح البخاری کتاب التمنی باب ما یکرہ من التمنی حدیث نمبر7235)
یہ ایک بہت اہم نصیحت ہے جسے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے۔ اس کی وجہ آپؐ نے یہ بیان فرمائی کہ اگر کسی تکلیف کی وجہ سے تم یہ کر رہے ہو۔ کسی وجہ سے ہی کرتا ہے ناں انسان موت کی تمنا۔ اور تمہاری کچھ نیکیاں ہیں تو اللہ تعالیٰ تمہیں نیکیوں کی مزید توفیق دے گا اور تمہارے لیے اگلے جہان میں بہتر انتظام ہوگا۔ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ اور اگر بدیاں ہیں تو تمہیں توبہ اور استغفار کی توفیق ملے گی اور اگر اس طرف توجہ پیدا ہو گئی ہے تو بدیوں سے نجات ہو جائے گی اور پھر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو گے اور جب وقت آئے گا تو اس وقت پھر اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایسا سلوک فرمائے گا کہ تمہاری بخشش کے سامان بھی ہو سکتے ہیں اور ہوں گے۔
عبادتوں کے معیار کا جو اپنا حال تھا وہ تو دیکھ لیا۔ دوسروں کو بھی توجہ دلایا کرتے تھے۔
روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپؐ رات کے وقت اپنے داماد حضرت علیؓ اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور ان سے پوچھا کیا تہجد پڑھا کرتے ہو؟ حضرت علیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کی منشاء کے تحت کسی وقت ہماری آنکھ بند رہتی ہے تو پھر تہجد رہ جاتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا :تہجد پڑھا کرو اور اٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔ راستے میں آپؐ بار بار فرماتے تھے کہ وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا۔یعنی انسان اکثر اپنی غلطی تسلیم کرنے سے گھبراتا ہے اور مختلف قسم کی دلیلیں دے کر اپنے قصور پر پردہ ڈالتا ہے۔
پس آپؐ نے وہاں ان کے سامنے بھی کہا، انہیں سمجھایا اور واپس آتے ہوئے بھی یہ بات دہراتے جاتے تھے تاکہ حضرت علیؓ تک دوسرے لوگ بھی یہ بات پہنچا دیں۔ آپؐ نے انہیں یہ سبق دیا کہ بجائے یہ کہنے کے کہ کبھی ہم سے غلطی ہو جاتی ہے، یہ کہنا چاہیے تھا کہ غلطی ہو جاتی ہے تو ہم نہیں اٹھ سکتے۔ انہوں نے یہ بات اللہ تعالیٰ پر ڈال دی کہ اگر خدا تعالیٰ کی منشاء ہوتی تو ہم جاگ جاتے ورنہ سوئے رہتے ہیں۔ تو آپ کا مقصد یہ تھا کہ اپنی غلطی کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ آپؐ کو عبادت میں بھی کسی قسم کی تصنّع یا بناوٹ پسند نہیں تھی۔ جیسا کہ آپؐ نے ایک دفعہ اپنے گھر میں رسیاں لٹکی ہوئی دیکھیں تو آپؐ نے انہیں منع فرمایا کہ رسیاں نکال دو۔
آپؐ کا یہ اصول تھا کہ جو طاقتیں اللہ تعالیٰ نے انسان میں پیدا کی ہیں ان کو صحیح طور پر استعمال کرنا چاہیے اور یہی اصل عبادت ہے۔
آنکھوں کی موجودگی میں آنکھ کو بند کر دینا یا اس کو نکلوا دینا عبادت نہیں ہے بلکہ یہ گستاخی ہے۔ ہاں! ان کا بد استعمال کرنا گناہ ہے۔ اب آجکل دیکھ لیں، دنیاکی بہت سی ایسی باتیں ہیں، انسانوں کی خواہشات ہیں، attractionsہیں جو ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ اگر ہم ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، غلط قسم کے پروگرام ٹی وی پر دیکھتے ہیں، یا انٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں، یا کوئی نامناسب چیز دیکھتے ہیں تو یہ گناہ ہے۔ آپؐ نے فرمایا اس گناہ سے بچنا اصل چیز ہے اور یہی تمہیں ثواب کا موجب بنائے گا۔ اسی طرح کانوں کو بند کروا لینا کوئی نیکی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک صلاحیت دی ہے کیوں اس کو بند کرتے ہو؟ بلکہ یہ گستاخی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نعمت دی ہوئی ہے اور تم اسے ضائع کر رہے ہو۔ ہاں! لوگوں کی غیبتیں اور چغلیاں سننا گناہ ہے۔ بہت سارے لوگ ہیں غیبتیں بھی کرتے ہیں، چغلیاں بھی سنتے ہیں، لوگوں کے بارے میں غلط باتیں سنتے ہیں اور پھر اس سے مزہ بھی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ لوگوں کی کمزوریاں اور غلط باتیں سن کے ہنس رہے ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں غلط ہیں۔ یہ گناہ ہے۔ اس بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ ایسی حرکتیں نہ کیا کرو۔
آپؐ نے فرمایا کہ اخلاق فاضلہ نام ہے طبعی قویٰ کے صحیح استعمال کا۔ اور طبعی قویٰ کو مار دینا حماقت ہے۔ ان کو ناجائز کاموں میں لگا دینا بدکاری ہے اور ان کا اصل اور صحیح استعمال نیکی ہے۔ یہ خلاصہ ہے آپؐ کی تعلیم کا اور یہی خلاصہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی کا۔ اور یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تم اسوہ کے طور پر اسے اپناؤ۔
آپؐ کے اعمال کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک جگہ فرماتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا موقع پیش نہیں آیاکہ آپؐ کے سامنے دو راستے کھلے ہوں اور آپؐ نے ان دونوں راستوں میں سے آسان راستہ اختیار نہ کیا ہو بشرطیکہ آسان راستہ اختیار کرنے میں کوئی گناہ کا شائبہ نہ پایا جائے۔
اب دو راستے ہیں۔ ایک آسان راستہ ہے، ایک مشکل راستہ ہے تو آپ کی کوشش ہوتی تھی کہ جو آسان راستہ ہے وہ اختیار کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کو بلا وجہ مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ لیکن جہاں یہ شک ہو جائے کہ اس آسان راستے میں جانے سے بعض گناہ بھی سرزد ہو سکتے ہیں تو پھر آپؐ اس سے دُور بھاگتے تھے اور لمبا راستہ اختیار فرماتے تھے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ شک ذرا سا بھی ہو جاتا تو آپؐ اس طرح دُور بھاگتے تھے اوراتنا دور ہٹتے تھے کہ تمام انسانوں سے زیادہ آپؐ کا یہ عمل ہوتا تھا کہ کوئی انسان اس سے دور ہٹنے کی اتنی کوشش کر ہی نہیں سکتا۔
پس دنیا میں دیکھ لیں کہ بعض دفعہ دھوکا دینے کے لیے لوگ اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال کر اپنی بڑی خصوصیات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے مجاہدہ کیا، یہ کیا۔پیر فقیر بھی ایسی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ بڑی کہانیاں ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آسانی کا راستہ ڈھونڈا ہے کیونکہ وہ لوگ جو اس طرح دنیا دکھاوے کے لیے باتیں کرتے ہیں صرف اپنی بڑائی بیان کرنے کے لیے یا اپنی تعریفیں کروانے کے لیے خود کو تکلیفوں میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے لیے نہیں کر رہے ہوتے کیونکہ خدا تعالیٰ کو بھی ان کی تکلیفوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے اور نہ ان کو اس کا کوئی ثواب ملتا ہے۔یہ تو لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے ہوتا ہے اور جب انسان دھوکا دینے کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو اس بدنیتی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پھر اس کو گناہ دیتا ہے ثواب نہیں دیتا۔ بعض لوگ اپنے عیبوں کو چھپانے کے لیے بڑے اظہار کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا وہ کیا۔ کسی نہ کسی طرح پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی تعریفیں کر رہے ہوتے ہیں کہ بہت اعلیٰ قسم کا وہ کام ہم نے کر دیا اور اس وجہ سے ہم بڑی مشکل میں ڈالے گئے۔ یہ اس کا بڑا اظہار کر رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نہیں !یہ نیکیاں تمہیں اللہ تعالیٰ کا قرب نہیں دلائیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنائیں گی کیونکہ نیت تمہاری صاف نہیں ہے۔ تم اپنے آپ کو بچانے کے لیے بعض ایسے کام کرجاتے ہو کہ ہم شاید لوگوں کو دکھائیں گے تو شاید لوگ ہمارے حق میں ہو جائیں۔ پس یہ چھوٹے چھوٹے سبق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے اسوہ سے بھی دیے ہیں اور نصیحت کر کے بھی فرمایا ہے۔
بنی نوع انسان سے معاملات
کا جہاں تک تعلق ہے اس میں اپنے گھر سے شروع کرتے ہیں۔
آپؐ کا بیویوں کے حق میں کیسا معاملہ ہوا کرتا تھا؟ بہت مشفقانہ اور عادلانہ معاملہ ہوتا تھا۔
اگر آجکل کے لوگ بھی اس کوسمجھ لیں تو گھروں کے بہت سارے جھگڑے اور فساد دور ہو جائیں۔ بعض دفعہ آپؐ کی بیویاں آپؐ سے سختی بھی کر لیتی تھیں یعنی سختی سے بات کرتی تھیں۔ ناراضگی سے بات کرتی تھیں مگر آپؐ خاموشی سے ہنس کے ٹال دیتے تھے۔
ایک دن آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ اے عائشہ !جب تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو مجھے پتہ لگ جاتا ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ آپؐ کو کس طرح پتہ لگ جاتا ہے ؟آپؐ نے فرمایا :جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کوئی قسم کھانے کا معاملہ آ جائے تو ہمیشہ کہتی ہو کہ محمدؐ کے ربّ کی قسم !بات یوں ہے۔ اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور تمہیں قسم کھانے کی ضرورت پیش آ جائے تو تم کہتی ہو کہ ابراہیمؑ کے ربّ کی قسم! بات یوں ہے۔ حضرت عائشہؓ یہ بات سن کر ہنس پڑیں اور آپؐ کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا آپؐ نے بالکل ٹھیک سمجھاہے۔
پھر
حضرت خدیجہؓ کے واقعات ہیں
جو آپ کی پہلی اور سب سے بڑی بیوی تھیں اور انہوں نے آپؐ کے لیے بڑی قربانیاں دی تھیں۔ ان کی وفات کے بعد آپؐ کی شادی میں جوان بیویاں آئیں لیکن اس کے باوجود آپؐ نے حضرت خدیجہؓ کے تعلق کو نہیں بھلایا۔ حضرت خدیجہؓ کی سہیلیاں بھی جب آتیں تو آپؐ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے۔
اگر حضرت خدیجہؓ کی بنی ہوئی کوئی چیز آپؐ کے سامنے آ جاتی تو آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔
جنگ بدر کا واقعہ ہے۔ آپؐ کے ایک داماد جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے قیدی ہو کر آئے اور آزادی کا فدیہ ادا کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی مال نہیں تھا۔ ان کی بیوی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے جب دیکھا کہ میرے خاوند کو بچانے کے لیے اَور کوئی مال نہیں تو اپنی والدہ کی آخری یادگار ایک ہار جو ان کے پاس تھا وہ انہوں نے اپنے خاوند کے فدیہ کے طور پر مدینہ بھجوا دیا۔ جب وہ ہار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپؐ نے اسے پہچان لیا اور آپؐ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا۔ میں آپ لوگوں کو حکم تو نہیں دیتا کیونکہ مجھے ایسےحکم دینے کا کوئی حق نہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ ہار زینب کے پاس اس کی ماں کی آخری یادگار ہے۔ اگر آپ لوگ خوشی سے ایسا کرسکتے ہیں تو میں سفارش کرتا ہوں کہ بیٹی کو اس کی ماں کی آخری یادگار سے محروم نہ کیا جائے۔ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے لیے اِس سے زیادہ خوشی کا کیا موجب ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے وہ ہار حضرت زینبؓ کو واپس کر دیا۔
حضرت خدیجہؓ نے جو نیکیاں آپ سے کی تھیں ان کا اثر آپؐ پر اتنا زیادہ تھا کہ آپؐ اکثر اپنی بیویوں سے ان کا ذکر کرتے رہتے تھے۔
اس پر ایک واقعہ آتا ہے کہ بیویوں میں آپس میں تھوڑی سی چپقلش بھی ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ بیوی فوت بھی ہو گئی ہو اور اس کی زیادہ تعریف کی جائے تو Jealousy ہو جاتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کے پاس اس طرح آپ نے ایک دفعہ حضرت خدیجہ ؓکی تعریف کی تو حضرت عائشہ ؓنے کہا یا رسول اللہؐ !اس بڑھیا کا کیوں ذکر کرتے رہتے ہیں؟ جانے دیں اب چھوڑیں اس کو۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر، جوان اور خوبصورت عورتیں آپؐ کو دی ہیں۔ یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رقّت طاری ہوگئی۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہ !تمہیں معلوم نہیں خدیجہ نے میری کس قدر خدمت کی ہے۔
(ماخوذازدیباچہ تفسیر القرآن انوار العلوم جلد 20صفحہ389تا393)
اخلاقِ فاضلہ کا آپ کا کیا معیار تھا؟
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ آپؐ کی پیدائش سے پہلے آپؐ کے والد اور بچپن میں ہی آپؐ کی والدہ فوت ہوگئی تھیں۔ ابتدائی آٹھ سال آپؐ نے اپنے دادا کی نگرانی میں گزارے۔ اس کے بعد آپؐ نے اپنے چچا ابوطالب کی ولایت میں پرورش پائی۔ چچا کا خونی رشتہ بھی تھا اور ان کے والد نے بھی مرتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خاص طور پر وصیت فرمائی تھی اس لیے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر محبت بھی رکھتے تھے اور آپؐ کا خیال بھی رکھتے تھے لیکن چچی میں نہ وہ شفقت کا مادہ تھا اور نہ خاندانی ذمہ داریوں کا احساس۔ جب گھر میں کوئی چیز آتی تو بسا اوقات چچی وہ اپنے بچوں کو پہلے دے دیتیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہ رکھتیں جبکہ ابھی آپؐ بچے تھے۔ ابوطالب گھر میں آتے تو بجائے اِس کے کہ اپنے چھوٹے بھتیجے کو روتا ہوا یا گلہ کرتےہوئےپاتے وہ دیکھتے کہ ان کے بچے تو کوئی چیز کھا رہے ہیں لیکن
ان کا وہ چھوٹا سا بھتیجا کوہِ وقار بنا ایک طرف بیٹھا ہے۔ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچپن میں بھی بڑے صبر سے سب کچھ برداشت کر لیتے تھے۔
چچا کی محبت اور خاندانی ذمہ داریاں ان کے سامنے آ جاتیں۔ وہ دوڑ کر اپنے بھتیجے کو بغل میں لے لیتے اور کہتے میرے بچے کا بھی تو خیال کرو۔ میرے بچے کا بھی تو خیال کرو۔ ایسا اکثر ہوتا رہتا تھا۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ یہ روایت لے کر لکھا ہے کہ مگر دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی شکوہ کیا، نہ آپؐ کے چہرہ پر کبھی ملال ظاہر ہوا، نہ اس وجہ سے کبھی چڑچڑا پن پیدا ہوا اور کبھی اپنے چچیرے بھائیوں سے کوئی رقابت پیدا نہیں ہوئی۔چنانچہ
آپؐ کی زندگی بتاتی ہے کہ کس طرح آپؐ نے بعد کے بدلے ہوئے حالات میں بھی حضرت علیؓ اور حضرت جعفر ؓکو اپنی تربیت میں لے لیا اور ہر طرح سے ان کی بہتری کی تدابیر کیں۔
(ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد20صفحہ 393)
آجکل دیکھ لیں بڑے ہو کر بھی لوگ چھوٹی عمر کی باتیں یاد رکھتے ہیں اور بدلے لیتے رہتے ہیں لیکن آپؐ نے حسن سلوک ہی فرمایا۔ بلکہ بڑے ہو کر، ایسی سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ کر بھی آجکل ہم نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ اگر ان کو اپنے دوسرے رشتہ داروں کے پاس رہناپڑ جائے، بعض دفعہ باپ نہیں ہوتے جس کی وجہ سے چودہ پندرہ سال کی عمر میں رہنا پڑ جاتا ہے یا کسی دوسری مجبوری کی وجہ سے رہنا پڑتا ہے اور وہاں اگر ان رشتہ داروں سے کوئی زیادتی ہو جائے تو پھر ان باتوں کو نہیں بھولتے اور جب موقع ملے پھر بدلے لیتے چلے جاتے ہیں لیکن
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بدلہ نہیں لیا بلکہ الٹا جب موقع آیا تو ان کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ ان کی تربیت کی اور ان کو ایک مقام دیا۔
اخلاق فاضلہ کے ضمن میں
صبر کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔
ایک دفعہ ایک عورت جس کا لڑکا فوت ہوگیا تھا اپنے لڑکے کی قبر پر ماتم کر رہی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے تو آپؐ نے فرمایا: اے عورت! صبر کرو۔ خدا کی مشیت ہر ایک پر غالب ہے۔ وہ عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھی۔ اس نے آگے سے جواب دیا کہ جس طرح میرا بچہ مرا ہے اگر تمہارا بچہ بھی مرتا تو تمہیں معلوم ہوتا کہ صبر کیا چیز ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہہ کر وہاں سے آگے چل پڑے کہ ایک نہیں میرے سات بچے فوت ہو چکے ہیں۔
(ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد20صفحہ 394)
پس اس قسم کے مواقع پر
آپؐ گذشتہ مصائب پر صرف اتنا ہی اظہار فرماتے تھے لیکن کبھی اس سے زیادہ اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اس غم کی وجہ سے کبھی بنی نوع انسان کی خدمت میں کوتاہی کی۔
آپؐ کے تحمّل کا یہ عالم تھا کہ
جب آپؐ کو خدا تعالیٰ نے بادشاہت عطا فرما دی تب بھی آپؐ ہر ایک کی بات سنتے تھے۔ اگر کوئی سختی بھی کرتا تو آپؐ خاموش ہو جاتے تھے اورکبھی سختی کرنے والے کا جواب سختی سے نہیں دیتے تھے۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؐ کے نام کی بجائے آپؐ کے روحانی درجہ سے پکارتے تھے یعنی یارسول اللہ ؐکہہ کر بلاتے تھے اور غیرمذاہب کے لوگ اپنے دستور اور وہاں کے رواج کے مطابق اس طرح احترام کر تے تھے کہ آپؐ کو محمد کہہ کر بلانے کی بجائے ابوالقاسم کہہ کر بلاتے تھے جو آپ کی کنیت تھی یعنی قاسم کا باپ۔ کیونکہ آپؐ کے ایک بیٹے کا نام قاسم بھی تھا جو فوت ہو گئے تھے۔
ایک دفعہ ایک یہودی مدینہ میں آیا اور اس نے آپؐ سے آکر بحث شروع کر دی۔ بحث کے دوران وہ بار بار کہتا تھا۔ اے محمد !بات یو ں ہے۔اے محمد !بات یوں ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی انقباض کے اس کی باتوں کا جواب دیتے تھے مگر صحابہؓ اس کی یہ گستاخی دیکھ کر بےتاب ہورہے تھے۔ آخر ایک صحابی سے رہا نہیں گیا۔ اس نے یہودی سے کہا کہ خبردار آپ کا نام لے کر بات نہ کرو۔اگر تم رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو کم از کم ابوالقاسم کہہ دو۔ یہودی نے کہا میں تو وہی نام لوں گا جو اِن کے ماں باپ نے اِن کا رکھا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور صحابہؓ سے فرمایا:دیکھو!یہ ٹھیک کہتا ہے۔ میرے ماں باپ نے میرا نام محمد ہی رکھا تھا۔ جو نام یہ لینا چاہتا ہے اسے لینے دو اور اس پر غصہ کا اظہار نہ کرو۔
تحمّل کی یہ حالت تھی کہ بعض دفعہ آپؐ کسی کام کے لیے باہر نکلتے تو بعض لوگ آپؐ کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی ضرورتیں بیان کرنی شروع کر دیتے۔ اُس وقت تک آپ کھڑے رہتے جب تک وہ اپنی بات ختم نہیں کر لیتے تھے۔ پھر آپؐ آگے چل پڑتے۔
پھر
بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ مصافحہ کیا تو ہاتھ دیر تک پکڑے رکھا۔ تو آپؐ بھی ان کے ہاتھ کو دیر تک پکڑے رکھتے تھے۔
اگرچہ یہ کوئی پسندیدہ طریق نہیں ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں چھڑاتے تھے۔
(ماخوذ از دیباچہ تفسیر القرآن، انوا رالعلوم جلد 20صفحہ 394-395)
ہر قسم کے حاجت مند اپنی حاجتیں آپ کو پیش کرتے۔ بعض دفعہ مانگنے والے کو اس کی ضرورت کے مطابق کچھ دے دیتے تو وہ اپنی حرص سے مجبورہو کر اَور زیادہ مطالبہ کرتا اور آپؐ اس کی خواہش کو بھی پورا کر دیتے۔
بعض دفعہ لوگ مانگتے چلے جاتے اور آپؐ ان کو ہر دفعہ کچھ نہ کچھ دیتے چلے جاتے اور جو مانگنے والا آدمی خاص طور پر ایسے حالات میں مخلص نظر آتا تو اس مخلص کو اس کے معاملےکے مطابق دینے کے بعد صرف اتنا فرما دیتے کہ اگر تم خدا پر توکّل کرتے تو یہ زیادہ اچھا ہوتا۔
چنانچہ ایک دفعہ ایک صحابیؓ نے متواتر اصرار کر کے آپؐ سے کئی دفعہ اپنی ضرورتوں کے لیے روپیہ مانگا۔ آپؐ نے اس کی خواہش کو پورا کر دیا مگر آخر میں فرمایا :سب سے اچھا مقام تو یہی ہے کہ انسان خدا پر توکّل کرے۔ اس صحابیؓ کے اندر اخلاص تھا اور ادب بھی تھا۔ جو کچھ وہ لے چکا تھا ادب کی وجہ سے اس نے واپس تو نہ کیا لیکن آئندہ کے متعلق اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! یہ میری آخری بات ہے۔ اب میں آئندہ کسی صورت میں بھی کسی سے بھی سوا ل نہیں کروں گا۔
انہی صحابیؓ کے بارے میں واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ جنگ ہو رہی تھی۔ بہت خطرناک جنگ کی صورتحال تھی۔ میدان جنگ میں نیزے پھینکے جا رہے تھے۔ تلواریں چل رہی تھیں۔ تیر پھینکے جار ہے تھے۔ تلواریں چل رہی تھیں، نیزے چل رہے تھے۔ سپاہی سپاہیوں سے لڑ رہے تھے اور گردنیں کٹ رہی تھیں۔ عین اس موقع پر جبکہ وہ دشمن کے نرغہ میں تھے ان کا ایک کوڑا ہاتھ سے گر گیا۔ ایک ہمراہی سپاہی مسلمان نے جو پیدل تھا اِس نے اس خیال سے کہ افسر نیچے اترے گا تو ایسا نہ ہو کہ نقصان پہنچ جائے جھک کر کوڑا اٹھانا چاہا تا کہ ان کے ہاتھ میں د ے دے۔ اس صحابی ؓکی نظر اس سپاہی پر پڑی اور اس نے کہا کہ میرے بھائی تجھے خدا کی قسم !کوڑے کو ہاتھ نہ لگانا۔ یہ کہتے ہوئے وہ گھوڑے سے کود پڑے اور کوڑا اٹھا لیا۔ پھر آپ نے ساتھی سے کہا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرار کیا تھا کہ میں کسی سے بھی کوئی سوال نہیں کروں گا۔ اگر میں کوڑا تمہیں اٹھانے دیتا تو گو میں نے زبان سے تم سے سوال نہیں کیا تھا لیکن اس میں کیا شبہ تھا کہ زبانِ حال سے یہ سوال بن جاتا تھا اور ایسا کرنا مجھے وعدہ خلاف بنا دیتا۔ گو یہ جنگ کا میدان ہے مگر میں اپنے کام خو دہی کروں گا۔اس خطرناک حالت میں بھی ان کو اپنا وعدہ یاد رہا۔
(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20صفحہ 395-396)
پس یہ اور بہت ساری باتیں ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی۔ آپؐ کے انصاف کے بارے میں،جذبات کے احترام کے بارے میں، غرباء کا خیال رکھنے کے بارے میں جو ہمارے لیے ایک اسوہ ہیں۔ غرباء کے مالوں کی حفاظت کے بارے میں، عورتوں سے حسن سلوک جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکرکیا ہے کہ گھر میں بیویوں سے اور عام عورتوں سے بھی حسن سلوک فرماتے تھے۔ بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کے بارے میں، ہمسایوں سے حسن سلوک اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کے بارے میں بےشمار باتیں ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں ہمیں ملتی ہیں۔ لوگوں کے مال کی حفاظت کے لیے آپؐ کیا کوشش کرتے تھے۔ دوسروں کے عیب چھپانے کے بارے میں آپؐ کی کیا کوشش ہوتی تھی۔ آپس میں تعاون کے بارے میں آپؐ کیا فرماتے تھے اور کیا آپؐ کا عمل تھا۔ چشم پوشی آپؐ کس طرح فرماتے تھے۔ ستاری کس طرح کرتے تھے۔ سچائی کے بارے میں کیا نصائح تھیں۔ بدظنی سے بچنے کے بارے میں آپؐ نے کیا فرمایا۔ تجسّس سے بچنے کے بارے میں کیا فرمایا۔ مایوسی سے بچنے کے بارے میں کیا فرمایا۔ یہاں تک کہ جانوروں سے حسن سلوک کا بھی فرمایا اور مذہبی رواداری کے بارے میں بھی آپؐ نے فرمایا۔ یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو ہمارے لیے کامل اسوہ ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ آئندہ انشاء اللہ موقع کے لحاظ سے مَیں یہ باتیں بیان کرتا رہوں گا۔ اس وقت میں یہاں اس بات کو ختم کرتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کا ایک اقتباس پڑھتا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں:
’’وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے، اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُر زور دریا سے کمال تامّ کا نمونہ علماً و عملاًو صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا۔ … وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔‘‘
(اتمام الحجۃ، روحانی خزائن جلد8صفحہ 308)
پس اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے حقیقی مسلمان بننے کی کوشش کریں اور آپؐ کے اس پیغام کو دنیا میں پہنچانے والے بھی ہوں تا کہ دنیا کو بھی ہم آپؐ کے جھنڈے تلے لانے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰھم صلّ علی محمّدٍ وعلٰی اٰل محمّدٍ و بارِک وسلِّم انّک حمیدٌ مجیدٌ۔
نماز کے بعد میں جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔
[حضورِ انور نے انتظامیہ سے استفسار فرمایا کہ جنازہ آ گیا ہے؟ اس کے بعد فرمایا:]ایک حاضر جنازہ ہے جو
مکرم لئیق احمد طاہر صاحب کا ہے۔ یوکے میں مربی سلسلہ تھے۔
گذشتہ دنوں تراسی(83) سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹی ہے اور تین بیٹے شامل ہیں۔
لئیق طاہر صاحب حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام کے ہاں قادیان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے 1907ء میں دستی بیعت کی تھی۔ میٹرک کی تعلیم کے بعد 1959ء میں لئیق صاحب نے زندگی وقف کی اور جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخل ہوئے۔ 1966ء میں جامعہ سے فارغ ہوئے اور جامعہ کی تعلیم کے دوران انہوں نے ایف اے بھی کیا، ادیب فاضل بھی کیا، عربی فاضل بھی کیا اور جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جولائی 1967ء میں آپ کو بطور مبلغ انگلستان خدمت کے لیے بھجوایا گیا اور یہاں آپ کو بطور نائب امام مسجد فضل لندن خدمت کی توفیق ملی۔ پھر 1970ء میں پاکستان واپس چلے گئے۔ اصلاح و ارشاد کے تحت پھر مختلف جگہوں پر آپ مربی کے طور پر کام کرتے رہے۔ پھر ان کا تبادلہ تصنیف کے شعبے میں ہو گیا۔ مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب کے داماد تھے۔ پھر اسی طرح ان کو وہاں خدمت کے دوران جامعہ میں استاد مقرر کیا گیا اور تقریباً دس سال یہ تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر 1982ء میں ان کا تقرر وکالت تبشیر میں ہوا اور نائب وکیل التبشیر مقرر کیے گئے۔ اسی طرح جامعہ کے دوران بھی اور جب یہ پاکستان میں مربی تھے اس وقت بھی یہ خدام الاحمدیہ اور ذیلی تنظیموں میں خدمت بھی کرتے رہے۔ پھر 1986ء میں ان کو بطور مبلغ سلسلہ امریکہ بھی بھیجا گیا۔ پھر 1986ء میں ہی حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒنے ان کی پوسٹنگ یہاں بلا کے گلاسگو میں کر دی جہاں ان کو مربی سلسلہ و مبلغ سلسلہ کی توفیق ملی۔ 2005ء میں جب جامعہ کھلا ہے تو یہ جامعہ یوکے کے پرنسپل بھی مقرر ہوئے۔ ان کاخدمت کا عرصہ تقریباً انسٹھ (59)سال بنتا ہے۔
عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کہتے ہیں کہ مرحوم دین اسلام کے فدائی، خلافت کے جاںنثار خادم، وقف زندگی کے تقاضوں کو بھرپور طریقے پر ادا کرنے والے، ایک بہت کامیاب مبلغ سلسلہ تھے۔ آپ نے لمبا عرصہ فدائیت سے خدمت دین کی توفیق پائی۔ خوش الحانی اور پُراثر انداز میں قرآن مجیدکی تلاوت کرتے۔ دلنشیں پیرائے میں تربیتی امور کی طرف توجہ دلایا کرتے تھے۔ جن جن جماعتوں میں آپ کو خدمت کی توفیق ملی وہاں بہت سی نیک یادیں چھوڑی ہیں۔ احباب جماعت سے محبت و پیار کرنے والے ایک مقبول خادم دین تھے۔ تحریر کے میدان میں بھی آپ کو متعدد خدمات کی توفیق ملی۔ دعاؤں پر ان کی خاص توجہ تھی۔ آپ نے اپنے مکان کی دیواروں کو بھی دعائیہ کلمات سے مزیّن کیا ہوا تھا۔ بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے۔
مبارک صدیقی صاحب کہتے ہیں کہ ربوہ کے زمانہ سے میں ان کو جانتا ہوں۔ نہایت شگفتہ تھے۔ شگفتگی پائی جاتی تھی۔ طبیعت میں شائستگی تھی۔ خلافت اور نظام جماعت سے بےحد عقیدت تھی اور ملنے والوں کو بھی یہ نصیحت کرتے تھے کہ خلیفہ وقت کی کامل اطاعت کرو۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ آپ کی جیب میں ہر وقت ایک چھوٹی سی نوٹ بک ہوتی تھی جہاں کہیں کوئی اچھی بات دیکھتے سنتے فوراً نوٹ کر لیتے۔ یہ نہیں کسی خاص آدمی سے بلکہ جہاں بھی کوئی بات دیکھی فوراً نوٹ کر لی۔ طالب علمی کے زمانے سے بزرگان سلسلہ کی صحبت میں بیٹھنا آپ کا معمول تھا۔ چنانچہ حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہان پوریؓ کی بہت سی باتیں آپ کو یاد تھیں اور اپنی مجالس میں سنایا بھی کرتے تھے۔
آپ کی بیٹی قرة العین کہتی ہیں کہ ایک پہلو جو میں نے والد کا بڑا نمایاں دیکھا ہے وہ ان کا دعاؤں کا انداز تھا۔ دعاؤں میں تڑپ، عجز، توکّل اور اللہ تعالیٰ سے لاڈ سے مانگنے کا عجیب رنگ تھا اور کبھی یوں لگتا تھا کہ اس وقت تک دعائیں کرنا نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ تعالیٰ سے کوئی جواب نہ آ جائے اور کہتی ہیں اللہ تعالیٰ کا بھی سلوک ان سے ایسا تھا کہ بہت سی خوابوں کے ذریعہ سے بہت ساری باتوں کا پہلے سے اللہ تعالیٰ بتا دیا کرتا تھا اور دعاؤں کے بارے میں کہتی ہیں کہ ہمیں نصیحت کیا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے یہ فرمایا ہے کہ دعا کرنے والے کا تو یہ حال ہونا چاہیے کہ جو منگے سو مر رہے۔ مرے سو منگن جا۔ یہ اصل چیز ہے کہ مانگنے والے کی تو ایسی حالت ہونی چاہیے کہ جس طرح مر گیا ہے اور اس حالت میں جب مانگو گے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند کرے۔ ان کا جنازہ حاضر ہے۔ ابھی جمعہ کے بعد میں باہر جاکےنماز پڑھاؤں گا۔
دوسرا ذکر ہے، جنازہ غائب ہے
مکرم سیگا جالو صاحب نائب صدر ریجن سیگو- مالی
کے ہیں۔ ان کی بھی گذشتہ دنوں وفات ہوئی ہے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم بھی موصی تھے۔ مبلغ سلسلہ تاثیر صاحب لکھتے ہیں کہ مرحوم کو ریڈیو پروگرام سن کر 2016ء میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی اور پھر اپنے ایمان میں انہوں نے بڑی ترقی کی۔ بڑے فدائی اور فعال احمدی تھے۔ جماعتی پروگراموں میں، چندہ جات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ روزانہ فجر اور مغرب اور عشاء کی نماز دُور سے بھی مسجد میں آ کر ادا کرتے تھے۔ خلافت سے بے پناہ عقیدت اور محبت کا تعلق تھا۔ 2018ء میں وصیت کے نظام میں شامل ہونے کی توفیق ان کو ملی اور وفات تک ہر مہینے کے شروع میں اپنی تنخواہ سے چندہ وصیت ادا کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کسی وجہ سے چھ مہینے ان کو تنخواہ نہیں ملی۔ افریقہ میں حالات بھی ایسے ہوتے ہیں۔ تو انہوں نے چندہ نہیں دیا۔ بڑے پریشان تھے۔ آخر پھر اللہ نے فضل کیا اور تنخواہ ملتے ہی پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ وصیت کا چندہ اور اپنے باقی چندے ادا کیے۔ ان کی اہلیہ اور تین بیٹے تھے ان کو تبلیغ کرتے تھے اور تبلیغ کی وجہ سے دو بیٹے تو احمدی ہو گئے لیکن اہلیہ اور ایک بیٹے نے احمدیت قبول نہیں کی جس پر ان کو بڑی فکر تھی۔ احمدیت پر ایمان نہایت پختہ تھا۔ غیراحمدیوں اور مولویوں کے متعلق آپ کی رائے بہت صاف اور واضح تھی اور فرمایا کرتے تھے کہ اگر یہ مسیح و مہدی کو قبول نہیں کریں گے تو یہ لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ بڑے فعال تبلیغ کرنے والے بھی تھے اور جماعت کی خدمت کرنے والے بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍ دسمبر2025ء




