متفرق مضامین

کیاسالِ نوصرف ہندسوں میں تبدیلی لانےکانام ہے؟

(بشریٰ نذیر آفتاب بنت مکرم نذیر احمد خادم مرحوم ومغفور۔کینیڈا)


فضل خدا کا سایہ ہم پر رہے ہمیشہ
ہردن چڑھےمبارک ہرشب بخیرگذرے
(درعدن)

جب سےیہ کائنات معرضِ وجودمیں آئی ہے،یہ ماہ وسال کاسلسلہ تب سےہندسوں کی تبدیلی کےساتھ جاری وساری ہے۔ہاں اتنافرق ضرورہےکہ پرانےوقتوں میں نہ توٹیکنالوجی کی جدت وحدت تھی اورنہ سوشل میڈیاکانام ونشان۔ اس لیےجہاں جس قریہ اوربستی میں لوگ بستےتھےاپنےاپنےطریق پرنئےسال کااستقبال کرتےتھے۔اب تونئےسال کے آغازسےکئی ماہ قبل ہرسٹور، بنک،دکان اورپلازےمیں خوبصورت اوردیدہ زیب کاغذسےتیار کردہ،مختلف انواع واقسام کے خوشنماکیلنڈر دستیاب ہوتے ہیں۔جن میں قومی،علاقائی،صوبائی،مذہبی وغیرمذہبی اورثقافتی تہواروں کاذکرماہ اورتاریخ کےتحت درج کردیاجاتاہےتاکہ لوگ اس کےمطابق اپناسال بھرکا لائحہ عمل اورپروگرام ترتیب دےسکیں۔اسی طرح دنیا کی مختلف جماعتیں بھی اپناسالانہ کیلنڈر تیارکرتی ہیں تاکہ افراد جماعت کو دوران سال منعقد ہونے والے اہم پروگراموں کا علم ہوسکے۔مثلاً کینیڈامیں ہمیں نئےسال کاکیلنڈرماہنامہ احمدیہ گزٹ کےنومبرکےشمارےکےساتھ ہی مل گیاتھا۔جماعتی طورپربنائےجانےوالے اس کیلنڈرمیں کلرکوڈکے ساتھ تمام ذیلی تنظیموں کےنیشنل اورریجنل سطح پرتشکیل دیےجانےوالے پروگرامزکوہائی لائٹ کردیاجاتاہے۔لوکل سطح پر اس نیشنل کیلنڈرکا بڑی بیتابی سےانتظارہوتاہےکیونکہ اس کے ملنے پرمقامی جماعتیں اور مجالس اپنے لوکل کیلنڈرتیار کرتی ہیں۔جس کی وجہ سے نیشنل،ریجنل اورلوکل پروگرامز کی تواریخ میں کوئی تضاد واقع نہیں ہوتا۔
یہی وہ کیلنڈرہے جس سے ہمیں دنیا بھرمیں منعقدہونےوالےجلسہ ہائےسالانہ کی تاریخوں کابھی علم ہوجاتاہےخاص طورپرجلسہ سالانہ یوکے،جس کاہرخاص وعام کوبڑی شدت سےانتظاررہتاہے۔اس لیےہمارافرض ہے کہ سال بھرمیں منعقدہونےوالےتمام جماعتی پروگرامز میں شامل ہوکراپنی علمی و روحانی پیاس بجھائیں۔
رات اور دن کا ادلنا بدلنا قانون قدرت ہے۔ ۲۰۲۵ءکے بعد ۲۰۲۶ء آجائے گا اور یونہی دن اور ماہ وسال بدلتے رہیں گے لیکن سوچنے والی یہ بات ہے کہ اس تبدیلی کےساتھ ہم میں کیامثبت تبدیلیاں رونماہوئی ہیں۔اگرہم وہیں کے وہیں کھڑےہیں جہاں ۲۰۲۵ء میں تھےتوپھرنئےسال کی آمدپہ ہمیں خوشیاں منانےکی چنداں ضرورت نہیں بلکہ اپنے ضمیرکوجھنجھوڑنے اور اُس میں تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں ہر انسان کے اندر کوئی وقت سُستی کا آجاتا ہے اور کوئی وقت چُستی کا آجاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام باسط بھی ہے اور قابض بھی ہے اس لیے وہ کبھی انسان کی فطرت میں قبض پیدا کر دیتا ہے اور کبھی بسط پیدا کردیتا ہے۔ اس حالت کا علاج یہی ہوا کرتا ہے کہ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے اور اپنے گردوپیش کے حالات کا بھی محاسبہ کرتا رہے۔اس لیے صوفیاء نے محاسبہ نفس کو ضروری قرار دیا ہے۔ میرے دل میں خیال گزرا ہے کہ اگر ہم اپنے تمام وقت کا جائزہ لیتے رہتے تو شاید ہم بہت سی سستیوں سے محفوظ رہتے۔ کسی شاعر نے کہاہے :


غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی


یعنی گھڑیال سے وقت کو دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں کی عمر زیادہ ہوگئی۔ لیکن دراصل اُس کی عمر کم ہوجاتی ہے۔ فرض کرو کسی کی 60سال عمر مقدر تھی۔ وہ جب پیدا ہوا تو اُس کی عمر کے ساٹھ سال باقی تھے۔ لیکن جب وہ ایک سال کا ہوگیا تو اس کی ایک سال عمر گھٹ گئی۔ جب وہ دو سال کا ہوگیا تو ا س کی دو سال عمر گھٹ گئی۔ جب وہ دس سال کا ہوگیا تو اس کی دس سال عمر گھٹ گئی۔ جب وہ بیس سال کا ہوگیا تو اس کی بیس سال عمر گھٹ گئی۔ غرض ہر وقت جو اس پر گزرتا ہے وہ اس کی عمر کو گھٹاتا ہے۔ اسی طرح ہماری زندگی ہے۔ ہمارے بہت اوقات یونہی گزرجاتے ہیں اور ہم خیال تک نہیں کرتے کہ ہمارا وقت ضائع ہورہا ہے …پس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ ہر سال جو ہم پر آئے بجائے پچھلے سال کے ہم آئندہ سال پر نظر رکھیں۔ ہر دن ہم سوچیں کہ کام کے365دنوں میں سے ایک دن گزرگیا ہے ہم نے کس قدر کام کرنا تھا۔ اس میں سے کس قدر کام ہم نے کرلیا ہے اور کس قدر کام کرنا باقی ہے۔ اگر ہم اس طرح غور کرنا شروع کردیں تو ہم اپنے وقت کو پوری طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ بشرطیکہ ہم سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱/جنوری۱۹۵۲ء۔ خطبات محمود جلد ۳۳صفحہ۹-۱۰)
حضرت عبداللہ بن ہشام ؓسےروایت ہےکہ نئے سال یامہینہ کی آمدپرصحابہ کرام ؓایک دوسرےکویہ دعاسکھاتےتھے: اللَّهُمَّ اَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْاِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ، وَجِوَارٍ مِّنَ الشَّيْطٰنِ وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ، (معجم الصحابۃ للبغوی:۱۵۳۹) اےاللہ اس (نئےسال) کو ہمارے لیے امن وایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ اور شیطان سےبچاؤ اوررحمان کی رضامندی کے ساتھ داخل فرما۔
اللہ تعالیٰ نےانسان کواشرف المخلوقات بناکراس پربڑااحسان کیاہے۔اسےسوچنےسمجھنےکی صلاحیتوں سےنوازا ہے۔انسان کی جسمانی صحت کاخیال اس کرۂ ارض میں انواع واقسام کی نعمتیں پیداکرکےکیا اورروحانی صحت کی بہتری کےلیے انبیاء کاسلسلہ جاری کیا۔اس لیےہمارافرض ہےکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سےعطاکردہ ان نعمتوں کی شکرگذاری کےطورپرہم اس نئےسال میں نئے عزم اورپختہ ارادےکےساتھ قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوں اور اسے محبت سےپڑھیں، اس کاترجمہ سیکھیں، عبادات میں اپنا دل لگائیں، نمازوں میں اگرسستی ہے تواُسےدُورکرنےکی کوشش کریں۔
پیارےحضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا خطبہ جمعہ باقاعدگی سےسنیں۔حضورانور کی صحت وعافیت اور مقاصد عالیہ میں برکت کے لیےدعاکریں اورآپ کی خدمت میں دعاکےلیےخط لکھیں تاکہ خلافت کے ساتھ ہمارا تعلق مضبو ط ہو اور ہمیں خلیفہ وقت کی دعائیں ملیں۔اپنی غلطیوں پرشرمندہ ہونااوردوسروں کادل دکھانےپرمعذرت کرناسیکھیں اورسب سےبڑھ کراللہ تعالیٰ کے عبادت گذاربندےبننےکاعزم کریں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا نئےسال کے موقع کاایک نہایت دلچسپ اورایمان افروزواقع ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں:”مجھے وہ لمحہ بہت پیارا لگتا ہے جو ایک مرتبہ لندن میں New Year’s day (نیو ایئرڈے) کے موقع پر پیش آیا یعنی اگلے روز نیا سال چڑھنے والا تھا اور عید کا سماں تھا۔رات کے بارہ بجے سارے لو گ ٹرائفالگر سکوائر (Trafalgar Square) میں اکٹھے ہوکر دنیا جہان کی بے حیائیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں کیونکہ جب رات کے بارہ بجتے ہیں تو پھر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی تہذیبی روک نہیں،کوئی مذہبی روک نہیں،ہر قسم کی آزادی ہے۔ اس وقت اتفاق سے وہ رات یوسٹن اسٹیشن پر آئی۔ مجھے خیال آیا جیسا کہ ہر احمدی کرتا ہے اس میں میرا کوئی خاص الگ مقام نہیں تھا۔ اکثر احمدی اللہ کے فضل سے ہر سال کانیا دن اس طرح شروع کرتے ہیں کہ رات کے بارہ بجےعبادت کرتے ہیں۔ مجھے بھی موقع ملا میں بھی وہاں کھڑا ہوگیا۔ اخبار کے کاغذ بچھائے اور دو نفل پڑھنے لگا۔
کچھ دیر بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ کوئی شخص میرے پاس آکر کھڑا ہوگیا ہے اور پھر نماز میں نے ابھی ختم نہیں کی تھی کہ مجھے سسکیوں کی آواز آئی۔چنانچہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ ایک بوڑھا انگریز ہے جو بچوں کی طرح ابھی بلک بلک کر رو رہا تھا۔میں گھبرا گیا میں نے کہا پتہ نہیں یہ سمجھا ہے میں پاگل ہو گیا ہوں اس لیے شاید بے چارہ میری ہمدردی میں رو رہا ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے تو اس نے کہا مجھے کچھ نہیں ہوا میری قوم کو کچھ ہو گیا ہے۔ساری قوم اس وقت نئے سال کی خوشی میں بے حیائی میں مصروف ہے اور ایک آدمی ایسا ہے جو اپنے ربّ کو یاد کررہا ہے اس چیز نے اور اس موازنے نے میرے دل پر اس قدر اثر کیا ہے کہ میں برداشت نہیں کرسکا چنانچہ وہ بار بار کہتا تھا۔
.God bless you. God bless you. God bless you. God bless you
پس حقیقت یہ ہےکہ اگر ساری دنیا بھی مذاق اڑائے تب بھی ایک احمدی نوجوان کو کوڑی کی پرواہ نہیں ہونی چاہیے۔ وہ آزاد مرد ہے۔ خدا کے سوا اس کی گردن کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ یہی حقیقی آزادی ہے جو انسان کو ایمان کے نتیجہ میں نصیب ہوتی ہے۔ اگر وہ ان چیزوں کی کوڑی بھی پرواہ نہیں کرے گا تو دنیا اس کے سامنے جھکے گی۔ دنیا اس کی پہلے سے زیادہ عزت کرے گی۔ دنیا میں ہمیشہ یہی دیکھا گیا ہے کہ خدا کی خاطر ذلتیں قبول کرنے والے دنیا میں کبھی ذلیل نہیں کئے گئے۔ “ ( خطبہ جمعہ ۲۰؍اگست ۱۹۸۲ء۔ خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ ۱۲۰،۱۱۹)
اطاعت وفرمانبرداری الہیٰ جماعتوں کی شناخت ہےہماری یہ خوش بختی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےہم پراحسان کرتے ہوئے ہمارے بزرگوں کویاہمیں زمانےکےامام کوپہچاننےکی توفیق دی۔اس لیےہمارافرض ہے کہ کسی سال کااختتام ہونےجارہاہویانئےسال کی ابتدا،خلافت کی ہدایت وراہنمائی میں جانےوالےسال کوالوداع اورآنےوالےسال کااستقبال کریں۔افرادِجماعت احمدیہ کا ہرعمل خلیفہ وقت کی عمومی ہدایات کے تابع ہوتاہے۔ حضورانور کی ہدایت پر عمل پیرا ہو کر دنیا کےہرملک میں، ہر قریہ میں اور ہر شہر میں جماعت کے نظام کے تحت نئے سال کا آغاز ہم تہجد وعبادت سے کرتے ہیں۔مساجد میں اکٹھے ہوتے ہیں۔خداتعالیٰ سے اپنی خطاؤں اورلغزشوں کی معافی مانگتے ہیں اور آئندہ اپنی کوتاہیوں کو چھوڑنے کا عزم کرتے ہوئے اس کا فضل مانگتے ہیں کیونکہ اس کے فضل کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ایک دنیادارتونئےسال کااستقبال رقص وسرودکی محافل سجاکرکرتاہے۔کیامسلم اورغیرمسلم ہرملک دوسرےملک سےاس دوڑمیں سبقت لے جانےکےلیےسالانہ اربوں روپےبہاتاہے۔مگراللہ والے،اللہ کےگھروں کواپنےسجدوں سے سجاتے اور اپنے آنسوؤں سےتر کرتے ہیں۔ وہ اپنی گذشتہ سال کی کوتاہیوں اورسستیوں پرپشیمانی کااظہارکرتےہیں اورنئےسال کے لیے نئےعزم اور ولولے کے ساتھ اپنے دین پر عمل کرنے کا عہدوپیمان کرتے ہیں۔امام الزماں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نےکیاخوب فرمایاہے: ’’چاہئے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی اور ہر ایک شام تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا۔‘‘ (کشتی نوح،روحانی خزائن جلد۱۹صفحہ۱۲)
ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :’’مغرب میں یا ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک میں نئے سال کی رات ہاہو،شراب نوشی،ہلڑ بازی اور پٹاخے اور پھلجھڑیاں،جسے فائر ورکس کہتے ہیں،سے نئے سال کا آغاز کیا جاتا ہے بلکہ اب مسلمان ممالک میں بھی نئے سال کا اسی طرح استقبال کیا جاتا ہے…لیکن احمدیوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی رات عبادت میں گزار دی یا صبح جلدی جاگ کر نفل پڑھ کر نئے سال کے پہلے دن کا آغاز کیا۔بہت سی جگہوں پر باجماعت تہجد بھی پڑھی گئی۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جنوری۲۰۱۶ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۲۲؍جنوری۲۰۱۶ء)
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ۲؍جنوری۲۰۱۵ءمیں نئے سال کی مبارکباد دینے کےحوالےسےفرمایا:’’ایک دوسرےکومبارکباددینےکافائدہ ہمیں تبھی ہوگا جب ہم اپنےیہ جائزے لیں کہ گزشتہ سال میں ہم نے اپنے احمدی ہونے کے حق کو کس قدر ادا کیا ہے اور آئندہ کےلیے ہم اس حق کو ادا کرنے کےلیے کتنی کوشش کریں گے۔ پس ہمیں اس جمعہ سے آئندہ کےلیے ایسے ارادے قائم کرنے چاہئیں جو نئے سال میں ہمارےلیےاس حق کی ادائیگی کےلیےچستی اورمحنت کاسامان پیداکرتےرہیں۔یہ توظاہرہےکہ ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے ہمارے ذمہ جو کام لگایا گیا ہے اس کا حق نیکیوں کے بجا لانے سے ہی ادا ہو گا لیکن ان نیکیوں کے معیار کیا ہونے چاہئیں۔ تو واضح ہو کہ ہر اس شخص کے لیے جو احمدیت میں داخل ہو تا ہے اور احمدی ہے یہ معیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود مہیا فرما دیے ہیں، بیان فرما دیے ہیں اور اب تو نئے وسائل اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعہ سے ہر شخص کم از کم سال میں ایک دفعہ خلیفۂ وقت کے ہاتھ پر یہ عہد کرتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیان فرمودہ معیاروں کو حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا۔ اور ہمارے لیے یہ معیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرائط بیعت میں کھول کر بیان فرما دیے ہیں۔ کہنے کو تو یہ دس شرائط بیعت ہیں لیکن ان میں ایک احمدی ہونے کے ناطے جو ذمہ داریاں ہیں ان کی تعداد موٹے طور پر بھی لیں تو تیس سے زیادہ بنتی ہے۔ پس اگر ہم نے اپنے سالوں کی خوشیوں کو حقیقی رنگ میں منانا ہے تو ان باتوں کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ جو شخص احمدی کہلا کر اس بات پر خوش ہو جاتا ہے کہ میں نے وفات مسیح کے مسئلے کو مان لیا یا آنے والا مسیح جس کی پیشگوئی کی گئی تھی اس کو مان لیا اور اس پر ایمان لے آیا تو یہ کافی نہیں ہے۔ بیشک یہ پہلا قدم ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ ہم نیکیوں کی گہرائی میں جا کر انہیں سمجھ کر ان پر عمل کریں اور برائیوں سے اپنے آپ کو اس طرح بچائیں جیسے ایک خونخوار درندے کو دیکھ کر انسان اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب یہ ہو گا تو تب ہم نہ صرف اپنی حالتوں میں انقلاب لانے والے ہوں گے بلکہ دنیا کو بدلنے اور خدا تعالیٰ کے قریب لانے کا ذریعہ بن سکیں گے۔‘‘(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ۲؍جنوری۲۰۱۵ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۲۳؍جنوری۲۰۱۵صفحہ۵)


اے نئے سال بتا،تجھ میں نیا پن کیا ہے
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے


مزید پڑھیں:  نیا سال اور دعائیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button