عمرہ کا طریق ، فضیلت وبرکات اورمسنون دعائیں(قسط اوّل)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ذوالحلیفہ میں دورکعت نماز پڑھتے اور پھر جب آپؐ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر اچھی طرح کھڑی ہوجاتی تو ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہتے۔ (صحیح مسلم کتاب الحج باب التَّلۡبِیَۃُ وَصِفَتُھَا وَوَقۡتُھَاحدیث:۲۰۱۷)
لَبَّیۡکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ، لَبَّیۡکَ لَا شَرِیۡکَ لَکَ لَبَّیۡکَ، اِنَّ الۡحَمۡدَ وَالنِّعۡمَۃَ لَکَ وَالۡمُلۡکَ، لَا شَرِیۡکَ لَکَ
(صحیح البخاری کتاب الحج باب التَّلۡبِیَۃُ حدیث:۱۵۴۹) مَیں حاضر ہوں اے میرے اللہ ! میں حاضرہوں،
میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ ہر خوبی اور ہر ایک نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔
اللہ تعالیٰ کی منشا اور اُس کے اذن سے دنیا میں تعمیر ہونے والا پہلا گھر خانہ کعبہ ہے جو اُس کی خالص عبادت کے لیے مکہ میں تعمیر کیا گیا۔ یہی وہ مبارک گھر ہے جس کے طواف کا دنیا کے تمام انسانوں کوحکم دیا گیا ہے تاکہ اس عمل سے اُن کی روح کی کثافتیں دور ہوں اور وہ پاکیزہ زندگی سے ہمکنار ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : وَلۡیَطَّوَّفُوۡا بِالۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ (الحَجِّ:۳۰) اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ مسلمان اسی مقدس اور بابرکت گھر کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھتے ہیں: فَوَلِّ وَجۡھَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَحَیۡثُ مَا کُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡھَکُمۡ شَطۡرَہٗ (البَقَرَۃِ:۱۴۵) پس اپنا مُنہ مسجدِ حرام کی طرف پھیرلے۔اور جہاں کہیں بھی تم ہو اسی کی طرف اپنے مُنہ پھیرلو۔یہ مقدس گھر، یہ شہر اور اس کے ارد گرد پائے جانے والے مقامات ایسی جگہیں ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے سینکڑوں عظیم الشان نشان ظاہر ہوئے۔ اس جگہ کا چپہ چپہ گواہ ہے کہ جولوگ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے،اُس کی خاطر قربانیاں دیتے اور اُس کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیںوہ اُنہیں کبھی ضائع نہیں ہونے دیتابلکہ اُنہیںاپنے مقرّبین میں شامل کرکے حیاتِ جاودانی عطا فرماتا ہے۔غرض یہ وہ جگہیں ہیں جہاں ایسی متعدد نشانیاں موجود ہیں جن کو دیکھنے سے انسان کو یقینِ محکم حاصل ہوتا ہے۔ ان نشانیوں کی یاد تازہ کرنے،اپنے ایمانوںکی حلاوت اور اُن کی مضبوطی کے لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیاکہ وہ کعبہ اور دوسرے شعائر اللہ کی زیارت کیا کریں تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا فرماتاہے۔
اسلامی عبادات کی دوبڑی اقسام ہیں پہلی قسم میںایک عبادت گزاراپنے معبودِ حقیقی کے حضور اطاعت وبندگی کا خاص اظہار کرتا ہے۔وہ اَللّٰہُ اَکۡبَرُکہہ کر نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اوردنیا و مافیہا سے الگ تھلگ ہوکر اپنی تمام حرکات و سکنات مسجود حقیقی کی مرضی کے تابع کردیتا ہے۔ دورانِ عبادت وہ اپنے اوپر اُن تمام باتوں کو حرام کرلیتا ہے جو آدابِ کبریائی اور عبودیت کے خلاف ہیں۔ روزے کی صورت میں وہ بہت سی جائز چیزوں کے استعمال سے رُک جاتا ہے یعنی وہ اپنی خواہشِ نفس سے کچھ نہیں کرتا بلکہ معبودِ حقیقی کے حکم کو بجالاتا ہے۔اسلامی عبادات کی دوسری اہم قسم حج وعمرہ کی صورت میں ادا کی جاتی ہیں جو لَبَّیۡکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ کی صداؤں سے شروع ہوتی ہیں۔ اس عبادت میں اطاعت وبندگی کے ساتھ، جذبہ عشق ومحبت غالب ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمرہ اور خاص طورپر حج کے دوران قدم قدم پر عشق ومحبت کے والہانہ جذبے کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ حج و عمرہ کے ارادے کے ساتھ نکلنے والا دنیوی عیش و آرام اورتمام سہولتوں سے الگ تھلگ ہوکر ایک کفنی پہن لیتا ہے،وہ ننگے سر دیوانوں کی طرح اپنے محبوب کی طرف لپکتا اور وارفتگی کے عالم میں لَبَّیۡکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ، لَبَّیۡکَ لَا شَرِیۡکَ لَکَ لَبَّیۡک کہتے ہوئے دلی محبت کا اظہارکرتا ہے اور اپنے محبوب کے لیے سب کچھ فدا کرنے کا عہد کرتاہے گویا حج ان عاشقانہ اعمال اور والہانہ افعال کانام ہے جنہیں ایک عاشق زار بے ساختہ ادا کرتا ہے تاکہ اُس کا محبوب خوش ہوجائے اور اُسے اُس کے دربار تک رسائی حاصل ہوجائے۔
معمارِ کعبہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے لے کر آج تک بیت اللہ،اُس سے متعلقہ اشیا اور کرداروں میں عشق ومحبت کی خوشبوکچھ اس طرح رَچ بَس گئی ہے کہ اُس نے ہر عاشق جاںنثار کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔یہ خوشبوئے جانفزا آغاز سفر سے تمام مناسک کی ادائیگی تک پہرہ دیتی اور اُس کے قلب و ذہن اور روئیں روئیں کو یہ احساس دلاتی رہتی ہے کہ وہی ذات ِاقدس تمہارا مطلوب ومقصود اور مقصدِحیات ہے اس لیے اُسے کسی لمحہ فراموش مت کرنا اوراُسے اپنے قلب و ذہن سے جدا مت ہونے دینا کہ نہ جانے کب اور کس وقت کون سا لمحہ، لمحۂ حیات بن جائے۔ پس حج و عمرہ میں عاشقانہ رنگ بجا طور پر نمایاں دکھائی دیتاہے۔یہ وہی رنگ ہے جودو محبت کرنے والوںمیںنظرآتاہے۔ہمارا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب کوئی انسان کسی سے شدید محبت کرنے لگتاہے اورکسی کا عاشق جاںنثاربن جاتا ہے تو وہ اپنے محبوب اور معشوق کو خوش کرنے کے لیے کئی طرح کے جتن کرتاہے۔وہ اپنے وجود کو تکلیف میں ڈال کرحال بے حال ہوجاتا ہے۔کبھی دیوانوں کی طرح اِدھر اُدھرگھومتا اور باربار دَرِ محبوب کے چکر لگاتاہے۔یہاںتک کہ اپنے محبوب سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے بھی والہانہ محبت کرنے لگتا ہے۔وہ اُن چیزوں کوچومتے ہوئے سینے سے لگاتا اور اپنی اُلفت کا اظہار کرتا ہے تاکہ اُس کی ان ادائوںسے اس کا محبوب خوش ہوجائے۔ آنحضرتﷺکے حجر اَسود کو بوسہ دینے میں بھی یہی جذبۂ عشق ومحبت کارفرما تھا۔اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کوچومتے وقت فرمایا تھا: اگر میں نے رسول اللہﷺ کو نہ دیکھا ہوتا کہ آپؐ نے تجھے چوما ہے تو میں کبھی تجھے نہ چومتا۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب تَقۡبِیۡلُ الۡحَجَرِ حدیث:۱۶۱۰) پس کسی مسلمان کی حجر اسود یا دیگر جگہوں کو چومنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ وہ چیزیں دَرِ محبوب سے تعلق رکھتی ہیں۔ جس طرح والدین کا اپنے بچوں کو محبت سے چومنا اور اُنہیں پیار کرنا شرک نہیں اسی طرح محبت کے رنگ میں اپنے محبوب سے منسوب چیزوں کو چومنا بھی شرک میں داخل نہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حج کی اسی حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :’’محبت کے عالم میں انسانی روح ہر وقت اپنے محبوب کے گرد گھومتی ہے اور اس کے آستانہ کو بوسہ دیتی ہے۔ ایسا ہی خانہ کعبہ جسمانی طور پر محبان صادق کے لئے ایک نمونہ دیاگیا ہے اور خدا نے فرمایا کہ دیکھو یہ میرا گھر ہے اور یہ حجرِ اسود میرے آستانہ کا پتھر ہے اور ایسا حکم اِس لئے دیا کہ تا انسان جسمانی طور پر اپنے ولولہ عشق اور محبت کو ظاہر کرے سو حج کرنے والے حج کے مقام میں جسمانی طور پر اُس گھر کے گرد گھومتے ہیں ایسی صورتیں بنا کر کہ گویا خدا کی محبت میں دیوانہ اور مست ہیں۔ زینت دُور کردیتے ہیں سر منڈوادیتے ہیں اور مجذوبوں کی شکل بنا کر اس کے گھر کے گرد عاشقانہ طواف کرتے ہیں اور اس پتھر کو خدا کے آستانہ کا پتھر تصور کرکے بوسہ دیتے ہیں اور یہ جسمانی ولولہ رُوحانی تپش اور محبت کو پیدا کردیتا ہے اور جسم اس گھر کے گرد طواف کرتا ہے اور سنگ آستانہ کو چومتا ہے اور رُوح اُس وقت محبوب حقیقی کے گرد طواف کرتا ہے اور اس کے رُوحانی آستانہ کو چومتا ہے اور اس طریق میں کوئی شرک نہیں ایک دوست ایک دوست جانی کا خط پاکر بھی اُس کو چومتا ہے کوئی مسلمان خانہ کعبہ کی پرستش نہیں کرتا اور نہ حجر اسود سے مرادیں مانگتا ہے بلکہ صرف خدا کا قرار دادہ ایک جسمانی نمونہ سمجھا جاتاہے وبس۔ جس طرح ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں مگر وہ سجدہ زمین کے لئے نہیں ایسا ہی ہم حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں مگر وہ بوسہ اس پتھر کے لئے نہیں پتھر تو پتھر ہے جو نہ کسی کو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان مگر اُس محبوب کے ہاتھ کا ہے جس نے اُس کو اپنے آستانہ کا نمونہ ٹھیرایا۔ ‘‘(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۱۰۰-۱۰۱)
عمرہ کی فضیلت: عمرہ عمارۃ سے مشتق ہے یعنی آباد رکھنا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۰صفحہ ۱۰۶) عمرہ کے ایک معنی زیارت کرنا بیان ہوئے ہیں۔(لسان العرب، تحت لفظ عمر) شریعت کی رُو سے، دوران سال کسی میقات سے احرام باندھ کر،عمرے کی نیت کرکے بیت اللہ کا طواف اور صفاومروہ کی سعی کے بعد،حجامت کروا کر احرام کھول دینا اور اگر چاہے تو قربانی کرنا عمرہ کہلاتا ہے۔ فقہ احمدیہ میں لکھا ہے کہ عمرہ کے احرام کھولنے کا بھی وہی طریق ہے جو حج کے احرام کھولنے کا ہے یعنی عمرہ کرنے کے بعد اپنے سر کے بال کٹوادے یا منڈوا دے اور عورت ایک دو لٹیں کاٹ کر احرام کھولے۔ (فقہ احمدیہ حصہ اوّل صفحہ ۳۳۵۔ناشر نظارت نشرواشاعت قادیان مئی ۲۰۰۴ء)
عمرے سے شریعت کی غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہمیشہ آباد رہے اور اس میں مسلسل عبادت،ذکرالٰہی اور دعائیں ہوتی رہیں۔ اللہ جل شانہٗ نے ہمیشہ آباد رہنے والے اس گھر کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا ہے : وَالۡبَیۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ (الطور:۵) اور آباد گھر کی۔ حج کی طرح عمرہ بھی سنت ابراہیمی ہے۔جس کی اہل عرب نے حفاظت کی اور اس سنت کو کسی نہ کسی طریق پر جاری رکھا۔ اگرچہ اہل عرب کے نزدیک حج کے ایام میں عمرے کی ادائیگی بہت بڑا گناہ تھا لیکن نبی کریمﷺنے اُن کے اس غلط خیال کی اصلاح فرمادی۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (عرب) لوگ سمجھتے تھے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا،زمین میں بڑا گناہ ہے اور محرم کو صفر کرلیتے اور کہتے کہ جب اونٹ کی پیٹھ اچھی ہوجائے گی اور زخم کا اثر مٹ جائے گا اور صفر کا مہینہ گزر جائے گا تو جو عمرہ کرنا چاہے اس کے لیے عمرہ جائز ہوگا۔ نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ چوتھی تاریخ ذوالحجہ کی صبح کو حج کا احرام باندھ کر مکّے میں آئے۔ آپؐ نے انہیں حکم دیا کہ حج کو عمرہ کردیں اور یہ بات ان کے نزدیک بہت ہی بڑی تھی اس لیے انہوں نے کہا: یارسول اللہ ؐ! کون سی بات حلال ہے ؟ فرمایا: سب حلال باتیں۔(صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلتَّمَتَّعُ وَالۡقُرۡانُ وَالۡاِفۡرَادُ بِالۡحَجِّ وَفَسۡخُ الۡحَجِّ لِمَنۡ لَّمۡ یَکُنۡ مَّعَہُ ھَدۡیٌ حدیث:۱۵۶۴)
عمرہ کی برکت:عمرے کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک ہے : اَلۡعُمۡرَۃُ اِلَی الۡعُمۡرَۃِ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیۡنَھُمَا وَالۡحَجُّ الۡمَبۡرُوۡرُ لَیۡسَ لَہُ جَزَأَءَ اِلَّا الۡجَنَّۃُ۔ (صحیح البخاری کِتَابُ الۡعُمۡرَۃِ بَاب وُجُوۡبُ الۡعُمۡرَۃِ وَفَضۡلُھَا حدیث:۱۷۷۳) ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کفارہ ہے، ان کوتاہیوں کا جو اِن دونوں کے درمیان ہوگئی ہوں اور مقبول حج کا بدلہ جنت ہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: راہِ خدا کے مسافر تین آدمی ہیں۔ غازی، حاجی اور عمرہ کرنے والا۔ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۱۱) ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عمرے کے ثواب کے بارے میں فرمایا: وَلَکِنَّھَا عَلَی قَدۡرِ نَفَقَتِکِ أَوۡ نَصَبِکِ (صحیح البخاری کتاب العمرہ بَاب أَجۡرُ الۡعُمۡرَۃِ عََلی قَدۡرِ النَّصَبِ حدیث:۱۷۸۷)بات یہ ہے کہ ثواب تو اس مقدار سے ہوتاہے جتنا آپ خرچ کریں اور جتنی مشقت برداشت کریں۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کو ان کے عمرہ کے متعلق فرمایا: تیرے تھکاوٹ اور خرچ کی مناسبت سے تیرے لیے اجر ہے۔ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۷۳۳)یعنی عمرے کے سفر میںجو تکلیف اور کوفت برداشت کرنی پڑتی ہے ثواب کی مقداراسی کے مطابق کم یا زیادہ ہوجاتی ہے۔
رمضان میں عمرہ: بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عمرہ کچھ خاص دنوں میں کیا جائے تو وہ زیادہ افضل ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابیہ سے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ ہوتو اس میں عمرہ کروکیونکہ رمضان میں عمرہ حج ہے یا کچھ ایسی ہی بات آپؐ نے فرمائی۔ (صحیح البخاری کتاب العمرۃ بَاب عُمۡرَۃٌ فِی رَمَضَانَ حدیث:۱۷۸۲) ایک اَور روایت میں ہے کہ امّ معقل ؓنے عرض کیا : اے اللہ کے رسولؐ! میں عورت ذات ہوں، عمر زیادہ ہوگئی ہے اور بیماربھی ہوں، کیا کوئی ایسا عمل ہے جو مجھ سے میرے حج سے کفایت کرجائے؟ آپ ﷺ فرمایا: عُمۡرَۃٌ فِی رَمَضَانَ تُجۡزِیءُ حَجَّۃً (ابوداؤد کتاب المناسک باب الۡعُمۡرَۃِ حدیث:۱۹۸۸) رمضان میں عمرہ، حج سے کفایت کرتا ہے۔مستدرک حاکم میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:اِنَّ الۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَۃَ مِنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ، وَاِنَّ عُمۡرَۃً فِیۡ رَمَضَانَ تَعۡدِلُ حَجَّۃً اَوۡ تُجۡزِءُ بَحَجَّۃٍ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۷۷۴) حج وعمرہ بھی راہِ خدا سے تعلق رکھتے ہیں اور رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ اگرچہ رمضان میں عمرہ کی زیادہ فضیلت ہے لیکن جس پر حج فرض ہوجائے اُس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ حج بھی کرے یعنی رمضان میںادا کیے ہوئے عمرے سے حج کی فرضیت پوری نہیں ہوگی۔
عمرہ کب کیا جائے؟ : عمرہ کے لیے کوئی خاص دن یا وقت مقرر نہیںبلکہ دورانِ سال کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے۔ البتہ نویں ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ تک چار دنوں میں عمرہ کا احرام باندھنا درست نہیںکیونکہ یہ حج کے دن ہیں۔ مکہ میں رہنے والے عمرہ کے احرام کے لیے تَنعِیم جاتے ہیں اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ واپس آتے ہیں تاکہ اس عبادت کے لیے ایک گونہ سفر کی شرط پر عمل ہوجائے۔گویا جو لوگ عمرے کی غرض سے مکہ جائیں اور پہلے عمرے کی ادائیگی کے بعدوہاں رک جائیں اوراس کے بعد نفلی عمرہ یا اپنے کسی پیارے کی طرف سے عمرہ کرنا چاہیں تو وہ حرم کی حدود سے باہر مقامِ تنعیم یا حِل کے کسی مقام سے عمرے کی نیت کرسکتے ہیں۔
مسجد عائشہؓ(تنعیم): یہ مسجدمسجدِ حرام سے جانب شمال مکہ، مدینہ روڈ پر ساڑھے سات کلومیٹرکی دوری پر واقع ہے۔حدودِ حرم میں سے سب سے نزدیک حدِّحرم یہی ہے۔اس مبارک مسجد کی تعمیر اس جگہ پر ہوئی ہے جہاں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے سنہ ۹ھ میں حج وداع کے موقع پر عمرہ کے احرام کی نیت کی تھی۔(صحیح البخاری، کتاب الحج،باب اَلۡحَجُّ عَلَی الرَّحۡلِ حدیث نمبر ۱۵۱۸ )
بعدازاں محمد بن علی شافعی نے اس جگہ مسجد تعمیر کی۔ اس مسجد کی نئی توسیع شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں ہوئی ہے مسجد کا کل رقبہ مع ملحقات ۸۴۵۰۰؍مربع میٹر ہے۔ مسجد کی تعمیر چھ ہزار مربع میٹر پر ہے۔اس مسجد میں پندرہ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔
حدودِ حرم :مکہ مکرمہ وہ مقدس شہر ہے جہاں خدا تعالیٰ کی سب سے قدیمی عبادت گاہ موجود ہے جو حج کا مقام اور روز ِاوّل سے ارضِ حرم ہے۔ اس قدیم گھر کی وجہ سے اس علاقے کو ’’حرم‘‘ کا درجہ ملا جس کی وجہ سے اس میں موجود ہر چیز کو امن وامان حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ حدودِ حرم میں موجود درخت اور خود رَو نباتات بھی کاٹے جانے سے محفوظ ہوگئے نیز پرندوں اور جانورں کو بھی امان حاصل ہوئی۔ نہ تو انہیں مارا جاسکتا ہے اور نہ ہی ڈرایا بھگایاجاتا ہے۔ سوائے موذی جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے۔ آنحضرت ﷺ نے صرف اذخر نامی گھاس کو اس کی افادیت اور گھروںمیں استعمال کی وجہ سے کاٹنا جائز قرار دیا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اس شہر کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے۔ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز کوئی اُٹھائے، سوائے اس شخص کے جو اُس کی شناخت کرائے (تاجس کی ہو اُس کو پہنچ جائے۔)(صحیح البخاری کتاب الحج بَاب ۴۳: فَضۡلُ الۡحَرَمِ حدیث:۱۵۸۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جس دن مکہ فتح کیا، فرمایا:…یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت سے نوازا ہے، اس دن سے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ اللہ کی اس حرمت سے قیامت کے دن تک حرمت والا رہے گا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے اس میں لڑائی جائز نہیں ہوئی اور مجھے بھی صرف ایک دن کی ایک گھڑی (لڑائی کی ) اجازت دی گئی ہے۔ سو وہ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت تک (اپنی حرمت) پر قائم رہے گا۔ اس کا کانٹا نہ توڑا جائے گا۔ اس کا شکار نہ چونکایا جائے گااور اس کی گری پڑی چیز نہ اُٹھائی جائے، اس شخص کے سوا جو اس چیز کو پہچانے اور اس کی گھاس نہ کاٹی جائے۔ حضرت عباسؓ نے کہا : یارسول اللہ ؐ! مگر اذخر گھاس کیونکہ وہ ان کے لوہاروں اور ان کے گھروں کے استعمال کی چیز ہے۔ (راوی نے ) کہا: آپؐ نے فرمایا : اذخر کے سوا۔ (صحیح البخاری کتاب جزاء الصیدبَاب لَایَحِلُّ الۡقِتَالُ بِمَکَّۃَ حدیث:۱۸۳۴)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے :وَمَنۡ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا (اٰل عمران:۹۸) اور جو بھی اس میں داخل ہوا وہ امن پانے والا ہوگیا۔عربی زبان میں ’’حرم‘‘ قابل تعظیم اور محفوظ چیز کو کہتے ہیں۔ جس کی حمایت اور حفاظت اور ادب ہر انسان کے لیے ضروری ہو۔ شرعی اصطلاح میں حرم سے مرادبیت اللہ کا وہ احاطہ ہے جسے بیت اللہ کی وجہ سے حرم یعنی قابل ادب اور امن کی جگہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں ہر قسم کا جنگ و جدال اور خلافِ شریعت فعل قطعاًممنوع ہے۔ حرم کا یہ مفہوم مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات پر بھی اطلاق پاتا ہے۔ مکہ مکرمہ کے خاص علاقے اور شکار گاہیں وغیرہ بھی حرم میں شامل ہیں۔ پس ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حرم کے آداب کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھے اور اس کے اندر محرمات ِ الہٰیہ کا خاص پاس رکھتے ہوئے اس کے امن میں کسی قسم کی رخنہ اندازی نہ کرے بلکہ حرم کے اندر خشوع وخضوع اور توجہ کے ساتھ عبادت کرے اوراپنی تمام تر توجہ ذکر الٰہی اور دعاؤں کی طرف مرکوز رکھے۔
حرم کی حدود مکہ مکرمہ کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے البتہ یہ حدود ہر طرف ایک جیسی نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے مکہ مکرمہ کی طرف آنے والے بڑے بڑے راستوں پر حدود حرم کی نشاندہی کرکے نشانات لگادیئے گئے ہیںتاکہ حرم کے علاقے کا تَعَیُّن ہوسکے۔اس وقت حدودِ حرم اور مسجد حرام کی درمیانی مسافت نئے راستوں کے ذریعہ اس طرح ہے۔مدینہ منورہ روڈ (تنعیم کی سمت) ۶.۵؍کلومیٹر۔ جدہ ہائی وے کی طرف سے ۲۲؍کلومیٹر۔ نئے لیث روڈ کی سمت ۱۷؍کلومیٹر۔طائف روڈ (طریق سیل کی سمت ) ۱۲.۸۵؍کلومیٹر۔ (مکہ مکرمہ ماضی و حال کے آئینہ میں صفحہ۳۹۔ سعودی عرب ۲۰۱۰ء )مدینہ منورہ سے شائع ہونے والی ایک کتاب کے مطابق خانہ کعبہ سے مختلف جہتوںمیں حدود حرم کا فاصلہ اس طرح ہے۔
اَلۡتَنۡعِیۡم (مسجد عائشہؓ) ۷.۵ کلومیٹر
وادی نخلۃ ۱۳ کلومیٹر
اِضَاۃُ لَبَنً (العکیشیۃ) ۱۶ کلومیٹر
اَلۡجِعِرَّانَۃ ۲۲ کلومیٹر
اَلۡحُدَیۡبِیَۃ (الشمیسی) ۲۲ کلومیٹر
جبل عرفات ۲۲ کلومیٹر
(تاریخ مکہ مکرمہ از ڈاکٹر محمد الیاس عبدالغنی۔ مطابع الرشید مدینہ منورہ ایڈیشن۲۰۰۲ء صفحہ ۱۶)
عمرہ واجب ہے یا نفل: عمرے کے متعلق اللہ جلّشانہ نے فرمایاہے :وَاَتِمُّواالۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ (البقرۃ:۱۹۷) اوراللہ کے لیے حج اور عمرہ کو پورا کرو۔عمرے کے واجب ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ائمہ میں اختلاف ہے۔ امام مالکؒ اور امام ابوحنیفہ ؒکے نزدیک عمرہ نفل ہے، واجب نہیں۔امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل ؒکے نزدیک عمرہ واجب ہے۔حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں، ان میں سے کسی سے بھی آغاز کرلیا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۷۳۰)
کسی کی طرف سے عمرہ:کسی شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا :اے اللہ کے رسولؐ ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں۔ حج عمرے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ سواری پر سوار ہوسکتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا:احۡجُجۡ عَنۡ أبِیۡکَ وَاعۡتَمِر(سنن ابو داؤد کتاب المناسک بَاب الرَّجُلَ یَحُجُّ عَنۡ غَیۡرِہِ حدیث:۱۸۱۰) اپنے باپ کی طرف سے حج کرو اور عمرہ بھی۔پس جو انسان حج یا عمرہ کی طاقت نہ رکھتا ہو یا کسی وجہ سے ان کی ادائیگی سے محروم ہو تو اس کی طرف سے حج اور عمرہ کیا جاسکتا ہے۔
نبی ﷺ نے کتنے عمرے کیے؟: روایات سے پتا چلتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے چار عمرے کیے اور آخر میں حج کیا۔حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنے عمرے کیے ؟ انہوں نے کہا چار۔ (صحیح البخاری کتاب العمرۃ بَاب کَمِ اعۡتَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث:۱۷۷۵) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نبی ﷺنے ایک عمرہ وہ کیا تھا جبکہ قریش نے آپؐ کو لوٹا دیا تھا اور ایک دوسرے سال عمرہ حدیبیہ کا اور ایک عمرہ ذی قعدہ میں اور ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ۔ (صحیح البخاری کتاب العمرۃ بَاب کَمِ اعۡتَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث:۱۷۷۹)
میقات:میقات وہ جگہیں ہیں جہاںسے حج وعمرہ کے لیے آنے والے احرام باندھتے ہیں۔ذیل میں میقات اور ان کا مسجد حرام سے فاصلہ درج کیا جارہا ہے۔قرن منازل: یہ اہل نجد، اس کے آس پاس خلیج کے باشندوں اور ریاض وطائف سے آنے والوں کی میقات ہے۔حرم سے اس کا فاصلہ ۸۰؍کلو میٹر ہے۔ ذات عرق:یہ اہل عراق اور اس سمت سے آنے والوں کی میقات ہے۔آج کل اس مقام کو’’ضریبہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔اس کا حرم سے فاصلہ ۹۰؍کلو میٹر ہے۔ یلملم:یہ اہل یمن اور جنوب کی سمت سے آنے والے لوگوں کی میقات ہے۔ آج کل ’’سعدیہ‘‘ کے نام سے متعارف ہے۔ یہ جگہ حرم سے ۱۳۰؍کلو میٹر ہے۔ جحفہ:یہ میقات اہل شام ومصراور اس طرف سے آنے والوں کی ہے۔اس طرف سے آنے والے شہر رابغ سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں جو جحفہ سے جنوب مشرق میں ۱۷؍کلومیٹر کے فاصلہ پرواقع ہے۔حرم سے اس کا فاصلہ ۱۸۲؍کلو میٹر ہے۔ ذوالحلیفہ:ذوالحلیفہ مدینہ سے ۱۰؍کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے یہاں پر ایک مسجد ہے جو مسجد ذوالحلیفہ یا مسجد میقات کہلاتی ہے۔اہل مدینہ اور اس طرف سے آنے والے اس جگہ سے احرام باندھتے ہیں۔یہ جگہ حرم سے ۴۱۰؍کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ (ملخص از تاریخ مکہ مکرمہ از ڈاکٹر عبدالغنی صفحہ ۲۵ تا ۳۱)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ اور اہل شام کے لیے جحفہ اور اہل یمن کے لیے یلملم اور اہل نجد کے لیے قرن مقرر کیے۔ یہ ان ملکوں کے لیے بھی ہیں اور اُن لوگوں کے لیے بھی، جو اِن سے باہر سے آئیں۔ یعنی وہ جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں اور وہ جو اِن سے ورے رہتے ہوں وہ اپنے گھر سے ہی احرام باندھیں۔ یہاں تک کہ اہل مکہ بھی مکہ سے ہی احرام باندھیں۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب مُھَلُّ مَنۡ کَانَ دُوۡنَ الۡمَوَاقِیۡتِ حدیث:۱۵۲۹)
فقہاء نے جہاں اس امر پراتفاق کیا ہے کہ میقات اور مکہ مکرمہ کے درمیان رہنے والے اپنے اپنے ٹھکانوں سے ہی احرام باندھیں، وہاں اس بارے میں اجازت اور عدمِ اجازت، افضل اور غیر افضل کا سوال اُٹھا کر دو گروہ ہوگئے ہیں۔ ایک فریق یعنی امام مالکؒ وامام احمد بن حنبلؒ کا خیال ہے کہ چونکہ یہ اجازت ہے، اس لیے افضل یہی ہے کہ میقات میں آکر احرام باندھے اور دوسرے فریق یعنی امام شافعی ؒ، امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوریؒ وغیرہم نے کہا ہے اجازت سے فائدہ اُٹھانا ہی افضل ہے۔ (صحیح البخاری جلد سوم کتاب الحج تشریح باب ۱۱ صفحہ ۱۸۷)
مقام تنعیم سے احرام:تنعیم حدود ِحرم سے باہر بیت اللہ سے ساڑھے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔اس جگہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام پر ایک مسجد موجود ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کے بعد اپنے عمرے کی نیت اسی جگہ سے کی تھی۔ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جب ہم حج کرچکے تو نبی ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ کیا۔(صحیح البخاری کتاب الحج بَاب کَیۡفَ تُھِلُّ الۡحَائِضُ وَالنُّفَسَائُ حدیث:۱۵۵۶)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اَور روایت ہے۔ انہوںنے کہا: یارسول اللہ ؐ! آپؐ نے عمرہ کرلیا ہے اور میں نے عمرہ نہیں کیا۔ آپؐ نے فرمایا:عبدالرحمٰن! اپنی بہن کو لے جاؤ اور انہیں تنعیم سے عمرہ کراؤ۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمٰنؓ نے ان کو اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیااور پھر انہوں نے (حضرت عائشہؓ ) نے عمرہ کیا۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلۡحَجُّ عَلَی الرَّحۡلِ حدیث:۱۵۱۸)
اگر کوئی زائر قبل ازیں کسی مقررہ میقات سے احرام باندھ کر اور عمرے کی نیت کے بعد اپنا عمرہ مکمل کرچکا ہو اور وہ دوبارہ عمرہ کرنا چاہتا ہو یا اپنے کسی پیارے کی طرف سے عمرے کاارادہ رکھتا ہوتو وہ تنعیم کے مقام پر چلا جائے۔اس جگہ عمرے کی نیت کرلے اور دو نوافل ادا کرنے کے بعد بیت اللہ آجائے۔ اگر کوئی چاہے تو اپنی رہائش گاہ میں نہاکر احرام باندھ لے اورکسی سواری کے ذریعہ مسجد عائشہ (تنعیم) چلا جائے۔وہاں عمرے کی نیت کے بعد دو نوافل ادا کرکے کعبہ میں آجائے اور اپنا عمرہ مکمل کرے۔
چند اصطلاحات کا تعارف: حج اور عمرہ کے دوران ایک زائر کا جن اہم اصطلاحات سے واسطہ پڑتا ہے اُن میں سے چند اصطلاحات کا مختصرتعارف ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔اہل حرم: اہل حرم سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ مکرمہ میں مستقل یا عارضی طور پر قیام پذیرہوں۔وہ لوگ بھی اہل حرم کہلاتے ہیں جو حدود حرم کے اندر رہتے ہیں، یہ حضرات حج کا احرام اپنی رہائش گاہ سے ہی باندھیں گے البتہ عمرہ کے لیے انہیں حرم کی کسی حد پر جاکر احرام باندھنا ہوگا۔ اہل حِل: اہل حِل سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی رہائش میقات اور حدودحرم کے درمیان ہو۔ یہ لوگ حج وعمرہ کا احرام اپنے گھر سے باندھیں گے۔ آفاقی: وہ لوگ جو حدودِ میقات سے باہر رہتے ہیں، وہ حج وعمرہ کا احرام اپنے اپنے میقات سے باندھیں گے۔ مطاف: (طواف کی جگہ) خانہ کعبہ کے چاروں طرف کھلا ہوا حصہ ہے جس پر طواف کرتے ہیں،یہ جگہ مطاف کہلاتی ہے۔ اضطباع: احرام کی اوپر والی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر اس طرح ڈالنا کہ دایاں کندھا ننگا رہے۔اضطباع کہلاتا ہے۔ کعبہ کے طواف کے دوران اضطباع کیا جاتا ہے جبکہ صفا اور مروہ پر جاتے وقت چادر دائیں بغل سے نکال کر دونوں کندھوں کو ڈھک لیا جاتا ہے۔اگر کوئی اضطباع کرنا بھول جائے تو کچھ حرج نہیں۔ تلبیہ: حج اور عمرہ کی نیت کے بعد احرام کی حالت میں جو ورد کیا جاتا ہے اس کو تلبیہ کہتے ہیں۔ اِھۡلَال: احرام باندھتے وقت بلند آوازمیں تَلۡبِیَۃ کہنا۔ استلام: حجرِاسود کو بوسہ دینا یا ہاتھ سے چھونا یا دُور سے اشارہ کرکے بوسہ دینا استلام کہلاتا ہے۔ طواف: خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانے کوطواف کہتے ہیں۔ہر چکر کو اصطلاح میں ’’شوط‘‘کہتے ہیں۔ رَ مَل: طواف کے پہلے تین چکروں میں کندھا ہلاتے ہوئے،قریب قریب قدم رکھ کر قدرے تیز رفتاری سے چلنا رَ مَل کہلاتا ہے۔ رکن یمانی : خانہ کعبہ کا جنوب مغربی کونہ چونکہ یمن کی سمت ہے اس لیے اسے ’’رکن یمانی ‘‘ کہتے ہیں طواف کے وقت اس کونے کو ہاتھ سے چھونا یا اُسے بوسہ دینا مستحب ہے۔ مَیلَین اخضرَین :صفا اور مروہ کے درمیان دونوں طرف ایک خاص جگہ پر سعی کرنے والے مرد حضرات کوعام رفتا ر سے قدرے تیز رفتارسے چلنا چاہیے۔ عورتوں کے لیے تیز رفتارسے چلنا ضروری نہیں۔ اس جگہ چھت پر سبز رنگ کی لائٹیں لگاکر مقررہ حصے کی تعیین کردی گئی ہے تاکہ سعی کرنے والا جان لے کہ کس جگہ سے کہاں تک تیز رفتار سے چلنا ہے۔
سفر کی دعا: رسول اللہ ﷺ جب بھی سفر پر تشریف لے جانے کے لیے اپنے اونٹ پر بیٹھتے تو تین دفعہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر کہتے: سُبۡحَانَ الَّذِیۡ سَخَّرَلَنَا ھَذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقۡرِنِیۡنَ وَاِنَّا اِلَی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ اللّٰھُمَّ اِنَّا نَسۡأَلُکَ فِی سَفَرِنَا ھَذَا الْبِرَّ وَالتَّقۡوَی وَمِنَ الۡعَمَلِ مَا تَرۡضَی اللَّھُمۡ ھَوِّنۡ عَلَیۡنَا سَفَرَنَا ھَذَا وَاطۡوِعَنَّا بُعۡدَہُ اللّٰھُمَّ أَنۡتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَالۡخَلِیۡفَۃُ فِی الۡأَھۡلِ اللّٰھُمَّ اِنِّیۡ أَعُوۡذُبِکَ مِنۡ وَعۡثَاءِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الۡمُنۡظَرِ وَسُوۡئِ الۡمُنۡقَلَبِ فِی الۡمَالِ وَالۡأَھۡلِ(صحیح مسلم کتاب الحج بَاب مَا یَقُوۡلُ اِذَا قَفَلَ مِنۡ سَفَرِ الۡحَجِّ وَغَیۡرِہِ حدیث:۲۳۷۸) پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے مسخّر کیا اور ہم اس کو زیرِ نگیںکرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور یقیناً ہم اپنے ربّ کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ (الزخرف:۱۵,۱۴) اے اللہ ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کی توفیق چاہتے ہیں جس سے تو راضی ہوجائے۔ اے اللہ ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کردے اور اس کے فاصلے کو (بسہولت ) طے کرادے۔ اے اللہ ! سفر میں بھی تو ہی ساتھی ہے اور گھر میں بھی تو ہی جانشین۔ اے اللہ ! میں سفر کی مشقت، کسی اندوہناک منظر اور مال اور گھر کے لحاظ سے بُری واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
احرام: لغت کی رُو سے احرام کے معنے حرام کرنا ہیں یعنی حج یا عمرہ کرنے والا میقات سے حج یا عمرہ کی نیت کرکے تلبیہ پڑھ لیتا ہے تو بعض جائز باتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے۔ مرد اِحرام کے طور پر دو بے سلی چادریں اوڑھتا ہے۔ ایک تہبندکا کام دیتی ہے اور دوسری کندھوں پر ڈالی جاتی ہے جبکہ عورتیں عام کپڑوں میں حج وعمرہ اداکرتی ہیں۔ احرام باندھنے والے کو مُحرِم کہتے ہیں۔ محرم کو چاہیے کہ احرام باندھتے وقت غسل کرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب آدمی احرام کا ارادہ کرے یا مکہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو غسل کرنا سنت ہے۔ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۳۹)
اگر کوئی چاہے تو اپنے گھر یا رہائش گاہ پر غسل کرکے احرام باندھ سکتا ہے لیکن عمرہ کی نیت کسی میقات پر جاکر ہی کی جاسکتی ہے۔ ہوائی جہاز پر سفر کرنے والوں کو چاہیے کہ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ایئرپورٹ پر احرام باندھ لیںلیکن عمرہ کی نیت اُسی جگہ سے کریں جو اُن کے لیے بطور میقات مقرر ہے۔ جدہ کی طرف سفر کرنے والوں کے لیے ہوائی یابحری جہازمیں قبل از وقت میقات کا اعلان کردیا جاتا ہے تاکہ عمرہ کی غرض سے آنے والے نیت کرلیں۔ بعض ایئرلائنز میں احرام باندھنے کی بھی سہولت موجودہے۔اگر پہلے مدینہ کا سفر مقصود ہو تو احرام باندھنے کی ضرورت نہیں بلکہ جب مکہ کی طرف سفر شروع کریں تو حرمِ مدینہ سے باہر واقع مسجد ذوالحلیفہ (مسجد شجرہ) سے احرام باندھ کرعمرے کی نیت کرنا ہوگی۔
نیت کے الفاظ: عمرے میں بھی حج کی طرح میقات سے احرام باندھنا، عمرے کی نیت کرنا اور تلبیہ وغیرہ اُمور کاخیال رکھنا ضروری ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُنہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دورکعت۔ پھر آپؐ رات کو وہیں رہے۔ یہاں تک کہ صبح ہوئی۔ پھر آپؐ سوار ہوئے۔ جب اونٹنی آپ کو لے کر بیداء میں پہنچی تو آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہا۔پھر حج و عمرہ دونوں کا نام لے کر اَللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ کہا اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا نام لے کر اَللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ پکارا۔(صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلتَّحۡمِیۡدُ وَالتَّسۡبِیۡحُ وَالتَّکۡبِیۡرُ قَبۡلَ الۡاِھۡلَالِ عِنۡدَ الرُّکُوۡبِ عَلَی الدَّابَّۃِ حدیث:۱۵۵۱) پس آنحضرت ﷺ کی سنت پر عمل میںہی سب خیروبرکت پنہاںہے۔ اس لیے حج و عمرہ کی نیت سے پہلے الحمدللہ، سبحان اللہ اور اللہ اکبر کے بابرکت الفاظ کہنے چاہئیں۔اس کے بعد حج یا عمرہ کے الفاظ کے ساتھ نیت کرتے ہوئے تلبیہ کہا جائے۔ عمرے کی نیت لَبَّیۡکَ بِعُمۡرَۃکے الفاظ کے ساتھ کرنی چاہیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے سنا آپؐ فرماتے تھے: لَبَّیۡکَ بِعُمۡرَۃٍ وَحَجَّۃٍ الٰہی میںعمرہ وحج دونوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ (الجامع الکبیر للترمذی اَبۡوَابُ الۡحَجِّ بَابُ مَا جَآءَ فِی الۡجَمۡعِ بَیۡنَ الۡحَجِّ وَالۡعُمۡرَۃِ حدیث:۸۲۱)
نوافل اور تلبیہ : احرام باندھنے کے بعد دو رکعت نفل کی ادائیگی سنت نبوی ہے۔تلبیہ، احرام کا لازمی جزوہے۔اگر تلبیہ کے الفاظ عمرہ کے ارادہ کے ساتھ نہ کہے جائیں تو احرام مکمل نہیں ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ذوالحلیفہ میں دورکعت نماز پڑھتے اور پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر اچھی طرح کھڑی ہوجاتی تو ان کلمات کے ساتھ تلبیہ کہتے۔ (صحیح مسلم کتاب الحج باب التَّلۡبِیَۃُ وَصِفَتُھَا وَوَقۡتُھَاحدیث:۲۰۱۷)
لَبَّیۡکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیۡکَ، لَبَّیۡکَ لَا شَرِیۡکَ لَکَ لَبَّیۡکَ، اِنَّ الۡحَمۡدَ وَالنِّعۡمَۃَ لَکَ وَالۡمُلۡکَ لَا شَرِیۡکَ لَکَ (صحیح البخاری کتاب الحج باب التَّلۡبِیَۃُ حدیث:۱۵۴۹) میں حاضر ہوں اے میرے اللہ! میں حاضرہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ ہر خوبی اور ہر ایک نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔
حضرت امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے الفاظِ تلبیہ میں کمی نہ کی جائے لیکن تلبیہ کے ہم معنی الفاظ بڑھالیے جائیں تو یہ ناجائز نہیںبلکہ مستحب ہے یعنی محبت کے اظہار کے لیے اپنی طرف سے الفاظ بڑھائے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تلبیہ کے ساتھ یہ الفاظ بھی شامل کرلیا کرتے تھے: لَبَّیۡکَ لَبَّیۡکَ وَسَعۡدَیۡکَ وَالۡخَیۡرُ بِیَدَیۡکَ لَبَّیۡکَ وَالرَّغۡبَائُ اِلَیۡکَ وَالۡعَمَلُ(صحیح مسلم کتاب الحج بَاب التَّلۡبِیۡۃُ وَصِفَتُھَا وَوَقۡتُھَا حدیث:۲۰۳۱) میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں اور یہ سعادت ہے اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ میں حاضر ہوں اور رغبت اور عمل تیری طرف ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے تلبیہ میں یہ الفاظ بھی شامل تھے۔ لَبَّیۡکَ اِلٰہُ الۡحَقِّ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۴۹)
قبلہ کی طرف منہ کرکے لبیک کہنا: اَئمہ متفق ہیںکہ لبیک قبلہ رُخ ہوکر کہنا چاہیے جیسا کہ نماز میں کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھتے تو وہ اپنی اونٹنی کو تیار کرنے کا حکم دیتے۔ چنانچہ اس پر پالان رکھا جاتا۔ پھر وہ سوار ہوتے اور جب اونٹنی اُن کو لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی تو وہ قبلہ کی طرف منہ کرتے، پھر لبیک کہتے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلۡاِھۡلَالُ مُسۡتَقۡبِلَ الۡقِبۡلَۃِ حدیث:۱۵۵۳)
تلبیہ کس طرح پڑھنا چاہیے:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو بلند آواز میں تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۵۱) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے محمد ! اپنے اصحاب کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ کہا کریں کیونکہ یہ حج کی علامت ہے۔ (المستدرک کِتَابُ مَنَاسِکَ الۡحَجِّ حدیث:۱۶۵۳)
تلبیہ کب کب پڑھا جائے: روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ میقات پرحج یا عمرہ کی نیت کرنے کے بعد حرم کی طرف سفر کے دوران کثرت سے تلبیہ کہنا چاہیے۔ مردوں کے لیے بلند آواز سے تلبیہ کہنا مسنون ہے جبکہ عورتیں دھیمی آواز میں تلبیہ پڑھیں گی۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ اور دوسرے ساتھ والوں کو حکم دوں کہ تلبیہ کہنے میں اپنی آواز اونچی رکھیں۔ (سنن ابوداؤد کتاب المناسک بَابٌ کَیۡفَ التَّلۡبِیَۃُ حدیث:۱۸۱۴)
تلبیہ کی برکت: احادیث میں حج وعمرہ کے تلبیہ کی برکات کا ذکر ملتاہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے احرام کی حالت میں تلبیہ پڑھتے ہوئے دن گزارا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا تو سورج اس کے گناہوں کو لے کر غروب ہوگا اور وہ شخص ایسا لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے اس کو آج ہی جنا ہے۔ (کنزالعمال کتاب الحج والعمرۃ حدیث:۱۱۸۰۳)
تلبیہ کب تک پڑھنا چاہیے: مختلف روایات سے پتا چلتا ہے کہ عمرہ کرنے والوں کو حجر اسود کا استلام کرنے تک تلبیہ کہنا چاہیے یعنی عمرے کا طواف شروع کرنے تک۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم سے قریب ترین مقام پر پہنچتے تو لبیک کہنے سے رُک جاتے۔(صحیح البخاری کتاب الحج بَاب اَلۡاِغۡتِسَالُ عِنۡدِ دُخُوۡلِ مَکَّۃَ حدیث:۱۵۷۳) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: عمرہ کرنے والا حجر اسود کو ہاتھ لگانے (یا بوسہ دینے ) تک تلبیہ کہتا رہے۔ (سنن ابوداؤد کتاب المناسک بَابٌ مَتَی یَقۡطَعُ الۡمُعۡتَمِرُ التَّلۡبِیَۃَ حدیث:۱۸۱۷)
احرام باندھتے وقت خوشبو لگانا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا:محرم خوشبودار پھول سونگھ سکتا ہے اورآئینہ بھی دیکھ سکتا ہے اور تیل اور گھی جو وہ کھاتا ہے اس سے علاج معالجہ بھی کرسکتا ہے اور عطاء (بن ابی رباح ) نے کہا: انگوٹھی بھی پہن سکتا ہے اور کمر کی پیٹی بھی پہنے۔حضرت امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے کتاب الحج باب ۱۸کے عنوان میں لکھا ہے کہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھے، طواف کیا اور انہوں نے پیٹ پر کپڑا باندھا ہوا تھا۔ (صحیح البخاری کتاب الحج باب اَلطِّیۡبُ عِنۡدَ الۡاِحۡرَامِ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی تھیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو جب آپؐ احرام باندھتے خوشبو لگایا کرتی تھی اور ایسا ہی جب آپؐ احرام کھولتے یعنی بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے۔ (صحیح البخاری کتاب الحج باب اَلطِّیۡبُ عِنۡدَ الۡاِحۡرَامِ حدیث:۱۵۳۹)
احرام میں کن چیزوں کی اجازت ہے؟: احرام کی حالت میں مرد کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہننا جائز نہیں۔ مگر پیٹی جس میں نقدی رکھی جاتی ہے وہ ایک ضرورت کے لیے ہے اور جائز ہے۔جو وہ کھاتا ہے۔ زیتون کا تیل اور گھی وغیرہ بطور علاج استعمال کرنا جائزہے۔ محرم کے ہاتھ پاؤں اگر پھٹ جائیں تو ان پر تیل یا گھی لگانا جائزہے۔ انگوٹھی اورپیٹی پہننے کی بابت تمام فقہاء نے اجازت دی ہے،سوائے اسحاقؒ کے۔امام بخاریؒ نے بوقت احرام عطر استعمال کرنے، سر میں تیل لگانے اور کنگھی کرنے کے بارے میں تین روایتیں نقل کی ہیں جن سے یہ تینوں باتیں ثابت ہیں۔ (ملخص از صحیح البخاری کتاب الحج، تشریح باب نمبر ۱۸صفحہ ۱۹۷)
(جاری ہے)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: چار روحانی درجات و کمالات عالیہ




