متفرق مضامین

چار روحانی درجات و کمالات عالیہ

مقام صالحیت کی تفہیم اور تصریح یوں بھی بیان کی جا سکتی ہے۔شاہراہ تقوی پر مجاہدہ اور ریاضت کے ساتھ روحانی سفر پر گامزن ہوتے ہوئے جب یہ گھاٹی عبور کرتے ہی ایک اور بڑی اور عظیم الشان اور خوبصورت شاہراہ جو درجہ اعتدال پر ہےسامنے نظر آئے گی جس پر سنگ میل نصب ہوں گے۔ ۱۔صلاحیت ۲۔شہادت ۳۔صدیقیت ۴۔نبوت۔یہ روحانی سفر کا اختتام ہو گا

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں ’’صراط المستقیم‘‘ طلب کرنے کی دعا کا ارشاد فرمایا ہے۔اور اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ(المومن:۶۱)دعا قبول کرنے کا وعدہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ میں دعا کرنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔(البقرہ:۱۸۷)صراط مستقیم کیا ہے؟فرمایا ہے کہ گذشتہ منعم علیہ برگزیدہ ہیں۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر سورۃالنساء آیت۷۰ میں چار روحانی درجات و کمالات عالیہ ہیں۔

۱۔نبوت:یہ نباءسے مشتق ہے یعنی بکثرت اخبار غیبیہ الٰہیہ ہے اور فاعل نبی بکثرت امور غیبیہ بیان کرنے والا۔ اجزائے نبوت میں صدیقیت، شہادت اور صالحیت شامل ہیں۔ یہ کمالات ظلی طور پر حسب استعداد اللہ تعالیٰ ودیعت کرتا ہے۔

۲۔مقام صدیقیت: حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقام صدیقیت کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ ’’صدیق کا ایک مقام ہے کہ دنیا کی کوئی آفت، کوئی تکلیف اور ذلت اسے حدود اللہ کے توڑنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔ جس قدر اذیتیں اور بلائیں بڑھتی جاویں وہ اس کے مقام صدق کو زیادہ مضبوط اور لذیذ بناتی جاتی ہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۳۴۴، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

اسلام میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صدیق کا لقب پایا ہے۔جو آنحضرت خاتم الانبیاء و خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی خفی کے ذریعہ عطا فرمایا ہے۔توبہ نصوح کی قوت جاذبہ صدق کامل بناتی ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’صدق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اور اس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے کیونکہ کذب کو کذب کھینچتا ہے۔ اس لئے کبھی بھی کاذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ لَّا یَمَسُّہٗۤ اِلَّا الۡمُطَہَّرُوۡنَ۔(الواقعہ:۸۰) فرمایا گیا ہے۔ (ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۳۷۵، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

۳۔مقام شہادت: شہداء وسیع المفہوم ہے۔شہید صدیق کا ہمسایہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی جامع تعریف یہ بیان فرماتے ہیں:’’شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خداتعالیٰ سےاستقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کرسکتا۔وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے۔یہاں تک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لئے اس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اس کو ملتا ہے اور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کیے اپنا سر رکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں ۔ایک ایسی لذت اور سرور ان کی روح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو ان کے بدن پر پڑتی ہے اور ہرضرب جو ان کو پیس ڈالے۔ان کو پہنچتی ہے وہ ان کو ایک نئی زندگی، نئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے۔یہ ہیں شہید کے معنی۔ … اور پھر شہید اس درجہ اور مقام کا نام بھی ہے جہاں انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کو دیکھتا ہوا یقین کرتا ہے۔اس کا نام احسان بھی ہے۔‘‘(ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۳۷۵۔۳۷۶، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

۴۔مقام صالحیت: مقام تقویٰ کاآغاز مقام صالحیت کا زینہ ہے۔اتقاء باب افتعال سے ہے۔اور یہ باب تکلّف کے لیے آتا ہے۔متقی کو نیکی کرنے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے یعنی تکلّف سے نیکی کاکام کرنا پڑتا ہے۔جب نیکی انسان کی فطرت کاجزو بن جاتی ہے ۔اس کی روح کی غذا بن جاتی ہے۔یہ حیطہ عمل بن جائے تو صالحیت کے زمرہ میں داخل ہوتی ہے کیونکہ فساد نفسانی کی ارتعاش و تحریک مسلمان ہو جاتی ہے۔

صالحیت کی اقسام:صالحیت کی دو اقسام ہیں۔اِس کی بابت ایک اعتراض کہ اعمال صالحہ بجا لانے والے صالحین کو صالحین میں داخل کیوں کیا ہے؟حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’اصل بات یہ ہے کہ اس میں ایک لطیف نقطہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کوبیان فرماتا ہے کہ صلاحیت کی دو قسم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ انسان تکالیف شاقّہ اٹھا کر نیکیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے نیکیاں کرتا ہے لیکن ان کے کرنے میں اس تکلیف اور بوجھ معلوم ہوتا ہے اور اندر نفس کے کشاکش موجود ہوتی ہے اور جب وہ نفس کی مخالفت کرتا ہے تو سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن جب وہ اعمالِ صالحہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے جیسا کہ اس آیت کا منشا ہے اس وقت وہ تکالیف شاقّہ اور محنتیں جو خود نیکیوں کے لیے برداشت کرتا ہے اٹھ جاتی ہیں اور طبعی طور پر وہ صلاحیت کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ تکالیف تکالیف نہیں رہتی ہیں اور نیکیوں کو ایک ذوق اور لذت سے کرتا ہے اور ان دونوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ پہلا نیکی کرتا ہے مگر تکلیف اور تکلّف سے اور دوسرا ذوق اور لذت سے۔وہ نیکی اس کی غذا ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔

اور وہ تکلّف اور تکلیف جو پہلے ہوتی تھی اب ذوق و شوق اور لذت سے بدل جاتی ہے یہ مقام ہوتا ہے صالحین کا جن کے لیے فرمایا:لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ اس مقام پر پہنچ کر کوئی فتنہ اور فساد مومن کے اندر نہیں رہتا۔نفس کی شرارتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے جذبات پر فتح پا کر مطمئن ہوکر دارالامان میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘(ملفوظات جلد۵ صفحہ ۳۷۵ و ۳۷۶، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

مقام صالحیت کی تفہیم اور تصریح یوں بھی بیان کی جا سکتی ہے۔شاہراہ تقویٰ پر مجاہدہ اور ریاضت کے ساتھ روحانی سفر پر گامزن ہوتے ہوئے جب یہ گھاٹی عبور کرتے ہی ایک اور بڑی اور عظیم الشان اور خوبصورت شاہراہ جو درجہ اعتدال پر ہےسامنے نظر آئے گی جس پر سنگ میل نصب ہوں گے۔ ۱۔صالحیت ۲۔شہادت ۳۔صدیقیت ۴۔نبوت۔یہ روحانی سفر کا اختتام ہو گا۔

ربوبیت اور عبودیت کا تذلل تام یا نفس مطمئنہ کی کیفیت پر آستانہ الٰہی سے زندگی بخش آواز یا عبادی اور وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡآئے ۔ نبوت کے لوازم ہیں جو ظلی طور پر مومن پر منکشف ہوتے ہیں۔روح خدا تعالیٰ کی فرحت افزا اور دلپذیر آواز انا الوجود سن لیتی ہے۔ اس روحانی سفر کو ایک عمودی خط سے متشرّح کیا جاسکتا ہے۔جو نقطہ انخفاض اورارتفاع کے درمیان ہے۔ نقطہ انخفاض مقام صالحیت ہے اور نقطہ ارتفاع مقام نبوت پر واقع ہے۔ مومن کی روحانی استعداد وہ اس کا نقطہ روحانی رفع ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں جبرائیلی نور کی چمک رکھی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ انسان نے اس نور فطرت کو مسخ کردیا ہے۔کیونکہ سچی خواب اور رویاء صالحہ نبوت پر دلیل ناطق ہیں۔ورنہ یہ مشکوک ہوجاتی۔آئینہ دل کو صیقل کرنے پر یہ جبرائیلی نور کی چمک اور تجلی روشن تر ہوتی جاتی ہے۔اور روحانی درجات میں آشکار ہوجاتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ (الاعراف:۱۹۷)اللہ تعالیٰ صالحین کا متولی ہوجاتا ہے۔ولایت اللہ تعالیٰ کے قرب اور اکرام اور عزت و تکریم کا نام ہے۔اور یہ ولایت کے روحانی درجات کے مطابق عطا ودیعت الٰہی ہے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام با ایمان صالح کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:’’حضرت داؤدؑ فرماتے ہیں کہ میں بڈھا ہوگیا مگر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ جو شخص صالح ہو اور باایمان ہو پھر اس کودشواری پیش ہو اور اس کی اولاد بےرزق ہو۔‘‘ (ملفوظات جلد۵ صفحہ ۲۱۵، ایڈیشن ۲۰۲۲ء)

اللہ تعالیٰ کرے کہ منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کی دعا کرتے رہنا ہمارا لازمہ زندگی بن جائے۔آمین

(محمد اشرف کاہلوں۔ آسٹریلیا)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: توبہ اور استغفار کے فوائد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button