اللہ سے صبر اور صلوٰۃکے ساتھ مددمانگو
یہ آیات [البقرۃ: 154-158]جو مَیں نے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے اُن مومنوں کا نقشہ کھینچا ہے جو جب کسی ابتلا یا امتحان میں پڑتے ہیں تو ان کا ایمان کبھی ڈانوا ں ڈول نہیں ہوتا۔ بلکہ ابتلاؤں کے ساتھ ان کے ایمانوں میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے اور پہلے سے زیادہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں۔ ان آیات کا مَیں ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔ فرمایا کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ سے صبر اور صلوٰۃکے ساتھ مددمانگو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو مُردے نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے اور ہم ضرور تمہیں کچھ خوف اور کچھ بھوک اور کچھ اموال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ذریعہ آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیدے۔ ان لوگوں کو جن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم یقیناً اللہ ہی کے ہیں اور ہم یقیناً اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے ربّ کی طرف سے برکتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہدایت پانے والے ہیں۔ جیسا کہ پہلی آیت سے ظاہرہے، اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو صبر اور صلوٰۃ کی تلقین فرمائی ہے۔ گویا یہ دو خصوصیات ایسی ہیں جو ایک مومن میں ہونی چاہئیں اور خاص طور پر ان کا اظہار مشکلات کے وقت یا ابتلا کے وقت ہونا چاہئے یہ بظاہر مختصر الفاظ ہیں لیکن اس کے وسیع معانی ہیں۔ صبر کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ انسان تکلیف پہنچنے پر شکووں اور رونے دھونے سے بچے اور ابتلا کو اگر وہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے توبغیر کسی شکوے اور شکایت کے برداشت کرے۔ کیونکہ یہ شکوے اور کسی نقصان پر رونا جذباتی حالت میں بعض دفعہ ایسے فقرات منہ سے نکلوا دیتا ہے جو خداتعالیٰ سے شکوہ اور کفر بن جاتے ہیں۔ دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ ثبات قدم دکھاؤ، ثابت قدمی دکھاؤ۔ تیسرے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے ان پر عمل کرو۔ اور پھر اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نواہی سے بچاؤ۔ جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان سے بچاؤ۔ پس صبر میں دو ذرائع استعمال کئے گئے ہیں، ایک یہ کہ برداشت، ہمت اور حوصلہ رکھتے ہوئے ہر تکلیف اور مشکل اور امتحان پر ثابت قدم رہو۔ تمہارے قدموں میں کبھی کوئی لغزش نہ آئے۔ تمہارے ایمان میں لغزش نہ آئے۔ اور دوسرے یہ کہ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر اور نواہی ہیں ان پر نظر رکھتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارو اور خداتعالیٰ کے آگے جھکے رہو۔ اور پھر صبر کے ساتھ ہی صلوٰۃ کا لفظ استعمال کرکے دعاؤں کی طرف توجہ کرنے کی مزید تلقین فرمائی۔…
(خطبہ جمعہ ۲؍اکتوبر ۲۰۰۹ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۲۳؍اکتوبر ۲۰۰۹ء )
مزید پڑھیں: نئے سال کا آغاز جائزے اور دعا سے کریں



