نئے سال کا آغاز جائزے اور دعا سے کریں
ہم سال کی آخری رات اور نئے سال کا آغاز اگر جائزے اور دعا سے کریں گے تو اپنی عاقبت سنوارنے والے ہوں گے۔ اور اگر ہم بھی ظاہری مبارکبادوں اور دنیاداری کی باتوں سے نئے سال کا آغاز کریں گے تو ہم نے کھویا تو بہت کچھ اور پایا کچھ نہیں یا بہت تھوڑا پایا۔ اگر کمزوریاں رہ گئی ہیں اور ہمارا جائزہ ہمیں تسلی نہیں دلا رہا تو ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہمارا آنے والا سال گزشتہ سال کی طرح روحانی کمزوری دکھانے والا سال نہ ہو۔ بلکہ ہمارا ہر قدم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اٹھنے والا قدم ہو۔ ہمارا ہر دن اُسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے والا دن ہو۔ ہمارے دن اور رات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عہد بیعت نبھانے کی طرف لے جانے والے ہوں۔ وہ عہد جو ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے شرک نہ کرنے کے عہد کو پورا کیا۔ بتوں اور سورج چاند کو پوجنے کا شرک نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ شرک جو اعمال میں ریاء اور دکھاوے کا شرک ہے۔ وہ شرک جو مخفی خواہشات میں مبتلا ہونے کا شرک ہے۔ (مسند احمد بن حنبل جلد4 صفحہ800-801۔ حدیث محمود بن لبید حدیث نمبر24036۔ عالم الکتب بیروت 1998ء)
…پھر سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور ارشادات کو ہم مکمل طور پر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں؟
پھر یہ سوال ہے کہ کیا تکبر اور نخوت کو ہم نے مکمل طور پر چھوڑا ہے یا اس کے چھوڑنے کے لئے کوشش کی ہے کہ شرک کے بعد سب سے بڑی بلا تکبر اور نخوت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ متکبر جنت میں داخل نہیں ہو گا اور تکبر یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرے۔ لوگوں کو ذلیل سمجھے۔ ان کو حقارت کی نظر سے دیکھے اور ان سے بری طرح پیش آئے۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ حدیث 91)
…پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہر دن ہمارے اندر دین میں بڑھنے اور اس کی عزت و عظمت قائم کرنے والا بنتا رہا ہے؟ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد جو ہم اکثر دہراتے ہیں صرف کھوکھلا عہد تو نہیں رہا۔
پھر سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کی محبت میں ہم نے اس حد تک بڑھنے کی کوشش کی ہے کہ اپنے مال پر اس کو فوقیت دی۔ اپنی عزت پر اس کو فوقیت دی۔ اور اپنی اولاد سے زیادہ اسے عزیز اور پیارا سمجھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا نے مجھے دین اسلام دے کر بھیجا ہے اور اسلام یہ ہے کہ تم اپنی پوری ذات کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دو۔ دوسرے معبودوں سے دستکش ہو جاؤ۔ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ (کنز العمال جلد1 صفحہ152 کتاب الایمان والاسلام من قسم الافعال، فی فصل الثانی، فی حقیقۃ الاسلام حدیث نمبر1378دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)
(خطبہ جمعہ ۳۰ دسمبر ۲۰۱۶ء)
مزید پڑھیں: نئے سال میں دعاؤں کے ساتھ داخل ہوں



