صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل (جلد کے متعلق نمبر ۸) (قسط ۷۶)

(ڈاکٹر لبینہ وقار بسرا)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

فلوریکم ایسڈ

Fluoricum acidum

(Hydrofluoric Acid)

نیٹرم میور میں ناخنوں کی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ ناخن بدنما، اکھڑے اکھڑے اور بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ کنارے پھٹ جاتے ہیں اور پچک کر بےجان ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بال بےرونق، کمزور اور بےجان ہو جاتے ہیں اور ان کی نوکیں پھٹ کر دو نیم ہو جاتی ہیں۔ ان علامات سے عموماً نیٹرم میور کی طرف دھیان جاتا ہے جبکہ ہاتھ پاؤں میں گرمی، جلن اور پسینہ کی علامات سے سلفر کا خیال آتا ہے۔ یہ سب علامات فلورک ایسڈ میں اکٹھی ملتی ہیں۔ یہ گہرا اثر کرنے والی دوا ہے اور اگر علامات کے باوجود اس دوا کو نظر انداز کردیں تو بہت گہرا انقصان پہنچتا ہے۔(صفحہ۳۸۹)

پاؤں جلتے ہیں اور مریض بستر سے پاؤں باہر نکالتا ہے۔ ہاتھ پاؤں دونوں پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔ پسینہ میں جلن ہوتی ہے۔انگلیوں کے درمیان پسینہ آنے کی وجہ سے انگلیاں گل جاتی ہیں۔ اس میں فلورک ایسڈ بہت مفید دوا ہے۔ (صفحہ۳۹۰)

فلورک ایسڈ کے مریض کی جلد پر پھنسیاں بھی بن جاتی ہیں اور ٹھیک نہیں ہوتیں۔ بسا اوقات چہرے پر پھوڑا نکلتا ہے جو پکتا نہیں ہے اور لمبے عرصہ تک تکلیف دیتا ہے۔ عام حالات میں ایسے پھوڑوں میں سلیشیا مفید ثابت ہوتی ہے لیکن سلیشیا سب پھوڑوں پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ ایسے پھوڑوں میں اگر سلیشیا کے بعد فلورک ایسڈ دی جائے تو وہ زیادہ زود اثر ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح پلسٹیلا کے بعد سلیشیا کام کرتی ہے اسی طرح اگر سلیشیا کے بعد پلسٹیلا کی بجائے فلورک ایسڈ دی جائے تو مریض میں ایک فیصلہ کن صورت حال ظاہر ہو جاتی ہے یعنی یا تو مریض شفا پا جائے گایا ایسی واضح علامات ظاہر ہو جائیں گی جو کسی نئی دوا کے انتخاب میں مددگار ہوں گی۔ اگر سلیشیا کا غلط استعمال ہو جائے تو فلورک ایسڈ اس کے بداثرات کو زائل کر دیتا ہے اور اس کے مثبت اثرات پر اثرانداز نہیں ہوتا۔فلورک ایسڈ میں بال بہت کمزور اور بےجان ہو جاتے ہیں اور کناروں سے پھٹ جاتے ہیں۔ نیٹرم میور میں تمام سر پر اثر پڑتا ہے لیکن فلورک ایسڈ میں سر پر کہیں کہیں بال کمزور ہوتے ہیں اور کہیں بالکل صحت مند نظر آتے ہیں یہ پہچان فلورک ایسڈ کو واضح طور پر دوسری ملتی جلتی دواؤں سے ممتاز کر دیتی ہے۔ اس لیے ایسی باتوں پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ بعض دفعہ ایسی علامات کی وجہ سے ایک ایسی دوا کی قطعی شناخت ہو جاتی ہے جو دوسری ملتی جلتی علامتیں دیکھنے سے ممکن نہیں ہوتی۔ ہوشیاری سے تاک میں لگے رہنا چاہیے کہ کوئی ایسی علامت مل جائے جو کسی دوا کی قطعی نشان دہی کر دے پھر باقی تمام بیماریوں کو وہ خود ہی سنبھال لیتی ہے، لمبی چوڑی تفتیش کی ضرورت نہیں پڑتی۔ (صفحہ۳۹۱،۳۹۰)

بعض لوگوں کے سر کی جلد سن ہوجاتی ہے۔ حس ختم ہوجاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سر کا پچھلا حصہ لکڑی سے بنا ہوا ہے۔ اس تکلیف میں فلورک ایسڈ بہترین دوا ہے۔ (صفحہ۳۹۲)

شیرخوار بچوں کے سر کے ایگزیما میں بھی فلورک ایسڈ بہت مفید ہے۔ بڑوں میں یہ علامت نمایاں ہوتی ہے کہ سر کے بالوں والے حصہ میں خارش نہیں ہوتی بلکہ جو حصے بالوں سے خالی ہوگئے ہوں وہاں بہت خارش محسوس ہوتی ہے۔ (صفحہ۳۹۳،۳۹۲)

جلسیمیم

Gelsemium

(زرد چنبیلی)

ناک کی نوک بےحس ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ کانوں میں بھی سن ہونے کا احساس پایا جاتا ہے اور سن ہونے کا یہ احساس صرف جلد تک محدود ہوتا ہے۔ جلد گرم اور خشک ہوتی ہے اور خارش ہوتی ہے۔ جلسیمیم اس تکلیف میں فوری طور پر فائدہ دیتی ہے۔ چہرے اور سر کی جلد پر پھنسیاں نکلتی ہیں۔ اعصاب کے کناروں پر نکلنے والے چھالے انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ ہوتے ہیں، انہیں شنگل (Shingle)کہتے ہیں۔ اس تکلیف میں بھی جلسیمیم مفید ہے۔ عموماً میں لیڈم، آرنیکا اور آرسینک ملا کر دیتا ہوں۔ نیٹرم میور بھی مفید ہے مگر میں بیک وقت کوئی سی بھی تین مناسب دواؤں کو ملا کر نسخہ بناتا ہوں جو بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ یعنی آرنیکا، لیڈیم اور آرسینک میں سے کوئی ایک دوا کم کر کے اس کی بجائے حسب علامات نیٹرم میور یا جلسیمیم داخل کر دیتا ہوں۔ ان پانچ دواؤں کے دائرہ میں ہی اللہ کے فضل سے شنگل کی اکثر صور تیں قابو میں آجاتی ہیں۔ (صفحہ۳۹۹)

گلونائن

Glonoine

(Nitro Glycerine)

گلونائن میں خارش بھی پائی جاتی ہے۔(صفحہ٤۰٥)

گریفائٹس

Graphites

(Black Lead)

گریفائٹس کے مریض میں اخراجات عموماً چپکنے والے ہوتے ہیں۔ اس کا ایگزیما بھی اس علامت سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ ایگزیما عموماً کانوں کے پیچھے، سر کے بعض حصوں میں، کہنیوں اور ہاتھوں کے جوڑوں پر ظاہر ہوتا ہے اور اس میں سے چپکنے والا مادہ ضرور نکلتا ہے اور پھر سخت سا کھرنڈ بن جاتا ہے۔ میزیریم (Mezereum) کے اخراجات بھی چپکنے والے ہوتے ہیں جو سر کے اوپر ایک خول سا بنا دیتے ہیں۔ بعض چھوٹے بچوں کو بہت شدید قسم کا ایگزیما ہوتا ہے اور وہ خارش کرکے جسم کو لہولہان کر لیتے ہیں اور بہت تکلیف دہ صورتحال ہو جاتی ہے۔ ان کے ایگزیما کی علامتیں گریفائٹس کے علاوہ سورائینم(Psorinum) سے بھی ملتی ہیں۔ ان کے اندر اکثر کسی گہری بیماری کا فاسد مادہ موجود ہوتا ہے۔ میں نے جب بھی ایسے بچوں کو جو علامات کے لحاظ سے سلیشیا طلب کرتے تھے، سلیشیا دینی شروع کی تو بلا استثنا ان کے اندر سے پھوٹ کر مواد نکالا۔ سلیشیا کا یہ اثر مسلم ہے۔ سلیشیا سے فاسد مادے باہر نکل آئیں اور سلیشیا ہی کے اثر سے ٹھیک نہ ہوں تو لاز ماً کسی اور بالمثل مناسب دوا کی تلاش ضروری ہے۔ سلیشیا کے بعد عموماً سورائینم کام آتی ہے یا پھر گریفائٹس۔ سورائینم اکثر ایگزیما کو خشک کر دیتی ہے لیکن بعض دفعہ مرض کا کلیۃ ًصفایا نہیں ہوتا اور خشک جلد پر خارش باقی رہ جاتی ہے تا ہم ایک نسبتی تسکین ضرور مل جاتی ہے اور بچہ رات کو کچھ عرصہ تک سکون سے سونے لگتا ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد ایگزیما کے اخراجات دوبارہ بہنے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں گریفائٹس کو بھی ایک مددگار دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کچھ نہ کچھ اثر ضرور دکھاتی ہے۔ لہذا ایگزیما جیسی ضدی بیماریوں میں بہتر یہی ہے کہ بعض ملتی جلتی دواؤں کو ایک دوسرے کے مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اگر بچوں میں خارش سے بے چینی بہت بڑھ جائے تو آرسینک ۱۰۰۰ بھی بہت مفید ہے اور خشک ایگزیما کے لیے خاص طور پر مؤثر ہے۔ آرسینک میں بےچینی کا عنصر اتنا نمایاں ہے کہ اگر پوری علامتیں نہ بھی ہوں تو بھی یہ کچھ نہ کچھ کام کرتی ہے مگر اس صورت میں یہ عارضی فائدہ دیتی ہے۔ آرسینک کا صحیح استعمال وہیں ہوگا جہاں مریض کی اکثر علامات کی تصویر اس دوا سے مشابہ ہو۔(صفحہ٤۰۷،٤۰۸)

گریفائٹس اپنے مخصوص ایگزیما میں بہت مفید ہے۔ اگر مریض میں اس کی دیگر مزاجی علامتیں بھی پائی جائیں تو یہ اکیلی ہی کافی ہے ورنہ ملے جلے ایگزیموں میں جہاں انفیکشن وغیرہ بھی ہو وہاں گریفائٹس محض مددگار دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ جلد میں کچا پن اور سرخی آجائے جیسےسورائسس کی ابتدائی علامتوں میں ہوتا ہے تو گریفائٹس دینی چاہیے۔ جلد کی یہ علامت سلیشیا میں بھی پائی جاتی ہے مگر گریفائٹس کی پہچان یہ ہے کہ جلد سے چپچپی رطوبت نکلتی ہے۔ (صفحہ٤۰۹)

گریفائٹس کینسر میں بھی مفید دوا ہے۔ کینسر کارجحان ہر کاربن میں پایا جاتا ہے۔ بعض زخم مندمل ہونے کے بعد دوبارہ تازہ ہوتے رہتے ہیں اور بالآخر کینسر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر ان کا آپریشن کیا جائے تو کچھ عرصہ آرام کے بعد کینسر دوبارہ پھوٹ پڑتا ہے۔ اس صورت میں گریفائٹس کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ۲۰۰ یا ۱۰۰۰ کی طاقت میں دی جائے۔ جب تک اثر ظاہر نہ ہو، اسے دہراتے رہیں۔ (صفحہ٤۰۹)

ہرپیز (Herpes)یعنی وہ بیماری جس میں اعصاب کے ریشوں پر چھالے سے بن جاتے ہیں، جلد کچی کچی ہوجاتی ہے اور شدید جلن، بےچینی اور درد ہوتا ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک Herpes Zoster یعنی شنگل جو اعصابی کمزوری سے پیدا ہوتی ہے اور اعصابی ریشوں کے اوپر جلد پر وائرس سے متعفن چھالے بن جاتے ہیں جن کے پھٹنے سے اَور چھالے بن جاتے ہیں۔ دوسری Genital Herpes یعنی جنسی بےراہ روی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی، بار بار ہونے والی ہرپیز جس کا اعضائے تناسل سے تعلق ہوتا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ بیماری ہے جو ایک دفعہ ہو جائے تو ساری عمر پیچھا نہیں چھوڑتی۔ گریفائٹس کو ایسی ہر پیز کے علاج میں بھی ایک مقام حاصل ہے۔ لیکن صرف گریفائٹس ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ اَور دوائیں بھی دینی پڑتی ہیں۔ میں نے جو ٹکسالی کا نسخہ بنایا ہوا ہے وہ ہر قسم کی ہرپیز میں مفید ہوتا ہے۔ اس میں آرنیکا،لیڈم اور آرسینک شامل ہیں۔ یہ نسخہ سانپ کے کاٹے کا بھی علاج ہے۔ جب سانپ کے ڈسنے کے بعد زخم میں درد شروع ہو جائے اور گرمی اور جلن کے احساس کے ساتھ اعصاب پر اثر ہونے لگے تو یہی نسخہ بہت مفید ہوتا ہے۔ ہرپیز میں بھی ان دواؤں سے بہت جلد شفا ہو جاتی ہے۔ Gential Herpes یا جنسی اعضاء سے تعلق رکھنے والی ہرپیز چونکہ بہت ضدی ہوتی ہے اور لمبے عرصہ تک اس کے واپس آنے کا خطرہ رہتا ہے اس لیے ایسی ہرپیز میں وقتاً فوقتا ً ہفتہ دس دن کا نا غہ ڈال کر یہ علاج کم از کم چھ مہینے تک جاری رکھنا چاہیے۔(صفحہ٤۱۰)

ناک میں درد ہوتا ہے۔ بےحد خشکی ہو جاتی ہے اور مواد جم کر چھلکوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ چہرے پر مکڑی کے جالے کا احساس ہوتا ہے۔ دانے نکلتے ہیں جن میں خارش ہوتی ہے۔ منہ اور ٹھوڑی کے گردا یگزیما ہو جاتا ہے۔ منہ سے سڑی ہوئی بد بو آتی ہے اور زبان پر جلن دار چھالے بن جاتے ہیں۔ (صفحہ٤۱۲)

انگلیوں کے ناخن موٹے، کالے اور بھدے ہو جاتے ہیں۔ پاؤں کی انگلیوں میں سختی اور چبھن کا احساس ہوتا ہے اور ناخن موٹے اور ٹیڑھے ہو جاتے ہیں جن میں سخت درد ہوتا ہے۔ (صفحہ٤۱۲)

(نوٹ ان مضامین میں ہومیوپیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔ قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button