خطاب حضور انور

وفا، محنت اور دعا ایک مبلغ کی کامیابی کا راز ہیں (حضورِ انور کا تقریب تقسیمِ اسناد جامعہ احمدیہ یوکے، کینیڈا و جرمنی سے خطاب)

(جامعہ احمدیہ یوکے، یکم جون ۲۰۲۴ء، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آج جامعہ احمدیہ یوکے میں رونق افروز ہوئے جہاں جامعہ احمدیہ یوکے اور جرمنی کے ۲۰۲۳ء کے فارغ التحصیل مربیان کرام اور جامعہ احمدیہ کینیڈا سے ۲۰۱۹ء تا ۲۰۲۳ء کے دوران فارغ التحصیل مربیان کرام نے حضور پُرنور کے دست مبارک سے شاہد کی سند حاصل کرنے کی تاریخی سعادت پائی۔ اسی طرح اس موقع پر حضورِانور نے جامعہ احمدیہ یوکے کے تعلیمی سال ۲۰۲۲/۲۰۲۳ء میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کو امتیازی اسناد سے نوازا۔ یاد رہے کہ جامعہ احمدیہ وہ بابرکت ادارہ ہے جس کا بیج مسیح پاک علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے بویا گیا اور پھر خلفائے احمدیت کے پُر شفقت سائے میں یہ پروان چڑھا اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا کے کئی ممالک اور بر اعظموں میں اس کی شاخیں قائم ہیں جو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے تکمیل اشاعت ہدایت کے مشن کے لیے مبلغین تیار کر رہی ہیں۔

تشریف آوری حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ

بارہ بج کر ۲۸؍ منٹ پر امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جامعہ احمدیہ کی عمارت کے سامنے واقع پلاٹ میں اس تقریب کے لیے نصب کی گئی مارکی میں تشریف لائے۔ حضور انور نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کا تحفہ عنایت فرمایا،کرسیٔ صدارت پر تشریف فرما ہوئے اور تقریب کا باقاعدہ آغاز فرمایا۔

عزیزم حافظ خواجہ احتشام احمد نے سورۃ النحل کی آیات ۹۱تا ۹۳کی تلاوت کی سعادت حاصل کی۔ متلو آیات کا تفسیر صغیر سے ترجمہ عزیزم سرفراز احمد نے پیش کرنے کی سعادت پائی۔ بعد ازاں عزیزم عبد الحئی سرمد نے حضرت مصلح موعودؓ کے منظوم کلام

عہد شکنی نہ کرو اہل وفا ہو جاؤ

اہلِ شیطاں نہ بنو اہلِ خدا ہو جاؤ

میں سے منتخب اشعار خوش الحانی سے پیش کیے۔

رپورٹ جامعات

بعدہ بالترتیب مکرم داؤد احمدحنیف صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ کینیڈا نے جامعہ احمدیہ کینیڈا، مکرم شمشاد احمد قمر صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ جرمنی نے جامعہ احمدیہ جرمنی جبکہ مکرم ظہیر احمد خان صاحب صدر تعلیمی کمیٹی نے جامعہ احمدیہ یوکے کی رپورٹس پیش کیں۔

بعد ازاں ۲۰۱۹ء سے۲۰۲۳ء کے دوران جامعہ احمدیہ کینیڈا کے فارغ التحصیل مربیان کرام اور جامعہ احمدیہ جرمنی کے فارغ التحصیل مربیان کو حضورِ انور نے شاہد کی اسناد سے جبکہ جامعہ احمدیہ یوکے کے تعلیمی سال ۲۰۲۲ء، ۲۰۲۳ء میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کو اسنادِ امتیاز نیز شاہد کلاس فارغ التحصیل ۲۰۲۳ء کو اسنادِ شاہد سے نوازا۔

بارہ بج کر ۵۸ منٹ پر حضور انور منبر پر تشریف لائے اور بصیرت افروز خطاب کا آغاز فرمایا۔

خلاصہ خطاب حضورِ انورایدہ اللہ تعالیٰ

تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ آج یہ سندات حاصل کرنے والے مربیان جو اس وقت میدان عمل میں ہیں، کیونکہ گذشتہ دو تین سال کے بھی مربیان ہیں، یا میدان عمل میں جا رہے ہیں۔ آپ لوگ اس ارادے سے اور اس نیت سے اور اس عہد سے جامعہ میں آئے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے مشن کو پورا کرنا ہے۔ اس مشن کو پورا کرنا ہے جو اس زمانے میں آپ علیہ السلام کے سپرد کیا گیا تھا۔ اور وہ ہے کہ اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا اور خود اپنے عملی نمونوں سے احباب جماعت کے معیار کو بھی اس نہج پر لے کے جانا جس سے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اور یہ صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب آپ خود بھی اس کا حق ادا کرنے والے بنیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام نے ایک موقع پر نصائح کرتے ہوئے واعظین کو ایک بڑا بنیادی راہنما اصول بتایا بلکہ تین باتیں فرمائیں۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ یہ امر بہت ضروری ہے کہ ہماری جماعت کے واعظ تیار ہوں لیکن اگر دوسرے واعظوں اور ان میں کوئی امتیاز نہ ہو تو فضول ہے۔ یہ واعظ اس قسم کے ہونے چاہئیں جو پہلے اپنی اصلاح کریں اور اپنے چلن میں ایک پاک تبدیلی کر کے دکھائیں تا کہ ان کے نیک نمونوں کا اثر دوسروں پر پڑے۔ عملی حالت کا عمدہ ہونا سب سے بہتر وعظ ہے۔ جو لوگ صرف وعظ کرتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے وہ دوسروں پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈال سکتے بلکہ ان کا وعظ بھی بعض اوقات اباحت پھیلانے والا ہو جاتا ہے کیونکہ سننے والے جب دیکھتے ہیں کہ وعظ کرنے والا خود عمل نہیں کرتا تو وہ ان باتوں کو بالکل خیالی سمجھتے ہیں اس لیے سب سے اوّل چیز جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس کی عملی حالت ہے۔

دوسری بات جو واعظوں کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان کو

ہمارے عقائد اور مسائل کا صحیح علم اور واقفیت ہو۔

جو کچھ ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اس کو انہوں نے پہلے خود اچھی طرح پر سمجھ لیا ہو اور ناقص اور ادھورا علم نہ رکھتے ہوں کہ مخالفوں کے سامنے شرمندہ ہوں اور جب کسی نے کوئی اعتراض کیا تو گھبرا گئے کہ اب اس کا کیا جواب دیں۔ غرض علم صحیح ہونا ضروری ہے۔

اور تیسری بات یہ ہے کہ ایسی قوت اور شجاعت پیدا ہو کہ حق کے طالبوں کے واسطے ان میں زبان اور دل ہو۔ یعنی پوری دلیری اور شجاعت کے ساتھ بغیر کسی قسم کے خوف اور ہراس کے اظہارِحق کے لیے بول سکیں۔ اور حق گوئی کے لیے ان کے دل پر کسی دولتمند کا تمول یا بہادر کی شجاعت یا حاکم کی حکومت کوئی اثر پیدا نہ کر سکے۔ یہ تین چیزیں جب حاصل ہو جائیں۔ تب ہماری جماعت کے واعظ مفید ہو سکتے ہیں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۳۶۹-۳۷۰، ایڈیشن ۱۹۸۴ء)

حضور انور نے فرمایا کہ پس یہ وہ راہنما بنیادی اصول ہیں جو آپؑ نے بیان فرمائے۔

اپنے جائزے لیں۔

پہلی بات جو آپؑ نے فرمائی عملی نمونے کی۔ آپ میں اور دوسرے میں کیا امتیاز ہے؟ اگر صرف علم حاصل کر لیا جو کہ جامعہ کے سات سالوں میں مکمل حاصل نہیں ہو سکتا۔ علم حاصل کرنے کے لیے ساری عمر پڑی ہے تو یہ کافی نہیں۔ اس کے علاوہ عملی امتیاز ہونا چاہیے اور صرف یہ امتیاز دوسرے فرقوں کے علماء کے مقابلے میں نہ ہو بلکہ جیسا کہ میں نے کہا اپنے لوگوں کی اصلاح کے لیے آپ لوگوں کو ایک عملی نمونہ بننا ہو گا ۔

حضور انور نے فرمایا کہ اپنی اصلاح کے لیے

اللہ تعالیٰ سے تعلق بہت ضروری اور اہم بات ہے۔

ہر مربی کواللہ تعالیٰ سے تعلق ایک خاص تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر یہ نہیں تو زندگی میں کامیابیاں نہیں مل سکتیں۔

ہم پرانے بزرگوں کی دعائیں قبول ہونے کی مثالیں دیتے ہیں۔ ہماری اپنی عملی حالت ایسی ہونی چاہیے کہ ہم بھی ان مثالوں کے مصداق بن جائیں۔ عبادت کے معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ تہجد کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ الّاماشاء اللہ سوائے کسی خاص مجبوری کے عموماً

تہجد کی طرف خاص توجہ ہونی چاہیے۔

ہر ایک کی عبادت کے معیار بلند ہوں گے تو اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق بھی پیدا ہو گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ

اخلاقی حالت بھی بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

اخلاقی لحاظ سے آپ لوگوں کو ایک عملی نمونہ بننے کی ضرورت ہے۔ عملی حالت کو بہت بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ بلند حوصلہ ہونے کی ضرورت ہے۔ بعض دفعہ مربیان بھی ذرا ذرا سی بات پر اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے۔ مربی کو بلند حوصلہ ہونا چاہیے۔ تنقید سننے کی عادت ہو اور پھر اس کا احسن رنگ میں جواب حوصلے سے دیں۔

زبان میں نرمی بھی بہت ضروری چیز ہے۔

نرم زبان دوسرے کے دل کو بھی نرم کر دیتی ہے۔ حوصلہ ہوگا تو برداشت کا مادہ بھی زیادہ ہو گا۔ یہ بہت زیادہ ضروری چیز ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ ایک خاص خصوصیت جو مربی میں ہونی چاہےوہ

لغویات سے پرہیز کرنا

ہے۔ آجکل بے شمار لغو پروگرام ہیں جو آتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی کیونکہ انٹرنیٹ پہ اور سوشل میڈیا پہ اور ٹی وی پہ انسان بیٹھا ہوتا ہے دیکھ لیتے ہیں لیکن ایک مربی کا کام ہے کہ ان لغویات سے پرہیز کرے۔ جب آپ خود پرہیز کر رہے ہوں گے تو تب ہی دوسروں کو نصیحت کر سکیں گے کہ تم لوگ بھی ان چیزوں سے بچو کیونکہ یہ اخلاق کو خراب کرنے والی چیزیں ہیں، یہ خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی چیزیں ہیں، یہ تمہیں گندگی کی طرف لے جانے والی چیزیں ہیں، معاشرے کی برائیوں کی طرف لے جانے والی چیزیں ہیں۔ پس

ہر مربی کواپنے عملی نمونے پہلے دکھانے کی ضرورت ہے۔

ورنہ جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا یہ اباحت پھیلانے والی بات ہو گی۔ یعنی اپنے لیے بعض چیزوں کو جائز کر لیا اور دوسروں کے لیے پابندی۔ دوسروں کو نصیحت کر رہے ہیں اور خود میاں فضیحت ہیں۔ آپ خود نہیں دیکھ رہے کہ ہماری اپنی حالت کیا ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پس یہ بہت ضروری ہے کہ

اپنے عمل اور قول کو ایک کریں

اور یہ کہ خود اپنے جائزے لیں گے تبھی آپ کو پتا لگے گا کہ آپ کے قول اور فعل میں کوئی تضاد تو نہیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا آپ پہ تنقید کرے آپ خود اپنا جائزہ لیں۔ اور اگر یہ نہیں ہو گا تو پھر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا بات اثر کرنے والی نہیں ہوتی۔

حضور انور نے فرمایا کہ پس روزانہ اپنے تنقیدی جائزے لیں۔ بجائے اس کے کہ دوسروں کے نقص تلاش کریں پہلے ہر ایک اپنے آپ کو دیکھے، اپنے گریبان میں نظر ڈالے کہ ہمارے اندر کیا برائیاں ہیں۔ ہمارے اندر کیا خوبیاں ہونی چاہئیں۔ ہمارے کیا معیار ہونے چاہئیں۔ ایک مربی کی حیثیت سے ہمارا تعلق باللہ کا معیار کیا ہونا چاہیے۔ ہمارے اخلاق کے معیار کیا ہونے چاہئیں۔ ہمارے علمی معیار کیا ہونے چاہئیں۔ ہمارے روحانی معیار کیا ہونے چاہئیں۔ اگر وہ حاصل کر لیے تو پھر سمجھیں کہ ٹھیک ہے۔ پھر جو دوسروں پہ تنقید کرنے والی نظر ہے وہ خود بخود ختم ہو جائے گی بلکہ دوسرے کے لیے ایک ہمدردی کا اظہار اور اصلاح کا پہلو سامنے آئے گا۔ اس ہمدردی کے ساتھ اصلاح کریں گے تو اس کے لیے دعا بھی کریں گے اور جب اصلاح کے ساتھ دعا کر رہے ہوں گے تو اسی میں برکت پڑے گی، اسی میں آپ کی کامیابی ہو گی۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر اسی طرح

علم کو بڑھاتے رہیں۔

جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ سات سال میں علم حاصل نہیں ہوتا ۔ علم حاصل کرنے کا کام تو ساری زندگی کا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ بہت سے سوالوں کے جواب یہیں مل جائیں گے۔

حضور انور نے فرمایا کہ بہت سے مربیان بعض دفعہ سوال لکھ دیتے ہیں حالانکہ اگر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہو تو وہیں جواب بھی آپ کو مل جائیں گے۔ اس لیے پہلے خود تلاش کریں۔ پہلے بھی شاید میں نے کسی جگہ بیان کیا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوال و جواب کی مجلس تھی۔ ایک لڑکے نے کھڑے ہو کر سوال کیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا جواب دیا۔ اس نے پھر سوال کیا۔ سوال اچھا علمی تھا لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال پیدا ہوا کہ یہ لڑکا پڑھنے والا لگتا ہے، اسے کچھ نہ کچھ علم ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا تم کیا کرتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ میں جامعہ کا طالبعلم ہوں۔ تو آپؓ نے فرمایا اگر تم جامعہ میں پڑھتے ہو تو میں تمہارے سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ تم اس کا جواب خود تلاش کرو تو تمہیں اس کا جواب مل جائے گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ اس لیے سب سے بڑی بات یہی ہے کہ

جامعہ کے طالبعلم کو، اور جب مربی بن جائے تو خاص طور پہ خود گہرائی سے مطالعہ کر کے سوالوں کے جواب تلاش کرنے چاہئیں۔

ہمارے بہت سارے مربیان اللہ کے فضل سے میدان عمل میں ہیں جو تبلیغ اور تربیت کے میدان میں ہیں، غیروں کے بھی جواب دیتے ہیں، اپنوں کے بھی جواب دیتے ہیں، اس لیے کہ انہیں علم حاصل کرنے کا شوق ہے۔ ایک لگن ہے اور تلاش کرتے ہیں کہ کہاں کہاں سے علم حاصل کریں اور پھر اپنی علمی حالت کو بہتر کریں۔ اس کا فائدہ ان کو خود بھی ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر یہ ہے کہ

ہر بات کہنے کی جرأت ہو، لیکن حکمت کے ساتھ۔

حکمت بھی ساتھ ضروری ہے۔ تبلیغ کرتے ہوئےخوف نہ ہو۔ خوف کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حکمت سے بات کریں۔ وہی بات موعظةالحسنہکے ضمن میں آپ کا دوسروں پر اثر ڈالنے والی ہوتی ہے اور پھر اس سے لوگ متاثر بھی ہوتے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ اسی طرح تربیت کے میدان میں غلط بات کو دیکھ کر اسے ردّ کریں لیکن وہاں بھی حکمت سے سمجھائیں۔ مربیان کے بارے میں بہت ساری شکایات آتی ہیں، عہدیداروں کے بارے میں بھی آجاتی ہیں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے اس رنگ میں ہماری بات کی، ہماری کمزوری کو ظاہر کیا جس سے ہماری سبکی ہوئی۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ

اصلاح کا پہلو ضروری ہے۔

اور اگر کسی میں کوئی برائی یا کمزوری دیکھیں تو اس کے لیے پھر دعا کریں۔ اس کو علیحدگی میں سمجھائیں اور مسلسل دعا کرتے رہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ جس جماعت میں بھی آپ متعین ہیں یا جس جگہ بھی آپ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے وہاں اس شعبے کے بارے میں اور جو فیلڈ میں ہیں تو وہاں کے

ماحول کے بارے میں مکمل علم حاصل کریں

اور وہاں کی جو تربیتی کمزوریاں ہیں، ان کو دور کرنے کے لیے planبنائیں اور پھر لوگوں کو حکمت سے سمجھائیں اور ان کے لیے مسلسل دعا بھی کرتے رہیں۔

دعا ہی ہے جو ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس کے بغیر اصلاح نہیں ہو سکتی۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر یہ بہت ضروری چیز ہے کہ

خلافت کے ساتھ آپ کا وفا کا تعلق ہو۔

آپ لوگ خلافت کے سپاہیوں میں شامل ہیں۔ لکھتے ہیں ہم سلطان نصیر بن جائیں۔ تو سلطان نصیر بغیر وفا اور اطاعت کے اعلیٰ معیار کے نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ان کا وفا کا معیار ایسا ہے جو ہونا چاہیے؟ کبھی ان کے دلوں میں شکوہ پیدا نہ ہو؟ اطاعت ایسی ہے کہ چاہے مرضی کے خلاف حکم ملے تو بلا چون و چرا اس کی تعمیل کریں گے۔ جب عملی حالت ایسی ہو گی تبھی اس کا فائدہ ہے۔ اگر عملی حالت ایسی نہیں ہے تو پھر یہ نہ وفا ہو سکتی ہے، نہ اطاعت ہو سکتی ہے۔ اور اس کے لیے بھی دعا ضروری ہے۔ دعاؤں میں لگے رہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وفا میں کامل ہونے کی توفیق دے اور آپ اطاعت میں سب سے بڑھ کر نمونہ دکھانے والے ہوں۔

حضور انور نے فرمایا کہ پھر اسی طرح ایک چیز انتظامی صلاحیت ہے۔

مربی کو انتظامی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

بعض وفات یافتہ مبلغین کے حالات میں بیان کر دیتا ہوں۔ کل ہی میں نے چودھری منیر صاحب کے بھی حالات بیان کیے تھے۔ تو ان کو جس کام پر بھی لگایا گیا خود اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور پھر اس کام میں وہ کسی بھی ماہر سے کم رائے نہیں رکھتے تھے حالانکہ مربی تھے کوئی ٹیکنیکل تعلیم نہیں۔پس مربی کے لیے انتظامی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے بھی علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔

حضور انور نے فرمایا کہ اسی طرح سوشل میڈیا پرآجکل بحثیں شروع ہو جاتی ہیں۔ پہلے بھی غالباً کینیڈا کے مربیان سے میری میٹنگ ہوئی ان کو بھی میں نے کہا تھا کہ غلط بحثوں میں نہ پڑیں۔ سوشل میڈیا کا جائز استعمال کریں اور جہاں دیکھیں کہ بحث برائے بحث ہو رہی ہے اور کج بحثی شروع ہو گئی ہے اور ہر ایک نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے وہاں اس بحث سے باہر آجائیں اور یہ کہہ کے آئیں کہ اب یہ بحث فائدے کے لیے نہیں ہو رہی بلکہ نقصان دہ ہے اس لیے میں اس سے نکل رہا ہوں۔ تو پھر دوسروں کو بھی تحریک پیدا ہو گی کہ وہ بھی اس کج بحثی میں نہ پڑیں۔ پس یہ بھی بہت ضروری چیز ہے کہ

سوشل میڈیا کا جائز استعمال کریں، غلط بحثوں میں نہ پڑیں۔

یہ دیکھیں کہ جماعت کے مفاد میں کیا ہے اگر کوئی ایسی بحث جو جماعت کے مفاد میں نہیں ہے، اس کا انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں، جماعت کو فائدہ نہیں، آپ کی تبلیغ کے لیے وہ ممد نہیں ہے، تربیت میں اس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہو رہا، پھر اس پہ اثر پڑنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر علمی بحثیں ہیں تو اس کا ایک محدود دائرہ بنائیں اور اس میں اپنی علمی رائے دیں اور پھیلاتے ہوئے دوسروں کو بھی اس میں involveکریں۔ اور

ہمیشہ یاد رکھیں کہ جماعت میں جو اکائی ہے وہی اس کی کامیابی کی نشانی ہے

اور مربیان کو سب سے بڑھ کر نمونہ ہونا چاہیے۔ ہمیشہ ایک جان ہونے کا اظہار ہونا چاہیے۔ اس کا پھر دوسروں پر بھی اثر ہو گا۔

حضور انور نے فرمایا کہ

قرآن کریم پرغور اور تدبر بڑا ضروری ہے۔

ابھی میں نے کہا کہ اپنے علم کو بڑھاتے رہیں۔ اس علم کے لیے قرآن کریم پرغور بہت ضروری ہے۔ اسی سے آپ کو جواب بھی مل جائیں گے اور اس کے لیے جیسا کہ پہلے میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی کتب کا مطالعہ کریں۔ آپؑ کی تفاسیر پڑھیں، اس سے آپ لوگوں کا علم بھی بڑھے گا اور روحانیت بھی بڑھے گی۔ اور پھر آپ کے کام میں اس سے برکت بھی پڑے گی۔ اسی طرح جماعتی تفاسیر ہیں خلفاء کی یا پرانے بزرگوں کی تفاسیر ہیں وہ بھی علم کو بڑھانے کے لیے پڑھیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ بہرحال ایک مربی کے لیے بےشمار کام ہیں، خود اس کو کام نکالنے پڑتے ہیں۔ یہ کہنا کہ میرے لیے محدود وسائل ہیں، محدود جگہ ہے، کام نہیں ہے، میں کیا کروں؟ جو کرنے والے ہوتے ہیں وہ محدود وسائل میں ہی کام نکال لیا کرتے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ گھانا میں ہمارے محدود وسائل تھے۔ ہمارے ایک مربی صاحب تھے۔ تبلیغ کے لیے انہوں نے خود ہی طریقے نکالے ہوئے تھے جبکہ باقی کمزور حالت والے جو مربی تھے تو وہ اس طرح تبلیغ نہیں کرتے تھے جس طرح یہ کرتے تھے حالانکہ ان کے وسائل ان سے کم تھے۔ اخبار لے کر نکل جانا، لٹریچر لے کے نکل جانا، تبلیغ کرتے رہنا، عاجزی اور انکساری سے سڑکوں پہ کھڑے ہو جانا، دعائیں کرتے رہنا، ساتھ پیغام پہنچاتے رہنا۔ اور پھران کے کام میں برکت پڑتی تھی۔ تو اسی طرح خود مربی کو اپنے ذریعے explore کرنے پڑتے ہیں کہ کس طرح وہ نئے نئے ذرائع نکالے اور تبلیغ کے میدان میں آگے بڑھے، تربیت کے میدان میں آگے بڑھے، جماعت کی بہتری کے لیے کام کرے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لیے کام کرے۔

حضور انور نے فرمایا کہ

ہمیشہ یاد رکھیں کہ وفا، محنت اور دعا سے کام لیتے رہیں گے تو کامیاب بھی ہوں گے اور یہی کامیابی کا راز ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان باتوں پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اب دعا کرلیں۔

……

ایک بج کر انیس منٹ پر حضور انور نے دعا کروائی۔

تصاویر

دعا کے بعد جامعات احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور یوکے سے فارغ التحصیل مربیان کرام نیز جامعہ احمدیہ یوکے کی سات کلاسز، سپیشل کلاس اور اساتذہ جامعہ احمدیہ یوکے نے حضور انور کے ساتھ مارکی کے ایک جانب تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔ تصاویر کے بعد مکرم امیرصاحب جرمنی نے حضورِ انور کی پُرشفقت اجازت سے تقریب تقسیم اسناد میں حاضر نہ ہونے والے دو طلبہ جامعہ احمدیہ جرمنی کی اسناد کے ساتھ حضورِانور کی معیت میں تصویریں بنوائیں۔ ایک بج کر چونتیس منٹ پر حضورِ انور مارکی سے تشریف لے گئے۔

دو بجے کے قریب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جامعہ احمدیہ کی عمارت میں تشریف لائے اور نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ نمازوں کے بعد مارکی میں حضور انور کی معیت میں تمام مہمانوں کے لیے ظہرانے کا انتظام تھا۔ حضور انور کے ساتھ مین ٹیبل پر ۲۱؍افراد کو بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا۔اس تقریب میں کُل ۵۵۰؍مرد و خواتین مہمان شامل تھے۔کھانے کے بعد حضور انور کا قافلہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔

یاد رہے کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطاب سے قبل جامعہ احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور یوکے کی سالانہ کارگزاری رپورٹس پیش کی گئی تھیں، ذیل میں ان کی تفصیل درج ہے:

رپورٹ جامعہ احمدیہ کینیڈا

از مکرم داؤد احمد حنیف صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ کینیڈا

اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضور انور ایدکم اللہ کی ہدایات، راہنمائی اور دعاؤں کے ساتھ جامعہ احمدیہ کینیڈا انٹرنیشنل سے اب تک ۱۴۵؍مبلغین تیار ہو کر میدان عمل میں خدمات بجا لا رہے ہیں الحمدللہ

اس وقت کینیڈا اور امریکہ کے علاوہ نو دیگر ممالک سے کل ۱۲۳؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ طلبہ جامعہ کو تعطیلات کے دوران اسلام آباد آکر حضور انور کی اقتدا میں نمازیں پڑھنے اور ملاقات کرنے کا شرف اور تسکین حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح اسلام آباد کے مقدس ماحول میں رہ کر وقف عارضی کرنے کا موقع ملتا ہے جو ان کی روحانیت میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح طلبہ کے روحانی معیار کو بلند کرنے کے لیے دوران سال چند بزرگان سلسلہ کو جامعہ ہوسٹل میں مدعو کیا گیا جس میں انہوں نے میدانِ عمل میں تبلیغی مساعی کا ذکر کر کے تائید الٰہی کے واقعات بیان کیے جس سے طلبہ مستفیض ہوئے۔ اسی طرح درجہ سادسہ کے طلبہ کو رمضان المبارک میں اعتکاف بیٹھنے کی توفیق ملی۔

سیدی! معمول کی تعلیمی اور تدریسی سرگرمیوں کے علاوہ امسال مختلف علوم و فنون کے پندرہ ماہرین سے لیکچر کروائے گئے۔ نیز درجہ خامسہ کے ۱۹؍طلبہ نے مختلف موضوعات پر اپنی تحقیقات پیش کیں۔ طلبہ کے مختلف وفود کو دورانِ سال کینیڈا اور امریکہ کے اہم مقامات کا مطالعاتی دورہ کرنے کا موقع ملا۔

سیدی ! طلبہ کے ٹیوٹوریل گروپس کے آپس کے علمی اور ورزشی مقابلہ جات کروائے گئے جن میں ۲۵؍کلومیٹر پیدل چلنے کا مقابلہ بھی شامل تھا۔ اس طرح حضور انور کے حالیہ ارشاد کی روشنی میں جامعہ کینیڈا میں سائیکلنگ کلب کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

سیدی! حفظ القرآن سکول سے اب تک ۶۶؍حفاظ فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔ نیز اس وقت ۲۳؍حفاظ زیر تعلیم ہیں۔

سیدی! گذشتہ پانچ سالوں میں جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے والے ۴۸؍مبلغین حسبِ اجازت آج اپنے پیارے آقا کے دست مبارک سے شاہد کی اسناد لینے کے لیے حاضر ہیں۔ آخر پر پیارے آقا کی خدمت میں اساتذہ، طلبہ اور دیگر سٹاف کا السلام علیکم عرض کرنے کے ساتھ دعا کی عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور انور ایدہ اللہ کے منشا کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جزاکم اللہ

رپورٹ جامعہ احمدیہ جرمنی

از مکرم شمشاد احمد قمر صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ جرمنی

سیدی! جامعہ احمدیہ جرمنی کی سال ۲۰۲۲-۲۳ء کی مختصر کارگزاری رپورٹ پیارے آقا کی خدمت میں پیش ہے۔

عرصہ زیر رپورٹ میں طلبہ کی کل تعداد ۱۰۸؍تھی۔ الحمدللہ کہ آج حضور انور کے دست مبارک سے اسناد حاصل کرنے کی سعادت پانے والی یہ نویں کلاس ہے۔ اس کلاس میں کل ۱۴؍طلبہ ہیں جن میں ۱۰؍وقفِ نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں۔ اس طرح جامعہ احمدیہ جرمنی اب تک ۱۲۲؍ پھل اپنے پیارے آقا کی خدمت اقدس میں پیش کرنے کی سعادت پا چکا ہے۔ امسال حسبِ سابق حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے نئے سال کے کیلنڈر کی منظوری حاصل کر کے اس کے مطابق عمل کیا گیا۔ مقررہ نصاب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ مجلسِ علمی، مجلسِ العاب اور مجلسِ ارشاد کی طرف سے علمی اور ورزشی مقابلہ جات اور معلوماتی لیکچرز کا اہتمام کیا جا تا رہا۔ اور مختلف سیمینارز اور جلسوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ورزشی سرگرمیوں میں روزانہ ورزش کے علاوہ تین روزہ سالانہ گیمز کا انعقاد، سترہ کلومیٹر پیدل سفر، ہائیکنگ، ملکی اور غیر ملکی سطح پر مقابلوں میں شمولیت شامل ہے۔ جبکہ علمی سطح پر مقابلہ جات کے علاوہ مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں اور سینٹرز کا دورہ کروایا گیا۔ طلبہ اور اساتذہ کو دیگر جماعتی خدمات سر انجام دینے کی بھی توفیق ملتی رہی جن میں شعبہ تبلیغ کے تحت ڈیوٹیاں دینا، آن لائن سوال و جواب، ایم ٹی اے اور ریڈیو کے پروگراموں میں شرکت، فلائرز کی تقسیم اور وقف عارضی شامل ہیں۔ درجہ شاہد کے طلبہ کو مقالہ جات کی تکمیل، امتحانات اور انٹرویوز کے بعد بعض عملی کاموں کی ٹریننگ کروائی گئی جن میں ہومیو پیتھی کا تعارف، کھانا پکانا، بجلی کا کام اور گاڑی کے متعلق بنیادی معلومات شامل ہیں۔

آخر میں پیارے آقا کی خدمت میں جامعہ کے طلبہ، اساتذہ اور کارکنان کے لیے دعا کی عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کما حقہ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرماتے ہوئے حضور انور کے سلطانِ نصیر بننے کی توفیق عطا فرماتا رہے آمین

رپورٹ جامعہ احمدیہ یوکے

از مکرم ظہیر احمد خان صاحب (صدر تعلیمی کمیٹی جامعہ احمدیہ یوکے)

سیدی! آج کی اس نویں بابرکت تقسیمِ اسناد میں جامعہ احمدیہ یوکے سے فارغ التحصیل ہونے والے بیس مربیان کرام کا بارہواں بیج آج انشاء اللہ حضور انور کے دست ِ مبارک سے اسناد حاصل کرنے کی سعادت پائے گا جن کی ۲۰۱۶ء میں حضور انور نے از راہ شفقت جامعہ احمدیہ یوکے میں داخلہ کی منظوری عطا فرمائی تھی۔ اس طرح جامعہ احمدیہ یوکے کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک کل ۲۱۹؍مربیان کا نذرانہ اپنے آقا کی خدمت اقدس میں پیش کرنے کی توفیق مل چکی ہے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔

اللہ تعالیٰ جامعہ احمدیہ کے طلبہ، اساتذہ اور کارکنان کو ہمیشہ خلافت احمدیہ کا وفادار بنائے رکھے، ہمیں ایسے رنگ میں خدمت دین کی توفیق دے جسے ہم حضور انور ایدکم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور دعائیں حاصل کرنے والے ہوں اور ہم سے کوئی ایسا کام سر زد نہ ہو جو حضور انور کے لیے تکلیف کا موجب ہو۔آمین

اس عاجزانہ دعا کے ساتھ ہم سب حضور انور کے بےحدشکرگزار اور ممنون احسان ہیں کہ حضور انور نے ہماری عاجزانہ درخواست کو از راہ شفقت قبول فرماتے ہوئے اس تقریب کو برکت بخشی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک و جزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء

ان مختصر گزارشات کے ساتھ حضور انور کی خدمت اقدس میں نہایت ادب کے ساتھ درخواست ہے کہ حضور انور از راہ شفقت کینیڈا، جرمنی اور یوکے کے جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے مربیان کرام کو شاہد کی ڈگری عطا فرمائیں نیز تدریسی سال ۲۰۲۲-۲۳ء کی جامعہ یوکے کی باقی چھ کلاسوں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اسنادِ امتیاز سے نوازیں۔

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۱۹ء

مکرم سرمد نوید احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم فہد رضوان پیرزادہ صاحب مربی سلسلہ، مکرم فاطر محمود احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم طاہر محمود صاحب مربی سلسلہ، مکرم وقاص احمد خورشید صاحب مربی سلسلہ، مکرم فرہاد احمدرانا صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۱۹ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اسناد وصول کرتے ہوئے

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۰ء

مکرم سیّدلبیب احمد جنود صاحب مربی سلسلہ، مکرم قاسم چودھری صاحب مربی سلسلہ، مکرم عمر فاروق صاحب مربی سلسلہ، مکرم ساغرمحمود باجوہ صاحب مربی سلسلہ، مکرم اسامہ ابراہیم رحمٰن صاحب مربی سلسلہ، مکرم ارسلان احمد وڑائچ صاحب مربی سلسلہ، مکرم وجیہ الرحمٰن مرزا صاحب مربی سلسلہ، مکرم احمد عصّام ظفر صاحب مربی سلسلہ، مکرم لبید احمد صاحب مربی سلسلہ ، مکرم نواب مبارز احمد خان صاحب مربی سلسلہ، مکرم شجر احمد صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۰ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اسناد وصول کرتے ہوئے

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۱ء

مکرم دانیال خالد خان صاحب مربی سلسلہ، مکرم ارسلان احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم ساگر شفیق رفیق خان صاحب مربی سلسلہ، مکرم فرخ رحمٰن طاہر صاحب مربی سلسلہ، مکرم ہاشم عثمان صاحب مربی سلسلہ، مکرم جلیس احمد ڈار صاحب مربی سلسلہ ، مکرم محمد دانیال صاحب مربی سلسلہ، مکرم سیّد عادل احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم مستجاب قاسم صاحب مربی سلسلہ، مکرم دانیال احمد قریشی صاحب مربی سلسلہ، مکرم عدنان احمد مدثّر صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۱ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اسناد وصول کرتے ہوئے

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۲ء

مکرم عاطر مجتبیٰ خان صاحب مربی سلسلہ ، مکرم رضی اللہ نعمان قدرت صاحب مربی سلسلہ ، مکرم طارق محمود صاحب مربی سلسلہ، مکرم فطین احمد ریاض صاحب مربی سلسلہ، مکرم حاشر احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم مشہود احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم سلمان یوسف صاحب مربی سلسلہ، مکرم قاسم احمد گھمن صاحب مربی سلسلہ، مکرم عطاء المصور باری صاحب مربی سلسلہ، مکرم فضل اللہ منیب صاحب مربی سلسلہ، مکرم اسجد علی امجد صاحب مربی سلسلہ، مکرم مظفراحمدراناصاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۲ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اسناد وصول کرتے ہوئے

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا ۲۰۲۳ء

مکرم حسّان احمد منہاس صاحب مربی سلسلہ، مکرم صہیب احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم دانیال محمود صاحب مربی سلسلہ، مکرم ادیب احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم مہیمن احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم فلاح الدین احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم نذیر احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم مزمل لورینزوعبدالجلال صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ کینیڈا 2023ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اسناد وصول کرتے ہوئے

شاہدین جامعہ احمدیہ جرمنی ۲۰۲۳ء

مکرم ظافر محمود صاحب مربی سلسلہ ، مکرم چودھری شاہ نواز صاحب مربی سلسلہ (امیر صاحب جرمنی نے ان کی سند وصول کی)، مکرم طلحہ احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم عدنان احمد گل صاحب مربی سلسلہ، مکرم خواجہ احتشام احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم فائز احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم شمائل احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم خلیق حمید صاحب مربی سلسلہ، مکرم عثمان احمد خان صاحب مربی سلسلہ، مکرم شاہان احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم عدیل احمد صاحب مربی سلسلہ(موصوف اس موقع پر موجود نہ تھے)، مکرم عبدالسلام بھٹی صاحب مربی سلسلہ، مکرم ذیشان محمود صاحب مربی سلسلہ، مکرم محمد طلحہ کاہلوں صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ جرمنی ۲۰۲۳ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اسناد وصول کرتے ہوئے

سال ۲۰۲۲ء؍۲۰۲۳ء میں پوزیشن لینے والے طلبہ۔ جامعہ احمدیہ یوکے

درجہ خامسہ۔ اول: عزیزم مبرور احمد فرخ صاحب ، دوم: عزیزم حزیم احمد عارف صاحب، سوم: عزیزم احتشام احمد عارف صاحب

درجہ رابعہ۔ : اول: عزیزم سرفراز احمد صاحب، دوم:عزیزم صہیب طاہر رانا صاحب، سوم: عزیزم عبد الحنان صاحب

درجہ ثالثہ۔ اول: عزیزم طٰہٰ الدین خواندکر صاحب، دوم: عزیزم خاقان مظفر ارائیں صاحب، سوم: عزیزم حاشر احمد مبشر صاحب

درجہ ثانیہ۔ اول: عزیزم صباح الدین علیم صاحب، دوم:عزیزم ماہد احمد صاحب، سوم: عزیزم عبد اللہ طاہر صاحب

درجہ اولیٰ۔ اول: عزیزم فرید احمد خان صاحب، دوم:عزیزم فارس احمد نسیم صاحب، سوم: عزیزم دانش احمد منان جمال صاحب

درجہ ممہدہ۔ اول: عزیزم طلحہ احمد صاحب، دوم:عزیزم فاران احمد بٹ صاحب، سوم: عزیزم محمد حذیفہ صاحب

شاہدین جامعہ احمدیہ یوکے ۲۰۲۳ء

مکرم علیم ضیاء صاحب مربی سلسلہ ، مکرم اسامہ محمود صاحب مربی سلسلہ، مکرم فہیم احمد دانش صاحب مربی سلسلہ، مکرم شاہزیب نیر صاحب مربی سلسلہ، مکرم لبیب احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم عدیل احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم فہیم احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم انس محمود صاحب مربی سلسلہ، مکرم ابتسام احمد مرزا صاحب مربی سلسلہ، مکرم بلال احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم زکی احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم احتشام الاسلام صاحب مربی سلسلہ، مکرم ظافر احمد صاحب مربی سلسلہ ، مکرم ریحان احمد خان صاحب مربی سلسلہ، مکرم زریاب رحمٰن صاحب مربی سلسلہ، مکرم حسیب احمد عطا صاحب مربی سلسلہ، مکرم مبارز احمد درّانی صاحب مربی سلسلہ، مکرم شمائل احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم دبیر احمد صاحب مربی سلسلہ، مکرم حمزہ سید سکندر صاحب مربی سلسلہ

شاہدین جامعہ احمدیہ یوکے ۲۰۲۳ء حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے اسناد وصول کرتے ہوئے

ادارہ الفضل انٹرنیشنل اس تاریخی موقع پر حضورِانور کے دستِ مبارک سے سند حاصل کرنے والے مربیان کرام کو مبارکباد پیش کرتا ہے نیز دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام خطوں میں خدمت کی توفیق پانے والے سب مبلغینِ کرام کو خلافتِ احمدیہ کا سلطانِ نصیر بنائے اور حضورِانور کی منشائے مبارک کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

(رپورٹ تیارہ کردہ:احسن مقصود، سید احسان احمد، فرخ راحیل، سرفراز احمد، قاسم محمود اور عبدالمنان سلام)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button