یورپ (رپورٹس)

لٹوین بُک فیئر ۲۰۲۴ء میں جماعت احمدیہ لٹویا کی کامیاب شرکت

(بشارت احمد شاہد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل لٹویا)

لٹویا (Latvia) کے دارالحکومت ریگا (Riga) میں ہر سال عالمی کتب میلہ سجایا جاتا ہے جس میں آس پاس کےبہت سے ممالک شامل ہوتے ہیں۔رشیا اور یوکرائن کے درمیان حالیہ جنگ نے اِس کتب میلے کوبھی متاثرکیا ہے اور ہمسایہ ممالک کی حاضری کم ہوگئی ہے۔ اِس سال صرف چھ ممالک اِس میں شامل ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ لٹویا بھی ۲۰۱۹ء سے کتب کی اِس عالمی نمائش میں حصّہ لے رہی ہے اور اب تک ہزارہا افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچایا جاچکا ہے اور یہ سلسلہ ہر سال ترقی کرتا چلاجارہا ہے۔ اِس سال یہ عالمی بُک فیئر ۲۳ تا ۲۵؍فروری کو منعقد کیا گیا۔

نمائش کی انتظامیہ کی طرف سے مختلف سائز کے اسٹینڈز کی پیشکش کی گئی تھی۔ ہمارے اسٹینڈکا سائز ۲X۵ میٹر تھا۔ اس دفعہ لٹویا کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز کے ساتھ پبلشرز کمپنیوں کی نمائش کو اکٹھا کردیا گیا تھا۔اگرچہ بڑی بڑی پبلشرز کمپنیوں کے بُک سٹال بھی تھے مگر جماعت احمدیہ کا سٹال خوبصورتی اور کتب کی ورائٹی کی وجہ سےسب سے منفردنظر آرہا تھا جس کا اظہار کئی لوگوں نے کیا۔

امسال بھی انگریزی، رشین اور لٹوین زبان میں جماعتی لٹریچر پیش کیا گیا۔ لٹوین زبان کا لٹریچر مقامی سطح پر ہی طبع کروایا گیا ہے۔ اب تک لٹوین زبان میں ۹؍لیف لیٹس اور ۶؍ کتب شائع ہوچکی ہیں جو نمائش کا حصّہ تھیں۔

پہلےاور دوسرےدن نمائش گاہ میں زیادہ رش تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے سینکڑوں افراد ہمارے سٹال پر آئے۔ لوگ بڑی خوشی اور مسرّت سے ہمارا لٹریچر لے جارہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے اسلام احمدیت، جہاد، اسلام میں عورت کا مقام، اسلامی عبادات اور اسلام کا دوسرے مذاہب کےبارے میں نقطہ نظر وغیرہ موضوعات پر سوالات کیے اور ڈیوٹی پر موجود احباب کو اُن کے جواب دینے کی توفیق ملی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ہم یہ کتب پڑھیں گے اور پھر مزید گفتگو کے لیے مشن ہاؤس بھی آئیں گے۔ کتب کے ساتھ ساتھ اُن کو مقامی جماعت کے رابطہ نمبرز بھی دیے گئے۔

تاثرات: ہمارے سٹال پر آنے والے بہت سے لوگوں نے ہمارے کام کو سراہا اور اس بات کا اظہار کیا کہ اِس مُلک میں بہت کم لوگ اسلام سے واقف ہیں، آپ لوگ اسلام کا تعارف کرواکر بہت اچھا کام کررہے ہیں۔

ایک آدمی ہمارے سٹال پر آیا اورکتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کی رشین کاپی لی تو ساتھ کھڑا ایک لٹوین جو گذشتہ برس بھی ہمارے سٹال پر آیا وہ اُسے کہنے لگا کہ یہ کتاب ضرور پڑھو، میں نے بھی پڑھی ہوئی ہے اوریہ بڑی زبردست کتاب ہے۔

نمائش کے پہلے دن ایک آدمی آیا اور اُس نے کہاکہ میں گذشتہ برس سے آپ کے سٹال کو جانتا ہوں۔ میں نے ایک بڑی زبردست کتاب آپ سے لی تھی۔ آپ لوگ بہت اچھا کام کررہے ہیں جو اسلامی لٹریچر تقسیم کررہے ہیں۔

ایک عورت ہمارے سٹال پر آئی۔ جب اُس کو حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا اور جماعت کا تعارف کروایا گیا تو بڑی حیران ہوئی اور کہا کہ میں یہ سب کچھ پہلی مرتبہ سن رہی ہوں۔ پھر اُس نے کتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کی انگریزی کاپی لی اور کہا کہ وہ ضرور تحقیق کرے گی۔ اُس نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی تصویر جس پر لٹوین زبان میں MESSIAH HAS COME لکھا ہوا تھا دیکھ کر اس کی تصویر کھینچ لی۔

ایک مقامی نوجوان ہمارے سٹال پر آیا اور اُس نےکہا کہ میں نے قرآن کریم پڑھا ہوا ہے۔ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ موصوف نے دریافت کیا کہ میرے گھر والے غیر مسلم ہیں ۔کیا مسلمان ہونے کی صورت میں کوئی مسئلہ تونہیں ہوگا۔ اس پر اُس کو تسلّی دی گئی اور اسلام میں والدین سے حسن سلوک کی تعلیم کے متعلق بتایا گیا۔بعد ازاں اُس نے کسی روز نماز جمعہ کے وقت مشن ہاؤس آنے کا وعدہ کیااور کچھ کتب لے کرچلا گیا۔

زائرین کی تعداد: اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ۲۵؍فروری کو عالمی نمائش کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچی۔ ۶؍ممالک کی کُل ۱۱۶؍کمپنیوں اور اداروں نے اپنے سٹال لگائے۔ اس تین روزہ نمائش کو ۱۹؍ہزار ۵۹۵؍لوگوں نے وزٹ کیا۔

کتب ولٹریچر کی تقسیم: اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جماعت احمدیہ لٹویا کو امسال ایک ہزار کے قریب جماعتی کتب اور لیف لیٹس تقسیم کرنے کی توفیق ملی اور اس بار بھی لٹویا کے طول وعرض میں ہزاروں لوگوں تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلک

اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے جماعت احمدیہ لٹویا کو کامیابیوں اور کامرانیوں کی منازل طے کرتے چلے جانے کی توفیق دیتا چلا جائے۔ آمین

(رپورٹ: بشارت احمد شاہد۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button