متفرق مضامین

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات جمعہ میں بیان فرمودہ بعض تاریخی مقامات کا جغرافیائی تعارف

(شہود آصف۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےخطبہ جمعہ فرمودہ ۱۹؍اپریل۲۰۲۴ءمیں غزوہ حمراء الاسد کا ذکر فرمایا۔ خطبہ کا متن الفضل انٹرنیشنل ۱۰؍مئی ۲۰۲۴ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ خطبہ میں مذکور مقامات کا مختصر تعارف پیش ہے۔

حمراء الاسد

حمرا ء الاسد مدینہ کا ایک مضافاتی علاقہ ہے،جو کہ جنوب مغربی جانب واقع ہے۔ موجودہ نقشے کے اعتبار سے مسجد نبوی سے اس کا فاصلہ تقریباً ۱۸ کلومیٹر ہے۔ حالیہ دور میں اس جگہ نئی آبادکاری کے منصوبوں کے تحت مکانات تعمیر کیے گئے ہیں۔ عہد نبوی میں مدینہ سے مکہ کی طرف جانے والا راستہ اس مقام سے گزرتا تھا۔ چنانچہ غزوہ احد کے اگلے روز رسول اللہﷺ نے لشکر کے ساتھ کوچ فرمایا اور اس جگہ آ کر چندروز قیام کیا تاکہ اگر کفار واپس مدینہ پر حملہ کریں تو ان کا مقابلہ کیا جاسکے۔اس مہم کو غزوہ حمراء الاسد کہا جاتا ہے۔

ذو الحلیفة

ذو الحلیفة مدینہ کے جنوب میں حمراء الاسد کےساتھ ایک مقام ہے۔اس کو ابیار علی بھی کہتے ہیں۔ مسجد نبوی سے اس کا فاصلہ١٠کلومیٹر ہے۔اہل مدینہ کے لیے یہ میقات کا مقام بھی ہے۔ مدینہ سے مکہ جانے والے لوگ یہاں سے احرام باندھ کر آگے سفر کرتے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہاں ایک مسجد ذوالحلیفة بھی تعمیر کی گئی ہے۔ رسو ل اللہﷺ اس مقام سے متعدد بار گزرے ہیں۔

الروحاء

الروحاء ایک وادی ہے جو السیالة مقام سے شروع ہو کر تقریباً ٢٠ کلومیٹر طویل ہے۔ یہ وادی مدینہ کی جنوبی سمت میں ساحل سمندر کی طرف واقع ہے۔ مسجد نبویؐ سے اس کا فاصلہ تقریباً ٤١ میل تھا۔ اسی وادی کے آخری حصہ میں ایک معروف کنواں بھی ہے جس میں سے رسول اللہ ﷺ نے پانی پیا اور اس کے قریب نماز بھی ادا فرمائی۔ اس کنویں کو بئر الروحاء کہتے ہیں۔ یہ کنواں مدینہ سے ٨٠کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔مدینہ سے مکہ کی طرف جانے والا قدیم اور تجارتی راستہ اسی وادی میں سے گزرتا تھا۔ رسول اللہﷺ متعدد مرتبہ اس وادی سے گزرے۔ غزوہ احد سے واپسی پر کفار کے لشکر نے اسی وادی میں کچھ روز قیام کیا۔پھر مکہ واپس چلے گئے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button