تاریخ احمدیتمتفرق مضامین

پنڈت لیکھرام کا قتل اخبارات وپریس کے تناظر میں (قسط دوم)

(ابو حمدانؔ)

(گذشتہ سے پیوستہ)پھر اخبار بھارت سدھار (لاہور) ۱۳؍مارچ ۱۸۹۷ء، حضورؑ کا تفصیلی اشتہار بابت صداقتِ  پیشگوئی شائع کرنے کے بعد ایڈیٹر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرزا صاحب اپنے اشتہار میں سب کو پنڈت لیکھرام کی موت سے سبق لینے اور ان (مرزا) کے تبلیغ کردہ مذہب کو اپنانے کی اپیل کرتے ہیں۔ آریہ اس پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس میں کس قسم کا خطرہ ہے۔ کیا حکومت اس پر خاموش رہے گی؟ کیا ایسے نوٹس کے مصنفین کی حوصلہ افزائی کی جائے تو عوامی امن کو برقرار رکھنے کی اجازت دیں گے؟ (بھارت سدھار (لاہور) ۱۳؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

اسی اخبار کا ایڈیٹر آریہ سماج کے مختلف گروہوں (جن میں لالہ لجپت رائے، لالہ منشی رام، لالہ ہنس راج اور رائے پیارا رام شامل ہیں )کو مخاطب کرتے ہوئے اور ایک ہونے کی تلقین کرتے ہوئے متنبہ کرتاہے کہ کچھ تخریب کار کوشش کریں گے کہ آریہ گروپس ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد نہ کرسکیں۔ساتھ ہی وہ دیگر ہندو اخبارات مثلاً آریہ گزٹ، آریہ پتریکا، آریہ میسنجروغیرہ کے ایڈیٹرز کواس اتحاد کو بروئے کارلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی تلقین کرتاہے۔ (اخبار بھارت سدھار (لاہور) ۱۰؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

بھارت سیوک(جالندھر) ۱۰؍مارچ ۱۸۹۷ء کا مشاہدہ ہے کہ اب یہ عام طور پر مشہور ہو گیا ہے کہ پنڈت لیکھ رام کے قاتل نے لالہ ہنس راج، پرنسپل، ڈی اے وی کالج، اور لالہ لال چند، پلیڈر کو بھی قتل کرنا چاہا۔ عید کے دن اس شخص نے ان حضرات سے ملاقاتیں کیں، لیکن اس کے ڈیزائن کو عملی جامہ پہنانے کا کوئی موقع نہ ملا۔ ایڈیٹر نے ایک خوفناک افواہ سنی ہے کہ ۲۵ محمدیوں کی ایک جماعت ایک خاص ’فرمان‘کے تحت پنجاب میں تمام سرکردہ ہندوؤں کو قتل کرنے کے مقصد سے سرگرم ہے۔ اس جماعت کے ایک دو آدمیوں نے صوبے کے ہر اہم شہر میں اپنے کوارٹر بنا لیے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال نے ان کے ہم مذہب مسلمانوں پرنہایت اثر ڈالا ہے، اور بہت سے قتل پہلے ہی ہو چکے ہیں۔ لاہور میں چار افراد کو قتل کر دیا گیا ہے جبکہ نیشنل ہائی سکول کے بانی لالہ رالا رام کو پشاور میں قتل کر دیا گیا ہے۔ ضلع جالندھر کے نورمحل میں عید کے دن ایک اور ہندو کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ اور اسی طرح کے واقعات کی اطلاعات سیالکوٹ اور چندوسی سے موصول ہوئی ہیں۔ لیکن پنڈت لیکھرام کی موت سب سے زیادہ المناک واقعہ ہے۔ اور یہ ممکن ہے کہ اس کے بعد اسی نوعیت کے بہت سے واقعات رُونما ہوں۔ دوسری جانب یہ بھی ممکن ہے کہ یہ افواہ محض افسانہ ہی نکلے۔ تاہم ایڈیٹر کا گمان ہے کہ ان کاروائیوں کا نتیجہ یا تو ہندوؤں کو مکمل ختم کردےگا یا ہندو نسل کی تخلیق نو ہو گی۔ (بھارت سیوک(جالندھر) ۱۰؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

اخبار عام ۱۱؍مارچ ۱۸۹۷ء لکھتا ہے کہ لیکھ رام نے ہندو مذہب کے بارے میں اس سے زیادہ تضحیک آمیز تبصرے کیے جو انہوں نے اسلام کے خلاف کیے تھے، لیکن کیونکہ یہاں قاتل کی قومیت معلوم ہے(کہ وہ محمڈنزم سے ہندوازم میں جانے کے لئے آیا تھا)۔ ہندو جنونیوں کو اس عمل پر اتنا ہی شبہ ہو سکتا ہے جتنا کہ اب ایک محمدن پرہے۔البتہ دوسری صورت میں آریہ یہ قرار دیتے کہ قتل ہندوؤں کی کسی سازش کا نتیجہ تھا۔ وہ اپنے کاموں اور ان کی خرابی کے بارے میں سوچنے سے باز نہیں آتے کہ وہ کیسے چیزوں کو خلط ملط کررہےہیں۔ ایک طرف وہ ۲۲ کروڑ ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں، اور دوسری طرف انفرادی طور پر مسلمانوں کو اپنے عقیدہ میں ڈھالنےکی کوشش میں لگےہیں، اس طرح ان پر آنے والے برے نتائج میں ہندوؤں کو شامل کیا جاتا ہے۔

اخبار بھارت سدھار (لاہور) ۱۳؍مارچ ۱۸۹۷ء:حال ہی میں بعض گمنام خطوط میں بابو سندر سنگھ، لالہ رلیہ رین اور بخشی گوکل چند کو مخاطب کرتے ہوئے پشاور میں گڑبڑ (فسادات) کے محرک ہونے کا الزام لگایاگیاہے۔ لاہور میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ڈاکٹر جے سنگھ، لالہ لاجپت رائے، ہنس راج، منشی رام وغیرہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اسی طرح کی افواہیں پشاور میں لالا رِلیا رام، بابو سندر سنگھ اور بخشی گوکل چند کے حوالے سے ہیں۔ (اخبار بھارت سدھار (لاہور) ۱۳؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

ٹائمز آف انڈیا ۱۲؍اپریل۱۸۹۷ء:معززین کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنا بظاہر بدمعاشوں کا مشغلہ بن گیا ہے۔ ہمیں … پنڈ دادن خان میں تارا اخبار کے مالکان کے نام لکھے گئے خط کی کاپی موصول ہوئی ہے۔ نوٹ (اردو میں) ایک جعلی لکھاوٹ میں… ہے۔ زبان اتنی گندی ہے کہ ہم یہاں چند جملے پیش کرسکتے ہیں، ’’سور اور ملعون کافر، جب سے محمودغزنوی اور عالمگیر (مسلمانوں)نےتمہاری عورت کو بے عزت کیا ہے اور تمہارے بت توڑ دیے ہیں۔ وہ پنڈت (لیکھرام) ایک کتے کی موت مر گیا ہے، اور (باقی )ہم تمہارےپیچھے ہیں۔ ہم تمہارے خاندان کے ایک فرد کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے، اور سب کو جہنم واصل کریں گے۔ سو ہوشیار رہو… (ٹائمز آف انڈیا ۱۲؍اپریل۱۸۹۷ء)

اخبار پایونیر(الٰہ آباد)۱۱؍مارچ۱۸۹۷ء: لاہور میں قتل کا انوکھا واقعہ۔ لاہور، ۹؍مارچ۔ ایک مشہور پنڈت لیکھ رام کو ہفتے کے روز لاہور میں قتل کر دیا گیا۔ سانحہ کے حالات عجیب ہیں۔ ایک مسلمان، جس نے ہندو مذہب کو اپنا نصب العین قرار دے کر، پنڈت سے دوستی کی اور تقریباً پورا ہفتہ اس کے ساتھ گزارنے کے بعد، پنڈت کی بیوی اور بیٹی کی موجودگی میں، بظاہر بغیر کسی وجہ کے، اسے چاقو کے وار کر کے ہلاک کردیا۔ بعدازاں قاتل فرار ہو گیا۔پولیس کی طرف سے اب قاتل کی گرفتاری کے لیے ۱,۰۰۰ روپے کی پیشکش کی گئی ہے۔ مرحوم کا بہت احترام کیا گیا اور جنازے میں ۲۰ ہزار ہم مذہب افراد نے شرکت کی۔ (اخبار پایونیر(الٰہ آباد)۱۱؍مارچ۱۸۹۷ء)

اخبار چودھویں صدی نے لیکھرام قتل سے متعلق اخبار عام کے آریہ مؤقف کی ترویج اور تشہیر کرنے پر اس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو درج ذیل چربہ)

پیسہ اخبار ۱۳؍مارچ۱۸۹۷ء: مرزا غلام احمد آف قادیان پر اس قتل کےمعاملے میں تشویش کا شبہ کیاجارہاہے۔ البتہ یہ شک بے بنیاد ہے، یہ دیکھ کر کہ محمدیوں کی عادت نہیں ہےکہ اس قدر بزدلانہ طریقے سے اپنا بدلہ لیں۔ قاتل چاہے ہندو ہو یا مسلمان، محمدی(مسلمان) ایسے شخص سے نفرت کرتے ہیں جو اس طرح کے بزدلانہ طرز عمل کا اہل ہو، اور آریوں کے ساتھ ان کے نقصان پر ہمدردی رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آریہ سماج کے ایک مخصوص رکن نے جنازے کے دوران اعلان کیا کہ آریوں کو نامی گرامی مسلمانوں کے قتل وغارت کے ذریعے،کھلم کھلا محمدیوں سے بدلہ لینے کی تیاری کرنی چاہیے۔ ایڈیٹر کو امید ہے کہ یہ درست نہیں ہے، لیکن اگر کسی ناتجربہ کار اور کم نظر آریہ کی طرف سے ایسے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے، تو سماج کے خیر خواہوں کو ان خیالات کو دبانا چاہیے۔ (پیسہ اخبار ۱۳؍مارچ۱۸۹۷ء)

حضرت اقدسؑ پر الزامِ قتل

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ لیکھرام کے قتل کے بعد اور پھر حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کی وجہ سے آریہ و دیگر ہندوؤں نے حضور انور کی ذاتِ اقدس پر بھی اس قتل کا الزام لگایا۔ بلکہ نہایت شدّ ومد کے ساتھ مختلف مواقع پر اس کا پرچارکیا کہ گویا نعوذباللہ حضور ؑنے اپنی پیشگوئی کو پورا کروانے کے لیے کرائے کے قاتلوں کے ذریعہ یہ قتل کروایا ہے۔ چنانچہ اس بابت اخبارات میں کثرت سے تشہیر ہوئی۔

رہبر ہند :۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء : یہ بات بھی واضح ہے کہ مقتول نے نہ صرف مسلمانوں اور ہندوؤں بلکہ سکھوں اور عیسائیوں کی بھی دل آزاری کی ہے۔ لہٰذاقاتل کا ان میں سے ہی تعلق ہونا ممکن ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لیکھرام بوقت قتل ننگا تھا۔ جو کہ مشکوک بات ہے۔ حکومت / پولیس نے انجمن حمایت اسلام اور خادم علوم اسلامیہ وغیرہ کے لیڈروں کی تلاشی لی ہے۔اور قادیان میں بھی بعض گھروں کی تلاشی لی ہے۔ البتہ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ حمایت اسلام اور قادیانیوں کا دور کا بھی واسطہ نظر نہیں آتا۔کیونکہ ان میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ آریوں کے اکٹھا ہونے کے بعد پولیس مسلمانوں کو بھی اکٹھا ہی گردان رہی ہے…یہ بھی خبر ہے کہ ہندو حضرات مرزا صاحب آف قادیان اور سرسید احمد خان آف علی گڑھ کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات تو واضح ہے کہ آریہ حضرات کی نظر مرزا غلام احمد قادیانی پر لگی ہوئی ہے البتہ نہ جانے سرسید کو بھی کب سے اس میں شامل کیا گیا۔ یہ تو واضح ہے کہ آریوں نے ہر مذہب مسلمان ہندو سکھ عیسائی کو ٹارگٹ کیا ہے اس لئے اور کسی کو نکالیں یا نہ نکالیں البتہ ان کو ضرور ملک بدر کردینا چاہئے۔(رہبر ہند :۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

کچھ اخبارات نے تو حضور ؑکی بابت یہ بھی کہا کہ جس طرح مرزا صاحب نے پیشگوئی کی تھی اسی طرح اب اپنے رب سے قاتل کے ڈھونڈنے میں بھی ہماری مدد کریں۔

اخبار عام :۱۶؍مارچ ۱۸۹۷ء: …لیکھرام کی موت نے کافی بے ہنگمیمچا دی ہے۔ سب مسلمانوں کا ردعمل ایک طرف مگر قادیانی کا طرز عمل سب سے مختلف ہے…جس طرح مرزا صاحب نے قتل کی پیشگوئی کی تھی اب چاہیے کہ اسی طرح وہ قاتل کو بھی ڈھونڈنے میں اپنے کمالات سے فائدہ اٹھائیں۔ ایک محمدی قاتل کا اس طرح بھرے بازار میں قتل کرنا اور پھر جوتا اور کمبل / چادر چھوڑ کر بھاگنا اور نزدیکی کسی گھر میں پناہ دیا جانا بعید از قیاس نہیں۔ (اخبار عام :۱۶؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

حضورؑ پر احتیاطی تدابیر اپنانے سے متعلق تنقید کرتے ہوئے اخبار عام نے لکھا:اخبار عام، ۳۱؍مارچ ۱۸۹۷ء : اخبار ھذا ایک اور نوٹس کی بابت جس میں غلام احمد نے حکومت سے بیشتر آریہ سماجیوں سے(اقدام قتل نہ کرنے کی) ضمانت لینے کی درخواست دی ہے جن)(آریاؤں)کےمتعلق شبہ ہے کہ وہ مرزاصاحب کی موت کی بابت ترکیب بنارہے ہیں۔اسی طرح قادیان میں مزید سیکیورٹی بڑھانے کی درخواست پر بھی اخبار نے مرزا صاحب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہےاور کہا ہے کہ کیا مرزا صاحب کا خدا(جس سے ان کا قریبی تعلق ہے) اب ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔ ایڈیٹر نے مزید تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت برطانیہ کی کامیابی کی بڑی وجہ اس کی سلطنت میں ایسے ’’نبی‘‘ کے ہونے سے ہی ہے۔ (اخبار عام، ۳۱؍مارچ ۱۸۹۷/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

حضرت اقدسؑ پر اس تلخ فضا کا الزام لگاتے ہوئے نیز مزید تنقید کرتے ہوئے اخبار خالصہ بہادر نے لکھاہے کہ خالصہ بہادر ۲۹؍مارچ ۱۸۹۷ء: یہ ہر صاحب فراست بندہ جان سکتا ہے کہ مرزا غلام احمد ہی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تلخ فضا کے ذمہ دار ہیں۔ آریوں کے ڈرسےمرزا صاحب نے جوحکومت سے سیکیورٹی طلب کررکھی ہے کہ اس ’’نبی‘‘ کی زندگی کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں…کیا مرزا صاحب کے ساتھ ان کا خدا نہیں جو ان کو بچا سکے ؟مرزا صاحب کو بچانے کا ایک ہی واحد حل ہے اور وہ یہ کہ مرزا صاحب کو بابا رام سنگھ کوکا ،کی خالی کردہ جگہ دے دی جائے۔ (خالصہ بہادر ۲۹؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

رام سنگھ (۳؍فروری ۱۸۱۶ – ۱۸۸۵) سکھ مت کے نامدھاری فرقے کے دوسرے گرو (مذہبی راہنما) تھے۔ جنہوں نے عدم تعاون اور برطانوی سامان اور خدمات کے بائیکاٹ کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔انہیں ۱۸؍ جنوری ۱۸۷۲ء کو ہندوستان کی برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے رنگون، برما (میانمار) میں جلاوطن کر دیا تھا۔انہوں نے کُوکا خالصہ کی بنیاد بھی رکھی۔جس وجہ سے ان کے نام کے ساتھ کُوکا لگایا جاتاہے (یعنی زورشور سے پرچار کرنے والی خالصہ) اور بعض روایات کے مطابق ان کے پیرو انہیں سکھوں کے دسویں گورو گوبند سنگھ کی آمد ثانی بھی بتلاتے ہیں۔ان کی وفات ۱۸۸۵ء میں ہوئی۔

(https://www.britannica.com/biography/Ram-Singh)

پھر اخبارات میں حضور ؑکی پیشگوئی کی صداقت سے متعلق اشتہار پر بھی تنقید کی جاتی رہی۔

ست دھرم پرچارک یکم اپریل ۱۸۹۷ء: لوگوں کو معلوم ہے کہ جس دلیری اور نڈر پن سے لیکھرام نے محمدی مذہب کے حقائق سے پردہ اٹھایا تھا، اس کے نتیجہ میں اس کے خلاف ۲ قسم کے دشمنوں کےمحاذ بن گئےتھے۔ایک وہ جو چاہتے تھے کہ لیکھرام کو اس کی وجہ سے قید کرلیا جائے جبکہ دوسرے وہ جو چاہتے تھے کہ لیکھرام کا وجود ہی دنیا سے مٹ جائے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا شمار اس دوسری قسم میں ہوتاہے۔جنہوں نے ۲۰؍فروری ۱۸۹۳ء کو اشتہار شائع کیا کہ آئندہ ۶سال کے اندر اندر لیکھرام ایک انتہائی دردناک موت مرے گا،ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ اگر یہ سچ ثابت نہ ہوا تو وہ خود اپنے تئیں پھانسی کے لئے پیش کردے گا۔مرزاصاحب نے حال ہی میں لیکھرام کو مخاطب کرتے ہوئے ایک شعر بھی کہا ہے کہ اگر لیکھرام اپنے اعمال ھذا سے باز نہ آیا تو وہ محمد کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاوے گا۔ (ست دھرم پرچارک یکم اپریل ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

قارئین، یہ حضورؑ کے اس شعر کی طرف اشارہ ہے جس میں آپؑ نے فرمایا:

الا اے دشمن نادان و بے راہ

بترس از تیغ بران محمدؐ

ست دھرم پرچارک یکم اپریل ۱۸۹۷ء: لیکھرام کی جانب سےیکم جولائی ۱۸۹۳ء کو حضور انورؑ کے اشتہار کے جواب میں آریہ گزٹ میں لکھی جانے والی تحریر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اس سب کو پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ کون اس سازش قتل میں ملوث ہے۔ پھر لکھتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے حالیہ اشتہار میں جہاں لیکھرام سے متعلق پیشگوئی پوری ہونےکاذکر کیا ہے وہیں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اگر وہ(لیکھرام) اسلام قبول کرلیتا تو خواہ اس کے جسم کے کتنے ہی ٹکڑے کیوں نہ ہوجاتے، میں اس کو واپس زندہ کرلیتا۔ (ست دھرم پرچارک یکم اپریل ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

یہ تحریر دراصل حضورؑ کا اشتہار ہے جس میں آپ نے فرمایا:’’ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے۔ درد بھی ہے اور خوشی بھی۔ درد اس لئے کہ اگر لیکھرام رجوع کرتا۔ زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بد زبانیوں سے باز آجاتا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہو جاتا۔ وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں اس سے کوئی بات انہونی نہیں اور خوشی اس بات کی ہے کہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی…‘‘اور اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دُور نہیں ہوسکتا اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے سارا قصہ فیصلہ ہوجائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ’’…یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔ پس اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو… پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بددعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں۔ اور اُس سزا کے لائق کہ ایک قاتل کے لئے ہونی چاہیے…‘‘ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۲۸۔۲۹)

لالہ گنگابشن کامقابل پرآنا

اس اعلان پر آریہ سماج کے لیڈروں میں سے کسی شخص کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ میدان مقابلہ میں آتا مگر ایک شخص گنگا بشن نامی مقابلہ میں نکلا، البتہ کچھ عرصہ بعد ہی وہ بھی حسب سابق اپنے دیگر بزرگان کی مانند بھاگ نکلا۔اس کی تفصیل میں اخبار ست دھرم پرچارک اپنے تأثرات کا اظہار یوں کرتاہے کہ بشن سنگھ کے معاملہ میں مرزا صاحب کا ایک مرتبہ پھر سے قسم اٹھانے کا کہنا کیا اس بات کا اظہار نہیں کرتا کہ مرزا صاحب کو ایسی پیشگوئیوں میں کمال مہارت حاصل ہے… (ست دھرم پرچارک،یکم اپریل ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

یہاں یہ امربیان کرنا بھی دلچسپی سےخالی نہ ہوگا کہ اب جبکہ بشن گنگا صاحب کی جانب سے مکمل سکوت رہا اور حضور انور کو پھر مزید کوئی جواب نہ دیا گیا تو کچھ عرصہ بعد ان کے بارے میں ایک افواہ مشہور کردی گئی کہ گویا ان کا انتقال ہوگیا ہے اور مرزا صاحب کی پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔ چنانچہ اس کو پیسہ اخبار نے ۲؍ستمبر کو بعنوان ’’پیشگوئی پوری ہوئی‘‘شائع بھی کردیا۔ البتہ بعد میں اس کے برعکس پتہ لگنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ۱۸؍ستمبر کو ’’غلط خبریں‘‘ کے عنوان سے تحریر کر کے نشاندہی کی گئی۔ (پیسہ اخبار ۱۸؍ستمبر ۱۸۹۷ء)

اسی طرح پھر یہیں پر بس نہیں ہوتی، بلکہ یہی اخبار دھرم پرچارک حضورؑ کی پیشگوئی کے سچے ہونے اور پھر مختلف حیلے بہانوں سے حضور ؑکو الجھائے رکھنے سے متعلق مختلف معیاروں اور پھر شرطوں کا ذکر کرتے ہوئے مزید لکھتا ہے کہ لیکھرام نے ایک معیار یہ بھی رکھا تھا کہ مرزا صاحب سنسکرت زبان سیکھ کر پنڈت دیو دتہ شاستری اور پنڈت شام جی کرشن ورما سے سنسکرت زبان میں بات بھی کریں، اگر وہ نہ کرسکے تو پھر یہ بات سچ ہوجائے گی کہ مرزا صاحب ہی لیکھرام کے قاتل ہیں۔

واہ رے منصف! تیرا انصاف اور تیرا ترازو!

آریہ گزٹ یکم اپریل ۱۸۹۷ء: مرزا صاحب آف قادیان اور ان کے پیرو لیکھرام کی موت پر جشن منا رہے ہیں۔ مرزا صاحب اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر حاشیے پر حاشیے لکھتےچلےجارہے ہیں،…اگر لیکھرام اس طرح نہ مرتا تو ہوسکتا ہے مرزا صاحب یہ کہہ دیتے کہ اس نے دل میں بیعت کرلی تھی،اس لئے بچ گیا۔ مرزا صاحب کا آریوں پر یہ الزام لگانا کہ ان کو قتل کرنے کے لئے ایک پوشیدہ سوسائیٹی ان کے خلاف بنائی جارہی ہے، یہ آریوں پر ایک قسم کا ہتک عزت کا معاملہ ہے جس کے مرزا صاحب ذمہ دار ہیں۔ (آریہ گزٹ یکم اپریل ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

ست دھرم پرچارک ۱۶ اپریل ۱۸۹۷ء نے خبر شائع کی کہ ملا قادیان (مرزاغلام احمد) نے حال ہی میں ایک نوٹس شائع کیا ہے جس میں حکومت سے التماس کی گئی ہے کہ دشمنوں سے حفاظت کے لیے قادیان میں کچھ مسلمان پولیس والے تعینات کردیے جائیں۔ مصنف(ایڈیٹراخبار) یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ مرزاصاحب اپنے خدا سے کیوں نہیں کہتے کہ ان کی حفاظت کے لیے وہ فرشتہ جبرئیل کو بطور باڈی گارڈ تعینات کردے۔(ست دھرم پرچارک ۱۶ اپریل ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

حضور انور کے گھر کی تلاشی

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ حضرت اماں جانؓ سے مروی ایک روایت بیان فرماتے ہیں: ’’مبارکہ(خاکسار کی ہمشیرہ) کا چلّہ نہانے کے دو تین دن بعد میں اوپر کے مکان میں چار پائی پر بیٹھی تھی اور تم میرے پاس کھڑے تھے اورپھجو(گھر کی ایک عورت کا نام ہے)بھی پاس تھی کہ تم نے نیچے کی طرف اشارہ کر کے کہاکہ ’’امّاں اوپائی‘‘میں نہ سمجھی۔ تم نے دو تین دفعہ دہرایا اور نیچے کی طرف اشارہ کیا جس پر پھجو نے نیچے دیکھا تو ڈیوڑھی کے دروازے میں ایک سپاہی کھڑا تھا۔پھجو نے اسے ڈانٹا کہ یہ زنانہ مکان ہے تو کیوں دروازے میں آگیا ہے اتنے میں مسجد کی طرف کا دروازہ بڑے زور سے کھٹکا۔ پتہ لگا کہ اس طرف سے بھی ایک سپاہی آیا ہے۔ حضرت صاحب اندر دالان میں بیٹھے ہوئے کچھ کام کر رہے تھے۔ میں نے محمود (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)کو ان کی طرف بھیجا کہ سپاہی آئے ہیں اور بلاتے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہو کہ میں آتا ہوں۔ پھر آپ نے بڑے اطمینان سے اپنا بستہ بند کیا اور اُٹھ کر مسجد کی طرف گئے وہاں مسجد میں انگریز کپتان پولیس کھڑا تھا اور اس کے ساتھ دوسرے پولیس کے آدمی تھے۔کپتان نے حضرت صاحبؑ سے کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لیکھرام کے قتل کے متعلق آپ کے گھر کی تلاشی لوں۔حضرت صاحب نے کہا آیئے اور کپتان کو مع دوسرے آدمیوں کے جن میں بعض دشمن بھی تھے مکان کے اندر لے آئے اور تلاشی شروع ہوئی۔ پولیس نے مکان کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا ہوا تھا ہم عورتیںاور بچے ایک طرف ہو گئے۔سب کمروں کی باری باری تلاشی ہوئی اور حضرت صاحب کے کاغذات وغیرہ دیکھے گئے۔ تلاش کرتے کر تے ایک خط نکلا جس میں کسی احمدی نے لیکھرام کے قتل پر حضرت صاحب کو مبارکباد لکھی تھی۔دشمنوں نے اسے جھٹ کپتان کے سامنے پیش کیا کہ دیکھئے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟ حضرت صاحب نے کہا کہ ایسے خطوں کا تو میرے پاس ایک تھیلا رکھا ہے۔ اور پھر بہت سے خط کپتان کے سامنے رکھ دیئے۔کپتان نے کہا نہیں کچھ نہیں۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ جب کپتان نیچے سرد خانے میں جانے لگا تو چونکہ اس کا دروازہ چھوٹا تھا اور کپتان لمبے قد کا آدمی تھا اس زور کے ساتھ دروازے کی چوکھٹ سے اس کا سر ٹکرایا کہ بیچارہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا،حضرت صاحب نے اس سے اظہار ہمدردی کیا اور پوچھا کہ گرم دودھ یا کوئی اور چیز منگوائیں ؟ اس نے کہا نہیں کوئی بات نہیں۔مگر بیچارے کو چوٹ سخت آئی تھی۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت صاحب اسے خود ایک کمرے سے دوسرے کی طرف لیجاتے تھے۔اور ایک ایک چیز دکھاتے تھے۔‘‘ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر۲۴۳)

نیز حضور ؑنے اس تلاشی سے متعلق خود فرمایا:’’اس تلاشی سے یہ بھی ایک فائدہ ہواکہ جوہمارے مخالف مولویوں کوگمان تھا کہ ان کے گھروں میں عربی لکھنے کے لئے ایک کمیٹی بیٹھی ہوئی ہے اورنیزآلات رصدونجوم ان کے گھرمیں مخفی رکھے ہیں جس کے ذریعہ سے غیب کی خبریں دیتے ہیں۔ان سب بہتانوں کابے اصل ہونابھی ثابت ہوگیا۔منہ‘‘(مجموعہ اشتہارات جلد۲صفحہ ۷۹)

تاریخ احمدیت میں اس تلاشی سے متعلق درج ہے کہ’’مسٹر لیمار چند سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور، میاں محمد بخش انسپکٹر بٹالہ اور ہیڈ کانسٹیبل اور پولیس کی جمعیت نے قادیان پہنچ کر حضور کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔قبل ازیں صبح کے وقت حضرت میر ناصر نواب صاحب نےکہیں سے پولیس کے آنے کی خبر سن لی۔ تو وہ سخت گھبرائے ہوئے حضرت اقدس کی خدمت میں پہنچے اور سخت پریشانی کے عالم میں کہا کہ پولیس گرفتاری کے لئے آ رہی ہے۔ حضرت اقدس نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ’’میر صاحب (دنیادار) لوگ خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہنا کرتے ہیں۔ ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔‘‘ پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا۔ ’’مگر ایسا ہر گز نہ ہو گا۔‘‘ کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ۵۹۹)

چودھویں صدی اخبار اس تلاشی سے متعلق لکھتاہے کہ ۸؍اپریل کو صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود قادیان میں پہنچ کر پنڈت لیکھرام کے قتل کےمتعلق مرزاصاحب کےگھر کی تلاشی کی۔مرزاصاحب نے اس تلاشی کے متعلق ایک اشتہار چھاپا ہے… (اخبار چودہویں صدی (راولپنڈی) ۲۳؍اپریل ۱۸۹۷ء صفحہ۱۲)

دیگر مسلمانوں پر الزام

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے علاوہ بعض اور لوگوں پر بھی الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حضور ؑپر تو آریہ و ہندومت والوں نے شکوک کا اظہار کیا تھا جس کی خالصۃً وجہ آپؑ کی پیشگوئی کا سچا ثابت ہونا تھا، البتہ دیگر احباب سے متعلق بھی حکومت کی سرکاری رپورٹ میں انکشافات درج ہیں۔ کہیں پر کسی کا ٹیلی گرام یا ڈاک کے ذریعہ کوئی ایسا مشکوک پیغام دریافت ہوا جس بنا پر اس کو شامل تفتیش کیا جانے لگا۔پنجاب سپیشل برانچ (برائے تفتیش) اپنی طرف سے مکمل کوشش میں مصروف تھی۔ اسی طرح پولیس کے افسران بھی تفتیش کے لیے پنجاب، دہلی، آگرہ، میرٹھ وغیرہ کے چکر لگاتے رہے کہ کسی طرح قاتل کا سراغ مل جائے۔ چنانچہ جن احباب سے متعلق شکوک وشبہات اور تفتیش کا اس رپورٹ میں ذکر ہے ان میں مولوی ہدایت رسول آف لکھنؤ، الٰہ دین حبیب آف لاہوراورعبدالقیوم آف دھرسی ضلع شولاپور شامل ہیں۔

(Foreign Department Secret Report, June 1899, Nos 13-17 (India Office R/1/0/223))

اخبار چودہویں صدی (راولپنڈی) ۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء:لیکھرام کے قتل کےبعد مسلمانوں پر لگنے والے اس کثرت سے الزامات پر ہندوؤں کو آڑے ہاتھوں لیتےہوئے لکھتا ہے کہ ٹریبیون اخبار نے سارا الزام مسلمانوں پر ڈال کر ناانصافی کی ہے۔اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ پنڈت لیکھرام کی بابت جویہ کہا ہے کہ وہ عربی زبان کا عالم تھا، میں خود(ایڈیٹر) اس بات کی نفی کرتا ہوں کہ مقتول کو عربی کی کوئی سوجھ بوجھ تھی…حقیقت یہ ہے کہ لیکھرام انتہائی احمقانہ انداز میں اسلام پر حملہ کرتا تھا۔ اور اس کے بارے میں اس کا علم محض تراجم سے اخذ کیا گیا تھا۔ یہ سوال کہ اس کے اسلام مخالف اعمال کی وجہ سے محمدیوں نے اسے قتل کرایا کیونکہ اس نے ان کے دین پر حملہ کیا سراسر غلط ہے۔ لاکھوں عیسائی مشنری ہیں جو عیسائیت کو پھیلانے کی خاطر اسلام پر تنقید اور حملہ کرتےچلےآرہے ہیں، لیکن وہاں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہے جس میں محمدیوں نے کسی مشن والے کو قتل کیا ہو…دراصل آنجہانی پنڈت لیکھ رام کو تنقید کی عادت تھی۔ اسلام اور اس کے بانی کو انتہائی گندی زبان میں گالی دینا۔ (اخبار چودہویں صدی (راولپنڈی) ۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء)

کیا لیکھرام کا کسی عورت سے معاشقہ تھا!

پیسہ اخبار ۱۳؍مارچ ۱۸۹۷: لیکھرام کا قتل ایک عورت سے معاشقے کا نتیجہ ہے آریوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی اس کے ذمہ دار ہیں درحقیقت یہ بات بے بنیاد ہے کیونکہ مسلمان اس طرح کی بزدلانہ حرکت نہیں کرتے۔قاتل کوئی بھی ہو ہندو یا مسلمان مگر مسلمان اس بزدلانہ حرکت سے نفرت کرتے ہیں اور آریوں کے اس نقصان پر ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔بعض آریوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کا اظہار کیا ہے۔اس خیال کو معاشرے کے سمجھدار طبقے کو دبا دینا چاہئے۔(پیسہ اخبار(لاہور) ۱۳؍مارچ ۱۸۹۷ء)

آریہ گزٹ لکھتا ہے کہ مسلمان اور ہندوؤں کے درمیان اس فضا کے ذمہ داران کئی اخبارات ہیں جو غیر ذمہ دارانہ روش اپنائے ہوئے ہیں۔ اس معاملہ میں پیسہ اخبار سرفہرست ہے۔جس نے خاص طور پر ایک اعتراض کے جواب میں کہا ہے کہ لیکھرام کا کسی عورت کے ساتھ معاشقہ چل رہا تھا (جو اس کی وجہ بن سکتا ہے)۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ عورت کون تھی اور کیا نام تھا اس بارے میں پیسہ اخبار خاموش ہے۔(آریہ گزٹ۱۱مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

اخبار بھارت سدھار ۱۳؍مارچ ۱۸۹۷ء: پیسہ اخبار نے قتل کو کسی عورت کے معاشقہ سے جوڑا ہے، البتہ اس عورت کی تفصیل نہیں بتلائی۔یہ مؤقف کہ عورت سے معاشقہ تھا گنتی کے چند بد معاشوں کے سوا کسی اور کا نہیں…اسی طرح حکومت مرزا غلام احمد قادیانی کی پیشگوئی وغیرہ کے بعد سب جانتی ہے اس لئے پیسہ اخبار کی دھوکہ دہی میں نہیں آسکتی۔ (اخبار بھارت سدھار ۱۳مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

اخبار چودہویں صدی (راولپنڈی) ۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء: لیکھرام کے قتل سے متعلق بعض روایات گردش میں ہیں جن میں ایسی وجوہات بھی بیان کی جارہی ہیں جن کی وجہ سے عموماً نوجوانوں کے قتل ہوجایا کرتے ہیں۔اور بقول ناظم الہند اخبار کے، کسی مشتعل آریہ نے ہی لیکھرام کے نامناسب افعال کی بنا پر ان کو قتل کرکے محمدیوں پر یہ الزام عائد کردیا۔حالانکہ قتل کے بعد مقتول کے کپڑوں پر ایک قطرہ بھی خون کا موجود نہ تھا جس سے گمان ہوتا ہے کہ لیکھرام قتل کے وقت ننگا تھا۔مزید برآں مقتول زخمی ہونے کے بعد کافی دیرتک زندہ رہا، لیکن اس کی طرف سے کوئی بیان نہیں ریکارڈ میں لایاجاسکا، کیوں؟

اخبار عام ۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء: لیکھرام کے قتل کی بابت مسلمانوں پر خصوصاً الزام لگایا جارہا ہے۔اس کے کئی محرکات بتائے جارہےہیں،؛حال ہی میں دہلی میں لیکھرام کی اسلام کے خلاف زبان درازی پر مقدمہ بھی ہوا۔ لیکھرام کی تحریر / الفاظ سخت تھے البتہ اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ مسلمانوں نے کئی بار استعمال کئے ہیں۔اسی وجہ سے مجسٹریٹ نے یہ کیس خارج کردیا تھا، جس کا غصہ مسلمانوں کو تھا۔پھر مرزا غلام احمد قادیانی کی لیکھرام کی غیر فطرتی موت کے بارے میں پیشگوئی کو بھی زیر غور رکھناچاہئے۔یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے بمبئی میں لیکھرام کے قتل کا منصوبہ بنایا جارہاتھا۔ان سارے امکانات کو دیکھتے ہوئے۱۳؍مارچ کو بیشترمسلمان راہنماؤں، انجمن حمایت اسلام کے لیڈروں کے گھروں کی تلاشی بھی لی گئی اور مزید لی جانے کا بھی امکان ہے۔ اسی طرح کیس کی تفتیش پر کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں…مسلمان اگر یہ دھبہ مٹانا چاہتے ہیں تو چاہیے کہ آریوں سے پہلے اس قاتل کو خود ڈھونڈیں۔کیا اگر اس طرح پر کوئی محمدی پرچاری / مولوی مارا جاتا تو بعینہٖ اسی طرح کا شک ہندوؤں پر بھی کیاجانا تھا؟ (اخبار عام ۱۵؍مارچ ۱۸۹۷ء/منقول از رپورٹ مقامی اخبارات۱۸۹۷ء شائع کردہ پنجاب گورنمنٹ پریس لاہور)

(جاری ہے)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button