مکتوب

مکتوب کینیڈا (جنوری و فروری ۲۰۲۴ء)

(فرحان احمد حمزہ قریشی۔ استاد جامعہ احمدیہ کینیڈا)

(جنوری، فروری ۲۴ء کے دوران کینیڈا میں وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات کا خلاصہ)

غیر ملکی طلبہ کی تعداد پر حد بندی

بیرونی ممالک سے طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد کینیڈا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتی ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹیاں بھی خاص طور پر ایسے طلبہ کو داخلہ دیتی ہیں جو بیرونی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ ان کی ٹیوشن فیس کینیڈین طلبہ سے زیادہ ہوتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں غیرملکی طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم حکومتِ کینیڈا نے غیر ملکی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد اورمکانات کے فقدان کے پیشِ نظر اگلے دو سالوں کے لیے study permits (تعلیمی اجازت ناموں)پر حد لگا دی ہے۔

اس حد بندی کا اعلان کینیڈا کے وزیرِ امیگریشن مارک مِلر نے ۲۲؍ جنوری ۲۰۲۴ء کو کیا۔ انہوں نے کہا کہ امسال حکومت تقریباً ۳؍لاکھ ۶۰ہزار تعلیمی اجازت ناموں کی منظوری دے گی جو کہ پچھلے سال کی نسبت ۳۵ فیصد کم ہے۔ ہر صوبے اور علاقے کو اس تعداد میں سے وہاں کی آبادی کے حساب سے ایک مخصوص تعداد میں غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی اجازت ہوگی۔ موجودہ سال کے آخر میں ۲۰۲۵ء میں دیے جانے والے اجازت ناموں کی تعداد پر غور کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی حکومت ایسے نجی اداروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو غیر ملکی طلبہ سے اعلیٰ تعلیم کے نام پر پیسے لیتی ہیں اور پھر جعلی سندیں دیتی ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں ایسے اداروں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ لہٰذا وفاقی حکومت نے آئندہ کے لیے لازم کر دیا ہے کہ غیر ملکی طلبہ تعلیمی اجازت ناموں کی درخواست کے ساتھ صوبائی حکومت سے تصدیقی خط بھی جمع کروائیں تا کہ غیر ملکی طلبہ کے حقوق کی حفاظت کی جائے اور انہیں معیاری تعلیم دی جائے۔ (بحوالہ CBC News مورخہ ۲۲؍ جنوری ۲۰۲۴ء)

برفانی جنگلات کی کٹائی کے نقصانات پر تحقیقاتی رپورٹ

برفانی جنگلات جنہیں بوریل جنگلات یا تائیگا بھی کہتے ہیں کینیڈا کی کل اراضی کے رقبے کے ۶۰ فیصد پر محیط ہے۔ یہ جنگلات شمال مغرب میں الاسکا کی سرحد سے شروع ہو کر ملک کے مشرقی ترین صوبہ نیوفاؤنڈ لینڈ تک ایک ہزار کلومیٹر چوڑی پٹی پر پھیلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان جنگلات کے نہایت وسیع رقبے کے پیشِ نظر ان کا مقامی لوگوں کی معیشت میں اہم کردار ہے مثلاً یہاں سیر و سیاحت، شکار،جنگلات کی پیداوار،کان کنی، تیل اور گیس کے ذریعے۔برفانی جنگلات میں چلغوزے، صنوبر اور دیوداردرختوں کی کثرت ہوتی ہے۔

حال میں آسٹریلیا سے شائع ہونے والی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ کے پیشِ نظر کینیڈا کے صوبہ ہائے انٹاریو اور کیوبیک میں درختوں کی کٹائی کی وجہ سے برفانی جنگلات میں شدید نقصان ہو گیا ہے۔ ان دونوں صوبوں کو ملک میں درختوں کی کٹائی کا مرکز جانا جاتا ہے۔قریباً نصف صدی کی معلومات بتاتی ہیں کہ ۱۹۷۶ء سے لے کر اب تک برفانی جنگلات کے ۳۵.۴ ملین ایکڑ کو ختم کر دیا گیا ہے۔

گو کہ دنیا بھر میں کینیڈا برفانی جنگلات کی حفاظت میں پیش پیش نظر آتا ہے تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق جنگلات میں درختوں کی کٹائی اس طریق سے کی جاتی رہی ہے جو کہ ناقابلِ برداشت ہے اور جس کے بد نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ کٹائی کی وجہ سے درختوں کے الگ الگ قطعے رہ گئے ہیں جو جانوروں کی آبادیوں کو ختم کرنے کا ذریعہ بن گئے ہیں اور اب وہ زمین آگ سے زیادہ متاثر شدہ بن گئی ہے۔

قوانین کے مطابق جب بھی کوئی کمپنی درختوں کی کٹائی کرتی ہے اسے کٹے ہوئے درختوں کے بدلے میں مزید درخت لگانے کی تاکید کی جاتی ہے۔ اور اگر چہ کمپنیاں ایسا کرتی ہیں، تاہم پرانے درختوں کے بغیر نئے درخت آگ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ عام طور پر کمپنیاں ایسے درخت اگاتی ہیں جن سے انہیں مستقبل میں فائدہ ہو سکتا ہے نہ کہ ایسے درخت جو آگ سے کم متاثر شدہ ہوں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے قوانین اور ان کے عمل در آمد میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے تا کہ آئندہ برفانی جنگلات اور ان میں بسنے والے جانوروں کو محفوظ رکھا جائے اور تا کہ مزید ماحولیاتی نقصانات سے ملک بچا رہے۔

(بحوالہ The New York Times مورخہ ۴؍ جنوری ۲۰۲۴ء۔ نیز برفانی جنگلات پر معلومات کے لیے دیکھیے ویکی پیڈیا)

وزیر اعظم کا بیان: اسرائیل؍حماس جنگ کی فوری جنگ بندی کی جائے

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مصر کی سرحد پر واقع فلسطینی شہر رفح پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ جس پر دنیا کے سیاسی راہنماؤں نے آواز اٹھائی ہے۔ ان راہنماؤں میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی شامل ہیں۔

رفح غزہ کے جنوب میں واقع ایسا شہر ہے جہاں اس وقت غزہ کے نصف سے زائد شہری یعنی ۲ملین لوگ پناہ گزین ہیں۔ اس کا کُل رقبہ صرف ۲۵؍مربع میل ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے بظاہر اپنی فوج کو حکم دیا ہے کہ معصوم شہریوں کو رفح سے نکالنے کے انتظامات کریں لیکن عملاً ان فلسطینیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوئی راہ موجود نہیں ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو کے رفح پر حملہ کرنے کے خطرناک ارادوں کو دیکھتے ہوئے کینیڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو، آسٹریلیا کے وزیر اعظم البانیز اور نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم لکسن نے ۱۵؍فروری ۲۰۲۴ء کو مشترکہ بیان دیا جس میں انہوں نے فوری جنگ بندی کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ان خدشات سے نہایت پریشان ہیں کہ اسرائیل رفح پر چڑھائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔…اسرائیل پر فرض ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور بین الاقوامی کمیونٹی کی بات سنے۔ معصوم شہریوں کی حفاظت از حد ضروری ہے اور اس کی پابندی بین الاقوامی قوانین کے تحت لازم ہے۔…ہمیں اس بات پر کوئی شک نہیں کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے دائمی امن کو حاصل کرنے کے لیے جنگ بندی ضروری ہے۔‘‘(بحوالہ The New York Times، مورخہ ۱۵؍ فروری۲۰۲۴ء۔ نیز مشترکہ بیان وزرائے اعظم آسٹریلیا، کینیڈا و نیوزی لینڈ)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button