الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

عظمتِ قرآن کریم

آنحضرتﷺ کی صداقت کا ایک ذریعہ قرآن کریم ہے جس کی عظمت کی گواہی غیرمسلم علماء اور فلاسفروں نے بھی دی ہے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ ۱۴؍دسمبر۲۰۱۳ء میں ایسے ہی چند مؤرخین اور ادباء کی آراء پیش کی گئی ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی عظیم تعلیم اور اس روحانی کتاب کی تاثیرات کے حوالے سے اپنے دلی جذبات کا بےساختہ اظہار کیا ہے۔

٭…عیسائی مؤرخ ریورنڈباسورتھ لکھتے ہیں:

’’نیرنگیٔ اتفاق سے جو تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتی۔ محمدؐ نے ایک ہی وقت میں تین چیزوں کی بنیاد ڈالی ہے: قوم کی، سلطنت کی اور مذہب کی۔ اور ایک ایسا شخص ہوکر جو نہ لکھ سکتا تھا اور نہ پڑھ سکتا تھا، آپؐ نے دنیا کو ایک ایسی کتاب دی ہے جو ایک ہی وقت میں نظم میں بھی ہے، قانون بھی ہے، کتاب الدعا بھی ہے اور بشارتوں کی مقدّس کتاب بھی ہے۔ اور آج کے دن تک تمام نسل انسانی کا چھٹا حصہ اس کی طرز تحریر، سچائی اور مقبولیت کو ایک زندہ معجزہ سمجھتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے اسی ایک معجزے کا دعویٰ کیا تھا، اسے قائم اور دائم معجزہ قرار دیا تھا اور یہ واقعہ میں ایک معجزہ ہے۔‘‘(محمدؐ اینڈ محمدازم صفحہ۱۴-۱۵)

٭… لین پول لکھتے ہیں:

’’قرآن حضرت محمدؐ نے ایسے نازک وقت میں دنیا کے سامنے پیش کیا جبکہ ہرطرف تاریکی اور جہالت کی حکمرانی تھی۔ اخلاق انسانی کا جنازہ نکل چکا تھا اور بُت پرستی کا ہر طرف زور تھا۔ قرآن نے اُن تمام گمراہیوں کو مٹایا جن کو دنیا پر چھائے ہوئے مسلسل کئی صدیاں گزرچکی تھیں۔ قرآن نے دنیا کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی اور اصولِ مدنیت اور علوم و حقائق سکھائے۔ ظالموں کو رحم دل اور وحشیوں کو پرہیزگار بنادیا۔ اگر یہ کتاب شائع نہ ہوتی تو انسانی اخلاق تباہ ہوجاتے اور دنیا کے باشندے برائے نام انسان رہ جاتے۔‘‘ (گارڈنس آف ہولی قرآن)

٭…فرانسیسی ڈاکٹر موریس لکھتے ہیں:

قرآن کی اگر کوئی تعریف ہوسکتی ہے جس میں کسی طرح کا نقص نہ نکل سکتا ہو تو وہ اس کی فصاحت و بلاغت ہے۔ مقاصد کی خوبی اور مطالب کی خوش اسلوبی کے اعتبار سے یہ کتاب تمام آسمانی کتابوں پر فائق ہے بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ قدرت کی ازلی عنایت نے انسان کے لیے جو کتابیں تیار کی ہیں ان سب میں یہ بہترین کتاب ہے۔ تمام آسمانی کتابوں میں سے کسی ایک نے اس کی ایک ادنیٰ سورت کا بھی مقابلہ نہیں کیا۔ اس کے نئے سے نئے عجائبات جو روزبروز نکلتے آتے ہیں اور اس کے اسرار جو کبھی ختم نہیںہوتے، مسلمان ادیب جب انہیں پڑھتے ہیں تو سجدہ کرنے لگتے ہیں۔ (ماخوذ از رسالہ لابارول فرانسس رمان)

٭… عظیم روسی فلاسفر ٹالسٹائی رقمطراز ہیں:

قرآن عالمِ انسانی کے لیے ایک بہترین رہبر ہے۔ اس میں تہذیب ہے، شائستگی ہے، تمدّن ہے، معاشرت ہے اور اخلاق کی اصلاح کے لیے ہدایت ہے۔ اگر صرف یہ کتاب دنیا کے سامنے ہوتی اور کوئی ریفارمر پیدا نہ ہوتا تو یہ عالم انسانی کی راہنمائی کے لیے کافی تھی۔ جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ یہ کتاب ایسے وقت میں دنیا کے سامنے پیش کی گئی تھی جبکہ ہر طرف آتش و فساد کے شرارے بلند تھے، خونخواری اور ڈاکہ زنی کی تحریک جاری تھی اور فحش باتوں سے بالکل پرہیز نہ کیا جاتا تھا اور اس کتاب نے ان گمراہیوں کا خاتمہ کیا تو ہماری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔

(ماخوذ از ’’دی لائٹ آف ریلیجن‘‘ صفحہ۱۴۸)

٭… مؤرخ ایڈورڈ گبن لکھتے ہیں:

ہر انصاف پسند آدمی اس حقیقت کا اقرار کرنے کے لیے مجبور ہے کہ قرآن ایک بےنظیر قانون ہدایت ہے۔ اس کی تعلیمات فطرتِ انسانی کے مطابق ہیں اور وہ اپنے اثر کے لحاظ سے ایک حیرت انگیز پوزیشن رکھتا ہے۔ اس نے وحشی عربوں کی زبردست اصلاح کی۔ ہمدردی اور محبت کے جذبات سے ان کے دلوں کو معمور کردیا اور قتل و خونریزی کو ممنوع قرار دیا۔ یہ اس کا عظیم الشان کارنامہ ہے۔ (ماخوذ از الفرقان)

………٭………٭………٭………

حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ

لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘برائے۲۰۱۳ء نمبر۱ میں مکرمہ امۃالنصیر بشریٰ چودھری صاحبہ نے اپنے ایک مضمون میں حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کی سیرت کو ذاتی مشاہدات کی روشنی میں بیان کیا ہے۔

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ مجھے اگست ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۶ء تک دفتر لجنہ اماءاللہ ربوہ میں خدمت کا موقع ملا۔ اس وقت حضرت سیّدہ ناصرہ بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ ربوہ تھیں۔ آپ کے ساتھ کام شروع کرتے وقت آپ نے مجھے جو نصائح کیں اُن میں یہ بھی کہا کہ مختلف معاملات اور کئی مسائل بھی تمہاری نظروں سے گزریں گے لیکن دفتر کی بات دفتر تک ہی محدود رہنی چاہیے۔ خاکسار نے بھی آپ کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائی۔

کام کے دوران اکثر ڈاک لے کر آپ کے پاس جانے کا موقع ملا کرتا تھا۔ اس طرح خاکسار کو آپ کو قریب سے دیکھنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملتا رہا۔ آپ بہت حلیم الطبع، بردبار، نرم مزاج اور درگزر کرنے والی ہستی تھیں۔ ہمیشہ انصاف سے کام لیتیں۔ بہت دعاگو تھیں۔ کم گو بھی تھیں۔ چہرہ بہت بارعب تھالیکن چہرے پر ہمیشہ ہلکی سی مسکراہٹ رہتی۔ اس کا اندازہ صرف ساتھ کام کرنے والا ہی کر سکتا ہے کہ آپ کتنی نرم مزاج اور حلیم طبیعت کی مالک تھیں۔

ایک دفعہ ایک لڑکی نے غلط فہمی کی بنا پر کسی معزز خاندان کی خاتون کے منا سب طریق سے پردہ نہ کرنے کا خط حضرت آپا جان کی خدمت میں لکھ دیا۔ آپاجان نے اُن خاتون کو بلایا اور بات کی۔ پھر اس لڑکی کوبھی بلایا۔ لیکن وہ ڈر کے مارے آپ کے سامنے نہیں جا رہی تھی۔ وہ پریشان تھی۔ کہنے لگی کہ مَیں نے تو ایک جرأت مندانہ قدم اُٹھایا تھا، لیکن اب کہیں بات میرے اوپر ہی نہ آجائے۔ آپاجان نے اُس کو ایک خط لکھوایا جس میں یہ بھی تحریر فرمایا: ’’حلیمی مَیں نے اپنے عظیم باپ سے ورثہ میں پائی ہے۔ تم بغیر خوف کے میرے پاس آئو اور کھل کر بات کر و۔‘‘

حضرت سیّدہ پردے کی بہت پابند تھیں۔ جب کبھی باہر تشریف لے جاتیں تو چہرے پر نقاب ڈال کر گاڑی میں بیٹھتیں اور ہاتھوں پردستانے بھی پہنتیں۔

آپ نے ایک کتا پالا ہوا تھا جو دوسرے صحن میں بندھا رہتا تھا لیکن ایک روز مَیں آپ کے گھر گئی تو اس دن نہ جانے کیسے کھلا رہ گیا تھا۔ جونہی میںاندر داخل ہوئی وہ میری طرف لپکا تو میری چیخ نکل گئی اور میں گر گئی۔ آپا جان نے اندر سے دیکھا تو ننگے پیر ہی باہر نکل آئیں اور مجھے بچالیا۔ آپ کی شفقت کے اَور بھی بہت سے واقعات ہیں۔

ایک دفعہ آل پاکستان لجنہ اماءاللہ سپورٹس ٹورنا منٹ تھا۔ دفتر نارمل وقت سے دو گھنٹہ پہلے کھلنا تھا۔ سپورٹس کی چیزیں کمرہ میں پڑی تھیں اور چابی میرے پاس تھی۔ مَیں کسی وجہ سے ایک گھنٹہ لیٹ ہوگئی تو مکرمہ امۃالشکور صاحبہ(سیکرٹری سپورٹس) نے پریشان ہوکر آپاجان کو فون کیا۔ آپ نے کہا کہ تالا توڑدو۔ اتنے میں مَیں پہنچ گئی۔ مَیں بہت ڈر رہی تھی کہ نہ جانے آپ اب مجھے کیا کہیں گی۔ لیکن آپ نے نہایت شفقت سے صرف اتنا فرمایا کہ آئندہ وقت کی پابندی کا خیال رکھنا۔ آپ کی شفقت اور نرم دلی کو دیکھ کر مَیں حیران رہ گئی، اس کے بعدآپ سے کبھی ڈر نہ لگا۔ ہمیشہ آپ سے کھل کر بات کرلیتی تھی۔ یہی دیکھنے میں آیا کہ آپ نے اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو کبھی نہیں ڈانٹا۔ ہمیشہ پیارسے سمجھا دیتیںاور سمجھنے والا بھی سمجھ جاتا۔

خاکسار پر آپ کی پیار بھری شفقتیں اتنی ہیں جو مَیں کبھی نہیں بھلا سکتی۔ ایک روز مَیں پوسٹ لے کر آپ کے گھر پہنچی تو آپ د ھوپ لگوا نے کی غرض سے صندوقوں سے کپڑے اور دوسری اشیا نکال رہی تھیں۔ ان کے ساتھ پرانی تصاویر بھی نکلیں۔ آپ نے مجھے حضرت امّاں جانؓ اور حضرت امی جانؓ (آپ کی والدہ محترمہ)کی تصاویردکھائیں۔ مَیں بہت خوش ہوئی اس لیے کہ میں نے ان ہستیوں کو نہیں دیکھا تھا۔ ہمّت کرکے پوچھا کہ کیا مَیں یہ تصاویر اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کو دکھانے کی غرض سے ساتھ لے جا سکتی ہوں؟ آپ نے نہایت شفقت سے اجازت دے دی۔ ہمارے محلّہ کی صدر لجنہ کہنے لگیں کہ بی بی صاحبہ اگر اجازت دیں تو ہم یہ تصاویر اپنے اجلاس میں لجنہ کو دکھادیں۔ خاکسار نے صدر صاحبہ کے حوالے سے جب آپ سے پوچھا تو اجازت مل گئی۔ صرف اتنا فرمایا کہ ان کو سنبھالنے کی ذمہ داری تمہاری ہے۔ ہم سب پر یہ آپ کی شفقت اور بہت بڑا احسان تھا۔

جن دنوں کپڑے اور کاغذ وغیرہ کے پھول بنانے کا بہت رواج تھا، خاکسار نے پھولوں کی ایک بیل بناکر آپ کی خدمت میں پیش کی۔ دو دن کے بعد مَیں گئی تو وہ بیل دیوار پر لگی دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کو پسند آئی ہے۔ آپ نے مجھے اپنا بیڈروم دکھایا اور فرمایا کہ اس کی میچنگ کے کچھ پھول بنا دو۔ اس کے بعد ایک دفعہ آپ مجھ سے کہنے لگیں کہ تمہاری بنائی ہوئی بیل بہت لوگوں کو پسند آئی ہے اور بنوانے کے لیے فرمائش بھی کی ہے لیکن مجھے پتا ہے کہ تمہارے پاس اتنا وقت نہیں ہے، صرف ایک بیل بنا دو۔ خاکسار کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی ورنہ مَیں کیا اور میری بساط کیا!

خاکسار جب جرمنی آئی تو پہلی دفعہ ۱۹؍سال کے بعد پاکستان جاسکی۔ آپ سے ملنے گئی تو آپ نے مجھے پہچان لیا۔ ایک اَور خاتون اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر وہاں آگئیں۔ اتنی دیرمیں وہاں آپ کی بہوامۃالصبور صاحبہ آگئیں تو آپ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور ہم سے پوچھا کہ بھلا یہ کون ہیں؟ مَیں ذرا خاموش رہی۔ سوچا پہلے وہ خاتون بتا دیں۔ لیکن جب وہ نہیں بتا سکیں تو خاکسارکے بتانے پر آپ بہت خوش ہوئیں۔ آپ کے چہرے پر بہو کو دیکھ کرایسی خوشی تھی جیسے بیٹی کو دیکھ کر ماں کے چہرے پر ہوتی ہے۔

خاکسار ۲۰۰۵ء میں پاکستان گئی تو ملاقات کی غرض سے آپ کے ہاں گئی۔ بتایا گیا کہ ملاقات کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ مَیں نے کہا کہ آپ اندر بتا دیں کہ مَیں جرمنی سے آئی ہوں اور میرے پاس صرف آج کا ہی دن ہے۔ اگر اجازت مل جائے تو ٹھیک ہے ورنہ مجبور نہیں کرنا۔ اجازت مل گئی اور ملازمہ نے کہا کہ بیڈروم میں چلی جائوں۔ مَیں اندر گئی تو آپ خود کرسی پر تشریف فرما تھیں۔ آپ نے مجھے چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ آپ بہت رکھ رکھائو والی خاتون تھیں۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button