اداریہ

اداریہ: سیاسی انتخابات کا سال (امّتِ مسلمہ کا امّتِ واحدہ بننا کیوں ضروری ہے؟)

(سید احسان احمد۔ قائمقام مدیر روزنامہ الفضل انٹرنیشنل) 

دوران ہفتہ کی خبروں میں امریکہ کی ایک اہم خبر امسال ہونے والے انتخابات کے حوالے سے ہے۔ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نکی ہیلی کو ہرا کر نیوہیم شائر پرائمری انتخابات میں فتح حاصل کی۔ بعض سیاسی تبصرہ نگاروں کے نزدیک ٹرمپ کی فتح مستقبل میں امریکی اور عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں بہت اہم ثابت ہو سکتی ہےاور اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سابق مندوب نکی ہیلی ری پبلکن صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے تقریباً باہر ہوگئی ہیں۔

انتخابات کی بات ہو رہی ہے تو سال ۲۰۲۴ء ایک لحاظ سے دنیا بھرمیں ’انتخابات کا سال‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق امسال تقریباًدنیا کی آدھی آبادی سیاسی انتخاب کے عمل سے گزرے گی۔

ان میں سر فہرست دنیا کی بڑی طاقت امریکہ ہے۔ اگر یورپ کی طرف نگاہ ڈالیں تو یورپین یونین میں شامل ۲۷؍ممالک جون میں یورپین پارلیمنٹ کے لیے اپنے ممالک سےنمائندے منتخب کریں گے۔ اس کے علاوہ امسال برطانیہ میں بھی عام انتخابات متوقع ہیں۔ اسی طرح روس میں مارچ کے مہینے میں صد رکا انتخاب منعقد کیا جائے گا۔

افریقہ کے تقریباً پندرہ ممالک میں امسال انتخابات ہیں۔ اسی طرح ایشیا کے متعدد ممالک جن میں تعداد کے لحاظ سے ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ انڈیا میں انتخاب اپریل یا مئی میں منعقد ہوں گے جس میں ایک اندازے کے مطابق ۹۰۰؍ملین سے زائد لوگ ووٹ دینے کے حقدار ہیں۔ان کے علاوہ انڈونیشیا، پاکستان، ایران، کوریا، شمالی کوریا، تائیوان اور سری لنکا میں بھی امسال انتخاب منعقد کیا جائے گا۔

یہاں ضمناً یہ ذکر کرنا بھی مناسب ہے کہ جہاں دنیا کی ایک کثیر تعداد اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے اپنی قوم اور ملک کے سربراہ یا نمائندے منتخب کرے گی وہاں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کے ’روشن‘ اور ’ترقی یافتہ‘ دَور میں ایک ایسی جماعت بھی ہے جو محض للہ سالہا سال سے اپنے اس بنیادی حق سے محروم چلی آرہی ہے۔پاکستان میں دوسری آئینی ترمیم کے بعد تقریباًنصف صدی سے زائد عرصہ سے احمدی مذہب کی بنا پراپنے اس حق سے محروم کردیے گئے ہیں جو عصر حاضر میں ظلم اور نفرت کی ایک واضح مثال ہے۔

ذکر ہو رہا تھا انتخابات کا تو جہاں بھی اور جس ملک میں بھی احمدی ہواور ووٹ دینے کا حق رکھتا ہو توہمیشہ قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے تُؤَدُّواالۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَاکو ذہن میں رکھ کر اپنے اس حق کو اللہ کی طرف سے ایک ذمہ داری سمجھتے ہوئے ادا کرتا ہے۔

دنیا کے موجودہ حالات کے تناظر میں،جہاں ایک طرف روس/یوکرین کی جنگ ہو رہی ہے اوردوسری جانب مشرق وسطیٰ کے حالات میں روز بروز کشیدگی واقع ہو رہی ہے،امسال کے انتخابات خاص اہمیت کے حامل ہوں گے اور آئندہ حالات کی سمت کے تعین میں خاصا اہم کردار ادا کرنے والے ثابت ہوں گے۔

ایسے میں مسلمان ممالک کو بالخصوص اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہےکہ ایسے لیڈر منتخب کریں جوانہیں امّتِ واحدہ بننے کی طرف لے جانے والے ہوں اوران ذرائع کو فروغ دینے والے ہوں جن سے امتِ مسلمہ بنیان مرصوص بنے اور بجائے آپس میں لڑنے کے وہ مغرب کے اثرات سے آزاد ہو کرمتحدہ طور پردنیا کا مقابلہ کر سکیں۔

امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۹؍جنوری ۲۰۲۴ء میںفلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا کی تحریک کی اور امّتِ مسلمہ کے حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئےفرمایاکہ’اب یہ مسلمان ملکوں کا حال ہوگیا ہے کہ بجائے اس کے کہ اکٹھے ہوکے فلسطین کو بچانے کی فکر کریں خود مسلمانوں نے لڑنا شروع کردیا ہے …اللہ تعالیٰ ہی مسلمان ملکوں کو، لیڈروں کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے۔ان کے لیے بھی دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ حقیقت میں ان کو اپنا مقصد سمجھنے کی توفیق دےاور ایک امت واحدہ بننے والے ہوں۔‘

یہ ایک حقیقت ہے کہ امّتِ واحدہ بننے کے لیے زمانے کے امام کو ماننا ضروری ہے اور اس کو مان کر ہی مسلمان ترقی کرسکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی فرستادے کے ذریعہ اب مسلمانوں کو عزّت و شرف بخشنا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ مبذول کرواتے ہوئے فرماتے ہیں:’’آج مسلمان اگر اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ جو مسیح ومہدی آنے والا تھا وہ آ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی عاشق اور غلامِ صادق بھی یہی ہے اور اس کی بیعت میں آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بموجب ضروری ہے اور کامل وفا کے ساتھ اس کی بیعت میں شامل ہو جائیں تو مسلمان ان کو ماننے کے بعد دنیا میں اپنی برتری منوا سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بن سکتے ہیں ورنہ یہی ان کا حال رہنا ہے جو ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل اور سمجھ دے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۴؍مارچ۲۰۲۳ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۱۴؍اپریل ۲۰۲۳ءصفحہ۷)

اللہ تعالیٰ کرے کہ جہاں دنیا با لعموم ایسے لیڈر منتخب کرے جو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں وہاں مسلمان ممالک میں بھی یہ شعور بیدار ہو کہ ان کی ترقی نہ تو سیاسی چالوں سے وابستہ ہے اور نہ ہی کسی اَور دنیاوی ذرائع سےبلکہ اب صرف و صرف امام الزمان کو ماننے سے ہی وہ قعرمذلت سے نکل کر ایک روشن مستقبل کی طرف جا سکتے ہیں اور اندھیروں کی کوٹھری سے نکل کر نور اور امن کے محلات میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اب اسی گلشن میں لوگو راحت و آرام ہے

وقت ہے جلد آؤ اے آوارگانِ دشتِ خار

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button