الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

رفتگاں کی بھیڑ ہےیادوں کے گھر کے سامنے

لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘برائے۲۰۱۳ء نمبر۱ میں مکرمہ امۃالقدوس ندرت صاحبہ اپنے مضمون میں بیان کرتی ہیں کہ میری امی جان محترمہ امۃالرشید غنی صاحبہ بنت حضرت مولوی عطا محمد صاحبؓ اکثر خاندانِ مسیح موعودؑ کے بزرگوں سے ملنے اور دعا کی غرض سے جاتی رہتی تھیںاور آج تک یہ تعلق قائم ہے۔

ایک مرتبہ صا حبزادی ا مۃا لمتین صا حبہ (دختر حضرت سیدہ مر یم صد یقہ صا حبہ) نے مجھ سے پو چھا کہ کیا تم اپنے لیے دعا کرتی ہو؟ پھر فرمایا کہ مَیں تو ذر ا بڑی ہوئی تھی تو میری امی نے مجھے کہنا شروع کردیا تھا کہ اپنے لیے بہت دعا کیا کرو۔

آ پا متین سے یہ سن کر مَیں نے بھی دعا کرنی شروع کردی اور اللہ تعالیٰ کا بےحد شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل سے نیک، صالح اور خادمِ دین ساتھی (چودھری عبد الغنی صاحب سابق نائب امیر کراچی)عطا فرمایابہت محبت کرنے والا سسرال ملا، نیک اور سعادت مند بچے عطا کیے،اللہ کے فضل سے زندگی سکون اور اطمینان سے گزری۔

جب میں انٹر کا امتحان دے رہی تھی تو اپنی بہنوں کے ذریعے حضرت چھوٹی آپا جان کی خدمت میں دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ وہ انٹر کے بعد ٹیچر ٹریننگ لے لے اور فضل عمر ماڈل سکول میں پڑھائے۔ ٹیچر تو مجھے بہت مل جائیں گی مگر میرا دل کرتا ہے کہ اپنی پسند کی ٹیچر لگاؤں۔ میرا ارادہ تو بی اے کرنے کا تھا مگر جب آپ کا پیغام ملا تو میں نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ پھر جب رزلٹ آیا تو اس وقت حضرت مصلح موعودؓ مع فیملی جابہ تشریف لے گئے تھے۔ اخبار میں اگلے کو ر سز کے لیے داخلہ کے ا علا ن آرہے تھے۔ٹیچر ٹریننگ شر و ع ہو نے میں بھی چند دن باقی تھے۔ ایسے میں مجھے مجبوراًجابہ جا کر چھوٹی آپا سے مشورہ لینا تھا۔چنانچہ میں اپنے بہنوئی مکرم قریشی محمد اکمل صاحب کے ساتھ جابہ گئی۔آپ نے مجھے لاہور جا کر داخلہ لینے کا حکم دیا۔اس رات ہمیں جابہ رکنا پڑا کیونکہ واپسی کے لیے وقت ہی نہ تھا۔برآمدے میں دو پلنگ بچھے تھے، چھوٹی آپانے مجھے کہا کہ تم یہاں مہر آپا کے ساتھ سو جانا۔صبح جب اٹھے تو ہم نے حضرت مہر آپاصاحبہ کے کمرے میں ہی ناشتہ کیا۔ اس وقت باتوں کے دوران مجھے پتا چلا کہ حضرت چھوٹی آپا جان نے اپنا پلنگ میرے لیے برآمدے میں لگوا دیا تھا اور خود فرش پر بستر کر کے سو گئیں۔ اس وقت مجھے سخت شرمندگی اور تکلیف ہوئی کہ کاش مجھے رات ہی کو پتا چل جاتا تو کبھی پلنگ پر نہ سوتی اور حضرت آپا جان کو تکلیف نہ ہوتی۔

اُس زمانے میں جب پرانا لجنہ ہال تھا۔ اجتماع پر میری ڈیوٹی صفائی کروانے پر لگی۔ مَیں صبح سویرے آتی اور ساری جگہ یعنی ہال، گیلری، برآمدوں اور گیٹ کے سامنے صحن میں صفائی کرواتی۔اس کے بعد جب نماز اور کھانے کا وقفہ ہوتا پھر گیلری، برآمدوں اور سٹیج پر صفائی کرواتی۔ اس وقت مٹی بہت ہوتی تھی تھوڑی ہی دیر میں فرش گندے ہوجاتے۔ دورانِ اجتماع ایک دن مَیں کھانے کے وقفہ میں صفائی کروا رہی تھی۔ ایک دو دفعہ گیلری سے گزری تو حضرت چھوٹی آپا جان نے مجھے دیکھ لیا اور بلواکر پوچھا کہ تم نے کھاناکھایاہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ مَیں صفائی کروا کے گھر جاتی ہوں کھانا کھاکر اور نماز ظہر عصر پڑھ کر آجاتی ہوں۔ آپ کے سامنے کھانا ٹرے میں رکھا تھا اور آپ کھا چکی تھیں۔ فرمایا: ’’بیٹھو پہلے کھانا کھاؤ پھر کام کرنا۔ ‘‘ساڑھے تین بجنے والے تھے۔بھوک سے میرا برا حال تھا۔مگر آپ کی محبت اور شفقت سے منٹوں میں ساری بھوک اور تھکن دور ہو گئی۔

ربوہ کے ا بتدائی سا لوں کی بات ہے جب ساری عمارتیں کچی اینٹو ں کی بنی تھیں اور سوائے حضرت مصلح موعودؓ کی گاڑی کے اَور کوئی گاڑی نہ تھی۔ پیدل ہی سب کام ہوتے تھے حتیٰ کہ دلہنیں بھی پیدل ہی رخصت ہو کر سسرال جاتی تھیں۔ میری بڑی آپا ذکیہ کی شادی تھی۔ ا با جی نے حضرت مصلح موعودؓ سے درخواست کی کہ تشریف لائیںاور اپنی دعاؤں سے میری بیٹی کو رخصت کریں۔حضورؓ نے ازراہ شفقت درخواست قبول فرمائی اور نماز عصر کے بعد تشریف لائے۔ہمارا گھر ریلوے اسٹیشن کے بالکل سامنے تھا۔حضورؓ دعا کروا کر واپس تشریف لے جانے لگے تو ابا جی نے عرض کی: حضور ! بچی کو سسرال پہنچانے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے گاڑی چاہیے۔پیارے آقا نے کمال شفقت سے فوراً فرمایا: ’’ٹھیک ہے میں گاڑی چھوڑ جاتا ہوں۔‘‘ ابا جی نے عرض کی کہ حضوراتنی جلدی تو گاڑی کی ضرورت نہیںہے۔حضور گھر جا کر پھر گاڑی بھجوادیں۔ حضورؓ نے فرمایا: ’’نہیں گاڑی تو یہیں رہے گی۔ مَیں پیدل ہی چلا جاؤں گا۔‘‘ ابا جی پریشان ہو گئے کہ مَیں نے حضورؓ کو تکلیف دی گاڑی نہ ہی مانگتا۔حضرت مصلح موعودؓ قیافہ شناس توتھے ہی۔ابا جی کی پریشانی بھانپ گئے اورفرمایا ’’مولوی صاحب! آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں مَیں تو اس وقت سیر کے لیے جایاکرتا ہوں۔آج آپ کے گھر سے سیر کرتا ہوا جاؤں گا۔‘‘ حضورؓ روانہ ہوئے تو ابا جی بھی ساتھ ہی چل پڑے۔جب ریلوے لائن عبور کر لی وہاں سے سیدھی پگڈنڈی قصر خلافت تک جاتی تھی تو حضورؓ نے پھر فرمایا: ’’مولوی صاحب اب آپ جائیں آپ نے بیٹی کو رخصت کرنا ہے۔‘‘ تب ابا جی حضورؓ کوسلام کر کے واپس آئے۔

میری بہن آپا عطیہ کوئٹہ میں تھیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے چوتھا بیٹا عطا فرمایا۔ آپا نے ہمیں لکھا کہ حضورؓ سے بچے کے لیے نام پوچھ کر بھیجو، مَیں اور میری بہن امۃالسلام گئے۔اس دن سیّدہ امّ متین صاحبہ کے ہاںباری تھی۔ آپ نے ہمیں اوپر بلوالیا۔ہم نے سلام عرض کیا، حضورؓ اس وقت عصر کی نماز کے لیے تیاری کررہے تھے۔ چھوٹی آپا جان نے حضورؓ کوبتایا کہ اِن کی بہن عطیہ کے ہاں بیٹا ہوا ہے۔ نام پوچھنے آئی ہیں۔ان کے پہلے بچوں کے نام دانیال،زکریا اور الیاس ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا: ’’اس بچے کا نام ذوالکفل رکھ دیں۔‘‘ پھر حضرت چھوٹی آپاجان سے فرمایا: ’’ذرا قرآن مجید لاؤ اور دیکھو کہ ذوالکفل چھوٹے کاف سے ہے یا بڑے کاف سے، مجھے یوں ہی شک سا ہوگیا ہے۔‘‘ چھوٹی آپا جانے لگیں تو فرمایا: ’’چلو رہنے دو۔ ذوالکفل کا دوسرا نام حزقیل ہے۔ حزقیل رکھ لیں۔‘‘ حضرت چھوٹی آپا جان نے فرمایا کہ عطیہ تو پہلے ہی کہتی ہے کہ حضورؓ نے میرے سارے بچوں کے نام نبیوں کے نام پر رکھے ہیں اور حزقیل تو ہے بھی ذرا مشکل۔ تو مسکرا کر فرمانے لگے: ’’ابھی تو بہت نبیوں کے نام باقی ہیں۔‘‘ اور پھر کئی نبیوں کے نام لیے۔ہم سب ہنس پڑے۔ اس کے بعد آپا عطیہ کا ایک اَور بچہ ہوا تو اس کا نام حضورؓ نے یحییٰ رکھا۔

صاحبزادی امۃالنصیر بیگم صاحبہ سے ملنے جاتے تو آپ ہمیںحضرت اماںجانؓ اور حضرت مصلح موعودؓ کی باتیں بتاتی رہتی تھیں۔ایک دن میری بہو نے کہا کہ میرے بچوں کے لیے دعا کیا کریں کہ نمازیں باقاعدہ پڑھنے لگ جائیں۔ فرمانے لگیں: دیکھو ہم گھر کی ساری لڑکیاں شام سے پہلے اکٹھے ہوکر کھیلا کرتی تھیں۔ جب نماز کا وقت ہوتا اور اذان کی آواز آتی تو حضرت اماں جانؓ فرماتی تھیں کہ لڑکیو! نماز کا وقت ہو گیا ہے مَیں نماز پڑھنے جا رہی ہوں۔ تم بھی نماز پڑھ لو۔تو ہم بھی نماز پڑھنے چلے جاتے۔دوسری دفعہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔بچوں کو کہنا ماننے کی عادت ہونی چاہیے۔ سب کام ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

ایک دفعہ آپ نے بتایا کہ میرا چھوٹا بھائی پلنگ پر سو رہا تھا۔ مَیں بھی پلنگ پر بیٹھی تھی۔ شاید اس کے جاگنے کا انتظار کر رہی تھی۔ بیٹھے بیٹھے مجھے بھی اونگھ آگئی، حضرت اماں جانؓ کاادھر سے گزر ہوا۔ جب مَیں جاگی تو مجھے بلایا اور فرمانے لگیں: جس پلنگ پر بھائی سو رہے ہوں اس پر بہنیں نہیں لیٹتیں۔حالانکہ میں ابھی بہت چھوٹی تھی اور میرا بھائی تو مجھ سے بھی چھوٹا تھا۔مگر میں نے اماں جانؓ کی اس بات کو ہمیشہ یاد رکھا۔

………٭………٭………٭………

یادوں کے دریچے سے

لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘برائے۲۰۱۳ء نمبر۱ میں مکرمہ آمنہ کبیر صاحبہ کے مضمون میں محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ کی خاندانِ حضرت مسیح موعودؑ سے متعلق بعض خوبصورت یادیں بیان کی گئی ہیں۔

محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میرے میاں محترم محمد ابراہیم صاحب نے عمر کا ایک حصّہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی خدمت کرتے ہوئے گزارا اور ان کے لیے کھانا تیار کرنے کی سعادت پائی۔ آپ بتایا کرتے تھے کہ مَیں جب انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تو میرے ایک کزن تو دفترمیں کام کرنے لگے لیکن مَیں دعا کر رہا تھا کہ اے خدا ! مجھے کوئی ایسا کام عطا فرما جس سے مَیں خلیفۂ وقت کے آس پاس رہوں۔اﷲ تعالیٰ نے میری خواہش کو اس رنگ میں پورا کیا کہ کسی نے مجھ سے پوچھاکہ کیا تم خلیفۂ وقت کی خدمت کرنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: نیکی اور پوچھ پوچھ۔اور فوراً ہاں کردی۔ اور اس طرح سے پھر حضرت مصلح موعودؓ کے لیے کھانا تیار کرنے کی خدمت کی توفیق پاتا رہا۔

خاکسار(سکینہ بیگم)کی جب شادی ہوئی تو ایک تقریب میں چھوٹی آپا جان نے خود بلاکر پیار سے مجھ سے میرے حالات پوچھے۔پھر آپ اکثر ہمارے گھر بھی تشریف لانے لگیں بلکہ مجھے سلائی اور کپڑوں کی کٹنگ وغیرہ بھی آپ نے ہی سکھائی۔ ایک دفعہ پوچھنے لگیں کہ کیا تمہیں لتینی سینی آتی ہے؟ مَیں خاموش رہی تو فرمانے لگیں تم تو کہہ رہی تھی کہ مجھے سلائی آتی ہے۔ مَیں نے جواب دیا کہ سینا تو آتا ہے لیکن مجھے لتینی کا نہیں پتا کہ یہ کیا چیز ہے۔فرمانے لگیں پائجامے کو کہتے ہیں اور پھر انہوں نے خود کافی پائجامے کاٹ کر دیے بلکہ مجھے اس کی کٹنگ سکھائی اور کچھ میرے سے کٹوائے۔ اور پھر خاکسار نے وہ پائجامے سی کردیے۔

چھوٹی آپا انتہائی سادہ، شفیق اور خیال رکھنے والی تھیں۔ میرا بڑا بیٹا پیدا ہوا تو اُس روز جب ابراہیم صاحب گائے کا دودھ حضرت چھوٹی آپا کے ہاں دینے گئے تو یہ خوشخبری بھی سنائی۔ اس پر چھوٹی آپا فوراً بی بی متین کو ساتھ لے کر ہمارے گھر تشریف لائیں۔ ہمارے گھر میں کام کرنے والی لڑکی نے بتایا کہ دو بیبیاں تشریف لائی ہیں، انہوں نے کالے برقعے پہنے ہوئے ہیں اور گائے انہیں دیکھ کر بول رہی ہے اور انہیںاندر آنے نہیں دے رہی۔ مَیں نے کسی کو باہر بھیجا۔ جب آپ دونوں اندر تشریف لائیں تو مَیں دیکھ کر حیران ہو گئی۔ جلدی سے اٹھنے لگی تو کہنے لگیں کہ نہیں تم لیٹی رہو۔ پاس ہی ایک چارپائی پڑی تھی اس پر بیٹھنے لگیں تو مَیں نے عرض کیاکہ اس پر چادر تو بچھا لینے دیں۔ لیکن آپ کہنے لگیں اس کی ضرورت نہیں۔ اور اسی طرح چارپائی پر بیٹھ گئیں اور بڑ ی محبت سے حا ل احوال پوچھنے کے بعد پوچھاکہ آیا بچے کا کوئی نام بھی رکھا ہے یا نہیں؟ مَیں نے جواب دیا: نہیں، بلکہ آپ ہی کوئی نام رکھ دیجیے۔ اس پر آپ نے بیٹے کا نام منیرالدین شاہد تجویز فرمایا۔ اب سوچتی ہوں تو دل اظہارِ تشکّر اور محبت سے لبریز ہوجاتا ہے کہ کہاں مَیں اور کہاں آپ کا مقام۔ لیکن اتنی شفقت اتنی اپنائیت کہ بیٹے کی پیدائش کا سن کر فوراً اس طرح تشریف لے آئیں کہ جس طرح کوئی اپنا بہت ہی پیارا خوشی کی خبر پاکر دوڑا چلا آتا ہے۔

محترمہ امۃالرشید صاحبہ آج بھی میری بیٹی کو اپنی بیٹی کی طرح سمجھتی ہیں۔ ایک دفعہ اُس کو اپنے بچپن کا وہ واقعہ سنا رہی تھیں کہ کس طرح حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ناصرات الا حمدیہ تنظیم کی بنیاد رکھی۔ فرمانے لگیں کہ مَیں چھوٹی ہی تھی جب لجنہ اماءاﷲ تنظیم کی بنیاد رکھی گئی اور گھر میں لجنہ کے اجلاسات ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر مَیںنے بھی ایک روز چھوٹی بچیوں کو اکٹھا کیا اور اپنا اجلاس کرنے لگی کہ اچانک وہاں ابّاجان (حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ )تشریف لے آئے۔ آپؓ نے پوچھا کہ کیا کررہی ہو؟ مَیںنے بتایا تو فرمانے لگے کہ مَیں آج سے تم بچیوں کے لیے ناصرات الاحمدیہ تنظیم کی بنیاد رکھتا ہوں۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button