متفرق مضامین

ڈائری مکرم عابد خان صاحب سے ایک انتخاب (جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۱۶ء کے ایام کے چند واقعات۔ حصہ چہارم)

تعارف

حضورِانور کے دورۂ جرمنی ۲۰۱۶ء کے بارے میں ڈائری کے پہلے حصے میں خاکسار نے اس بابرکت دورے کے دوران حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی پہلے ہفتے کی مصروفیات کا ذکر کیا تھا۔ اس دوسرے حصے میں حضورِانور کی جلسہ سالانہ جرمنی کے آخری دن کی مصروفیات کا ذکر کروں گا نیز حضورِانور کے جرمنی میں قیام کے دوسرے اور آخری ہفتے کی مصروفیات کے حوالے سے بھی تذکرہ ہو گا۔

حضورِانور کا لوگوں کو نماز کے لیے بلانا

پلان کے مطابق قافلے نے [جلسے کے اختتام کے بعد ہونے والی مختلف وفود کی ملاقاتوں]کے بعد فرینکفرٹ واپس جانا تھاجہاں نماز مغرب اور عشاء مسجد بیت السبوح میں ادا کی جانی تھیں۔تاہم راستے میں رش وغیرہ کی اطلاعات تھیں اس لیے محترم امیر صاحب نے تجویز پیش کی کہ نمازیں جلسہ گاہ میں ہی ادا کر لی جائیں۔حضورِانور نے ازراہ شفقت اس تجویز کو قبول فرما لیا۔

پروگرام میں اس تبدیلی سے نہایت خوش کن اثرات پیدا ہوئے۔ پہلے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ حضورِانور فرینکفرٹ میں نماز کی امامت فرمائیں گے اس لیے بہت سے احمدی جلسہ گاہ سے اپنےگھروں کےلیے نکل رہے تھے۔ تاہم جب حضورِانور نے جلسہ گاہ کی طرف چلنا شروع کیا تو بہت سے احمدیوں کو حضورنے اپنے ہاتھ کانوں تک بلند کر کےاشارے سے توجہ دلائی کہ نمازوں کی ادائیگی کے لیے آجائیں۔

یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں نے حضورِانور کو ایسا کرتے دیکھا اور میں نے اس منظر کو نہایت خوبصورت پایا جب حضورِانور بنفس نفیس احباب کو نماز کے لیے بلا رہے تھے۔ جب ہم جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ جرمن جماعت نے مرکزی جلسہ گاہ میں مختلف barriersکو ہٹا دیا تھااور وائنڈ اَپ کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا تھا۔یہ دیکھنے پر مجھے خیال آیا کہ یہ ہماری جماعت میں جرمن قوم کی غیر معمولی تیز کارکردگی کی ایک مثال تھی۔

حضورِانور کا امیر صاحب جرمنی کے تبصرہ سے محظوظ ہونا

حضورِانور نے چند منٹ احباب جماعت کا ہال میں داخل ہونے کا انتظار فرمایا۔اس دوران امیر صاحب جرمنی نے حضورِانور کو ایک پیغام کے بارے میں بتایا جو انہیں اسی وقت موصول ہوا تھا۔ امیر صاحب نے بتایا کہ مجھے ابھی امیر صاحب یوکے کی طرف سے پیغام موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ یوکے جماعت کے ۱۷۰۰؍ احباب کی شمولیت کے باعث جلسہ سالانہ جرمنی کی حاضری کافی اچھی ہو گئی ہے۔

امیر صاحب جرمنی نے مزید بتایا کہ میں نے انہیں جواباً تحریر کیا کہ جزاک اللہ۔اور مجھے بھی خوشی ہے کہ جلسہ سالانہ یو کے،کی حاضری بہتر بنانے کے لیے جماعت احمدیہ جرمنی کے ساڑھے چارہزار شاملین کو شرکت کی توفیق ملی تھی۔حضورِانور امیر صاحب جرمنی کے اس تبصرے سے محظوظ ہوئے اور خوب مسکرائے۔

ایک حقیقی سعادت

نماز کی ادائیگی کے بعد اپنی رہائش گاہ پر واپس تشریف لے جاتے ہوئے حضورِانور نے میری طرف دیکھا اور فرمایاکہ عابد! تم آج شام کی میٹنگ کے نوٹس بنا کر تھک گئے ہو گے؟

خاکسار نے جواباً عرض کی کہ حضور !اس موقع پر حاضر ہونا اور یہ سننا کہ کس طرح مختلف اقوام عالم سے لوگوں نے احمدیت قبول کی ہے حقیقت میں ایک سعادت تھی۔

اگرچہ یہ ایک مختصر لمحہ تھا تاہم حضورِانور کے کسی کو یاد رکھنے اور خیریت دریافت فرمانےسے بہت سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

چند مبارک لمحات

[ایک ملاقات کے دوران]ایک غیر ازجماعت دوست آدم شاہین صاحب نے حضورِانور کو بتایا کہ انہیں چند ماہ قبل احمدیت کے بارے میں علم ہوا اور جماعتی لٹریچر پڑھنے اور جلسہ سالانہ میں شمولیت نے ان پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ حضورِانور سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے عرض کیا کہ جب سے میں جماعت احمدیہ کے ساتھ رابطے میں ہوں میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ میں نے بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کی کتاب کا ایک نسخہ کئی ماہ اپنے پاس رکھا اور اس سے راہنمائی اور ہدایت حاصل کی۔ اب جلسہ کے دوران میں نے آپ کے خطابات سنے ہیں اور مجھے ایسا لگا جیسے آپ میرے استاد ہیں اور راہنما ہیں۔

موصوف نے مزید عرض کیا کہ میں آپ کو تمام لوگوں کاخلیفہ مانتا ہوں، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب ہوں ،مغرب سے تعلق رکھتے ہوں یا مشرق سے۔ جماعت احمدیہ کے بارے میں پڑھنے کے بعد اور اس کی سچائی کو جانچنے کے بعد میرا ایمان ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ ایک الٰہی جماعت ہے جو پوری دیانتداری کے ساتھ قرآن کریم اور آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہے۔

یہ سن کے حضورِانور نے فرمایا کہ اگر اب آپ کو یقین حاصل ہو گیا ہے اور آپ کا دل اطمینان پکڑ چکا ہے تو آپ کو بیعت کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جانا چاہیے۔

نہایت جذباتی انداز میں موصوف نے کہا کہ جی ہاں، میری خواہش ہے کہ میں احمدیت قبول کروں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور اس کو دُور دُور تک پھیلاؤں۔

یہ چند لمحات حقیقتاًایمان افروز اور جذباتی کر دینے والے تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آدم صاحب کو جلسہ سالانہ میں شمولیت کے باعث جماعت کی سچائی کا یقین ہو چکا تھا۔ حضورِانور کی موجودگی نے انہیں مکمل طور پر اطمینان کا احساس دلایا تھا اور احمدیت قبول کرنے کے لیے انہیں خود اعتمادی بھی دی تھی۔الحمدللہ

ایک احمدی خاتون کے جذبات

اس میٹنگ کے اختتام پر میری ملاقات ایک انڈونیشین خاتون مریم صاحبہ سے ہوئی جو ڈینٹسٹ بن رہی تھیں۔ جب میں ان سے گفتگو کر رہا تھا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی اور آنکھوں سے آنسو بھی رواںتھے۔حضورانور کے ساتھ ملاقات کے بارے میں موصوفہ نے بتایا کہ میں بیان نہیں کرسکتی کہ میں اس وقت کیسا محسوس کر رہی ہوں۔ حضورِانور کس قدر محبت کرنے والے اور شفیق وجود ہیں۔ ہمارے لیےجرمنی آنا آسان نہیں تھا اور ہمیں اس کے لیے بہت قربانیاں دینی پڑیں لیکن ہم ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھتے ہیں کہ ہم جو بھی قربانیاں دیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہوتی ہیں اور آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا کئی گنا بڑھا کر اجر دیا ہے۔

حضور انور کا اچانک دورہ

۶؍ ستمبر ۲۰۱۶ء کی صبح مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ،مکرم مبارک ظفر صاحب اور خاکسار ساڑھے دس بجے اپنے دفتر میں بیٹھے تھے۔ دس بجکر چالیس منٹ پر اچانک ہم نے حضورِانور کو اپنے دفتر میں رونق افروز ہوتے دیکھا۔ ہم تینوں نے خرگوشوں کی طرح چھلانگ لگائی تاکہ اپنی ٹوپیاں اپنے سر پر رکھ سکیں۔ حضورِانور نے استفسار فرمایا کہ خاکسار کیا کر رہا ہے؟ جس پر خاکسار نے عرض کی کہ میں پریس ریلیز کی ڈرافٹنگ کر رہا تھا۔ بعد ازاں حضورِانور نے ہمارے دفتر میں ایک بڑا کالے رنگ کا صوفہ دیکھ کر مسکراتے ہوئے دریافت فرمایا کہ ہم میں سے کون اس کو سونے کے لیے استعمال کرتا ہے؟

ایک منٹ کے دورانیہ کے بعد حضورِانور اپنے دفتر کی طرف تشریف لے گئے اور جونہی آپ تشریف لے گئے تو ہم تینوں نے اس خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جو حضورِانور کی اس اچانک آمد سے ہمیں پہنچی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم تینوں کو حضورِانور کے سایۂ  شفقت میں کئی سال سے خدمت کرنے کا موقع مل رہا ہے اور حضورِانور سے مستقل ملاقات کرنےکی سعادت پاتے ہیں تاہم اس ایک منٹ کے دورانیہ کی ملاقات نے ہمارے دلوں کو عجیب قسم کی خوشی سے بھر دیا جو خلافت کے وجود سے ہی وابستہ ہے۔ ہم اس دن ان لمحات کے بارے میں چھوٹے بچوں کی طرح خوشی سے باتیں کرتے رہے اور بےانتہا خوش تھے کہ حضورِانور کی قربت میں وہ چند لمحات ہمیں میسر آئے۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک

(مترجم:’ابو سلطان‘معاونت :مظفرہ ثروت)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button