افریقہ (رپورٹس)

کینیا کے مختلف ریجنز میں تبلیغی و تربیتی پروگرامز اور سرکاری شجر کاری مہم میں شرکت

(محمد افضل ظفر۔ کینیا)

تربیتی و تبلیغی پروگرام

٭…مورخہ ۱۱ و ۱۲؍ نومبر بروز ہفتہ و اتوار نیروبی جماعت نے دو روزہ تبلیغی پروگرام نیروبی کے نواحی علاقہ سوویٹو کے جکرانڈہ گراؤنڈ میں منعقد کیا اور وہاں بک سٹال لگایا۔ نیز ساؤنڈ سسٹم کا بندوبست بھی کیا۔ اس دو روزہ پروگرام میں علاقہ کے مکینوں سے انفرادی طور پر بھی رابطہ کیا گیا اور سٹال پر آنے والے زائرین سے بھی سوال و جواب ہوئے اور انہیں جماعت احمدیہ سے متعارف کرایا گیا اور لٹریچر بھی دیا گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۷۰۰؍ افراد تک پیغام حق پہنچا اور بفضلہ تعالیٰ آٹھ افراد کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔ مجموعی طور پر علاقہ کے مکینوں نے جماعت کے پروگرام کو سراہا۔

٭…مابیرا ریجن میں بھی مابیرا کے مقام پر ۱۲؍نومبر کو ایک تبلیغی پروگرام رکھا گیا جس میں احمدی احباب کے علاوہ درجنوں عیسائی اور غیر از جماعت مسلمان شامل ہوئے۔مجلس سوال و جواب کے علاوہ لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔

٭…کسومو ریجن کی جماعت اجولا میں بھی ایک تربیتی و تبلیغی پروگرام ۱۲؍نومبر بروز اتوار منعقد ہوا اور اس کے علاوہ بک سٹال بھی لگایا گیا۔ احمدی احباب کے علاوہ مہمانان کرام نے بھی اس میں شرکت کی۔ تربیتی پروگرام کے علاوہ مجلس سوال و جواب بھی ہوئی اور لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔

٭…مچاکوس ریجن (ایسٹرن ریجن )میں ۱۱؍نومبر بروز ہفتہ ممبونی جماعت میں ایک تبلیغی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ۵۰؍ احمدی و غیر احمدی احباب شامل ہوئے۔ تربیتی امور و تبلیغی موضوعات پر تقاریر کے علاوہ مجلس سوال و جواب بھی منعقد کی گئی اور لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ پروگرام نماز ظہر تک جاری رہا جس کے بعد حاضرین کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔

٭…۱۲؍ نومبر بروز اتوار اسی ریجن کے ہیڈ کوارٹر ’’کادیانی‘‘ میں بھی ایک تربیتی پروگرام ہوا جس میں نیروبی سے بھی احباب جماعت نے شمولیت کی، کُل حاضری ۵۵؍ تھی۔ پروگرام میں تربیتی و تبلیغی عناوین پر تقایر کے علاوہ مجلس سوال و جواب بھی ہوئی جس میں ریجنل انچارج قاسم مچیرے صاحب مربی سلسلہ نے حاضرین کے سوالات کے جواب دیے۔

٭…ویسٹرن اے ریجن شیانڈہ کی جماعت ایمولیونڈو میں ۱۱؍نومبر بروز ہفتہ ایک احمدی دوست ہارون لونانگا صاحب کے گھر میں ایک تبلیغی نشست منعقد ہوئی۔ یہ ایک نئی اور چھوٹی جماعت ہے۔ تلاوت قرآن پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا جس کے بعد مقامی معلم صادق اخوئیاں صاحب نے ’’بائبل میں آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہورسے متعلق پیشگوئیاں‘‘ کے موضوع پر ایک تقریر کی جس کے بعد ریجنل انچارج ملک بشارت احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’’حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی‘‘ سے متعلق ایک مدلل تقریر کی جس کے بعد مجلس سوال و جواب ہوئی اور مہمانوں کو لٹریچر بھی دیا گیا۔ اس موقع پر بک سٹال بھی لگایا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۲۳؍ احمدیوں کے علاوہ ۱۷؍ مہمان اس مجلس میں شریک تھے جن میں دو پادری صاحبان ، آرتھوڈوک چرچ کے ریجنل سیکرٹری اور غیر از جماعت مسلمان شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بیعت بھی ہوئی۔ پروگرام کے بعد تمام احباب کی خدمت میں دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔

٭…۱۲؍ نومبر بروز اتوار اسی ریجن کی ایک اور جماعت سنوکو میں رشید موسیٰ صاحب کے مکان پر ایک تبلیغی پروگرام کیا گیا۔ مہمانان کے استقبال اور تعارف کے بعد تلاوت قرآن پاک سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ پہلے معلم عدی حمیسی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد پر تقریر کی پھر ملک بشارت احمد صاحب نے ’’دنیا کا امن اب احمدیت سے وابستہ ہے‘‘ کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کے بعد مجلس سوال و جواب ہوئی جس میں حاضرین کے سوالوں کے جواب دیے گئے۔ اس موقع پر بک سٹال بھی لگایا گیا اور لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ پروگرام کے اختتام پر حاضرین کی مہمان نوازی بھی کی گئی۔

٭…۱۲؍ نومبر بروز اتوار ایلڈوریٹ ریجن کی دو جماعتوں ’’گارا فالز‘‘ اور ’’کپسابٹ‘‘ میں بھی تبلیغی و تربیتی پروگرام کیے گئے جن میں احباب جماعت کے علاوہ مہمانان کرام نے بھی شرکت کی۔ تربیتی و تبلیغی موضوعات پر تقاریر کے علاوہ مجلس سوال و جواب بھی ہوئی اور مہمانوں کو لٹریچر بھی دیا گیا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں سے ان پروگراموں کے بہترین نتائج عطا فرمائے۔ آمین

کینیا میں سرکاری طور پر ہونے والی شجر کاری مہم میں جماعت احمدیہ کی شرکت

۱۲؍ نومبر بروز اتوار کینیا گورنمنٹ کی طرف سے اس سال کی شجر کاری مہم کا آغاز کیا گیا اور صدر مملکت عزت مآب جناب ولیم روتو صاحب نے پوری قوم کو اس کار خیر میں حصہ لینے کی اپیل کی اور سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس کی خوب تشہیر کی گئی اور مختلف مقامات پر پودے مفت مہیا کیے گئے۔ امسال ۱۵؍ بلین درخت لگانے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے احباب جماعت کو بھی اس کارخیر میں شامل ہونے کی توفیق ملی اور متعدد مقامات پر درخت لگائے گئے۔

کسومو کاؤنٹی کے کمشنر صاحب کی طرف سے ہمارے مبلغ فہیم احمد لکھن صاحب کو (جو کاؤنٹی کی ایک ذیلی کمیٹی کے ممبر بھی ہیں) اس شجر کاری مہم میں تین مقامات (کسومو پولیٹیکنیکل کالج۔ راموگی انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس ٹیکنالوجی اور کاڈیآگا مین پرزن ) پر سرکاری ٹیم کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ آپ نے اس ٹیم کے ہمراہ، جس کی قیادت کاؤنٹی کمشنر کر رہے تھے، مذکورہ بالا مقامات پر پودے لگائے۔ ہر ایک مقام پر ہزاروں پودے لگائے گئے۔ کاڈیآگا پرزن کے دورے کے دوران کیبنٹ سیکرٹری برائے پبلک سروس مسٹر موسس کرویا بھی تشریف لائے اور اس مہم میں مقامی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی ۔

کوسو ریجن کی ایک جماعت کمبیوا کی مسجد میں آم اور آووکاڈو کے ایک سو پودے لگائے گئے۔ اس موقع پر احباب جماعت کے علاوہ سرکاری افسران اور مقامی کمیونٹی سربراہان بھی موجود تھے۔

صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ کینیا کی رپورٹ کے مطابق کینیا کے شہر ممباسہ، نیروبی اور کسومو میں ممبرات لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ نے بھی شجر کاری مہم میں حصہ لیا اور ۱۱۵؍ پودے لگائے۔ جزاھم اللہ خیراً

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button