الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہؓ (اُمّ ناصر)

(گذشتہ سے پیوستہ۔ دوسرا اور آخری حصہ)

ماشاءاللہ سب سے بڑا کنبہ حضرت اُمّی جانؓ کا تھا۔ پھر بھی کھانا ٹھیک وقت پر تیار کروالیتیں۔ سب حضورؓ کے ساتھ مل کر کمرے میں دسترخوان بچھا کر یا پھر چھوٹی چونکی پر لگا کر کھانا کھاتے۔ حضورؓ کی خوراک بہت کم تھی۔اُمی جانؓ کی کوشش ہو تی تھی کہ حضورؓ کے لیے ایسا کھانا پکا ئیں جو صحت کے لیے اچھا ہو اور مزیدار بھی ہو۔ حضورؓ کودالیں، سبزیاں،گوشت، چوزہ، بھُنے ہوئے چنے اور مکئی کے دانے پسند تھے۔حضورؓ کا دانتوں کا بُرش آپؓ کے گھر بھی ہوتا۔کھانے کے بعد حضورؓ دانت ضرور صاف کر تے۔ قادیان میں گرمیوںکے روزے تھے۔حضورؓ سحری کے وقت تشریف لائے، پہلے چونکی پر دو نفل ادا کیے پھر سحری شروع کی۔ جلد اذان کی آواز آگئی۔ اذان کے دوران آپؓ کھاتے رہے، اذان ختم ہونے پر آپؓ نے کھانا چھوڑ دیا۔

امی جانؓ علی الصبح ہی تیار ہو جاتیں۔ لباس بہت پاک صاف اور نفیس ہوتا۔ سردیوں میں ریشمی اور گرم کپڑے کا لباس ہوتا۔ خوشبو کا استعمال بھی کرتی تھیں۔حضورؓ بہت عمدہ عطر خود بناتے تھے، خود بھی استعمال فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی دیتے تھے۔

آپؓ کھانا ضائع نہیں ہونے دیتی تھیں۔باورچی کو راشن تول کر دیتیں۔ ایک دفعہ ایک نیا باورچی آیا تو آٹا منگوا کر اُس کے پیڑے کرکے اس کو بھجوائے اور بتایا کہ ایک کلو آٹے میں اتنے پُھلکے بنتے ہیں۔ کھانے میں سبزی گوشت یا دال ہوتی۔ ناغہ کے دن خالی سبزی بنتی۔ اس وقت فریج نہیں تھا، اس لیے بچا ہوا سالن پرات میں پانی ڈال کر اس میں رکھتیں اور دوسرے وقت گرم کرکے کھانے کے لیے رکھ دیتیں۔ آم، لسوڑھے،ہری مرچیںاور ڈھیو کا اچار خودہمارے ساتھ مل کر گھر میں تیار کرواتیں۔یہ اتنے ذائقہ دار ہوتے کہ سالن کی جگہ ان کا مصالحہ روٹی پر لگا کر کھانے کا بہت مزہ آتا۔ آم کے اچار میں کبھی کریلے بھی ڈالتیں۔

سردیوں میں جب نیا گُڑ بنتا تو آپؓ بادام،کشمش، گِری، مونگ پھلی اور گھی وغیرہ ڈلوا کر گُڑکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنوا کر رکھتیں۔ جلسہ سالانہ سے پہلے حضرت اُمِّ متین اور آپؓ گندم اُبال کر خشک کر کے بھنواتیںاور اُس میں گڑ میوہ جات ڈال کر لڈو بنواکر رکھے جاتے اور اِس طرح جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی خاطر تواضع کی جاتی۔اس کے علاوہ بھی آپؓ مہمانوں کے لیے کچھ نہ کچھ تیار رکھتیں۔ جلسہ پر آپؓ کا گھر مہمانوں سے بھرا ہوتا۔

ایک دن ایک فوجی افسر کی بیگم نے آپؓ سے اپنے خاوند کی شکایت کی کہ وہ پہلے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتے تھے لیکن جب سے فلاں خاتون سے شادی کرلی ہے میری بالکل پروا نہیں کرتے۔ وہ خود بالکل سادہ دیہاتی لباس میں تھیں۔آپؓ اُس خاتون کو بھی جانتی تھیں جس سے اس کے خاوندنے شادی کی تھی کہ وہ بہت صاف اور عمدہ لباس میںرہنے والی ہے۔آپؓ نے فرمایا: دیکھو تمہارا شوہر اتنا بڑا فوجی افسر ہے تم بھی اسی طرح بن سنور کر رہا کرو اور بہت دعائیں کیاکرو۔وہ خود ہی تمہاری طرف متوجہ ہوجائے گا۔ آپؓ نے اس کو بہت پیار سے اس طرح سمجھایا جس طرح ایک ماںسمجھاتی ہے اور اس کے خاوند کی کسی کمزوری کا ذکر نہ کیا۔

آپؓ کو کبھی کسی کی شکایت کرتے نہیں سنا، کبھی کسی کے معاملہ میں مداخلت نہیں کی، نہ ہی تجسّس کی کوئی عادت تھی۔

آپؓ نے اپنے بچوں کی اتنی اچھی تربیت کی کہ وہ ہمیں بھی اپنے بہن بھائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔ حضورؓ کی حرم مرحومہ سارہ بیگم صاحبہ کے تینوں بچے بھی آپؓ کے پاس رہتے تھے۔آپؓ اُن کا بھی اپنے بچوں کی طرح خیال فرماتیں۔ حضورؓ کے سب بچے اپنی سب مائوں سے بہت عزت و احترام اور دلی محبت سے پیش آتے۔ محترم مرزا حنیف احمد صاحب نے ایک انٹرویو میں بیان کیا کہ ہم مختلف ما ؤں سے جو بہن بھائی تھے، ہمارا آپس میں محبت، عزت اور پیار کا رشتہ تھا۔ ہمیں سگے سوتیلے کے فرق کا کو ئی علم نہ تھا۔ پھر اُمّی جان کی بہت تعریف کرتے ہو ئے کہا کہ انہوں نے ہمیں بہت پیار دیا تھا۔

آپؓ نے حضرت سیّدہ سارہ بیگم صاحبہؓ کی صاحبزادی امۃالنصیر صاحبہ کی شادی بڑی محبت سے کی۔ حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ نے ایک بہت ہی پیاری نظم اُن کی شادی پر کہی جس کو پڑھ کر دل درد سے بھر جاتا ہے ؎

یہ راحتِ جاں نورِ نظر تیرے حوالے

یا ربّ میرے گلشن کا شجر تیرے حوالے

ایک دن ایک صاحبزادی کی والدہ اُن کو اندر کمرے میں ڈانٹ رہی تھیں۔ اس کے بعد وہ اُمی جانؓ کے پاس آئیں تو آپؓ نے فرمایا: بیٹی پرکیوں ناراض ہو رہی تھی۔ اب وہ بڑی ہو گئی ہے پیار سے سمجھاؤ۔

آپؓ اپنے عزیزوں اور بہوؤں کے لیے دن رات دعائیں کرتیں۔ آپؓ کی زندگی میں چھ بہوئیں آچکی تھیں لیکن کبھی کسی پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا، نہ کسی کے گھر جاکر رہتیں، ملنے ضرور جاتیں۔ صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کی بیگم آپؓ کے گھر میں اوپر کی منزل میں رہتی تھیں۔ کھانے کے وقت آپؓ ان کو پیغام بھجواتیں اور وہ خوشی خوشی تیار ہوکر نیچے آجاتیں۔ سب اُن کے آنے پر کھانا شروع کرتے۔اُمی جانؓ ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہورہی ہوتیں۔

آپؓ بہت شائستہ گفتگو کرتیں۔اپنے رشتہ داروں میں کوئی اچھی بات لگتی تو اس کا ذکر باربارکرتیں۔ ایک دن ربوہ میں خاکسار حاضر ہوئی تو آپؓ نے فرمایا کہ ہم مری جارہے ہیں۔مَیں نے کہا کہ مجھے بھی شوق تھاکہ میں حضورؓ کے ہمراہ کوئی سفر کروں تو آپ مجھے ساتھ لے جائیں۔ آپؓ نے بہت خوشی کا اظہار فرمایا لیکن پھر کچھ پریشان ہوکر فرمایا کہ مَیں نے تو کسی اَور سے وعدہ کر لیا ہے لیکن مَیں کچھ دنوں تک بتاؤں گی کہ تمہیں لے کر جا سکتی ہوں کہ نہیں۔ پھر چند دن کے بعد آپؓ نے فرمایا: تم تیار ہوجاؤ۔ یہ آپؓ کا مجھ پر احسان تھا۔ اس سفر میں حضورؓ ربوہ سے جابہ تشریف لے گئے۔ پہاڑی راستہ تھا۔ سارا راستہ مجھے شدید متلی، چکر کی تکلیف رہی۔ جب جابہ پہنچ کر گھرمیں داخل ہوئی تو حضوؓر صحن میں بیٹھے تھے، مسکراتے ہوئے فرمایا:بچ کر آگئی ہو، اب کیا حال ہے؟ مَیں بہت حیران ہوئی اور یہ بھی اندازہ ہوا کہ حضورؓ سب کی خیریت کی خبررکھتے تھے کیونکہ مَیں دوسری گاڑی میں تھی۔ پھر وہاں سے کچھ دنوں کے بعدہم حضورؓ کے ساتھ مری چلے گئے۔

حضرت اُمی جانؓ کی صحت عرصہ سے خراب چلی آرہی تھی لیکن بیماری میں کبھی تکلیف یابےچینی کا اظہار نہ کرتیں۔ روزانہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ آپؓ کی صحت کا پتا لیتے۔ حضورؓکو آپؓ کی صحت کی بڑی فکر تھی چنانچہ اپنی موجودگی میں حضورؓ نے ایک انگریز ڈاکٹر کو بلوا کر آپؓ کا معائنہ کروایا۔ اس نے کچھ ادویات تجویز کیں۔دوسرے دن حضرت ڈاکٹر صاحبؓ آئے تو آپؓ سے شکوہ کیا کہ مَیں جو آپؓ کا علاج کررہا ہوں کسی اَورکو دکھانے کی کیا ضرورت تھی۔ آپؓ پردے کے پیچھے خاموشی سے سنتی رہیں ۔ پھر شام کو کبابوں کی ایک پلیٹ مجھے دیتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب کو دے آؤں۔

ڈاکٹر صاحبؓ کو میاں رفیق احمد صاحب نے ربوہ سے خط میں لکھا کہ ’’میری اُمی کا آپ خاص دھیان رکھیں۔‘‘ حضرت ڈاکٹر صاحب نے اُمی جانؓ کے سامنے میاں صاحب کی بڑی تعریف کی کہ بڑا سعادت مند بچہ ہے، آپ کی بہت فکر کرتا ہے۔ آپؓ یہ سن کربہت خوش ہوئیں۔

مری میں ٹھنڈ کی وجہ سے آپؓ کے گھٹنے کی درد میں اضافہ ہو گیا۔ روز رات کو مَیں اس پر دوائی لگاتی۔آپؓ بار بار کہتیں: ہاتھ اچھی طرح دھو لو، یہ دوائی زہریلی ہے۔

صبح مَیں سہارا دیتی تو پھر کمرہ میں ٹہلتی رہتیں اور باتیں کرتیں۔ ایک دن میں آپؓ کو سہارا دے کر باہر لےگئی لیکن سردی کی وجہ سے آپؓ دوبارہ باہر نہیں جاسکیں۔ مَیں بھی کمرے میں آپؓ کے ساتھ ہوتی تھی۔کبھی آپؓ خود مختلف واقعات سناتیں،کبھی مجھے فرماتیں کوئی بات کرو۔ باتیں کرتے ہوئے مَیں آپؓ کی ٹانگیں دباتی جاتی۔ایک دن آپؓ نے فرمایا: جن کی مائیں میرے ساتھ محبت کرتی ہیں ان کی اولادیں بھی میرے ساتھ بہت محبت کا تعلق رکھتی ہیں۔جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں مَیں ان کے لیے دعا کرتی ہوں کہ اے خدا! جو میرے ساتھ محبت کرتے ہیں تُو بھی ان کے ساتھ محبت کر۔

آپؓ نمازبڑے خشوع وخضو ع سے ادا کرتی تھیں۔ گھر میں ایک سٹور تھا جو سامان سے بھرا ہوتا صرف تھوڑی سی جگہ خالی ہوتی۔ایک دن مَیں آپؓ کو ڈھونڈتی ہوئی وہاں چلی گئی۔ آپؓ سخت گرمی میںانتہائی انہماک سے نماز ادا کررہی تھیں، بعد میں بتایا کہ مَیں علیحدگی میں دعا کرنا چاہتی تھی۔

ایک بار آپؓ کے ساتھ مَیں ایبٹ آباد گئی تو شدّت سے محسوس کیا کہ ان پاک وجودوں کی صحبت کی برکت سے تمام سفر میں نہ صرف آپؓ کی دعاؤں کو حاصل کیا بلکہ خود مجھے بھی غیرمعمولی دعائیں کرنے کے مواقع میسر آئے۔

۱۹۵۳ء میں میری شادی ہو گئی اور کچھ عر صہ بعد مَیں سیرالیون چلی گئی کیو نکہ میرے میاں وہا ں مبلغ تھے۔ روانگی سے پہلے آپؓ کو ملنے گئی تو آپؓ نے حضورؓ کا کُرتہ بطور تبرک دیا اور اپنا ایک گوٹا لگا چُنا ہوا خوبصورت دوپٹہ بھی دیا۔ دیر تک نصائح فرماتی رہیں کہ وہاں جاکر سست نہ ہوجانا۔جماعت کا کام خوب محنت سے کرنا۔ پھر گلے لگا کرپیار سے رخصت کیا۔مَیں نے باہر کے دروازے کے پاس جاکر پیچھے مڑ کر دیکھا تو آپؓ کھڑکی سے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ اب بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو دل بھر آتا ہے اور بہت اداسی ہوتی ہے۔ یہ میری آپؓ کے ساتھ آخری ملاقات تھی۔

سیرالیون سے مَیں آپؓ کو خط لکھتی تو بہت پیار بھرے جواب دیتیں اور بہت عمدہ نصائح لکھتیں۔ ایک خط کے جواب میں لکھا کہ ’’تم دل لگا کر دین کی خدمت کرو،وہاں لجنہ اِماءاللہ قائم کرو اور ان کو اسلام و احمدیت کی تعلیم دو۔جب انسان کسی کام میں لگ جائے تو اُداس بھی نہیں ہوتا۔ آہستہ آہستہ ہر چیز موافق آجاتی ہے۔نئی چیز سے انسان گھبرا جاتا ہے جب ماحول بدل جائے تو برداشت کرنا ہی ہوتا ہے،گھبرائو نہیں اور دعائوں سے کام لو۔اِن شاءاللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ بچوں کا بھی خیال رکھو اور ان کو بھی اداس نہ ہونے دو۔ جب وہ ہر وقت اسلام کی باتیں سُنیں گے تو ان کابھی دل لگ جائے گا۔‘‘ یہ الفاظ آپؓ کے دل میں احمدی مستورات کی تربیت اور اسلام کے لیے موجود جذبات کا اظہار ہیں۔

آپؓ نے اپنے ایک عزیز کی درخواست پر ایک پیغام بھی ریکارڈ کروایا تھا جو کچھ یوں تھا: ’’خداتعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اَلَیْسَ اللّٰہ بِکَافٍِ عَبْدَہٗ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے کافی نہیں۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان مشکلات و مصائب اور تکالیف میں گھبرا کر کسی سہارے کی تلاش میں سرگرداںہوجاتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم کیوں انسانی سہاروں کو اطمینان نفس اور سکون قلب کے لیے ڈھونڈتے ہو جبکہ مَیں موجود ہوں میں تمہاری ہر قسم کی مدد کرسکتا ہوں اور مَیں تمہاری مشکلات کو دُور کر سکتا ہوں۔سیدنا حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کُشا کے سامنے

پس انسان گناہوں کا پتلا ہے اس کے مقابلہ میں خدا بڑا ہی غفار اور ستار ہے اُسے چاہیے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں اور گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کی چوکھٹ پر جھکے اور اس کی مدد چاہے۔ خدا اس کا سہارا ہو جائے گا اور اس کی نائو طوفانی تھپیڑوں سے بچتی ہوئی ساحلِ مراد پر جا لگے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کے ساتھ ہو۔آمین‘‘

حضرت سیدہ اُمّ ناصرؓ ۳۱؍جولائی ۱۹۵۸ءکو وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئیں۔ آپؓ کو اللہ تعالیٰ نے نو بیٹے اور تین بیٹیاں عطا فرمائیں جن میں سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی کم سنی میں وفات پاگئے۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button