متفرق مضامین

جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ

(الف۔فضل)

جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ (JWST) ایک خلائی دوربین ہے جو جیمز ای ویب نامی سائنسدان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے نام پر رکھا گیا ۔

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ (بشکریہ ناسا)


جیمز ویب ٹیلیسکوپ کو خاص طور پر اس لیے بنایا گیا ہے کہ وہ انفرا ریڈ شعاعوں کے ذریعے کائنات کامشاہدہ کرسکے۔اس طرح یہ کائنات کے کئی ایسےرازوں کو دیکھ سکے گی جو اب تک ہماری نظروں سے اوجھل تھے۔

سائنسدانوں کے مطابق ہماری اس کائنات کے آغاز میں (یعنی ابتدائی چند کروڑ سال میں ) جو کہکشائیں وجود میں آئی ہیں ان پر اتنا عرصہ گزرنے کی وجہ سے یہ روشنی بہت مدھم ہو چکی ہے۔ جیمز ویب کو خصوصی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ اس مدھم اور تھکی ہوئی روشنی کو محسوس کر سکتی ہے۔

جیمز ویب کی تیاری ابتدائی طور پر ناسا کا منصوبہ تھا، لیکن اس پر آنے والی دس ارب ڈالر کی کثیر لاگت کی وجہ سے ناسا نے اس کی تیاری میں یورپی سپیس ایجنسی (ESA) اور کینیڈین سپیس ایجنسی (CSA) کو بھی ساتھ شامل کر لیا۔

جیمز ویب ٹیلیسکوپ کا بنیادی آئینہ اٹھارہ حصوں پر مشتمل ہے جو باہم مل کر ۶.۵؍ میٹر قطر رقبے کا بڑا آئینہ بناتے ہیں۔ اس طرح جے ڈبلیو ایس ٹی کو تقریباً ۲۵ مربع میٹر کا روشنی جمع کرنے والا رقبہ حاصل ہوتا ہے، جو ہبل دوربین سے تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔ یہ زمین سے تقریباً ۱.۵؍ ملین کلومیٹر کے فاصلے پر رہتے ہوئے اپنا مدار بناتی ہے جسے ’’ایل ۲‘‘ (L2) کا نام دیا گیا ہے۔

جیمز ویب ٹیلیسکوپ کے بارے میں آپ سب سے پہلے جو چیز نوٹ کریں گے وہ یہ ہے کہ یہ ایک انفراریڈ ٹیلیسکوپ ہے۔ یہ آسمان کو روشنی کی اُن ویو لینتھس (طول الموج) میں بھی دیکھ سکتی ہے جو ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ ماہرینِ فلکیات اس کے مختلف کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے کائنات کے مختلف حصوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس خلائی دوربین کو اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنسی منصوبہ قرار دیا گیاکو دسمبر ۲۰۲۱ء میں خلا میں بھیجا گیا اور اس وقت یہ زمین سے سولہ لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔جیمز ویب نے اپنی پہلی مکمل رنگین تصویر ۱۲؍جولائی۲۰۲۲ءکو جاری کی تھی۔

اس کے دو اہم مقاصد ہیں۔ ان میں سے پہلا دُور افتادہ سیاروں کا جائزہ لے کر یہ طے کرنا ہے کہ آیا وہ انسانی رہائش کے قابل ہیں یا نہیں اور دوسرا کائنات میں سب سے پہلے چمکنے والے ستاروں کی تصاویر حاصل کرنا ہے جو تیرہ ارب سال قبل رونما ہونے والا واقعہ ہے۔

ویب ٹیلیسکوپ کہکشاؤں کی وہ مسخ شدہ شکل (سرخ قوس) تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جو بگ بینگ کے ۶۰۰؍ ملین سال بعد موجود تھی۔ (کائنات کی عمر تقریباً تیرہ اعشاریہ آٹھ ارب سال بتائی جاتی ہے)لیکن اس فلکیاتی دوربین کی نظر اس سے بھی کہیں دور تک پہنچ رہی ہےاوریہ ٹیلیسکوپ سب سے دور نظر آنے والی شے سے بھی کہیں آگے تک خلا میں جھانک سکتی ہے۔

ابتدائی ایک تصویر میں کائنات کا سب سے گہرا ترین مشاہدہ ہے۔ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کے مطابق روشنی ۱۸۶۰۰۰؍ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ جو روشنی ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ تیرہ ارب سال کی مسافت طے کر کے پہنچی ہے۔

واضح رہے کہ ہبل ٹیلیسکوپ سے ہفتوں تک خلا کا مشاہدہ کیا جاتا تھا تب کہیں جا کر ایسا نتیجہ نکلتا تھا۔ ویب ٹیلیسکوپ نے ان خلائی اشیاء کو صرف بارہ گھنٹے کے مشاہدے کے بعد ڈھونڈ نکالا۔

ویب نےحال ہی میں ویسپ ۹۶ نامی ایک دیو قامت سیارے کے ماحول کا جائزہ لیا ہے جو زمین سے ایک ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک دن یہ ٹیلیسکوپ کسی ایسے سیارے کا کھوج نکال لے جس کی ہوا میں ایسی گیسز موجود ہوں جو زمین کو گھیرے میں لیے گیسز سے ملتی جلتی ہوں۔ دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور خلائی دوربین سے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی انتہائی شاندار اور حیران کن تصاویر بھی لی گئی ہیں۔

ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین سے لی گئی تصاویر میں قطبی روشنیاں، دیوہیکل طوفان، مشتری کے گرد چاند اور حلقے دیکھے جا سکتے ہیں۔جیمز ویب دوربین کے ذریعے اب تک کھینچی گئی تصاویر کو ماہرین فلکیات نے ’ناقابل یقین‘ قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button