ایشیا (رپورٹس)

قادیان دارالامان میں مجلس انصار اللہ بھارت کے ۴۳ ویں سالانہ اجتماع کاکامیاب انعقاد

٭…سالانہ اجتماع کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خصوصی پیغام
٭… علمی و ورزشی مقابلہ جات کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر تربیتی سیشنز کا اہتمام

مجلس انصاراللہ بھارت کا ۴۳واں سالانہ اجتماع مورخہ ۲۷تا۲۹؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء مرکز احمدیت قادیان میں بمقام بستان احمد بخیروخوبی منعقد ہوا۔

مورخہ۲۷؍اکتوبر کواجتماع کا آغاز باجماعت نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد اجتماع کے پیش نظر خصوصی درس کا اہتمام تھا۔ بعدہٗ مزار مبارک سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اجتماعی دعا ہوئی۔ اس کے بعد ایوان انصار دفتر مجلس انصاراللہ بھارت کی چھت پر لوائے مجلس انصاراللہ لہرایا گیا۔ بستان احمدمیں افتتاحی اجلاس سے قبل مکرم صدرصاحب مجلس انصاراللہ بھارت نے لوائے انصاراللہ لہرایا۔

افتتاحی تقریب زیر صدارت مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ بھارت منعقد ہوئی۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم مع ترجمہ وعہد سے کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس میں صدر صاحب نے سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا درج ذیل بصیرت افروز پیغام پڑھ کر سنایا۔

پیغام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ

پیارے ممبران مجلس انصاراللہ بھارت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ اسے ہرلحاظ سے بابرکت فرمائے اور اس کے نیک نتائج پیدا فرمائے۔آمین

مجھ سے اس موقع پر پیغام بھجوانے کی درخواست کی گئی ہے۔ میں اس موقع پر آپ کو چند ضروری نصائح کرنا چاہتاہوں۔

آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے آپ کو مسیح اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دی۔ اس لئے آپ کا فرض بنتا ہے کہ اس احسان کا جتنا بھی شکر ادا کر سکیں کریں۔ اور شکر ادا کرنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ اپنے اندر احمدیت قبول کرنے کے بعد نمایاں تبدیلیاں پیدا کریں۔ اپنے عمل، کردار، بات چیت اور چال ڈھال سے یہ ثابت کریں اور دنیا کو بتائیں کہ ہم ہی ہیں جو اسلام کا صحیح اور حقیقی نمونہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ایسا زندہ تعلق پیدا کریں کہ نظر آئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم سے کس قسم کی پاک تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں :’’ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔ کوٹھڑی کے دروازے بند کرکے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیاجائے۔‘‘(ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۷۲)

پھر آپؑ فرماتے ہیں :’’ضروری ہے کہ بیعت کے حقیقی منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کرو۔ یعنی تقویٰ اختیار کرو۔ قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو اور اس پر تدبر کرو اور پھر(اس پر) عمل کرو۔‘‘(ملفوظات جلد نمبر ۳ صفحہ۲۱۵)

تو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ عبادات بجا لاؤ، نمازیں پڑھو، دعائیں کرو، اللہ سے اس کا فضل مانگو پھر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کو سمجھو اور یہ تعلیم ہمیں قرآن کریم سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس لئے قرآن کریم کو بھی غور سے پڑھو، اس پر تدبر کرو، سوچو اور اس میں دیے گئے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔

قرآن شریف اور احادیث میں نمازکی باربارتاکید کی گئی ہے۔اورنماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ باجماعت نماز کی ادائیگی کرو۔ پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ اپنی مساجد کو آباد کریں اور پانچ وقت نماز کے لئے مسجدوں میں آئیں۔ اور صرف خود ہی نیک اور عبادت گزار نہیں بننا بلکہ اپنی اولادوں میں بھی یہ نیکی پیدا کرنی ہے۔ صحیح عبادت کرنے والا وہی ہے جو اپنی اولاد میں بھی یہی نیکی قائم رکھتا ہے۔

ایک روایت ہے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے۔ مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کر جائے، یا ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں۔ تیسرے نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا رہے۔ (صحیح مسلم کتاب الوصیۃ)

پس ہر احمدی کو اپنی اولاد کی تربیت کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔

ایک اور اہم نصیحت خلافت سے وابستگی ہے۔آپ خودبھی اور اپنے اہل وعیال کو بھی ہمیشہ نظامِ خلافت کے ساتھ چمٹائے رکھیں۔یادرکھیں کہ نظام خلافت کا دینی ترقی کے ساتھ ایک اہم تعلق ہے اور شریعت اسلامیہ کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ دینی ترقی بغیر خلافت کے ہو ہی نہیں سکتی۔ جماعت کی وحدت خلافت کے بغیر قائم رہ ہی نہیں سکتی۔ پس خلافت احمدیہ سے اپنے تعلق کو جوڑیں اور اس حق کی ادائیگی کی طرف توجہ بھی دیں جس کا خدا تعالیٰ نے خلافت کا انعام حاصل کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کومیری ان نصائح پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین

٭…٭…٭

اپنی افتتاحی تقریر میں صدرصاحب نے حضور انور کے روح پرور پیغام کی روشنی میں تعلق باللہ کی اہمیت و برکات اور انصاراللہ کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے اپنی معروضات پیش کیں۔

دوران اجتماع ایک خصوصی تربیتی سیشن بھی منعقد ہوا جس میں علمائے سلسلہ نے ’’انصاراللہ خلافت کے سلطان نصیر‘‘، ’’حسن خلق نصف الایمان‘‘ اور ’’صحت مند زندگی ازروئے قرآن مجید و میڈیکل سائنس‘‘ کے موضوعات پر تقاریر پیش کیں جن سے انصار بزرگان خوب مستفیدہوئے۔

دوران اجتماع مختلف علمی وورزشی مقابلہ جات منعقد ہوئے جن میںہندوستان کے مختلف صوبہ جات سے تشریف لانے والے انصار نمائندگان نے ذوق و شوق سے حصہ لیااوران مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے انصارمیں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔

دوران اجتماع سیدنا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب (برموقع اختتامی اجلاس جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۲ء) انصار اراکین کو سنایا گیا جسے تمام انصار نے نہایت انہماک سے سنا۔

اجتماع کا اختتامی اجلاس زیر صدارت مکرم ناظر صاحب اعلیٰ و امیر جماعت احمدیہ قادیان منعقد ہوا۔ اس کے بعد مکرم ناظر صاحب اعلیٰ نے مجلس انصاراللہ بھارت کی طرف سے بزبان ہندی شائع شدہ حضرت مصلح موعودؓ کی ایک تقریر بعنوان ’’فضائل القرآن‘‘ کی رونمائی فرمائی۔ بعدہٗ تقریب تقسیم انعامات عمل میں لائی گئی اور دعا کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے اجتماع کے متعدد سیشنز کی Live Streaming کی گئی جس سے ہندوستان کی بہت سی مجالس کے انصار نے استفادہ کیاجو قادیان آ کر اجتماع میں شمولیت اختیار نہیں کر سکےتھے۔

اللہ تعالیٰ اس اجتماع کے نیک و دوررَس نتائج ظاہر فرمائے۔ آمین

(رپورٹ: انچارج شعبہ پریس اینڈ میڈیا بھارت)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button