آج کا سبق

ارضِ مقدسہ فلسطین

سر عثمان: السلام علیکم!آپ سب جانتے ہیں کہ آج کل فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی کیفیت ہےاور سب سے زیادہ فلسطین کے علاقےغزہ میں شدیدترین حملے ہو رہے ہیں۔ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ گذشتہ خطبوں میں فلسطین کے لیے دعا کی بار بار تحریک کر رہے ہیں۔ کل آپ کو فلسطین کے مقامات کے بارہ میں اسائنمنٹ دی تھی۔ امتثال سے شروع کرتے ہیں۔ پھر ایک ایک مقام کا تعار ف کرواتے رہیں۔

امتثال: غزہ فلسطین کا وہ علاقہ ہے جو بحر روم کے کنارے اسرائیل سے ملحق ہے ۔اس کی سرحد مصر سے بھی ملتی ہے۔ اس علاقہ کو اسرائیل نے گھیرے میں لے رکھا ہے اور اس کی تجارت اور خارجی معاملات بھی آزاد نہیں۔ اسرائیل نے 38سال اس علاقے پر قبضے کے بعد 2005ءمیں اسےچھوڑا۔

بلال :فلسطین کو نبیوں کی سر زمین کہا جاتاہے اور یہاں پر قبلہ اول بیت المقدس قائم ہے۔ اس کا دارالحکومت یروشلم دنیا کا وہ واحد شہر ہے جسے یہودی، مسیحی اور مسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔

سارہ : حضرت عمر فاروقؓ کے دَور خلافت 16ھ بمطابق 637ء میں بیت المقدس کو فتح کیاگیا۔ 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑایا۔

طاہر: یروشلم شہر میں مسجدِ اقصیٰ اور قبۃ الصخرۃ واقع ہیں۔ بیتِ لحم اور الخلیل اس کے جنوب میں اور رام اللہ شمال میں واقع ہے۔ یروشلم کوالقدس بھی کہتے ہیں۔

عائشہ: القدس پہاڑیوں پر آباد ہے اور انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہِ موریا ہے جس پر مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرۃ واقع ہیں۔ قدیم شہر چار کوارٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مسلم کوارٹرز، آرمینین کوارٹرز، مسیحی کوارٹرز اور یہودی کوارٹرز۔

شاہد: واقعہ معراج کے کشف میں ذکر ہے کہ یہاں رسول اللہﷺ نے نبیوں کی امامت فرمائی۔یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300کلومیٹر ہے۔ قبۃ الصخرہ کے سامنے ٹیمپل ماؤنٹ کے جنوب میں ایک نقرئی (سلور) گنبد والی عمارت ہے جو بنیادی طور پر مسجد اقصیٰ ہے۔ اسے قبلی مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ البتہ مسلمان اس پورے احاطے کو ہی الاقصیٰ کہتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔

آمنہ :قبۃ الصخرہ یا گنبدِ صخرہ جسے مسلمان الحرم الشریف اور یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔ قبۃ الصخرۃیا Dome of the Rock اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے ساتویں صدی عیسوی میں تعمیر کرایا تھا۔ بہت سے لوگ اس گنبد کی وجہ سے اسے مسجدِ اقصیٰ سمجھتے ہیں لیکن یہ گنبد مسجد نہیں بلکہ اس علاقے میں تعمیر کی گئی مسلمانوں کی پہلی نمایاں یادگار ہے جسے آج یروشلم کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔بیسویں صدی میں اردن کے ہاشمی شاہی خاندان نے اس کی تزئین و آرائش کی اور لکڑی کے گنبدپر سونے کا پانی چڑھایا۔

نایاب: مسجد اقصیٰ والی پہاڑی کے نشیبی حصہ میں مسلمانوں کا مقبرہ باب الرحمۃ پایا جاتا ہے، یہ کافی قدیم مقبرہ ہے جس میں دو صحابہ کرام حضرت شداد بن اوسؓ اور حضرت عبادہ بن صامتؓ مدفون ہیں۔

عمار:مسجداقصیٰ کے مغربی احاطہ میں دیوارِ گریہ ہے جہاں یہودی عبادت کرتے ہیں اور زائرین بھی یہاں آتے ہیں۔ یہی وہ دیوار ہے جسے عربی میں حائط البراق یا دیوارِ براق کہا جاتا ہے۔ اسے Western Wallبھی کہا جاتا ہے۔

اویس: مسجد عمرؓ یروشلم میں کلیسائے مقبرہ مقدس کے جنوبی صحن کے سامنے واقع ہے۔ فتح یروشلم کے وقت حضرت عمرؓ نے کلیسا کے باہر نماز ادا کی مبادا مسلمان کلیسا کو مسجدنہ بنا لیں۔

شایان: عبرانی میں بیت لحم (Bethlehem)کا مطلب ہے روٹی کا گھر ۔ فلسطین کی یہ بستی حضرت مسیحؑ کی جائے پیدائش کے طورپرسمجھی جاتی ہے۔ اس جگہ حضرت مسیح ؑکی روایتی جائے پیدائش کے اوپر ایک گرجا بنا ہوا ہے۔ اس کو کنیسۃ المہد یا Church of Nativityکہا جاتا ہے۔

خاقان: ناصرہ یا ناصرت شمالی اسرائیل کا ایک بڑا شہر ہے۔ آبادی کی اکثریت زیادہ تر مسلمان یا مسیحی ہیں۔ بائبل کے نئے عہد نامہ یعنی عہد نامہ جدید میں ناصرہ کا ذکر حضرت عیسیٰؑ کے بچپن کے شہر کے طور پر ہے۔اسی وجہ سے سیدنا مسیح ؑکو مسیح ناصری یا مسیح ناصرت والا کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

سر عثمان: الحمدللہ سب نے اچھی تیاری کی ہوئی تھی۔ آپ سب بھی اس حوالہ سے دعائیں جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ جلدیہ جنگ کی صورتحال ختم کردے۔ آمین

(الف۔فضل)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button