متفرق مضامین

سَبْک شعر فارسی

(’ابن الفارس‘)

حضرت اقدس مسیح موعود علیه الصلوٰة والسلام نے دعویٰ سے قبل بھی اور بعد میں بھی فارسی زبان میں کلام کہا هے جن میں سے تقریباً آٹھ هزار فارسی اشعار هیں۔ آپؑ کے اشعار کہنے کا مقصد صرف اور صرف ؏

اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یهی هے

تھا۔ آپؑ کا کلام فارسی زبان کے بڑے شعراءکے کلام سے کیا مضمون بندی اور کیا خیال پردازی کسی لحاظ سے بھی کم نہیں ہے۔ آپ کا کلام زیاده تر سَبْک هندی میں هے۔اس مضمون میں قارئین الفضل کو فارسی اسلوب شاعری یعنی سَبْک کا مختصر تعارف کروایا جائے گا تاکه وه حضرت مسیح موعود علیه السلام کے فارسی کلام کو زیاده بهتر طریق سے سمجھ سکیں۔

جب بھی فارسی ادب کا نام لیا جائے گاتو فارسی شعراءکا نام سر فهرست ہو گا۔اسی وجہ سے خاکسار فارسی ادب میں فارسی شاعری کے سَبْک کا مختصر تعارف پیش کر رها هے۔

سَبْک کا تعارف کروانے سے پهلے خاکسار شعر کا تعارف پیش کرتا هے۔

شعر

مقررہ وزن اور بحر میں لکھی ہوئی تحریر شعر کہلاتی ہے۔

شعر کی جمع کو اشعار کہتے ہیں۔ شعر کی سطر مصرعہ کہلاتی ہے، ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ پہلے مصرعے کو مصرعہ اولیٰ اور دوسرے کو مصرعہ ثانیہ کہتے ہیں۔

ایرانی ادب میں فارسی شاعری کی بهت اهمیت هے اور شاعری،نثر کے ہم پلہ ہی سمجھی جاتی ہے بلکہ بعض مشہور شخصیات جیسا کہ سعدی اور مولانا روم نے اپنے مضامین نثر کی نسبت شعر میں زیادہ بیان کیے ہیں۔

سَبْک کیا هے؟

سَبْک اس مخصوص اسلوب نگاری کو کہتے ہیں جس کی پیروی شعراء جماعتی حیثیت میں کرتے ہیں۔ کسی بھی اسلوب نگاری کی پیروی کے لیے ضروری ہے کہ اسلوب میں بیان کرده تمام مضامین کی بندش ایک سی ہو، ایک جیسی تشبیہوں اور استعاروں سے کلام مزیّن ہو، ایک سے انواعِ شعر پر طبع آزمائی کی جائے اور اندازِ فکر بھی ایک جیسا ہو۔

ایران میں سب سے پہلے ملک الشعراء بہار تھے جنہوں نے فارسی شاعری کے مختلف ادوار کو سَبْک میں تقسیم کیا اور ان کی نشاندہی کی۔ ان سے قبل کے شعراء اس کو طریق طراز یا شیوہ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اب خاکسار ان تمام اسالیب شعری کا مختصر تعارف قارئین کے لیے پیش کرتا هے۔

سَبْک خراسانی

سَبْک خراسانی،فارسی شاعری کا ایک خاص اسلوب اور طرزِ بیان ہے،جسے خراسان اور ماوراءالنهر کے شعراء نے اختیار کیا۔اور یہ اوائل قرن چہارم سے لےکر ششم صدی هجری تک جاری رہا۔

اس کو ادوار کے لحاظ سے دو ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ایک دور سامانیا جبکہ سامانی سلطنت تھی اور ایک دور غزنویا جس دور میں غزنوی حاکم تھے۔

سَبْک خراسانی جو سَبْک ترکستانی کے نام سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ اس کی اہم خصوصیات یہ ہیں:

اس سَبْک میں لفظی و صوری خصوصیات کو مد نظر رکھاجاتا ہے۔ اس میں شعراء نے پُر حکمت باتوں کو شاعرانہ لیکن سادہ انداز میں بیان کیا ہے جو عام فهم هے، عالمانہ انداز نهیں اپنایا۔

عربی الفاظ اس سَبْک میں کم ملتے ہیں اور اگر ہیں بھی تو ایسے ہیں جن کا سمجھنا فارسی دانوں کے لیے چنداںمشکل نہیں۔

اس سَبْک میں فارسی الفاظ اپنے پرانے تلفّظ کے ساتھ ملتے ہیں جیسا کہ نیلوفر کو نیلوفل لکھا گیا ہے اور اسی طرح بعض پرانی تشبیہات جو کہ اس سَبْک کے علاوہ شاعری میں استعمال نہیں کی گئیں صرف اسی سَبْک کا خاصه هیں جیسا کہ سیہ زاغپران کا استعارہ رات کے لیے فردوسی نے اپنے اس شعر میں استعمال کیا ہے

چو خورشید تابان برآورد پر

سیه زاغ پران فرو برد سر

که جب سورج نے اپنے پر پھیلائے تو رات نے اپنا دامن سمیٹ لیا۔

اس سَبْک میں شاعروں نے فلسفه کے مباحث، ریاضیات، علم نجوم کو بھی موضوع بنایا هے اس کے علاوه اس سَبْک میں آیات قرآنی اور احادیث کا استعمال بھی اشعار میں کیا جاتا رها هے۔اس سَبْک کے اشعار اپنی نوع کے لحاظ سے زیاده تر قصائد هیں اور نهایت ساده اور رواں هیں، اور ان میں مشکل ترکیبات کا استعمال نهیں هے البته اس سَبْک میں شاعروں نے تشبیهات اور تعبیرات کا استعمال بهت کیا هے اور یه اس سَبْک کی خاص خصو صیات میں سے ایک هے۔

سَبْک خراسانی کے پیرو طویل قصیدے لکھتے ہیں۔ ان کے خیالات میں منطقی استد لال پایا جاتا ہے۔ اورقصائد کے الفاظ پر شکوہ ہوتے ہیں۔

اس دور کی تشبیہات حسیّ اور قدرتی ہیں اور ان میں پیچیدگی نہیں ہے۔

سَبْک خراسانی کی پیروی کرنے والوں کے محبوب موضوعات مناظر قدرت اور مظاہر فطرت ہیں۔ مضامین کے لحاظ سے اس سَبْک میں مدح،قصیدہ، ذکر فتوحات اور پند و نصائح ملتے ہیں۔

اس سَبْک کے نمائنده اور مشہور شعراء میں رودکی،شہید ببلخی، ابوشکور بلخی،منجیک ترمذی،کسایی مروزی، دقیقی طوسی، فردوسی،عنصری بلخی،فرخی،مسعود سعد سلمان،امیر معزی، ابوالفرج رونی، ناصر خسرو،سنائی غزنوی شامل هیں۔

روی به محراب نهادن چه سود

دل به بخارا و بتان طراز

(رودکی)

ترجمه:اگر دل بخارا اور تراز کی حسیناؤں کی طرف مائل هو تو دکھاوے کی خاطر کعبه کی طرف منه کرنے کا کوئی فائده نهیں۔

بسی رنج بردم درین سال سی

عجم زنده کردم بدین پارسی

(فردوسی)

ترجمه:میں نے ان تیس سالوں میں بهت مشقّت کی اور اپنی اس محنت سے میں نے فارسی کو زنده کردیا۔

نکوهش مکن چرخ نیلوفری‌را

برون کن ز سر باد و خیره‌سری را

به چهره شدن چون پری کی توانی

به افعال ماننده شو مر پری را

(ناصر خسرو)

ترجمه: آسمان کو کوسنے کی بجائے اپنے سر سے غرور اور تکبر کے خناس کو نکالو، صرف چهره سے خوبصورت دکھنا کوئی کمال نهیں اپنے افعال کو خوبصورت بنالو۔

سَبْک عراقی

سَبْکِ عراقی بھی فارسی اشعار کہنے کا ایک خاص اسلوب ہے۔ سَبْک عراقی کا آغاز چھٹی صدی ہجری کے اواخر سے ہوا اور نویں صدی ہجری تک یہ اسلوب رائج رہا۔ اس سَبْک (اسلوب) کا نام، عجمی عراق ’’ عراق عجم اسلامی سلطنت کے ایک صوبه کا نام تھا‘‘ کی وجہ سے سَبْک عراقی پڑا۔ لیکن یہ سَبْک صرف عجمی عراق تک محدود نہ رہا بلکہ اس کے نواح میں بھی اس کا اثر پڑا۔ ابوالفرج رونی، سید حسن غزنوی و جمال الدین اصفهانی اس سَبْک کے بنیاد گر تھے۔ اور کمال الدین اصفهانی، سعدی، عراقی و حافظ سَبْک عراقی کے نمائندہ شاعر ہیں۔

منگولوں کے بغداد کو تباہ کرنے کے بعد شعراء نے آذربائیجان اور عراق عجم یعنی مغربی ایران کی طرف ہجرت کرلی اور یہ علاقہ علم و ادب کا مرکز بن گیا۔

سَبْک عراقی اور سَبْک خراسانی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اس سَبْک میں عربی الفاظ کا استعمال بہت زیادہ ہے۔

اس سَبْک میں فارسی کے پرانے الفاظ کو جن کا تلفظ مشکل تھا سادہ کردیا گیا ہے۔

اس سَبْک میں سادگی، سلاست، آہنگ اور استحکام اہم جزو ہیں۔ عرفانی، متصوفّانہ اور اخلاقی مضامین کی کثرت ہے۔

اس سَبْک میں فکری و فلسفیانہ مضامین زیادہ ہیں۔ اور غزل اس سَبْک کا اہم حوالہ ہے۔

اس سَبْک میں قصائد کی بجائے غزل اور مثنوی زیادہ کہی گئی ہیں۔

حافظ اور سعدی کو غزل کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے فارسی شاعری میں غزل کا رواج اسی سَبْک نے زیادہ کیا ہے۔

یہ چھٹی صدی ہجری سے لے کر نویں صدی کے آخر تک رائج رہا لیکن اس کے بعد بھی شعراء نے اس سَبْک میں اشعار کہے ہیں جیسا کہ محتشم کاشانی نے جو دسویں صدی کا شاعر ہے اس نے بھی اس سَبْک کو اختیار کیا۔

به عمر خویش مدح کس نگفتم

دری از بهر دنیا من نسفتم

(عطار)

ترجمه:میں نے تمام عمر کسی کی خوشامد نهیں کی اور اپنے لیے اس دنیا سے کوئی موتی نهیں اکٹھا کیا۔

درخت دوستی بنشان که کام دل به بار آرد

نهال دشمنی بر کن که رنج بی‌شمار آرد

(حافظ)

ترجمه: اپنے دل میں محبت کا پودا لگائو که دل کے مقصد کو پورا کرتا هے اور نفرت کے بیج کو نکال کر باهر پھینک کیونکه وه بهت سارے دکھوں کی وجه هے۔

سَبْک ہندی

سَبْک ہندی بھی فارسی شعر کہنے کا ایک خاص اسلوب ہے،جس کا آغاز نویں صدی ہجری میں ہوا۔ شعراء اور ادباء نے ایرانی صفوی بادشاہوں کی ادب سے عدم توجہی کی وجه سے ہندوستان کی طرف توجہ کی کیونکہ یہاں کے بادشاہ ادب دوست تھے اس لیے اس سَبْک کو سَبْک ہندی کہا جاتا ہے بعض محققین اسے ’’سَبْک اصفہانی‘‘ بھی کهتے ہیں۔

ہندوستان کی زبان اور یہاں کے کلچر اور دیگر عوامل اس سَبْک کی ایجاد کا باعث بنے۔

بابا فغانی کو اس کا بنیاد گر شاعر کہا جاتا ہے اور اس کو سَبْک ہندی کا حافظ بھی کہتے ہیں۔

سَبْک هندی کی خصوصیات میں،خیال پردازی کی کثرت، صورت گری کی بجائے معنی گری،فراوانی تمثیل،حسن تعلیل، پیچیده ترکیبات و معانی، روزمره محاورہ کا استعمال اوراحساس و محسوسات کی گہرائی شامل هے۔

آدمی پیر چو شد حرص جوان می‌گردد

خواب در وقت سحرگاه گران می‌گردد

ترجمه: جب انسان بوڑھا هوتا هے تو اس کی زنده رهنے کی حرص زیاده هوجاتی هے کیونکه صبح نماز کے وقت کی نیند سب سے زیاده گهری هوتی هے۔

عیب پاکان زود بر مردم هویدا می شود

درمیان شیر خالص موی رسوا می شود

پاک لوگوں کے عیب لوگوں کو زیاده بڑے نظر آتے هیں کیونکه خالص دودھ میں ایک بال بھی صاف نظر آجاتا هے

اظهار عشق را به زبان احتیاج نیست

چندان که شد نگه به نگه آشنا بس است

(صائب تبریزی)

عشق کے اظهار کے لیے زبان کی ضرورت نهیں هوتی کیونکه جیسے هی نظریں چار هوتی هیں تو معامله عیاں هوجاتا هے۔

از تپیدنم ز من کناره می کردی

بیا به خاک منم و آرامیدنم بنگر

(غالب)

سنے جاتے نه تھے تم سے مرے دن رات کے شکوےکفن سرکائومری بے زبانی دیکھتے جاؤ۔

فارسی بین تا ببینی نقش های رنگ رنگ

بگذر از مجموعه اردو که بی رنگ من است

(غالب)

اگر قسمہا قسم کے پُر از معانی مضمون دیکھنے هیں تو میرے فارسی کلام کو دیکھو اور میرے اردو کلام کو چھوڑ دو کیونکه وه تو بس خوامخواه هے۔

سَبْک بازگشت ادبی

بارھویں صدی کے بعد سے بعض شعراء نے ایرانی شاعری میں ایک تبدیلی کی اور دوباره قدیم زمانے کے شعراء کے سَبْک کی پیروی میں شعر کهنے شروع کردیےاس سَبْک یا تحریک کا بڑا شاعر طبیب اصفهانی کو کها جاتا هے اور اس کی وجه سے اس کو سَبْک اصفہانی بھی کهتے هیں۔اس دور کے اشعار ایک هی قسم کی بحر میں کهے گئے هیں اور لوگوں کی سمجھ کے نزدیک تر هیں ۔

غمش در نهان‌خانه دل نشیند

به نازی که لیلی به محمل نشیند

اس کا غم میرے دل کے پوشیده خانوں میں اس طرح جاگزیں هوگیا هے جیسے ناز و انداز سے لیلی کجاوه میں بیٹھتی تھی۔

خلد گر به پا خاری، آسان برآرم

چه سازم به خاری كه در دل نشيند؟

اگر پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو اس کو نکالنا آسان هوتا هے اب اس خلش کا کیا کروں جو میرے دل میں چبھ رهی هے۔

به‌نازم به بزم محبّت که آنجا

گدایی به شاه مقابل نشیند

مجھے بزم محبت پر اس لیے فخر هے کیونکه یه وه واحد مجلس هے جهاں بادشاه اور گدا ایک برابر بیٹھتے هیں۔

(طبیب اصفهانی)

سَبْک معاصر (نیمایی – نو)

چودھویں صدی کے بعد جب ایرانی شعراء اور ادیب،یورپی اور دیگر دنیا کے ادب سے روشناس هوئے اور ایران میں جو انقلاب آیا اس نے بھی شعر پر اثر ڈالا اور اس میں نت نئے مضامین ایجاد کیے گئے جیسا که سیاسی اور اجتماعی حالات پر تنقیدوغیره اور اس سَبْک کا بڑا شاعر نیما یوشیج کو کها جاتا هے اس وجه سے اس سَبْک کو سَبْک نیمائی یا سَبْک نو بھی کهتے هیں یه چودھویں صدی هجری سے شروع هوا اور آج تک جاری هے.

حافظا این چه کید و دروغ است

کز زبان می و جام و ساقی است

که اے حافظ’’ حافظ شیرازی کو مخاطب کیا هے‘‘ که یه کیا طریقه هے نصیحت کا جس میں تم نے شراب اور ساقی کی مثالیں بیان کی هیں؟

نالی ار تا ابد باورم نیست

که بر آن عشق بازی که باقی است

اگر تو ابد تک بھی اس طرح نصیحت کرتا رهے تو مجھے تو سمجھ نهیں آئے گا که تو اس طرح عشق لڑانے کی استعاروں میں نصیحت کرتا ره۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button