متفرق مضامین

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل (دانت کے متعلق نمبر۳۔ آخری) (قسط ۴۴)

(ڈاکٹر طاہر حمید ججہ)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

لیک ڈیفلوریٹم

Lac defloratum

٭…لیک ڈیف کا مریض سوتے ہوئے دانت آپس میں کٹکتا تا ہے۔ اگر پیٹ میں کیڑے ہوں تو بچے سوتے ہوئے دانت رگڑتے ہیں یا جبڑوں میں سوجن ہو جائے تو اس کے نتیجہ میں بھی بچہ دانت کٹکٹاتا ہے۔ اسی طرح معدہ کی خرابی خواہ پیٹ میں کیڑے نہ بھی ہوں لیکن دودھ ہضم نہ ہو تو تب بھی بچہ دانت کٹکٹاتا ہے۔ یہ تینوں احتمالات ہیں جنہیں پیش نظر رکھنا چاہیے۔(صفحہ۵۳۶)

میگنیشیا کارب

Magnesia carbonica

(Carbonate of Magnesia)

٭…میگنیشیا کارب میں بیماریاں اکیس دن کے بعد دوبارہ واپس آتی ہیں۔ علامتیں ٹھیک بھی ہو رہی ہوں تو وہ اکیس دن کے بعد دوبارہ کچھ نہ کچھ جوش دکھانے لگتی ہیں۔ مریض کو کھلی ہوا کی خواہش ہوتی ہے خواہ ٹھنڈی ہی ہو حالانکہ سردی اس کے لیے مضر ہوتی ہے۔ مریض اپنے آپ کو ہر وقت ڈھانپے رکھتا ہے۔ گرم مشروب سے پسینہ آتا ہے۔ دانت کے اعصابی ریشوں میں شدید درد ہو تا ہے۔(صفحہ۵۶۹)

٭… حمل کا دانت درد جو وضع حمل تک جاری رہتا ہے اس میں یہ بہت مفید دوا ہے۔ اس درد کا حیض سے بھی تعلق ہوتا ہے۔ حیض کے دوران دانت میں درد ہوتا ہے اور حیض ختم ہونے سے دانت کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔ (ص۵۶۹)

٭…میگنیشیا کے تمام اعصابی دردوں کو ہلکا ہلکا چلنے سے آرام آتا ہے۔ ہلکی حرکت سے خصوصاً دانت کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔ میگنیشیا کا رب کی اعصابی تکلیفوں کا دورہ عموماً رات کو ہوتا ہے۔ لیکیسس میں حرکت سے آرام نہیں آتا جبکہ میگنیشیا کا رب میں حرکت آرام دیتی ہے۔ میگنیشیا کارب میں نیٹرم میور کی طرح ناخن اور بال خراب ہو جاتے ہیں اور دانت اور اس کے اردگرد کا حصہ بہت حساس ہو جاتا ہے۔ یہ علامت اینٹی مونیم کروڈمیں بھی ہے۔ ایسی صورت میں اینٹی مونیم کروڈ اور میگنیشیا کا رب کے علاوہ چائنا بھی مفیدہے۔(صفحہ۵۶۹-۵۷۰)

مینگینم

Manganum aceticum

(Manganese Acetate)

٭…مینگینم میں کانوں سے بد بودار مواد نکلتا ہے۔ اس بیماری میں امونیم کارب بھی بہت نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مینگینم میں کانوں میں بھاری پن پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ کیفیت مستقل نہیں ہوتی۔ ناک صاف کرنے سے جب ہوا کا دباؤ پڑتا ہے تو وقتی طور پر شنوائی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ کان کے بیرونی حصہ کو ہاتھ لگانے سے درد ہو تا ہے۔ نزلہ، زکام اور گلے کی خرابی کان پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور کان میں درد ہو تا ہے۔ حتی کہ دانتوں کا درد بھی کانوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پس وہ نزلاتی بیماریاں جن کے نتیجہ میں کان مسلسل بھاری رہنے لگیں اور قوت شنوائی متاثر ہو ان میں مینگینم کو نہیں بھولنا چاہیے۔(صفحہ۵۸۰)

میڈورائینم

Medorrhinum

(The Gonorrhoeal Virus)

٭…میڈ ورائینم میں کھانا چباتے وقت دانت بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح منہ میں زخم جو کٹے پھٹے موٹے کناروں والے ہوں، بننے لگتے ہیں۔ ٹخنوں کی مزمن تکلیفوں میں بھی میڈور ائینم کار آمد ثابت ہوتی ہے۔(صفحہ۵۸۸)

مرکری کے مرکبات

Mercurius

٭… دانتوں کی بیماریوں میں بھی مرکری بہت مفید ہے۔ دانت بھر بھرے ہو کر مسوڑھوں سے الگ ہو جاتے ہیں اور ان کے درمیان بد بودار مادہ جمع ہونے لگتا ہے۔ لہٰذا پائیوریا میں مرکری مفید ثابت ہوتی ہے۔ دانتوں کا سیاہ پڑ جانا اور جڑوں سے کھایا جانا کر ئیوزوٹ کے علاوہ مرکسال کے دائرہ میں بھی ہے۔ اگر دانتوں کی جڑیں کالی ہو رہی ہوں تو سٹیفی سیگر یا مرکسال سے بہتر کام کرتی ہے۔ وہ بچے جنہیں آ تشک کا مادہ وراثت میں ملا ہو ان کے دانت شروع میں ہی گل کر کالے ہو جاتے ہیں۔ زبان موٹی اور پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اس کے اطراف میں دانتوں کے نشان بن جاتے ہیں۔ منہ میں گہرے ناسور بننے کا رجحان پایا جا تا ہے۔ چبانے اور چھونے سے مسوڑھوں میں درد ہوتا ہے۔ منہ سے انتہائی خطرناک بدبو آتی ہے جو سارے کمرے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ مرکری میں منہ کامزہ دھات کی طرح کا ہو جاتا ہے۔ گلے میں سرخی اور سوزش پائے جاتے ہیں۔ ہر وقت نگلنے کی طلب رہتی ہے کیونکہ منہ میں بہت رطوبت بنتی رہتی ہے۔ موسم میں جو بھی تبدیلی واقع ہو اس سے گلے میں سوزش اور جلن شروع ہو جائے گرم چیز پینے سے تکلیف بڑھ جائے، مائع چیزوں کے نگلنے میں دقت محسوس ہو اور ہر وقت گلے میں کچھ پھنسے ہونے کا احساس رہے جیسے ہیپرسلف میں پایا جاتا ہے تو یہ سب علامتیں مجموعی طور پر مرکری کا مطالبہ کرتی ہیں۔(صفحہ۵۹۸)

میوریٹیکم ایسڈم

Muriaticum acidum

٭…میوریٹک ایسڈ میں سر درد بہت شدید ہوتا ہے جس سے نظر بھی دھندلا جاتی ہے اور نظر پر زیادہ دباؤ ڈالا جائے تو درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چہرہ پر دانے نکلتے ہیں، ہونٹ خشک ہو کر پھٹ جاتے ہیں، زبان پیلی پیلی اور سوجی ہوئی اور بالکل خشک ہوتی ہے اور کئی دفعہ زبان اور منہ میں السر بھی ہو جاتے ہیں۔ مسوڑھے بھی سوجے ہوئے ہوتے ہیں اور ان سے خون بھی نکلتا ہے۔ دانت ہلنے لگتے ہیں۔(صفحہ۶۰۸)

نیڑم میوریٹیکم

Natrum muriaticum

(Sodium Chloride)

٭…مسوڑھے متورم ہو جاتے ہیں اور خون بہتا ہے۔ دانت ہلتے ہیں اور سردی اور ٹھنڈی ہوا سے تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کھانے کے بعد اور رات کے وقت دانتوں میں درد ہو تاہے جو کانوں تک پھیل جاتا ہے۔ زبان پر میلی سی جھاگ دار تہ جم جاتی ہے۔سرسراہٹ کا احساس ہوتا ہے جیسے زبان پر بال چپکا ہوا ہو۔ (صفحہ۶۲۴-۶۲۵)

نیٹرم فاسفوریکم

Natrum phosphoricum

(Phosphate of Sodium)

٭… نیٹرم فاس میں مسوڑھوں سے خون بہتا ہے۔ زبان پر زرد رنگ کی تہ جم جاتی ہے۔ تالو میں بھی زردی پائی جاتی ہے۔ منہ اور زبان خشک ہوتے ہیں۔ دانت گل جاتے ہیں۔ بچے رات کو دانت پیستے ہیں۔ زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے دانتوں میں سوراخ ہوں تونیٹرم فاس بھی اس کی ایک دوا ہے۔(صفحہ۶۲۹-۶۳۰)

نیڑم سلفیوریکم

Natrum Sulphuricum

٭…وبائی انفلوئنزا میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر مسوڑھے دانتوں کو چھوڑنے لگیں، گلے کی تکلیفیں جن میں گاڑھا چمٹنے والا بلغم نکلے نیز تیز چلتے ہوئے دم گھٹنے کا اور سانس پھولنے کا احساس ہو تو بھی نیٹرم سلف اچھی دوا ثابت ہو سکتی ہے۔ (صفحہ۶۳۴)

٭…منہ کی اندرونی تکلیفوں میں بھی فاسفورس وسیع الاثر ہے۔ مسوڑھے جواب دے جائیں اور ان سے ہلکے سرخ رنگ کا بدبودار خون بہنے لگے تو فاسفورس کام کرتی ہے۔ یہ خون روکنے کی اولین دوا ہے۔ (صفحہ۶۵۵)

٭…عورتوں کو کپڑے دھونے کے بعد اعصابی درد شروع ہو جاتے ہیں۔ دانتوں میں بھی درد ہو تا ہے۔ فاسفورس کا مریض بہت بے چین اور پریشان رہتا ہے۔ (صفحہ۶۶۱)

فائٹولاکا

Phytolacca

(Poke Root)

٭… فائٹولا کا بچوں کے دانت نکالنے کے زمانے کی تکلیفوں میں بڑی کار آمد ہے۔ دانت بہت زور سے بھینچے جاتے ہیں۔ زبان پر دانتوں کے نشان پڑ جاتے ہیں۔ فائٹولا کا کی تکلیفیں مرطوب اور سرد موسم میں رات کے وقت اور حرکت کرنے سے بڑھ جاتی ہیں۔ خشک اور گرم موسم میں نیز آرام کرنے سے ان میں کمی ہو جاتی ہے۔(صفحہ۶۶۵)

پلمبم میٹیلیکم

Plumbum metallicum

٭…پلمبم کی ایک خاص علامت مسوڑھوں میں ملتی ہے۔ دانتوں کے نیچے مسوڑھوں پرایک نیلی سی لکیر آجاتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہو جاتی ہے۔(صفحہ۶۷۵)

سورائینم

Psorinum

(Scabies Vesicle)

٭…سورائینم میں منہ کے کناروں پر زخم بن جاتے ہیں، زبان اور مسوڑھے زخمی رہتے ہیں اور دانت ڈھیلے ہو کر ہلنے لگتے ہیں۔ بسااوقات کسی گہرے انفیکشن کے نتیجہ میں مسوڑھے خراب ہو جانے کے باوجود درد، سوزش اور بخار کی علامتیں ظاہر نہیں ہو تیں۔ جراثیم اندر ہی اندر ان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ ایک دوا بپٹیشیا(Baptisia) میں بھی یہی علامت پائی جاتی ہے کہ گلا شدید خراب ہوتا ہے حتیٰ کہ غدود گلنے سڑنے لگتے ہیں لیکن درد نہیں ہوتا۔ (صفحہ۶۸۴)

سبائنا

Sabina

(Savine)

٭…سبائنا گنٹھیا میں بھی مفید دوا ہے اور اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سبائنا کے خون بہنے کا رجحان صرف گنٹھیا کی موجودگی میں رک جاتا ہے۔ اگر گنٹھیا ٹھیک ہو جائے تو خون بہنے لگے گا اور اگر خون بہنا رکے تو گنٹھیا کی تکلیف ہو جائے گی۔ گاؤٹ یعنی گنٹھیا کی تکلیف گرم کمرے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ جوڑ سوزش سے سرخ اور چمکدار ہو جاتے ہیں۔ سینے میں جلن ہوتی ہے اور منہ کا مزہ کڑوا ہو جا تا ہے۔ پیٹ میں درد ہو تا ہے۔ سر میں اچانک درد شروع ہو جاتا ہے جو آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتا ہے۔ چہرہ اور سر پر خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ چباتے ہوئے دانتوں میں درد ہوتا ہے۔ ہر وقت پیٹ بھرے ہونے کا احساس رہتا ہے۔ سبائنا میں صرف قبض بھی پائی جاتی ہے۔(صفحہ۷۲۹)

سینیشواورس

Senecio aureus

(Golden Ragwort)

٭…بعض دفعہ بائیں آنکھ میں تیز درد اٹھتا ہے جو بائیں کنپٹی کی طرف بڑھتا ہے۔ چھینکیں آتی ہیں اور گلے میں جلن کا احساس ہوتا ہے۔ دانت بہت حساس ہو جاتے ہیں۔ چہرے کے بائیں طرف درد ہو تا ہے۔ منہ، تالو اور گلا خشک ہوتے ہیں اور نگلنے میں دقت محسوس ہوتی ہے۔(صفحہ۷۴۱-۷۴۲)

سلیشیا

Silicea

(Silica-Pure Flint)

٭…سلیشیا کا بعض دواؤں سے تضاد ہے اس لیے اسے ان کے ساتھ ملانا نہیں چاہیے۔ مثلاً پارہ یعنی مرکری کی ہر شکل سلیشیا سے متصادم ہے۔ ان دونوں کو ایک ساتھ استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان دونوں کے درمیان ہیپر سلف دینی ضروری ہوتی ہے کیونکہ اس کی بہت سی علامتیں سلیشیا سے ملتی ہیں اور یہ مرکسال سے بھی موافقت رکھتی ہے۔ اس لیے ہپیر سلف ان دونوں دواؤں کے درمیان ایک پل سا بنا دیتی ہے۔ بعض دفعہ سلیشیا کا غیر متوقع اثر ظاہر ہو تا ہے۔ مثلا ًاگر کسی کے دانت کی جڑوں میں انفیکشن موجود ہو جس کا اسے علم نہ ہو اور ایسا مریض کسی اَور بیماری کے لیے سلیشیا استعمال کرے تو اچانک خراب دانت کے گرد جبڑے سوج جائیں گے اور دانت ہلنے لگے گا۔ ایسی صورت میں اگر وہ سلیشیا کے تریاق کے طور پر ہیپرسلف کھا لے تو درد کو فوراً آرام آ جائے گا اور اسے یہ علم بھی ہو چکا ہو گا کہ فلاں جگہ انفیکشن موجود ہے۔ پھر حسب ضرورت کوئی اَور بالمثل دوا دی جا سکتی ہے جو تکلیف دہ رد عمل کے بغیر دانت کو ٹھیک کردے۔(صفحہ۷۵۳)

٭…نزلاتی مادہ کی وجہ سے اگر کان میں شور ہو تو یہ علامت بہت سی دواؤں میں مشترک ہے۔ سلیشیا اسی وقت کام آئے گی جب یہ مزاجی دوا ہو۔ اگر دانتوں کے کنارے بھرنے لگیں تو کلکیریا فلور کی طرح سلیشیا بھی دوا ہو سکتی ہے۔(صفحہ۷۵۶-۷۵۷)

سٹیفی سیگریا

Staphysagria

(Stavesacre)

٭…سٹیفی سیگریا میں حیض کے ایام میں دانتوں میں درد ہوتا ہے۔ دانت سیاہ ہو کر بھر بھرے ہونے لگتے ہیں۔ سٹیفی سیگریا عورتوں اور مردوں کی جنسی بیماریوں میں بھی بہت مفید ہے۔ پنڈلیوں اور کمر میں درد صبح بستر سے اٹھنے سے پہلے بڑھ جاتا ہے مگر عموماً رات کے وقت آرام کرنے سے تکلیف میں کمی آتی ہے۔(صفحہ۷۷۵)

سلفر

Sulphur

(Sublimated Sulphur)

٭…مسوڑھے خراب ہو جائیں اور دانت ڈھیلے ہو کر لٹکنے لگیں تو بھی اگر سلفر مزاجی دوا ہو تو اس کا ازالہ کر سکتی ہے مگر صرف ایک دانت میں تکلیف ہو تو سلفر کی بجائے کوئی اَور دوا تلاش کریں۔ (صفحہ۷۸۵)

سلفیوریکم ایسیڈم

Sulphuricum acidum

(Sulphuric Acid)

٭…بعض اوقات ناک کی رطوبت کان کی طرف منتقل ہونے سے قوت شامہ میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اگر دیگر علامتیں ملتی ہوں تو یہ تکلیف بھی سلفیورک ایسڈ کے دائرہ کار میں ہے۔ اس میں دانتوں کا درد آہستہ آہستہ بڑھتا ہے اور بہت شدید ہو جاتا ہے لیکن ایک دم ختم بھی ہو جا تا ہے اور لمبا گہرا بداثر پیچھے نہیں چھوڑتا۔ منہ اور گلے میں زخم بن جاتے ہیں۔ سلفیورک ایسڈ ایسے مریضوں کے لیے بہت مفید ہے۔(صفحہ۷۸۹)

زنکم

Zincum metallicum

(Zinc)

٭…کالی بائیکروم کی طرح ناک کے اندر اوپر کی طرف جڑھ میں دباؤ اور دکھن کا احساس۔ دانت جلدی مسوڑھوں کو چھوڑنے لگتے ہیں۔ دانتوں کو بھینچنے سے مسوڑھوں کو کچھ آرام محسوس ہوتا ہے۔ جن بچوں کے اعصاب کمزور ہوں ان کے لیے دانت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے اور خاص علامت یہ ہے کہ دونوں پاؤں بے چینی کی وجہ سے ہلتے رہیں گے یا آپس میں رگڑتے رہیں گے۔ اگلتے وقت گلے کے عضلات میں کچھ تھوڑی سی درد ہوتی ہے اور معدے میں میٹھی چیزوں سے جلن پیدا ہو جاتی ہے نیز متلی، ہچکی اور قے کا رجحان ہو جاتا ہے۔ زنکم کے مریض بہت جلدی جلدی کھاتے ہیں اور کھانا کھاتے وقت ان کی بے صبری نمایاں ہوتی ہے۔ پیٹ اکثر گیس سے تنا ہوا ہوتا ہے۔ (صفحہ۸۱۰)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button