کرکٹ ورلڈ کپ ۲۳ء

کرکٹ ورلڈ کپ 2023ء، جنوبی افریقہ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو ایک وکٹ سے شکست دے دی

کرکٹ ورلڈ کپ
میچ نمبر26: جمعہ 27 اکتوبر2023ء
پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ
بمقام: چینئی (Chennai)

جمعہ27اکتوبر2023ء کو کرکٹ ورلڈ کپ کے ایک اہم میچ میں جنوبی افریقہ نے ایک سنسی خیز اورکانٹے دارمقابلہ کےبعدپاکستان کوایک وکٹ سے شکست دے دی۔اس فتح میں بائیں ہاتھ کے chinamanباؤلر تبریز شمسی اورمڈل آرڈر بلے باز ایڈن مارکرم نے اہم کردارادا کیا۔جنوبی افریقہ اس جیت کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر پہلے نمبرپرآگیا۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم اس ورلڈ کپ میں دوسری دفعہ ہدف کا تعاقب کرنےمیدان میں اتری اور بمشکل اس امتحان میں کامیاب ہوئی۔پاکستان کے 270رنز کے جواب میں پروٹیز کے اوپنرز نے دھواں دار شروعات کیں۔ان فارم بلے باز کوئنٹن ڈی کاک نے شاہین آفریدی کے پہلے اوور میں چارچوکے لگائے لیکن ان کے دوسرے اوور میں گیندکو باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوگئے۔کپتان Temba Bavumaبھی جارحانہ انداز میں ایک چھکے اور چارچوکوں کی مدد سے 28رنز بناکرواپس لوٹ گئے۔پھر 121کے مجموعی سکور پر لیگ اسپنر اسامہ میرنے Rassie van der Dussenکی اہم وکٹ حاصل کی۔فیلڈنگ کے دوران شاداب خان کو سر میں چوٹ آئی اور ان کی جگہ متبادل کے طور پراسامہ میرباؤلنگ کرنے آئے تھے۔

خطرناک بلےباز Heinrich Klassen بھی اونچا شاٹ کھیلتے ہوئے وسیم جونیئر کی گیند پر آؤٹ ہوئےتو جنوبی افریقہ کا سکور 136تھا اور پاکستان ٹیم کا پلڑا بھاری لگنے لگا تھا۔تاہم پانچویں وکٹ کی شراکت میں ایڈن مارکرم اور ڈیوڈ ملر نے اہم 70رنزجوڑے ۔ایڈن مارکرم نے بہترین بلے بازی کی اور باؤلرز کو اپنے اوپرحاوی نہ ہونے دیا۔

اننگز کے 34وَیں اوورمیں شاہین شاہ آفریدی ڈیوڈ ملر(David Miller)کی وکٹ حاصل کرکے پاکستان کو ایک بارپھر میچ میں واپس لائے۔اس کے بعد مارکو جینسن کو حارث رؤف نے آؤٹ کیا اور پھر91رنز کی شاندار باری کھیل کر مارکرم اسامہ میر کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے تو جنوبی افریقہ کو جیت کے لئے مزید21رنز درکارتھے اور 58گیندوں کا کھیل ابھی باقی تھا۔پاکستانی فاسٹ باؤلرز نے زبردست باؤلنگ کی اور 260کے سکور پر حارث رؤف نے اپنی ہی گیند پر ایک ناقابل یقین کیچ پکڑکر جنوبی افریقہ کےنوَیں کھلاڑی کو آؤٹ کردیا۔اسی اوور کی آخری بال پر میچ میں ایک ڈرامائی موڑ آیا جب حارث رؤف کی انتہائی تیز گیند تبریز شمسی کے padsپر لگی ،زوردار اپیل کے باوجود امپائر نے انگلی کھڑی نہ کی۔پاکستانی کپتان نے review لیا جوکہ ان کے حق میں نہ جاسکا اور ناٹ آؤٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔پاکستانی شائقین اور دیگرتجزیہ کاروں کی طرف سے اس فیصلہ پر خاصی تنقید بھی کی جارہی ہے۔

47اوورز کے اختتام پر پاکستان کے تینوں فاسٹ باؤلرز اپنے مقررہ اوورز پورے کرچکےتھے ، جنوبی افریقہ کو جیت کے لئے 5رنز درکار تھے۔بائیں ہاتھ سے اسپن باؤلنگ کرنے والے محمد نوازکو اہم اوور دیا گیا جن کی دوسری گیند پرKeshav Maharajنے چوکا لگا کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنارکردیا۔

پاکستان کی طرف سے سب سے کامیاب باؤلر شاہین شاہ آفریدی رہے جنہوں نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔محمد وسیم ،حارث رؤف اور اسامہ میر نے دودووکٹیں حاصل کیں۔

چینئی کے شدید گرم موسم میں ٹاس جیت کر پاکستان نے پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔لیکن 38کےسکورپر اوپنرز امام الحق اور عبداللہ شفیق درازقامت تیزگیندبازMarco Jansen کا شکاربنے۔جس کے بعد محمدرضوان اور بابراعظم نے بہترانداز میں اننگز کو آگے بڑھایا،تاہم کوئی بھی بلے باز بڑاسکورکرنے میں ناکام رہا اور وقفے وقفے سے پاکستانی وکٹیں گرتی رہیں۔جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلرز نے تیز باؤنسرزکے ذریعہ بلے بازوں کو پریشان کیاتو دوسری طرف اسپن گیندبازوں کے سامنے پاکستانی بیٹنگ ایک مرتبہ پھردباؤ کا شکارنظر آتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔افتخار احمد اوربابراعظم تبریز شمسی کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا مجموعی سکورپانچ وکٹوں کے نقصان پر141رنز تھا۔اس موقع پر سعود شکیل اور شاداب خان نے بہترین بلے بازی کی چھٹی وکٹ کی شراکت میں 84قیمتی رنز کا اضافہ کیا۔لیکن شاداب خان غلط وقت پراپنی وکٹ گنوا بیٹھے اور پاکستان کے باقی ماندہ کھلاڑی مقررپچاس اوورز بھی پورے نہ کرسکے۔پاکستانی پوری ٹیم 46.4اوورز میں 270رنز بناکرآؤٹ ہوگئی۔جوکہ یقینی طورپر امیدوں کے برخلاف ایک درمیانے درجہ کا سکورتھا۔

تبریز شمسی نے اپنے دوسرے اسپیل میں بھی دو وکٹیں حاصل کیں اور مجموعی طورپر60رنزکے عوض چارکھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔مارکوجینسن(Marco Jansen)نے تین جبکہ جیرالڈ کوٹزے (Gerald Coetzee)نے دو وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان کی جانب سےسعودشکیل نے 52اور بابراعظم نے 50رنز بنائے۔شاداب خان نے36گیندوں پر43رنز کی باری کھیلی۔

اس ہار کے بعد پاکستان ٹیم کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات انتہائی معدوم ہوچکے ہیں۔پاکستان اپنے آخری تین میچز بنگلہ دیش ،نیوزی لینڈ اور انگلینڈکے خلاف کھیلے گا جن میں بڑے مارجن سے کامیابی کے بعدبھی پاکستان کے لئے ٹاپ چارٹیموں میں جگہ بنانا مشکل ہوگا۔

خلاصہ:

پاکستان 46.4اوورز میں 270رنز پر آل آؤٹ
سعود شکیل 52،بابراعظم 50،شاداب 43
تبریز شمسی 60/4،مارکوجینسن 43/3،جیرالڈ کوٹزے42/2
جنوبی افریقہ 47.2اوورز میں 9وکٹوں کے نقصان پر271رنز
ایڈن مارکرم90،ڈیوڈ ملر29
شاہین آفریدی45/3،اسامہ میر45/2،وسیم 50/2
جنوبی افریقہ کے تبریز شمسی (Tabraiz Shamsi) میچ کے بہترین کھلاڑی قرارپائے۔

اہم اعداد و شمار و ریکارڈز


• 1999ء کے بعد پہلی بارجنوبی افریقہ نے پاکستان کو ورلڈ کپ(ODI+T20) میچ شکست دی ہے۔
• پاکستان پہلی بار ورلڈ کپ میں لگاتار چارمقابلوں میں ناکام رہا ہے۔
• ایک روزہ عالمی ٹورنامنٹ کی تاریخ میں ساتویں مرتبہ کوئی ٹیم ایک وکٹ کے مارجن سے میچ جیتنے میں کامیاب ہوئی ۔
• ورلڈ کپ میچز میں جنوبی افریقہ کی طرف سے پورا کیا جانے والا یہ دوسرا بڑا ہدف ہے۔اس سے قبل 2011ء میں بھارت کے خلاف جنوبی افریقہ نے 297رنز کا ہدف عبورکیا تھا۔
• اس میچ میں 18بلے باز کیچ آؤٹ ہوئے جوکہ ورلڈ کپ مقابلوں میں نیا ریکارڈ ہے۔
• اس میچ کے بعد شاہین آفریدی اور مارکوجینسن ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ تیرہ وکٹیں لینے والے باؤلربن گئے۔آسٹریلیا کے ایڈم زمپا بھی 13کھلاڑیوں کو آؤٹ کرچکے ہیں۔بلےبازوں کی فہرست میں کوئنٹن ڈی کاک 431رنز کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔

(رپورٹ: ۔ن م طاہر)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button