افریقہ (رپورٹس)جلسہ سالانہ

ملک چاڈ میں جماعتِ احمدیہ کے پہلے جلسہ سالانہ کا انعقاد

٭…حضور انور کا خصوصی پیغام

٭…باجماعت نماز تہجد کا اہتمام

٭…عربی زبان میں متعدد سیر حاصل تقاریر

اللہ تعالیٰ کے فضل اور پیارے حضور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرِہ العزیز کی دعاؤں سے جماعتِ احمدیہ چاڈ کو اپنا پہلا جلسہ سالانہ دارالحکومت انجمینا میں مورخہ ۲۴ و ۲۵؍فروری ۲۰۲۳ء کو منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذٰلک

جلسہ سالانہ کا پہلا دن

جلسہ کے مہمانان جلسے سے ایک روز قبل جمعرات سے ہی جماعتی مرکزی ہیڈکوارٹر پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ مورخہ ۲۴؍فروری بروز جمعۃ المبارک جلسہ سالانہ کے پہلے دن کا آغاز نمازِ تہجد سے کیا گیا۔ نمازِ جمعہ و عصر کے بعد جلسہ سالانہ کی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ تلاوت قرآنِ کریم اور قصیدہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے بعد پیارے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرِہ العزیز کا پیغام حاضرینِ جلسہ کو پڑھ کر سنایا گیا۔

حضور انور کے خصوصی پیغام کا اردو مفہوم

مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ چاڈ ۲۴ اور ۲۵؍فروری کو اپنا پہلا جلسہ سالانہ منعقد کر رہی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بہت کامیاب کرے اور وہ تمام لوگ جو اس واحد اور خاص مقصد کے لیے جمع ہوئے ہیں بے پایاں روحانی فیوض حاصل کریں۔ اور اللہ کرے کہ آپ نیکی اور تقویٰ میں بڑھنے والے ہوں۔

یاد رکھیں کہ یہ جلسہ کوئی عام دنیاوی تقریب یا میلے یا تہوار کی مانند نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ تا ہر ایک مخلص کو بالمواجہ دینی فائدہ اٹھانے کا موقع ملے اور ان کے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔ پھر اس کے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا۔ اور اس جماعت کے تعلقات اخوت استحکام پذیر ہوں گے‘‘۔

(اشتہار ۲۷ دسمبر ۱۸۹۲، مجموعہ اشتہارات،جلد ۱،صفحہ ۳۶۰،ایڈیشن ۲۰۱۹ء)

چنانچہ جلسہ کا انعقاد اس لیے کیا جا تا ہےکہ ہم اس خاص ماحول سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے دلوں کو پاک کریں۔ یہ جلسہ آپ کے تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کا ذریعہ ہونا چاہیےجو کہ نیکی اور آپ کے اندر اللہ کا حقیقی خوف پیدا کرنے والا ہو۔ یہ جلسہ آپ کے دلوں کے اندر شائستگی، مہربانی اور مسکینی پیدا کرنے والا اور آپس میں پیار کو بڑھانے والاہونا چاہیے۔ ایسا پیار کہ آپ دیکھنے والوں کے لیے عالمی بھائی چارے کی مثال بن جائیں۔ آپ کو ایک دوسرے کے لیے فکر مندی کرنے والوں کی ایک ابدی مثال بن جانا چاہیے۔ بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال بننا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر آپ کو اسلام کی خدمت کے لیے ایک جذبہ اور جنون پیدا کر نا چاہیے اور اپنے خالق اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق پیدا کرنا چاہیے۔

آپ کو جلسہ کے اس وقت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے کہ آپ اللہ کو یاد کرنے میں وقت گزاریں اور اپنی روحانیت کو ترقی دیں اور بے مقصد گفتگو سے پرہیز کریں۔ جب جلسہ ختم ہو جائے توان چیزوں پر کاربند ہوں جو یہاں پر سیکھی ہیں اور اپنی زندگیوں میں مثبت روحانی تبدیلی پیدا کرنے کی سرتوڑ کوشش کریں۔ آپ کو بیعت کی شرائط پوری کرنے، مثالی احمدی بننے اور ان معیاروں کو حاصل کرنےکی کوشش کرنی چاہیے جن کا تقاضا حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کے افراد سے کیا ہے۔

میں آپ کو یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ خلافت احمدیہ کے ساتھ ہمیشہ وفادار رہیں۔ ایم ٹی اے دیکھیں اور باقاعدگی سے میرے خطبات سنیں۔ ان کو سمجھنے کی کوشش کریں اور جن باتوں کی طرف میں راہنمائی کرتا ہوں ان کی پیروی کریں۔

آج اسلام کی اشاعت اور دنیا میں امن صرف خلافت کے نظام پر عمل پیرا ہو کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نظام خلافت کو سب سے زیادہ اہمیت دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی آنے والی نسلیں خلافت احمدیہ کی مبارک پناہ، راہنمائی اور حفاظت کے اندر رہیں۔

میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ تبلیغ ہر احمدی مسلمان کا فرض ہے۔ چاڈ اور اس کے ارد گرد کے ممالک کے لوگوں تک اسلام احمدیت کا پُرامن پیغام پہنچانے کےلیے دانشمندانہ منصوبے اور مؤثر انداز میں تبلیغی پروگرام ترتیب دیں۔

آخر میں میں حضرت مسیح موعودؑ کی اس دعا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو آپؑ نے شاملین جلسہ کے لیے کی۔

’’ہر یک صاحب جو اس للّہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پرآسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرماوے۔ اور ان کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پر اس کا فضل ورحم ہے اور تا اختتام سفر ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو ۔اے خدا اے ذوالمجد والعطاء اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوّت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔ آمین ثم آمین‘‘ (اشتہار۷؍دسمبر۱۸۹۲ء)

اللہ کرے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی دل سے نکلی ہوئی دعائیں ہمیشہ آپ کےساتھ ہوں۔اللہ کرے آپ کا جلسہ بڑی کامیابی سے ہمکنار ہو۔اور آپ سب میں ایمان اور تقویٰ کا نفوذ ہوجو آپ کو بہترین احمدی مسلمان بنائے تا کہ آپ بہترین روحانی قوت اور طاقت کے ساتھ اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کر سکیں۔اللہ آپ سب پر رحم کرے۔

٭…٭…٭

اس کے بعد جلسہ کی پہلی تقریر خاکسار نے عربی زبان میں ’’لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ ْاسوۃ حسنۃ‘‘ کے موضوع پر کرنے کی توفیق پائی۔ اس کے بعد جلسہ کی دوسری تقریر مکرم محمد عمر محمد صاحب سیکرٹری مال چاڈ نے ’’قرآنِ کریم کی اہمیت‘‘ کے موضوع پر کی۔ یہ تقریر بھی عربی زبان میں تھی۔

بعد ازاں نمازِ مغرب و عشاء ادا کی گئیں۔ پھر درسِ حدیث کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے بعد شاملین جلسہ کے لیے رات کے کھانے کا انتظام تھا۔ کھانے کے بعد مجلس سوال وجواب رکھی گئی۔

جلسہ سالانہ کا دوسرا دن

جلسہ کے دوسرے دن کا آغازبھی نمازِ تہجدسے کیا گیا۔ نمازٍ فجر کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کی برکات پر درس دیا گیا۔ ناشتے کے بعد صبح ساڑھے آٹھ بجے جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کی کارروائی کا آغازکر دیا گیا۔تلاوت قرآنِ کریم اور قصیدہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السّلام کے بعد پیارے حضور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرِہ العزیزکا پیغام حاضرینِ جلسہ کودوسری مرتبہ پڑھ کر سنایا گیا۔ اس کے بعد اجلاس کی پہلی تقریر حضرت مسیحِ موعودؑ کا عشقِ رسول ﷺ کے عنوان پر تھی۔ دوسری تقریر کا عنوان تھا کلّ برکۃ من محمد ﷺ۔ جبکہ تیسری تقریر خاکسار نے ’’رسول کریم ﷺ دنیا کے لیے رحمۃ للعٰلمین‘‘ کے عنوان پر کی۔ یہ سب تقاریر عربی زبان میں پیش کی گئیں۔

اس کے بعد مہمانانِ کرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مکرم عبداللہ علی محمد صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا: ہم مسلمانوں میں بھی جماعتِ احمدیہ کے متعلق تشویش رہتی ہے۔ مشائخ کرام بہت کچھ جماعتِ احمدیہ کے متعلق کہتے رہتے ہیں۔ لیکن آپ لوگوں کی تقاریر سن کر پتا چلا ہے کہ جتنی محبت آپ رسول کریمﷺ سے کرتے ہیں، اتنی ہم نہیں کرتے۔

مکرم عمرمحمدی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا: اب میں جماعتِ احمدیہ کے ساتھ ہوں۔آپ لوگ رسول کریم ﷺسے بڑی شدّت سے محبت کرتے ہیں۔آپ لوگوں کا جب بھی جلسہ ہوگا میں اس میں شمولیت کروں گا۔آپ لوگ خدمتِ خلق کے کام بھی بہت زیادہ کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کاموں کی آپ کو جزا دے۔ آمین

جلسے کے آخر پراختتامی دعا ہوئی جس کے ساتھ جلسہ سالانہ اختتام پذیر ہوا۔ نمازِ ظہر و عصر کے بعد حاضرینِ جلسہ کی خدمت میں دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔ بعد ازاں حاضرینِ جلسہ اپنے اپنے علاقوں کو روانہ ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جلسہ سالانہ بڑا کامیاب رہا۔ جلسہ سالانہ کی خبر نیشنل ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر نشر کی گئی۔ شاملینِ جلسہ کی کل تعداد ۵۲۳؍ تھی جن میں ۱۹؍ غیر از جماعت مہمانان بھی شامل تھے۔ الحمد للہ علیٰ ذٰلک

(رپورٹ: خلیل احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button