متفرق مضامین

حیرت انگیز صلاحیتوں کی مالک بلی

بلیوں کو ہم انسان دوست جانور کے طور پر جانتے ہیں اور یہ دوستی قریباً بارہ ہزار سال پرانی ہے۔ اس دوستی کے آغاز کی وجہ یہ بنی کہ بلیاں چوہوں اور ان جیسے دوسرے رینگنے والے جانوروں اور حشرات کو بھگا دیتی تھیں جو اناج کو کھا جاتے تھے۔ ملنے والے قدیمی آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مصر بلیوں کی پوجا بھی کرتے تھے۔ ان کو مارنا ناقابل معافی جرم تھا اور مارنے والے کو سزائے موت دی جاتی تھی۔ اہل مصر اپنے تجارتی قافلوں میں بلیوں کو ساتھ لے جاتے تھے اس طرح بلیاں دنیا کی دیگر تہذیبوں سے بھی متعارف ہوئیں۔

(Persian Ragdoll Cat)

بلی ایک ذہین جانور ہے جو اپنے چھوٹے اور پھرتیلے جسم، رات میں دیکھنے کی صلاحیت، بنا آواز پیدا کیے چلنے اور خود کو چھپا لینے جیسی خصوصیات سے جانی جاتی ہے۔ یہ بہت جلد انسانوں سے مانوس ہو جاتی ہے۔ یہ اپنی مطلوبہ چیزوں کا پیچھا کرنے میں بہت ماہر ہوتی ہے۔ یہ بڑی آسانی سے گھر کے اندر اپنے مالک کو تلاش کر لیتی ہے۔ بلیاں جس علاقے یا گھر میں رہتی ہیں اس کا نقشہ اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتی ہیں۔ ان کی قوت شامہ بہت تیز ہوتی ہے جو کہ انسان کی سونگھنے کی طاقت سے چودہ گنا زیادہ ہے۔ اپنی اس صلاحیت سے یہ شکار تلاش کرنے، کھانا تلاش کرنے، دوسری بلیوں سے رابطہ کرنے اور اپنے علاقے کی حد بندی کرنے جیسے کام لیتی ہیں۔

آپ نے سن رکھا ہوگا کہ بلیاں ہمیشہ اپنے پیروں کے بل زمین پر گرتی ہیں چاہے انہیں کسی بھی بلندی سے پھینکا جائے۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ بلی باآسانی یہ معلوم کرلیتی ہے کہ وہ زمین سے کتنے فاصلہ پر موجود ہیں۔ توازن قائم رکھنے کا یہ نظام ان کے کانوں کے درمیان ہوتا ہے جس سے انہیں سمت کا سوفیصد درست اندازہ ہوجاتا ہے خواہ ہوا میں ہی کیوں نہ ہوں۔ اس وجہ سے گرتے وقت وہ عین زمین کے پاس پہنچنے پر پاؤں زمین کی جانب کر لیتی ہیں اور پاؤں کے بل ہی زمین پر اُترنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

سونگھنے کے ساتھ ان کی سننے کی قوت بھی حیرت انگیز ہوتی ہے۔ ان کے کان ۱۸۰؍ ڈگری پر مڑ سکتے ہیں جو انہیں اپنے ارد گرد کی آوازوں کو اچھی طرح سننے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ کسی چیز کی حرکت سے پیدا ہونے والی آواز کی بدولت اس چیز کے مقام کی سو فیصد درست نشاندہی کر سکتی ہیں۔

بلی اپنے جسم کی کل لمبائی سے چھ گنا اونچی چھلانگ لگا سکتی ہے۔ بلی کے جسم میں ۵۰۰؍عضلات ہوتے ہیں جو سارے چھلانگ لگانے کے دوران استعمال ہوتے ہیں۔

تاریکی میں دیکھنا بلیوں کی ایک بہت بڑی خاصیت ہے۔ جسمانی لحاظ سے بلیوں کی آنکھیں انسانوں کی نسبت زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں دیکھنے کے لیے کم سے کم جتنی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے بلیاں اس سے چھ گنا کم روشنی میں بھی اچھی طرح دیکھ سکتی ہیں۔

(م۔ظفر)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button