حضرت مصلح موعود ؓ

رسول کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ کے دو دَور (قسط دوم۔ آخری)

اللہ تعالیٰ نے کمزوری اور بے بسی کے دَور میں بھی آپ کی مدد کی اور طاقت کے زمانہ میں بھی اپنی تائید و نصرت سے نوازا

(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرموده یکم نومبر ۱۹۵۷ء)

(تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۱؍ستمبر۲۰۲۳ء)

(گذ شتہ سے پیوستہ )ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ کفار نے اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپ کی گردن پر رکھ دی اور اس کا بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ آپ اس کی وجہ سے سجدہ سے سر نہیں اٹھاسکتے تھےجب زیادہ دیر ہوگئی تو کسی نے حضرت فاطمہ ؓکو اطلاع دے دی۔ وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور بڑا زور لگا کر انہوں نے اُس اوجھڑی کو آپ کی گردن سے اُتارا۔ (بخاری کتاب الصلوٰۃ باب المرأۃ تطرح عن المصلی شیئًا من الاَذٰی)

پھر ایک دفعہ لوگوں نے آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر کھینچنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ کو خبر ہوگئی۔وہ وہاں آئے اور انہوں نے آپ کو چھڑایا اور کہا اے ظالمو! تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اس شخص پر محض اس لیے ظلم کر رہے ہو کہ یہ کہتا ہے کہ میرا خدا ایک ہے۔ آخر اس نے کوئی چوری کی ہو، ڈاکا مارا ہو یا قتل کیا ہو تو کوئی بات بھی تھی لیکن خانہ کعبہ میں جو امن کی جگہ ہے تم نے اس شخص پر ظلم کیا ہے اور تم اس کے گلے میں پٹکا ڈال کر کھینچ رہے ہو۔(بخاری کتاب فضائل اَصحاب النبیﷺ باب قول النبیﷺ لو کنت متخذًا خلِیْلًا)

اب تم سمجھ سکتے ہو کہ خانہ کعبہ میں جو کُفّار کے نزدیک بھی امن کی جگہ تھی ایک شخص کے سر پر جبکہ وہ عبادت کر رہا ہو، اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دینا اور اس کے گلے میں پٹکا ڈالنا اُسی وقت ہو سکتا ہے جب یہ سمجھا جائے کہ یہ شخص بالکل بےحیثیت ہے۔ ورنہ اگر وہ کسی کا رشتہ دار نہ بھی ہوتا تب بھی مکہ کے لوگ تلواریں لے کر آجاتے اور کہتے کہ خانہ کعبہ کو امن حاصل ہے۔ تم کون ہوتے ہو کہ خانہ کعبہ میں آکر اس طرح ظلم کرتے ہو۔

پھر آپؐ کی کمزوری کی ایک مثال یہ ملتی ہے کہ آپؐ کی ایک بیٹی مکہ میں تھی جسے آپ نے مدینہ بلوایا۔ جب وہ مدینہ جارہی تھیں تو ایک شریر شخص نے ان کی اونٹنی کا تنگ توڑ دیا۔ پھر وہ شخص خانہ کعبہ میں گیا اور اُس نے خوب قہقہہ لگا کر رؤساء کے سامنے کہا جا کے دیکھو محمد (ﷺ) کی بیٹی کا کیا حال ہے؟ وہ مدینہ جا رہی تھی کہ میں نے اس کے اونٹ کا تنگ کاٹ دیا اور وہ زمین پر گر گئی۔ اُس وقت ہندہ بھی وہاں موجود تھی۔ یہ وہی ہندہ تھی جس نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ نکلوا دیا تھا اور جنگ بدر اور دوسری لڑائیوں میں کُفار کو مسلمانوں کے خلاف اُکسایا کرتی تھی اور کہتی تھی جاؤ اور لڑو، ورنہ ہم عورتیں تمہارے قبضہ میں نہیں آئیں گی۔ہم تمہارے پاس تبھی آئیں گی جب تم مسلمانوں سے لڑو گے اور انہیں قتل کرو گے۔ وہ فوراً کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی مکہ والو! تم کو شرم نہیں آتی۔تم وہ لوگ ہو جن کے باپ دادے اپنی بہادری پر فخر کیا کرتے تھے اور اب تمہاری یہ حالت ہے کہ تم نے ایک ایسی عورت کے اونٹ کا تنگ کاٹ دیا جس کا باپ کئی سَو میل کے فاصلہ پر تھا اور اُس کو نیچے گرا دیا۔تمہیں اس حرکت پر شرم کرنی چاہئے۔

اب اس واقعہ کا ہونا بھی آپؐ کی کمزوری کی وجہ سے ہی تھا ورنہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے جب آپؐ کو طاقت دی تو آپ کے متبعین نے قیصر و کسرٰی کی حکومتوں تک کو پاش پاش کر دیا اور قیصر و کسرٰی کے مقابلہ میں مکہ والوں کی اتنی حیثیت بھی نہ تھی جتنی ایک نمبردار کے سامنے کسی چوڑھے کی ہوتی ہے۔ پس ان کا مکہ میں ایسی حرکت کرنا یعنی آپ کی بیٹی کی سواری کا تنگ کاٹ کر اسے نیچے گرا دینا بتاتا ہے کہ و ہ اُس وقت محمد رسول اللہﷺ کو انتہائی بے کس اور بے بس سمجھتے تھے۔

غرض

تاریخ میں کثرت سے ایسے واقعات آتے ہیں جن سے پتا لگتا ہے کہ محمد رسول اللہﷺ پر ایک وقت ایسا آیا جو آپؐ کی نہایت درجہ کمزوری اور بے بسی پر دلالت کرتا تھا۔ مگر اس کے بعد پھر وہ زمانہ آیا جب نصراللہ اور فتح آگئی اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے۔ اُس زمانہ کی تاریخ کو جب ہم پڑھتے ہیں تو پھر ہمیں اَور رنگ کے واقعات دکھائی دیتےہیں۔

چنانچہ نصراللہ اور فتح کا زمانہ آیا تو ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب مکہ والوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’’خزاعہ‘‘پر حملہ کر دیا تو انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ مسلمان اپنے حلیف قبیلہ کی مدد کے لئے کہیں مکہ پر حملہ نہ کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے ابو سفیان کو مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو حملہ سے باز رکھے۔جب حدیبیہ کی صلح ہوئی ہےاُس وقت ابو سفیان مکہ میں نہیں تھا۔ انہوں نے ابو سفیان سے کہا تو اب مدینہ میں جا اور مسلمانوں سے کہہ کہ اُس معاہدہ کے وقت چونکہ میں مکہ میں موجود نہیںتھا اس لیے وہ معاہد ہ میری تصدیق کے ساتھ اب شروع ہوگا۔ اور پھر دس سال کی میعاد بھی تھوڑی ہے اسے بھی بڑھا دیا جائے۔ وہ مدینہ پہنچا اور رسول کریمﷺ سے بھی ملا اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے بھی ملا۔مگر کسی نے اُس کی طرف توجہ نہ کی۔ آخر وہ حضرت علیؓ کے پاس گیا اور اُن سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت علی ؓ نے مذاقاً کہا کہ تم مسجد میں جا کر یہ اعلان کردو کہ میں چونکہ اپنی قوم کا سردار ہوں اور معاہدہ پر میرے دستخط نہیں اس لیے آج سے وہ معاہدہ کیا جاتا ہے اور اس کی اتنی مدت بھی بڑھائی جاتی ہے۔ اُس نے اِس مذاق کو مان لیا اور مسجد میں سب کے سامنے کھڑے ہو کر اعلان کر دیا کہ مدینہ والو! تم نے ایسے لوگوں سے معاہدہ کر لیا تھا جن کی کو ئی ذمہ داری نہیں۔ ذمہ داری میری ہے اور میں اپنی ذمہ داری کو پورا کرنےکےلئے چاہتا ہوں کہ معاہدہ کی مدت بھی بڑھ جائے اور میرے دستخط بھی ہو جائیں۔سو وہ معاہدہ آج سے شروع ہوتا ہے کیونکہ اب اس پر میری تصدیق ہے اور معاہدہ کی مدت بھی اتنی بڑھا دی گئی ہے۔ اس اعلان پر سب صحابہؓ اس کی حماقت کی وجہ سے ہنس پڑے اور اس کو سخت ذلّت محسوس ہوئی۔ بعد میں وہ بڑے غصہ میں حضرت علیؓ کو مخاطب کر کے کہنے لگا تم نے جان بوجھ کر مجھے ذلیل کروایا ہے اور تم لوگ ہمیشہ ہمارے دشمن رہے ہو(سیرت ابن ہشام جلد۲صفحہ ۱۱۸۸تا۱۱۹۰)اس کے بعد وہ ناکام واپس چلا آیا۔

اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے ابو سفیان کو ایک اور زک بھی پہنچائی۔ اُس کی ایک لڑکی اُمِّ حبیبہؓ رسول کریمﷺ کی بیوی تھیں۔ابو سفیان کو خیال آیا کہ مدینہ آیا ہوں تو اپنی لڑکی سے بھی مل لوں۔ چنانچہ ابو سفیان رسول اللہﷺ کے گھر گیا۔ حضرت اُمِّ حبیبہؓ نے بستر پر ایک چارپائی بچھائی ہوئی تھی۔ ابوسفیان اُس پر بیٹھنے لگا تو حضرت اُمِّ حبیبہؓ نے وہ چادر جلدی سے اُس کے نیچے سے کھینچ لی۔ ابو سفیان یہ دیکھ کر کہنے لگا کہ بیٹی! کیا بات ہے؟ کیا یہ چادر اِس قابل نہیں کہ تیراباپ اس پر بیٹھ سکے یا میں اس قابل نہیں ہوں کہ میں اس پر بیٹھوں؟ حضرت اُمِّ حبیبہ ؓ نے کہا تم ہی اس قابل نہیں ہو کہ اس چادر پر بیٹھو۔ ابوسفیان نے کہا بیٹی! تم نے یہ کیا کہا؟ کیا میں تیرا باپ نہیں ہوں؟ حضرت اُمِّ حبیبہؓ نے کہا یہ ٹھیک ہے کہ تم میرے باپ ہو لیکن اِس کے باوجود میں یہ پسند نہیں کرتی کہ جس چادر پر خدا کا رسول بیٹھتا ہے اُس پر تم جو خدا اور اس کے رسول کے دشمن ہو بیٹھو۔(سیرت ابن ہشام جلد۲صفحہ۱۱۸۹مطبوعہ دمشق ۲۰۰۵ء)

اب دیکھو! جب نصراللہ اور فتح کا زمانہ آیا تو کس طرح ابو سفیان کوخود اس کی لڑکی نے ذلیل کیا۔ اُس کی لڑکی کی نظر میں رسول کریمﷺ کی اتنی عزت اور عظمت تھی کہ اس نے یہ بھی پسند نہ کیا کہ جس چادر پر رسول کریمﷺ بیٹھتے تھے اس پر ابوسفیان بیٹھے۔ پھر وہ دن بھی آگیا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ والوں پر عام فتح عطا فرمائی۔

ابو سفیان جب اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوا بلکہ اُلٹا ذلیل ہوا تو وہ مکہ کی طرف دوڑاتا کہ مکہ والوں کو صورتِ حال سے باخبر کردے۔ مکہ والوں نے پھر آپس میں مشورہ کیا اور ابو سفیان سے کہا کہ وہ مکہ سے باہر نکل کر پتا تو لے کہ مسلمان کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ابوسفیان ایک منزل ہی باہر گیا تھا کہ اس نے سارا جنگل روشن پایا۔ یہ آگ جو تمام خیموں کے آگے جلائی گئی تھی ایک ہیبت ناک نظارہ پیش کر رہی تھی۔ حضرت عباسؓ کی ابوسفیان سےپرانی دوستی تھی۔ انہوں نے ابو سفیان کو دیکھ لیا اور اُسے آواز دے کر کہا سامنے محمد رسول اللہﷺ کا لشکرخیمہ ڈالے پڑا ہے۔ جلدی سے میرے پیچھے سواری پر بیٹھ جاؤ اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں چلو کیونکہ حضرت عباسؓ ڈرتے تھے کہ حضرت عمرؓ پہرہ پر مقرر ہیں انہوں نے اسے دیکھ لیا تو وہ کہیں اسے قتل نہ کردیں۔چنانچہ ابو سفیان حضرت عباس ؓ کے پیچھےبیٹھ گیا اور وہ سواری کو ایڑ لگا کر رسول کریمﷺ کی مجلس میں جا پہنچے اور ابو سفیان کو دھکا دے کر آگے کیا اور کہا کم بخت! آگے بڑھ اور بیعت لے۔ اُس وقت دہشت اور خوف کی وجہ سے ابوسفیان سخت مبہوت ہو چکا تھا۔ رسول کریمﷺ نے اُس کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا عباس! ابو سفیان کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور رات کو اپنے پاس رکھو اور صبح میرے پاس لانا۔(سیرت ابن ہشام جلد۲صفحہ ۱۱۹۶مطبوعہ دمشق ۲۰۰۵ء)جب صبح وہ حضرت عباسؓ کے ساتھ باہر نکلا تو نماز کا وقت تھا۔ اس نے دیکھا کہ ہزاروں مسلمان رسول اللہﷺ کے پیچھے ہاتھ باندھے صف میں کھڑے ہیں۔ جب آپؐ رکوع کرتے ہیں تو وہ سب کےسب رکوع کرتے ہیں، جب آپ سجدہ کرتے ہیں تو وہ سب کے سب آپ کے ساتھ سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔ پھر آپ سجدے سے سر اٹھاتے ہیں تو وہ بھی آپ کے ساتھ سر اٹھا لیتے ہیں۔ پھر آپ سجدہ میں جاتے ہیں تو تما م لوگ آپ کے ساتھ سجدہ میں چلے جاتے ہیں۔ پھر تشہد میں بیٹھتے ہیں تو تما م لوگ آپ کے ساتھ تشہد میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ابوسفیان نے یہ نظارہ دیکھا تو اُس نے خیال کیا کہ یہ سب کچھ اس کے مارنے کے لیے کیا جا رہا ہے، اُس نے حضرت عباسؓ سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ عباس! یہ کیا ہو رہا ہے؟ کہیں میرے قتل کی تدبیر تو نہیں ہو رہی؟ حضرت عباسؓ نے کہا کہ ابو سفیان! تیری کیا حیثیت ہے کہ دس ہزار مسلمان تیرے لئے سازش کریں۔ یہ تو نماز ہو رہی ہے۔ ابو سفیان کہنے لگا عباسؓ! میں نے کسرٰی کا دربار بھی دیکھا ہے اورقیصر کا دربار بھی دیکھا ہے۔ لیکن میں نے اُن کی رعیت کو بھی اِس قسم کی اطاعت کرتے نہیں دیکھا جس قسم کی اطاعت یہ لوگ محمد (رسول اللہﷺ) کی کر رہے ہیں۔(السیرۃ الحلبیۃ جلد۳صفحہ۹۲مطبوعہ مصر۱۹۳۵ء)یہ لوگ تو مکے والوں کو کھا جائیں گے۔ تم مجھے اجازت دو کہ میں واپس جا کر مکے والوں کو بتا دوں کہ کیا کچھ ہونے والا ہے تا کہ وہ اپنے بچاؤ کی کوئی صورت کرلیں۔ پھر حضرت عباسؓ اُسے رسول کریمﷺ کے پاس لے آئے۔ ابو سفیان آپؐ سے کہنے لگا۔ محمد (ﷺ) کیا یہ ہو سکتا ہے کہ کسی طرح مکہ والے بچ جائیں؟رسول کریمﷺ نے فرمایا ہاں! جو شخص خانہ کعبہ میں داخل ہوجائے گا وہ بچ جائے گا۔ ابو سفیان نے کہا خانہ کعبہ تو بہت چھوٹی جگہ ہے وہاں مکے والے تو نہیں آسکیں گے۔ آپ نے فرمایا اچھا جو لوگ تیرے گھر میں داخل ہو جائیں گے وہ بھی بچائے جائیں گے۔ابو سفیان نے کہا یا رسول اللّٰہ! میر اگھر بھی توچھوٹا سا ہے وہاں بھی ہر شخص پناہ نہیں لے سکے گا۔ آپؐ نے فرمایا جو شخص اپنے گھر کے دروازے بند کرلے گا اُسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔(سیرت ابن ہشام جلد۲صفحہ۱۱۹۷مطبوعہ دمشق ۲۰۰۵ء)ابو سفیان نے کہا یا رسول اللّٰہ! اگر مکہ والوں کو وقت پر یہ خبر نہ مل سکی تو وہ اپنے اپنے گھروں میں کیسے پہنچ سکیں گے؟ اس کے علاوہ بھی کوئی رعایت ہونی چاہیے۔ آپؐ نے ایک چادر منگوائی اور اُس کا ایک جھنڈا بنوایا اور فرمایا یہ بلالؓ کا جھنڈا ہے۔ آپؐ نے وہ جھنڈا حضرت بلالؓ کے ایک انصاری بھائی کو دیا اور فرمایا جو شخص بلال ؓکے جھنڈے کے نیچے بھی آجائے گا اُسے پناہ دی جائے گی۔(السیرۃ الحلبیۃ جلد۳صفحہ۹۳مطبوعہ مصر۱۹۳۵ء)

آپ کے اِس حکم میں بھی ایک لطیف حکمت تھی۔مکہ والے حضرت بلالؓ کے پاؤں میں رسّی ڈال کر انہیں گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے۔ وہ سخت تیزگرمی میں گرم ریت پر لِٹا کر جُوتوں سمیت اُن کے سینہ پر ناچتے اور گرم پتھروں پر انہیں گھسیٹتے ہوئے کہتے تھے کہ کہو ایک خدا نہیں بلکہ بُت بھی خدا ہیں۔ اس پر وہ کہتے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُوَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔(سیرت ابن ہشام جلد۱صفحہ ۳۶۶مطبوعہ دمشق ۲۰۰۵ء)رسول کریمﷺ نے خیال فرمایا کہ آج بلالؓ کا دل انتقام کی طرف بار بار مائل ہوتا ہوگا۔ اگر میں نے انہیں معاف کر دیا تو وہ کہے گاکہ ماریں تو میں کھاتا رہا لیکن جب میرے انتقام کا وقت آیا تو رسول کریمﷺ نے مکے والوں کو معاف کردیا۔اس خیا ل کے آنے پر رسول کریمﷺ نے حضرت بلالؓ کے نام کا ایک جھنڈا بنا کر کہاکہ آج کہ جو شخص بلالؓ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہوگا اُسے بھی پناہ دی جائے گی اس طرح مکہ والے اکثر محفوظ رہے۔ صرف اس طرف کچھ لوگ مارے گئے جس طرف سےحضرت خالد نے حملہ کیا تھا۔ اور اِس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو صحیح اطلاع نہیں پہنچ سکی تھی اور انہوں نے حضرت خالدؓ کا مقابلہ شروع کردیا تھا۔ رسول کریمﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ تم لوگوں نے ہی اپنے آدمیوں کو خبر نہیں پہنچائی تھی۔ ورنہ وہ مقابلہ کرکے موت کے منہ میں نہ جاتے۔(السیرۃ الحلبیۃ جلد۳صفحہ۹۷مطبوعہ مصر۱۹۳۵ء)

(الفضل ۲۲؍نومبر ۱۹۵۷ء)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button