دورہ جرمنی اگست؍ ستمبر ۲۰۲۳ء

سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ جرمنی (۲۸؍اگست ۲۳ء بروز سوموار)

(رپورٹ: عبدالماجد طاہر ۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر اسلام آباد حال مقیم فرانکفرٹ، جرمنی)

٭…جرمنی کے شہر FLORSTADT میں ’مسجد مبارک‘ کا افتتاح اور یادگاری تختی کی نقاب کشائی

٭…مسجد میں احبابِ جماعت سے مختلف امور پر گفتگو

٭… علاقے کے معزّزین کے ساتھ منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں بصیرت افروز خطاب

٭…مسجد بنی ہے تو ایک خدا کی عبادت کے لیے بنی ہے۔ مسجد بنی ہے تو علاقہ میں امن اور پیار اور محبت اور بھائی چارے کے Symbol کے طور پر بنی ہے۔ مسجد بنی ہے تو اس بات کے اظہار کے لیے بنی ہے کہ یہاں سے اب محبت، پیار اور بھائی چارے کا نعرہ بلند ہوگا اور ہم ہر لحاظ سے اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنے والے اور ان سے تعاون کرنے والے ہونگے (حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صبح پانچ بج کر چالیس منٹ پر تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مختلف دفتری امور کی ادائیگی میں مصروفیت رہی۔

آج پروگرام کے مطابق Florstadt شہر میں ’مسجد مبارک‘ کے افتتاح کے لیے روانگی تھی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بعد دوپہر چار بج کر پچاس منٹ پر اپنی رہائش گاہ سے تشریف لائے اور یہاں سے روانگی ہوئی۔

بیت السبوح سے Florstadtشہر کا فاصلہ ۳۰ کلومیٹر ہے۔ جونہی قافلہ کی گاڑیاں شہر کے اندر داخل ہوئیں تو پولیس کی گاڑی نے قافلہ کو Escort کیا۔

پانچ بج کر پچیس منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مسجد مبارک تشریف آوری ہوئی۔ جونہی حضور انور گاڑی سے باہر تشریف لائے تو مقامی جماعت کے احباب مردوخواتین اور بچوں نے اپنے پیارے آقا کا بڑے والہانہ انداز میں استقبال کیا۔ آج ان کے لیے بے انتہا خوشیوں اور مسرتوں کا دن تھا۔ ان کی سر زمین پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قدم مبارک دوسری مرتبہ پڑ رہے تھے۔ قبل ازیں حضور انور ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو اس مسجد کے سنگ بنیاد کے لیے یہاں تشریف لائے تھے۔

آج ہر کوئی خوشی سے پھولا نہ سماتا تھا۔ ہر ایک کا دل اپنی خوش نصیبی پر جذبات تشکّر سے بھرا ہوا تھا۔ مرد احباب نعرے بلند کر رہے تھے، خواتین شرف زیارت سے فیضیاب ہورہی تھیں اور بچیاں خیر مقدمی گیت پیش کر رہی تھیں۔

لوکل صدر جماعت انس احمد خان صاحب، ریجنل امیر مظفر احمد بھٹی صاحب اور مربی سلسلہ Florstadt تحسین رشید صاحب نے حضور انور کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر Florstadtشہر کے میئر Mr. Herbert Unger بھی حضور انور کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔ ایک طفل عزیزم رضوان احمد نے حضور انور کی خدمت میں پھول پیش کیے۔

بعد ازاں حضور انور نے مسجد کی بیرونی دیوار میں نصب تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کروائی۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کے بالائی ہال میں تشریف لے گئے اور نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں۔ جس کے ساتھ اس مسجد کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔

نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ کچھ دیر کے لیے احباب میں رونق افروز رہے۔

حضور انور نے مسجد کے حوالہ سے صدر صاحب جماعت سے دریافت فرمایا کہ مسجد کا گنبد بنانے کی اجازت نہیں ملی اور مینار بھی زیادہ اونچا نہیں بنایا گیا۔ اس پر صدر صاحب نے بتایا کہ یہاں اس علاقہ کے قانون کے مطابق گنبد بنانے کی اجازت انتظامیہ کی طرف سے نہیں ملی اور مینار کی اونچائی بھی چھت کی اونچائی کے برابر رکھی گئی ہے۔

حضور انور نے گرجاگھروں (Churches) کے بارے میں دریافت فرمایا کہ کیایہاں چرچ ہیں ان کا مینار تو کافی اونچا ہوتا ہے۔

حضور انور نے دریافت فرمایا کہ مسجد کے اردگرد کے علاقہ میں کتنے احباب، فیملیز رہتی ہیں۔ دس منٹ کی Walk پر کتنی فیملیز رہتی ہیں۔ پھر حضور انور نے دریافت فرمایا یہ چھوٹا شہر ہے یہاں کے لوگ کام کرنے کے لیے کہاں جاتے ہیں جس پر صدر جماعت نے عرض کی کہ زیادہ تعداد فرانکفرٹ جاتی ہے۔

حضور انور نے ازراہ شفقت اسائیلم سیکرز کے بارہ میں دریافت فرمایا کہ گذشتہ سالوں میں یہاں نئے لوگ کتنے آئے ہیں۔ کتنی نئی فیملیز آئی ہیں۔ اس پر ایک دوست زاہد رشید صاحب نے عرض کیا وہ ۲۰۱۶ء میں ننکانہ صاحب سے آئے تھے۔ حضور انور نے ازراہ شفقت فرمایا کہ آپ کی ملاقات تو ہوگئی تھی۔اس پر موصوف نےعرض کیا کہ میری فیملی ابھی بعد میں آئی ہے ان کی ابھی ملاقات نہیں ہوئی۔

ایک دوسرے دوست منیر احمد صاحب نے عرض کیا کہ ان کا تعلق احمد نگر ربوہ سے ہے وہ بھی چند سال پہلے آئے ہیں۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کچھ دیر کے لیے مسجد کی بالائی منزل کے ٹیرس (TERRACE) پرتشریف لے گئے۔ اس دوران امیر صاحب جرمنی نے حضور انور کی خدمت میں عرض کیا کہ جرمنی میں تعمیر ہونے والی مساجد میں سے یہ واحد ایسی مسجد ہے جہاں بجلی کا انتظام سولر سسٹم کے ذریعہ کیا گیا ہے۔قریباً ۹۰فیصد بجلی سولر سسٹم کے ذریعہ مہیا ہوگی۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کی نچلی منزل پر تشریف لے آئےجہاں خواتین حضور انور کی آمد کی منتظر تھیں۔ اس موقع پر بچیوں کے گروپ نے ترانے اور دعائیہ نظمیں پیش کیں۔ خواتین شرف زیارت سے فیضیاب ہوئیں۔ حضور انور نے ازراہ شفقت بچیوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں۔

جب حضور انور ہال سے باہر تشریف لائے تو Florstadtشہر کے میئر MR. HERBERT UNGER نے حضور انور سے شرف ملاقات حاصل کیا۔ حضور انور نے ازراہ شفقت موصوف سے گفتگو فرمائی۔

بعد ازاں حضور انور نے ازراہ شفقت بچوں کو چاکلیٹ عطا فرمائیں جو پہلے ہی ایک جگہ قطار میں کھڑے تھے۔

بعد ازاں حضور انور نے مسجد کے بیرونی احاطہ میں بادام کا پودا لگایا جبکہ اس شہر کے میئر صاحب نے خوبانی کا پودا لگایا۔

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ازراہ شفقت مربی سلسلہ تحسین رشید صاحب کے گھر تشریف لے گئے۔ موصوف کی رہائش مسجد سے ملحقہ مشن ہاؤس میں ہے۔

بعد ازاں ممبران مجلس عاملہ جماعت Florstadt اور مسجد کی تعمیر کے دوران وقار عمل کرنے والے احباب نے گروپ کی صورت میں حضور انور کے ساتھ تصاویر بنوانے کی سعادت پائی۔

مسجد مبارک کے افتتاح کے حوالہ سے ایک تقریب کا اہتمام مسجد سے چند کلو میٹر پر واقع ایک ہال “ARALIA BALLSAAL” میں کیا گیا تھا۔ یہ ہال مختلف فنکشنز، نمائشوں اور تقریبات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز مسجد سے چھ بج کر پانچ منٹ پر روانہ ہوکر چھ بج کر اٹھارہ منٹ پر اس ہال میں تشریف لے آئے۔

حضور انور کی آمد سے قبل اس تقریب میں شامل ہونے والے مہمان اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔ آج کی اس تقریب میں ۱۱۴ مہمان شامل تھے جن میں ممبر صوبائی پارلیمنٹ، دو شہروں کے میئرز، مقامی اور صوبائی سیاستدان، پولیس کے افراد، وکلاء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔

چھ بج کر بائیس منٹ پر تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم حافظ طاہر احمد صاحب نے کی اور اس کا جرمن زبان میں ترجمہ فرید سمیع صاحب نے پیش کیا۔

اس کے بعد مکرم امیر صاحب جرمنی عبد اللہ واگس ہاؤزر صاحب نے تعارفی ایڈریس پیش کیا۔

امیر صاحب نے اس شہر کے تعارف میں بتایا کہ WETTERAU کے وسط میں Florstadt کا خوبصورت شہر واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی دس ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور اس شہر کی تاریخ دو ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ اس شہر میں جماعت کی تعداد ۱۶۰ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس مسجد کی تعمیر سے قبل ہمسایہ جماعتوں میں یہاں کے احباب اپنے پروگراموں کے لیے اکٹھے ہوتے تھے۔

مسجد کا موجودہ پلاٹ جس کا رقبہ ۸۱۱ مربع میٹر ہے جنوری ۲۰۱۵ء میں خریدا گیا۔ اس بلڈنگ کا تعمیراتی رقبہ ۵۰۶ مربع میٹر ہے۔ نماز کے لیے نچلی اور بالائی منزل پر دو ہال بنائے گئے ہیں۔ ایک خواتین کے لیے دوسرا مرد احباب کے لیے، ہر ایک کا رقبہ ۶۵ سے ۷۰ مربع میٹر کے درمیان ہے۔ اس کے علاوہ روزمرّہ کی ضروریات کے لیے ایک ملٹی فنکشن روم ہے۔ ایک لائبریری ہے اور دفاتر ہیں، ایک کچن بھی بنایا گیا ہے۔ مسجد کے ساتھ ایک مربیّ ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

آخر پر امیر صاحب نے اس شہر کی حکومتی انتظامیہ کے ان تمام افراد کا شکر یہ ادا کیا جن کا تعاون مسجد کی تعمیر کے دوران جماعت کو حاصل رہا۔

امیر صاحب جرمنی کے ایڈریس کے بعد شہر Florstadtشہر کے میئر MR. HERBERT UNGER نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا

میں سب سے پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں سلام عرض کرتا ہوں اور خوش آمدید کہتا ہوں، اس کے بعد تمام حاضرین کو اور جماعت کے ممبران کو سلام عرض کرتا ہوں۔

اس کے بعد موصوف نے کہا کہ بے شک مسجد کو بنانے میں بہت زیادہ وقت لگا ہے لیکن اب وہ بہت اعلیٰ طور پر مکمل ہوگئی ہے۔ جس شخص نے میری طرح مسجد کے قیام کے سارے مراحل ساتھ گزارے ہیں یعنی مسجد کا منصوبہ، اس کے اخراجات، شہر کی انتظامیہ سے عمارت بنانے کی منظوری لینا اور تعمیراتی کام سے لے کر آج کے دن کے افتتاح تک تو وہ یقیناً جان سکتا ہے کہ اس لمبے سفر میں احمدیہ جماعت کے ممبران کو کتنی مشکلات کا سامنا تھا اور یہاں کی جماعت کے ممبران کو کتنے فاصلے طے کرنے پڑے۔ یہ تمام مشکلات کا سامنا مسجد کے سنگِ بنیادرکھنے کے بعد بھی کرنا پڑا، جو احمدیہ مسلم جماعت کے خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خود تشریف لاکر اکتوبر ۲۰۱۵ء میں رکھا تھا۔

اس کے بعد میئر صاحب نے کہا کہ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم شہر کی انتظامیہ کی طرف سے اس بارہ میں بالکل بھی رضامند نہیں تھے کہ پلاٹ کے مالک نے یہ جگہ جماعت کو مسجد کے قیام کے لیے فروخت کردی۔

پلاٹ کے مالک نے نہ تو شہر کو یہ پلاٹ بیچا اور نہ ہی کسی اور تجارتی investor کو جنہیں اس پلاٹ میں دلچسپی تھی، بلکہ جماعت احمدیہ کو مسجد کے لیے یہ پلاٹ فروخت کردیا باوجود اس کے کہ یہ ایک تجارتی علاقہ ہے۔ ہمارے نزدیک تو مسجد کی عمارت council-hall کے قریب ہونی چاہیے تھی۔ جب ہمیں اس پلاٹ کے بِک جانے کا علم ہوا تو وقت نہیں رہا تھا کہ ہم اسے قانونی طور پر بھی روک سکیں، لیکن آج ہم اس بارہ میں بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں کہ ایک لمبے اور محنت طلب عرصہ کے بعد یہ مسجد اس جگہ بن گئی ہے۔

جماعت کی انتظامیہ نے ہمارے شہر کی انتظامیہ سے نہایت ہی اعلیٰ تعاون کا مظاہرہ کیا اور اس طرح سے ایک بہت ہی خوبصورت مسجد بنی جو ہماری سوسائٹی کے عین وسط میں موجود ہے اور اِس طرح سے مذاہب کو سوسائٹی میں جگہ دینی چاہیے۔

اس کے بعد میئر نے کہا کہ میری خواہش اور تمنا ہے کہ یہ مسجد مبارک نہ صرف احمدیہ مسلم جماعت کے ممبران کے لیےبرکت کا باعث ہو بلکہ Florstadt کے تمام شہریوں، ہمسائیوں اور مہمانوں کے لیے بھی یہ مسجد برکت کا باعث ہو اور یہ مسجد سب کے لیے ہم آہنگی پیدا کرنے والی اور ہر ایک کو اکٹھا کرنے والی ہو۔

آخر پر مئیر صاحب نے His Holinessکے لیے اور اسی طرح تمام جماعت کے ممبران اور ہر اس فرد کے لیے جو اس مسجد میں داخل ہو اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم سب کا جو ایک ہی خدا ہےوہ اس مسجد کو مبارک کرے۔

بعد ازاں Niddatal شہر کے میئر Michael Hahn صاحب نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا

سب سے پہلے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس کے بعد تمام حاضرین کو اور جماعت کے ممبران کو سلام عرض کرتا ہوں۔

اس کے بعد موصوف نے کہا کہ Niddatalمیں بھی احمدیہ مسلم جماعت کے ممبران مقیم ہیں اور یہ اس florstadt جماعت کا حصہ ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں آپ کو آج میونسپل اداروں کی طرف سے بھی مبارک باد پیش کرسکتا ہوں۔

موصوف نے کہا کے ’’مسجد مبارک ‘‘ جو کہ مسجد کا نام ہے اس کے معنی برکت والے ہوتے ہیں اور ایسے گھر کے لیے یہی خواہش ہوتی ہے کہ یہ برکت والا ہو۔ جس بات کی مجھے نہایت خوشی ہے وہ نیشنل امیرصاحب کے بیان کی ہے جو انہوں نے ایک معلوماتی نشست میں دیا تھا کہ آپ لوگ ہر ایک کو اس مسجد میں داخل ہونے دیتے ہیں سوائے شیطان کے۔ یہ ایک مذہبی جماعت ہونے کے باعث ایک بہت خوبصورت نظریہ ہے کہ ہر ایک سے آپ لوگ رابطہ میں رہنا چاہتے ہیں خواہ ان کا دوسرے مذاہب سےتعلق ہو۔

آخر پر میئر صاحب نے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور مبارک باد پیش کی۔

اس کےبعد صوبائی ممبر پارلیمنٹ Tobia Utter نے اپنا ایڈریس پیش کیا۔ موصوف نے سب سے پہلے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو سلام پیش کیا اور خوش آمدید کہا۔ اس کے ساتھ ہی تمام حاضرین کو اور جماعت کے ممبران کو بھی خوش آمدید کہا۔

اس کے بعد انہوں نے کہا کہ آج کل جب کہ دنیا کے نہایت ہی خوفناک حالات ہیںاس اندھیرے کے زمانہ میں ہمیں ایک خوشی کا دن میسر ہوا کیونکہ آج جماعت احمدیہ Florstadt اپنی مسجد مبارک کا افتتاح کر رہی ہے۔ یہ مسجد کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ جرمنی میں حقیقت میں مذہبی آزادی میسر ہے۔ مسجد ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں عبادت کی جا سکے لیکن ساتھ ہی اس جگہ پر لوگ آپس میں ملتے بھی ہیں اور یہ ایک امن کی جگہ بھی ہے۔ مجھے ہر بار خوشی ہوتی ہے کہ جماعت احمدیہ کو صرف اپنے جماعت کے ممبران کی فکر نہیں ہوتی بلکہ احمدی مسلمانوں کو اپنے دین میں اس بات کی بھی توجہ ہے کہ انسانیت کی مجموعی طور پر خدمت کی جائے۔

اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں صوبہ Hesse میں مختلف اوقات میں احمدیہ مسلم جماعت سے رابطہ میں رہتا ہوں اور دیکھنے کو ملتا ہے کہ جماعت ہماری سوسائٹی کا فعال حصہ ہے۔ گورنمنٹ اس بات کی پابند ہے کہ مذہب کے بارہ میں غیر جانبدار نظریہ رکھے۔ لیکن Hesse کی صوبائی حکومت اپنے آپ کو ایسے مذہبی لوگوں کا ساتھی سمجھتی ہے جو اپنے دین کے ساتھ ساتھ خدمت انسانیت میں حصہ ڈالیں۔ کئی سالوں سے جماعت احمدیہ جرمنی Hesse کے صوبہ میں سکولوں میں Religious Teaching کی ذمہ دار ہے اور اس میں بہت کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔

بعد ازاں موصوف نے کہا کہ آج اس خوشی کے دن ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم دنیا کی خوفناک خبروں کو نظر انداز کریں۔پاکستان میں احمدیہ جماعت کو بہت تکالیف سہنی پڑی ہیں۔ اس سال میں تو ظلم اور تشدد بہت بڑھ گیا ہے۔ اگر سچ کہا جائے تو پاکستان کے حالات آج کل اچھے نہیں۔ نہ ہی احمدیوں کے لیے اور نہ ہی عیسائیوں کےلیے۔کچھ دن قبل ہی افواہوں کی وجہ سے تشددپسند لوگوںنےعیسائیوںاور ان کے عبادت خانوں پر حملہ کیا اور چرچ کو جلا دیا گیا۔ مذہبی جذبات کو غلط طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

موصوف نے کہا کیونکہ ایسے ظالم لوگ ناجائز طور پر مذہب کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے غلط کام کرسکیں اس لیے بہت سے لوگوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں رہا۔لیکن خاص طور پر ایسے اندھیرے وقت میں خدا کےنور کی ضرورت بڑھ جاتی ہے اور پیار اور امن کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں۔احمدیہ مسلم جماعت میں خاص طور پر یہ values پائی جاتی ہیں۔ہمیں مل کر مشکل حالات کا سامنا کرنا ہوگا اور اپنی جمہوریت کا دفاع کرنا ہوگا۔ آئندہ بھی ہم لوگوں کو جرمنی کے آئین کے مطابق امن اور رواداری میں مل کر رہنا ہوگا۔ ہماری جمہوریت اور ہمارا آئین ہر ایک فرد کو بہت سی آزادیاں دیتا ہے لیکن ساتھ یہ ذمہ داری بھی سپرد کرتا ہے کہ اس آزادی کو صحیح طر ح استعمال کیا جائے۔ ہر ایک کتاب کے بارہ میں بے شک بحث کریں، اس کے بارہ میں بات کریں، لیکن انہیں جلانا اور دوسروں کے جذبات کو مجروح کرنا یہ مناسب نہیں۔

آخر پر موصوف نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ His Holinessایک بار پھر ہمارے پاس تشریف لائے ہیں اور اپنی آمد سے مسجد کے افتتاح کو خاص کر دیا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا گھر ہمیشہ ایک رواداری والا گھر رہے جہاں لوگوں کی مدد کی جائے اور انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی ترغیب دلائی جائے ا ور خدا تعالیٰ کا پیار ہم میں ظاہر ہو۔شکریہ۔

اس کے بعد چھ بج کر باون منٹ پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطاب فرمایا۔

خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

برموقع افتتاحی تقریب مسجد مبارک Florstadt جرمنی

تشہد و تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

تمام معزز مہمانان، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ہم اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں اس علاقہ میں ایک مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔ مسجد ہمارے دین کے مطابق خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔ مسجد وہ جگہ ہے جہاں لوگ جمع ہو کر ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ایک دوسرے سے محبت پیار اور حسن سلوک کی تعلیم دیتے ہیں۔

مساجد کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اس کا حق ادا کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے، جو حقیقی مسلمان ہے۔ اور یہ کبھی ہو نہیں سکتا کہ مسجد کا حق ادا کرنے والا کبھی کوئی ایسی حرکت کرے جس سے خدا تعالیٰ کی عبادت کا بھی حق ادا نہ ہو رہا ہو اور لوگوں کے حق بھی ادا نہ ہورہے ہوں۔ قرآن کریم نے جہاں مسلمانوں کو کافروں پر سختی کرنے کی تعلیم دی ہے کہ انہیں اب سخت طریقہ سے جواب دو، وہاں یہ نہیں کہا، مسلمان اپنے دین کی حفاظت کریں، بلکہ کہا یہ لوگ جو مذہب کے خلاف ہیں، جو فتنہ و فساد پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو خدا کے مختلف انبیاء کی تعلیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف مسلمانوں کو اکٹھا ہونا چاہیے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ اگر ان کافروں کو سختی سے جواب نہ دیا جو مسلمانوں کو ختم کر رہے ہیں، تو پھر یہ نہیں کہ صرف مسلمان ختم ہوں گے، بلکہ نہ کوئی چرچ باقی رہے گا، نہ کوئی Synagogue باقی رہے گا اور نہ کوئی ٹیمپل باقی رہے گا، گویاکہ یہ لوگ مذہب کے خلاف ہیں۔ ان تمام مذاہب کے خلاف ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف انبیاء لے کر آئے۔

پس اسلام کی تو یہ بنیادی تعلیم ہے، کہ مذہب کی حفاظت کرنی ہے اور دوسرے مذہب کی عزت کرنی ہے۔ اس لیے ہم یہ کہتے ہیں، ہم موسیٰؑ کی بھی عزت کرتے ہیں، عیسیٰؑ کی بھی عزت کرتے ہیں، ہندوؤں کے انبیاء کی بھی عزت کرتے ہیں، بدھا کی عزت کرتے ہیں اور ہر مذہب جو دنیا میں آیا اس کی عزت کرتے ہیں، بلکہ ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ تم انسانوں کی بھی عزت کرو اور ان کا احترام کرو۔ بلکہ یہاں تک قرآن کریم میں ہے کہ جو لوگ بتوں کو پوجنے والے ہیں، جو شرک کرتے ہیں، ان کے بتوں کو بھی تم برا نہ کہو، کیونکہ وہ پھر اس کے جواب میں خدا کو بُرا کہیں گے۔ اورپھر جب و ہ خدا کو بُرا کہیں گے تو اس سے پھر دنیا میں بد امنی پیدا ہوگی اور لڑائی جھگڑے کی فضا پیدا ہوگی۔ پس یہ اسلام کی تعلیم ہے۔ جس کی بنا پر ہماری مسجد یں بنائی جاتی ہیں اور جس کے لیے ہم ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ پس یہ ہر ایک کے بارے میں ہماری بنیادی تعلیم ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

باقی رہی یہ بات کہ اس مسجد کی تعمیر کی وجہ سے بعض پڑوسیوں کو تحفظات تھے۔ یہ اس لیے تھا کہ انہوں نے ایسے مسلمانوں کو دیکھا تھا جو اسلام کے نام پر غلط عمل کررہے تھے۔ غلط تعلیم دے رہے تھے۔ اسلام کی تعلیم، جو قرآن کریم کی تعلیم ہے یا جس کا اظہار ہمارے پاک نبی ﷺ نے کیا، وہ تعلیم توبڑی امن کی تعلیم ہے، پیار کی تعلیم ہے اور محبت کی تعلیم ہے۔ قرآن کریم نے تو کہا ہے کہ پڑوسیوں کا حق ادا کرو۔ اور اس حد تک حق ادا کرو، کہ صرف یہ نہیں کہ جو تمہارا next door ہمسایہ ہے، وہی تمہارا ہمسایہ ہے، بلکہ چالیس گھروں تک تمہارے ہمسائے ہیں۔اور جو تمہارے ساتھ سفر کرنے والے ہیں وہ تمہارے ہمسائے ہیں، تمہارے ساتھ دفتر وں میں کام کرنے والے، تمہارے ساتھ فیکٹریوں میں کام کرنے والے سب تمہارے ہمسائے ہیں۔ ان کی عزت کرو اور احترام کرو۔ بلکہ آنحضرت ﷺ نے ہمسایوں کے حق کااس حد تک ذکر کیا کہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہمیں خیال ہوا کہ شاید ہماری وراثت میں بھی ہمسایوں کا حصہ بن جائے۔ اس حد تک اسلام ہمسایوں کو حقوق دیتا ہے۔ اس لیے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کبھی احمدی مسلمان سے جو حقیقی اور سچا مسلمان ہے کسی ہمسائے کو کبھی کسی قسم کی تکلیف پہنچے۔ بس اس لحاظ سے میں دوبارہ اس بات کا اظہار کروں گا ، پہلے بھی کئی بار کرچکا ہوں کہ ہمارے ہمسایوں کو اس بارے میں بے فکر رہنا چاہیے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ لعزیز نے فرمایا:

مسجد بنی ہے تو ایک خدا کی عبادت کے لیے بنی ہے۔ مسجد بنی ہے تو علاقہ میں امن اور پیار اور محبت اور بھائی چارے کے Symbol کے طور پر بنی ہے۔ مسجد بنی ہے تو اس بات کے اظہار کے لیے بنی ہے کہ یہاں سے اب محبت، پیار اور بھائی چارے کا نعرہ بلند ہوگا اور ہم ہر لحاظ سے اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنے والے اور ان سے تعاون کرنے والے ہونگے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

میئر صاحب کا بھی میں شکر یہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے بھی دوستی کا حق ادا کیا۔مسجد میں جہاں میں ابھی افتتاح کرنے گیا تھا، یہ تشریف لائے ہوئے تھے،یہ ملے اور پچھلی دفعہ بھی جب میں آیا تھا تو ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کو سب باتیں بھی یاد تھیں اور انہوں نے بڑی محبت اور پیار کا اظہار بھی کیا۔ اس لحاظ سے میں ان کابہت شکرگزار ہوں کہ یہ جماعت احمدیہ کو بہت عزت اور احترام سے دیکھتے ہیں اور ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

مسجد گو ایک ایسی جگہ بنی ہے جو ایک ٹاؤن سنٹر ہے،تجارتی جگہیں زیادہ ہیں، بازار ہیں، دنیا کی مادی خرید و فروخت کے سامان یہاں زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن ایسی جگہوں پر مذہب کی بھی نمائندگی ہونی چاہیے۔ تاکہ حقیقی روحانی تعلیم کا بھی دنیا کو پتا لگے۔ اس چیز کا بھی پتا لگے جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہاہے۔ تاکہ بندے جب مادی چیزوں کو دیکھیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں تو اپنے پیدا کرنے والے کا بھی شکر گزار بنیں اور اس لحاظ سے اس کو بھی ہمیشہ یاد رکھیں۔ کیونکہ ہمیں اسلام میں یہی تعلیم ہے کہ اگر تم خدا کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو مزید تمہارے لیے بڑھائے گا۔ پس اس لحاظ سے بھی میں سمجھتا ہوں مسجدوں کا ان مادی کاروبار کی جگہوں میں بھی ہونا ضروری ہے۔ یا کسی بھی مذہب کی نمائندگی کا اور ان کی عبادت گاہ کا یہاں ہونا ضرور ی ہے۔ تاکہ وہ صرف دنیا میں نہ ڈوب جائیں، بلکہ خدا کو بھی یاد رکھیں۔ اپنے پیدا کرنے والے کو بھی یاد رکھیں اور اس کی عبادت کا بھی حق ادا کرنے والے ہوں اور مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ اس مسجد کی تعمیر کے بعد، احمدی، جن کا اکثر لوگوں نے ذکر کیا کہ بڑے اچھے تعلقات والے ہیں اور بڑے اچھے احمدی ہیں، وہ مزید اپنے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں گے اور یہ مسجد امن، محبت اور پیار کی علامت کے طور پر اس علاقہ میں جانی جائے گی۔

نداٹال(Niddatal) کے میئر صاحب آئے، ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے بڑے نیک جذبات کا اظہار کیا۔ ممبر آف پارلیمنٹ بھی آئے ہیں ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے جن جذبات کا اظہار کیا کہ واقعی ہمیں دنیا میں امن اور سلامتی کی ضرورت ہے۔ دنیا تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ اور اس لیے تباہی کی طرف جا رہی ہے کہ ہم اپنے پیدا کرنے والے کو بھول گئے ہیں۔ مادیت میں ہم زیادہ ڈوب گئے ہیں۔ اپنے نفس کے حق کو زیادہ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ دوسروں کے حق ادا کرنے کی طرف ہماری توجہ نہیں اور اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلنا تھا جو نکل رہا ہے کہ پھر ایک دوسرے کے خلاف ظلم ہو۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اگر تم بندوں کا حق ادا نہیں کرتے تو تمہاری عبادتیں بھی تمہارے منہ پر ماری جائیں گی، لوٹا دی جائیں گی۔ اگر تم مسکین کا خیال نہیں رکھتے تو تمہاری نماز اور عبادتیں قبول نہیں ہوتیں، اگر تم یتیم کا خیال نہیں رکھتے تو تمہاری نماز اور عبادتیں قبول نہیں ہوتیں، اگر تم ضرورت مند کا خیال نہیں رکھتے، غریب کا خیال نہیں رکھتے تو تمہاری عبادتیں اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ مسجد تو ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ اگر ایک خدا کی عبادت کرنے آئے ہو توپہلے بندوں کے حق بھی ادا کرکے آؤ۔یتیم کا بھی خیال رکھو، مسکین کا بھی خیال رکھو، ضرورت مند کا بھی خیال رکھو، تب میرے پاس آئو، میری مسجد میں آئو، عبادت کرنے آئو تو پھر میں تمہاری دعائیں بھی قبول کروں گا۔ پس مسجد تو ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ممبر آف پارلیمنٹ نے ذکر کیا کہ ظلم ہو رہا ہے دنیا میں اور چرچ بھی گرائے جا رہے ہیں، مسجدوں کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ جہاں ایک فرقہ دوسرے فرقہ سے اختلاف کرتا ہے یا ایک مذہب دوسرے مذہب سے اختلاف کرتا ہے، وہاں یہ باتیں ہو رہی ہیں اور بد قسمتی سے مسلمان ملکوں میں یہ ظلم زیادہ ہو رہے ہیں۔ یا اب تو یہاں یورپ میں بھی نظر آرہے ہیں، جیسا کہ انہوں نے جنگ کی مثال بھی دی۔ ہمیں آنحضرت ﷺ نے یہ تعلیم دی ہے کہ ان ظلموں کے خلاف آواز اٹھائو اور مظلوم کی بھی مدد کرو اور ظالم کی بھی مدد کرو۔ تو صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ مظلوم کی مدد تو ہم کر سکتے ہیں کہ اسےظالم کے ہاتھ سے بچائیں۔ لیکن ظالم کی مدد ہم کس طرح کر سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کے ظلم کے ہاتھ کو روکو کیونکہ اگر وہ ظلم میں بڑھتا چلا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے نیچے آئے گا، اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نیچے آئے گااور یوں اپنی دنیا اور عاقبت خراب کرنے والا ہوگا۔ پس جو مذہبی انسان ہے وہ صرف اس دنیا پر نظر نہیں رکھتا بلکہ اگلے جہان پر بھی نظر رکھتا ہے،اس کو صرف اپنی فکر نہیں ہوتی، اسے یہ فکر بھی ہے کہ دوسروں کو اگلے جہان کے عذاب سے بچائے، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچائے۔ پس یہ وہ مقصد ہے جس کے لیے ہم عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ہم اللہ تعالیٰ کا حق ادا کریں گے تو ہمارے اندر بندوں کے حق ادا کرنے کی روح بھی پیدا ہوتی ہے۔ ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کی روح بھی پیدا ہوتی ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اللہ کرے کہ اب اس مسجد کے بننے کے بعد یہاں جماعت احمدیہ کے جو افراد رہتے ہیں، وہ پہلے سے بڑھ کر اپنے وجود کی پہچان کروانے والے ہوں۔ جو پیار، محبت، امن اور بھائی چارہ کی پہچان ہو۔ اس تعلیم کو فروغ دینے والے ہوں، جو پیار، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم ہو اور یوں ہم دنیا میں امن قائم کرنے والے ہوں، ظلم کا خاتمہ کرنے والے ہوں اور ظلم کے خلاف ہم ہمیشہ آواز اٹھانے والے ہوں۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ خطاب سات بج کر سات منٹ تک جاری رہا۔

بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔

دعا کے بعد تمام مہمانوں کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔

Florstadt شہر کے میئر MR. HERBERT UNGER سٹیج پر حضور انور کی بائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ حضور انور ازراہ شفقت موصوف سے گفتگو فرماتے رہے۔

کھانے کے بعد میئر صاحب اجازت لے کر رخصت ہوئے تو NIDDATAL کے میئر MICHAEL HANN حضور انور کی بائیں جانب اور صوبائی ممبر پارلیمنٹTOBLES UTTER صاحب حضور انور کے دائیں جانب آکر بیٹھ گئے۔حضور انور نے ازراہ شفقت ان دونوں مہمانوں سے بھی گفتگو فرمائی۔

بعد ازاں پروگرام کے اختتام پر آٹھ بج کر پانچ منٹ پر یہاں سے واپس بیت السبوح کے لیے روانگی ہوئی۔

آٹھ بج کر ۳۵منٹ پر حضور انور کی بیت السبوح تشریف آوری ہوئی۔ حضور انور کچھ دیر کے لیے اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

نو بجے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تشریف لا کر نماز مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوںکی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔

تاثرات

آج کی اس تقریب میں شامل ہونے والے بہت سے مہمان اپنے جذبات اور تاثرات کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکے۔

یہاں بعض مہمانوں کے تاثرات پیش کیے جاتے ہیں۔

ہربرٹ انگر (Herbert Unger) صاحب جو کہ شہر Florstadt کے میئر ہیں نے کہا کہ مجھے جب آٹھ سال قبل سنگ بنیاد کے موقع پر ملاقات کا موقع ملا تھا تو اس وقت بھی حضور انور نہایت متاثر کن شخصیت معلوم ہوئے تھے۔

میرے نزدیک حHis Holiness ایک بہت ہی پیاری شخصیت ہیں اور آپ کے ساتھ بہت پیارے انداز میں گفتگو کی جا سکتی ہے۔ حضور انور اپنے رتبہ کے مطابق بہت اعلیٰ وقار کے حامل ہیں۔ ایسے رتبہ پر ہونے کے باوجود حضور انور زندہ دل ہیں اور وہ مذہبی راہنما ہونے کے باوجود دنیاوی معلومات بھی رکھتے ہیں

حضور انور نے جو آج اپنے خطاب میں فرمایا تھاکہ اگر مسلمانوں کو یہ حکم نہ ہوتا کہ دین کا دفاع کریں تو آج تک کوئی مذہب بھی باقی نہیں رہنا تھا۔ آپ کی باتوں سے میں تو ۱۰۰ فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ حضور انور کا یہاں تشریف لانا میرے لیے نہایت قابل فخر تھا۔

میشا ایل ہان صاحب (Michael Hahn) جو ساتھ والے شہر Niddatal کے میئر ہیں کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت سے بہت ہی Interesting اور پیاری گفتگو Agriculture کے بارہ میں ہوئی اور مجھے حضور سے اس حوالہ سے تبادلہ خیالات کرنے کا موقع ملا۔ خلیفہ وقت نے مجھے بتایا کہ وہ تو زمین کے رقبہ کے لیے Acres استعمال کرتے ہیں جبکہ جرمن Hectares استعمال کرتے ہیں۔ خلیفہ وقت کو اس بات میں بھی کافی دلچسپی تھی کہ ہم یہاں پر کیا کیا اگاتے ہیں اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کس قسم کی فصل کاشت کرتا ہوں۔ خلیفہ وقت کا وجود مجھے بہت متاثر کرنے والا تھا اور میرے لیے یہ بہت اعزاز ہے کہ ایسی عظیم ہستی سے مجھے ملنے کا موقع ملا۔ مجھے ان کی یہ بات بہت اچھی لگی کہ ہمیں آپس کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ آپ کی باتیں دل پر اترتی ہیں اور عین فطرت کے مطابق ہیں اور فوراً سمجھ آجاتی ہیں۔ میرے لیے یہ حیران کن بات تھی کہ اسلامی تعلیم کا دائرہ کتنا وسیع ہے اور مجھے بہت اچھا لگا کہ خلیفہ وقت نے فرمایا کہ ہمیں پہلے دوسروں کے حقوق پورے کرنے چاہئیں اور پھر اپنے حقوق کی طرف خیال کرنا چاہیے۔ مجھے خلیفہ وقت کی مسجد کے مارکیٹس کے پاس ہونے والی بات بہت پسند آئی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد کو شہر کے وسط میں ہونا چاہیے تھا مگر میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خلیفہ وقت نے جو خیال بیان فرمایا ہے وہ بالکل صحیح ہے اور مسجد کے لیے یہی بہترین جگہ ہے۔ آج سے چھ سو سال قبل ایسا ہی ہوتا تھا کہ جس جگہ پر لوگ اپنے روز مرہ کے کام اور خریداری کرنے جاتے تھے وہاں چرچ بھی ہوتا تھا تاکہ لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں میں ساتھ ساتھ روحانی امور کو بھی آرام سے سر انجام دے سکیں۔

ٹوبیاس اُٹر(Tobias Utter) صاحب جو کہ صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں نے کہا کہ مجھے کچھ عرصہ قبل Freidberg کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر خلیفۃ المسیح کا خطاب سننے کا موقع ملا تھا۔ لیکن اس بار بہت قریب سے دیکھنے اور بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ خلیفۃ المسیح بہت خاموش طبع محسوس ہوئے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ بہت سوچ سمجھ کر چنتے ہیں اور آپ کا انداز پیار سے بھرا ہوا ہے۔

ایک چیز جو مجھے بہت اچھی لگی یہ تھی کہ خلیفہ نے اپنا کوئی ایسا خطاب پیش نہیں کیا جو صرف آپ پڑھ کر سنا دیں بلکہ آپ نے ہر مقرر کے الفاظ کے بارہ میں کچھ بیان فرمایا۔ آپ کے الفاظ نہایت پُر اثر تھے۔

آپ نے آج کے حالات کے مطابق واضح کر دیا کہ جو خطرناک حالات ہیں ان کے لیے ہمیں ہی کچھ کرنا ہوگا اور سب سے اہم یہ تھا کہ آپ نے یہ بات کہی کہ ایمان لانے والوں کا آج کل نہایت ہی اہم کردار ہے۔

جب مجھے خلیفہ سے بات کرنے کا موقع ملا تو آپ نے مجھے یہ بات بھی واضح کر دی کہ آپ ہر جگہ یہ پیغام پہنچاتے ہیں تاکہ امن قائم کیا جائے۔

ایک مہمان کسٹوف مائوغر (Christoph Maurer) صاحب جو کہ بلڈر ہیں اور انہوں نے اس مسجد کی چھت بنانے کا کام کیا ہے کہنے لگے کہ مجھے خلیفہ وقت کا طرز خطاب بہت پسند آیا کیونکہ آپ کی زبان بہت ہی سادہ اور آسانی سے سمجھ آنے والی تھی۔ میں آپ کی باتوں سے سو فیصد متفق ہوں۔ ہمسایوں سے حسن سلوک کی تعلیم عیسائی ہونے کی وجہ سے میرے لیے نئی تو نہیں تھی مگر اب مجھے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اسلام اور عیسائیت کا خدا ایک ہی ہے۔ میرے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ خلیفہ وقت نے فرمایا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم امن کو قائم کرنے کے لیے مل کر جدوجہد کریں۔

کرسٹوفر شٹارک (Christopher Stark) صاحب مقامی پولیس کے Head of Department ہیں اور ۲۰۱۱ء میں Nidda میں بھی مسجد کے افتتاح میں شامل تھے۔ کہتے ہیں کہ مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ مجھے دوبارہ مدعو کیا گیا۔ خلیفہ وقت کا خطاب عین وقت کی ضروریات کے مطابق تھا۔ مجھے یہ بات پسند آئی کہ خلیفہ وقت نے اپنے پہلے مقررین کے خطاب کا بھی ذکر فرمایا۔ میں اس خطاب میں سے یہ بات ضرور یاد رکھوں گا کہ ہمسایوں کے حقوق کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور بھائی چارہ کو بڑھاتے چلے جانا چاہیے۔ خلیفہ وقت نے جو ذکر فرمایا کہ یہاں مارکیٹس ہیں تو دنیاوی سودے خریدنے کے ساتھ ساتھ اپنی روزمرہ زندگی میں اب روحانی مائدے بھی اس مسجد سے کھائے جا سکیں گے یہ نہایت خوبصورت اور ضروری بات ہے۔

ایک مہمان کرسٹن مئی فیلڈ (Kristen Mayfield) صاحبہ جو کہ ریٹائرڈ banker ہیں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ کا خطاب بہت خوب تھا اور آسانی سے سمجھا جا سکتا تھا۔ مجھے یہ بات پسند آئی ہے کہ خلیفہ وقت نے صرف اپنی جماعت کو ہی مخاطب نہیں فرمایا بلکہ پوری دنیا کے لیے راہنمائی دی۔ میں یہ جان کے حیران ہوں کہ قرآن کی تعلیم صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ قرآن کریم تو تمام مذاہب اور انسانوں کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے اور مجھے یہ بات بھی پسند آئی کہ خلیفہ وقت نے فرمایا کہ ہمیں آپس میں امن قائم کرنے کے لیے محنت سے جدوجہد کرنی چاہیے۔ مجھے خاص طور پر وہ بات بہت پسند آئی جو خلیفہ وقت نے مسجد کے بارہ میں فرمائی کہ یہ مارکیٹس کے پاس ہے تو اب دنیاوی چیزوں کے ساتھ ساتھ روحانی مائدہ بھی لوگ اس علاقہ سے حاصل کر سکیں گے۔ میرا ذہن اس طرف بالکل بھی نہیں گیا مگر یہ بات بہت ہی زبردست ہے کیونکہ ہم واقعتاً زندگی کی رفتار میں اتنا مصروف ہوچکے ہیں کہ زندگی کے اہم امور کی طرف توجہ نہیں رہتی اور اب ہم مسجد میں آکے ان ضروری امور کی طرف اپنی توجہ کو دوبارہ سے قائم کرسکیں گے۔

ایک خاتون مارینا آلت (Marina Alt ) صاحبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج پہلی مرتبہ حضور انور کی مجلس میں شرکت کی۔ کہتی ہیں کہ میرے لیے یہ سب ایک نیا تجربہ تھا اور ایسا تجربہ مجھے پہلے کبھی نہیں ہوا مگر بہت ہی اچھا اور خوبصورت تجربہ تھا۔ خلیفہ وقت کا طرز خطاب مجھے بہت پسند آیا اور مجھے یہ بات بہت اچھی لگی کہ خلیفہ وقت نے دنیا کی حقیقی حالت کا صاف اور اصلی نقشہ کھینچا اور ساتھ ہی امن کی طرف کوشش کرنے کی شدیدضرورت کو واضح فرمایا۔ میں بہت حیران ہوں کہ جماعت تما م خدمات اور مساجد کی تعمیر صرف اپنے چندوں سے کر پاتی ہے۔ خلیفہ وقت کے خطاب میں سے میں یہ پیغام اپنے ساتھ لے جا رہی ہوں کہ ہم سب کو آپس کے تعلقا ت کو بہتر کرنے میں بہت محنت کرنی ہوگی تاکہ امن قائم ہو سکے۔ خلیفہ وقت کے وجود سے بہت عاجزی اورہمدردی محسوس ہوتی ہے۔

ویو لاغابین (Viola Rabien) صاحبہ مقامی کونسل میں کام کرتی ہیں اور ان کو پہلی دفعہ حضور انور کو براہ راست دیکھنے کا موقع ملاہے۔ کہتی ہیں کہ میں بہت متاثر ہوئی ہوں کہ اتنا بڑا پروگرام کتنے منظم طریق پر اور پُر امن طریقہ سے منعقد کیا گیا ہے اور یہ بات عیاں تھی کہ جماعت نے اس پروگرام کے لیےبہت محنت کی ہے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ خلیفہ وقت کے آنے پر مکمل ہال میں یکدم خاموشی ہوگئی۔ مجھے خلیفہ وقت کے خطاب میں یہ بات بہت اچھی لگی کہ اسلام دوسروں کو بھی کتنے حقوق دیتا ہے اور صرف ساتھ والے مکان میں رہنے والے کو ہی ہمسایہ قرار نہیں دیتا بلکہ بڑے وسیع معنوں میں ہمسایوں کے حقوق اسلام میں بیان ہوئے ہیں اور یہ پیغام مجھے بہت خوبصورت لگا۔ کیونکہ میں شہری انتظامیہ کا حصہ بھی ہوں اس لیے میری بھی خواہش یہی تھی کہ مسجد کو شہر کے وسط میں ہونا چاہیے مگر جو خلیفہ وقت نے بات بیان فرمائی کہ مارکیٹس کے ساتھ ساتھ اب مسجد میں زندگی کی رفتار سے ہٹ کر ٹھہرائو اور امن کی طرف توجہ کرنے کا موقع مل جائے گایہ سوچ نئی تھی اور مجھے بہت پسند آئی۔ میں نے خلیفہ وقت کو پہلے بھی دیکھا ہوا تھا تصاویر اور ویڈیو پہ مگر آپ کو اب براہ راست دیکھ کر آپ کی متاثر کُن شخصیت کا مزید اندازہ ہوا ہے۔ حالانکہ خلیفہ وقت خاموش طبع معلوم ہوتے ہیں پھر بھی آپ کی شخصیت کا دلوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔

ایک مہمان مرکوغشر (Mirko Roscher) صاحب جو کہ ایک مقامی مکینک ہیںکہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کا خطاب میرے لیے بہت وسیع خیالوں سے بھرا ہوا تھا کیونکہ اس تاریکی کے دور میں ہمیں واقعۃً ایک دوسرے کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔ یہ پیغام نہایت ضروری ہے۔ آج خلیفہ وقت کا خطاب سن کر مجھے دوبارہ سے احساس ہوا ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی خدا کی طرف سے ہیں۔

میکسی میلیان پارزن صاحب جو کہ ایک انویسمنٹ مینجر ہیں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے خلیفہ وقت کا خطاب بہت اچھا لگا اور مجھے یہ بات بہت پسند آئی کہ خلیفہ وقت نے اپنے زیرِ مخاطب صرف اپنی جماعت کو نہیں رکھا بلکہ ہر ایک کو مخاطب کیا اور جو آپ نے فرمایا وہ ہر مذہب والے اور ہر لامذہب کےلیے برابر اہمیت رکھتا ہے۔ نیز آپ کے الفاظ نہ صرف مومنین کے لیے بلکہ خدا کو نہ ماننے والوں کے لیے بھی دلی سکون دینے والے تھے اور جو بھی آپ نے فرمایا اس میں امن کی کشش ہی محسوس ہو رہی تھی۔ آپ کے خطاب میں سے سب سے اہم چیز جو میں نے سیکھی وہ یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایمان کا مل ہو ہی نہیں سکتا جب تک دوسروں کے حقوق نہ پورے کریں، مجھے خلیفہ وقت کا وجود ایک بہت مضبوط وجود اور روشن خیال وجود محسوس ہوا ہے۔ یہ میرے لیے بہرحال ایک بہت عزت والی بات تھی کہ خلیفہ وقت کی مجلس میں مجھے بیٹھنے کا موقع ملا۔

ایک مہمان خاتون آنتےّ ویتے کم (Anette Wetekam) صاحبہ اکتوبر میں ہونے والے صوبا ئی الیکشن میں اپنے علاقہ کی طرف سے امیدوار بھی ہیں کہتی ہیں کہ میں نے خلیفہ وقت کو پہلی دفعہ آج دیکھا ہے اور ان کا خطاب بہت ہی عمدہ اور دلوں کو چھو جانے والا تھا۔مجھے یہ بات بہت اچھی لگی کہ خلیفہ وقت نے واضح طور پر بتایا کہ دنیا کے حالات بہت خراب ہیں اور یہ تاریک دور ہے جس میں ہمیں خاص طور سے اس چیز پر توجہ دینی پڑے گی کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور یہ ایسی بات تھی جو میرے دل کو بہت بھاگئی۔ میں نے آج خلیفہ وقت کے خطاب سے سیکھا ہے کہ قرآن تو ایک ایسی کتاب ہے جو دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور دوسروں کی عزت اور حفاظت کی تعلیم دیتی ہے اور صرف مسلمانوں کی حفاظت کے لیے مخصوص نہیں۔ خلیفہ وقت کا وجود بہت باکمال وجود ہے اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ آپ کی باتیں یقیناً ہر ایک کے دل کو چھوتی ہیں۔ آپ کی مجلس میں شامل ہونا ایک بہت خاص تجربہ تھا اور میں ان لمحات کو کبھی بھولنے والی نہیں۔

سَوِن ملرونٹر (Sven Muller Winter) صاحب جو کہ ایک کمرشل کلرک ہیں اورانہوں نے خلیفہ وقت کو پہلی دفعہ براہ راست دیکھا کہنے لگے کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا بڑا اور منظم پروگرام ہونے والا ہے۔ میں پروگرام سے پہلے غلطی سے مسجد کی طرف چلا گیا تھا اور حیران رہ گیاتھا کہ نماز کی ادائیگی کے لیے کتنے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ بعض احباب نے باہر بھی نماز ادا کی، خلیفہ وقت نے اپنے الفاظ کا چنائو بہت احتیاط اور حکمت سے فرمایا کیونکہ انہوں نے اسلام کی وہ تعلیمات بیان فرمائیں جن کو سب سمجھ سکتے تھے اور ماننے پر مجبور تھے اور جو دوسرے مذاہب کی تعلیم میں بھی ملتی ہیں۔آپ کے خطاب کو سن کر مجھے روحانیت کی مزید سمجھ آئی اور مجھے روحانی امور میں دلچسپی بھی ہے۔ میں نےآج یہ بھی سیکھا ہےکہ جو تین بڑے مذاہب ہیں وہ واقعۃً ایک ہی خدا کی طرف سے ہیں۔ خلیفہ وقت بہت خاموش طبع محسوس ہوتے ہیں مگر آپ کے اندر ایک سکون اور امن بھی محسوس ہوتا ہے۔ آپ کا وجود ایک نہایت ہی خوبصورت وجود ہے جس کا اثر خود بخود دوسروں کے دلوں پر ہوتا ہے۔

ایک مہمان ٹرپ (Trupp) صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے خلیفہ وقت کی تقریر کو بہت متاثر کن پایا اور وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ حضور جو فرماتے ہیں اس پر عمل بھی فرماتے ہیں۔

ایک مہمان خاتون شاہدہ شیخ ( Shahida Sheikh) صاحبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں اور حقیقی اسلام کو پھیلا رہے ہیں۔

ایک مہمان خاتون ڈیزائروِر کنر (Desire Wirkner) نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضور نے امن کا پیغام پھیلایا ہے۔ حضور کے خطاب سے پہلے ان کی اسلام کے متعلق بہت منفی تصویر تھی جو آج مسجد کے افتتاح اور حضور کے خطاب کےساتھ ہی بدل گئی ہے۔

ایک مہمان زیگلندے اینگلر (Sieglinde Engler) صاحب کہتے ہیں کہ ایک ساتھ اکٹھے ہونے اور بیٹھنے سے تعلق بڑھتا ہے۔ ایسے پروگرامز اخوت کا باعث بنتے ہیں۔ خلیفہ کا پیغام عالمی ہے جو تمام دنیا کے لیے ہے۔

ایک مہمان خاتون روزی صاحبہ کہتی ہیں کہ وہ حضور کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئیں جس کو وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتیں۔ موصوفہ رات صحیح طرح سے سو نہ سکیں جس کی وجہ وہ بتاتی ہیں کہ میں خلیفہ وقت کو دیکھنے کے لیے بہت بے تاب تھی۔ خلیفہ وقت کے آنے سے پہلے بھی موصوفہ بہت نروس تھیں۔

ایک مہمان مسٹر میسّو (Mr. Messow) صاحب کہتے ہیں کہ اس تقریب کے انتظام سے بہت متاثر ہوا۔ انہوں نے خلیفہ وقت کو پہلی بار دیکھا اور خلیفہ وقت کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے کہنے لگے کہ حضور نے قرآن کریم کی جو خوبصورت تعلیم پیش کی ہے اس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اسلام غلط تعلیم نہیں پیش کرتا بلکہ مسلمانوں کا عمل غلط ہے۔

ایک مہمان ڈیتا غشتا ( Dieter Richter) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ وقت کا خطاب ایک ایسا پیغام ہے جو مزید لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ تقریب بہت اچھی تھی۔

ایک مہمان غُدّی گول (Ruddi Gol) صاحب کہتے ہیں کہ میں نے خلیفہ وقت کو پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔ خلیفہ وقت کا خطاب موجودہ حالات کے لیے بہترین ہے۔ حضور کے خطاب سے معلوم ہوا کہ اسلام میں حقوق العباد اور ہمسایوں کے حقوق ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ موصوف اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ روحانیت کے لیے مسجد بہت ضروری ہے۔

ایک مہمان خاتون حَپّل بیاترِکس (Happel Beatrix) صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ کا خطاب ہلا دینے والا تھا۔ ایک نمایاں بات دیکھنے کو ملی کہ حضور نے عین موقع پر نوٹس لیے نہ کہ ایک تیار شدہ تقریر پیش کی نیز خطاب میں پچھلے مقررین کے سوالات اور نکات کے جواب دیے۔ خطاب میں بہت سے ایسے گہرے پہلو بیان ہوئے ہیں جن کا حق ہے کہ ہر کوئی ان کو اہمیت دے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button