الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب

لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘برائے۲۰۱۳ء نمبر1 میں مکرمہ سیدہ منورہ سلطانہ صاحبہ اور مکرمہ عذرا عباسی صاحبہ کے قلم سے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحبؓ کی سیرت پر ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی اپنی ماموںزاد حرمت بی بی صاحبہ سے ہوئی جن سے دو لڑکے حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا فضل احمد صاحب بالترتیب ۱۸۵۳ء اور ۱۸۵۵ء میں پیدا ہوئے۔ حضرت مسیح موعود ؑکے بڑے بھائی مکرم مرزا غلام قادر صاحب کی اہلیہ حرمت بی بی صاحبہ (تائی صاحبہ) کے کوئی اولاد نہ تھی اس لیے انہوں نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحبؓ کو متبنٰی بنایا ہوا تھا۔ (تائی صاحبہ نے ۱۹۱۶ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس طرح حضرت مسیح موعودؑ کا الہام ’’تائی آئی ‘‘ پورا ہوا۔) مرزا سلطان احمد صاحبؓ کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ حضرت مسیح موعودؑ سے فارسی کی بعض کتب مثلاًگلستان، بوستان اور نحو اورمنطق کے ابتدائی رسالے پڑھے تھے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ مَیں کتابیں سرہانے رکھ کر سوجایا کرتا تھا، بہت محنتی نہ تھا لیکن سبق سمجھ لیا اور کچھ یاد بھی رکھا۔حضرت مسیح موعودؑ میرا آموختہ بھی سنا کرتے تھے اور مَیںبھول بھی جاتا مگر یہ کبھی نہ ہوا کہ پڑھنے کے متعلق مجھ سے ناراض ہوئے ہوںیا مجھے ماراہو۔

حضرت مرزا سلطان احمد صاحبؓ کی پہلی شادی محترمہ سردار بیگم صاحبہ سے ہوئی جن سے ایک بیٹے حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ ۳؍اکتوبر ۱۸۹۰ء کو پیدا ہوئے۔ انہیں مارچ ۱۹۰۶ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کی توفیق ملی۔ اس بارے میں ۲۰؍اکتوبر ۱۸۹۹ء کو رؤیا میں خوشخبری دی جاچکی تھی۔ چنانچہ اپنے پوتے کی بیعت اور رؤیا کے پورا ہونے پر حضرت مسیح موعودؑ نےبیعت کے اگلے روز اپنے گھرمیں دعوت کی جس میں حضورؑ کے تینوں صاحبزادے اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ بھی شامل ہوئے۔حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ کا بیان ہے کہ دو تخت بچھے ہوئے تھے جن پر ایک چاندنی بچھی ہوئی تھی ہم نے وہاں کھانا کھایا۔حضرت اماں جانؓ کھانا نکال کر دے رہی تھیں اور حضرت صاحبؑ پاس ہی ٹہل رہے تھے اور نہایت خوش نظر آتے تھے۔ یاد آتا ہے کہ آپؑ نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایاتھا: محمود! یہ تمہارا بھتیجا ہے۔

اہلیہ اوّل کی زندگی میں ہی حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے دوسری شادی محترمہ خورشیدبیگم صاحبہ سے کی جو مرزا امام الدین کی بیٹی تھیں۔ اُن کے بطن سے 15؍جون ۱۹۰۵ء کوحضرت مرزا رشید احمد صاحب پیدا ہوئے جن کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق ملی۔

حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے جب تحصیلداری کا امتحان دیا تو حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں پاس ہونے کے لیے بذریعہ خط دعا کی درخواست کی۔ حضورعلیہ السلام کو غصہ آیا کہ ان کو دنیاوی کاموں کی کتنی فکر ہے۔چنانچہ وہ خط پڑھتے ہی چاک کردیا اور دل میں کہا کہ ایک دنیاوی غرض کا اپنے مالک کے سامنے کیا پیش کروں۔ اس خط کے چاک کرتے ہی الہام ہوا کہ ’’پاس ہوجائے گا۔‘‘ یہ الہام بھی اکثر لوگوں کو بتلادیا گیاچنانچہ وہ لڑکا پاس ہو گیا۔

جب حضرت مسیح موعوؑد کا وصال ہوا تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحبؓ جالندھر میں افسرمال متعیّن تھے۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ اُس روز مَیں جالندھر میں گھوڑے پر سوار جا رہا تھاکہ یکدم بڑے زور سے مجھے الہام ہوا: ’’ماتم پر سی۔‘‘ مَیں اسی وقت گھوڑے سے اُتر آیا اور مجھے بہت غم تھا۔ خیال کیا کہ شایدتائی صاحبہ کا انتقال ہو گیا ہو۔پھر خیال کیا کہ نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ماتم پرسی تو والد صاحب کے متعلق ہی ہو سکتی ہے۔چنانچہ مَیں ڈپٹی کمشنر کے پاس گیا کہ مجھے رخصت چند دن کی دی جائے غالباً والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا نہ کوئی خبر آئی ہے نہ شائع ہوئی ہے۔ اسی درمیان میں تارآگیا جس میں والد صاحب کے انتقال کی خبر دی گئی تھی اور ڈپٹی کمشنر کو حیرت ہوئی۔

آپ فرمایا کرتے تھے کہ والد صاحب نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گزاری بلکہ فقیر کے طورپرزندگی گزاری۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے خطبہ جمعہ ۲۰؍اپریل ۱۹۸۴ء میں فرمایا کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت بہت بعد میں کی لیکن زندگی میں ایمان لے آئے تھے اور اپنے بیٹے حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ کو خود نصیحت کی کہ بیعت کرلو۔ خود ایمان لانے کے باوجود بیعت نہیں کرتے تھے۔ جب بعض دوستوں نے پوچھا تو کہا کہ مَیں جانتا ہوں کہ میرا باپ سچا ہے لیکن میرے اندر کمزوریاں ہیں۔ میرا نفس مجھے شرمندہ کرتا ہے کہ تم اس قابل نہیں کہ اس عظیم باپ کی بیعت کرسکو۔

حضرت مرزا سلطان احمد صاحبؓ نے ۱۹۲۸ء میں اعلانِ احمدیت کیاتھا اور دسمبر 1930ء میں اپنی آخری بیماری کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے دست مبارک پر بیعت کرلی اور اس طرح حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی مصلح موعود کا یہ حصہ کہ ’’وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا‘‘ فوق العادت رنگ میں پورا ہو گیا۔ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحبؓ لکھتے ہیں کہ مَیں جناب مرزا سلطان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتارہا تھا اور کبھی کبھی سلسلہ احمدیہ کا ذکر بھی ہو جاتا تھا۔آخر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وہ دن بھی لے آیا کہ مرزاصاحب موصوف کے اہل بیت کی طرف سے خاکسار کو بلایا گیاتا حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کر کے حضور کو وہاں لے آؤںتا حضور بیعت لے لیں۔میں نے حضورؓ کی خدمت میں جب عرض کیا تو حضورؓ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے۔پھر جب حضورؓ مرزا سلطان احمد صاحب کی چارپائی کے قریب کرسی پر بیٹھ گئے تو مَیں نے دیکھا کہ دونوں بھائیوں پر خاموشی طاری ہے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دونوں کے دل شرم و حیا سے لبریز ہیں۔آخر کچھ توقّف کے بعد خاکسار نے مرزا صاحب موصوف کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جب آپ بیعت کی خواہش ظاہر فرماچکے ہیں تو اپنا ہاتھ بڑھائیں اور بیعت کر لیں۔ چنانچہ انہوں نے ہاتھ بڑھایا اور بیعت شروع ہوگئی۔حضورؓ دھیمی آواز سے بیعت کے الفاظ فرماتے اور مرزا سلطان احمد صاحب ان کو دہراتے جاتے تھے جس وقت یہ الفاظ فرمائے گئے کہ آج مَیں محمود کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر کے احمدی جماعت میں داخل ہوتا ہوںتو میرے قلب کی عجیب کیفیت ہو گئی کہ ایک چھوٹے بھائی کو جو بڑے بھائی سے عمر میں بہت چھوٹا ہے بلکہ اس کی اولاد کے برابر ہے، خدا تعالیٰ نے وہ مرتبہ دیا ہے کہ وہ آج اپنے بڑے بھائی سے یہ الفاظ کہلوارہا ہے ۔ بیعت کے تمام الفاظ ختم ہو جانے پر حسب معمول حضورؓ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو دیگر حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھا کر دعا میں شمولیت کی۔

حضرت مرزا سلطان احمد صاحب ۸۰سال کی عمر میں ۲؍جولائی۱۹۳۱ء کی صبح انتقال فرماگئے۔اُسی روز حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے نماز جنازہ ادا کی اور حضرت مسیح موعودؑ کے مزار کے احاطہ میں تدفین ہوئی۔ ۳؍جولائی کوحضورؓ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا: ’’حضرت مسیح موعودؑ کاایک الہام ہے وَلَا نُبۡقِیۡ لَکَ مِنَ الۡمُخۡزِیَاتِ ذِکۡراً یعنی ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کو جو تیرے لیے شرمندگی اور رسوائی کا موجب ہوسکیںمٹادیں گے۔اس الہام کو مَیں دیکھتا ہوں کہ ان عظیم الشان کلمات الٰہیہ میں سے ہے جو متواتر پورے ہوتے رہتے ہیں اور جن کے ظہور کا ایک لمبا سلسلہ چلاجاتاہے۔حضرت مسیح موعودؑ پر جو اعتراض کئے جاتے ہیں ان میں سے ایک اہم اعتراض یہ بھی تھا آپؑ کے رشتہ دار آپؑ کا انکار کرتے ہیںاور پھر خصوصیت سے یہ اعتراض کیا جاتاتھا کہ آ پؑ کا ایک لڑکا آپؑ کی بیعت میں شامل نہیں …میںنے متواتر اس کثرت سے اس امر میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں کہ مَیں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ہزار دفعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہوگی اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں بغیر ذرہ بھر مبالغہ کے کہ بیسیوں دفعہ میری سجدہ گاہ آنسوؤں سے تر ہوگئی۔اس وجہ سے نہیں کہ جس پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ میرا بھائی ہے بلکہ اس وجہ سے کہ جس شخص کے متعلق اعتراض کیا جاتا تھاوہ حضرت مسیح موعودؑ کا بیٹا تھا اور اس وجہ سے کہ یہ اعتراض حضرت مسیح موعودؑ پر پڑتا تھا۔‘‘

حضرت مرزا صاحبؓ شکل میں حضرت مسیح موعودؑ سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور کوئی نظم پڑھتے وقت گنگنانے کی آواز تو حضور علیہ السلام کی طرز سے بہت ہی ملتی تھی۔

آپ نہ صرف ایک قابل افسر تھے بلکہ مشہور اہل قلم اور صاحب تصانیف کثیرہ بھی تھے۔چنانچہ آپ کی تقریباً۵۰ کتب زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظرعام پر آچکی ہیں جبکہ آپ ۷۴کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف تھے۔ قوت تحریر و زورِ قلم آپ نے حضرت مسیح موعودؑ سے ورثے میں پایا تھا۔ ہندستان بھر کے موقر وبلند پایہ رسائل واخبارات آپ کے فلسفیانہ اخلاقی و علمی مضامین نہایت قدرو منزلت سے فخریہ شائع کرتے تھے۔آپ کا انتقال ادبی حلقوں میں بہت محسوس کیا گیا۔مثلاً ’’ادبی دنیا‘‘کے ایڈیٹر شمس العلماء احسان اللہ خان تاجور نجیب آبادی (۱۹۵۱-۱۸۹۴)نے رسالہ میں آپ کی تصویر دے کرلکھا کہ ’’دنیائے ادب اس ماہ اردو کے نامور بلنداور فاضل ادیب خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب سے بھی محروم ہوگئی، آپ نہایت قابل انشاء پرداز تھے۔اردو کا کوئی حصہ ان کی رشحات قلم سے محروم نہ رہا ہو گا۔قانون و عدالت کی اہم مصروفیتوںکے باوجود بھی مضامین لکھنے کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔بہت جلد مضمون لکھتے تھے عدالت میں ذرا سی فرصت ملی تو وہیں ایک مضمون لکھ کر کسی رسالہ کی فرمائش پوری کر دی اردو زبان کے بہت سے مضمون نگاروں نے ان کی طرزِ انشاء کو سامنے رکھ کر لکھنا سیکھا۔افسوس کہ ایسا ہمہ گیر و ہمہ رس انشاء پرداز موت کے ہاتھوں نے ہم سے چھین لیا۔ مرزا صاحب سیلف میڈ لوگوں میں سے تھے۔‘‘

انجمن حمایت اسلام کے ترجمان ’’حمایت اسلام‘‘نے لکھا: ’’یہ خبر بڑے حزن وملال کے ساتھ سنائی جائے گی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے صاحبزادے خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب جو پراونشل سول سروس کے ایک ہر دلعزیز اور نیک نام افسرتھے۔اس جہانِ فانی سے رحلت کرگئے۔خان بہادر صاحب مرحوم نے علم وادب پر جو احسانات کئے ہیں وہ کبھی آسانی سے فراموش نہیں کئے جاسکتے ان کے شغف علمی کا اس امر سے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ ملازمت کی انتہائی مصروفیتوں کے باوجود گراں بہا مضامین کے سلسلے میں پیہم جگر کاری کرتے رہے۔ہمیں مرحوم کے عزیز وں اور دوستوں سے دلی ہمدردی ہے۔باری تعالیٰ مرحوم کو فردوس کی نعمتیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

’’سیا ست جدید‘‘ کانپور لکھتا ہے: ’’… بیسویں صدی کے شروع کے بیس سالوں میں اردو کے کسی بھی قابلِ ذکر رسالہ کو اٹھا کر دیکھ لیجئے۔اس کے مضمون نگاروں میں مرزا سلطان احمد کا نام ضرور نظر آئے گا۔ عمومی، علمی و فلسفیانہ موضوعوں پر قلم اٹھا تے تھے۔ان کے مضامین عام اور عوامی سطح سے بلند اور سنجیدہ مذاق والوں کے کام کے ہوتے تھے۔رسالہ الناظر مشہور زمانہ کانپور، … ادیب الہ آباد، مخزنِ لاہور، پنجاب لاہور وغیرہ میں ان کی گلکاریاں نظر آتی تھیں۔‘‘

جناب فقیر سید وحید الدین صاحب رقمطراز ہیں: سرکاری ملازمت میں انہوں نے اپنے فرائض بڑی محنت، ذہانت اور دیانتداری سے سر انجام دیے۔ جس جگہ بھی رہے نیک نام رہے۔ بالادست افسر بھی خوش ماتحت عملہ اور اہل معاملہ عوام بھی مطمئن۔وہ اپنی ان خوبیو ںکے سہارے ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کمشنر کے عہدے تک پہنچےجو اس زمانے میں ایک ہندوستانی کی معراج تھی۔سادہ لباس،سادہ طبیعت،انکساراور مروت ان کے مزاج کا خاصہ تھا۔ان کی ذات کے جوہر اس وقت پوری طرح نمایاں ہوکر سامنے آئے، جب وہ ریاست بہاول پور کے وزیر بنا کر بھیجے گئے۔کوٹھی میں داخل ہوتے ہی ملازمین سے کہا:’’سلطان احمداس ٹھاٹھ باٹھ اورسازو سامان کا عادی نہیںہے۔‘‘ چنانچہ ان کے کہنے سے تمام اعلیٰ قسم کا فرنیچر اور سازوسامان اکٹھا کرکے ایک کمرے میںمنتقل کردیا گیا۔انہوں نے رہنے کے لیے صرف ایک کمرہ منتخب کیا۔نمائش اور دکھاوا تو ان کو آتا ہی نہیں تھا۔ لباس اور رہائش کی طرح کھانا بھی سادہ کھاتے۔ جب ملازمت سے ان کے ریٹائر ہونے کا وقت آیا تو انہی دنوں پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد حکومت کے خلاف ہنگامے شروع ہوگئے۔ آپ گوجرانوالہ میں ڈپٹی کمشنر تھے۔وہاں سب سے زیادہ ہنگامے ہوئے۔عوام کے جوش خروش کا یہ عالم تھا کہ لیڈروں کی ہدایات کے برخلاف انہوں نے آئینی حدود کو توڑ دیا۔ ایک جم غفیر ہاتھوں میں بانس، لاٹھیاں اور اینٹ پتھر لیے ہوئے ضلع کچہری کی طرف بڑھا۔ آپ اگر اپنے تدبّر اور خوش بیانی سے کام نہ لیتے تو یہ مشتعل لوگ نہ جانے کیا کرکے دم لیتے۔آپ نے اس پرجوش ہجوم کے سامنے ایسی سلجھی ہوئی تقریر کی کہ نفرت وغصہ کی یہ آگ ٹھنڈی ہوگئی۔ جلوس آپ کی سرکردگی میں شہر واپس ہوا جن کی زبانوں پر ’انگریز مُردہ باد‘ کے نعرے تھے وہ اب ’مرزا سلطان احمدزندہ باد، کی جے‘ کے نعرے لگانے لگے۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button