دورہ جرمنی اگست؍ ستمبر ۲۰۲۳ءیورپ (رپورٹس)

اللہ کرے کہ مسجد خبیر شہر میں امن اور خوشحالی کا باعث بنے(حضور انور کا مسجد خبیر Pfungstadt، جرمنی کی افتتاحی تقریب سے پُر معارف خطاب)

(ادارہ الفضل انٹرنیشنل)
Image

سیّدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آج مورخہ ۱۱؍ستمبر ۲۰۲۳ء بروز سوموار جرمنی کے شہر فنگ شٹٹ (Pfungstadt) میں ’سو مساجد سکیم‘ کے منصوبے کی تحت تعمیر ہونے والی ’مسجد خبیر‘ کا افتتاح فرمایا نیز اس حوالے سے علاقے کے معزّزین کے ساتھ منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب کو رونق بخشی اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔

Image

خطاب حضورِ انور

تشہد،تعوذ اور تسمیہ کے بعد حضورِ انور ایدہ اللّہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

تمام معزز مہمانان السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سب سے پہلے تو میں میئر صاحب اور ان کی کونسل اور اس شہر کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس شہر میں مسجد بنانے کے لیے ہم سے تعاون کیا۔ اللّہ تعالیٰ آپ سب کو اس کا اجر عطا فرمائے۔

امیر صاحب نے بتایا کہ یہ شہر ایک پرانا شہر ہے۔ اس لحاظ سے اس شہر کی روایات کا ہم سب جو خیال رکھنا چاہیے۔

Image

اس مسجد کے ارد گرد کھیت ہیں۔ کھیتی باڑی اور زراعت کا انحصار پانی پر ہے۔ زراعت کے لیے اس پانی کی ضرورت ہے جو آسمان سے اترتا ہے۔ یہی مثال روحانی دنیا کی بھی ہے، خدا تعالیٰ آسمان سے روحانی پانی نازل کرتا ہے جس پر روحانی زندگی کا انحصار ہے۔

پس آسمان سے پانی کا اترنا اور اس پر زندگی کے انحصار کی مثال سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہماری روحانی زندگی کا انحصار بھی آسمان سے اترنے والے روحانی پانی پر ہے۔ روحانی زندگی محض خدا کی ظاہری عبادت کا نام نہیں بلکہ حقوق اللّہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ خدا کے ساتھ مخلوقِ خدا کے حقوق ادا کرنا بھی ضروری ہیں۔

اس مسجد کا نام مسجد خبیر ہے یہ خدا کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ خدا ہر پوشیدہ اور ظاہر سے باخبر ہے۔ پس ہم جو بھی کام کرتے ہیں وہ اسی خدا کے لیے کرتے ہیں جو ہر چیز کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔ اس خدا کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ہمیں خدا کی مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے ہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری عبادت کرو اور میرے بندوں کے حقوق ادا کرو۔ میں تمہاری کوششوں کو پھل لگاؤں گا۔

امیر صاحب نے بتایا کہ اس سٹریٹ کا نام پیس سٹریٹ رکھا گیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اس شہر کی یہ سڑک بلکہ ہر سڑک امن کی طرف لے جانے والی ہو۔ اس شہر کا ہر گھر امن اور محبت کا پیغام پھیلانے والا بن جائے۔

یہاں بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کی گئی۔ ہم تو اسی بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہر مذہب اور اس مذہب کے بانی کا احترام ضروری ہے۔ بانی جماعت احمدیہ نے ایک موقعے پر ایسی بین المذاہب کانفرنس میں اپنا ایک مضمون پڑھا تھا۔ وہاں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنی ہیں۔ اس طرح ان لوگوں نے مذہبی آزادی کا ایک اعلیٰ نکتہ ہمیں سمجھا دیا اور وہ یہ کہ دوسرے مذاہب پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنے مذہب کی خوبیاں ظاہر کرو۔

ایک مرتبہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا۔ کچھ دیر میں حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ وہ بےچین ہیں۔ پوچھا گیا کہ کس بات کی پریشانی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی عبادت کا وقت ہوگیا ہے اور ان کے پاس جگہ نہیں ہے کہ جہاں وہ عبادت کرسکیں۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ یہ مسجد، مسجد نبوی ہے اور آپ لوگوں کو کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے آپ یہیں اپنی عبادت کرسکتے ہیں۔ پس حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ نمونہ ہمیشہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی بہترین مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

پھر یہاں یہ بات ہوئی کہ آج ہی کے دن کافی عرصہ پہلے اس شہر میں گرجا گھر کا افتتاح ہوا تھا۔ یہ حسن اتفاق ہمیں یہ توجہ دلاتا ہے کہ ہم سب کو مل کر رہنا چاہیے۔

یہاں پاکستان کے لوگوں کے حالات کا ذکر ہوا۔ اس اعتبار سے ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ وہ لوگ جنہیں اپنے ملک میں مذہبی آزادی نہیں آپ نے ان لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دی اور برابر کے حقوق بھی دیے۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ ہر ملک کے قوانین کا احترام کیا جائے۔ ہم تو ملکی قوانین کی پابندی کرنے والے ہیں۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔

یہاں قوموں اور مذاہب کے درمیان integration کی بات ہوئی۔ میں بھی ہمیشہ ان باتوں کا ذکر کرتا ہوں۔ ہم سب کے عقائد مختلف ہوسکتے ہیں لیکن امن اور ملک کی ترقی کے لیے تو ہم سب کو ایک ہوکر محبت سے کام کرنا چاہیے۔ انٹی گریشن کا یہ مطلب نہیں کہ ضرور کلبوں میں جایا جائے اور شراب پی جائے۔ ہمیں تو یہی تعلیم دی گئی ہے کبھی تمہیں دشمن قوم کی دشمنی بھی عدل سے دور لے جانے والی نہ ہو۔ ہم تو ہر ملک میں یہی کوشش کرتے ہیں کہ عدل کے ساتھ سب مخلوق کی خدمت کر سکیں۔ آپ افریقہ چلے جائیں ہم وہاں سکول اور ہسپتال تعمیر کرتے ہیں اور ان سکولوں میں ستر اسی فیصد بچے احمدی نہیں ہیں۔ پس ہم بلا تفریق مذہب و ملت سب لوگوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔

یہاں کہا گیا کہ عورتیں یہاں نظر نہیں آرہیں۔ مجھے تو یہاں کئی عورتیں نظر آرہی ہیں۔ اگر ان کی مراد احمدی عورتوں سے ہے تو وہ یہیں پاس میں ایک اور جگہ موجود ہیں اور وہ خود کو اس طرح زیادہ comfortable محسوس کرتی ہیں۔ ہماری جماعت کی عورتیں پوری طرح آزاد ہیں وہ آزادی سے اپنے پروگرام بناتی ہیں۔ ہر طرح کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ ہماری خواتین ڈاکٹر بھی ہیں، انجنیئر بھی ہیں، وکیل بھی ہیں، ٹیچرز بھی ہیں غرض یہر پیشے میں ہماری خواتین کام کر رہی ہیں اور پوری آزادی کے ساتھ قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

اس مسجد کے حوالے سے میری دعا ہے کہ اللّہ تعالیٰ اس مسجد کی تعمیر اس شہر میں امن اور خوشحالی کا باعث بنادے۔ ہم سب ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے والے ہوں۔ آمین

Image

استقبالیہ تقریب

یاد رہے کہ مسجد خبیر کی استقبالیہ تقریب کا آغاز جرمن وقت کے مطابق سوا چھ بجے ہوا۔ اس پروگرام میں ماڈریٹر مکرم عظمت احمد صاحب نے استقبالیہ کلمات کہے اور پروگرام کا تعارف پیش کیا۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو حسان سلیمان صاحب نے سورة البقرة آیت ۱۲۸ تا ۱۳۰ سے کی۔ ان آیات کا جرمن ترجمہ مکرم ظفر کھوکھر صاحب نے پیش کیا۔

٭…بعد ازاں مکرم عبد اللہ واگز ہاؤزر صاحب امیر جماعت جرمنی نے تعارفی کلمات کہے۔  آپ نے کہا کہ یہ ہماری روایت ہے کہ اس شہر کا تعارف پیش کیا جائے جہاں مسجد کا افتتاح  ہور ہا ہوتا ہے۔  شہر فنگ شٹٹ پچیس ہزار باشندوں پر مشتمل ہے۔ یہ صوبہ ہیسن کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ شہر ہیسن کے دیگر شہروں کی طرح  رومیوں کے زمانے سے آباد ہے۔  ۷۸۵ء  میں اس کا ذکر دستاویزات میں ملتا ہے۔ اس شہر نے بہت ترقیات کیں۔ اس کے گرد و نواح میں بہت پیارا علاقہ ہے اور  زرعی زمین ہے۔ اس شہر میں پرانے چرچ اور عمارتیں بھی پائی جاتی ہیں  جو شہر کی قدیم روایات کو پیش کرتی ہیں۔  یہاں بہت ساری اقوام کے لوگ آباد ہیں۔

جماعت فُنگ شٹٹ کی تاریخ

اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے اس شہر میں جماعت کی تاریخ بیان کی۔ آپ نے بتایا کہ ۱۹۸۹ء سے یہاں جماعت قائم ہے۔ اس وقت یہ جماعت ۴۰؍ افراد پر مشتمل چھوٹی جماعت تھی۔ اس جماعت نے شہر کا پر اثر اور فعال حصہ بننے میں اپنا بھر پور قردار ادا کیا اور مختلف فلاحی کام، صفائی کے کام، خون کے عطیات  وغیرہ کرنے کی توفیق ملتی رہی ہے۔  مسجد بنانے سے قبل جماعت نے اس شہر کے بعض ہالز کو بطور نماز سینٹر استعمال کیا۔

مسجد کے کوائف

امیر صاحب نے بتایا کہ ۲۰۰۹ء میں جماعت نے یہاں پلاٹ ڈھونڈنے کا کام شروع کیا تھا ۔ ۲۰۱۵ء میں جماعت کو یہ پلاٹ خریدنے کی توفیق ملی ۔ پھر ۲۰۱۶ء میں حضور انور نے ازراہ شفقت اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔  مسجد کے سنگ بنیاد کے وقت کچھ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن میئر صاحب اور شہر کے باشندوں نے ہمارا بہت ساتھ دیا ۔ چنانچہ  ۳۰؍ جون ۲۰۲۱ء کو مسجد کی  تعمیر کا کام مکمل ہوا۔ الحمد للہ

مسجد کا پلاٹ ۱۰۲۵ مربع میٹر  پر مشتمل ہے۔ مسجد (مردانہ ہال)  ۱۳۷ مربع میٹر ہے، جبکہ خواتین کا ہال ۸۳ مربع میٹر ہے۔ مسجد میں ایک لائیبریری اور ایک ملٹی پرپز ہال بھی  ہے۔ نماز پڑھنے کی کل جگہ ۳۵۰ مربع میٹر سے زائد ہے اس لحاظ سے یہ ایک بڑی مسجد ہے۔ اسی طرح ایک ۱۲  میٹر کا مینار  اور چھ میٹر کا گنبد بھی اس میں تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد پر کل 1.6 ملین یوروز خرچ آیا جس میں سے مقامی جماعت نے ایک حصہ ادا کیا۔ باقی مرکز (جماعت جرمنی) نے ادا کیا۔  مسجد کے سنگِ بنیاد کے وقت اس جماعت کی تجنید ۲۲۰ تھی جبکہ اب تجنید ۳۵۰ ہوچکی ہے۔ الحمد للہ

امیر صاحب نے بتایا کہ اس مسجد کے سنگ بنیاد کے وقت حضورانور نے فرمایا تھا کہ یہ مسجد شہر کا مرکز بن جائے گی۔ انشاء اللہ۔ چنانچہ کچھ ماہ قبل اس شہر میں صوبہ ہیسن کا دن یعنی ہیسن ڈے منایا گیا تو ۷ ہزار سے زائد لوگ اس شہر میں آئے تھے۔  اس  وقت موسم کافی خراب ہوگیا تھا اور طوفی بارش آگئی تھی چنانچہ سب لوگ اس مسجد میں آگئے اور انہوں نے جماعت کا تعارف حاصل کیا۔ اور ہمیں سب مہمانوں کی خدمت میں دال چاول پیش کرکے ان کی مہمان نوازی کرنے کی توفیق ملی۔ اور اس طرح ہم نے حضورِانور کی بات کو پورا ہوتے ہوئے دیکھا۔

مکرم امیر صاحب نے بتایاکہ اس مسجد کی سڑک  کو شہر نے ایک نیا نام دیا ہے اور اب یہ Friedens Strasse یعنی امن کی سڑک کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس بات پر ہم شہر کا خصوصی طور پر  شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں ۔

٭…اس کے بعد صوبہ ہیسن کی صوبائی اسمبلی کی نائب صدر مکرم Hoffman صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آپ نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا دن ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح یہاں جماعت نے ترقی کی ہے۔ یہ میرے لیے بہت خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ میں مسجد کے افتتاح کے موقع پر یہاں شامل ہوں۔ میرا جماعت سے پرانا تعارف ہے۔  میں سیاست میں بھی کام کرتی ہوں، اسی طرح چرچ کے لیے بھی کام کرتی ہوں۔ اس پروگرام میں بین المذاہب گفتگو ہورہی جو بہت ضروری بات ہے۔ آپ کے ماٹو ’محبت سب کے لیے ، نفرت کسی سے نہیں‘ پر آپ عمل کرتے ہیں اور یہ آپ کا  امتیاز ہے، اس ماٹو پر ہماری سوسائٹی کے ہر ممبر کو عمل کرنے کی بہت ضرورت ہے۔

موصوفہ نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ جماعت کی بعض جگہوں پر بہت مخالفت کی جاتی ہے، ہمارا فرض کہ ہم آپ  کی حفاظت کریں،  مذہبی آزادی کی حفاظت کریں۔ میری  نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ بہت شکریہ

٭…اس کے بعد شہر فنگ شٹٹ کے میئر Koch صاحب نے کہا کہ میں ۲۰۱۶ء میں مسجد کے سنگ بنیاد کے موقع پر بھی آیا تھا۔  میرے لیے یہ بہت خوشی کا باعث ہے کہ یہاں مسجد کا افتتاح ہورہا ہے۔

میئر صاحب نے کہا کہ آج سوموار کا دن ہے اور آج سے ۱۷۱ سال قبل یہاں مارٹن چرچ کا افتتاح ہوا تھا۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ اسی دن  یہاں مسجد کا افتتاح ہورہا ہے۔

میئر صاحب نے کہا کہ میرے سے قبل جو میئر  تھے انہوں نے بھی آپ کا بہت ساتھ دیا جو آج بیماری کی وجہ سے یہاں شامل نہیں ہوسکے۔ مسجد بنانے میں بہت وقت لگا لیکن آپ نے یہاں ایک چھوٹی سی جماعت ہونے کے باوجود ایک بہت بڑا ور پیارا کام کیا ہے۔  اور ہم نے آپ کا ساتھ اس لیے دیا کیونکہ جماعت احمدیہ معاشرے کا ایک بہت موثر اور اہم حصہ ہے۔ اور ہمارے آپس کے اعتماد میں آپ کا بہت بڑا کردار ہے۔

پاکستان میں جماعت کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو بہت تکلیف دہ امر ہے۔ شکر ہے کہ جرمنی میں ایسا نہیں ہے، یہاں کسی بھی مذہبی تنظیم کی مخالفت نہیں کی جاتی۔

٭…اس کے بعد مکرمہ Gutale صاحبہ جو اس شہر میں باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے کا کام کرتی اور اس کی انچارج ہیں، نے اظہار خیال کیا۔ آپ نے کہا کہ یہ میرے لیے خوشی کا باعث کہ میں یہاں آپ کی مہمان ہوں۔   میں آپ سب کو یہاں خوش آمدید  کہتی ہوں۔ ہمارا یہ خوبصورت شہر رواداری کے لیے بہت کام کرتا ہے۔  ۱۱۰ سے زائد قومیتیں یہاں آباد ہیں۔ جو بھی اس شہر میں مثبت اور موثر قردار ادا کرنا چاہتا ہے اس کے لیے  اس شہر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

موصوفہ نے کہا کہ اس مسجد کا افتتاح بہت بڑا موقع ہے۔ میں کئی سالوں سے جماعت کو جانتی ہوں۔ ہمیں جب بھی ضرورت پڑی آپ کی جماعت نے  ہمارا ساتھ دیا۔

موصوفہ نے کہا کہ انٹیگریشن کا یہ مطلب نہیں کہ ہر چیز بغیر کسی مشکل کے چلے ۔ آپس میں اختلاف رائے بھی ہوتا ہے جس میں کوئی برائی نہیں۔  پس جو مشکلات آئیں ان کو ہم سب نے مل کر حل کرنا ہے۔ آئیے ہم مل کر اپنے خوبصورت شہر کو مزید آگے بڑھائیں  اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ میں آپ سب کو ایک دفعہ پھر یہاں خوش آمدید کہتی ہوں۔

ادارہ روزنامہ الفضل انٹرنیشنل حضرت خلیفة المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، جماعت احمدیہ جرمنی اور احبابِ جماعت احمدیہ عالمگیر کی خدمت میں مسجد خبیر کی تعمیر پر مبارکباد پیش کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ یہ مسجد اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم الشان نبیﷺ کا پیغام علاقے میں مؤثر طریق پر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرنے والی ہو۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button