خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ ۲۸؍ جولائی۲۰۲۳ء

اس جلسے میں شامل ہونے کا ہمارا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد ہے
اپنی روحانی اور علمی حالت کو بہتر کرنا، اخلاقی حالت کو بہتر کرنا۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دل میں پیدا کرنا

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مَیں امید رکھتا ہوں کہ
بڑے احسن رنگ میں ہمارے کارکن اپنے انتظامات سنبھال سکیں گے

یہ جو فکر ہے کہ ایک وقفے کے بعد بہت زیادہ وسیع پیمانے پر جلسہ منعقد ہو رہا ہے
اور کہیں کوئی انتظامی کمیاں ظاہر نہ ہوں، اللہ تعالیٰ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ ان فکروں کو، انتظامیہ کی ان فکروں کو دُور فرما دے گا بشرطیکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کی طرف ہر وقت متوجہ رہیں

ہمارے کام ہماری کسی ہوشیاری یا تجربے سے انجام نہیں پاتے
بلکہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کے فضل سے انجام پاتے ہیں

میں کارکنوں سے کہتا ہوں کہ جس جذبے سے سب نے اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش کیا ہے اس جذبے کو قائم رکھتے ہوئے جتنے دن بھی ڈیوٹیاں ہیں انہیں سرانجام دیں اور جہاں مہمانوں کی خدمت کرنے کا حق ادا کریں وہاں یہ بات بھی نہ بھولیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا بھی حق ادا کرنا ہے، اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اور اس ماحول سے ہر لمحہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ذات کو بھی پاک بنائے رکھنے کی کوشش کرنی ہے

مختلف مرکزی شعبہ جات مثلاً مخزنِ تصاویر ہے، ریویو آف ریلیجنز ہے، تبلیغ وغیرہ کی مارکی ہے، آرکائیوز کی نمائش ہے انہیں دیکھیں اور اپنا دینی اور تاریخی علم بھی بڑھائیں

اگر اخلاق نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ صرف کارکنان کی خوش اخلاقی سے ماحول پُرامن نہیں ہو سکتا بلکہ تمام حاضرین کو خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عورتیں بھی اس بات کا خیال رکھیں اور مرد بھی اس بات کا خیال رکھیں

ہر ایک کو اس سوچ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنے پر اپنے بھائی کو ترجیح دینی ہے۔ اگر یہ سوچ ہم میں سے ہر ایک میں پیدا ہو جائے اور اس سوچ کے ساتھ پیدا ہو جائے کہ میں نے دوسرے کا حق بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے ادا کرنا ہے تو ایسا معاشرہ پھر پیار اور محبت کا معاشرہ بن جاتا ہے

اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ تین دن صرف ہمارے ترانے پڑھنے اور نظمیں پڑھنے کے
اور پیار و محبت کے گن گانے کے دن نہ ہوں بلکہ ان تین دنوں کی تربیت سے
وہ جاگ لگے جو معاشرے میں پیار و محبت کی ایک ایسی فضا قائم کرنے والی ہو
جو حقیقی اور اسلامی معاشرے کا طرّہٴ امتیاز ہے

میزبان کا یہ فرض ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ
حتی المقدور مہمان کو آرام پہنچائے اور مہمانوں کو بھی معمولی تکلیفوں کو
برداشت کرنے کا بہترین اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے

آج دس محرم بھی ہے، درود شریف پڑھنا چاہیے اور اس سوچ کے ساتھ پڑھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ کو بلند کرتا چلا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو کامیابی اور غلبہ عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو بقا اور عظمت عطا فرمائے۔ آپؐ کی امت کے حق میں آپؐ کی دعاؤں سے ہم فیض پانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس امت کو ہر قسم کے بگاڑ سے پاک کر دے

سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی مردانہ اور زنانہ جلسہ گاہ میں ہر شامل ہونے والے کو اپنے ماحول پر نظر رکھنی چاہیے

ان دنوں میں ذکر الٰہی کے ساتھ خاص طور پر درودکی طرف بھی بہت توجہ رکھیں

جلسہ سالانہ کے کارکنان اور مہمانوں کو زرّیں نصائح

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ 28؍جولائی2023ء بمطابق 28؍وفا1402ہجری شمسی
بمقام حدیقة المہدی، آلٹن، ہمپشئر، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ یوکے کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو تقریباً چار دہائیاں گزر گئی ہیں یہاں خلافت کی موجودگی میں جلسہ سالانہ منعقد ہوتے ہوئے۔ شروع میں وسیع انتظامات کی وجہ سے یہاں کی جماعت کو بہت کچھ سکھانے کی ضرورت تھی جس کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ذاتی دلچسپی سے بھی راہنمائی فرمائی اور ربوہ سے بھی تجربہ کار لوگوں کو یہاں بلا کر کام سکھایا جن میں چودھری حمید اللہ صاحب افسر جلسہ سالانہ بھی تھے، انہوں نے بڑی مدد کی۔

1985ء میں یہاں جو پہلا جلسہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی موجودگی میں ہوا،

اس سے پہلے ایک جلسہ 84ء میں بھی ہوا تھا لیکن بہت مختصر تھا۔ جو باقاعدہ جلسہ ہوا 1985ء میں ہوا۔

اس میں شاید پانچ ہزار لوگ شامل ہوئے اور اس کی بھی انتظامیہ کو بڑی فکر تھی۔ ہر ایک پریشان تھا کہ کس طرح سنبھالیں گے۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف خدام الاحمدیہ یوکے کے اجتماع میں یا لجنہ اماء اللہ کے اجتماع میں اس سے کہیں زیادہ حاضری ہوتی ہے اور بڑے احسن طریقے سے یہ ذیلی تنظیمیں بھی اپنا انتظام سنبھال لیتی ہیں۔ پس اس لحاظ سے یوکے کی جماعت بہت تجربہ کار ہو چکی ہے کہ انتظامات سنبھال سکے۔

اس مرتبہ کیونکہ تین چار سال کے وقفے کے بعد مکمل وسیع پیمانے پر جلسہ منعقد ہو رہا ہے اس لیے انتظامیہ کو پھر فکر ہے کہ چالیس ہزار سے اوپر متوقع حاضری کو ہم احسن رنگ میں سنبھال بھی سکیں گے کہ نہیں۔ لیکن

اللہ تعالیٰ کے فضل سے مَیں امید رکھتا ہوں کہ بڑے احسن رنگ میں ہمارے کارکن اپنے انتظامات سنبھال سکیں گے۔

ماشاء اللہ اب تو یہاں کے رہنے والے لوگ بلکہ یہاں پیدا ہونے والے اور پلنے بڑھنے والے بچے بھی جو اب جوان ہو چکے ہیں یا اس عمر کو پہنچ چکے ہیں جہاں ہوش و حواس سے کام سرانجام دے سکیں۔ اتنے تجربہ کار ہیں کہ اپنے کام احسن رنگ میں نبھا سکیں۔

گذشتہ اتوار مَیں نے اس وقت تک کے قائم شدہ انتظامات کا جائزہ بھی لیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ ہر شعبے میں مَیں نے کارکنان کو بڑا مستعد اور اپنا کام جاننے والا پایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو فکریں تھیں وہ دُور بھی ہوئیں۔

یہ جو فکر ہے کہ ایک وقفے کے بعد بہت زیادہ وسیع پیمانے پر جلسہ منعقد ہو رہا ہے اور کہیں کوئی انتظامی کمیاں ظاہر نہ ہوں، اللہ تعالیٰ ان فکروں کو، انتظامیہ کی ان فکروں کو بھی ان شاء اللہ تعالیٰ دُور فرما دے گا بشرطیکہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کی طرف ہر وقت متوجہ رہیں۔ ہمارے کام ہماری کسی ہوشیاری یا تجربے سے انجام نہیں پاتے بلکہ خالصۃً اللہ تعالیٰ کے فضل سے انجام پاتے ہیں۔

گذشتہ خطبے میں اس کے لیے میں نے کارکنان کو مختصراً یہ کہا بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے محنت، اعلیٰ اخلاق اور دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہوئے ہر کارکن اور ہر نگران کو اپنا کام کرنا چاہیے اور جب یہ ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ بھی برکت عطا فرمائے گا۔ ہم نے بے لوث ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہے جو خالصۃً دینی غرض سے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ پس دوبارہ

میں کارکنوں سے کہتا ہوں کہ جس جذبے سے سب نے اپنے آپ کو خدمت کے لیے پیش کیا ہے اس جذبے کو قائم رکھتے ہوئے جتنے دن بھی ڈیوٹیاں ہیں انہیں سرانجام دیں اور جہاں مہمانوں کی خدمت کرنے کا حق ادا کریں وہاں یہ بات بھی نہ بھولیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا بھی حق ادا کرنا ہے، اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنی ہے اور اس ماحول سے ہر لمحہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ذات کو بھی پاک بنائے رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔

صرف ڈیوٹیوں کا حق ادا کر کے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارا جو مقصد تھا ہم نے پورا کر لیا۔ بغیر عبادت کے ہمارا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ پس بچے جوان مرد عورتیں جو ڈیوٹی دینے والے ہیں اس حق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھیں۔

اس کے بعد آج میں

چند باتیں جلسہ پر آئے ہوئے مہمانوں کے لیے

بھی کہنا چاہوں گا۔ ہر شامل جلسہ کو اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ باتیں جو میں کہنے لگا ہوں یہ روایتاً کہہ رہا ہوں اور میں نے کہہ دیا اور آپ نے سن لیا۔ بس اتنا کافی ہے۔ نہیں۔ بلکہ اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلی اور اہم بات تو یہ ہے کہ سب لوگ جو یہاں جلسہ میں شامل ہونے کے لیے آئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ جلسہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے۔

(ماخوذ از شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395)

اس جلسے میں شامل ہونے کا ہمارا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد ہے
اپنی روحانی اور علمی حالت کو بہتر کرنا۔ اخلاقی حالت کو بہتر کرنا۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اپنے دل میں پیدا کرنا۔

پس جب یہ سوچ ہو گی تو پھر دنیاوی باتوں کی طرف توجہ نہیں رہے گی اور جب دنیاوی باتوں کی طرف توجہ نہیں رہے گی تو پھر جلسے کے بعض انتظامات جن میں اگر کمزوری بھی ہو گی تو مہمان اسے محسوس نہیں کریں گے اور یہی سوچ رکھیں گے کہ میزبانوں کی طرف سے یا جلسے کے انتظام کرنے والوں کی طرف سے اگر کوئی کمی رہ بھی گئی ہے تو ہمیں اس کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارا مقصد تو اپنی روحانی اور علمی حالتوں کو بہتر کرنا ہے اور وہ ہم جلسہ کی کارروائی اور تقاریر سے فائدہ اٹھا کر کر سکتے ہیں۔

پس پہلی بات یہ ہے کہ ہر آنے والا، جلسے میں شامل ہونے والا اس بات کو یقینی بنائے کہ ہم نے جلسے کے اوقات میں اِدھر اُدھر پھرنے کی بجائے جلسے کی مکمل کارروائی سننی ہے اور جلسہ کے باقاعدہ پروگراموں کے درمیان جو وقفہ ہے، جو کھانے اور نماز یا دوستوں سے ملنے ملانے کے لیے بھی ہوتا ہے اسے بھی بہتر رنگ میں استعمال کرنا ہے۔ اگر اس میں بھی فارغ وقت ملتا ہے تو صرف بازار میں شاپنگ کے لیے نہ پھریں بلکہ

شعبہ اشاعت کی طرف سے یہاں جماعتی کتب کے بُک سٹال لگے ہوئے ہیں ان میں جائیں ۔ اسی طرح مختلف مرکزی شعبہ جات مثلاً مخزنِ تصاویر ہے، ریویو آف ریلیجنز ہے، تبلیغ وغیرہ کی مارکی ہے، آرکائیوز کی نمائش ہے انہیں دیکھیں اور اپنا دینی اور تاریخی علم بھی بڑھائیں۔

غرضیکہ ہر لحاظ سے کلیۃً دنیاوی جھمیلوں سے علیحدہ ہو کر خالصۃً دینی اور علمی بہتری کے سامان کرنے کی کوشش کریں اور جب یہ ہو گا تو پھر آپس کی محبت اور تعلق میں بھی اضافہ ہو گا اور انتظامیہ اور میزبانوں میں اگر انتظامات میں کمزوریاں بھی ہیں تو نظر نہیں آئیں گی۔ ایسا پیارا ماحول ہو گا جو حقیقی مومنوں کے ماحول کی تصویر کشی کرتا ہے۔ اگر یہ نہیں تو ہم جلسے میں وہ ماحول پیدا نہیں کر سکتے جو جلسے کا مقصد ہے۔ کمزوریاں اگر تلاش کرنے لگیں اور شکوے کرنے لگیں تو اتنے بڑے اور عارضی انتظام میں درجنوں شکوے پیدا ہو سکتے ہیں۔ پرفیکشن (perfection)تو نہیں ہوسکتی۔ بہت ساری کمزوریاں نظر آسکتی ہیں جو طبیعت میں بے چینی پیدا کرنے والی ہوں۔ مثلاً کھانا کھلانے کا ہی انتظام ہے اس میں عموماً تو یہی کوشش کی جاتی ہے کہ مہمانوں کو ہر ممکن سہولت کھانا کھلانے کے لیے مہیا کی جائے۔ سالن وغیرہ بھی تھوڑا نہ ہو اور کھانا دینے والے معاونین بھی مہمانوں کی صحیح طور پر اعلیٰ اخلاق دکھاتے ہوئے خدمت کریں لیکن

بعض دفعہ اندازے میں کمی بیشی ہو جاتی ہے اور صحیح طرح کھانا مہیا نہیں ہو سکتا تو اس پر کسی بھی قسم کے غصے کا اظہار کرنے کی بجائے خوش دلی سے کارکنوں کی معذرت قبول کر لینی چاہیے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سامنے ایسے حالات پیش آنے پر کیا نمونہ دکھایا اس بارے میں آپؑ کی سیرت میں سے ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ اس طرح لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ سفر پر تھے، کام میں مصروف تھے اس لیے آپ نے رات کا کھانا اس وقت نہیں کھایا جب کھانا serveکیا جا رہا تھا اور دوسرے مہمانوں کو کھلایا جا رہا تھا۔ کارکنوں نے رکھ دیا ہوگا اور بعد میں تھوڑی دیر بعد اٹھا بھی لیا ہو گا بغیر دیکھے کہ کھایا ہے کہ نہیں۔ انتظامیہ نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ آپؑ نے کھانا نہیں کھایا اور اپنے کام میں آپؑ مصروف ہیں۔ بہرحال رات گئے آپ علیہ السلام کو جب بھوک کا احساس ہوا تو آپؑ نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو سب انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔سب بڑے پریشان ہوئے کہ کھانا تو جتنے لوگ وہاں آئے ہوئے تھے اور کام والے تھے سب کھا چکے ہیں اور اب تو کچھ بھی نہیں بچا ۔ رات دیر ہو گئی تھی۔ بازار بھی بند تھے کہ کسی ہوٹل سے ہی منگوا لیا جاتا وہ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ بہرحال

کسی طرح حضور علیہ السلام کو یہ علم ہوا کہ کھانا ختم ہو چکا ہے اور انتظام کرنے والے پریشان ہیں کہ فوری طور پر جلدی جلدی کھانا پکانے کا انتظام ہو۔ آپ علیہ السلام نے اس پر فرمایا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دیکھو! دستر خوان پر کچھ بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑے ہوں گے وہی لے آؤ۔ چنانچہ آپؑ نے ان ٹکڑوں میں سے ہی تھوڑا سا کھا لیا اور انتظام کرنے والوں کی تسلی کروائی۔

روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام اگر اس وقت کھانا پکانے کا حکم دیتے تو ہمارے لیے باعثِ عزت ہوتا اور ہم اس بات پر فخر محسوس کرتے کہ خدمت کا موقع ملا ہے اور اس میں برکت تھی لیکن آپؑ نے ہماری تکلیف کا احساس کرتے ہوئے روک دیا کہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (ماخوذ از سیرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام از یعقوب علی عرفانی صاحبؓ صفحہ 322۔ ایڈیشن 2016ء)پس یہ وہ نمونہ ہے جو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔

اگر مقررہ وقت پر کھانے کے لیے نہیں پہنچے تو پھر نخرہ بھی کوئی نہیں ہونا چاہیے۔

جو ملے اسے کھا لینا چاہیے۔ بعض دفعہ سالن ختم ہو جاتا ہے تو فوری طور پر دال پکا لی جاتی ہے کیونکہ وہ آسانی سے اور جلدی پک جاتی ہے تا کہ کوئی مہمان بھوکا نہ رہے تو مہمان کو بھی خوش دلی سے اسے کھا لینا چاہیے۔ اسی طرح یہ سبق بھی آپؑ نے دیا کہ روٹی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ آپؑ کو پتہ تھا کہ لوگ روٹی کے ٹکڑے چھوڑ جاتے ہیں اس لیے آپؑ نے فرمایا کہ وہی لے آؤ میں کھا لوں گا۔ پس یہاں بھی میں مہمانوں سے یہ کہوں گا کہ روٹی پکانے والوں کی تو پوری کوشش ہوتی ہے کہ روٹی اچھی پکے لیکن بعض دفعہ شاید کہیں کچی رہ جائے یا جل جائے تو انتہائی صورت میں اسے چھوڑا جا سکتا ہے لیکن عام طور پہ نہیں۔ اگر کوئی تھوڑی بہت کمی بیشی رہ گئی ہو تو پھر روٹی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔ روٹی پلانٹ یہاں چلتا ہے، بڑا وقت لگا کے، بڑی محنت سے کارکن کام کر رہے ہیں اور ہر سال بہتری کے لیے کوئی نہ کوئی نئی improvementبھی کرتے ہیں ۔

یہ بات مہمانوں کو یاد رکھنی چاہیے کہ یہ کھانا پکانے والے اور روٹی پکانے والے کوئی اس پیشے سے منسلک لوگ نہیں ہیں بلکہ والنٹیئرز ہیں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے منسلک ہیں اس لیے جس خلوص اور جذبے سے وہ خدمت کر رہے ہیں اس کو ہمیشہ سراہیں۔

اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا خوش اخلاقی دکھانا، ایک دوسرے سے مسکرا کر ملنا، دوسرے کے لیے قربانی کا جذبہ رکھنا صرف کارکنوں کا ہی کام نہیں ہے بلکہ مہمانوں کو بھی خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔

اگر اخلاق نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ صرف کارکنان کی خوش اخلاقی سے ماحول پُرامن نہیں ہو سکتا بلکہ تمام حاضرین کو خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ عورتیں بھی اس بات کا خیال رکھیں اور مرد بھی اس بات کا خیال رکھیں۔

میں نے پچھلی دفعہ حدیث کا حوالہ دیا تھا کہ مسکرانا بھی ایمان کا حصہ ہے ۔ مسکراتے رہنا بھی صدقہ ہے۔ (جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ما جاء فی صنائع المعروف حدیث 1956)پس اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔

جلسے کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے

اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ

کرنے کی جو تلقین فرمائی ہے یا مہمانوں کے حوالے سے جو تلقین فرمائی ہے اس کا معیار کیا ہے؟ فرمایا کہ ’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تاوہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں۔ اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سو رہوں اور اس کے لیے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے۔‘‘ جلسے کے ماحول کے لیے یہ بات بھی بڑی ضروری ہے۔ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے۔ ’’اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں۔ بلکہ مجھے چاہیے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لیے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے۔ اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہیے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں برجبیں ہو کر تیزی دکھاؤں یا بدنیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں۔

کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو جب تک وہ اپنے تئیں ہریک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیںدور نہ ہوجائیں۔ خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہوکر اور جھک کر بات کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395-396)

یہ عمومی ہدایت آپؑ نے اپنے ماننے والوں کو دی۔ پس یہ وہ بنیادی اخلاق ہیں جن کا اظہار ہر وقت بھی اور خاص طور پر جلسے کے دنوں میں بہت زیادہ ہونا چاہیے۔ اگر ہم اس پر ان تین دنوں میں عمل کریں گے تو کچھ نہ کچھ عادت ان باتوں پر عمل کرنے کی پڑ جائے گی اور روزانہ زندگی میں بھی ہم یہ کام کر سکیں گے بشرطیکہ یہ ذہن میں ہو کہ میں جلسے میں اپنی روحانی اور اخلاقی اصلاح کے لیے گیا تھا۔ یہ سوچ ہی مستقلاً وہ خوبصورت معاشرہ قائم کرے گی جو دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائے گی کہ میں جلسے پہ کیا سیکھنے گیا تھا۔ اپنے پر اپنے بھائی کو ترجیح دینا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ بہت مجاہدے کا کام ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اس کا تعلق ایمان سے ہے۔ اس کا ایمان ہی درست نہیں جس میں قربانی کا اور دوسرے کا حق ادا کرنے کا یہ مادہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑے انعاموں کا مستحق معمولی باتوں پر نہیں بنا دیتا بلکہ اسے ہی بے انتہا نوازتا ہے جو مجاہدے میں بڑھا ہوا ہو۔ حقوق العباد کا ادا کرنا بہت مشکل کام ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

حقوق اللہ تو بعض دفعہ ادا ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد کی ادائیگی بہت مشکل کام ہے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 19، ایڈیشن 1984ء)

پس ہر ایک کو اس سوچ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنے پر اپنے بھائی کو ترجیح دینی ہے۔ اگر یہ سوچ ہم میں سے ہر ایک میں پیدا ہو جائے اور اس سوچ کے ساتھ پیدا ہو جائے کہ میں نے دوسرے کا حق بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے ادا کرنا ہے تو ایسا معاشرہ پھر پیار اور محبت کا معاشرہ بن جاتا ہے۔

صرف جلسے کے تین دن ہی اس پیار و محبت کے اظہار کے لیے نہیں ہوتے بلکہ پوری زندگی پیارو محبت کا نمونہ بن جاتی ہے۔ کیسی کیسی خوبصورت نصائح آپؑ نے اس پاک معاشرے کے قیام کے لیے فرمائی ہیں۔ فرمایا کہ

کوئی سخت الفاظ میں بولے اور میرا رویہّ بھی ویسا ہی ہو تو مجھ پر افسوس ہے۔

چاہیے تو یہ کہ بجائے اس کے کہ مَیں اس سے سختی سے پیش آؤں میں اس کے لیے دعا کروں۔ یہ وہ معاشرہ ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ وہ معاشرہ ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مریدوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتنی خوبصورت بات آپؑ نے بیان فرمائی کہ جس میں بعض برائیاں ہیں تو وہ روحانی طور پر بیمار ہے میرا فرض ہے کہ اس کا علاج کروں یا کرواؤں۔ اب یہ بات صرف دوسرے کی اصلاح کے لیے نہیں ہے بلکہ اپنی اصلاح کے لیے بھی ہے بلکہ دوسرے سے بڑھ کر اپنی اصلاح کے لیے ہے کہ دوسرے کی روحانی بیماری کا علاج اسی وقت ہو سکتا ہے جب خود انسان اس بیماری سے پاک ہو۔

پس ان بیماریوں سے بچنے کے لیے دوسروں کے عیب نکالنے سے بچنا ہو گا۔ اپنے دل کو دوسروں کے لیے نرم کرنا ہو گا۔ ہر قسم کا تکبر اپنے اندر سے نکالنا ہو گا۔

پس اس پر میزبانوں کو بھی غور کرنا چاہیے اور شاملین جلسہ کو بھی بہت غور کرنا چاہیے۔ اگر ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے اور سلامتی اور ہمدردی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ تین دن اس مقصد کو حاصل کرنے والے بن جائیں گے جس کے لیے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔

بعض دفعہ معمولی باتوں پر بھی رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں اور ایسا ماحول بن جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو برابھلا کہنے لگتے ہیں بلکہ ہاتھا پائی تک نوبت آجاتی ہے۔ اگر یہ ماحول پیدا کرنا ہے اور جذبات پر کنٹرول نہیں رکھنا تو بہتر ہے کہ وہ انسان جلسہ پر نہ آئے اور اسی طرح ڈیوٹی والے اگر کنٹرول نہیں کر سکتے تو وہ ڈیوٹی نہ دیں۔ ٹریفک کے معاملے میں خاص طور پر شکایات آتی ہیں۔ پارکنگ کی محدود جگہیں ہیں۔ کاروں کی تعداد کے لحاظ سے پارکنگ دی جاتی ہے اس دفعہ شاید زیادہ کاریں ہوں، تنگی بھی ہو۔ جب دوسری جگہ بھیجا جائے تو تعاون کرتے ہوئے ہر مہمان کو چلے جانا چاہیے۔ عموماً تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ تعاون کرتے ہیں ایسی تربیت ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے افراد کی لیکن بعض ایسی غصیلی طبیعت کے ہوتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ دوسری جگہ جانے سے ہمارا پروگرام ضائع ہو جائے گا ہمیں کیونکہ جلسہ گاہ میں پہنچنے میں دیر ہو جائے گی تو ایسے لوگوں کو بہرحال خیال رکھنا چاہیے اورانتظامیہ کی مجبوریوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اگر جلسے کی اتنی ہی پابندی ہے تو پھر وقت سے پہلے آیا کریں اور ڈیوٹی والے جو ہیں وہ بھی ایسے لوگوں سے الجھنے کی بجائے پیار سے انہیں سمجھائیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ آپس کے سخت رویّوں کی ایک مثال بھی ہمارے سامنے نہ آئے۔ اللہ تعالیٰ مہمانوں کو بھی توفیق دے کہ وہ کسی بھی شعبے کے کارکن کو کسی بھی قسم کے ابتلا میں نہ ڈالیں اور کارکنان کے حوصلے کو بھی اللہ تعالیٰ بڑھائے۔

اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ تین دن صرف ہمارے ترانے پڑھنے اور نظمیں پڑھنے کے اور پیار و محبت کے گُن گانے کے دن نہ ہوں بلکہ ان تین دنوں کی تربیت سے وہ جاگ لگے جو معاشرے میں پیار و محبت کی ایک ایسی فضا قائم کرنے والی ہو جو حقیقی اور اسلامی معاشرے کا طرّہٴ امتیاز ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار مختلف مواقع پر ہمیں ایسی پاکیزہ سوچیں رکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں صرف نیکی اور پاکیزگی ہو۔ ایک موقعے پر مہمانوں کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور پاکیزہ سوچ رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں:’’نیکی کو محض اس لئے کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ خوش ہو اور اس کی رضا حاصل ہو اور اس کے حکم کی تعمیل ہو ۔قطع نظر اس کے کہ اس پر ثواب ہو یا نہ ہو۔ ایمان تب ہی کامل ہوتا ہے جبکہ یہ وسوسہ اور وہم درمیان سے اٹھ جاوے۔‘‘ یعنی صرف یہ خیال نہ رہے کہ میں نے جو کام کرنا ہے صرف ثواب کے لئے کرنا ہے۔ نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرنا ہے۔ فرمایا ’’اگرچہ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ (التوبۃ:120)‘‘ اللہ احسان کرنے والوں کا اجر ہرگز ضائع نہیں کرتا۔ ’’مگر نیکی کرنے والے کو اجر مدنظر نہیں رکھنا چاہیے۔ دیکھو اگر کوئی مہمان یہاں محض اس لئے آتا ہے کہ وہاں آرام ملے گا ٹھنڈے شربت ملیں گے یا تکلف کے کھانے ملیں گے تو وہ گویا ان اشیاء کے لئے آتا ہے۔ حالانکہ خود میزبان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حتی المقدور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ کرے اور اس کو آرام پہنچاوے اور وہ پہنچاتا ہے۔ لیکن مہمان کا خود ایسا خیال کرنا اس کے لئے نقصان کا موجب ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ371-372۔ ایڈیشن 1984ء)

پس یہ وہ سوچ ہے جس کو ہر مہمان کو سامنے رکھنا چاہیے۔ بعض مہمان جن کے عزیزیہاں نہیں ہیں جماعتی نظام کے تحت ٹھہرتے ہیں لیکن بعض دفعہ رہائش کے لیے ایسے مطالبات ہوتے ہیں جن کا پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اور سہولتیں مہیا نہیں ہو سکتیں کیونکہ جلسے کے وسیع انتظام میں یہ سب سہولتیں مہیا کرنا ممکن نہیں۔ عموماً لوگ سمجھ بھی جاتے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے کی بات ہے مجھے ایک خاندان ملا جن کو باوجود اس کے کہ انہوں نے کافی عرصہ پہلے انتظامیہ کو اطلاع دی ہوئی تھی لیکن کسی غلط فہمی کی وجہ سے رہائش کا وہ انتظام نہیں ہو سکا جو وہ چاہتے تھے تو انہوں نے اپنا انتظام کسی عزیز کے ہاں کر لیا۔ گو عزیز کا گھر بھی بہت چھوٹا ہے نیچے میٹرسز (mattresses)بچھا کے یا بستر بچھا کے سو جائیں گے اور میزبان اور مہمان دونوں کو دقّت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہو گا لیکن اس پر وہ خوش ہیں کہ جلسہ تو سن لیں گے اور یہ باتیں انہوں نے بڑے ہنستے ہوئے میرے پوچھنے پر مجھے بتائیں۔ کوئی شکوہ نہیں کیا۔ اکثر ایسے ہی مہمان ہوتے ہیں لیکن بعض جب مجھے ملتے ہیں تو ان کے مزاج کو جانتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ وہ جماعتی رہائشی انتظام کے تحت نہیں رہ سکتے لیکن خوشی سے وہ رہتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ میری سوچ ان کے الٹ ہوتی ہے اور خیال یہی ہوتا ہے کہ شاید نہ رہ سکیں لیکن وہ خوشی سے رہتے ہیں اور اکثریت ایسوں کی ہے لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو بہت زیادہ شکوہ بھی ہوتا ہے۔

اگر خوش دلی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ دن گزار لیں تو اللہ تعالیٰ اَور رنگ میں نواز دیتا ہے۔

اب یہاں بھی جو ان کی رہائش گاہیں تھیں، ٹینٹ تھے یا اجتماعی قیام گاہیں تھیں میرا خیال ہے زیادہ لوگوں کی وجہ سے پوری ہو گئی ہیں۔ تو ہو سکتا ہے کہ ایسا انتظام کرنا پڑے جہاں دقت ہو تو اس انتظام کو بھی مہمانوں کو خوشی سے برداشت کر لینا چاہیے ۔ بہرحال

میزبان کا یہ فرض ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ حتی المقدور مہمان کو آرام پہنچائے اور مہمانوں کو بھی اللہ تعالیٰ معمولی تکلیفوں کو برداشت کرنے کا بہترین اجر عطا فرمائے۔

اس کو بھی ان کو سامنے رکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

معاشرے میں امن اور سلامتی سے رہنے، امن اور سلامتی کی فضا پیدا کرنے اور امن اور سلامتی پھیلانے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا نصیحت فرمائی۔ ایک دفعہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ضرورت مندوں کو کھانا کھلاؤ اور ہر اس شخص جسے تم جانتے ہو یا نہیں جانتے سلام کہو۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب اطعام الطعام من الاسلام حدیث12)معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے اور امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے یہ وہ خوبصورت اصول ہے جسے اگر اپنا لیا جائے تو ایک امن اور سلامتی پھیلانے والا معاشرہ قائم ہو جاتا ہے۔

دنیا میں بہت سے فساد اس لیے ہیں کہ غریب غریب تر ہو رہا ہے۔ آج بھی کروڑوں لوگ ہیں جن کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں ملتی۔ اگر روٹی کھائیں تو رہائش نہیں۔ یہ جو امیر ملک کہلاتے ہیں ان میں بھی ایسی باتیں ہیں یہاں اس ملک میں بھی، یوکے میں بھی جسے امیر ملک کہا جاتا ہے گو اَب ان کی امارت کی وہ حالت نہیں رہی لیکن بہت سوں سے بہتر ہیں۔ ہزاروں لوگ اور بچے سڑکوں پر پڑے ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے روٹی بھی صحیح طرح میسر نہیں اور رہائش بھی میسر نہیں۔ تو اسلام کی یہ بنیادی تعلیم ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ۔ کاش کہ مسلمان اس اصول کو سمجھیں اور ان کے حکمران اپنی رعایا کے حق ادا کرنے والے بنیں اور صرف اپنے خزانے نہ بھرتے رہیں بلکہ غریبوں اور ضرورتمندوں کی ضرورت پوری کر کے معاشرے سے بے چینی اور ظلم کو دور کریں۔ آجکل یہ بے چینی بھی اسی وجہ سے بہت ساری پھیلی ہوئی ہے۔

پھر فرمایا کہ

سلام کہو۔

بہرحال یہ تو ضمناً میں نے بات کی ہے۔ اپنے معاشرے میں رواج دینے کے لیے آپؐ نے سلام کی تلقین فرمائی۔ سلام کہنا صرف منہ سے بول دینا ہی نہیں بلکہ جب انسان دل سے سلام کہتا ہے تو پھر سلامتی پہنچانے، پھیلانے کی سوچ بھی رکھتا ہے۔ ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات بھی رکھتا ہے۔ اس کی تکلیفوں کو دُور کرنے کی کوشش اور دعا بھی کرتا ہے۔ پس

ان دنوں میں ہر احمدی کو یہاں سلامتی کا پیغام پھیلانے، السلام علیکم کو رواج دینے اور اپنے اندر ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لوگ ان لوگوں سے تو خوش دلی سے مل لیتے ہیں اور بڑے تپاک سے انہیں سلام بھی کر لیتے ہیں جن سے انہیں فائدہ پہنچ رہا ہو یا ان کو بھی خوشی سے مل لیتے ہیں جن سے عام تعلقات ہوں لیکن

حقیقی امن اور سلامتی اُس وقت قائم ہوتی ہے جب وہ لوگ جن کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے رنجشیں ہیں وہ دُور ہوں اور دل سے ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعا نکلے۔

پس اس جلسے میں ایسے لوگوں کو بھی رنجشیں دور کر کے سلامتی کا پیغام پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے اور عمومی رنگ میں اس سارے ماحول میں سلامتی کا پیغام پہنچاتے ہی رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس پہ عمل کرنے کی بھی ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے اور یہ سب جلسے کا ماحول مکمل طور پر امن اور سلامتی کا ماحول بن جائے بلکہ اعلیٰ اخلاق اور حقوق العباد کی ادائیگی ہماری زندگیوں کا مستقل حصہ بن جائیں۔

جلسے کے انتظامات کے لحاظ سے بعض عمومی باتوں کی طرف بھی توجہ دلانی چاہتا ہوں

جن کا ہر ایک کو خیال رکھنا چاہیے۔ پہلی بات تو یہ کہ

کوشش کرنی چاہیے کہ جلسے کی کارروائی خاموشی اور توجہ سے سنیں

اور یہ نہیں کہ بعض تقریریں سنیں اور بعض نہ سنیں۔ اس کے بارے میں پہلے بھی مَیںکہہ چکا ہوں کہ جلسے میں آ کے بیٹھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بات کو سختی سے ناپسند فرمایا کہ بعض مقررین کی تقریریں سن لی جاتی ہیں اور ان کی شعلہ بیانیوں کو پسند کیا جاتا ہے اور بعض کو نہیں سنا جاتا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد1 صفحہ398 تا 401)مقررین بڑی محنت سے تقاریر تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ تمام شاملین کو جلسے کی تمام کارروائی میں شامل ہو کر روحانی اور علمی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

پھر

جلسے کے دنوں میں ذکرِالٰہی اور درود شریف پڑھنے کی طرف بھی خاص توجہ دیں۔

آجکل تو ویسے بھی محرم کے دن ہیں اور آج دس محرم بھی ہے، ان دنوں میں خاص طور پر

درود شریف پڑھنا چاہیے اور اس سوچ کے ساتھ پڑھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبہ کو بلند کرتا چلا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو کامیابی اور غلبہ عطا فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو بقا اور عظمت عطا فرمائے۔ آپؐ کی امت کے حق میں آپؐ کی دعاؤں سے ہم فیض پانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس امت کو ہر قسم کے بگاڑ سے پاک کر دے۔

آج مسلمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے نام پر کیا کچھ نہیں کر رہے۔ اسلام کو بدنام کیا ہوا ہے انہوں نے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقل دے اور زمانے کے امام ؑکو ماننے والے بھی ہوں۔ جمعے کے دن دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اس بات کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کا نام لے کر ہی ان نام نہاد مسلمانوں نے آج کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اور جسمانی آل پر ظلم کیا تھا ۔ اب یہی ظلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی آل اور مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی جماعت پر یہ لوگ کر رہے ہیں۔

پاکستان میں آجکل بہت تکلیف دہ حالات ہیں۔ ہر طرف سے مخالفین جماعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم حُبِّ رسولؐ میں یہ کر رہے ہیں اور احمدی نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں جبکہ ہمارے ایمان کی تو بنیاد ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اور آپؐ کی لائی ہو ئی شریعت پر ایمان لانا ہے۔ اصل میں تو ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے آنے والے مسیح موعود اور مہدی معہود کو مانا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشق رسول کس معیار پر تھا اوراس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس طرح نوازا

اس بارے میں آپؑ فرماتے ہیں ’’ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں وہ بجز وسیلہ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے: وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ (المائدۃ:36) تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دو سقے یعنی ماشکی آئے‘‘ پانی لے کے آنے والے ’’اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور ان کے کا ندھوں پر نور کی مشکیں ہیں۔‘‘ پانی نہیں بلکہ نور کی مشکیں لیے ہوئے ہیں ’’اور کہتے ہیں ھٰذَا بِمَا صَلَّیْتَ عَلٰی مُحَمَّدٍ۔‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ131حاشیہ)یعنی یہ سب انعام نور کا اس لیے ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہے ہو۔

تو یہ آپؑ کے عشق کی حالت تھی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو نوازا بھی۔ پس آپؑ نے بیشمار جگہ اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ میں نے جو کچھ پایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے اور آپؐ پر درود بھیجنے سے اور آپؐ کے عشق میں فنا ہونے سے پایا۔ پس مجھے تم کس طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا سمجھتے ہو۔ بہرحال

ان دنوں میں ذکر الٰہی کے ساتھ خاص طور پر درودکی طرف بھی بہت توجہ رکھیں۔

اللہ تعالیٰ جلد تر ان برکات کو تمام دنیا میں پھیلا دے جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے۔

جلسہ گاہ میں خاص طور پر خواتین اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کچھ سمجھ بوجھ رکھنے والے بچوں کو اس بات کا احساس دلائیں کہ انہوں نے جلسے کی کارروائی کے دوران خاموشی سے بیٹھنا ہے۔ بچپن کی تربیت ہی ذہنوں میں راسخ ہوتی ہے۔

جو عورتیں بچوں کی مارکی میں بیٹھتی ہیں وہ بھی کوشش کریں کہ کم بولیں اور کارروائی سننے کی طرف توجہ دیں۔ یہ بھی شکایت آتی ہے کہ بچے کم شور مچاتے ہیں۔ عورتیں آپس میں ان کے بہانے زیادہ باتیں کر رہی ہوتی ہیں تو اس طرف توجہ رکھنی چاہیے۔

اسی طرح

سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی مردانہ اور زنانہ جلسہ گاہ میں ہر شامل ہونے والے کو اپنے ماحول پر نظر رکھنی چاہیے۔

یہ بہت بڑا سیکیورٹی کا ذریعہ ہے۔ اور اسی طرح جو ہدایات آپ کے پروگرام میں لکھی گئی ہیں انہیں بھی غور سے پڑھیں اور ان پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کو جلسے سے احسن رنگ میں فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہر شر سے بچائے اور اپنی رحمتوں اور فضلوں کی بارش ہم پر نازل فرماتا رہے۔

٭٭٭خطبہ ثانیہ٭٭٭

(الفضل انٹرنیشنل ۱۸؍ اگست ۲۰۲۳ء)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button