متفرق مضامین

الفضل اور حالاتِ حاضرہ

(ڈاکٹر طارق احمد مرزا۔ آسٹریلیا)

آج سے ۱۱۰؍ برس قبل جب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محموداحمدصاحب المصلح الموعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اخبار ’’فضل کا پراسپکٹس‘‘ شائع فرمایا تو الفضل کے جاری کرنے کی اغراض بیان کرتے ہوئے حالات حاضرہ کی خبروں سے آگاہی کو آٹھویں نمبر پر مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا:’’ضرورى مفید اخبار کى واقفیت بہم پہنچانا جن سے عموماً خبروں کے لئے اور کسى اخبار کى احتیاج نہ رہے خصوصاً عالم اسلام کى خبروں سے آگاہ کرنا‘‘۔ (انوار العلوم جلد ۱ صفحہ ۴۴۱)

چنانچہ جب الفضل کا پہلا پرچہ ۱۸؍جون ۱۹۱۳ء کو شائع ہوا تو اس کے صفحہ ۲ پر ’’مختلف خبریں‘‘ کے زیر عنوان جنگ بلقان سے متعلق ۱۰؍جون تا ۱۶ جون ۱۹۱۳ء کی اہم خبروں کا خلاصہ کالم نمبر ایک اور ۲ پر شامل اشاعت کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ جنگ بلقان لیگ میں شامل ممالک بلغاریہ۔ سربیا، یونان، اورمونٹینیگرو نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف شروع کی تھی۔چنانچہ ان ممالک سے متعلق خبریں شامل اشاعت ہیں نیزان حالات میں روس اور برطانیہ کے کردار سے متعلق خبریں بھی شامل کی گئی ہیں۔

اسی صفحہ پر مزید جن ممالک کے بارے میں اہم خبروں کا خلاصہ شائع کیا گیا ان میں انگلستان،فرانس، جرمنی، مراکش، ہسپانیہ، ہندوستان،ترکیہ،ارجنٹینا اورآرمینیا شامل ہیں۔

الفضل کے اسی پہلے شمارہ کے صفحہ ۴ اور ۵ پر مزید حالاتِ حاضرہ بمع تبصرہ شائع ہوئے۔ان میں پنجاب گورنمنٹ کا خرچ پادریوں پر،ماورائے ایران ریلوے،آرمینیا کے مسیحی، ترکوں میں فساد،آزادی کی مخالفت،مراکش میں ہسپانیوں کا حشر، افریقہ میں دو بیوی والوں کا حشر،مسلمانوں کی تعلیم کی طرف گورنمنٹ کی توجہ،حاجیوں کے لیے نیا انتظام،گورنمنٹ کا انصاف،پارلیمنٹ میں آٹے کی بارش،ٹرکی کا مستقبل،ہندومسلمانوں کا اتحاد اور نئے مجوزہ قوانین کے عناوین شامل ہیں۔

یہی نہیں بلکہ صفحہ ۶ پر سید ادریسی امیر عسیرکا ایک خط بنام امام یحیٰ امیر یمن (حصہ اول) بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے جس کا مقصد قارئین کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ ’’اس خط سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ترک افسران انتظام مملکت سے کیسے غافل ہیں اور کس طرح مختلف اقوام کے امراء کو اپنی غفلتوں کی وجہ سے ناراض کررہے ہیں‘‘۔

اس صفحہ کے بالائی حاشیہ’’ہیڈر‘‘ (Header) پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ یہ صفحہ ۱۹؍جون ۱۹۱۳ء کو مرتب کیا گیا، گوجلد نمبر۱ شمارہ نمبر۱ کا ہی حصہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبار الفضل شروع میں ہفت روزہ تھا اورروزانہ کی بنیاد پر اس کے لیے حالات حاضرہ میں سے انتخاب شامل کیا جاتا تھا۔چنانچہ آخری صفحہ (۱۶) کے کالم ۲ کے آخر میں ’’تازہ برقی خبریں‘‘ کے عنوان سے چھ عدد مزید تازہ خبروں کا خلاصہ بھی قارئین کے لیے پیش کیا ہوا دیکھنے کوملے گا۔

بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات حاضرہ سے آگاہی کے لیے الفضل کے قاری کو عموماً خبروں کے لیے اور کسى اخبار کى احتیاج نہ رہی ہوگی۔ چناچہ آج الفضل کے گذشتہ شمارے جہاں تاریخ احمدیت کے ماخذ کے طور پرکام میں آرہے ہیں،وہاں تاریخ اقوام عالم کے انسائیکلوپیڈیا کے طورپر بھی مفید ثابت ہو رہےہیں کیونکہ فی زمانہ انٹرنیٹ پر محفوظ کردہ ان شماروں تک ہر خاص و عام کے لیے رسائی نہایت آسان ہو چکی ہے۔

خدا تعالیٰ کے فضل سے اخبار الفضل گذشتہ ایک سو دس برسوں سے،ماسوا تعطل کے بعض عارضی ادوار کے، حالاتِ حاضرہ اوراہم عالمی خبروں کے خلاصہ کو اپنے بانی ایڈیٹرحضرت مرزا محمود احمد صاحب المصلح الموعود کے دیے ہوئے ’’پراسپکٹس‘‘کے عین مطابق اپنے صفحات کی زینت بناتا چلا آرہا ہے اور اب تو اس میں شائع شدہ دیگر مضامین کی طرح اس کے ’’خبرنامہ‘‘اہم عالمی خبروں کے خلاصہ کا صوتی قالب یعنی آڈیو ریکارڈنگ بھی روزنامہ الفضل انٹرنیشنل کے یو ٹیوب چینل پر باقاعدگی سے دستیاب کردی جاتی ہے۔

حالات حاضرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت اور اہمیت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۸؍جنوری ۱۹۳۷ءمیں اس وقت کے حساس اور خطرناک رخ کے حامل عالمی منظر نامہ کا نقشہ کھینچتے ہوئے احباب جماعت کو دعاؤں کی تحریک کی اوراس ضمن میں فرمایا: ’’ایک دوست کو شکایت ہے کہ جاپان کے حالات اخبار الفضل میں کیوں درج ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں جن کو میں کنویں کے مینڈک کہتا ہوں۔ فکر تو یہ ہونی چاہئے کہ جاپان کے حالات تو شائع ہوتے ہیں فلپائن کے کیوں نہیں ہوتے؟ روس کے کیوں نہیں ہوتے؟ یہ غم تمہیں کھائے جانا چاہئے کہ کیا یہی ہماری پہنچ ہے کہ ہمارے اخبارمیں صرف جاپان کے حالات ہی شائع ہوتے ہیں۔ ہمارے دوستوں کو اِس پر گلہ ہونا چاہئے کہ جو نہیں چھپا نہ کہ اُس پر جو چھپ رہا ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا جاپان کی اصلاح ہمارا فرض نہیں؟ اگر ہے تو اس کے حالات کا علم نہ ہوگا توہمارے دل میں اس کے لئے درد کس طرح پیدا ہوگا اور ہم اس کی اصلاح کس طرح کرسکتے ہیں۔

پس ہماری جماعت کو اپنے فرائض کو سمجھنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہے کہ خداتعالیٰ نے ہمیں دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کیا ہے۔ خاص کر ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں اِس قدر خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ کیا ایک طبیب کہہ سکتا ہے کہ لوگ آکر مجھے تنگ کرتے ہیں جو اپنی بیماریاں مجھے بتاتے ہیں؟ اگر وہ ان بیماریوں سے آگاہ نہ ہو تو علاج کس طرح کرسکتا ہے۔ اسی طرح جب تک تم دنیا کے حالات سے واقف نہ ہو اُس کی اصلاح کیسے کرسکتے ہو۔ ہم نے اپنے زور سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کے فضل سے بہت بڑا کام کیا ہے۔ حیاتِ مسیح کے عقیدہ کو بدل دیا ہے، قرآن کریم کے نسخ کے خیالات کو بدل دیا ہے۔ عیسائی ممالک میں بائبل کے متعلق عیسائیوں کے خیالات میں تبدیلی پیدا کردی ہے مگرابھی یہ کام ایسا ہی ہے جیسے سمندر کے مقابلہ میں کنواں۔ ہمارا تعلق ساری دنیا سے ہے اس لیے ہمیں سوچنا چاہئے کہ دنیا کو ان مختلف بلاؤں سے کس طرح نجات دلائی جاسکتی ہے جو اس پرنازل ہورہی ہیں۔ اگر اس خیال سے کہ ہمارے پاس طاقت نہیں بیٹھ جائیں تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے‘‘۔( خطبات محمود،جلد ۱۸،صفحہ ۱۱ و ۱۲)مزید فرمایا:’’پس یہ بالکل غلط ہے کہ دنیا سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہمارا ہی تو واسطہ دنیا سے ہے۔ جب خداتعالیٰ نے دنیا ہمیں دے دی ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ میں دنیا دوسروں سے چھین کر تمہارے حوالے کردوں گا تو پھر اگرچہ اِس وقت وہ ہمارے قبضہ میں نہیں ہم اس سے کس طرح غافل رہ سکتے ہیں‘‘۔( خطبات محمود،جلد ۱۸،صفحہ ۱۷)

حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے سے متعلق سرداردو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کااسوہ

پیارے آقا پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفیٰﷺ فداہ امی وابی،کی حیات مبارکہ پہ نظر دوڑائیں تو جہاں اللہ تعالیٰ جل شانہ نے آپﷺ کو وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدہ آیت ۶۸) یعنی ’’اللہ تعالیٰ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا‘‘ کی یقین دہانی کروائی وہیں آپ اورآپ کے صحابہ کو وَاَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ (الانفال:۶۱) یعنی گھوڑوں کو سرحدوں پر مستعد باندھ رکھنے کا حکم بھی دیا۔اس کا مقصد نہ صرف دشمنوں پر اپنا رعب قائم و دائم رکھنا اورمومنوں کی جماعت کے دفاع کے لیے ہردم تیار رہنا تھا بلکہ سرحدوں اور آس پاس کے حالات سے باخبر رہنا بھی تھا۔کیونکہ مومنوں کی جماعت کو ہر وقت چاروں طرف سے دشمنوں کی طرف سے خطرہ لاحق رہتا تھا،جواپنے تئیں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے مصمم ارادے رکھتے اور اس نیت سے سازشوں میں مصروف رہتے تھے۔

زمانہ نبویﷺ میں آج کل کے دور کی طرح کے اخبارات یا رابطوں کے جدید ذرائع تو میسر نہ تھے لیکن خبر رسانی کے دیگر پرحکمت اور کامیاب طریق ضروررائج تھے۔ ’’خبر‘‘ کے بارےمیں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عینی مشاہدہ اورذاتی شہادت کو ترجیح دیتے نہ کہ سنی سنائی بات کو۔ چنانچہ فرمایا:’’لَیْسَ الْخَبْرُکَالْمُعَایَنَۃِ‘‘ (سنن احمد) یعنی سنی ہوئی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہو سکتی۔

اس حوالے سے یہاں سیرت نبویﷺ سے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۲؍ اپریل ۲۰۰۵ء میں حسب ذیل الفاظ میں بیان فرمایا: ’’ایک واقعہ کا روایت میں ذکر ملتا ہے، حضرت انس ؓسے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب انسانوں سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔ کسی طرف سے کوئی آواز آئی اور لوگ آواز کی طرف دوڑے۔ تو سامنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہوئے ملے۔ آپؐ بات کی چھان بین کرکے واپس آ رہے تھے۔ اور حضرت ابو طلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے۔ آپؐ نے اپنی گردن میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی۔ آپؐ نے ان لوگوں کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ڈرو نہیں، ڈرو نہیں مَیں دیکھ کر آیا ہوں کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔ پھر آپؐ نے ابو طلحہ کے گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اس کو تیز رفتاری میں سمندر جیسا پایا۔ (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، باب الحمائل وتعلیق السیف بالعنق)‘‘۔(بحوالہ خطبات مسرور جلد سوم، صفحہ ۲۶۴)

مذکورہ بالا حدیث سے پتا چلتا ہےکہ نہ صرف یہ آنحضورﷺ نے بذات خود حالات کاجائزہ لینے کے بعد لوگوں کو یہ خبر دی،بلکہ خبر کے حصول کے لیے تیزترین ذریعہ اپنانے کوبھی ترجیح دی،جو کہ ایک تیز رفتار گھوڑاتھا، جسے آپ علیہ السلام نے بالخصوص پسند فرمایا اوراس کی تعریف بھی کی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف یہ کہ مقامی گردو پیش بلکہ بین الاقوامی حالات سے بھی باخبر رہتے تھے۔ چنانچہ تکلیف کے دور میں مسلمانوں کو حبشہ کے لیے ہجرت کرنے کی اجازت دینا،علم حاصل کرنے کے لیے دور درازواقع ملک چین کی مثال دینا، اور اسی طرح قیصروکسریٰ سمیت بہت سے ممالک کے سلاطین اوربادشاہوں کے نام لکھے گئے آپ کے خطوط اس بات پر گواہ ہیں کہ آپ اس وقت کے عالمی اور جیو پولیٹیکل،یعنی سیاسی و جغرافیائی منظرنامہ سے بخوبی آگاہ رہتے تھے۔

حضرت مسیح موعودؑ کی اخباربینی کا معمول

جیسا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ بالا خطبہ میں بتایا کہ نہ صرف وہ خود بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اخبارات کا باقاعدہ مطالعہ رکھتےتھے،اس ضمن میں مزید دو روایات قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب بیان فرماتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعودؑ کو اخبار پڑھنے کی بھی عادت تھی۔ اپنی بعثت سے پہلے اخبار وکیل ہندوستان، سفیر ہندامرتسر، نور افشاں لدھیانہ، برادرہند لاہور، وزیر ہند سیالکوٹ، منشور محمدی بنگلور، ودیا پرکاش امرتسر، آفتاب پنجاب لاہور، ریاض ہند امرتسر اور اشاعة السنہ بٹالہ خرید کر پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے بعض اخبارات میں خود بھی مضامین لکھتے تھے۔ اخبار بینی کا مذاق آپ کو دائمی تھا۔ بعثت کے بعد مختلف زبانوں کے اخبارات قادیان میں آنے لگے۔ جو براہ راست غیرزبانوں کے اخبارات آپ کے پاس آتے تھے آپ ان کا ترجمہ کرا کر سنتے اور اگر ان میں کوئی مضمون اسلام کے خلاف ہوتا تواس کا جواب لکھوا کر شائع کرتے تھے اور جو خود پڑھ سکتے تھے وہ ضرور پڑھتے اور اخبار کے پڑھنے کے متعلق آپ کا معمول یہ تھا کہ تمام اخبار پڑھتے اور معمولی سے معمولی خبر بھی زیر نظر رہتی۔ آخری زمانہ میں اخبار عام کو یہ عزت حاصل تھی کہ آپ روزانہ اخبار عام کو خریدتے تھے اور جب تک اسے پڑھ نہ لیتے رومال میں باندھ رکھتے تھے اور بعض اوقات اخبار عام میں اپنا کوئی مضمون بھی بھیج دیتے تھے اخبار عام کی بے تعصبی اور معتدل پالیسی کو پسند فرماتے تھے‘‘۔(سیرت مسیح موعودؑ از یعقوب علی عرفانی۔ صفحہ ۶۹ ایڈیشن ۲۰۱۶ء)

اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک اورخوش قسمت رفیق حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ اپنی کتاب ذکر حبیب فرماتے ہیں :’’ایک دن میں قرآن شریف لے کر حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کا درس سننے کے واسطے اپنے کمرے کے دروازے سے نکل رہا تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ نے مجھے بلایا اور فرمایا میری آنکھوں کو تکلیف ہے، آپ مجھے آج اخبار سنا دیں۔ حضور اخبار عام روزانہ باقاعدہ روزانہ منگوایا کرتے تھے اور پڑھتے تھے‘‘۔ (ذکرِ حبیب،ایڈیشن مع انڈیکس صفحہ ۶۸)

جامعہ کے طلبہ کو اخبارات کا باقاعدہ مطالعہ کرنے کی تحریک

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی دلی خواہش تھی کہ جامعہ کے طلبہ اور مبلغین خود کو دنیا کے حالاتِ حاضرہ سے واقف رکھنے کے لیے اخبارات کا باقاعدگی کے ساتھ مطالعہ کیا کریں۔

چنانچہ خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱؍ جنوری ۱۹۳۵ء میں آپ نے جامعہ احمدیہ کے طلبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:’’میں نے عام طور پر (ان) لڑکوں سے سوال کرکے دیکھا اور مجھے معلوم ہوا کہ کثرت سے طالب علم ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اخبار کو پڑھا ہی نہیں۔ کیا دنیا میں کبھی کوئی ڈاکٹر کام کرسکتا ہے جسے معلوم ہی نہیں کہ مرضیں کون کون سی ہوتی ہیں۔ میں نےتو حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا ہے آپ راتوں کو بھی کام کرتے اور دن کو بھی کام کرتے اوراخبارات کا باقاعدہ مطالعہ رکھتے۔ اسی تحریک (تحریک احرار ۱۹۳۴ء) کے دوران میں خود اکتوبر سے لے کر آج تک بارہ بجے سے پہلے کبھی نہیں سویا اور اخبار کا مطالعہ کرنا بھی نہیں چھوڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تو میں نے اس طرح دیکھا ہے کہ جب ہم سوتے اس وقت بھی آپ جاگ رہے ہوتے اور جب ہم جاگتے تو اس وقت بھی آپ کام کررہےہوتے۔

جب انہیں پتہ ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے تو وہ دنیا میں کام کیا کرسکتے ہیں۔ میں نے جس سے بھی سوال کیا،معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا‘‘۔ (خطبات محمود جلد ۱۶۔صفحہ ۳۶ و ۳۷)آپ نے مزید فرمایا:’’تمہیں تو اپنے اندر ایک آگ پیدا کرنا چاہیے،ایمان پیدا کرنا چاہیے،اخلاق پیدا کرنےچاہئیں،امنگیں پیدا کرنی چاہئیں اور تمہیں سمجھنا چاہیے کہ تمہیں خدا نے کسی خاص کام کے لیے پیدا کیا ہے اور تم زمین میں اس کے خلیفہ ہو۔پھر تم اخبارمیں پڑھتے اور جہاں جہاں مسلمانوں کو تکالیف ومصائب میں گرفتار پاتے، تمہارے دلوں میں ٹیسیں اٹھتیں اور تم ان کی بہبودی کے لئے کوششیں کرتے، مگر تم دنیا کے حالات سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہو‘‘۔ (خطبات محمود جلد ۱۶ صفحہ ۴۰،۳۹)

زرد صحافت سے پاک: اخبار الفضل

’’زرد صحافت‘‘ سے مراد ایسی صحافت ہے جس میں جھوٹ کی حد تک مبالغہ آرائی کی مدد سے گمراہ کن سنسنی خیزی پھیلائی جائے۔ زرد صحافت کی اصطلاح کا آغازامریکہ (اور پھر دنیا بھر میں)۱۸۹۰ء کے لگ بھگ ہوا جب دو عدد مقبول ترین لیکن ایک دوسرے کے حریف امریکی اخبارات نے زرد رنگ کا لبادہ پہنے ایک کارٹون (Yellow kid) کو سنسنی خیز خبروں کی ترویج کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر استعمال کرنا شروع کیا۔

ابتدا میں یہ اخبارات زرد کارٹون کے لبادے میں صرف امریکہ،خصوصاً نیویارک سے متعلق خبروں کے حوالہ سے سنسنی خیزی پھیلایا کرتے لیکن بعد میں انہوں نے عالمی حالاتِ حاضرہ اور واقعات کو بھی تختہ مشق بنانا شروع کردیا حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ کیوبا اور فلپائن میں سپین امریکہ جنگ شروع کروانے میں اس زرد کارٹون کا بھی بہت اہم کردار تھا۔ تب ہی سے اس قسم کی دروغ آمیزاور سنسنی خیز صحافت کو ’’زرد صحافت‘‘ کا نام دے دیا گیا، جو کہ بدقسمتی سے اب بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے خطوں میں نہ صرف رائج بلکہ مقبول بھی چلی آرہی ہے۔

چنانچہ ’’پاکستان میں زرد صحافت یا جرنلزم عروج پر‘‘ کے زیرعنوان کالم نگار اجمل شبیر صاحب لکھتے ہیں:’’اب صحافت کو جو پاکستان اور دنیا بھر میں سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ ہے جعلی یا فیک خبروں کا۔ پاکستان میں تو مسخ شدہ خبروں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ جھوٹی خبر کو ایسے بھیانک انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے۔ پاکستان میں صحافت کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان اب ایڈیٹر بن گئے ہیں…،وہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں،کسی کو برباد کردیتے ہیں اور کسی کی تسبیح کی جاتی ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا ان کا کام ہے۔ دوسری طرف صحافیوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہے۔ صحافی اب صحافی نہیں ہیں بلکہ میڈیا ہاؤسز مالکان کے ملازم ہیں… یہ صحافی زیادہ تر اینکر پرسنز کہلاتے ہیں،یعنی دوسروں کو ننگا کرنے والے،ان کے خلاف نفرت اور تعصب پھیلانے والے۔‘‘

(https://www.punjnud.com/pakistan-mein-zard-sahafat-ya-journalism-arooj-par-)

خداتعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے اخبار الفضل کو اپنی اشاعت کے پہلے دن سے آج تک یہ اعزازحاصل رہا ہے،اور انشاء اللہ آئندہ بھی حاصل رہے گا کہ کوئی بھی سچ کے علمبرداراس اخبار پر زرد صحافت کا حامل ہونے کاالزام نہیں لگا سکتا۔

اس ضمن میں یہ تاریخی امر بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ الفضل کے پہلے شمارہ میں خلیفۃ المسیح الاول حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ’’اسلامی اخبارات کے لئے دستورالعمل ‘‘کے عنوان سے جو مضمون خاص الفضل کے لیے تحریر فرمایا اس میں خصوصی طور پر ان اخبارات کے حوالے سے جو سیاسیات ہی کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں اور کسی ضابطہ اخلاق سے ان کا دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا فرمایا:’’یہ اخبار اپنے مصالح اور اغراض سے بندھے ہوئے ہیں اور جب مصالح اور اغراض اصل ہوئے تو کذب،غشّ،خیانت،اورعذر تو ان کے لئے ضروری اورلازمی ہوتا ہے‘‘۔ (اخبار الفضل قادیان دارالامان نمبر ۱ جلد ۱ صفحہ ۱۶ کالم ۱)

مضمون کے آخر میں،جو کہ انتہائی بیش قیمت نصائح پر مشتمل ہے حضوررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نصیحت کرتے ہوئےفرمایا:’’پس برادران وعزیزان و بزرگان۔اخبار میں وہ مضمون دو جس میں نفسانیہ خواہشات۔سوء ظن،تفرقہ و امراء پر اعتراض اور اس میں ناعاقبت اندیشی،خود غرضی،طمع،دین الٰہی سےبیخبری، نفاق جو بد عہدیوں سے پیدا ہوتا ہے۔اور احکام کی نااہلی۔ترک افشاء سلام (خصوصاً ہندوستان میں تو یہ مبارک دعامعیوب یقین کی گئی) ترک جمعہ و جماعات امراء میں تعلی۔عادات بدنی نے کہاں نوبت پہنچائی ہے کا علاج ہو۔اللہ تعالیٰ توفیق دے ‘‘۔(اخبار الفضل قادیان دارالامان نمبر ۱ جلد ۱ صفحہ ۱۶ کالم ۲)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ بالا مضمون میں جس ’’ دین الٰہی سےبے خبری ’’ کا ذکرفرمایا، حقیقت یہی ہے کہ آج سے چودہ صدیاں قبل اس دینِ اسلام نے خاص طور پر‘‘خبر‘‘ کے حوالہ سے ایسی واضح اور روشن تعلیم مخبر صادق حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو دے دی تھی جو ہر قسم کے جھوٹ،افواہوں،من گھڑت نیز فتنہ و فساد کی باتوں کا قلع قمع کرتی اور مومنین کو ان سے احتراز برتنے کی تاکید کرتی ہے،چنانچہ اخبار ’’الفضل‘‘ انہی سنہرے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر شائع کیا جاتا ہے، جو کسی بھی صحافت کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ان اصولوں کے حوالہ سے قرآن کریم،جو خود بھی ماضی،حال اور مستقبل کی بہت ساری خبروں کا حامل ہے۔اور ایک سورہ مبارکہ کا تو نام ہی ایک بڑی خبر (النبا) کے حوالہ اور ذکر سے متعلق ہے، کی چند آیات پیش کی جاتی ہیں:

٭…وَلَا تَلۡبِسُوا الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَکۡتُمُوا الۡحَقَّ وَاَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ( البقرة : ۴۳)ترجمہ: اور حق کو باطل سے خلط ملط نہ کرو اور حق کو چھپاؤ نہیں جبکہ تم جانتے ہو۔

٭…یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ (الحجرات: ۷)ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے پاس اگر کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو (اس کی) چھان بین کرلیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم جہالت سے کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر پشیمان ہونا پڑے۔

٭… اِذۡ تَلَقَّوۡنَہٗ بِاَلۡسِنَتِکُمۡ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِکُمۡ مَّا لَیۡسَ لَکُمۡ بِہٖ عِلۡمٌ وَّتَحۡسَبُوۡنَہٗ ہَیِّنًا ٭ۖ وَّہُوَ عِنۡدَ اللّٰہِ عَظِیۡمٌ

وَلَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعتُمُوہُ قُلۡتُمۡ مَّا یَکُوۡنُ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَکَلَّمَ بِہٰذَا سُبۡحٰنَکَ ہٰذَا بُہۡتَانٌ عَظِیۡمٌ یَعِظُکُمُ اللّٰہُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِہٖۤ اَبَدًا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ۔(النور:۱۶تا ۱۸)۔ترجمہ:جب تم اُس (جھوٹ) کو اپنی زبانوں پر لیتے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ کہتے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا اور تم اس کو معمولی بات سمجھتے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی تھی۔

اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سُنا تو تم کہہ دیتے ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم اس معاملے میں زبان کھولیں۔ پاک ہے تُو (اے اللہ!)۔ یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے۔

اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے مبادا تم آئندہ کبھی ایسی بات کا اِعادہ کرو، اگر تم مومن ہو۔

اسی طرح غیر مصدقہ اور بے بنیاد ’’خبروں‘‘ کی ترویج و تشہیر میں ملوث افراد کے بارہ میں پیغمبر اسلام خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا قطعی فرمان ہےکہ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكلِّ مَا سَمِعَ(صحیح مسلم بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْحَدِيثِ بِكُلِّ مَا سَمِعَ)یعنی کسی شخص کےجھوٹاہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔

افسوس کہ آج سے ایک سو دس برس قبل امام آخرالزمانؑ کے رفیق اورپہلے خلیفہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے سیاسیات میں الجھے مروجہ اخبارات کے بارہ میں اپنے مشاہدات کا خلاصہ ان الفاظ میں فرمایا تھا کہ’’یہ اخبار اپنے مصالح اور اغراض سے بندھے ہوئے ہیں اور جب مصالح اور اغراض اصل ہوئے تو کذب۔ غشّ۔ خیانت۔ اور عذر تو ان کے لئے ضروری اورلازمی ہوتا ہے‘‘۔ (الفضل قادیان دارالامان نمبر۱ جلد ۱ صفحہ ۱۶)،

توکلمہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان کا ایک صحافی آج بھی نوحہ خواں ہے کہ اس قوم نے اپنی حالت ہنوز نہیں بدلی یہاں تک کہ’’ پاکستان میں تو مسخ شدہ خبروں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ جھوٹی خبر کو ایسے بھیانک انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ انسانیت کانپ اٹھتی ہے!۔‘‘

فاعتبروا یا اولالباباللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہےکہ اخبارالفضل اس قسم کے گند سے پاک ہے۔اس میں قاری کو سچ کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔

جہاں تک فی زمانہ رواج پانے والے ’’میڈیا ہاؤسز‘‘ کا تعلق ہے توواضح رہے کہ اخبار الفضل سمیت جماعت احمدیہ کے جملہ جرائد و رسائل اور ملٹی میڈیا آؤٹ لیٹس (Multi media outlets) خواہ پرنٹ میڈیا ہو،سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا (بشمول ریڈیو اور ٹی وی چینلز) کا تعلق بھی ایک ’’میڈیا ہاؤس‘‘ سے ہے اور وہ ’’ہاؤس‘‘(House) یعنی گھر ہے اس آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسیح آخرالزماں کے بابرکت ہاتھوں کے ذریعہ بنوایا ہوا ’’الدؔار‘‘، جس کی چاردیواری کے اندر جھوٹ کسی بھی رنگ میں داخل نہیں ہو سکتا۔جس کی حصار اندر حصار چاردیواری کے اندر سچائی کے گھنے درختوں تلے امن و حفاظت، سکون وراحت،علم و معرفت اور محبت وابلاغ کی گہری چھاؤں سے لطف اندوز ہونےکے کھلے مواقع دستیاب ہیں۔

؏ اَمْن اَسْت دَرْمَکَانِ مَحَبَّتْ سَرَائے مَا

ترجمہ: ہمارا مکان جوہماری محبتِ سرائے ہے اس میں ہرطرح سے امن ہے۔(الہام حضرت مسیح موعودؑ )

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button