متفرق

دین تو مصاحبت چاہتا ہے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:’’دین تو چاہتا ہے مصاحبت ہو، پھر مصاحبت ہو۔ اگر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصول کی امید کیوں رکھتا ہے۔ ہم نے بار بار اپنے دوستوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ بار بار یہاں آ کر رہیں اور فائدہ اٹھائیں۔ مگر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ لوگ ہاتھ میں ہاتھ دیکر دین کو دنیا پر مقدم کرلیتے ہیں۔ مگر اس کی پرواہ کچھ نہیں کرتے۔ یاد رکھو قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جارہی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مومن کا کام نہیں ہے جب موت کا وقت آگیا پھر ایک ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر نہیں کرتے اور انہیں کوئی عظمت اس سلسلہ کی معلوم ہی نہیں ان کو جانے دو مگر ان سب سے بدقسمت اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا تو وہ ہے جس نے اس سلسلہ کو شناخت کیا اور اس میں شامل ہونے کی فکر کی لیکن پھر اس نے کچھ قدر نہ کی۔وہ لوگ جو یہاں آکر میرے پاس کثرت سے نہیں رہتے اور ان باتوں کو جو خدا تعالیٰ ہر روز اپنے سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے وہ اپنی جگہ کیسے ہی نیک، متقی اور پرہیز گار ہوں مگر میں یہی کہوں گا کہ جیسا چاہیئے انہوں نے قدر نہ کی۔ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ تکمیل علمی کے بعد تکمیل عملی کی ضرورت ہے اور تکمیل عملی بدوں تکمیل علمی کے محال ہے اور جب تک یہاں آکر نہیں رہتے تکمیل علمی مشکل ہے۔‘‘

(الحکم ۱۷؍ ستمبر ۱۹۰۱ء بحوالہ کتاب جلسہ سالانہ مرتبہ عطاء المجیب راشد صاحب صفحہ ۴۱-۴۲)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button