خلاصہ خطبہ جمعہ

جنگ بدر کےحالات و واقعات کا بیان۔ خلاصہ خطبہ حضورِانور فرمودہ جمعہ ۷؍جولائی ۲۰۲۳ء

٭… مسلمان بےچارے تعداد و سامان ميں تھوڑے، غربت اور بے وطني کے صدمات کے مارے ہوئے، ظاہري اسباب کے لحاظ سے اہل مکہ کے سامنے چند منٹوں کا شکار تھے مگر توحيد و رسالت کي محبت نے اُنہيں متوالا بنا رکھا تھا

٭…جنگ بدر کے موقع پر ملائکہ کے نزول کی حقیقت کا بیان

٭…يہ معرکہ مشرکين کي شکست اور مسلمانوں کي فتح مبين پر ختم ہوا

٭…فلسطین کے مظلوم مسلمانوں، امتِ مسلمہ نیز دیگر اہم امور کے لیے دعا کی تحریک

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۷؍جولائی ۲۰۲۳ء بمطابق۷؍وفا ۱۴۰۲ ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۷؍جولائی ۲۰۲۳ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔

تشہد، تعوذ اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گذشتہ خطبہ میں کفار مکہ پر مسلمانوں کے رعب کے ضمن میں ابوجہل اور عُتبہ کے جنگ کرنے کے بارے میں اختلاف کا ذکر ہوا تھا، پھر ابوجہل کے طعنہ کی وجہ سےعُتبہ نے جنگ کا اعلان بھی کیا اور یوں باقاعدہ جنگ شروع ہوئی۔

عُتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شَیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عُتبہ کے درمیان چلتا ہوا نکلا اور صفحوں سے آگے نکل کر مبارزت طلب کی۔ حضرت علی رضی الله عنہ سے مروی ہےکہ اِس پر انصار کے کچھ نوجوانوں کے عُتبہ کو جواب دینے پر اُس نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ ان کے بتانے پر اُس نے کہا کہ ہمارا تم سے کوئی سروکار نہیں، ہمارا اِرادہ تو صرف اپنے چچا کے بیٹوں سے لڑنے کا ہے اور ساتھ ہی بلند آواز سے پکار کر کہا: اَے محمد!(صلی الله علیہ وسلم) ہمارے رشتہ داروں میں سے ہمارے برابر کے لوگوں کو ہمارے مقابلہ پر بھیجو۔تو نبیؐ نے فرمایا: اٹھو اَے حمزہ! اٹھو اَے علی! اٹھو اے عُبَیدہ بن حارث!(اوّل الذکر آپؐ کے چچا اور مؤخّر الذکر دونوں آپؐ کے چچازاد تھے)۔ حمزہ عُتبہ کی طرف بڑھے، حضرت علیؓ کہتے ہیں مَیں شَیبہ کی طرف بڑھا اور عُبَیدہ اور ولید میں دو جھڑپوں کا تبادلہ ہوا اور دونوں میں سے ہر ایک نے ایک دوسرے کو زخمی کر کےکمزور کر دیا۔ پھر ہم ولید کی طرف متوجہ ہوئے اور اُس کو مار ڈالا اور عُبَیدہ کو ہم اٹھا کر لائے۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے اپنے دشمنوں کو مار دیا۔

حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ اپنے ساتھی عُبَیدہ بن حارث کو اپنی فوج میں اٹھا لائے تو اُن کا پاؤں کٹ چکا تھا، جب اُن کو رسول اللهؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اُنہوں نے عرض کیا: یا رسول اللهؐ! کیا مَیں شہید نہیں ہوں؟ آپؐ نے فرمایا :بے شک تم شہید ہو۔ عبیدہ بن حارثؓ اِن زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور بدر سے واپسی پر راستہ میں انتقال کیا۔

جب دونوں لشکر آپس میں مل گئے یعنی شدید لڑائی ہونے لگی تو ابوجہل نے دعا کی کہ اَے خدا! ہم میں سے جو شخص قریبی رشتہ داریوں کو توڑتا اور ایسی باتیں بیان کرتا ہے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں سنیں تُو آج اُسے ہلاک کر۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں: معلوم ہوتا ہے کہ ابوجہل کو یہی یقین تھا کہ گویا نعوذبالله! آنحضرتؐ کی زندگی پوتر اور پاک نہیں تبھی تو اِس نے درد دل سے دعا کی لیکن

اِس دعا کے بعد شاید ایک گھنٹہ بھی زندہ نہ رہ سکا اور خدا کے قہر نے اُسی مقام میں اُس کا سر کاٹ کر پھینک دیا اور جن کی پاک زندگی پر وہ داغ لگاتا تھا وہ اِس میدان سے فتح و نصرت کے ساتھ واپس آئے۔

میدان کارزار میں کُشت و خون کا بازار گرم تھا، مسلمانوں کے سامنے اُن سے سہ چندجماعت جو ہر قسم کے سامان حرب سے آراستہ ہو کر اِس عزم کے ساتھ میدان میں نکلی تھی کہ اسلام کا نام و نشان مٹا دیا جاوے اور اِس چیز نے جس سے زیادہ طاقتور دنیا میں کوئی چیز نہیں یعنی زندہ ایمان نے اُن کے اندر ایک فوق العادت طاقت بھر دی تھی۔ وہ

اُس وقت میدان جنگ میں خدمت دین کا وہ نمونہ دکھا رہے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ہر ایک شخص دوسرے سے بڑھ کر قدم مارتا اور خدا کی راہ میں جان دینے کے لیے بے قرار نظر آتا تھا۔

حمزہؓ، علیؓ اور زُبیرؓ نے دشمن کی صفوں کی صفیں کاٹ کر رکھ دیں۔

حضرت عمرؓ بن خطاب کے آزاد کردہ غلام حضرت مھجعؓکو ایک تیر کا ہدف بنایا گیا جس سے وہ شہید ہو گئے، یہ مسلمانوں کے پہلے شخص تھے جنہوں نے جام شہادت نوش کیا، اِس کے بعد بنی عدی بن نجار کےقبیلہ کے ایک شخص حضرت حارثہؓ بن سُراقہ درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔

حضرت انسؓ سے مروی ہےکہ نوجوان حارثہؓ بن سُراقہ بن حارث جنگ بدر میں شہید ہوئے، اُن کی ماں ربیع بنت نضرنبیؐ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللهؐ! آپؐ جانتے ہی ہیں جو مقام حارثہ کا میرے نزدیک تھا سو اگر وہ جنت میں ہے تو مَیں صبر کروں اور ثواب کی امید رکھوں اور اگر کوئی اور بات ہے تو آپؐ دیکھیں گے کہ مَیں کیا کچھ کرتی ہوں۔آپؐ نے فرمایا: افسوس ہے، کیا تُو دیوانی ہے،کیا جنت ایک ہی ہے؟ جنتیں تو بہت سی ہیں اور تمہارا بیٹا توجنت الفردوس میں ہے۔

آنحضورؐ نے فرمایاکہ

جو شخص آج کے دن صبر کے ساتھ ثواب سمجھ کر جنگ کرے گا اور پیٹھ پھیر کر نہ بھاگے گا خدا اُس کو جنت میں داخل کرے گا۔

یہ سن کر عُمیربن حمامؓ نے جو بنی سلمہ میں سے تھے کہا(اِس وقت اُن کے ہاتھ میں چند کھجوریں بھی تھیں جو وہ کھا رہے تھے)واہ واہ میرے اور جنت کے درمیان بس اتنا ہی وقفہ ہے کہ یہ لوگ مجھ کو قتل کر دیں اور پھر اپنی تلوار پکڑ کر اِس قدر لڑے کہ شہید ہو گئے۔ عفراء کے بیٹےعوف بن حرث نے حضورؐ سے عرض کیا: یا رسول اللهؐ! الله تعالیٰ اپنے بندے کی کس بات سے خوش ہوتا ہے؟ فرمایا: دشمن کو زرہ وغیرہ لباس حرب سے خالی ہو کر قتل کرنے سے، اِس پر اُنہوں نے اپنی زرّہ اتار کر پھینک دی اور بہت سے کافروں کو قتل کرنے کے بعد خود بھی شہید ہو گئے۔

جنگ کے اختتام پر آنحضورؐ مقتولین کے درمیان کھڑے ہوئے اور ابوجہل کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ آپؐ نے اُس کو نہ پایا تو یہ دعا کی کہ اَللّٰھُمَّ لَا تُعْجِزْنِیْ فِرْعَوْنَ ھٰذِہِ الْاُمَّةِ۔اَے الله تُو مجھے اِس امت کے فرعون کے مقابلہ پر عاجز نہ کر دینا۔ حضرت عبدالله بن مسعودؓ نے آنحضورؐ کے فرمان کے مطابق گھٹنے پر زخم کی نشانی سے پہچان کردشمن خدا کوحضرت مُعَوِّذ اور حضرت مُعاذ کےحملہ کے نتیجے میں زخمی حالت میں ڈھونڈ لیا۔ کچھ زندگی کی رمق باقی تھی، آپؓ کے پوچھنے پر اِس خواہش کا اظہار کیا کہ میری گردن ذرا لمبی کر کے کاٹ دو۔ اُنہوں نے کہا کہ مَیں تیری اِس خواہش کو بھی پورا نہ ہونے دوں گا اور گردن کو ٹھوڑی کے پاس سے کاٹ کر حضورؐ کی خدمت میں لا کرآپؐ کے پاؤں میں ڈال دیا تو آپؐ نے الله تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور فرمایا: اَللّٰهُ الَّذِیْ لَآ اِلٰهَ غَیْرُہٗ۔الله ہی وہ ذات پاک ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے یہ بھی دعا مانگی کہ اَے خدا ایسا نہ ہو کہ وہ تیری گرفت سے نکل جائے۔ حضرت قتادہؓ سے مروی ہے: رسول اللهؐ نے فرمایا: ہر امت کا فرعون ہوتا ہے، اِس امت کا فرعون ابوجہل ہے، الله تعالیٰ نے اُسے بری طرح قتل کیا، عفراء کے دونوں بیٹوں(مُعَوِّذ اور مُعاذ) اور ملائکہ نے اُسے قتل کیا اور عبدالله بن مسعود نے اِس کا کام تمام کیا۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ابوجہل کو فرعون کہا گیا ہے مگر میرے نزدیک تو وہ فرعون سے بڑھ کر ہے۔ فرعون نے تو آخر کہا اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ کہ مَیں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبودنہیں مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائےہیں۔ مگر یہ آخر تک ایمان نہ لایا، مکہ میں سارا فساد اِسی کا تھا اور بڑا متکبر اور خودپسند اور عظمت اور شرف کا چاہنے والا تھا۔

حضرت امام رازی رحمہ الله سورۃ الانفال کی آیت وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰیکی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب قریش نے چڑھائی کی تو رسول اللهؐ نے دعا کی کہ اَے الله! یہ قریش قبیلہ اپنے گھوڑوں اور سامان فخر کے ساتھ اِس حالت میں آیا کہ وہ تیرے رسول کو جھٹلا رہے ہیں اور تکذیب کر رہے ہیں۔ اَے الله! مَیں تجھ سے وہ چیز طلب کرتا ہوں جس کا تُو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو جبرائیلؑ نازل ہوئے اور کہا: یارسول اللهؐ! مٹھی بھر مٹی لیں اور اِن کفار کی طرف پھینک دیں تو پھر جب دونوں لشکروں کی آپس میں مڈھ بھیڑ ہوئی تو آپؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ وادی کےکنکروں سے بھری ہوئی مٹھی بھر مٹی پکڑاؤ جسے آپؐ نے اِن کفار کے چہروں کی طرف پھینک دیا اور فرمایا! شَاھَتِ الْوُجُوْہُ یعنی چہرے مسخ ہو جائیں۔ تو مشرکین اپنی آنکھیں مسلنے لگے جس کے نتیجے میں وہ شکست خوردہ ہو گئے۔پھر الله تعالیٰ فرماتا ہے:وَمَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔یعنی کنکریوں سے بھری ہوئی مٹھی جسے آپؐ نے پھینکا، فی الحقیقت آپؐ نے اُسے نہیں پھینکا تھا، کیونکہ آپؐ کا پھینکنا اتنا ہی اثر انداز ہو سکتا ہے جتنا کہ ایک انسان کا اثر انداز ہوتا ہے، بلکہ الله نے اُسے پھینکا ہے جس کے نتیجے میں اِس مٹی کے ذرات اُن کی آنکھوں تک پہنچ گئے تو یہ پھینکنے کی صورت تو نبیٔ کریمؐ سے صادر ہوئی لیکن اِس کا اثر الله تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوا۔

الله تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:جب تم اپنے ربّ سے فریاد کر رہے تھے اُس نے تمہاری التجا کو قبول کر لیا اِس وعدہ کے ساتھ مَیں ضرور ایک ہزار قطار در قطار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا۔ غزوۂ بدر میں نزول ملائکہ کی تصدیق آنحضرتؐ نے بھی فرمائی نیزسیرت ابن ہشام میں متعدد روایات صحابہؓ بدر کے دن فرشتوں کے نزول پر دلالت کرتی ہیں۔

حضرت جبرائیلؑ آپؐ کے پاس آئے اور کہا آپؐ مسلمانوں میں اہل بدر کو کیا مقام دیتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: بہترین مسلمان یا ایسا ہی کوئی کلمہ فرمایا۔جبرائیلؑ نے کہا اِس طرح وہ ملائکہ بھی افضل ہیں جو جنگ بدر میں شریک ہوئے۔

بعض لوگوں کے خیال کہ فرشتوں کا نزول محض مومنوں کے لیے بطور بشارت اور دلی اطمینان تھا وگرنہ فرشتے جنگ میں عملا ًشریک نہیں ہوئے۔ حضور انور ایدہ الله تعالیٰ نے اِس تصور کو احادیث صحیحہ کے منافی قرار دیا نیز فرمایا:البتہ یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ نصرت کے لیے تو ایک ہی فرشتہ کافی تھا تو ہزاروں فرشتے کیوں نازل ہوئے۔ امام ابن کثیرصحیحین میں موجود عرصۂ جنگ میں فرشتوں کےنزول کی احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ الله کی طرف سے فرشتوں کا نزول اور مسلمانوں کو اِس کی اطلاع بطور خوشخبری تھی ورنہ الله اِس کے بغیر بھی اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد کر سکتا ہے، اِس لیے اُس نے فرمایا مدد صرف الله کی طرف سے ہے اور سورۂ محمدؐ میں فرمایاکہ اگر الله چاہے تو خود ہی اِن کافروں سے بدلہ لے لے لیکن وہ آزماتا ہے۔

جب کھلی جنگ شروع ہوئی توتھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکرمیں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمودار ہو گئے، اُن کی صفیں مسلمانوں کے تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہو گئیں، اُن میں بھگدڑ مچ گئی، مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کیا اور اُنہیں شکست فاش دی۔

یہ معرکہ مشرکین کی شکست اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا

اور اِس میں چودہ مسلمان (چھ مہاجرین اور آٹھ انصار)نے جام شہادت نوش کیا لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اُن کے ستّر آدمی مارے اور ستّر قید کیے گئے جو عموماً قائد، سردار اوربڑے بڑے سر بر آوردہ حضرات تھے۔

خطبہ کے آخر پر حضور انور نے دعاؤں کی تحریک فرمائی۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیں صفحہ اول

٭…٭…٭

خطبہ کے آخر پر حضور انور نے دعاؤں کی تحریک فرمائی۔مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

تازہ ترین: فلسطین کے مظلوم مسلمانوں، امتِ مسلمہ نیز دیگر اہم امور کے لیے دعا کی تحریک

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button