متفرق مضامین

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل (ذہن کے متعلق نمبر۵) (قسط ۳۰)

(ڈاکٹر شاہد اقبال)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

کیکٹس گرینڈی فلورس

Cactus grandiflorus

(Night-Blooming Cereus)

٭…کیکٹس کے مریض مرض کے اچانک حملہ سے سخت خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور ایکونائٹ کی طرح علامتیں ظاہر ہوجاتی ہیں۔بیماری کے اچانک پن اور کیکٹس کے خصوصی مزاج کی وجہ سے موت کا خوف طاری ہونا قدرتی بات ہے۔ ماؤف حصہ میں تشنج اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ جیسے لوہے کی تاریں کسی جاری ہوں۔ ہر جگہ تنگی اور گھٹن کا احساس غالب ہوتا ہے۔ گلے میں ہوتو کالر کے بٹن بند کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔(صفحہ ۱۷۸)

کیڈمیم سلف

Cadmium sulph

٭… اس کے مریض جسمانی اور ذہنی محنت سے بہت گھبراتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرنا چاہتے انہیں کام سے نفرت ہوتی ہے۔سلفر کے مریض بھی نکھٹو ہوتے ہیں بہت پیسہ کمانے کی سکیمیں بناتے رہتے ہیں۔لیکن انہیں کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔اوپیم کا مریض بھی خیالی پلاؤپکاتا رہتا ہے۔اور مختلف ترکیبیں سوچتا رہتا ہے۔لیکن اس کے لیے ہاتھ پاؤں ہلانا اور کام کرنا سخت دو بھر ہوتا ہے۔(صفحہ ۱۸۱)

٭…کیڈمیم سلف میں بے چینی اور بے قراری نمایاں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ آرسینک کے مشابہ دوا ہے۔لیکن آرسینک کے مریض کے مزاج کا ایک پہلو کیڈمیم سلف کے بالکل برعکس ہے۔آرسینک کا مریض اپنی روزمرہ زندگی میں کوئی بھی بے ترتیبی برداشت نہیں کرتا۔ہر چیز قرینہ سے رکھتا ہے۔اور محنت سے بھی نہیں گھبراتا ہے۔جبکہ کیڈمیم سلف کا مریض سلفر کے مریض کی طرح سست ہوتا ہے اور اس کی چیزوں میں بے ترتیبی ملتی ہے۔ (صفحہ ۱۸۱)

کیلیڈیم

Caladium

(امریکہ میں اگنے والا ایک شلجم )

٭…اس کی دماغی علامات بہت عجیب و غریب ہیں۔ کیلیڈیم کے زہر کا یادداشت پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔کوئی کام کرتے ہوئے بھول جاتا ہے۔ کیلیڈیم Epilepsy یعنی مرگی کی بھی دوا ہو سکتی ہے۔شریانوں کی سختی (Arteriosclerosis) کا اثر بھی بہت بڑھ جائے تو کیلیڈیم کی یاد دلاتا ہے لیکن یہ آرٹیریوسکلروسس کی براہ راست دوا نہیں ہے۔(صفحہ۱۸۵)

٭…کیلیڈیم کی خاص علامت یہ ہے کہ مریض کوئی کام سوچے گا کہ اس نے کیا ہے یا نہیں۔کوئی بات کسی کو کہنی تھی، نہ معلوم کہی کہ نہیں۔خط لکھنا تھا لکھا کہ نہیں۔غرضیکہ روزمرہ کی زندگی میں ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ علامت کھانے پینے کے معاملہ میں ظاہر نہیں ہوتی۔مثلاً ناشتہ کر کے نہیں بھولے گا۔ روزمرہ کی باتیں اس لیے بھولتی ہیں کہ انسان اپنی سوچوں میں کھویا رہتا ہے۔اور اسے یاد نہیں رہتا کہ جو کام اس نے کرنا تھا وہ کیا ہے یا نہیں۔بعید نہیں کہ کیلیڈیم کامریض ذہنی دباؤمحسوس کرتا ہو کیونکہ اس کا دماغ بیک وقت دو طرح کے کام کرتا ہے۔ ایک اپنے روزمرہ کے کام اور دوسرے دماغی طور پر اپنے خیالات میں جکڑا رہنا۔ اسی لیے دماغ غیر حاضر رہتا ہے۔ جیسے فلسفی باتیں بھول جاتے ہیں۔ایسے مریض ذہنی طور پر بہت تھک جاتے ہیں اور آخر علمی کا م ان کے بس میں نہیں رہتا۔(صفحہ۱۸۵)

٭…اس کا مریض مستقل خوف کا شکار رہتا ہے۔اندھیرے کا خوف،مستقبل کا خوف حتیٰ کہ اپنے سایہ سے بھی خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ (صفحہ ۱۸۶)

کلکیریا آرس

Calcarea ars

٭…سٹیفی سیگریا (Staphysagria) کی طرح اس دوا میں بھی غصہ،ناپسندیدگی اور ناراضگی کے بد اثرات سے پیدا ہونے والی بیماریاں شامل ہیں۔اس میں جو خیالی نظارے دکھائی دیتے ہیں ان میں بھوت پریت اور دیگر وہمی نظارے شامل ہیں۔بعض دفعہ اس کے مریض آگ کی خوا بیں بکثرت دیکھتے ہیں۔یہ علامت نیٹرم میور میں بھی ہے۔جس میں زیادہ تر آگ لگنے اور سانپوں کے خواب آتے ہیں۔ اگر ان علامتوں کے ساتھ مستقل پاگل پن کا حملہ ہو جائے تو ایسے پاگل پن میں کلکیریا آرس اچھی دوا ثابت ہوسکتی ہے۔(صفحہ۱۸۹)

کلکیریا کاربونیکا

Calcarea carbonica

٭…اگر بچے کے جسم میں پیدائشی طور پرسوڈیم کا توازن بگڑ جائے تو اس سے ذہنی صلاحیتوں پر اثر پڑتا ہے۔نیز ٹانگیں بھی کمزور ہوجاتی ہیں۔ (صفحہ۱۹۳-۱۹۴)

٭…وہ مریض جو زیادہ لمبا عرصہ ذہنی کام نہ کر سکے اور تھک جائے اور جسم کے دوسرے حصوں میں بھی کمزوری کی علامتیں ظاہر ہوں،اور اس کا سارا نظام ہی کمزور پڑجاتا ہے اور وہ بہت جلد تھکنے لگتا ہے۔کلکیریا کارب دینے سے وہ آرام محسوس کرے گا اور بے چینی زیادہ عرصہ باقی نہیں رہے گی۔اگر کلکیریا کا مریض بہت ہیجانی (Excited)ہو جائے اسے کئی قسم کے نظارے دکھائی دینے لگتے ہیں خصوصاًنوکدار چیزیں نظر آنے لگیں گی،تصویریں اور اجسام ناچتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اسی طرح بے جان اشیاء، کیل، تار،چبھنے اور کاٹنے والی چیزیں نظر آئیں گی۔ (صفحہ ۱۹۴)

٭…کلکیریا کا ذہنی مریض اکثر چٹکیاں بھرتا رہتا ہے۔اور اسے سونے سے پہلے مختلف چہرے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن موت کا خوف نہیں ہوتا۔ (صفحہ۱۹۴)

٭…عام طور پر غم اور گہری اداسی کے دورے میں سوڈیم کی دوائیں مؤثر ہوتی ہیں۔ ان میں نیٹرم میور،آرم میوراور گریشیولا (Gratiola) بھی شامل ہیں۔ اگر مریض غم زدہ ہوکر زندگی میں دلچسپی لینا چھوڑ دے تو ایمبرا گریسا اورآرنیکا بھی مؤثر ہیں۔ کلکیریا کارب کی ایک خاص علامت ڈپریشن ہے۔جو کسی اور دوا میں نہیں کہ ایک چھوٹی سی عمر کی بچی بھی غمزدہ ہو کر ہر چیز سے بے نیاز ہوکر بیٹھ جاتی ہے۔حالانکہ ابھی اس کے کھیلنے کودنے کے دن ہوتے ہیں۔ اگر بلوغت سے پہلے خصوصاًلڑکیوں میں اداسی کا ایسا دورہ پڑے تو اس کے فوری علاج کی ضرورت ہے۔کیونکہ وہ مایوس ہوکر بعض دفعہ خودکشی کی خواہش کرتی ہیں لیکن ان میں تشدد نہیں ہوتا۔اور غم کی کوئی ظاہری وجہ بھی دکھائی نہیں دیتی۔یہ کلکیریا کارب کی خاص علامت ہے۔ اس کا مریض زیادہ سوچ بچار نہیں کرتا۔عام غم سے بھی جلد تھک جاتا ہے اور جسمانی کمزوری کی شکایت کرتا ہے۔ (صفحہ ۱۹۵)

٭…کلکیریاکارب کے مریض کو طرح طرح کے ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور اندھیرے میں جن بھوتوں کے خیال سے ڈرتا ہے۔خواب میں اپنے آپ کو زخمی یا کسی حادثہ میں ملوث دیکھےگا یا آگ لگنے کے خواب دیکھے گا۔ (صفحہ ۱۹۵)

کلکیریا فاس

Calcarea Phosphorica

٭…کلکیریا فاس کا مریض بے ساختہ آہیں بھرنے لگتا ہے۔ سینہ دکھتا ہے۔ دم گھٹنے والی کھانسی شروع ہوجاتی ہے۔ لیٹنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔ آواز بیٹھ جاتی ہے۔ (صفحہ۲۰۶-۲۰۷)

٭…کسی صدمہ کے اثر سے یادداشت میں فرق پڑ جاتا ہے مریض کہیں اور جانے کی خواہش کرتا ہے تا تکلیف میں کمی ہو۔ (صفحہ ۲۰۷)

کلکیریا سلف

Calcarea sulphurica

(S(Sulphate of Lime-Plaster of Paris)s)

٭…کلکیریا سلف مرگی کی بہترین دوا بتائی جاتی ہے۔اس زمانہ میں مرگی کی بیماری میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔وضع حمل کے وقت بعض ایسے علاج کیے جاتے ہیں جن کا بچوں کے دماغ پر اثر پڑتا ہے۔بعض دواؤں کے بداثرات کے نتیجہ میں بھی مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ ایسے بچوں کے لیے ٹکسالی کے نسخوں کے علاوہ ایسی دوائیں ڈھونڈنی چاہئیں جن سے مرگی کا مکمل علاج ہوسکے۔ کلکیریا سلف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے مرگی کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر کینٹ جو ہومیوپیتھ بننے سے پہلے بہت چوٹی کے ایلوپیتھک ڈاکٹر اور سرجن بھی تھے اور سارے جسمانی نظام کو سمجھتے تھے وہ کلکیریا سلف کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مرگی کو جڑوں سے اکھیڑ دیتی ہے۔بعض اوقات دماغ میں ٹیومر کی وجہ سے مرگی ہو جاتی ہے۔دماغ میں چوٹ لگنے کی وجہ سے بھی مرگی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔بعض لوگوں کی کھوپڑی کی بناوٹ پیدائشی طور پر ہی ایسی ہوتی ہے کہ دیکھتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ مرگی کا مریض ہے۔ایسے مریض کے اندر پیدائشی نقص ہوتا ہے۔جس کا جڑ سے اکھیڑا جا نا بظاہر ناممکن ہے۔کینٹ کا یہ فقرہ کہ کلکیریا سلف مرگی کا علاج ہے، ایسے پیدائشی مریضوں پر اطلاق نہیں پاتا۔ ہاں ان کا یہ تجربہ درست ہے کہ بہت سے مرگی کے مریضوں کو کلکیریا سلف نے غیر معمولی فائدہ دیا ہے۔ (صفحہ۲۰۹۔۲۱۰)

٭…کمزور اعصاب کے مریضوں میں ذہنی دباؤ ہواور عضلات ذہنی دباؤکی وجہ سے پھڑکنے لگیں تو اس مرض میں کلکیریا سلف کے علاوہ ایگیریکس اور کالی فاس بھی مفید ہیں۔ (صفحہ۲۱۲)

٭…کلکیریا سلف کا مریض عموماً اندیشوں کی حالت میں صبح آنکھ کھولتا ہے۔یہ علامت کلکیریا سلف کی دوسری علامتوں کےساتھ مل کر اسے یقینی بنا دیتی ہے۔ذہنی محنت سے دماغ جلد تھک جائے یا چکر آنے لگیں اور چکر کے ساتھ مرگی سے مشابہ دورے پڑنے لگیں تو بھی کلکیریا سلف مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ (صفحہ ۲۱۲)

٭…کلکیریا سلف کے مزاجی مریض میں نیند کا سکون بسا اوقات اس کے پریشان خوابوں سے بکھر جاتا ہے۔اس دوا کی چند خوراکوں ہی سے وہ پریشانی خواب وخیال ہوجاتی ہے۔ مریض کی نیندگہری اورپرسکون ہوجاتی ہے۔ (صفحہ۲۱۳۔۲۱۴)

کیمفر

Camphora

(camphor)

٭…کیمفر میں شدید خوف اور اندیشے بھی پائے جاتے ہیں۔اس پہلو سے یہ ایکونائٹ سے مشابہ ہے سوائے اس کے کہ ایکونائٹ میں ایسی سردی نہیں ہوتی جو کیمفر کا طرہ امتیاز ہے۔ اگر ایکونائٹ کی طرح اچانک بیماری شروع ہو اور اس میں خوف غالب ہو اور تشنج بھی پایا جائے لیکن مریض بہت ٹھنڈا ہو تو ایکونائٹ کی بجائے کیمفر دوا ہوگی۔اگر بیماری میں شدت،تپش اور تیزی پائی جائے تو ایکونائٹ مفید ہوگی۔ (صفحہ۲۱۷)

٭…کیمفر کا مریض ذہنی لحاظ سے بہت کمزور ہوجاتا ہے۔ حافظہ جواب دے دیتا ہے،اکیلے رہنے سے خوف محسوس کرتا ہے، چکر آتے ہیں اوربے ہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ آنکھیں بند کر کے لیٹا رہتا ہے،لگتا ہے کہ سو گیا ہے لیکن سوتا نہیں ہے۔دنیا سے بے تعلق ساہو جاتا ہے۔اس میں جنون اور شدید غصہ کی علامت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ علامت کینتھرس اور ہائیوسمس(Hyoscyamus) دونوں میں ملتی ہے۔ سوزش دماغ کی طرف منتقل ہوتی ہے اور مریض دیوانگی اور تشدد پر اتر آتا ہے۔ (صفحہ۲۱۸)

٭…کیمومیلا کا مریض غصیلا اور غیر مطمئن ہوتا ہے کوئی چیز مانگے تو لے کر پرے پھینک دیتا ہے۔اگر ایسے مریض کیمومیلا کا نمایاں مزاج نہ رکھتے ہوں تو پھر کیمفر سے ان کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ (صفحہ۲۱۸)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button